قانون جہاد


یہ ''میزان'' کا ایک باب ہے ۔ نئی طباعت کے لیے مصنف نے اس میں بعض

اہم ترامیم کی ہیں ۔ ان ترامیم کے ساتھ اسے ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔

امن اور آزادی انسانی تمدن کی ناگزیر ضرورت ہے ۔ فرد کی سرکشی سے اس کی حفاظت کے لیے تادیب اور سزائیں ہیں ، لیکن اگر قومیں شوریدہ سر ہو جائیں تو ہر شخص جانتا ہے کہ اُن کے خلاف تلوار اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ نصیحت اور تلقین جب تک کارگر ہو ، تلوار اٹھانے کو کوئی شخص بھی جائز قرار نہ دے گا ،مگر جب کسی قوم کی سرکشی اور شوریدہ سری اس حد کو پہنچ جائے کہ اسے نصیحت اور تلقین سے صحیح راستے پر لانا ممکن نہ رہے تو انسان کا حق ہے کہ اس کے خلاف تلوار اٹھائے اور اُس وقت تک اٹھائے رکھے، جب تک امن اور آزادی کی فضا دنیا میں بحال نہ ہو جائے ۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تلوار اٹھانے کی یہ اجازت اگر نہ دی جاتی تو قوموں کی سرکشی اس انتہا کو پہنچ جاتی کہ تمدن کی بربادی کا تو کیا ذکر ، معبد تک ویران کر دیے جاتے اور اُن جگہوں پر خاک اڑتی ، جہاں اب شب و روز اللہ پروردگارِ عالم کا نام لیا جاتا اور اس کی عبادت کی جاتی ہے:

وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا .(الحج ۲۲ : ۴۰)

''اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا تو خانقاہیں ، گرجے ، معبد اور مسجدیں ، جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے ، سب ڈھا دیے جاتے۔''

شریعت کی اصطلاح میں یہ جہاد ۱؂ ہے اور اس کا حکم قرآن میں دو صورتوں کے لیے آیا ہے:

ایک ،ظلم و عدوان کے خلاف ،

دوسرے ، اتمامِ حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف۔

پہلی صورت شریعت کا ابدی حکم ہے اور اس کے تحت جہاد اُسی مصلحت سے کیا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے ۔ دوسری صورت کا تعلق شریعت سے نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت سے ہے جو اس دنیا میں ہمیشہ انھی لوگوں کے ذریعے سے روبہ عمل ہوتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ''شہادت'' کے منصب پر فائز کرتے ہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ حق کی ایسی گواہی بن جاتے ہیں کہ اس کے بعد کسی کے لیے اُس سے انحراف کی گنجایش باقی نہیں رہتی ۔ انسانی تاریخ میں یہ منصب آخری مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم بنی اسمٰعیل کو حاصل ہوا ہے :

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلیَ النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا . (البقرہ ۲: ۱۴۳)

''اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک درمیان کی جماعت ۲؂ بنایا تاکہ تم دنیا کی قوموں پر حق کی شہادت دینے والے بنو اور پیغمبر تم پر یہ شہادت دے ۔''

اس قانون کی رو سے اللہ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو اس کے منکرین پر اسی دنیا میں عذاب آ جاتا ہے۔ یہ عذاب آسمان سے بھی آتا ہے اور بعض حالات میں اہل حق کی تلواروں کے ذریعے سے بھی ۔ پھر اس کے نتیجے میں منکرین لازماً مغلوب ہو جاتے ہیں اور اُن کی سرزمین پر حق کا غلبہ پوری قوت کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم کے اہل ایمان کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہی دوسری صورت پیش آئی ۔ چنانچہ انھیں جس طرح ظلم و عدوان کے خلاف قتال کا حکم دیا گیا ، اسی طرح اس مقصد کے لیے بھی تلوار اٹھانے کی ہدایت ہوئی ۔ یہ خدا کا کام تھا جو انسان کے ہاتھوں سے انجام پایا ۔ اسے ایک سنتِ الٰہی کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے ۔ انسانی اخلاقیات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 'یعذ بھم اللّٰہ بایدیکم ، ۳؂ ( اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے سزا دے گا) کے الفاظ میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔

ذیل میں ہم جہاد کی ان دونوں صورتوں سے متعلق قرآن کے نصوص کی وضاحت کریں گے ۔

جہاد کا اذن

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا، وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِ ھِمْ لَقَدِیْرٌ، اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ . ( الحج ۲۲ : ۳۹۔۰ ۴)

''جن سے جنگ کی جائے ، انھیں جنگ کی اجازت دی گئی ، اس لیے کہ ان پر ظلم ہوا ، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے ، صرف اس بات پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے ۔''

یہ قرآن کی پہلی آیات ہیں جن میں مہاجرینِ صحابہ کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ اگر چاہیں تو جارحیت کے جواب میں جنگ کا اقدام کر سکتے ہیں ۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنھیں بالکل بے قصور محض اس جرم پر ان کے گھروں سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا کہ وہ اللہ ہی کو اپنا رب قرار دیتے ہیں۔ قریش کے شدائد و مظالم کی پوری فرد قراردادِ جرم ، اگر غور کیجیے تو اس ایک جملے میں سمٹ آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے وطن اور گھر در کو اس وقت تک چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا ، جب تک اس کے لیے وطن کی سرزمین بالکل تنگ نہ کر دی جائے۔ ' بانھم ظلموا' کا اشارہ انھی مظالم کی طرف ہے اور قرآن نے انھی کی بنیاد پر مسلمانوں کو یہ حق دیا ہے کہ اب وہ جارحیت کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں ۔

' الذین اخرجوا من دیارھم' کے جو الفاظ ان آیات میں آئے ہیں ، ان سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت ہجرت سے پہلے نہیں دی گئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار کے بغیر قتال لازماً فساد بن جاتا ہے ، اس لیے انسانوں کی کسی جماعت کو اس کا حق اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا ، جب تک وہ کسی خطۂ ارض میں ایک باقاعدہ اور منظم حکومت کی صورت اختیار نہ کر لیں ۔ مکہ میں یہ چیز مسلمانوں کو حاصل نہیں ہوئی ، لیکن ہجرت کے بعد جب میثاقِ مدینہ کے نتیجے میں یثرب کا اقتدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہو گیا تو اس کے فوراً بعد جنگ کی اجازت دے دی گئی ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت بھی مسلمانوں کی مدد پر پوری قدرت حاصل تھی ، جب مکہ میں وہ بدترین مظالم کا ہدف بنائے گئے ، مگر جنگ اس کے باوجود ممنوع رہی ۔ یہاں تک کہ برسوں ستم جھیلنے اور ظلم اٹھانے کے بعد لوگ بالآخر گھروں سے نکلنے کے لیے مجبور ہو گئے ۔ نصرتِ الہٰی کا جو ضابطہ سورۂ انفال میں بیان ہوا ہے ۴؂ ، اس کی رو سے سو کے مقابلے میں وہ اگر دس بھی ہوتے تو اس زمانے میں جنگ کا نتیجہ لازماً انھی کے حق میں نکلتا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مدینہ ہجرت سے پہلے انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ؟ اس سوال پر جس پہلو سے بھی غور کیجیے ، یہ حقیقت بالکل مبرہن ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ اس کا سبب یقیناً وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ انبیا علہیم السلام کی پوری تاریخ اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہے ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہے کہ انھوں نے جہاد و قتال کے لیے اس وقت تک کوئی اقدام نہیں کیا ، جب تک بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر اپنی حکومت کے تحت ایک آزاد علاقے میں منظم نہیں کر لیا ۔ مسیح علیہ السلام کی دعوت میں یہ مرحلہ نہیں آیا تو انھوں نے جہاد و قتال کا نام بھی نہیں لیا ، دراں حالیکہ خود ان کے بقول وہ تورات کو منسوخ کرنے نہیں ،بلکہ پورا کرنے کے لیے آئے تھے ، ۵؂ اور تورات کے بارے میں معلوم ہے کہ اس میں قتال کا حکم پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔ ۶؂ صالح، ہود، شعیب، لوط، ابراہیم اور نوح علیہم السلام جیسے جلیل القدر رسولوں کی سرگزشت بھی یہی بتاتی ہے۔ قرآنِ مجید کی مکیات اسی بنا پر اس ذکر سے خالی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اقتدار حاصل نہ ہوتا تو ا نجیل کی طرح قرآن میں بھی قتال کی کوئی آیت نہ ہوتی ۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں آیاتِ قتال کے مخاطب ہی نہیں ہیں ۔ حدودوتعزیرات کی طرح ان آیات کے مخاطب بھی ان کے حکمران ہیں اور اس معاملے میں کسی اقدام کا حق انھی کو حاصل ہے ۔ سورۂ حج کی زیرِ بحث آیات میں 'اذن' کا لفظ اسی حقیقت پر دلالت کرتا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قتال سے متعلق پہلا مسئلہ جوازوعدمِ جواز کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف سے ظلم و عدوان کے باوجود زمانۂ رسالت میں سیاسی اقتدار کی جس شرط کے پورا ہو جانے کے بعد مسلمانوں کو اس کی اجازت دی ، اس کے بغیر یہ اب بھی کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہو سکتا ۔ ۷؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے:

انما الامام جنۃ ، یقاتل من وراۂ و یتقی بہ . ( بخاری ،رقم ۲۹۵۷)

''مسلمانوں کا حکمران ان کی سپر ہے ، قتال اسی کے پیچھے رہ کر کیا جاتا ہے اور لوگ اپنے لیے اُسی کی آڑ پکڑتے ہیں ۔''

فقہا کا موقف بھی اس معاملے میں یہی ہے ۔ ''فقہ السنہ '' میں ہے :

النوع الثالث من الفروض الکفائیۃ ما یشترط فیہ الحاکم ، مثل : الجہاد واقامۃ الحدود ؛ فان ھذہ من حق الحاکم و حدہ؛ ولیس لای فرد ان یقیم الحد علی غیرہ . (۳ /۰ ۱)

''کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا لازم ہے ،جیسے جہاد اور اقامتِ حدود ،اس لیے کہ اس کا حق تنہا حکمران کو حاصل ہے ۔ اس کے سوا کوئی شخص بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کسی دوسرے پر حد قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔''

جہاد کا حکم

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ . وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَ الْفَتِنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ ، فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ، کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ . فَاِنْ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رََّحِیْمٌ . وَقٰتِلُوْھُمْ حَتٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ، فَاِنِ انْتَھَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ . اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ بِالشَّھْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ، اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ . (البقرہ ۲: ۱۹۰۔ ۱۹۴ )

''اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑیں اور (اِس میں ) کوئی زیادتی نہ کرو ۔ بے شک، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور انھیں جہاں پا ؤ، قتل کرو اور وہاں سے نکالو ، جہاں سے اُنھوں نے تمھیں نکالا ہے اور (یاد رکھو کہ) فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے ۔ اور مسجد حرام کے پاس تم اُن سے خود پہل کر کے جنگ نہ کرو ، جب تک وہ تم سے اُس میں جنگ نہ کریں ۔ پھر اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو اُنھیں (بغیر کسی تردد کے) قتل کرو ۔اِس طرح کے منکروں کی یہی سزا ہے ۔لیکن وہ اگر (اپنے اِس انکار سے) باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا ، مہربان ہے ۔ اور تم اُن سے برابر جنگ کیے جا ؤ ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور (اِس سرزمین میں) دین اللہ ہی کا ہو جائے ۔ لیکن وہ باز آ جائیں تو (جان لو کہ) اقدام صرف ظالموں کے خلاف ہی جائز ہے ۔ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہے اور (اِسی طرح) دوسری حرمتوں کے بدلے ہیں ۔ لہٰذا جو تم پر زیادتی کریں ، تم بھی اُن کی اس زیادتی کے برابر ہی اُنھیں جواب دو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو اُس کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔''

