قانون معیشت (حصہ اول)


[یہ ''میزان'' کا ایک باب ہے ۔ نئی طباعت کے لیے مصنف نے اس میں بعض اہم ترامیم کی ہیں ۔ یہ پورا باب ان ترامیم کے ساتھ ہم یہاں شائع کر رہے ہیں ۔]

تزکیۂ معیشت کا جو قانون اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کی وساطت سے انسانیت کو دیا ہے ،اس کی بنا اس اصول پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے ۔ اس وجہ سے اس کا نظام اس نے اس طرح قائم کیا ہے کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے محتاج اور محتاج الیہ کی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اس دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ شخصیتیں بھی اپنی ضرورتوں کے لیے دوسروں کی طرف رجوع کی محتاج ہیں اور ادنیٰ سے ادنیٰ انسانوں کی طرف بھی ان ضرورتوں کے لیے رجوع کیا جاتا ہے ۔ یہاں ہرشخص کا ایک کردار ہے اور کوئی بھی دوسروں سے بے نیاز ہو کر زندہ نہیں رہ سکتا ۔عالم کے پروردگار نے یہاں ہر شخص کی ذہانت ،صلاحیت ،ذوق و رجحان اور ذرائع و وسائل میں بڑا تفاوت رکھا ہے ۔ چنانچہ اس تفاوت کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آتا ہے ، اس میں اگر ایک طرف وہ عالم اورحکیم پیدا ہوتے ہیں جن کی دانش سے دنیا روشنی حاصل کرتی ہے؛ وہ مصنف پیدا ہوتے ہیں جن کا قلم لفظ و معنی کے رشتوں کو حیاتِ ابدی عطا کرتا ہے ؛وہ محقق پیدا ہوتے ہیں جن کے نوادرِ تحقیق پر زمانہ داد دیتا ہے ؛وہ لیڈر پیدا ہوتے ہیں جن کی تدبیر و سیاست سے حیاتِ اجتماعی کے عقدے کھلتے ہیں ؛ وہ مصلح پیدا ہوتے ہیں جن کی سعی و جہد سے انسانیت خود اپنا شعور حاصل کرتی ہے اور وہ حکمران پیدا ہوتے ہیں جن کا عزم و استقلال تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے تو دوسری طرف وہ مزدور اور دہقان اور وہ خادم اور قلی اور خاک روب بھی پیدا ہوتے ہیں جن کی محنت سے کلیں معجزے دکھاتی ،مٹی سونا اگلتی ،چولھے لذتِ کام و دہن کا سامان پیدا کرتے ،گھر چاندی کی طرح چمکتے ،راستے پاؤں لینے کے لیے بے تاب نظر آتے ،عمارتیں آسمان کی خبر لاتی اور غلاظتیں صبح دم اپنا بستر سمیٹ لیتی ہیں ۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَھُم فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ، وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (الزخرف۴۳: ۳۲ )

''اس حیاتِ دنیوی میں ان کا سامانِ معیشت تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور (اس طرح تقسیم کیا ہے کہ) ایک کا مرتبہ دوسرے سے بلند رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں ۔ اور تیرے پروردگار کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ سمیٹ رہے ہیں۔''

اس فرقِ مراتب کے ساتھ دنیا کو پیدا کر کے عالم کا پروردگار یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ اعلیٰ و ادنیٰ ،باہمی احترام اور باہم دگر تعاون سے صالح معاشرت اور صالح تمدن وجود میں لاتے ہیں یا ایک دوسرے کے خلاف اپنی شرارتوں اور حماقتوں سے اس عالم کو سراسر فساد بنا دینے کی سعی میں مصروف ہو جاتے ہیں ، اور اس طرح دنیا میں بھی رسوا ہوتے اور آخرت میں بھی اس کے عذاب کے مستحق ٹھیرتے ہیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً، وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ۔ (الانبیاء ۲۱ : ۳۵)

''اور ہم تمھیں دکھ سکھ سے آزما رہے ہیں، پرکھنے کے لیے ،اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جا گے ۔''

انسان کی یہی آزمایش ہے جس میں پورا اترنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اس کی رہنمائی فرمائی اور معاشی عمل میں اس کے تزکیہ و تطہیر کے لیے اسے اپنا قانون دیا ہے ۔

اس قانون کا خلاصہ درجِ ذیل ہے :

۱ ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اگر صاحبِ نصاب ہوں تو اپنے مال ،مواشی اور پیداوار میں سے شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زکوٰ ۃدا کریں ۔

۲ ۔ مسلمان یہ زکوٰۃ ادا کردیں تو ان کا وہ مال جس کے وہ جائز طریقوں سے مالک ہوئے ہیں، اللہ ورسول کی طرف سے مقرر کسی حق کے بغیر ان سے چھینا نہیں جا سکتا ، یہاں تک کہ اسلامی ریاست اس زکوٰۃکے علاوہ اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کرسکتی ۔

۳ ۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے قومی شعبے کا قیام ناگزیر ہے ، لہٰذا وہ تمام اموال اور املاک جو کسی فرد کی ملکیت نہیں ہیں یا نہیں ہوسکتے ،انھیں ہر حال میں ریاست ہی کی ملکیت رہنا چاہیے ۔

۴ ۔ کوئی شخص اگر اپنے املاک میں تصرف کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو ضروری ہے کہ اس کی ملکیت قائم رکھتے ہوئے ان میں تصرف سے اسے معزول کر دیا جائے ۔

۵ ۔ دوسروں کا مال باطل طریقوں سے کھانا ممنوع ہے ۔ سود اور جوا اس سلسلے کے بدترین جرائم ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے تمام معاشی معاملات کے جواز اور عدمِ جواز کا فیصلہ بھی اسی اصول کی روشنی میں کرنا چاہیے۔

۶۔ لین دین ،قرض ،وصیت اور اس طرح کے دوسرے مالی امور میں تحریر و شہادت کا اہتمام ضروری ہے ۔ اس سے بے پروائی بعض اوقات بڑے اخلاقی فساد کا باعث بن جاتی ہے ۔

۷۔ ہر مسلمان کی دولت اس کے مرنے کے بعد لازماً درجِ ذیل طریقے سے اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینی چاہیے :

مرنے والے کے ذمہ قرض ہو تو سب سے پہلے اس کے ترکے میں سے وہ ادا کیا جائے گا ۔ پھر کوئی وصیت اگر اس نے کی ہو تو وہ پوری کی جائے گی ۔ اس کے بعد وراثت تقسیم ہو گی ۔

وارث کے حق میں وصیت نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح کوئی ایسا شخص کسی مرنے والے کا وارث نہیں ہوسکتا جس نے اس کے ساتھ قرابت کی بنیاد ہی اپنے کسی قول و فعل سے باقی نہ رہنے دی ہو ۔

والدین اور بیوی یا شوہر کا حصہ دینے کے بعد ترکے کی وارث میت کی اولاد ہے ۔مرنے والے نے کوئی لڑکا نہ چھوڑا ہو اور اس کی اولاد میں دو یا دو سے زائد لڑکیاں ہی ہوں تو انھیں بچے ہوئے ترکے کا دو تہائی دیا جائے گا ۔ ایک ہی لڑکی ہو تو وہ اس کے نصف کی حق دار ہو گی ۔ میت کی اولاد میں صرف لڑکے ہی ہوں تو یہ سارا مال ان میں تقسیم کر دیا جائے گا ۔ اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہو گا اور اس صورت میں بھی سارا مال انھیں میں تقسیم کیا جائے گا ۔

اولاد کی غیرموجودگی میں میت کے بھائی بہن اولاد کے قائم مقام ہیں ۔ والدین اور بیوی یا شوہر موجود ہوں تو ان کا حصہ دینے کے بعد میت کے وارث یہی ہوں گے ۔ ذکورواناث کے لیے ان کے حصے اور ان میں تقسیمِ وراثت کا طریقہ وہی ہے جو اولاد کے لیے اوپر بیان ہوا ہے ۔

میت کے اولاد ہو یا اولاد نہ ہو اور بھائی بہن ہوں تو والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ دیا جائے گا ۔ بھائی بہن بھی نہ ہوں تو بیوی یا شوہر کا حصہ دینے کے بعد باقی ترکے کا ایک تہائی ماں کوملے گا اور دو تہائی کا حق دار میت کا باپ ہو گا ۔ اگر زوجین میں سے بھی کوئی نہ ہو تو سارا ترکہ اسی اصول کے مطابق والدین میں تقسیم کر دیا جائے گا ۔

مرنے والا مرد ہو اور اس کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا ۔ اس کے اولاد نہ ہو تو وہ ایک چوتھائی ترکے کی حق دار ہو گی ۔ میت عورت ہو اور اس کی اولاد نہ ہو تو نصف ترکہ اس کے شوہر کا ہے، اور اگر اس کے اولاد ہو تو شوہر کو چوتھائی ترکہ ملے گا ۔

ان وارثوں کے علاوہ یا ان کا حصہ دینے کے بعد یا ان کی عدم موجودگی میں ،مرنے والا اگر چاہے تو والدین اور اولاد کے سوا دورونزدیک کے کسی رشتہ دار کو ترکے کا وارث بنا سکتا ہے ۔ جس رشتہ دار کو وارث بنایا گیا ہو ،اس کا ایک بھائی یا بہن ہو تو چھٹا حصہ اور ایک سے زیادہ بھائی بہن ہوں تو ایک تہائی انھیں دینے کے بعد باقی ۶/۵ یا دو تہائی اسے ملے گا ۔

کوئی شخص اگر اس طرح وارث بنائے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ بچا ہوا ترکہ ' الاقرب فالاقرب' کے اصول پر اس کے مرد رشتہ داروں کو دے دینا چاہیے۔

تزکیۂ معیشت کا یہ قانون ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا ہے ۔ اس پر عمل کے نتیجے میں انسان کو بعض اوقات جن مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا اور اپنے جو مفادات قربان کرنا پڑتے ہیں ، ان کا صلہ تو وہ ابدی بادشاہی ہی ہے جو اللہ تعالیٰ قیامت کے بعد اپنے بندوں کو عطا فرمائیں گے ،لیکن مسلمانوں کے ساتھ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اپنی قومی حیثیت میں وہ اگر ایمان و تقویٰ پر قائم ہو جائیں تو ان کا پروردگار اس دنیا میں بھی اپنی رحمتوں کے دروازے ان کے لیے کھول دے گا ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۔ (الاعراف ۷ :۶ ۹)

