قانون معاشرت (10)


(گزشتہ سے پیوستہ)طلاق کا طریقہ

شوہر خود طلاق دے یا بیوی کے مطالبے پر اسے علیحدہ کر دینے کا فیصلہ کرے ، دونوں ہی صورتوں میں اس کا جو طریقہ ان آیات میں بتایا گیا ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ طلاق عدت کے لحاظ سے دی جائے گی ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے ۔یہ جب دی جائے گی ، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی ۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی ۔ یہ مدت چونکہ اصلاً مقرر ہی اس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے ، اس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے ۔ ہر مسلمان کو اس معاملے میں اس غصے کے باوجود جو اس طرح کے موقعوں پر بیوی کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے ، اللہ ، اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبد اللہ کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا :

مرہ فلیراجعھا، ثم یمسکھا حتی تطھر، ثم تحیض ثم تطھر، ثم إن شاء امسک بعد ، وإن شاء طلق قبل ان یمس، فتلک العدۃ التی امر اللّٰہ ان تطلق لھا النساء ۔ (بخاری ، رقم ۵۲۵۱)

''اس کو حکم دو کہ رجوع کرے ، پھر اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو۔۲۹؂ اس کے بعد چاہے تو روک لے اور چاہے تو ملاقات سے پہلے طلاق دے دے ۔ اس لیے کہ یہی اس عدت کی ابتدا ہے جس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائی ہے۔''

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ عدت کا شمار پوری احتیاط کے ساتھ کیا جائے ۔ طلاق کا معاملہ چونکہ نہایت نازک ہے ، ا س سے عورت اور مرد اور ان کی اولاد اور ان کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ جب طلاق دی جائے تو اس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ طلاق کے وقت عورت کی حالت کیا تھی ، عدت کی ابتدا کس وقت ہوئی ہے ، یہ کب تک باقی رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی ۔ معاملہ گھر میں رہے یا خدانخواستہ کسی مقدمے کی صورت میں عدالت تک پہنچے، دونوں صورتوں میں اسی سے متعین کیا جائے گا کہ شوہر کو رجو ع کا حق کب تک ہے، اسے عورت کو گھر میں کب تک رکھنا ہے ، نفقہ کب تک دینا ہے ، وراثت کا فیصلہ کس وقت کے لحاظ سے کیا جائے گا ،عورت اس سے کب جدا ہو گی اور کب اسے دوسرا نکاح کر لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔

۲۔ عدت کے پورا ہونے تک شوہر کو رجوع کا حق ہے ۔ 'فاذا ابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف' (پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے تک پہنچ جائیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھویا بھلے طریقے سے الگ کردو) کے الفاظ میں یہ بات قرآن نے ان آیات میں واضح کر دی ہے ۔ پھر سورۂ بقرہ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کی طرح رجوع کا یہ حق بھی شوہر کو اس لیے دیا گیا ہے کہ خاندان کے نظم کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیوی کے مقابلے میں اس کے لیے ایک درجہ ترجیح کا رکھا ہے ۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حقوق صرف شوہروں کے ہیں ، بیویوں کا کوئی حق نہیں ہے ۔ لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ عورتوں پر جس طرح ان کے شوہروں سے متعلق حقوق ہیں ، اسی طرح ان کے بھی حقوق ہیں ۔ بنی آدم کے لیے یہ حقوق کوئی اجنبی چیز نہیں ہیں ۔ وہ ان سے ہمیشہ واقف رہے ہیں ۔ لہٰذاشوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے مطالبے کے ساتھ دستور کے مطابق بیوی کے حقوق کا بھی لحاظ کریں :

وَبُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ، اِنْ اَرَادُوْ ٓاِصْلَاحاً، وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔(۲: ۲۲۸)

''اور اُن کے شوہر اگر معاملات کی اصلاح چاہیں تو اس عدت کے دوران میں انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حق دار ہیں ، اور ان عورتوں پر دستور کے مطابق جیسے حقوق ہیں ، اسی طرح اُن کے بھی حقوق ہیں ۔ (شوہر کی حیثیت سے) البتہ، مردوں کے لیے اُن پر ایک درجہ ترجیح کا ہے۔ (یہ اللہ کا حکم ہے ) اور اللہ عزیزو حکیم ہے۔ ''

اس طرح کے معاملات چونکہ جذبات پر مبنی اقدامات اور افراط و تفریط کے رویوں کا باعث بن سکتے اور لوگ اس میں چنددر چند غلطیوں کا ارتکاب کر سکتے ہیں ، اس لیے آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات عزیزوحکیم کا حوالہ دیا ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی ان کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''خدا عزیز ہے ، اس وجہ سے اسی کو حق ہے کہ وہ حکم دے اور وہ حکیم ہے ، اس وجہ سے جو حکم بھی اس نے دیا ہے ، وہ سراسر حکمت پر مبنی ہے۔ بندوں کا کام یہ ہے کہ ا س کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کریں۔ اگر وہ اس کے احکام کی مخالفت کریں گے تو اس کی غیرت و عزت کو چیلنج کریں گے اور اس کے عذاب کو دعوت دیں گے ، اور اگر خدا سے زیادہ حکیم اور مصلحت شناس ہونے کے خبط میں مبتلا ہوں گے تو خود اپنے ہاتھوں اپنے قانون اور نظام سب کا تیا پانچا کر کے رکھ دیں گے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۳۳)