سورۂ حج میں قتال کی اجازت کے بعد اس کا حکم قرآن میں اصلاً انھی آیات میں بیان ہوا ہے ۔ان کے علاوہ قتال کا ذکر قرآن میں جہاں بھی آیا ہے ، ان آیات کی تفصیل ،تاکید ،اور ان کے حکم پر عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بعض مسائل کی وضاحت ہی کے لیے آیا ہے ۔۸؂ سورۂ بقرہ میں ان کا سیاق یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ بات جب واضح کی گئی کہ بیت اللہ کا حج اُن پر فرض ہے اور دینِ ابراہیمی کے اصلی وارث ہونے کی حیثیت سے یہ انھی کا حق بھی ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی اس مسجد کی طرف حج کی عبادت کے لیے سفر کریں تو ضروری ہوا کہ یہ بات بھی اُن پر واضح کر دی جائے کہ اس معاملے میں قریش اگر مزاحمت کا رویہ اختیار کریں تو انھیں کیا کرنا چاہیے ۔قرآن نے بتایا کہ اس صورت میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ وہ تلوار سے اس مزاحمت کا خاتمہ کر دیں ۔آیات کا سیاق یہی ہے ،لیکن قرآن نے بات یہاں ختم نہیں کی ۔اس نے اس کے ساتھ آیندہ جنگ کی ذمہ داری ، اس کا جذبۂ محرکہ اور اس کے اخلاقی حدود ،بلکہ غور کیجیے تو اس میں اقدام کی غایت بھی اس طرح بیان کر دی ہے کہ قتال کی وہ دونوں صورتیں ،جن کا ذکر ہم نے تمہید میں کیا ہے ، بالکل متعین ہو کر سامنے آ جاتی ہیں ۔

ہم یہاں ان مباحث کی تفصیل کریں گے ۔

ذمہ داری کی نوعیت

پہلی بات جو ان آیات سے واضح ہوتی ہے ،وہ یہ ہے کہ ان میں صرف اتنی بات نہیں کہی گئی کہ مسلمان حجِ بیت اللہ کی راہ میں قریش کی مزاحمت ختم کرنے کے لیے تلوار اٹھا سکتے ہیں ،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر انھیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے تلوار اٹھائیں اور برابر اٹھائے رکھیں ،یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور سرزمینِ حرم میں دین صرف اللہ ہی کا ہو جائے۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک بھاری ذمہ داری ہے اور مسلمانوں کے کسی نظم اجتماعی پر اُس کی حربی اور اخلاقی قوت کا لحاظ کیے بغیر نہیں ڈالی جا سکتی۔ چنانچہ سورۂ انفال میں قرآن نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس کا لحاظ کیا گیا اور مختلف مراحل میں یہ اسی کے لحاظ سے کم یا زیادہ کر دی گئی۔

پہلے مرحلے میں جب مسلمانوں کی جماعت زیادہ تر مہاجرین و انصار کے سابقینِ اولین پر مشتمل تھی اور ایمان و اخلاق کے اعتبار سے اس میں کسی نوعیت کا کوئی ضعف نہ تھا ، وہ دس کے مقابلے میں ایک کی قوت سے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے پابند تھے ۔ ارشاد فرمایا :

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ ، حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ، اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاَءِۃٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذَیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ . (الانفال ۸ : ۶۵)

''اے نبی ،ان اہلِ ایمان کو جہاد پر ابھارو ۔ تم میں سے اگر بیس ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے، اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ان کافروں کے ہزار پر بھاری رہیں گے ، اس لیے کہ یہ بصیرت سے محروم لوگ ہیں۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس بصیرت کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''یہی بصیرت انسان کا اصل جوہر ہے ۔اس بصیرت کے ساتھ جب مومن میدانِ جنگ میں نکلتا ہے تو وہ اپنے تنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت محسوس کرتا ہے ، اس کو اپنے داہنے بائیں خدا کی نصرت نظر آتی ہے ،موت اس کو زندگی سے زیادہ عزیز ومحبوب ہو جاتی ہے ۔ اس لیے کہ اس کی بصیرت اس کے سامنے اس منزل کو روشن کر کے دکھا دیتی ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی بصیرت اس کے اندر وہ صبرو ثبات پیدا کرتی ہے جو اس کو تنہا اس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کر دیتی ہے ۔'' (تدبرِ قرآن ۳/ ۵۰۶۔ ۵۰۷)

یہ پہلا مرحلہ تھا ۔اس کے بعد نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ۔اس مرحلے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی، لیکن دین کی بصیرت کے لحاظ سے وہ سابقین اولین کے ہم پایہ نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے اس ذمہ داری کا بوجھ بھی اُن پر ہلکا کر دیا اور فرمایا:

اَلَءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ، فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ ، وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ، وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ .(الانفال ۸ : ۶۶)

''اب اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری آ گئی ہے۔ لہٰذا تم میں سے اگر سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں۔''

یہی معاملہ مہمات کی ضرورت کے لحاظ سے بھی ہوا ۔بدرو احد اور تبوک وغیرہ کے مواقع پر ہر مسلمان کو اس ذمہ داری کا مکلف ٹھیرایا گیا اور جن لوگوں نے اس مقصد کے لیے نکلنے میں کمزوری دکھائی ،انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت محاسبے کا سامنا کرنا پڑا ، یہاں تک کہ انھیں وعید سنائی گئی کہ وہ اگر اپنے اہل و عیال اور مال و منال کو اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو انتظار کریں کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے اور انھیں بھی اسی انجام سے دوچار کر دے جو رسول کی تکذیب کرنے والوں کے لیے مقدر ہو چکا ہے ۔ ۹ ؂ لیکن جن مہمات کے لیے سب مسلمانوں کے نکلنے کی ضرورت نہ تھی ، اُن کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اب معاملہ درجۂ فضیلت حاصل کرنے کا ہے اور یہ درجۂ فضیلت اگرچہ کوئی معمولی چیزنہیں ہے ، مگر جہاد کے لیے نکلنے کی ذمہ داری اس وقت تمام مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی :

لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجاَھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ . فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ عَلیَ الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً، وَکُلاًّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ، وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ عَلیَ الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ، دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَ مَغْفِرَۃً وَّ رَحْمَۃً. وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. (النساء ۴ :۹۵۔۹۶)

''مسلمانوں میں سے جو لوگ کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہیں اور جو اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کریں، دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فوقیت دی ہے ۔ اور (یہ حقیقت ہے کہ) دونوں سے اللہ کا وعدہ اچھا ہے اور یہ بھی کہ مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے ایک بڑے اجر کی فضیلت عطا فرمائی ہے ، اس کی طرف سے درجے بھی اور مغفرت بھی اور رحمت بھی۔ اور اللہ بخشنے والا ہے ، بڑا مہربان ہے ۔''

تاہم یہ بات قرآن نے دوسری جگہ پوری صراحت کے ساتھ بتا دی ہے کہ ایک مرتبہ میدان میں اترنے کے بعد بزدلی دکھانا اور پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اتنا بڑا گناہ قرار دیا ہے کہ اس پر جہنم کی وعید سنائی ہے۔ سورۂ انفال میں ہے:

یٰٓاَیھُّاَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ . وَ مَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَءِذٍ دُبُرَہٗ اِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلیٰ فِءَۃٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاْوٰۂُ جَھَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمَصِیْرُ . (۸: ۱۵۔۱۶)

''ایمان والو ،جب تم ایک منظم فوج کی صورت میں اِن کافروں کے مقابلے میں آؤ تو انھیں پیٹھ نہ دکھاؤ۔ اور (جان لو کہ) جس نے اس موقع پر پیٹھ دکھائی ، الاّ یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتا ہو یا اپنی فوج کے کسی دوسرے حصے سے ملنا چاہتا ہو ، تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے ۔''

استاذ امام ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''اب یہ مسلمانوں کو آیندہ پیش آنے والی جنگوں سے متعلق ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب منظم فوج کشی کی شکل میں دشمن سے تمھارا مقابلہ ہو تو پیٹھ نہ دکھانا ۔یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی انھی تائیدات پر مبنی ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہیں کہ جن کی پشت پر خدا اور اس کے فرشتے یوں مدد و نصرت کے لیے کھڑے ہوں ،ان کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنی پیٹھ دشمن کو دکھائیں ۔

'ومن یولھم یومئذ دبرہ' ایسی صورت میں جو لوگ دشمن کو پیٹھ دکھائیں گے ، فرمایا کہ وہ خدا کا غضب لے کر لوٹیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جرم کفرو ارتداد کے برابر ہے۔ اس جرم کی یہ شدت، ظاہر ہے کہ اسی بنیاد پر ہے کہ جو شخص میدان جنگ سے بھاگتا ہے، وہ اپنی اس بزدلی سے بسا اوقات پوری فوج ،بلکہ پوری ملت کے لیے ایک شدید خطرہ پیدا کر دیتا ہے۔

' الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فءۃ'،یعنی اس سے مستثنیٰ وہ شکلیں ہیں جو کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کے لیے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسی صورت اس کے سامنے آ گئی ہے کہ وہ اپنے ایک مورچے سے ہٹ کر اپنے ہی کسی دوسرے مورچے کی طرف سمٹنا چاہتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ حرام جو چیز ہے ، وہ فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا ہے ۔ وہ پیچھے ہٹنا اس سے مستثنیٰ ہے جو تدبیر جنگ کی نوعیت کا ہو ۔'' (تدبرِ قرآن ۳ /۴۵۰۔ ۴۵۱)

قرآن کی ان تصریحات سے یہ تین باتیں بالکل متعین ہو کر سامنے آتی ہیں :

اول یہ کہ ظلم و عدوان کا وجود متحقق بھی ہو تو جہاد اس وقت تک فرض نہیں ہوتا ،جب تک دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے ۔ سابقینِ اولین کے ساتھ دوسرے لوگوں کی شمولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں دو کے مقابلے میں ایک مقرر کر دی تھی ۔ بعد کے زمانوں میں یہ تو متصور نہیں ہو سکتا کہ یہ اس سے زیادہ ہو سکتی ہے ،لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد و قتال کی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں ، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اس وقت کی صورتِ حال کے لحاظ سے دیا تھا:

وَاَعِدُّوْالَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بَہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَ ٰاخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ ، اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ ، وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ . ( الانفال۸: ۰ ۶)

''اور اِن کافروں کے لیے ، جس حد تک ممکن ہو، حربی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے اورتمھارے ان دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور ان کے علاوہ اُن دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ،(لیکن) اللہ انھیں جانتا ہے اور (جان رکھو کہ) اللہ کی اِس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے ،وہ تمھیں پورا مل جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ ہو گی۔''

دوم یہ کہ جہاد میں عملاً حصہ نہ لینا صرف اُس صورت میں جرم ہے ،جب کوئی مسلمان نفیر عام ۱۰؂ کے باوجود گھر میں بیٹھا رہے ،اُس وقت یہ بے شک نفاق جیسا بڑا جرم بن جاتا ہے ۔ یہ صورت نہ ہو تو جہاد ایک فضیلت ہے جس کے حصول کا جذبہ ہر شخص میں ہونا چاہیے ،لیکن اس کی حیثیت ایک درجۂ فضیلت ہی کی ہے۔ یہ ان فرائض میں سے نہیں ہے کہ جنھیں پورا نہ کیا جائے تو آدمی مجرم قرار پائے۔

سوم یہ کہ قتال فی سبیل اللہ کے لیے میدان میں اترنے کے بعد بزدلی اور فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا حرام ہے ۔کسی صاحبِ ایمان کو ہر گز اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بے اعتمادی، دنیا کی آخرت پر ترجیح اور موت و حیات کو اپنی تدبیر پر منحصر قرار دینے کا جرم ہے جس کی ایمان کے ساتھ کوئی گنجایش نہیں مانی جا سکتی ۔