''اور ان بستیوں کے لوگ اگر ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔''

قرآن نے بتایا ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے یہ سنتِ الہٰی اس طرح بیان فرمائی :

فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ، اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا، وَّیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا ۔(نوح ۷۱: ۱۰۔۱۲)

''میں نے کہا : اپنے رب سے معافی مانگ لو ، بے شک وہ بڑا معاف کر دینے والا ہے۔ (اس کے نتیجے میں) وہ تم پر چھاجوں مینہ برسائے گا اور مال و اولاد سے تم کو برکت دے گا ، اور تمھارے لیے باغ اگائے گا اور تمھارے لیے نہریں بہا دے گا۔ ''

زکوٰۃ کی فرضیت

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکوٰۃَ وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا ، وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَ نْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ، ھُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا۔ (المزمل ۷۳ :۲۰)

''اور(اپنے شب وروزمیں) نمازکا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور (دین وملت کی ضرورتوں کے لیے) اللہ کو قرض دو،اچھا قرض اور (یاد ر کھو کہ) جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے ، اسے اللہ کے ہاں اس سے بہتر اور ثواب میں برتر پاؤ گے ۔''

اس آیت میں اور اس کے علاوہ قرآن کے متعدد مقامات پر مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اموال میں سے زکوٰ ۃ ادا کریں ۔ اس لفظ کی اصل نمو اور طہارت ہے ۔ یعنی وہ مال جو پاکیزگی اور برکت حاصل کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں دیا جائے۔ سورۂ توبہ (۹) کی آیت ۱۰۳ اور سورۂ روم (۳۰) کی آیت ۳۹ میں 'تزکیھم 'اور' ھم المضعفون ' کے الفاظ سے قرآن نے اس کے انھی مفاہیم کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ بعد میں یہ ان اموال کے لیے خاص ہو گیا جو نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے اربابِ حل و عقد کے سپرد کیے جاتے ہیں ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ہی کی طرح یہ زکوٰۃ بھی خدا کے پیغمبروں کی شریعت میں ایک لازمی حکم کی حیثیت سے ہمیشہ موجود رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جب مسلمانوں کو اس کے ادا کرنے کی ہدایت کی تو یہ ان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی ۔ دین ابراہیمی کے تمام پیرو اس کی حقیقت اور اس سے متعلق احکام سے واقف تھے ۔ لہٰذا اس بات کی ہرگز کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کی تفصیلات قرآن میں بیان کی جائیں ۔ یہ پہلے سے موجود ایک سنت تھی جسے قرآن نے زندہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم سے مسلمانوں میں جاری کر دیا ۔اس کے جو احکام صحابہ کے اجماع اور عملی تواتر سے ہم تک پہنچے ہیں اور اب امت کے اجماع سے ثابت ہیں ، ان کے سمجھنے میں فقہا کے اختلافات سے قطع نظر کر کے انھیں اگر شریعت میں ان کی اصل کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم انھیں اس طرح بیان کر سکتے ہیں:

۱۔ پیداوار کے عوامل ، ذاتی استعمال کی چیزوں اور حدِ نصاب سے کم سرمایہ کے سوا کوئی چیز بھی زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ یہ ہر مال ،ہر قسم کے مواشی اور ہر نوعیت کی پیداوار پر عائد ہو گی ،اور ہر سال ریاست کے ہر مسلمان شہری سے لازماً وصول کی جائے گی ، اِلاّ یہ کہ ریاست کسی ضرورت کے تحت کسی چیز کو اس سے مستثنیٰ قرار دے ۔

۲۔ مال ،مواشی اور زرعی پیداوار میں اس کا نصاب مقرر ہے اور وہ درجِ ذیل ہے :

مال میں ۵ اوقیہ/۶۱۲ گرام چاندی یا اس کی قیمت

پیداوار میں ۵ وسق /۱۱۱۹کلو گرام کھجور یا اس کی قیمت

مواشی میں ۵ اونٹ ،۳۰گائیں اور ۴۰بکریاں ۔

۳۔ اس کی شرح یہ ہے :

مال میں ۲/ ۱ ۲ فی صد سالانہ ۔

پیداوار میں اگر وہ اصلاً محنت یا اصلاًسرمایہ سے وجود میں آئے تو ہر پیداوار کے موقع پر اس کا ۱۰ فی صدی اور اگر محنت اور سرمایہ دونوں کے تعامل سے وجود میں آئے تو ۵ فی صدی اور دونوں کے بغیرمحض عطیۂ خداوندی کے طور پر حاصل ہو جائے تو ۲۰ فی صدی۔

مواشی میں :

ا۔ اونٹ

۵ سے ۲۴تک ،ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری

۲۵ سے ۳۵ تک ، ایک یک سالہ اونٹنی اور اگر وہ میسر نہ ہو تو دوسالہ اونٹ

۳۶سے ۴۵ تک ،ایک دوسالہ اونٹنی

۴۶ سے ۶۰ تک ،ایک سہ سالہ اونٹنی

۶۱ سے ۷۵ تک ،ایک چار سالہ اونٹنی

۷۶ سے ۹۰ تک ،دو ،دو سالہ اونٹنیاں

۹۱ سے ۱۲۰ تک ،دو ،سہ سالہ اونٹنیاں

۱۲۰سے زائد کے لیے ہر ۴۰ پر ایک دوسالہ اور ہر ۵۰ پر ایک سہ سالہ اونٹنی ۔

ب۔ گائیں

ہر ۳۰ پر ایک یک سالہ اور ہر ۴۰ پر ایک دوسالہ بچھڑا ۔

ج ۔ بکریاں

۴۰ سے ۱۲۰ تک ،ایک بکری

۱۲۱ سے ۲۰۰ تک ،دو بکریاں

۲۰۱سے ۳۰۰ تک ،تین بکریاں

۳۰۰سے زائد میں ہر ۱۰۰پر ایک بکری ۔

اس کے مصارف سے متعلق کوئی ابہام نہ تھا ۔ یہ ہمیشہ فقرا ومساکین اورنظم اجتماعی کی ضرورتوں ہی کے لیے خرچ کی جاتی تھی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب منافقین نے اعتراضات کیے تو قرآن نے پوری وضاحت کے ساتھ بتا دیا کہ یہ کہاں اور کس مقصد سے خرچ کی جا رہی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَ الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ، فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ۔ (التوبہ ۹ :۰ ۶)

''یہ صدقات تو بس فقیروں اورمسکینوں کے لیے ہیں، اور ان کے لیے جو ان پر عامل بنائے جائیں ، اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو ، اور اس لیے کہ یہ گردنوں کے چھڑانے اور تاوان زدوں کی مدد کرنے میں ، راہِ خدا میں اور مسافروں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں ۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے ۔''

اس آیت میں جو مصارف بیان ہوئے ہیں ، ان کی تفصیل یہ ہے:

۱۔ فقرا و مساکین کے لیے ۔

۲ ۔ 'العاملین علیھا' یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں ۔ ۱؂

۳ ۔ 'المؤلفۃ قلوبھم ' یعنی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تمام سیاسی اخراجات کے لیے ۔

۴ ۔ 'فی الرقاب ' یعنی ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے ۔

۵ ۔ 'الغٰرمین ' یعنی کسی نقصان ،تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے ۔

۶ ۔ 'فی سبیل اللّٰہ' یعنی دین کی خدمت اور لوگوں کی بہبود کے کاموں میں ۔

۷۔ 'ابن السبیل' یعنی مسافروں کی مدداوران کے لیے سڑکوں، پلوں ،سراؤں وغیرہ کی تعمیرکے لیے۔

زکوٰ ۃسے متعلق شریعت یہی ہے ۔ تاہم اس معاملے میں عام غلط فہمیوں کے باعث یہ چند باتیں مزید واضح رہنی چاہیے :

ایک یہ کہ زکوٰۃ کے مصارف پر تملیک ذاتی کی جو شرط ہمارے فقہا نے عائد کی ہے ، اس کے لیے کوئی ماخذ قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے ، اس وجہ سے زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جا سکتی ،اسی طرح اس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جا سکتی ہے ۔ ۲؂

دوسری یہ کہ جو کچھ صنعتیں اس زمانے میں وجود میں لاتیں اور اہل فن اپنے فن کے ذریعے سے پیدا کرتے اور جو کچھ کرایے ، فیس اور معاوضۂ خدمات کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ،وہ بھی اگر مناط حکم کی رعایت ملحوظ رہے تو پیداوار ہی ہے۔ اس وجہ سے اس کا الحاق اموال تجارت کے بجائے مزروعات سے ہونا چاہیے اور اس معاملے میں وہی ضابطہ اختیار کرنا چاہیے جو شریعت نے زمین کی پیداوار کے لیے متعین کیا ہے ۔

تیسری یہ کہ اس اصول کے مطابق کرایے کے مکان ،جائدادیں اور دوسری اشیا اگر کرایے پر اٹھی ہوں تو مزروعات کی اور اگر نہ اٹھی ہوں تو ان پر مال کی زکوٰۃ عائد کرنی چاہیے۔

چوتھی یہ کہ اس طرح جو چیزیں اصل سے ملحق کی جائیں ۔ ان کا نصاب اسلامی ریاست اگر ضرورت محسوس کرے تو اسی اصل پر قیاس کر کے خود مقرر کر سکتی ہے ۔

حرمت ملکیت

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ ۔ (التوبہ ۹: ۵)

''پھر اگر وہ توبہ کر لیں ،نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔''

سورۂ توبہ میں یہ آیت مشرکین عرب کے سامنے ان شرائط کی وضاحت کے لیے آئی ہے جنھیں پورا کر دینے کے بعد وہ مسلمانوں کی حیثیت سے اسلامی ریاست کے شہری بن سکتے تھے۔اس میں ' فخلواسبیلھم' (ان کی راہ چھوڑ دو) کے الفاظ ، اگر غور کیجیے تو پوری صراحت کے ساتھ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آیت میں بیان کی گئی شرائط پوری کرنے کے بعد جو لوگ بھی اسلامی ریاست کی شہریت اختیار کریں ، اس ریاست کا نظام جس طرح ان کی جان ،آبرو اور عقل و رائے کے خلاف کوئی تعدی نہیں کر سکتا ،اسی طرح ان کے املاک ،جائدادوں اور اموال کے خلاف بھی کسی تعدی کا حق اس کو حاصل نہیں ہے ۔وہ اگر اسلام کے ماننے والے ہیں ،نماز پر قائم ہیں اور زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں تو عالم کے پروردگار کا حکم یہی ہے کہ اس کے بعد ان کی راہ چھوڑ دی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ واجب الاذعان کی رو سے ایک مٹھی بھر گندم ، ایک بالشت زمین ،ایک پیسا ،ایک حبہ بھی کوئی ریاست اگر چاہے تو ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لے لینے کے بعد بالجبر ان سے نہیں لے سکتی ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت میں فرمایا ہے :

امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللّٰہ وان محمداً رسول اللّٰہ ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوٰۃ ۔ فاذا فعلوا عصموا منی دماء ھم واموالھم الّابحقھا و حسابھم علی اللّٰہ ۔ (مسلم ، رقم ۳۶)

''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں،۳؂ یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو ان کی جانیں اور ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو جائیں گے،اِلّایہ کہ وہ ان سے متعلق کسی حق کے تحت اس سے محروم کر دیے جائیں۔ ۴؂ رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے ۔''

یہی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر نہایت بلیغ اسلوب میں بیان فرمائی اور واضح کر دیا ہے کہ مسلمان کے مال کی حرمت ابدی ہے ۔ اذنِ خداوندی کے بغیر کوئی شخص بھی ، خواہ وہ مسلمانوں کا حکمران ہی کیوں نہ ہو ، اس کو ہر گز پامال نہیں کر سکتا۔ ارشاد فرمایا ہے :

ان دماء کم واموالکم حرام علیکم کحرمۃ یومکم ھذا فی شھرکم ھذا، فی بلدکم ھذا ۔ (مسلم ،رقم ۱۲۱۸)

''بے شک ،تمھارے خون اور تمھارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں،جس طرح تمھارا یہ دن (یوم النحر)، تمھارے اس مہینے (ذوالحجہ) اور تمھارے اس شہر (ام القریٰ مکہ) میں۔''

اس سے واضح ہے کہ اس آیت کی رو سے اسلامی ریاست زکوٰۃ کے علاوہ جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کر دی ہے ،اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کرسکتی ۔

یہ دین کا قطعی حکم ہے جس کے ذریعے سے وہ نہ صرف یہ کہ عوام اور حکومت کے مابین مالی معاملات سے متعلق ہر کشمکش کا خاتمہ کرتا ،بلکہ حکومتوں کے لیے اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا کر قومی معیشت میں عدمِ توازن پیدا کر دینے کا ہر امکان بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے ۔

قومی شعبہ

مَآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْکُمْ ۔ ( الحشر ۵۹ : ۷ )

'' اللہ نے جو کچھ ان بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف لوٹایا ہے ،وہ اللہ ،اس کے پیغمبر، پیغمبر کے اقربا ۵؂ اور یتیموں ،مسکینوں اور مسافروں کے لیے خاص رہے گا ۔ اس لیے کہ وہ تمھارے دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔''

یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے ، اسے سورۂ حشر میں دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانۂ ر سالت میں جب لوگوں نے ان اموال ،زمینوں اور جائدادوں کے بارے میں جو دشمن سے بغیر کسی جنگ کے حاصل ہوئی تھیں ، یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان میں تقسیم کر دی جائیں تو قرآن نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ انھیں نجی ملکیت میں دینے کے بجائے دین و ملت کی اجتماعی ضرورتوں اور قوم کے غربا و مساکین کی مدد اور کفالت کے لیے وقف رہنا چاہیے تاکہ یہ دولت مندوں ہی میں گردش نہ کرتی رہیں اور ان کا فائدہ ان لوگوں کو پہنچے جو اپنی خلقی کمزوریوں یا اسباب و وسائل سے محرومی کے باعث اپنے آپ کو ان کے حصول کی جدوجہد میں حصہ لینے کے قابل نہیں پاتے یا کسی وجہ سے اس میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔

یہ اموال چونکہ مسلمانوں کی کسی مدد کے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی قوتِ قاہرہ سے حاصل ہوئے تھے ، اس وجہ سے سب کے سب اس مقصد کے لیے خاص کیے گئے ۔جزیرہ نماے عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جہادو قتال کی مخصوص نوعیت کے پیشِ نظر اس زمانے کے عام غنائم بھی اللہ و رسول ہی کی ملکیت تھے، ۶؂ لیکن ان کے حصول میں چونکہ لوگوں نے آپ کی مدد کی تھی اور انھیں اس زمانے میں ذاتی اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ وغیرہ جنگ میں استعمال کرنا پڑتے تھے ،یہاں تک کہ اپنے زادِ راہ کا بندوبست بھی خود ہی کرنا ہوتا تھا ،اس لیے ضروری تھا کہ یہ مجاہدین میں تقسیم کر دیے جائیں ۔تاہم قرآن نے حکم دیا کہ ان میں سے بھی پانچواں حصہ اس مقصد کے لیے نکال لیا جائے :

وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ۔(الانفال ۸ :۴۱)

''اور جان لو کہ جو غنیمتیں بھی تم نے پائی ہیں ،ان میں سے پانچواں حصہ اللہ ،اس کے پیغمبر ،پیغمبر کے اقربا اور یتیموں ،مسکینوں اور مسافروں ہی کے لیے خاص رہے گا ۔''

اس زمانے کی اصطلاحات مستعار لیجیے تو ان احکام سے گویا قرآن کا منشا یہ تھا کہ معیشت میں نجی شعبے کے پہلو بہ پہلو ایک قومی شعبہ بھی ہرحال میں موجود رہنا چاہیے ۔اس لیے کہ ریاست کی سطح پر تنہا یہی طریقہ ہے جس سے معاشرے میں دولت کی گردش کو متوازن رکھا جا سکتا اور نجی شعبے کی ترقی کے نتیجے میں دولت کے بعض طبقوں میں ارتکاز کا جو مسئلہ لازماً پیدا ہو جاتا ہے، اس کے برے نتائج سے معاشرے کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی جا سکتی ہے ۔

رہا ان اموال کے بندوبست کا معاملہ تو اسے شریعت نے حالات و مصالح پر چھوڑ دیا ہے ، لہٰذا مسلمانوں کے اولوالامر ان کے اربابِ حل و عقد کے مشورے سے اس کے لیے جو طریقہ چاہیں اختیار کر سکتے ہیں ۔ چنانچہ یہ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے زمانے میں خیبر کی زمینیں اسی مقصد سے بٹائی پر دیں۔ ۷؂ بعض رقبے جن افراد کے لیے خاص کیے ،انھی کے تصرف میں رہنے دیے،۸؂ بعض کو حمیٰ قرار دیا، ۹؂ بعض چیزوں میں سب مسلمان یکساں شریک ٹھیرائے،۱۰؂ بعض چشموں اور نہروں سے انتفاع کے لیے 'الاقرب فالا قرب'کا قاعدہ مقرر کیا ۱۱ ؂ اور سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے عراق و شام کی مفتوحہ زمینیں اپنے عہدِ خلافت میں ان کے پرانے مالکوں ہی کے تصرف میں چھوڑ کر ان کی پیداوار کے لحاظ سے ایک متعین رقم ان پر بطورِ خراج عائد کر دی ۔ ۱۲؂

عدم اہلیت

وَلاَتُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ۔(النساء ۴ :۵)

ٌٌ'' اور تم اپنا وہ مال جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے ،ان بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو ۔ ہاں ،اس سے ان کو فراغت کے ساتھ کھلاؤ، پہناؤ اور دستور کے مطابق ان کی دل داری کرتے رہو۔''

سورۂ نساء کی یہ آیت اپنے سیاق و سباق کے لحاظ سے یتامیٰ اور ان کے سرپرستوں سے متعلق ہے ۔ اس میں لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مال کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے ، اس لیے یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو سرپرستوں کا فرض ہے کہ وہ انفرادی حق کے ساتھ خاندانی اور اجتماعی بہبود کو بھی پیش نظر ر کھیں اور جب تک وہ اپنی ذمہ داریاں حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرنے کے قابل نہ ہو جائیں ،ان کا مال ان کے حوالے نہ کریں ،بلکہ خود اس کی حفاظت اور نگرانی کا اہتمام کرتے رہیں ۔

آیت کا سیاق یہی ہے ،لیکن اس کے الفاظ پر غور کیجیے تو یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ اس میں حکم کا مبنیٰ یتیمی نہیں ،بلکہ سفاہت ،یعنی بے سمجھی اور نادانی ہے ۔ چنانچہ یہ بات اس سے نکلتی ہے کہ اس میں جو حق یتیم کے سرپرستوں کو دیا گیا ہے ،وہی حق اگر حکم کا مبنیٰ موجود ہو تو ریاست کو بھی اس کے باشندوں پر لازماً حاصل ہو گا ۔چنانچہ اس کی رو سے کوئی شخص اگر اپنی حماقت، بے راہ روی اور نادانی کے باعث مال و متاع کے ضیاع اور ذرائعِ پیداوار کی بربادی کا سامان کرتا ہے تو ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس کے املاک میں حقِ تصرف سے اسے معزول کر کے ان کا نظم خود سنبھال لے ۔یہ سوسائٹی کے قیام و بقا اور اس کی بہبود کا تقاضا ہے جسے ہرحال میں پورا ہونا چاہیے ۔تاہم اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ جس شخص کو حقِ تصرف سے معزول کیا جائے ، اس کے مال سے اس کی ضروریات کابندوبست نہایت فراخ دلی کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ اس مقصد کے لیے ' وارزقوھم منھا' کے بجائے 'وارزقوھم فیھا'کے جو الفاظ آیت میں آئے ہیں ، وہ عربیت کی رو سے اسی مفہوم پر دلالت کرتے ہیں ۔

اکل الاموال بالباطل

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ ۔(النساء ۴ : ۲۹)

''ایمان والو ،تم آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے نہ کھا ؤ،الاّ یہ کہ وہ رضا مندی کی تجارت سے کسی کو حاصل ہو جائے ۔''