جذبۂ محرکہ

دوسری بات جو ان آیات سے واضح ہوتی ہے ،وہ یہ ہے کہ جس قتال کا حکم ان میں دیا گیا ہے ،وہ نہ خواہشِ نفس کے لیے ہے ،نہ مال ودولت کے لیے ،نہ ملک کی تسخیر اور زمین کی حکومت کے لیے ،نہ شہرت و ناموری کے لیے اور نہ حمیت و حمایت اور عصبیت یا عداوت کے کسی جذبے کی تسکین کے لیے ۔ وہ ،جس طرح کہ ' قاتلوا' کے بعد ' فی سبیل اللّٰہ'کی قید سے ظاہر ہے ،محض اللہ کے لیے ہے ۔ قرآن نے یہ بات حکم کی ابتدا ہی میں پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دی ہے کہ انسان کی خودغرضی اور نفسانیت کا اس قتال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ اللہ کی جنگ ہے جو اُس کے بندے ، اس کے حکم پر اور اس کی ہدایت کے مطابق ' فی سبیل اللّٰہ ،' یعنی اس کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ اُن کی حیثیت اس جنگ میں محض آلات و جوارح کی ہے۔ اس میں اُن کو اپنا کوئی مقصد نہیں ،بلکہ خدا کے مقاصد پورے کرنا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا وہ اپنی اس حیثیت سے سرِمو کوئی انحراف نہیں کر سکتے ۔

سورۂ نساء میں ارشاد ہوا ہے :

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ ، فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآءَ الشَیْطٰنِ ، اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا . ( ۴: ۷۶)

''جو لوگ ایمان لائے ہیں ،وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا تم بھی شیطان کے ان دوستوں سے لڑو ۔اس میں شبہ نہیں کہ شیطان کی چال ہر حال میں بودی ہوتی ہے۔''

قرآن کا یہ منشا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مواقع پر نہایت خوبی کے ساتھ واضح فرمایا ہے ۔

ابوموسیٰ اشعری کا بیان ہے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ کوئی مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے ،کوئی شہرت اور ناموری کے لیے لڑتا ہے ،کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے ،فرمائیے کہ ان میں سے کس کی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ کی راہ میں لڑائی تو صرف اس کی ہے جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں اترے ۔ ۱۱؂

ابو امامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اس شخص کے بارے میں فرمائیے جو مالی فائدے اور ناموری کے لیے جنگ کرتا ہے ،اُسے کیا ملے گا؟ آپ نے جواب دیا : اُسے کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ اُس شخص نے تین مرتبہ یہی بات پوچھی اور آپ نے یہی جواب دیا ، یہاں تک کہ فرمایا :اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی اُس وقت تک قبول نہیں کرتا ، جب تک وہ خالص نہ ہو اور اُس کی رضا مندی کے لیے نہ کیا جائے ۔۱۲؂

ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے آدمیوں کا فیصلہ ہو گا : پہلے اُس شخص کا جو لڑ کر شہید ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا۔ وہ اُن کا اقرار کر لے گا تو اللہ پوچھے گا : تو نے میرے لیے کیا کیا؟ وہ کہے گا : میں نے تیرے لیے جنگ کی ،یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو نے جھوٹ بولا ،تو نے تو اس لیے جنگ کی تھی کہ لوگ تیری بہادری کا اعتراف کریں ،سو یہ ہو گیا ۔پھر اللہ تعالیٰ اُس کے لیے عذاب کا حکم فرمائے گا اور اُسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ۔۱۳؂

عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلا اور اس میں اونٹ باندھنے کی ایک رسی کی نیت بھی کر لی تو اسے صرف وہ رسی ملے گی ۔اس کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہو گا ۔ ۱۴؂

معاذ بن جبل کا بیان ہے کہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا : لڑائیاں دو قسم کی ہیں : جس نے خالص اللہ کی رضا جوئی کے لیے لڑائی کی اور اس میں اپنے حکمران کی اطاعت کی ،اپنا بہترین مال خرچ کیا ،اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کیا اور فساد سے اجتناب کیا تو اس کا سونا جاگنا ،سب باعثِ اجر ہو گا اور جس نے دنیا کو دکھانے اور شہرت اور ناموری کے لیے تلوار اٹھائی اور اس میں اپنے حکمران کی نافرمانی کی اور اس طرح زمین میں فساد پھیلایا تو وہ برابر بھی نہ چھوٹے گا ۔۱۵؂

اس قتال کی یہی نوعیت ہے جس کی بنا پر اس کا اجر بھی نہایت غیر معمولی بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ، بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ . فَرِحِیْنَ بِمَا اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ. یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنْ اللّٰہِ وَ فَضْلٍ ، وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ .(آلِ عمران ۳ :۱۶۹۔۱۷۱)

''اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں،انھیں مردہ خیال نہ کرو ۔ (وہ مردہ نہیں)، بلکہ اپنے پروردگار کے حضور میں زندہ ہیں ، انھیں روزی مل رہی ہے ،اللہ نے جو کچھ اپنے فضل میں سے انھیں دیا ہے ،اُس پر شاداں و فرحاں ہیں اور اُن لوگوں کے بارے میں بشارت حاصل کر رہے ہیں جو اُن کے پیچھے رہ جانے والوں میں سے ابھی ان سے نہیں ملے کہ انھیں بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے ۔ وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل سے خوش وقت ہیں اور اس بات سے کہ اللہ اہلِ ایمان کا اجر ضائع نہ کرے گا ۔''

ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے اُس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن کو روزے رکھتا رہے اور رات کو نماز میں کھڑا رہے ، اور اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے ذمہ لیا ہے کہ انھیں وفات دے گا تو سیدھا بہشت میں لے جائے گا ،ورنہ اجر و ثواب اور مالِ غنیمت دے کر سلامتی کے ساتھ گھر لوٹا دے گا ۔ ۱۶؂

انھی کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو اجرو ثواب میں جہاد کے برابر ہو ۔آپ نے فرمایا : ایسا کوئی عمل نہیں ہے ۔ پھر پوچھا : کیا یہ کر سکتے ہو کہ جب مجاہدین گھروں سے نکلیں تو مسجد میں جا کر برابر نماز میں کھڑے رہو ، ذرا دم نہ لو اور برابر روزے رکھے جاؤ، کبھی افطار نہ کرو ؟ اُس نے کہا : بھلا ایسا کون کر سکتا ہے ۔ ۱۷؂

یہی ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : بہشت میں سو درجے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے ،ان میں سے ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے،جتنا زمین وآسمان میں ہے ۔ ۱۸؂

انھی کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا :اُس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،اللہ کی راہ میں جو شخص بھی زخمی ہوا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون فی الواقع اس کی راہ میں زخمی ہوا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ رنگ تو خون کا رنگ ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی ۔ ۱۹؂

ابنِ جبر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس بندے کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے ،اسے دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں ۔ ۲۰؂

سہل بن سعد کہتے ہیں کہ آپ کا ارشاد ہے : دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد پر ایک دن کا قیام دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے ۔ ۲۱؂

اخلاقی حدود

تیسری بات ان آیات سے یہ واضح ہوتی ہے کہ اللہ کی راہ میں یہ قتال اخلاقی حدود سے بے پروا ہو کر نہیں کیا جا سکتا ۔ اخلاقیات ہر حال میں اور ہر چیز پر مقدم ہیں اور جنگ و جدال کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے ان سے انحراف کی اجازت کسی شخص کو نہیں دی ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ ان میں سے جو لڑنے کے لیے نکلیں، ان سے لڑو ۔جس شہر سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے، تم بھی انھیں وہاں سے نکالو اور انھیں جہاں پاؤ، قتل کرو۔ ان کے ظلم و عدوان اور پیغمبر کی طرف سے اتمامِ حجت کے بعد یہ سب تمھارے لیے جائز ہے، لیکن دو باتیں اس کے باوجود لازماً ملحوظ رہنی چاہییں :

ایک یہ کہ کسی حرمت کے پامال کرنے میں پہل تمھاری طرف سے نہیں ہونی چاہیے ۔چنانچہ مسجدِ حرام کے پاس اور حرام مہینوں میں قتال اگر ہو سکتا ہے تو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے ،جب اس کی ابتدا ان کی طرف سے ہو جائے ۔ تم اس معاملے میں اپنی طرف سے ابتدا ہرگز نہیں کر سکتے ۔

دوم یہ کہ کسی زیادتی کا جواب تو اس زیادتی کے برابر تم انھیں دے سکتے ہو ،لیکن آگے بڑھ کر اپنی طرف سے کوئی زیادتی کرنے کا حق تمھیں حاصل نہیں ہے ۔جنگ کرو ،مگر اس میں تمھاری طرف سے کوئی زیادتی نہ ہو ۔یاد ر کھو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو سخت ناپسند کرتا ہے اور اس کی مدد صرف اُن لوگوں کو پہنچتی ہے جو کسی حالت میں بھی اس کے حدود کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔زیر بحث آیات میں قرآن نے یہ دونوں باتیں اپنے بے مثل اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہیں :

اَلشَّھْرُ الْحَرَامُ بِالشَّھْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ .(البقرہ ۲: ۱۹۴ )

''ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہے اور (اسی طرح) دوسری حرمتوں کے بدلے ہیں ۔ لہٰذا جو تم پر زیادتی کریں، تم بھی اُن کی اس زیادتی کے برابر ہی انھیں جواب دو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو اس کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔''

استاذ امام اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''مطلب یہ ہے کہ اشہر حرم میں یا حدودِ حرم میں لڑائی بھڑائی ہے تو بہت بڑا گناہ، لیکن جب کفار تمھارے لیے اس کی حرمت کا لحاظ نہیں کرتے تو تمھیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ قصاص کے طور پر تم بھی ان کو ان کی حرمت سے محروم کر دو ۔ ہر شخص کی جان شریعت میں محترم ہے ، لیکن جب ایک شخص دوسرے کی جان کا احترام نہیں کرتا ،اس کو قتل کر دیتا ہے تو اس کے قصاص میں وہ بھی حرمت جان کے حق سے محروم کر کے قتل کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اشہر حرم اور حدودِ حرم کا احترام مسلم ہے ،بشرطیکہ کفار بھی ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان میں دوسروں کو ظلم و ستم کا ہدف نہ بنائیں ،لیکن جب ان کی تلواریں ان مہینوں میں اور اس بلد امین میں بے نیام ہوتی ہیں تو وہ سزاوار ہیں کہ ان کے قصاص میں وہ بھی ان کے امن و احترام کے حقوق سے محروم کیے جائیں ۔مزید فرمایا کہ جس طرح اشہر حرم کا یہ قصاص ضروری ہے ، اسی طرح دوسری حرمتوں کا قصاص بھی ہے۔ یعنی جس محترم چیز کے حقوقِ حرمت سے وہ تمھیں محروم کریں، تم بھی اس کے قصاص میں اس کے حق حرمت سے انھیں محروم کرنے کا حق رکھتے ہو ۔پس جس طرح کے اقدامات حرم اور اشہر حرم کی حرمتوں کو برباد کر کے وہ تمھارے خلاف کریں ،تم ان کا جواب ترکی بہ ترکی دو۔البتہ ،تقویٰ کے حدود کا لحاظ رہے ۔کسی حد کے توڑنے میں تمھاری طرف سے پیش قدمی نہ ہو اور نہ کوئی اقدام حدِ ضروری سے زائد ہو ۔اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت انھی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ہر طرح کے حالات میں اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔'' ( تدبرِ قرآن ۱/ ۴۷۹ ۔۴۸۰ )

اس حکم کے ذیل میں جو سب سے اہم ہدایت قرآن میں بیان ہوئی ہے ،وہ عہد کی پابندی کی ہے۔ غدراورنقضِ عہدکو اللہ تعالیٰ نے بدترین گناہ قرار دیا ہے اور قتال کی دونوں ہی صورتوں میں ،خواہ وہ ظلم و عدوان کے خلاف ہو یا اتمامِ حجت کے بعد منکرینِ حق کے خلاف ،مسلمانوں پر واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ کسی قوم کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ سورۂ توبہ منکرینِ حق پر عذاب کی سورہ ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو مشرکینِ عرب کے ساتھ تمام معاہدات ختم کر کے آخری اقدام کا حکم دیا گیا ہے ،لیکن اتنی بات اس میں بھی پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دی گئی ہے کہ کوئی معاہدہ اگر وقت کی قید کے ساتھ کیا گیا ہے تو اس کی مدت لازماً پوری کی جائے گی ۔ ۲۲؂ اسی طرح انفال میں صاف بتا دیا گیا ہے کہ کوئی معاہد قوم اگر مسلمانوں پر ظلم بھی کر رہی ہو تو معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ان کی مدد نہیں کی جاسکتی ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا ، وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمْ النَّصْرُ اِلَّا عَلیٰ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِیْثَاقٌ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ . (۸: ۷۲ )

''رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں، مگر انھوں نے ہجرت نہیں کی تو ان سے تمھارا کوئی رشتۂ ولایت نہیں ہے ، جب تک وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ۔ اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد چاہیں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہو ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عہد شکنی کی شناعت متعدد مواقع پر بیان فرمائی ہے :

ابو سعید کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :ہر غدار اور عہد شکن کی غداری کا اعلان کرنے کے لیے قیامت کے دن اس کی غداری کے بہ قدر ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ،اور یاد ر کھو کہ لوگوں کا سربراہ غداری اور عہدشکنی کا مرتکب ہو تو اس سے بڑا کوئی غدار نہیں ہے۔ ۲۳؂

عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا :جو کسی معاہد کو قتل کرے گا ،اسے جنت کی بو تک نصیب نہ ہو گی ،دراں حالیکہ اس کی بو چالیس برس کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے ۔ ۲۴؂

تاہم اگر دوسری طرف سے خیانت کا اندیشہ ہو تو یہ حق مسلمانوں کو بے شک ، حاصل ہے کہ وہ بھی قرآن کے الفاظ میں اس معاہدے کو ' علی سواء ' اُن کے منہ پر پھینک ماریں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلیٰ سَوَآءٍ ، اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْخَآءِنِیْنَ .(الانفال ۸ :۸ ۵ )

''پھر اگر کسی قوم سے بد عہدی کا اندیشہ ہو تو تم بھی برابری کے ساتھ علانیہ اُس کا عہد اس کے آگے پھینک دو ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ بد عہدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔''

استاذ امام نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''' علی سوا ء'کا مفہوم یہ ہے کہ انھی کے برابر کا اقدام تم بھی کرنے کے مجاز ہو ۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہیے ،بلکہ جواب ہم وزن ہونا چاہیے ۔بعض لوگوں نے اس سے یہ لازم قرار دیا ہے کہ ختم معاہدہ کی اطلاع فریق ثانی کو دے دینی چاہیے، ان کی اس بات کی کوئی دلیل ان الفاظ میں مجھے نظر نہیں آتی ۔ البتہ ،یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ محض فرضی اندیشہ کسی معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے ،بلکہ عملاً اس کی خلاف ورزی کا اظہار ہوا ہو۔ اول تو یہاں 'تخافن' کا جو فعل استعمال ہوا ہے ، اس میں خود تاکید ہے ۔ دوسرے ' علی سواء' کی قید بھی اس کو نمایاں کر رہی ہے۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۴۹۹)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات اس طرح واضح فرمائی ہے:

من کان بینہ و بین قوم عھد فلا یحلن عھداً ولایشدنہ حتی یمضی امدہ او ینبذ الیھم علی سواء . (ترمذی ،رقم ۱۵۸۰ )

''جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو ، وہ اس کی مدت گزر جانے تک اس میں کوئی تغیر و تبدل نہ کرے ، یا پھر خیانت کا اندیشہ ہو تو اسے برابری کے ساتھ علانیہ اس کے آگے پھینک دے ۔''

اس کے علاوہ جو ہدایات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ، وہ یہ ہیں :

۱۔ جنگ کے لیے نکلتے وقت تکبر اور نمایش کا رویہ اختیار نہ کیا جائے ۔سورۂ انفال میں قرآن نے جہاں مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ اس طرح کے موقعوں پر اللہ کو بہت یاد کریں ،وہاں یہ نصیحت بھی کی ہے کہ وہ اُن لوگوں کی روش اختیار نہ کریں جو اپنی کثرتِ تعداد اور اسباب ووسائل کی بہتات کا غرور دکھاتے ہوئے جنگ کے لیے نکلتے ہیں ۔فرمایا ہے کہ یہ طنطنہ اور طمطراق کسی بندۂ مومن کے شایانِ شان نہیں ہے ۔رزم ہو یا بزم ،خدا کے بندوں پر عبدیت کی تواضع اور فروتنی ہر حال میں نمایاں رہنی چاہیے۔اس لیے کہ اُن کی جنگ محض جنگ نہیں ،بلکہ اللہ کی عبادت ہے اور ضروری ہے کہ اس کی یہ شان ہر جگہ قائم رہے:

وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّرِءَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ .(۸ :۴۷)

''اور ان لوگوں کی طرح نہ بننا جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے رستے سے روکتے ہیں، دراں حالیکہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ،اللہ اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔''

۲۔ وہ لوگ جو جنگ کے موقع پر کسی وجہ سے غیر جانب دار رہنا چاہتے ہوں ،ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے ۔ سورۂ نساء میں اُن مسلمانوں کا معاملہ زیرِ بحث آیا ہے جو اپنی کمزوری اور پست ہمتی کی وجہ سے نہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے تیار تھے اور نہ مسلمانوں میں شامل ہو کر اپنی قوم سے لڑنے کے لیے تیار تھے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے:

اَوْجَآءُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ، وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ لَسَلَّطَھُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقٰتَلُوْکُمْ ، فَاِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ ، فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْھِمْ سَبِیْلًا.(۴: ۰ ۹)

''یا وہ لوگ جو اس طرح تمھارے پاس آئیں کہ نہ تم سے لڑنے کی ہمت پا رہے ہوں نہ اپنی قوم سے ،اور (ایسے ہیں کہ ) اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر دلیر کر دیتا اور وہ تم سے لڑتے ۔ لہٰذا وہ اگر الگ رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمھاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ تمھیں ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا ۔''

۳ ۔ اُن لوگوں کو قتل نہ کیا جائے جو عقلاً و عرفاً جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے یا نہیں لیا کرتے ۔عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جنگ کے موقع پر جب یہ معلوم ہوا کہ ایک عورت قتل کر دی گئی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے لوگوں کو سختی کے ساتھ منع کر دیا ۔ ۲۵؂

۴۔ دشمن کو آگ میں جلاکر نہ مارا جائے ۔ابوہریرہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہم لوگوں کو لڑائی پر جانے کا حکم دیا تو ہدایت کی کہ فلاں دو آدمی ملیں تو انھیں جلا دینا ،مگر جب ہم روانہ ہونے لگے تو بلا کر فرمایا : میں نے تمھیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو آگ میں جلا دینا ،لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے ،اس لیے اگر یہ لوگ تمھیں ملیں تو انھیں قتل کر دیا جائے۔۲۶ ؂

۵۔ لوٹ مار نہ کی جائے ۔عبد اللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ دشمن کے ملک میں پیش قدمی کرتے ہوئے عام لوگوں کی کوئی چیز چھین لی جائے۔ ۲۷؂ ایک انصاری کی روایت ہے کہ جہاد کے سفر میں ایک مرتبہ اہل لشکر نے شدید ضرورت کے تحت کچھ بکریاں لوٹ لیں اور ان کا گوشت پکا کر کھانا چاہا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے دیگچیاں الٹ دیں اور فرمایا : لوٹ کا مال مردار سے بہتر نہیں ہے۔ ۲۸؂

۶۔ مثلہ نہ کیا جائے ۔بریدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوجوں کو بھیجتے وقت جو ہدایات دیا کرتے تھے،اُن میں یہ بات بھی بڑی تاکید کے ساتھ فرماتے تھے کہ لاشوں کی بے حرمتی اور اُن کے اعضا کی قطع و برید نہیں ہونی چاہیے۔ ۲۹؂

۷۔ راستے تنگ نہ کیے جائیں ۔معاذ بن انس کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ لوگوں نے اترنے کی جگہ تنگ کر ر کھی ہے اور راہ گیروں کو لوٹ رہے ہیں۔حضور کے پاس اس کی شکایت پہنچی تو آپ نے فوراً منادی کرا دی کہ جو اترنے کی جگہ تنگ کرے گا یا راہ گیروں کو لوٹے گا ،اس کا کوئی جہاد نہیں ہے۔ ۳۰ ؂

اقدام کی غایت

چوتھی بات اقدام کی غایت ہے ۔ سورۂ بقرہ کی ان آیات میں پوری صراحت کے ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی ، جب تک یہ دو مقاصد بالکل آخری درجے میں حاصل نہیں ہو جاتے :

ایک یہ کہ فتنہ باقی نہ رہے ۔

دوسرے یہ کہ سرزمینِ عرب میں دین صرف اللہ ہی کا ہو جائے ۔

پہلے مقصد کے لیے قرآن میں 'حتی لا تکون فتنۃ'کے الفاظ آئے ہیں ۔ سورۂ انفال (۸) کی آیت ۳۹ میں بھی جنگ کا یہ مقصد کم و بیش انھی الفاظ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ 'فتنۃ' جسے قرآن نے یہاں 'اشد من القتل ' (قتل سے بھی بڑا جرم) قرار دیا ہے ، اس کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں ۔ یہی چیز ہے جسے انگریزی زبان میں' Persecution 'کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ فی الواقع قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیاآزمایش کے لیے بنائی ہے اور اس میں انسانوں کو حق دیا ہے کہ وہ اپ

ہے، اسے ختم کرنے کے لیے تلوار اٹھائیں اور اس وقت تک برابر اٹھائے رکھیں ، جب تک یہ حالت باقی ہے ۔ سورۂ نساء میں یہ حکم قرآن نے نہایت مؤثر اسلوب میں اس طرح بیان فرمایا ہے :

وَمَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ : رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُھَا وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا . اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ ، فَقَاتِلُوْآ اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ ، اِنَّ کَیْدَ الشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا . (۴: ۷۵۔۷۶)

''اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے جو فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ، ہمیں اس ظالموں کی بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ہم درد پیدا کر دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے مددگار پیدا کر دے ۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ لہٰذا تم بھی شیطان کے ان حامیوں سے لڑو ۔ شیطان کی چال ہر حال میں بودی ہوتی ہے۔''

فتنہ کے خلاف جنگ کا یہ حکم قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی بیان ہوا ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ دوسروں کو بالجبر ان کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی روایت اب بڑی حد تک دنیا سے ختم ہو گئی ہے ، لیکن انسان جب تک انسان ہے ، نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب اور کس صورت میں پھر زندہ ہو جائے ۔ اس لیے قرآن کا یہ حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے ۔ اللہ کی زمین پر اس طرح کا کوئی فتنہ جب سر اٹھائے، مسلمانوں کی حکومت اگر اتنی قوت رکھتی ہو کہ وہ اس کا استیصال کر سکے تو اس پر لازم ہے کہ مظلوموں کی مدد کے لیے اٹھے اور اللہ کی اس راہ میں جنگ کا اعلان کر دے ۔ مسلمانوں کے لیے قرآن کی یہ ہدایت ابدی ہے ، اسے دنیا کا کوئی قانون بھی ختم نہیں کر سکتا ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی جبر کے علاوہ ظلم و عدوان کی جو دوسری صورتیں ہو سکتی ہیں ، ان کا حکم کیا یہ نہیں ہو گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال اور عقل و رائے کے خلاف ظلم و عدوان کی تمام صورتیں ، درجہ بدرجہ اسی کے تحت سمجھنی چاہییں ۔ چنانچہ سورۂ حجرات میں قرآن نے ہدایت فرمائی ہے کہ اہل ایمان کا کوئی گروہ اگر اپنے بھائیوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے اور مصالحت کی کوششوں کے باوجود اس سے باز نہ آئے تو اس سے جنگ کرنی چاہیے :