اس آیت میں دوسروں کا مال ان طریقوں سے کھانے کی ممانعت کی گئی ہے جو عدل و انصاف، معروف ،دیانت اور سچائی کے خلاف ہیں۔ اسلام میں معاشی معاملات سے متعلق تمام حرمتوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے ۔رشوت، چوری، غصب، غلط بیانی ،تعاون علی الاثم ،غبن ،خیانت اور لقطہ کی مناسب تشہیر سے گریز کے ذریعے سے دوسروں کا مال لے لینا ،یہ سب اسی کے تحت داخل ہیں ۔ ان چیزوں پر مفصل بحث کی ضرورت نہیں ہے ،اس لیے کہ ان کا گناہ ہونا تمام دنیا کے معروفات اور ہر دین و شریعت میں ہمیشہ مسلم رہا ہے ۔ وہ معاملات جو دوسروں کے لیے ضرر و غرر ،یعنی نقصان یا دھوکے کا باعث بنتے ہیں ،وہ بھی اسی کی ایک فرع ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جو صورتیں ،اپنے زمانے میں ممنوع قرار دیں ،وہ یہ ہیں :

چیزیں بیچنا ،اس سے پہلے کہ وہ قبضہ میں آئیں ۔ ۱۳؂

ڈھیر کے حساب سے غلہ خرید کر ،اسے اپنے ٹھکانوں پر لانے سے پہلے بیچ دینا۔ ۱۴ ؂

دیہاتی کے لیے کسی شہری کی خریدو فروخت ۔ ۱۵ ؂

محض دھوکا دینے کے لیے ، ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دینا۔ ۱۶ ؂

کسی شخص کے سودے پر اپنا سودا بنانے کی کوشش کرنا۔ ۱۷ ؂

محاقلہ ، یعنی کوئی شخص اپنی کھیتی خوشہ ہی میں بیچ دے۔ ۱۸ ؂

مزابنہ ،یعنی کھجور کے درخت پر اس کا پھل درخت سے اتری ہوئی کھجور کے عوض بیچنا۔ ۱۹ ؂

معاومہ ،یعنی درختوں کا پھل کئی سال کے لیے بیچ دینا ۔ ۲۰ ؂

ثنیا ،یعنی بیع میں کوئی مجہول استثنا باقی رکھا جائے ۔اس کی صورت یہ تھی کہ غلہ بیچنے والا ،مثال کے طور پر ، یہ کہہ دیتا کہ میں نے یہ غلہ تیرے ہاتھ بیچ دیا ،مگر اس میں سے تھوڑا نکال لوں گا۔ ۲۱؂

ملامسہ،یعنی ہر ایک دوسرے کا کپڑا بے سوچے سمجھے چھو لے اور اس طرح اس کی بیع منعقد ہو جائے ۔۲۲ ؂

منابذہ،یعنی ہر ایک اپنی کوئی چیز دوسرے کی طرف پھینک دے اور اس طرح اس کی بیع منعقد قرار پائے۔ ۲۳؂

بیع الی حبل الحبلہ ،یعنی اونٹ اس طرح بیچے جائیں کہ اونٹنی جو کچھ جنے ،پھر اس کا بچہ حاملہ ہو اور جنے تو اس کا سودا طے ہو۱۔ ۲۴؂

بیع الحصاۃ ،یعنی کنکری کی بیع ۔اس کی دو صورتیں بالعموم رائج تھیں : ایک یہ کہ اہلِ جاہلیت زمین کا سودا طے کر لیتے ،پھر کنکری پھینکتے اور جہاں تک وہ جاتی ،اسے زمین کی مساحت قرار دے کر مبیع کی حیثیت سے خریدار کے حوالے کر دیتے۔ دوسری یہ کہ کنکری پھینکتے اور کہتے کہ یہ جس چیز پر پڑے گی ، وہی مبیع قرار پائے گی۔ ۲۵ ؂

درختوں کے پھل بیچ دینا ،اس سے پہلے کہ ان کی صلاحیت واضح ہو۔ ۲۶ ؂

بالی بیچ دینا ،اس سے پہلے کہ وہ سفید ہو کر آفتوں سے محفوظ ہو جائے ۔ ۲۷ ؂

اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچنا جس میں عیب ہو ،الاّیہ کہ اسے واضح کر دیا جائے ۔ ۲۸؂

اونٹ یا بکری کا دودھ ،انھیں بیچنے سے پہلے ان کے تھنوں میں روک کر رکھنا ۔ ۲۹؂

بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر تاجروں سے ملنا اور ان کا مال خریدنے کی کوشش کرنا۔ ۳۰؂

کسی چیز کی پیشگی قیمت دے کر اس طرح بیع کرنا کہ تیار ہونے پر وہ چیز لے لی جائے گی ، الاّ یہ کہ معاملہ ایک معین ماپ اور ایک معین تول کے ساتھ اور ایک معین مدت کے لیے کیا جائے۔ ۳۱ ؂

مخابرہ ،یعنی بٹائی کی وہ صورتیں اختیار کی جائیں جن میں کھیتی والے کا منافع معین قرار پائے ۔ ۳۲ ؂

زمین اس طرح بٹائی پر دینا کہ زمین کے ایک معین حصے کی پیداوار زمین کے مالک کا حق قرار پائے۔ ۳۳؂

ایسی جائدادیں جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہوں ، ان کے شریکوں کو خریدنے کا موقع دیے بغیر انھیں بیچ دینا، الاّ یہ کہ حدود متعین ہو جائیں اور راستے الگ کر دیے جائیں ۔ ۳۴ ؂

ہم سایے کے ساتھ راستہ ایک ہو تو اپنی جائداد اسے خریدنے کا موقع دیے بغیر بیچ دینا ۔ ۳۵ ؂

عام ضرورت کی چیزیں منڈی میں ان کی قلت پیدا کرنے اور اس طرح قیمت بڑھانے کے لیے روک رکھنا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شدت کے ساتھ اسے ممنوع قرار دیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

من دخل فی اسعار المسلمین لیغلیہ علیھم ، کان حقاً علی اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ان یعقدہ بعظم من النار یوم القیامۃ ۔ (احمد بن حنبل ، رقم ۱۹۸۰۲)

''جس نے چیزوں کے بھاؤ چڑھانے کے لیے مسلمانوں کے بازار میں کوئی مداخلت کی تو اللہ تعالیٰ یہ حق رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک بڑی آگ کو اس کا ٹھکانا بنا دیں ۔''

بیع و شرا اور مزارعت وغیرہ کی یہ صورتیں ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دی ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بات یہاں واضح رہنی چاہیے کہ ضرر و غرر کی جس علت پر یہ مبنی ہیں ، وہ اگر شرائط و احوال کی تبدیلی سے کسی وقت ان میں مفقود ہو جائے تو جس طرح ان کی ممانعت ختم ہو جائے گی ، اسی طرح تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں یہ علت اگر کسی حادث معاشی معاملے میں ثابت ہو جائے تو اس کی اباحت بھی لازماً ختم قرار پائے گی ۔

سود اور جوا بھی اسی اکل الاموال بالباطل میں داخل اور اس سلسلہ کے بدترین جرائم ہیں ۔ ان کے بارے میں قرآن کا نقطۂ نظر ہم یہاں کسی قدر تفصیل سے بیان کریں گے ۔

جوا

جوئے کے بارے میں ہرشخص جانتا ہے کہ یہ نری قسمت آزمائی ہے ۔ قرآنِ مجید نے اسے ' رجس من عمل الشیطان' (نجس ،شیطانی کاموں میں سے )قرار دیا ہے ۔اس کے لیے یہ تعبیر ،بالبداہت واضح ہے کہ اس اخلاقی فساد کی بنا پر اختیار کی گئی ہے جو اس سے آدمی کی شخصیت میں پیدا ہوتا اور بتدریج اس کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی عمل کی بنیاد اگر بیع و شرا اور خدمت و اعانت پر رکھی جائے تو اس سے جس طرح انسان میں اخلاقِ عالیہ کے داعیات کو قوت حاصل ہوتی ہے ، اسی طرح اس کی بنیاد اگر ان سب چیزوں کے بغیر محض اتفاقات اور قسمت آزمائی پر رکھ دی جائے تو اس کے نتیجے میں محنت ،زحمت، خدمت اور جاں بازی سے گریز کا رویہ انسان میں پیدا ہو جاتا ہے ۔ پھر بزدلی و کم ہمتی اور اس طرح کے دوسرے اخلاقِ رذیلہ کی آکاس انسانی شخصیت کے شجرِ طیب پر نمایاں ہوتی اور آہستہ آہستہ عفت، عزت، ناموس ،وفاوحیا اور غیرت و خودداری کے ہر احساس کو بالکل فنا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان خدا کی یاد اور نماز سے غافل ہو جاتا اور دوسروں کے ساتھ اخوت و محبت کے بجائے بغض و عداوت کے جذبات اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے ۔ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَاَبُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ، فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ۔ (۵ :۹۰۔۹۱)

'' ایمان والو ،یہ شراب اور جوا اور تھان اور یہ قسمت کے تیر بالکل نجس شیطانی کام ہیں، اس لیے ان سے بچو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمھیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمھارے درمیان بغض اور عداوت ڈال دے اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ۔پھر کیا تم ان چیزوں سے باز آتے ہو ؟''

اس جوئے کے بارے میں ایک دل چسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں یہ امیروں کی طرف سے فیاضی کے اظہار کا ایک طریقہ اور غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ بھی تھا ۔ ان کے حوصلہ مند لوگوں میں یہ روایت تھی کہ جب سرما کا موسم آتا ،شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور ملک میں قحط کی سی حالت پیدا ہو جاتی تو وہ مختلف جگہوں پر اکٹھے ہوتے ، شراب کے جام لنڈھاتے اور سرور و مستی کے عالم میں کسی کا اونٹ یا اونٹنی پکڑتے اور اسے ذبح کر دیتے ۔ پھر اس کا مالک جو کچھ اس کی قیمت مانگتا ، اسے دے دیتے اور اس کے گوشت پر جوا کھیلتے ۔اس طرح کے موقعوں پر غربا و فقرا پہلے سے جمع ہو جاتے تھے اور ان جوا کھیلنے والوں میں سے ہر شخص جتنا گوشت جیتتا جاتا ،ان میں لٹاتا جاتا ۔عربِ جاہلی میں یہ بڑی عزت کی چیز تھی اور جو لوگ اس قسم کی تقریبات منعقد کرتے یا ان میں شامل ہوتے ، وہ بڑے فیاض سمجھے جاتے تھے اور شاعر ان کے جودوکرم کی داستانیں اپنے قصیدوں میں بیان کرتے تھے ۔ اس کے برعکس جو لوگ ان تقریبات سے الگ رہتے ، انھیں 'برم' کہا جاتا تھا جس کے معنی عربی زبان میں بخیل کے ہیں ۔

جوئے اور شراب کی یہی منفعت تھی جس کی بنا پر انھیں جب ممنوع قرار دیا گیا تو لوگ متردد ہوئے ، لیکن قرآن نے صاف واضح کر دیا کہ ان کی یہ منفعت اپنی جگہ ، مگر انسان کی شخصیت میں جو اخلاقی فساد ان سے پیدا ہوتا ہے ،اس کے پیشِ نظر یہ کسی حال میں بھی گوارا نہیں کیے جا سکتے ۔ارشاد فرمایا ہے:

یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ، قُلْ: فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ، وَاِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا ۔(البقرہ ۲ :۲۱۹)

''وہ تم سے شراب اورجوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔کہہ دو : ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں ،لیکن ان کا گناہ ان کی منفعتوں سے بہت زیادہ ہے۔''

سود

سود بھی ایک ایسی ہی اخلاقی نجاست ہے جس میں ملوث افراد اور ادارے اپنے اصل سرمایے کو بالکل بے داغ محفوظ رکھ کر اور کوئی جو کھم برداشت کیے بغیر منافع بٹانے کے لیے اپنے مقروض کے سر پر سوار رہتے ہیں ۔ عربی زبان میں اس کے لیے 'ربٰوا' کا لفظ مستعمل ہے ۔قرآن نے اس کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے ۔ عربی زبان سے واقف ہرشخص جانتا ہے کہ اس سے مراد وہ معین اضافہ ہے جو قرض دینے والا اپنے مقروض سے محض اس بنا پر وصول کرتا ہے کہ اس نے ایک خاص مدت کے لیے اس کو روپے کے استعمال کی اجازت دی ہے ۔قرآنِ مجید نے اسے پوری شدت کے ساتھ ممنوع قرار دیا ہے ۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے :

اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ، ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْآ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ، وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا۔ فَمَنْ جَآءَ ہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَھٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ، وَاَمْرُہٗ اِلَی اللّٰہِ، وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّاِر ھُمْ فِیْھَا خَلِدُوْنََ ۔ (۲ : ۲۷۵)

''جو لوگ سود کھاتے ہیں ،وہ قیامت کے دن اٹھیں گے تو بالکل اس شخص کی طرح اٹھیں گے جس کو شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو ۔ یہ اس وجہ سے ہو گا کہ انھوں نے کہا : بیع بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے اور تعجب ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام ٹھیرایا ہے۔ چنانچہ جس کو اس کے پروردگار کی یہ تنبیہ پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا ،سو لے چکا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ،اور جو اب اس کا اعادہ کریں گے تو وہی اہلِ دوزخ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔''

اسی سورہ میں آگے فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا ، اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ، وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِکُمْ ، لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (۲: ۲۷۸۔۲۷۹)

''ایمان والو ، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے ، اسے چھوڑ دو ۔ پھر اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جاؤ ۔اور اگر تم توبہ کر لو تو اصل رقم کا تمھیں حق ہے ،نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔''

ان آیات میں سود خواروں کے قیامت میں پاگلوں کی طرح اٹھنے کی وجہ قرآن نے یہ بتائی ہے کہ وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ نے بیع و شرا کو حلال اور سود کو حرام ٹھیرا دیا ہے ، دراں حالیکہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جب ایک تاجر اپنے سرمایے پر نفع لے سکتا ہے تو ایک سرمایہ دار اگر اپنے سرمایے پر نفع کا مطالبہ کرے تو وہ آخر مجرم کس طرح قرار پاتا ہے ؟ قرآن کے نزدیک یہ ایسی پاگل پن کی بات ہے کہ اس کے کہنے والوں کو جزا اور عمل میں مشابہت کے قانون کے تحت قیامت میں پاگلوں اور دیوانوں ہی کی طرح اٹھنا چاہیے ۔

استاذ امام امین احسن اصلاحی سود خواروں کے اس اظہارِ تعجب پر تبصرہ کرتے ہوئے ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''اس اعتراض سے یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ سود کو بیع پر قیاس کرنے والے پاگلوں کی نسل دنیا میں نئی نہیں ہے ،بلکہ بڑی پرانی ہے ۔قرآن نے اس قیاس کو ... لائقِ توجہ نہیں قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بداہتہً باطل اور قیاس کرنے والے کی دماغی خرابی کی دلیل ہے ۔ ایک تاجر اپنا سرمایہ ایک ایسے مال کی تجارت پر لگاتا ہے جس کی لوگوں کو طلب ہوتی ہے ۔وہ محنت ،زحمت اور خطرات مول لے کر اس مال کو ان لوگوں کے لیے قابلِ حصول بناتا ہے جو اپنی ذاتی کوشش سے اول تو آسانی سے اس کو حاصل نہیں کر سکتے تھے اور اگر حاصل کر سکتے تھے تو اس سے کہیں زیادہ قیمت پر جس قیمت پر تاجر نے ان کے لیے مہیا کر دیا ۔ پھر تاجر اپنے سرمایہ اور مال کو کھلے بازار میں مقابلہ کے لیے پیش کرتا ہے اور اس کے لیے منافع کی شرح بازار کا اتار چڑھاؤ مقرر کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس اتار چڑھاؤ کے ہاتھوں بالکل دیوالیہ ہو کر رہ جائے اور ہو سکتا ہے کہ کچھ نفع حاصل کر لے ۔ اسی طرح اس معاملے میں بھی اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کہ وہ ایک بار ایک روپے کی چیز ایک روپے دو آنے یا چار آنے میں بیچ کر پھر اس روپے سے ایک دھیلے کا بھی کوئی نفع اس وقت تک نہیں کما سکتا ،جب تک اس کا وہ روپیہ تمام خطرات اور سارے اتار چڑھاؤ سے گزر کر پھر میدان میں نہ اترے اور معاشرے کی خدمت کر کے اپنے لیے استحقاق نہ پیدا کرے ۔

بھلابتائیے کیا نسبت ہے ایک تاجر کے اس جاں باز ،غیور اور خدمت گزار سرمایہ سے ایک سود خوار کے اس سنگ دل، بزدل ،بے غیرت اور دشمنِ انسانیت سرمایہ کو جو جوکھم تو ایک بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ،لیکن منافع بٹانے کے لیے سر پر سوار ہو جاتا ہے ۔'' ( تدبرِ قرآن ۱/ ۶۳۲۔۶۳۳)

سود کی یہی شناعت ہے جس کی بنا پر ،بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الربٰوا سبعون حوباً ایسرھا ان ینکح الرجل امہ ۔ (ابن ماجہ ، رقم ۲۳۰۴)

''سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کے اگر ستر حصے کیے جائیں تو سب سے ہلکا حصہ اس کے برابر ہو گا کہ آدمی اپنی ماں سے بدکاری کرے۔''

قرآنِ مجید نے اگرچہ سود لینے ہی کو حرام ٹھیرایا ہے ،لیکن اس حرمت کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ بغیر کسی عذر کے اس کے کھلانے والے ۳۶ ؂ ،لکھنے والے اور اس کے گواہوں کو بھی تعاون علی الاثم کے اصول پر یکساں مجرم قرار دیا جائے ۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :

لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ٰ اکل الربٰوا ومؤکلہ و کاتبہ وشاھدیہ و قال : ھم سواء ۔(مسلم ،رقم ۱۵۹۸ )

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے اور اس کی دستاویز لکھنے والے اور اس دستاویز کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا :یہ سب برابر ہیں ۔''

اسی طرح مبادلۂ اشیا کی صورت میں ادھار کے معاملات میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہر آلایش سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ آپ کا ارشاد ہے :

الذھب بالذھب وزناً بوزن ، مثلاً بمثل والفضۃ بالفضۃ وزناً بوزن ، مثلاً بمثل، فمن زاد و استزاد فھو رباً۔ (مسلم ،رقم ۱۵۸۸)

''تم سونا ادھار بیچو تو اس کے بدلے میں وہی سونا لو ، اسی وزن اور اسی قسم میں اور چاندی ادھار بیچو تو اس کے بدلے میں وہی چاندی لو ، اسی وزن اور اسی قسم میں، اس لیے کہ جس نے زیادہ دیا اور زیادہ چاہا تو یہی سود ہے۔''

الورق بالذھب رباً الاھاء وھاء والبر بالبر رباً الاھاء وھاء والشعیر بالشعیر رباً الاھاء وھاء والتمر بالتمر رباً الاھاء وھاء ۔(مسلم ،رقم ۱۵۸۶ )

''سونے کے بدلے میں چاندی ادھار بیچوگے تو اس میں سود آ جائے گا۔۳۷ ؂ گندم کے بدلے میں دوسری قسم کی گندم،۳۸؂ جو کے بدلے میں دوسری قسم کے جو اور کھجور کے بدلے میں دوسری قسم کی کھجور میں بھی یہی صورت ہو گی۔ ہاں ،البتہ یہ معاملہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں۔''