وَاِنْ طَآءِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا ، فَاِنْ بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِئیٓ ءَ اِلآی اَمْرِ اللّٰہِ ، فَاِنْ فَآءَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ . اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ، فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ.(۴۹ : ۹۔۱۰)

''اور مسلمانوں کے دو گروہ اگر کبھی آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ ۔ پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے جنگ کرو ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلے کی طرف لوٹ آئے ۔ پھر اگر وہ لوٹ آئے تو فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو ، اس لیے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے ان بھائیوں کے مابین صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔''

ان آیات میں جو حکم بیان ہوا ہے ، اس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے :

۱۔ مسلمانوں کے دو گروہ اگر کبھی آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں کو اسے پرایا جھگڑا سمجھ کر اس سے الگ تھلگ نہیں بیٹھ رہنا چاہیے ۔ اسی طرح یہ بات بھی ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ حق اور ناحق کی تحقیق کیے بغیر محض خاندانی ، قبائلی اور گروہی عصبیت کے جوش میں کسی کے حامی اور کسی کے مخالف بن جائیں ۔ ان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ معاملے کو پوری طرح سمجھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کریں ۔

۲۔ اگر ایک فریق مصالحت پر راضی نہ ہو یا راضی ہو جانے کے بعد پھر ظلم و عدوان کا رویہ اختیار کرے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ طاقت رکھتے ہوں تو اپنی کسی منظم حکومت کے تحت اس کے خلاف جنگ کریں ، یہاں تک کہ وہ اس فیصلے کے سامنے سر جھکا دے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے ۔ قرآن نے اس فیصلے کو 'امر اللّٰہ' سے تعبیر کیا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی فریق اس سے گریز کرے گا تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے سے گریز کرے گا ۔

۳۔ فریقین مصالحت پر آمادہ ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ نہ بے جا رعایت کی جائے اور نہ کسی کو عدل کے خلاف دبایا جائے ، بلکہ ٹھیک انصاف کے مطابق صلح کرائی جائے اور جس کا جو نقصان ہوا ہے ، اسے پورا کرا دیا جائے ۔

یہ حکم ، ظاہر ہے کہ صرف اسی صورت سے متعلق ہے ، جب مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ حکومت موجود ہو جس کے تحت جنگ کی جا سکے ۔ یہ صورت نہ ہو تو سیدنا حذیفہ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ ہر مسلمان کو اس فتنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے :

قلت : فان لم یکن لھم جماعۃ ولا امام؟ قال : فاعتزل تلک الفرق کلھا: ولو ان تعض باصل شجرۃ حتی یدرکک الموت و انت علی ذلک .(بخاری ، رقم ۷۰۸۴)

''میں نے پوچھا : پھر اگر مسلمانوں کا کوئی نظم اجتماعی اور کوئی حکمران نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : اس صورت میں ان سب گروہوں سے بالکل الگ ہو جاؤ ، اگرچہ تمھیں مرتے وقت تک کسی درخت کی جڑ ہی چبانی پڑے۔''

دوسرے مقصد کے لیے بقرہ اور انفال ،دونوں میں بالترتیب 'یکون الدین للّٰہ ' اور 'یکون الدینکلہ للّٰہ' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اس سے پہلے جنگ کا حکم ' قاتلوھم' کے الفاظ میں بیان ہوا ہے ۔ سیاقِ کلام سے واضح ہے کہ اس میں ضمیر منصوب کا مرجع مشرکینِ عرب ہیں ، لہٰذا یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ ان الفاظ کے معنی یہاں اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ دین سرزمین عرب میں پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے ۔ یہ مقصد دو ہی صورتوں میں حاصل ہو سکتا تھا : ایک یہ کہ دین حق کے سوا تمام ادیان کے ماننے والے قتل کر دیے جائیں ۔ دوسرے یہ کہ انھیں ہر لحاظ سے زیر دست بنا کر رکھا جائے ۔ چنانچہ صلح و جنگ کے بہت سے مراحل سے گزر کر جب منکرین پوری طرح مغلوب ہو گئے تو بالآخر یہ دونوں ہی طریقے اختیار کیے گئے ۔ مشرکین عرب اگر ایمان نہ لائیں تو انھیں ختم کر دینے کا حکم دیا گیا اور یہودو نصاریٰ کے بارے میں ہدایت کی گئی کہ ان سے جزیہ لے کر اور انھیں پوری طرح محکوم اور زیردست بنا کر ہی اس سرزمین پر رہنے کی اجازت دی جائے ۔ ان میں سے ، البتہ جو معاندین تھے انھیں جب ممکن ہوا قتل یا جلاوطن کر دیا گیا ۔

ہم نے تمہید میں لکھا ہے کہ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جو اقدامات کیے اور انھیں قتال کا جو حکم دیا گیا ، اس کا تعلق شریعت سے نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت سے ہے ۔ اس کتاب میں جگہ جگہ اس قانون کی تفصیل کی گئی ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرینِ حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آ جاتا ہے ۔ قرآن بتاتا ہے کہ عذاب کا یہ فیصلہ رسولوں کی طرف سے انذار ، انذارِ عام ، اتمامِ حجت اور اس کے بعد ہجرت و برأت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اوراس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی ، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو جاتی ہے ۔ اس کی جو تاریخ قرآن میں بیان ہوئی ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر بالعموم دو ہی صورتیں پیش آتی ہیں : ایک یہ کہ پیغمبر کے ساتھی بھی تعداد میں کم ہوتے ہیں اور اسے کوئی دارالہجرت بھی میسر نہیں ہوتا ۔دوسرے یہ کہ وہ معتدبہ تعداد میں اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلتا ہے اور اس کے نکلنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کسی سر زمین میں اس کے لیے آزادی اور تمکن کے ساتھ رہنے بسنے کا سامان کر دیتے ہیں ۔ ان دونوں ہی صورتوں میں رسولوں سے متعلق خدا کی وہ سنت لازماً روبہ عمل ہو جاتی ہے جو قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗٓ اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ . کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ، اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ .(المجادلہ ۵۸ : ۲۰۔ ۲۱ )

''بے شک ، وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ، وہی ذلیل ہوں گے ۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی ۔ بے شک ، اللہ قوی ہے، بڑا زبردست ہے ۔''

پہلی صورت میں رسول کے قوم کو چھوڑ دینے کے بعد یہ ذلت اس طرح مسلط کی جاتی ہے کہ آسمان کی فوجیں نازل ہوتیں، ساف و حاصب کا طوفان اٹھتا اور ابرو باد کے لشکر قوم پر اس طرح حملہ آور ہو جاتے ہیں کہ رسول کے مخالفین میں سے کوئی بھی زمین پر باقی نہیں رہتا ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قومِ نوح ، قومِ لوط ، قومِ صالح ، قومِ شعیب اور اس طرح کی بعض دوسری قوموں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ۔ اس سے مستثنیٰ صرف بنی اسرائیل رہے جن کے اصلاً توحید ہی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے سیدنا مسیح علیہ السلام کے ان کو چھوڑنے کے بعد ان کی ہلاکت کے بجائے ہمیشہ کے لیے مغلوبیت کا عذاب ان پر مسلط کر دیا گیا۔

دوسری صورت میں عذاب کا یہ فیصلہ رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے ۔ اس صورت میں قوم کو مزید کچھ مہلت مل جاتی ہے ۔ رسول اس عرصے میں دارالہجرت کے مخاطبین پر اتمامِ حجت بھی کرتا ہے ۔ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی تربیت اور تطہیر و تزکیہ کے بعد انھیں اس معرکۂ حق و باطل کے لیے تیار بھی کرتا ہے اور دارالہجرت میں اپنا اقتدار بھی اس قدر مستحکم کر لیتا ہے کہ اس کی مدد سے وہ منکرین کے استیصال اور اہلِ حق کی سرفرازی کا یہ معرکہ سر کر سکے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیدا ہوئی ۔ چنانچہ اتمامِ حجت کے بعد پہلے یہود مغلوب ہوئے ۔ معاہدات کی وجہ سے انھیں تحفظ حاصل تھا ، لہٰذا ان میں سے جس نے بھی نقضِ عہد کا ارتکاب کیا ، اللہ کے رسول کو جھٹلانے کی یہ سزا اس پر نافذ کر دی گئی ۔ بنو قینقاع کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور بنو نضیر کو شام کی طرف جلا وطن کر دیا ۔ ۳۱؂ پھر خیبر پر حملہ کر کے وہاں بھی ان کی قوت توڑ دی گئی ۔ ۳۲؂ اس سے پہلے انھی کے لوگوں میں سے ابو رافع اور کعب بن اشرف کو ان کے گھروں میں قتل کرا دیا گیا ۔ ۳۳؂ بنو قریظہ نے غزوۂ خندق کے موقع پر غداری کی ۔ ۳۴؂ احزاب کے دل بادل چھٹ گئے اور باہر سے کسی حملے کا خوف باقی نہیں رہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ان کا محاصرہ کر لیا ۔ اس سے عاجز ہو کر انھوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے حق میں جو فیصلہ کریں ، وہ ہمیں منظور ہے ۔ اس پر سعد بالاتفاق حکم بنائے گئے ۔ قرآن میں کوئی متعین سزا چونکہ اس وقت تک ان کے لیے بیان نہیں ہوئی تھی ، اس لیے سعد رضی اللہ عنہ نے تورات کے مطابق فیصلہ کر دیا کہ بنو قریظہ کے بالغ مرد قتل کیے جائیں ، عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں بانٹ دیا جائے ۔ ۳۵؂ سعد بن معاذ کا یہ فیصلہ نافذ کیا گیا اور اس کے مطابق ان کے تمام مرد قتل کر دیے گئے ۔ ۳۶؂ اس کے بعد کوئی قابلِ ذکر واقعہ ان سے متعلق نہیں ہوا ، یہاں تک کہ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ان کے بارے میں نازل ہو گیا ۔ ارشاد

فرمایا ہے :

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَایُحَرِّمُوْنَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍوَّھُمْ صَاغِرُوْنَ . (۹: ۲۹)

''ان (اہل کتاب) سے جنگ کرو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے ، اسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں ، (ان سے جنگ کرو) یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کریں۔''

یہ حکم یہودو نصاریٰ ، دونوں کے بارے میں تھا ۔ اللہ کے آخری پیغمبر کی طرف سے اتمامِ حجت کے نتیجے میں عذابِ استیصال کا مستحق ہو جانے کے باوجود یہ ان کے لیے بڑی رعایت تھی جو ان کے اصلاً توحید ہی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ کی گئی ، لیکن انھوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر غدر اور نقض عہد کا رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا ۔ ۳۷ ؂ چنانچہ خیبر کے یہود اور نجران کے نصاریٰ ، دونوں کو بالآخر سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ کے لیے جزیرہ نماے عرب سے جلاوطن کر دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ بات ان کے بارے میں پوری ہو گئی جو قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے :

وَلَوْ لَآ اَنْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَھُمْ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ. (الحشر ۵۹: ۳)

''اور اگر اللہ نے ان کے لیے جلا وطنی نہ لکھی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں انھیں عذاب دے کر ان کا نام و نشان مٹا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب مقرر ہی ہے ۔ ''