ان روایتوں کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم نے اوپر اپنے ترجمہ میں واضح کر دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ یہی تھا ۔ روایتیں اگر اسی صورت میں رہتیں تو لوگ ان کا یہ مدعا سمجھنے میں غلطی نہ کرتے ، لیکن بعض دوسرے طریقوں میں راویوں کے سوءِ فہم نے ان میں سے دوسری روایت سے ' ھاء وھاء ' کا مفہوم پہلی روایت میں ،اور پہلی روایت سے 'الذھب بالذھب ' کے الفاظ دوسری روایت میں 'الورق بالذھب' کی جگہ داخل کر کے انھیں اس طرح خلط ملط کر دیا ہے کہ ان کا حکم اب لوگوں کے لیے ایک لاینحل معما ہے ۔ ہماری فقہ میں'ربا الفضل' کا مسئلہ اسی غتربود کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے ،ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں واضح کر دی ہے کہ ' انما الربٰوا فی النسیءۃ' ۳۹؂ (سود صرف ادھار ہی کے معاملات میں ہوتا ہے)۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ سود کا تعلق صرف انھی چیزوں سے ہے جن کا استعمال ان کی اپنی حیثیت میں انھیں فنا کر دیتا اور اس طرح مقروض کو انھیں دوبارہ پیدا کر کے ان کے مالک کو لوٹانے کی مشقت میں مبتلا کرتا ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس پر اگر کسی اضافے کا مطالبہ کیا جائے تو یہ عقل و نقل، دونوں کی رو سے ظلم ہے ،لیکن اس کے برخلاف وہ چیزیں جن کے وجود کو قائم رکھ کر ان سے استفادہ کیا جاتا ہے اور استعمال کے بعد وہ جس حالت میں بھی ہوں ، اپنی اصل حیثیت ہی میں ان کے مالک کو لوٹا دی جاتی ہیں ،ان کے استعمال کا معاوضہ کرایہ ہے اور اس پر ، ظاہر ہے کہ کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ قرض کسی غریب اور نادار کو دیا گیا ہے یا کسی کاروباری یا رفاہی اسکیم کے لیے ، اس چیز کو ربا کی حقیقت کے تعین میں کوئی دخل نہیں ہے ۔ یہ بات بالکل مسلم ہے کہ عربی زبان میں ربا کا اطلاق قرض دینے والے کے مقصد اور مقروض کی نوعیت و حیثیت سے قطعِ نظر محض اس معین اضافے ہی پر ہوتا ہے جو کسی قرض کی رقم پر لیا جائے ۔ چنانچہ یہ بات خود قرآنِ مجید نے واضح کر دی ہے کہ اس کے زمانۂ نزول میں سودی قرض زیادہ تر کاروباری لوگوں کے مال میں جا کر بڑھنے ہی کے لیے دیے جاتے تھے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ، وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زٰکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ۔(الروم ۳۰ : ۳۹)

''اور جو سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ دوسروں کے مال میں پروان چڑھے تو وہ اللہ کے ہاں پروان نہیں چڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دی تو اسی کے دینے والے ہیں جو اللہ کے ہاں اپنا مال بڑھاتے ہیں ۔''

اس میں دیکھ لیجیے ' لیربوا فی اموال الناس' (اس لیے کہ وہ دوسروں کے اموال میں پروان چڑھے) کے الفاظ نہ صرف یہ کہ غریبوں کو دیے جانے والے صرفی قرضوں کے لیے کسی طرح موزوں نہیں ہیں ، بلکہ صاف بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں سودی قرض بالعموم تجارتی مقاصد ہی کے لیے دیا جاتا تھا اور اس طرح قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق گویا دوسروں کے مال میں پروان چڑھتا تھا ۔یہی بات سورۂ بقرہ کی اس آیت سے بھی واضح ہوتی ہے :

وَاِنْ کَانَ ذُوْعُسَرۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلیٰ مَیْسَرَۃٍ، وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌلَّکُمْ، اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (۲ :۲۸۰)

''اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو ،اور اگر تم بخش دو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے ، اگر تم سمجھتے ہو ۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''اس زمانے میں بعض کم سواد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عرب میں زمانۂ نزولِ قرآن سے پہلے جو سود رائج تھا ،یہ صرف مہاجنی سود تھا ۔غریب اور نادار لوگ اپنی ناگزیر ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے کے لیے مہاجنوں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے تھے اور یہ مہاجن ان مظلوموں سے بھاری بھاری سود وصول کرتے تھے ۔اسی سود کو قرآن نے ربا قرار دیا ہے اور اسی کو یہاں حرام ٹھیرایا ہے ۔رہے یہ تجارتی کاروباری قرضے جن کا اس زمانے میں رواج ہے تو ان کا نہ اس زمانے میں دستور تھا ، نہ ان کی حرمت و کراہت سے قرآن نے کوئی بحث کی ہے ۔

ان لوگوں کا نہایت واضح جواب خود اس آیت کے اندر ہی موجود ہے ۔جب قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ اگر قرض دار تنگ دست (ذوعسرۃ) ہو تو اس کو کشادگی (میسرۃ) حاصل ہونے تک مہلت دو تو اس آیت نے گویا پکار کر یہ خبر دے دی کہ اس زمانے میں قرض لینے والے امیر اور مال دار لوگ بھی ہوتے تھے ۔ بلکہ یہاں اگر اسلوبِ بیان کا صحیح صحیح حق ادا کیجیے تو یہ بات نکلتی ہے کہ قرض کے لین دین کی معاملت زیادہ تر مال داروں ہی میں ہوتی تھی ، البتہ امکان اس کا بھی تھا کہ کوئی قرض دار تنگ حالی میں مبتلا ہو کہ اس کے لیے مہاجن کی اصل رقم کی واپسی بھی ناممکن ہو رہی ہو تو اس کے متعلق یہ ہدایت ہوئی کہ مہاجن اس کو اس کی مالی حالت سنبھلنے تک مہلت دے اور اگر اصل بھی معاف کر دے تو یہ بہتر ہے۔ اس معنی کا اشارہ آیت کے الفاظ سے نکلتا ہے ،اس لیے کہ فرمایا ہے کہ : 'ان کان ذوعسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ' (اگر قرض دار تنگ حال ہو تو اس کوکشادگی حاصل ہونے تک مہلت دی جائے )۔ عربی زبان میں 'ان' کا استعمال عام اور عادی حالات کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ بالعموم نادر اور شاذ حالات کے بیان کے لیے ہوتا ہے ۔ عام حالات کے بیان کے لیے عربی میں 'اذا'ہے ۔اس روشنی میں غور کیجیے تو آیت کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اس زمانے میں عام طور پر قرض دار 'ذومیسرۃ' (خوش حال) ہوتے تھے ،لیکن گاہ گاہ ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ قرض دار غریب ہو یا قرض لینے کے بعد غریب ہو گیا ہو تو اس کے ساتھ اس رعایت کی ہدایت فرمائی ۔''( تدبرِ قرآن ۱/ ۶۳۸۔۶۳۹)

اس کے بعد انھوں نے اپنی اس بحث کا نتیجہ اس طرح بیان کیا ہے :

'' ظاہر ہے کہ مال دار لوگ اپنی ناگزیر ضروریاتِ زندگی کے لیے مہاجنوں کی طرف رجوع نہیں کرتے رہے ہوں گے، بلکہ وہ اپنے تجارتی مقاصد ہی کے لیے قرض لیتے رہے ہوں گے ۔ پھر ان کے قرض اور اس زمانے کے ان قرضوں میں جو تجارتی اور کاروباری مقاصد سے لیے جاتے ہیں ، کیا فرق ہوا؟ ''(تدبرِ قرآن ۱ /۶۳۹)

تحریر و شہادت [۱]

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ، وَلْیَکْتُبْ بَّیْنَکُمْ کَاتِّبٌ بِالْعَدْلِ وَلَایَاْبَ کَاتِبٌ اَنْ یَّکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلْیَکْتُبْ ، وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْءًا ، فَِانْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْھًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ھُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ بِالْعَدْلِ ، وَاسْتَشْھِدُوْا شَھِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ، فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰھُمَا الْاُخْرٰی ، وَلَا یَاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ، وَلَا تَسْءَمُوْآ اَنْ تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً اَوْ کَبِیْراً اِلیٰ اَجَلِہِ ۔ ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَاَقْوَمُ لِلشَّھَادَۃِ وَاَدْنآی اَلَّا تَرْتَابُوْآ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُوْنَھَا بَیْنَکُمْ ، فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَکْتُبُوْھَا ، وَاَشْھِدُوْآ اِذَا تَبَایَعْتُمْ ، وَلَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلَا شَھِیْدٌ ، وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ فُسُوْقٌ بِکُمْ ۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ، وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفِرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا، فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ، فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ ، وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ ، وَلاَ تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ ، وَمَنْ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۔ (البقرہ ۲: ۲۸۲)

'' ایمان والو ،جب تم کسی مقررمدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور چاہیے کہ اس کو تمھارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے ۔ اور جسے لکھنا آتا ہو ،وہ لکھنے سے انکار نہ کرے ، بلکہ جس طرح اللہ نے اسے سکھایا ، وہ بھی دوسروں کے لیے لکھ دے۔ اور یہ دستاویز اسے لکھوانی چاہیے جس پر حق عائد ہوتا ہے ۔اور وہ اللہ اپنے پروردگار سے ڈرے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ۔پھر اگر وہ شخص جس پر حق عائد ہوتا ہے ،نادان یا ضعیف ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو تو اس کے ولی کو چاہیے کہ وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے ۔اور تم اس پر اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی گواہی کرالو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ،تمھارے پسندیدہ گواہوں میں سے ۔ دو عورتیں اس لیے کہ اگر ایک الجھے تو دوسری یاد دلا دے ۔ اور یہ گواہ جب بلائے جائیں تو انھیں انکار نہیں کرنا چاہیے ۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ،اس کے وعدے تک اسے لکھنے میں تساہل نہ کرو ۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ زیادہ مبنی بر انصاف ہے ، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے ، اور اس سے تمھارے شبہوں میں پڑنے کا امکان کم ہو جاتا ہے ۔ ہاں ، اگر معاملہ روبرو اور دست گرداں نوعیت کا ہو ، تب اس کے نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اورسودا کرتے وقت بھی گواہ بنا لیا کرو ۔اور (متنبہ رہو کہ) لکھنے والے یا گواہی دینے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ وہ گناہ ہے جو تمھارے ساتھ چپک جائے گا ۔اور اللہ سے ڈرتے رہو ،اور (اس بات کو سمجھو کہ) اللہ تمھیں تعلیم دے رہا ہے ، اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے ۔ پھر اگر ایک دوسرے پر بھروسے کی صورت نکل آئے تو جس کے پاس (رہن کی ہوئی چیز) امانت رکھی گئی ہے ، وہ یہ امانت واپس کر دے ، اور اللہ ، اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے ، (اور اِس معاملے پر گواہی کرا لے) اور گواہی (جس صورت میں بھی ہو، اُس) کو ہرگز نہ چھپاؤ اور (یاد رکھو کہ) جو اُسے چھپائے گا ، اُس کا دل گناہ گار ہو گا اور (یاد رکھو کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے جانتا ہے ۔''