مشرکین عرب بھی جب اسی طرح مغلوب ہو گئے تو سورۂ توبہ میں اعلان کر دیا گیا کہ اب ان کے ساتھ آیندہ کوئی معاہدہ نہیں ہو گا اور ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے ، اس کے بعد رسوائی کا عذاب ان پر مسلط ہو جائے گا جس سے نکلنے کی کوئی راہ وہ اس دنیا میں نہ پا سکیں گے ۔ ۳۸ ؂ چنانچہ مکہ فتح ہوا اور جس طرح ان کے بعض معاندین بدر اور احد کے قیدیوں میں سے قتل کیے گئے تھے ، اسی طرح اس موقع پر بھی قتل کر دیے گئے ۔ اس سے پہلے سورۂ توبہ کا یہ حکم ان کے بارے میں نازل ہو چکا تھاکہ حج اکبر کے موقع پر اس بات کا اعلان کر دیا جائے کہ حرام مہینے گزر جانے کے بعد مسلمان ان مشرکین کو جہاں پائیں گے ، قتل کر دیں گے ، الاّ یہ کہ وہ ایمان لائیں ، نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ قرار دیے گئے جن کے ساتھ متعین مدت کے معاہدات تھے ۔ ان کے بارے میں ہدایت کی گئی کہ اگر وہ کوئی خلاف ورزی نہیں کرتے تو ان معاہدات کی مدت تک انھیں پورا کیا جائے گا ۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ مدت پوری ہو جانے کے بعد یہ معاہدین بھی اسی انجام کو پہنچیں گے جو جزیرہ نماے عرب کے تمام مشرکین کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے ۔ ایمان نہ لانے کی صورت میں یہ ان کے قتلِ عام کا اعلان تھا جو قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے :

وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَ رَسُوْلُہٗ ، فَاِنْ تُبْتُمْ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ، وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، اِلَّا الَّذِیْنَ عَاھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْءًا وَّ لَمْ یُظَاھِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْآ اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ اِلٰی مُدَّتِھِمْ ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ. فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ ، فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُالزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ، اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ . (التوبہ۹: ۳۔۵)

''اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حجِ اکبر کے دن لوگوں میں منادی کر دی جائے کہ اللہ ان مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی ۔ اس لیے اگر توبہ کر لو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر روگردانی کرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے ، اور ان منکروں کو ،(اے پیغمبر) ، ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دو ۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ مشرکین ہیں جن سے تم لوگوں نے معاہدہ کیا اور انھوں نے اس میں نہ کوئی خیانت کی ہے اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے ۔ سو ان کا معاہدہ ان کی قرار دادہ مدت تک پورا کرو ۔ اللہ ، یقیناًان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو حدود کی پابندی کرتے ہیں۔ پھر جب (حج کے بعد) حرام مہینے گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ ، قتل کرو ، انھیں پکڑو ، انھیں گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک لگاؤ ۔ ہاں ، اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بے شک ، اللہ بخشنے والا ہے، وہ سراسر رحمت ہے ۔ ''

ان اقدامات سے جنگ کا وہ مقصد تو بالکل آخری درجے میں پورا ہو گیا جو 'یکون الدین کلہ للّٰہ ' کے الفاظ میں بیان ہوا ہے، لیکن اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت کی رو سے یہ تمام اقدامات درحقیقت اس ''شہادت'' کا لازمی نتیجہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے عرب کے مشرکین اور یہودو نصاریٰ پر قائم ہوئی ۔ قرآن نے بتایا ہے کہ شہادت کا یہ منصب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو بھی اسی طرح حاصل تھا۔ لہٰذا آپ پر ایمان لانے کے بعد وہ جب ''خیر امت'' ۳۹؂ بن کر اٹھے تو ان کے ذریعے سے یہ جزیرہ نماے عرب سے باہر کی اقوام پر بھی قائم ہو گئی ۔ قرآن نے صراحت کی ہے کہ ذریت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کے لیے اسی طرح منتخب کیا تھا، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ، ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ، مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ، ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ . (الحج ۲۲ : ۷۸)

''اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو ، جیسا کہ اس جدوجہد کا حق ہے ۔ اسی نے تم کو (اس ذمہ داری کے لیے ) منتخب کیا اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ تمھارے لیے پسند فرمایا ہے۔ اس نے تمھارا نام مسلمان رکھا تھا ، اس سے پہلے بھی اور اس (آخری بعثت کے دور) میں بھی ۔ اس لیے (منتخب کیا ہے) کہ رسول تم پر گواہی دے اور دنیا کے باقی لوگوں پر تم (اس دین کی)گواہی دینے والے بنو ۔ ''

صلح حدیبیہ کے بعد ان اقوام کا تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سربراہوں کو خط لکھ کر کر دیا تھا ۔ یہ خطوط جن اقوام کے سربراہوں کو لکھے گئے ، ان کا علاقہ کم و بیش وہی ہے جسے تورات میں ذریت ابراہیم کی میراث کا علاقہ قرار دیا گیا ہے ۔ ۴۰ ؂ چنانچہ جزیرہ نما میں اپنی حکومت مستحکم کر لینے کے بعد بنی اسمٰعیل کے اہل ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے اس اعلان کے ساتھ ان اقوام پر حملہ آور ہو گئے کہ اسلام قبول کرو یا زیردست بن کر جزیہ دینے کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ اس کے سوا اب زندہ رہنے کی کوئی صورت تمھارے لیے باقی نہیں رہی ۔ ان میں سے کوئی قوم بھی اصلاً شرک کی علم بردار نہ تھی ، ورنہ وہ اس کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرتے جو مشرکین عرب کے ساتھ کیا گیا تھا ۔

اس سے واضح ہے کہ یہ محض قتال نہ تھا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا جو اتمام حجت کے بعد سنت الہٰی کے عین مطابق اور ایک فیصلۂ خداوندی کی حیثیت سے پہلے عرب کے مشرکین اور یہودونصاریٰ پر اور اس کے بعد عرب سے باہر کی اقوام پر نازل کیا گیا ۔ لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ منکرین حق کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں مفتوحین پر جزیہ عائد کر کے انھیں محکوم اور زیردست بنا کر رکھنے کا حق ان اقوام کے بعد اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔ قیامت تک کوئی شخص اب نہ دنیا کی کسی قوم پر اس مقصد سے حملہ کر سکتا ہے اور نہ کسی مفتوح کو محکوم بنا کر اس پر جزیہ عائد کر نے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے قتال کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے ، اور وہ ظلم و عدوان کے خلاف جنگ ہے ۔ اللہ کی راہ میں قتال اب یہی ہے۔ اس کے سوا کسی مقصد کے لیے بھی دین کے نام پر جنگ نہیں کی جا سکتی ۔

نصرت الٰہی

یٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ ، حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ، اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ ، وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّایَفْقَہُوْنَ. اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ، فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِاءَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ، وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ . (الانفال ۸ : ۶۵۔ ۶۶)

''اے نبی ، مسلمانوں کو جہاد پر ابھارو ۔ اگر تمھارے بیس ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غلبہ پا لیں گے اور اگر سو ایسے ہوں گے تو اِن کافروں کے ہزار پر بھاری رہیں گے ، اِس لیے کہ یہ بصیرت نہیں رکھتے ۔ اچھا ، اب اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری آ گئی ہے ۔ لہٰذا اگر تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر غلبہ پائیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے ، اور (حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں ۔ ''

سورۂ انفال کی یہ آیات جس طرح جہاد کے لیے ذمہ داری کی حد بیان کرتی ہیں ، اسی طرح جہاد و قتال میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ضابطہ بھی بالکل متعین کر دیتی ہیں ۔ ان میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جنگ میں نصرتِ الہٰی کا معاملہ الل ٹپ نہیں ہے کہ جس طرح لوگوں کی خواہش ہو ، اللہ کی مدد بھی اسی طرح آ جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک قاعدہ مقرر کر رکھا ہے اور وہ اسی کے مطابق اپنے بندوں کی مدد فرماتے ہیں ۔ آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہو تا ہے کہ نصرتِ الہٰی کا یہ ضابطہ درجِ ذیل تین نکات پر مبنی ہے :

اول یہ کہ اللہ کی مدد کے لیے سب سے بنیادی چیز صبر و ثبات ہے ۔ مسلمانوں کی کسی جماعت کو اس کا استحقاق اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا ، جب تک وہ یہ صفت اپنے اندر پیدا نہ کر لے ۔ اس سے محروم کوئی جماعت اگر میدانِ جہاد میں اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے ۔ 'صابرون'اور 'صابرۃ' کی صفات سے ان آیتوں میں یہی بات واضح کی گئی ہے ۔ ' واللّٰہ مع الصابرین' کے الفاظ بھی آیات کے آخر میں اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں ۔

دوم یہ کہ جنگ میں اترنے کے لیے مادی قوت کا حصول ناگزیر ہے ۔ اس میں تو شبہ نہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے ، اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور آدمی کا اصل بھروسا اللہ پروردگارِ عالم ہی پر ہونا چاہیے ، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا عالمِ اسباب کے طورپر بنائی ہے ۔ دنیا کی یہ اسکیم تقاضا کرتی ہے کہ نیکی اور خیر کے لیے بھی کوئی اقدام اگر پیشِ نظر ہے تو اس کے لیے ضروری وسائل ہرحال میں فراہم کیے جائیں ۔ یہ اسباب و وسائل کیا ہونے چاہییں ؟ دشمن کی قوت سے ان کی ایک نسبت اللہ تعالیٰ نے انفال کی ان آیتوں میں قائم کر دی ہے ۔ یہ اگر حاصل نہ ہو تو مسلمانوں کو اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے ۔ جہاد کے شوق میں یا جذبات سے مغلوب ہو کر اس سے پہلے اگر وہ کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری انھی پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس صورت میں ان کے لیے کسی مدد کا ہر گز کوئی وعدہ نہیں ہے ۔

سوم یہ کہ مادی قوت کی کمی کو جو چیز پورا کرتی ہے، وہ ایمان کی قوت ہے ۔ ' علم ان فیکم ضعفاً' اور 'بانھم قوم لایفقہون' میں یہی بات بیان ہوئی ہے ۔ 'ضعف ' کا لفظ عربی زبان میں صرف جسمانی اور مادی کمزوری کے لیے نہیں آتا، بلکہ ایمان و حوصلہ اور بصیرت و معرفت کی کمزوری کے لیے بھی آتا ہے ۔ اسی طرح ' لا یفقہون' کے معنی بھی یہاں اس کے مقابلے میں ایمانی بصیرت سے محرومی ہی کے ہیں ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ منکرینِ حق چونکہ اس بصیرت سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس نعمت سے خوب خوب نوازا ہے ، اس لیے تم اگر ہزار کے مقابلے میں سو بھی ہو گے تو اللہ کی نصرت سے تمھیں ان پر غلبہ حاصل ہو جائے گا ۔

سورہ کے نظم سے واضح ہے کہ یہ نسبت معرکۂ بدر کے زمانے کی ہے ۔ اس کے بعد بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو عزم و بصیرت کے لحاظ سے 'سابقون الاولون'کے ہم پایہ نہیں تھے ۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی ، لیکن ایمان کی قوت اس درجے پر نہیں رہی جو 'سابقون الاولون' کو حاصل تھا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اب یہ نسبت ایک اور دو کی ہے ، مسلمانوں کے اگر سو ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر اور ہزار ثابت قدم ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غلبہ پا لیں گے۔

نصرتِ الہٰی کا یہ ضابطہ قدسیوں کی اس جماعت کے لیے بیان ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اور براہ راست اللہ کے حکم سے میدانِ جہاد میں اتری ۔ بعد کے زمانوں میں ، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ایمانی حالت کے پیش نظر یہ نسبت کس حد تک کم یا زیادہ ہو سکتی ہے ۔

اسیران جنگ

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ، حَتّٰی اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّواالْوَثَاقَ ، فَاِمَّامَنًّابَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً ، حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَہَا . (محمد ۴۷ :۴)

''پھر جب اِن منکرین حق سے تمھاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے ، یہاں تک کہ جب ان کا خون اچھی طرح بہادو تو انھیں مضبوط باندھ لو ۔ اس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا ہے ، اُس وقت تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے ۔''

آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے، جب عملاً کوئی جنگ تو ابھی مسلمانوں کو پیش نہیں آئی تھی ، مگر حالات بتا رہے تھے کہ یہ کسی وقت بھی پیش آ سکتی ہے ۔ اس موقع پر مسلمانوں کو بتایا گیا کہ سرزمین عرب کے ان منکرین حق سے اگر مڈ بھیڑ ہوتی ہے تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے ۔ پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اپنے کفر پر اصرار کے باعث یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں رہے ، لہٰذا مقابلے پر آئیں تو ان کا اچھی طرح قلع قمع کر دیا جائے ۔ اس کے بعد فرمایا ہے کہ جو باقی رہ جائیں ، انھیں قیدیوں کی حیثیت سے باندھ لو ۔ اللہ کی مدد تمھارے ساتھ ہے ، اس لیے وہ تمھارے سامنے کچھ بھی نہ کر سکیں گے ۔ پھر تمھیں اختیار ہے کہ چاہو تو احسان کے طور پر انھیں رہا کر دو اور چاہو تو ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔ تمھارا یہی معاملہ اس وقت تک ان کے ساتھ رہنا چاہیے ، جب تک ان میں جنگ کا حوصلہ بالکل ختم نہیں ہو جاتا ۔ ۴۱؂

سورۂ محمد کا یہ حکم اگرچہ مشرکینِ عرب کے حوالے سے بیان ہوا ہے ، لیکن اس میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اسے انھی کے ساتھ خاص قرار دیتی ہو ، لہٰذا دوسرے مقاتلین بھی تبعاً اس میں شامل سمجھے جائیں گے ۔

اس کے الفاظ ہیں : ' فاما منابعد واما فداء ' ۔ زبان کے ادا شناس جانتے ہیں کہ ' فداء ' کے معنی اگر اس میں فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے ہیں تو ' اما ' کے ساتھ اس کے مقابل میں ہونے کی وجہ سے ' منّا ' کے معنی بھی احسان کے طور پر رہا کر دینے کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتے ۔ ' منّا' یہاں فعل محذوف کا مصدر ہے اور قتل کے مقابل میں نہیں ، بلکہ فدیے کے مقابل میں آیا ہے، اس لیے یہ بالکل قطعی ہے کہ اس کے معنی بلامعاوضہ رہا کر دینے ہی کے ہیں ۔اس سے واضح ہے کہ جنگ کے قیدیوں کو مسلمان چھوڑ بھی سکتے تھے، ان سے فدیہ بھی لے سکتے تھے اور جب تک وہ قید میں رہتے ،قرآنِ مجید کی رو سے ،ملک یمین کی بنا پر ان سے کوئی فائدہ بھی اٹھا سکتے تھے ، مگر انھیں قتل کرنے یا لونڈی غلام بنا کر رکھنے کی گنجایش اس حکم کے بعد ان کے لیے باقی نہیں رہی۔

تین قسم کے قیدی، البتہ اس سے مستثنیٰ تھے:

ایک وہ معاندین جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی تھا کہ قانونِ اتمامِ حجت کی رو سے جہاں پائے جائیں ، فوراً قتل کر دیے جائیں ، جیسے بدر واحد کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط ، نضر بن الحارث ۴۲؂ اور ابو عزہ ۴۳ ؂۔ اسی طرح مکہ کے وہ چند افراد جو اس کی فتح کے موقع پر عام معافی سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ۔ ۴۴؂

دوسرے بنو قریظہ کے قیدی جن پر خود ان کے مقرر کردہ حکم نے انھی کا قانون نافذ کیا جس کے نتیجے میں ان کے مرد قتل کر دیے گئے ، اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا ۔ ۴۵؂

تیسرے وہ قیدی جو پہلے سے لونڈی غلام تھے اور بعض موقعوں پر اسی حیثیت سے لوگوں میں تقسیم کیے گئے ۔ ۴۶؂

یہ تینوں اقسام تو صاف واضح ہے کہ سورۂ محمد کے اس حکم سے متعلق ہی نہیں تھیں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ لہٰذا ان سے قطعِ نظر کر کے اگر اس معاملے میں زمانۂ رسالت کے واقعات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے عام قیدیوں کے ساتھ کوئی معاملہ اس حکم سے ہٹ کر نہیں کیا ، بلکہ جو کچھ کیا ہے ، ٹھیک اس کی پیروی میں کیا ہے ۔

تفصیلات یہ ہیں :

۱۔ قیدی جب تک حکومت کی قید میں رہے ، ان کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کیا گیا ۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں معلوم ہے کہ انھیں صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ ' استوصوا بالاساری خیراً' ۴۷؂ ( ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا )۔ ان میں سے ایک قیدی ابوعزیز کا بیان ہے کہ مجھے جن انصاریوں کے گھر میں رکھا گیا ، وہ صبح و شام مجھے روٹی کھلاتے اور خود صرف کھجوریں کھا کر رہ جاتے تھے ۔ ۴۸؂ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال گرفتار ہوئے تو جب تک قید میں رہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عمدہ کھانا اور دودھ ان کے لیے مہیا کیا جاتا رہا۔ ۴۹؂

۲۔ بدر کے زیادہ تر قیدی فدیہ لے کر چھوڑے گئے ۔ ان میں سے جو لوگ مالی معاوضہ دے سکتے تھے، ان سے فی قیدی ایک ہزار سے چار ہزار تک کی رقمیں لی گئیں اور جو مالی معاوضہ دینے کے قابل نہ تھے ، ان کی رہائی کے لیے یہ شرط عائد کر دی گئی کہ وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں ۔ ابو سفیان کا بیٹا عمرو ،سعد بن نعمان کے بدلے میں جنھیں ابوسفیان نے قید کر لیا تھا ، رہا ہوا ۔ ۵۰؂ غزوہ بنی المصطلق کے قیدیوں میں سے سیدہ جویریہ کو بھی ان کے والد حارث بن ابی ضرار نے فدیہ دے کر آزاد کرایا ۔ ۵۱ ؂ سیدنا ابوبکر صدیق ایک مہم پر بھیجے گئے ۔ وہاں انھوں نے قیدی پکڑے تو ان میں ایک نہایت خوب صورت عورت بھی تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ بھیج کر اس کے بدلے میں کئی مسلمان قیدی رہا کرا لیے ۔ ۵۲ ؂ بنی عقیل کے ایک قیدی کو طائف بھیج کر قبیلۂ ثقیف سے مسلمانوں کے دو آدمی بھی اسی طرح رہا کرائے گئے ۔ ۵۳؂

۳۔ بعض قیدی بغیر کسی معاوضے کے رہا کیے گئے ۔ بدر کے قیدیوں میں سے ابو العاص ، مطلب بن حنطب ، صیفی بن ابی رفاعہ اور ابو عزہ ،اور بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے زبیر بن باطا اسی طرح رہا ہوئے ۔ ۵۴ ؂ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے ۸۰ آدمیوں نے تنعیم کی طرف سے آ کر شب خون مارا ۔ یہ سب پکڑ لیے گئے اور حضور نے انھیں اسی طرح آزادی عطا فرمائی ۔ ۵۵؂ ثمامہ بن اثال ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، وہ بھی اسی طرح رہا کیے گئے ۔ ۵۶؂

۴۔ بعض موقعوں پر قیدی لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے کہ ' فامامنّابعدوامافداء' کے اصول پر وہ ان سے یا ان کے متعلقین سے خود معاملہ کر لیں ۔ چنانچہ غزوہ بنی المصطلق کے قیدی اسی طرح لوگوں کو دیے گئے ، لیکن سیدہ جویریہ کے آزاد ہو جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا تو تمام مسلمانوں نے اپنے اپنے حصے کے قیدی یہ کہہ کر بغیر کسی معاوضے کے چھوڑ دیے کہ اب یہ حضور کے رشتہ دار ہو چکے ہیں ۔ اس طرح سو خاندانوں کے آدمی رہا ہوئے ۔ ۵۷؂ سریۂ ہوازن کے قیدی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے لے کر اسی طرح رہا کرا دیے ۔ ۵۸؂ غزوۂ حنین کے موقع پر بھی یہی ہوا ۔ قبیلۂ ہوازن کا وفد اپنے قیدیوں کی رہائی کے لیے آیا تو قیدی تقسیم ہو چکے تھے ۔ انھوں نے درخواست کی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا : یہ لوگ تائب ہو کر آئے ہیں ۔ میری رائے ہے کہ ان کے قیدی چھوڑ دیے جائیں ۔ تم میں سے جو بلامعاوضہ چھوڑنا چاہے ، وہ اس طرح چھوڑ دے اور جو معاوضہ لینا چاہے ، اسے حکومت کی طرف سے معاوضہ دیا جائے گا ۔ اس کے نتیجے میں چھ ہزار قیدی رہا کر دیے گئے اور جن لوگوں نے معاوضے کا مطالبہ کیا ، انھیں حکومت کی طرف سے معاوضہ دے دیا گیا ۔ ۵۹؂

۵۔ جو عورتیں اسی اصول پر لوگوں کو دی گئیں اور ان کے ماں باپ ،شوہر وغیرہ جنگوں میں مارے گئے تھے ، ان سے لوگوں نے بالعموم انھیں آزاد کر کے نکاح کر لیا ۔ خیبر کے قیدیوں میں سے سیدہ صفیہ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔۶۰؂

اموال غنیمت

یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ، قُلِ : الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ، اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ . (الانفال ۸ : ۱)

''وہ تم سے غنائم کے بارے میں پوچھتے ہیں ، انھیں بتا دو کہ غنائم تو سب اللہ اور رسول کے لیے ہیں ۔ لہٰذا اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو ، باہمی تعلقات کی اصلاح کرو ، اور اللہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار بن کر رہو ۔''

یہ آیت جس سورہ میں آئی ہے ، اس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب کے ساتھ پہلی جنگ کے بعد ہی یہ نزاع مسلمانوں میں پیدا ہو گئی کہ اس میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا ہے ، اس کی تقسیم کس طرح ہونی چاہیے ۔ قرآن نے یہ اسی نزاع پر انھیں تنبیہ کی اور اس کے متعلق اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ ان جنگوں کے مال غنیمت پر کسی شخص کا بھی کوئی حق قائم نہیں ہوتا ۔ یہ سب اللہ اور رسول کا ہے اور وہ اس کے ساتھ جو معاملہ چاہیں گے ، اپنی صواب دید کے مطابق کریں گے ۔ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم پیچھے تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ زمانۂ رسالت کی یہ جنگیں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے قانونِ اتمامِ حجت کے تحت لڑی گئی تھیں اور ان میں لڑنے والوں کی حیثیت اصلاً آلات و جوارح ہی کی تھی ۔ وہ اللہ کے حکم پر میدان میں اترے اور براہِ راست اس کے فرشتوں کی مد دسے فتح یاب ہوئے ۔ لہٰذا ان جنگوں کے مالِ غنیمت پر ان کا کوئی حق تو اللہ تعالیٰ نے تسلیم نہیں کیا، تاہم اسی سورہ میں آگے جا کر بتا دیا کہ اس کے باوجود یہ سارا مال نہیں ، بلکہ اس کا پانچواں حصہ ہی اجتماعی مقاصد کے لیے خاص رہے گا اور باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ . (الانفال ۸ : ۴۱)

''اور جان لو کہ جو غنیمتیں بھی تم نے پائی ہیں ، ان میں پانچواں حصہ اللہ ، اس کے پیغمبر، پیغمبر کے اقربا اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا ۔ ''