اس آیت میں مسلمانوں کو نزاعات سے بچنے کے لیے لین دین ،قرض اور اس طرح کے دوسرے مالی معاملات میں تحریر و شہادت کے اہتمام کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس کے احکام کا جوخلاصہ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ''تدبرِ قرآن'' میں بیان فرمایا ہے ، تفہیم مدعا کے لیے وہ ہم انھی کے الفاظ میں یہاں نقل کیے دیتے ہیں ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''۱ ۔ جب کوئی قرض کا لین دین ایک خاص مدت تک کے لیے ہو تو اس کی دستاویز لکھ لی جائے ۔

۲ ۔ یہ دستاویز دونوں پارٹیوں کی موجودگی میں کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے ۔ اس میں کوئی دغل فشل نہ کرے اور جس کو لکھنے کا سلیقہ ہو ،اس کو چاہیے کہ وہ اس خدمت سے انکار نہ کرے۔لکھنے کا سلیقہ اللہ کی ایک نعمت ہے ۔اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ آدمی ضرورت پڑنے پر لوگوں کے کام آئے ۔ اس نصیحت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اُس زمانے میں لکھے پڑھے لوگ کم تھے۔ دستاویزوں کی تحریر اور ان کی رجسٹری کا سرکاری اہتمام اس وقت تک نہ عمل میں آیا تھا اور نہ اس کا عمل میں آنا ایسا آسان تھا۔

۳ ۔ دستاویز کے لکھوانے کی ذمہ داری قرض لینے والے پر ہو گی ۔وہ دستاویز میں اعتراف کرے گا کہ فلاں بن فلاں کا اتنے کا قرض دار ہوں اور لکھنے والے کی طرح اس پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس اعتراف میں تقویٰ کو ملحوظ رکھے اور ہر گز صاحب حق کے حق میں کسی قسم کی کمی کرنے کی کوشش نہ کرے ۔

۴ ۔ اگر یہ شخص کم عقل ہو یا ضعیف ہو یا دستاویز وغیرہ لکھنے لکھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو یا وکیل ہو ،وہ اس کا قائم مقام ہو کر انصاف اور سچائی کے ساتھ دستاویز لکھوائے ۔

۵۔ اس پر دومردوں کی گواہی ثبت ہو گی جن کے متعلق ایک ہدایت یہ ہے کہ وہ 'من رجالکم'، یعنی اپنے مردوں میں سے ہوں ،جس سے بیک وقت تین باتیں نکلتی ہیں : ایک یہ کہ وہ مسلمان ہوں۔ دوسری یہ کہ وہ اپنے میل جول اور تعلق کے لوگوں میں سے ہوں کہ فریقین ان کو جانتے پہچانتے ہوں ۔ تیسری (ہدایت) یہ کہ وہ 'ممن ترضون'یعنی پسندیدہ اخلاق و عمل کے ،ثقہ ،معتبر اور ایمان دار ہوں ۔

۶ ۔ اگر مذکورہ صفات کے دو مرد میسر نہ آ سکیں تو اس کے لیے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے ۔ دو عورتوں کی شرط اس لیے ہے کہ اگر ایک سے کسی لغزش کا صدور ہو گا تو دوسری کی تذکیر و تنبیہ سے اس کا سدِ باب ہو سکے گا ۔ یہ فرق عورت کی تحقیر کے پہلو سے نہیں ہے ،بلکہ اس کی مزاجی خصوصیات اور اس کے حالات و مشاغل کے لحاظ سے یہ ذمہ داری اس کے لیے ایک بھاری ذمہ داری ہے ۔ اس وجہ سے شریعت نے اس کے اٹھانے میں اس کے لیے سہارے کا بھی انتظام فرما دیا ہے ۔

۷۔ جو لوگ کسی دستاویز کے گواہوں میں شامل ہو چکے ہوں ، عند الطلب ان کو گواہی سے گریز کی اجازت نہیں ہے ،اس لیے کہ حق کی شہادت ایک عظیم معاشرتی خدمت بھی ہے اور شہداء اللہ ہونے کے پہلو سے اس امت کے فریضۂ منصبی کا ایک جز بھی ہے۔

۸۔ قرض کے لین دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ،اگر وہ کسی مدت کے لیے ہے ،دست گرداں نوعیت کا نہیں ہے تو اس کو قیدِتحریر میں لانے سے گرانی نہیں محسوس کرنی چاہیے ۔جو لوگ اس کو زحمت سمجھ کر ٹال جاتے ہیں ، وہ سہل انگاری کی وجہ سے بسا اوقات ایسے جھگڑوں میں پھنس جاتے ہیں جن کے نتائج بڑے دوررس نکلتے ہیں۔

۹۔ مذکورہ بالا ہدایات اللہ تعالیٰ کے نزدیک حق و عدالت سے قرین ،گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و نزاع سے بچانے والی ہیں ۔ اس لیے معاشرتی صلاح و فلاح کے لیے ان کا اہتمام ضروری ہے۔

۱۰ ۔ دست گرداں لین دین کے لیے تحریر و کتابت کی پابندی نہیں ہے ۔

۱۱ ۔ ہاں ،اگر کوئی اہمیت رکھنے والی خرید و فروخت ہوئی ہے تو اس پر گواہ بنا لینا چاہیے تاکہ کوئی نزاع پیدا ہو تو اس کا تصفیہ ہو سکے ۔

۱۲۔ نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی فریق کے لیے جائز نہیں ہے ۔ کاتب اور گواہ ایک اہم اجتماعی و تمدنی خدمت انجام دیتے ہیں ۔ اس وجہ سے ان کو بلاوجہ نقصان پہنچانے کی کوشش کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ثقہ اور محتاط لوگ گواہی اور تحریر وغیرہ کی ذمہ داریوں سے گریز کرنے لگیں گے اور لوگوں کو پیشہ ور گواہوں کے سوا کوئی معقول گواہ ملنا مشکل ہو جائے گا ۔ اس زمانے میں ثقہ اور سنجیدہ لوگ گواہی وغیرہ کی ذمہ داریوں سے جو بھاگتے ہیں ،اس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی معاملہ نزاعی صورت اختیار کر لیتا ہے تو اس کے گواہوں کی شامت آ جاتی ہے ۔ یہ بے چارے ہتک ،اغوا اور نقصانِ مال و جائداد ،بلکہ قتل تک کی تعدیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔ قرآن نے اس قسم کی شرارتوں سے روکا کہ جو لوگ اس قسم کی حرکتیں کریں گے ،وہ یاد رکھیں کہ یہ کوئی چھوٹی موٹی نافرمانی نہیں ہے جو آسانی سے معاف ہو جائے گی ،بلکہ یہ ایک ایسا فسق ہے جو ان کے ساتھ چمٹ کے رہ جائے گا اور اس کے برے نتائج سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جائے گا ۔'' (تدبر قرآن ۱ /۶۴۰)

آیات کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رہن کا حکم بیان فرمایا ہے کہ آدمی سفر میں ہو او رکوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بات ، البتہ واضح کر دی گئی ہے کہ رہن کی اجازت صرف اسی وقت تک ہے ، جب تک قرض دینے والے کے لیے اطمینان کی صورت پیدا نہیں ہو جاتی ۔ اللہ کا حکم ہے کہ یہ صورت پیدا ہو جائے تو قرض پر گواہی کرا کے رہن رکھی ہوئی چیز لازماً واپس کر دینی چاہیے ۔ استاذ امام اس حکم کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''جب ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ ایک دوسرے پر اعتماد کے لیے جو باتیں مطلوب ہیں ، وہ فراہم ہو جائیں ، مثلاً سفر ختم کر کے حضر میں آ گئے ، دستاویز کی تحریر کے لیے کاتب اور گواہ مل گئے ، اپنوں کی موجودگی میں قرض معاملت کی تصدیق ہو گئی اور اس امر کے لیے کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہ گئی کہ قرض دینے والا رہن کے بغیر اعتماد نہ کر سکے تو پھر اس کو چاہیے کہ وہ رہن کردہ چیز اس کو واپس کر دے اور اپنے اطمینان کے لیے چاہے تو وہ شکل اختیار کرے جس کی اوپر ہدایت کی گئی ہے ۔ یہاں رہن کردہ مال کو امانت سے تعبیر فرمایا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرض دینے والے کے پاس رہن بطور امانت ہوتا ہے جس کی حفاظت ضروری اور جس سے کسی قسم کا انتفاع ناجائز ہے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۶۴۳)

دو مردوں اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کا جو ضابطہ ان آیات میں بیان ہوا ہے ، اس کا موقع اگرچہ متعین ہے ، لیکن ہمارے فقہا نے اسے جس طرح سمجھا ہے ، اس کی بنا پر ضروری ہے کہ یہ دو باتیں اس کے بارے میں بھی واضح کر دی جائیں :

ایک یہ کہ واقعاتی شہادت کے ساتھ اس ضابطے کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ صرف دستاویزی شہادت سے متعلق ہے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دستاویزی شہادت کے لیے گواہ کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور واقعاتی شہادت میں گواہ کاموقع پر موجود ہونا ایک اتفاقی معاملہ ہوتا ہے ۔ ہم اگر کوئی دستاویز لکھتے ہیں یا کسی معاملے میں کوئی اقرار کرتے ہیں تو ہمیں اختیار ہے کہ اس پر جسے چاہیں ، گواہ بنائیں۔ لیکن زنا ، چوری ، قتل ، ڈاکا اور اس طرح کے دوسرے جرائم میں جو شخص بھی موقع پر موجود ہوتا ہے ، وہی گواہ قرار پاتا ہے ۔ چنانچہ شہادت کی ان دونوں صورتوں کا فرق اس قدر واضح ہے کہ ان میں سے ایک کو دوسری کے لیے قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا ۔

دوسری یہ کہ آیت کے موقع و محل اور اسلوب بیان میں اس بات کی گنجایش نہیں ہے کہ اسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دیا جائے ۔ اس میں عدالت کو مخاطب کر کے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اس میں انھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے ان گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل ، ثقہ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات و مشاغل کے لحاظ سے اس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کر سکتے ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں اصلاً مردوں ہی کو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اس کے لیے سہارا بن جائے۔ اس کے یہ معنی ، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اسی وقت ثابت ہو گا ، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں ۔ یہ ایک معاشرتی ہدایت ہے جس کی پابندی اگر لوگ کریں گے تو ان کے لیے یہ نزاعات سے حفاظت کا باعث بنے گی ۔ لوگوں کو اپنی صلاح و فلاح کے لیے اس کا اہتمام بہرحال کرنا چاہیے ، لیکن مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ کوئی نصاب شہادت نہیں ہے جس کی پابندی عدالت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی تمام ہدایات کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف ہے ، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور اس سے شبہوں میں پڑنے کا امکان کم ہو جاتا ہے ۔

[۲]

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَاعَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ ، اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰہِ ، اِنِ ارْتَبْتُمْ ، لَا نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّلَوْ کَانَ ذا قُرْبیٰ وَلَا نَکْتُمُ شَھَادَۃَ اللّٰہِ اِنَّآ اِذَا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ ۔ فَاِنْ عُثِرَ عَلآی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَھُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰہِ لَشَھَادَتُنَآ اَحَقُّ مِنْ شَھَادَتِھِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَا ، اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّھَادَۃِ عَلیٰ وَجْھِھَآ اَوْ یَخَافُوْآ اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌ بَعْدَ اَیْمَانِھِمْ ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاسْمَعُوْا ، وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدہ ۵ :۱۰۶۔۱۰۸)

''ایمان والو ،جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے گواہی اس طرح ہو گی کہ تم میں سے دو ثقہ آدمی گواہ بنائے جائیں یا اگر تم سفر میں ہو اور وہاں یہ موت کی مصیبت تمھیں آ پہنچے تو تمھارے غیروں میں سے دو دوسرے یہ ذمہ داری اٹھائیں ۔ تم انھیں نماز کے بعد روک لو گے ،پھر اگرتمھیں شک ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم اس گواہی کے بدلے میں کوئی قیمت قبول نہ کریں گے ، اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ کی اس گواہی کو چھپائیں گے ۔ ہم نے ایسا کیا تو بے شک ہم گناہ گار ٹھیریں گے ۔ پھر اگر پتا چل جائے کہ یہ دونوں کسی حق تلفی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو آدمی ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی ان پہلے گواہوں نے حق تلفی کی ہے ۔ پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ۔ ہم نے ایسا کیا ہے تو بے شک ، ہم ظالم ٹھیریں ۔ اس طریقے سے زیادہ توقع ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا کم سے کم اس بات سے ڈریں کہ ان کی گواہی دوسروں کی گواہی کے بعد رد ہو جائے گی ۔ (یہ کرو) اور اللہ سے ڈرو ،اورسنو اور (یاد ر کھو کہ) اللہ نافرمانوں کوکبھی راہ یاب نہیں کرتا ۔''

ان آیات میں وصیت سے متعلق اسی اہتمام کی ہدایت کی گئی ہے جو اوپر لین دین اور قرض کے بارے میں بیان ہوا ہے ۔ ان کے احکام کا خلاصہ درجِ ذیل ہے :

۱۔ کسی شخص کی موت آ جائے اور اسے اپنے مال سے متعلق کوئی وصیت کرنی ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں میں سے دو ثقہ آدمیوں کو گواہ بنا لے ۔

۲ ۔ موت کا یہ مرحلہ اگرکسی شخص کو سفر میں پیش آئے اور گواہ بنانے کے لیے وہاں دومسلمان میسر نہ ہوں تو مجبوری کی حالت میں وہ دو غیر مسلموں کو بھی گواہ بنا سکتا ہے۔

۳۔ مسلمانوں میں سے جن دو آدمیوں کو گواہی کے لیے منتخب کیا جائے ،ان کے بارے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ کسی شخص کی جانب داری میں وہ اپنی گواہی میں کوئی ردو بدل کر دیں گے تو اس کے سدِباب کی غرض سے یہ تدبیر کی جا سکتی ہے کہ کسی نماز کے بعد انھیں مسجد میں روک لیا جائے اور ان سے اللہ کے نام پرقسم لی جائے کہ اپنے کسی دنیوی فائدے کے لیے یا کسی کی جانب داری میں ، خواہ وہ ان کا کوئی قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو ، وہ اپنی گواہی میں کوئی تبدیلی نہ کریں گے اور اگر کریں گے تو گناہ گار ٹھیریں گے۔

۴ ۔ گواہوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ گواہی 'شھادۃ اللّٰہ'یعنی اللہ کی گواہی ہے ، لہٰذا اس میں کوئی ادنیٰ خیانت بھی اگر ان سے صادر ہوئی تو وہ نہ صرف بندوں کے ، بلکہ خدا کے بھی خائن قرار پائیں گے ۔

۵ ۔ اس کے باوجود اگر یہ بات علم میں آ جائے کہ ان گواہوں نے وصیت کرنے والے کی وصیت کے خلاف کسی کے ساتھ جانب داری برتی ہے یا کسی کی حق تلفی کی ہے تو جن کی حق تلفی ہوئی ہے ، ان میں سے دو آدمی اٹھ کر قسم کھائیں کہ ہم ان اولیٰ بالشہادت گواہوں سے زیادہ سچے ہیں ۔ ہم نے اس معاملے میں حق سے کوئی تجاوز نہیں کیا اور ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو خدا کے حضور میں ہم ظالم قرار پائیں ۔

۶ ۔ گواہوں پر اس مزید احتساب کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے خیال سے ،توقع ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں گے ۔ ورنہ انھیں ڈر ہو گا کہ انھوں نے اگر کسی بدعنوانی کا ارتکاب کیا تو ان کی قسمیں دوسروں کی قسموں سے باطل قرار پائیں گی اور اولیٰ بالشہادت ہونے کے باوجود ان کی گواہی رد ہو جائے گی ۔

____________

۱؂ اس لیے کہ ریاست کے تمام ملازمین درحقیقت ' العاملین علی اخذ الضرائب وردھا الی المصارف' ہی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے جو قرآن نے اس مدعا کو ادا کرنے کے لیے اختیار کی ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ لوگ بالعموم اسے سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ،لیکن اس کی جو تالیف ہم نے بیان کی ہے ،اس کے لحاظ سے دیکھیے تو اس کا یہ مفہوم بادنیٰ تامل واضح ہو جاتا ہے ۔

۲؂ اس موضوع پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو ،استاذ امام امین احسن اصلاحی کی کتاب ''توضیحات'' میں ان کا مضمون : ''مسئلۂ تملیک''۔

۳؂ ان روایات میں جنگ کے ذکر سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو ۔ یہ محض اس لیے ہوا ہے کہ اس وقت معاملہ مشرکین عرب سے تھا ،جن کے بارے میں قرآن نے وضاحت کر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمامِ حجت کے بعد انھیں اسلام یا تلوار میں سے کسی ایک کا انتخاب بہرحال کرنا تھا۔

۴؂ یعنی مثال کے طور پر ،وہ کسی کو قتل کردیں اور اس کی پاداش میں انھیں بھی قتل کیا جائے یا ان سے دیت وصول کی جائے ۔

۵؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقربا کو چونکہ صدقات میں سے کچھ لینے کی ممانعت کر دی تھی ،اس وجہ سے قومی شعبے کے ان اموال میں ایک حصہ ان کے لیے بھی خاص کیا گیا ۔

۶؂ الانفال ۸ :۱ ۔

۷ ؂ مسلم ، رقم ۱۵۵۱ ۔

۸؂ ابو داؤد ،رقم ۳۰۵۸۔

۹؂ بخاری ، رقم ۲۳۷۰۔

۱۰؂ ابن ماجہ ، رقم ۲۵۰۲، ۲۵۰۳۔

۱۱؂ بخاری ، رقم ۳۲۶۱۔

۱۲؂ کتاب الخراج ،ابو یوسف ۲۶ ۔۲۹۔

۱۳؂ بخاری ،رقم۲۱۳۱۔

۱۴؂ بخاری ،رقم ۲۱۶۷۔

۱۵؂ بخاری ، رقم ۲۱۴۰۔

۱۶؂ بخاری ،رقم ۲۱۴۲۔

۱۷ ؂ بخاری ،رقم ۲۱۴۰۔

۱۸؂ مسلم ، رقم ۱۵۳۶ ۔

۱۹؂ مسلم ،رقم ۱۵۴۲ ۔

۲۰؂ مسلم ،رقم ۱۵۳۶ ۔

۲۱؂ مسلم ،رقم ۱۵۳۶ ۔

۲۲؂ مسلم ،رقم ۱۵۱۱ ۔

۲۳؂ بخاری ، رقم ۲۱۴۶ ۔

۲۴؂ بخاری ، رقم ۱۵۱۴۔

۲۵ ؂ مسلم ، رقم ۱۵۱۳۔

۲۶؂ مسلم ، رقم ۱۵۳۴۔

۲۷؂ مسلم ، رقم ۱۵۳۵۔

۲۸؂ ابن ماجہ ،رقم ۲۲۷۶۔

۲۹؂ بخاری، رقم ۲۱۴۸ ۔

۳۰؂ مسلم، رقم ۱۵۱۷۔

۳۱؂ بخاری ،رقم ۲۲۵۳۔

۳۲؂ مسلم ، رقم ۱۵۳۶۔

۳۳؂ بخاری ، رقم۲۳۲۷۔

۳۴ ؂ بخاری ، رقم ۲۲۵۷ ۔

۳۵؂ ترمذی ، رقم ۱۳۶۹۔

۳۶؂ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو سود کا کاروبار کرنے والوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے ان کے ساتھ یا ان کے قائم کردہ اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں ۔

۳۷؂ یہ سد ذریعہ کی نوعیت کا حکم ہے ۔آپ نے اس اندیشے سے کہ معاملہ چونکہ ادھار کا ہے اور صنف کے اختلاف کی وجہ سے اس میں کمی بیشی تو بہر حال ہو گی ،لوگوں کو اس سے منع فرمایا ہے۔

۳۸؂ اس جملے کاعطف چونکہ ' الورق بالذھب' پر ہوا ہے جس میں صنف کا اختلاف بالکل واضح ہے ،اس وجہ سے عربیت کی روسے ' البربالبر' میں پہلے 'البر' کے معنی ،ظاہر ہے کہ دوسری قسم کی گندم ہی کے ہوسکتے ہیں ۔

۳۹؂ مسلم ،رقم۱۵۹۶۔