یہ تقسیم بھی صاف واضح ہے کہ صرف اس وجہ سے کی گئی کہ لوگوں نے جنگ بہرحال لڑی تھی ۔ اس کے لیے زادِ راہ کا بندوبست بھی کیا تھا اور اس کی ضرورتوں کے لیے اسلحہ ، گھوڑے اور اونٹ وغیرہ بھی خود ہی مہیا کیے تھے ۔ چنانچہ جب اس طرح کے اموال مسلمانوں کو حاصل ہوئے جن کے لیے انھیں یہ اہتمام نہیں کرنا پڑا تو قرآن نے واضح کر دیا کہ یہ سب دین و ملت کی اجتماعی ضرورتوں اور قوم کے غربا و مساکین کے لیے خاص کر دیا گیا ہے ، اس کا کوئی حصہ بھی مجاہدین میں تقسیم نہیں ہو گا :

وَمَآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْھُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَارِکَابٍ وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلیٰ مَنْ یَّشَآءُ ، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ . مَآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمَیٰ وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ . (الحشر ۵۹ : ۶۔۷)

''اور اللہ نے جو کچھ ان لوگوں سے لے کر اپنے رسول کی طرف لوٹایا ہے تو اِس پر تم نے اپنے اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے ، بلکہ اللہ ہے جو اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اللہ نے جو کچھ اِن بستیوں کے لوگوں سے لے کر اپنے رسول کی طرف لوٹایا ہے، وہ اللہ ، اس کے پیغمبر ، پیغمبر کے اقربا اوریتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا ۔''

یہاں اور اس سے اوپر سورۂ انفال کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان اجتماعی مقاصد کی تفصیل کر دی ہے جن کے لیے یہ اموال خاص کیے گئے تھے ۔

سب سے پہلے اللہ کا حق بیان ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ، ظاہر ہے کہ ہر چیز سے غنی اور بے نیاز ہے ۔ اس کے نام کا حصہ اس کے دین ہی کی طرف لوٹتا ہے ۔ لہٰذا اس کا اصلی مصرف وہ کام ہوں گے جو دین کی نصرت اور حفاظت و مدافعت کے لیے مسلمانوں کا نظم اجتماعی اپنی دینی ذمہ داری کی حیثیت سے انجام دیتا ہے ۔

دوسرا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا گیا ہے ۔ آپ کی شخصیت میں اس وقت نبوت و رسالت کے ساتھ مسلمانوں کی حکومت کے سربراہ کی ذمہ داری بھی جمع ہو گئی تھی اور آپ کے اوقات کا لمحہ لمحہ اپنے یہ منصبی فرائض انجام دینے میں صرف ہو رہا تھا ۔ اس ذمہ داری کے ساتھ اپنی معاش کے لیے کوئی کام کرنا آپ کے لیے ممکن نہ تھا ۔ اس صورتِ حال میں ضروری ہوا کہ اس مال میں آپ کا حق بھی رکھا جائے ۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی کہ اسے آپ کے وارثوں میں تقسیم کیا جاتا ۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ آپ سے آپ ان کاموں کی طرف منتقل ہو گیا جو آپ کی نیابت میں مسلمانوں کے نظم اجتماعی کے لیے انجام دینا ضروری تھے ۔

تیسرا حق 'ذی القربیٰ' کا بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے ، ظاہر ہے کہ آپ کے وہ قربت دار مراد ہیں جن کی کفالت آپ کے ذمہ تھی اور جن کی ضرورتیں پوری کرنا اخلاقی لحاظ سے آپ اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ آپ کی حیثیت تمام مسلمانوں کے باپ کی تھی ۔ چنانچہ آپ کے بعد یہ ذمہ داری عرفاً و شرعاً مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو منتقل ہوئی اور ذی القربیٰ کا یہ حق بھی جب تک وہ دنیا میں رہے ، اسی طرح قائم رہا ۔

چوتھا حق یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا ہے ۔ ان کا حق بیان کرتے ہوئے اس 'ل' کا اعادہ نہیں فرمایا جو اوپر اللہ،رسول اور ذی القربیٰ ،تینوں کے ساتھ آیا ہے ، بلکہ ان کا ذکر ذی القربیٰ کے ذیل ہی میں کر دیا ہے ۔ اس سے مقصود اس طبقہ کی عزت افزائی ہے کہ گویا یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقربا ہی کے تحت ہیں ۔ یہ حق کسی وضاحت کا محتاج نہیں ہے ۔ ہر وہ معاشرہ جو ان طبقات کی ضرورتوں کے لیے حساس نہیں ہے ،جس میں یتیم دھکے کھاتے ، مسکین بھوکے سوتے اور مسافر اپنے لیے کوئی پرسانِ حال نہیں پاتے ، اسے اسلامی معاشرے کا پاکیزہ نام نہیں دیا جا سکتا ۔

اموالِ غنیمت سے متعلق اس بحث سے واضح ہے کہ یہ اصلاً اجتماعی مقاصد کے لیے خاص ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدین کا کوئی ابدی حق ان میں قائم نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کی حکومت اسے ہر حال میں ادا کرنے کی پابند ہو ۔ وہ اپنی تمدنی ضرورتوں اور اپنے حالات کے لحاظ سے جو طریقہ چاہے ، اس معاملے میں اختیار کر سکتی ہے ۔

____________

۱ ؂ جہاد کے معنی کسی جدوجہد میں پوری قوت صرف کر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں یہ تعبیر جس طرح اللہ کی راہ میں عام جدوجہد کے لیے استعمال ہوئی ہے ،اسی طرح قتال فی سبیل اللہ کے لیے بھی جگہ جگہ آئی ہے ۔ یہاں اس کا یہی دوسرا مفہوم پیش نظر ہے ۔

۲؂ اس معنی میں کہ تمھارے ایک طرف اللہ اور اس کا رسول اور دوسری طرف ' الناس' یعنی دنیا کی اقوام ہیں۔

۳ ؂ التوبہ ۹ : ۱۴ ۔

۴ ؂ ۸: ۶۵۔ ۶۶۔

۵؂ متی ۵ :۱۷ ۔۱۸۔

۶ ؂ استثنا ۲۰: ۱۔۰ ۲۔

۷؂ اس زمانے میں بعض لوگ اس کی تردید میں صلح حدیبیہ کے بعد قریش کے خلاف ابو بصیر رضی اللہ عنہ کی غارت گری سے استدلال کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ محض علم و نظر کا افلاس ہے ۔قرآنِ مجید نے سورۂ انفال (۸) کی آیت ۷۲ میں پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ منتقل نہیں ہو سکے ، ان کے کسی معاملے کی کوئی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ریاست مدینہ کے مسلمانوں پر عائد نہیں ہوتی۔ پھر یہی نہیں ، بخاری کی روایت (رقم ۲۷۳۱ ) کے مطابق خود حضور نے ابو بصیر کے ان اقدامات پر یہ تبصرہ فرمایا ہے کہ 'ویل امہ مسعر حرب لو کان لہ احد' (اس کی ماں پر آفت آئے ، اسے کچھ ساتھی مل گئے تو جنگ کی آگ بھڑکا کر رہے گا)۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان اقدامات کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی۔

۸؂ جس طرح ،مثال کے طور پر ،اسی سورہ کی آیت ۲۴۴ میں ۔

۹؂ التوبہ ۹: ۲۴۔

۱۰؂ یعنی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ اربابِ حل و عقد ہر مسلمان کو جہاد کے لیے طلب کر لیں ۔

۱۱؂ بخاری ،رقم ۲۸۱۰ ۔

۱۲؂ نسائی ،رقم ۳۱۴۰ ۔

۱۳؂ نسائی ،رقم ۳۱۳۷ ۔

۱۴؂ نسائی، رقم ۳۱۳۹ ۔

۱۵؂ نسائی ، رقم ۳۱۸۸ ۔

۱۶؂ بخاری ، رقم ۲۷۸۷ ۔

۱۷؂ بخاری ، رقم ۲۷۸۵۔

۱۸؂ بخاری ، رقم ۲۷۹۰ ۔

۱۹؂ بخاری ، رقم ۲۸۰۳ ۔

۲۰؂ بخاری ، رقم ۲۸۱۱۔

۲۱؂ بخاری ، رقم ۲۸۹۲۔

۲۲؂ ۹ : ۴ ۔

۲۳؂ مسلم ،رقم ۱۷۳۸ ۔

۲۴؂ بخاری ،رقم ۳۱۶۶ ۔

۲۵؂ بخاری ، رقم ۳۰۱۵۔

۲۶؂ بخاری ، رقم ۳۰۱۶۔

۲۷؂ بخاری ، رقم۲۴۷۴۔

۲۸؂ ابو داؤد ، رقم ۲۷۰۵۔

۲۹؂ ابو داؤد ، رقم ۲۶۱۳۔

۳۰؂ ابو داؤد ،رقم ۲۶۲۹۔

۳۱ ؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/ ۴۰ ۔ ۴۲ ، ۱۵۱ ۔ ۱۶۰ ۔

۳۲ ؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/ ۲۵۵۔۲۷۷۔

۳۳ ؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳ /۴۳ ۔ ۴۸ ، ۲۱۵ ۔ ۲۱۷ ۔ الطبقات الکبریٰ ، ابن سعد ۲/ ۲۸ ۔

۳۴؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/ ۱۸۰ ۔ ۱۸۲۔

۳۵؂ استثنا ۲۰ :۱۰ ۔ ۱۴ ۔

۳۶؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳ /۱۸۸ ۔ ۱۸۹۔

۳۷؂ بخاری ، رقم ۲۷۳۰ ۔ کتاب الخراج ، ابو یوسف ۴۲ ۔ فتوح البلدان ، البلاذری ۷۳۔ الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر۲ / ۱۱۲۔

۳۸؂ ۹: ۱۔۲۔

۳۹؂ آلِ عمران ۳ : ۱۱۰۔

۴۰؂ ان سربراہوں کے نام یہ ہیں : ۱۔نجاشی شاہِ حبش ۔ ۲۔ مقوقس شاہِ مصر۔۳۔ خسرو پرویز شاہِ فارس ۔ ۴۔ قیصر شاہِ روم۔ ۵۔ منذر بن ساوی حاکمِ بحرین ۔ ۶۔ ہوذہ بن علی صاحبِ یمامہ ۔ ۷۔ حارث بن ابی شمر حاکمِ دمشق ۔ ۸۔جیفر شاہِ عمان ۔

۴۱؂ یہ بات اس لیے کہی گئی ہے کہ جنگ ختم ہو جانے کے بعد جو معاملہ ان کے ساتھ کرنا پیشِ نظر تھا ، اس میں اسلام اور تلوار کے سوا کسی تیسری صورت کی گنجایش نہ تھی ۔

۴۲؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۲/۲۱۵۔

۴۳؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/۸۳۔

۴۴؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۴/۴۱۔

۴۵؂ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/۱۸۸۔۱۸۹۔

۴۶؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۴/۱۰۵۔

۴۷؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۲/۲۱۷۔

۴۸؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۲/۲۱۷۔

۴۹؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۴/۲۱۵۔

۵۰؂ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد ۲ /۲۲ ۔ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۲/۲۲۱۔

۵۱؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/۲۳۲۔

۵۲؂ ابن ماجہ ، رقم ۲۸۴۶۔

۵۳؂ احمد بن حنبل ، رقم ۱۹۳۲۶۔

۵۴؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۲/۲۲۸ ، ۳/۱۹۰۔

۵۵؂ ابوداؤد ، رقم ۲۶۸۸ ۔

۵۶؂ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۴/۲۱۵۔ ۲۱۶۔

۵۷؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۳/۲۳۱۔

۵۸؂ السیرۃ النبویہ ، ابن کثیر ۳/۴۵۳۔

۵۹؂ السیرۃ النبویہ ، ابن ہشام ۴/۱۰۴۔ ۱۰۶۔

۶۰؂ بخاری ، رقم ۴۲۰۰۔