۳۔ شوہر رجوع نہ کرے تو عدت کے پورا ہو جانے پر میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ہدایت فرمائی ہے کہ یہ خاتمے کو پہنچ رہی ہو تو شوہر کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اسے بیوی کو روکنا ہے یا رخصت کردینا ہے ۔ دونوں ہی صورتوں میں اللہ کا حکم ہے کہ معاملہ معروف کے مطابق ، یعنی بھلے طریقے سے کیا جائے ۔ فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فیصلے کریں گے ، انھیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ ان کے لیے اس سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا ۔

سورۂ بقرہ میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ روکنامقصود ہو تو یہ ہرگز ہرگز دست ستم دراز کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے ۔ اس سورہ کی جو آیت اوپر نقل ہوئی ہے ، اس میں 'ان ارادوا اصلاحاً ' کی شرط اسی لیے عائد کی گئی ہے کہ رجوع اس ارادے سے نہ ہو کہ بیوی کو اپنی خواہش کے مطابق اذیت دی جا سکے ، بلکہ محبت اور سازگاری کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ہو، ورنہ یہ محض ظلم ہو گا جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی کا باعث بن جائے گا ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ، وَّلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا، وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ، وَلَا تَتَّخِذُوْ ٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُواً ، وَّاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ، یَعِظُکُمْ بِہٖ ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۔(البقرہ ۲ : ۲۳۱)

''اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کے خاتمے پر پہنچ جائیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ اور انھیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ ان پر زیادتی کرو۔ اور (جان لو کہ)جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا ۔ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ اور اپنے اوپر اللہ کی عنایت کو یاد رکھواور ا س قانون اور حکمت کو یاد رکھو جو اس نے اتاری ہے ، جس کی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ، اور خوب جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ ''

استاذ امام اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''مثبت پہلو سے بات اوپر کہہ چکنے کے بعد منفی پہلو سے بھی اس کی وضاحت ا س لیے کر دی گئی کہ ظالم لوگ طلاق اور طلاق کے بعد مراجعت کے شوہری حق کو اس ظلم کے لیے استعمال کر سکتے تھے ، حالانکہ یہ صریح اعتدا ، یعنی اللہ کے حدود سے تجاوز اور اس کی شریعت کو مذاق بنانا ہے ۔ فرمایا کہ جو ایسی جسارت کرتے ہیں ، بظاہر تو وہ ایک عورت کو نشانۂ ظلم بناتے ہیں ، لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ظلم اپنی جان پر کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ کے حدود کو پھاندنے اور اس کی شریعت کو مذاق بنانے کی سزا بڑی ہی سخت ہے ۔

آخر میں فرمایا کہ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمھیں ایک برگزیدہ امت کے منصب پر سرفراز فرمایا ، تمھاری ہدایت کے لیے تمھارے اندر اپنا نبی بھیجا، تمھیں خیر و شر اور نیک و بد سے آگاہ کرنے کے لیے تمھارے اوپر اپنی کتاب اتاری جو قانون اور حکمت ، دونوں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد اگر تم نے ان کا یہی حق ادا کیا کہ خدا کے حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو سوچ لو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ وہ تمھاری ہر بات سے باخبر ہے ، یعنی وہ لوگوں کی شرارتوں کے باوجود ان کو ڈھیل تو دیتا ہے ، لیکن جب وہ پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی چھوٹ نہ سکے گا۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۳۹)

اسی طرح رخصت کر دینے کا فیصلہ ہو تو 'تسریح باحسان' کا حکم دیا ہے : 'فامساک بمعروف او تسریح باحسان' ۳۰؂ یعنی بیوی کو اچھے طریقے سے رخصت کیا جائے ۔ اس باب میں جو ہدایات خود قرآن میں دی گئی ہیں ، وہ یہ ہیں :

اولاً ، بیوی کو کوئی مال ، جائداد ، زیورات اور ملبوسات وغیرہ ، خواہ کتنی ہی مالیت کے ہوں ، اگر تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں تو ان کا واپس لینا جائز نہیں ہے ۔ نان نفقہ اور مہر تو عورت کا حق ہے ، ان کے واپس لینے یا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ جو چیزیں دی گئی ہوں ، ان کے بارے میں بھی قرآن کا حکم ہے کہ وہ ہرگز واپس نہیں لی جا سکتیں ۔

اس سے دو صورتیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں :

ایک یہ کہ میاں بیوی میں حدودالہٰی کے مطابق نباہ ممکن نہ رہے ، معاشرے کے ارباب حل و عقد بھی یہی محسوس کریں ، لیکن میاں صرف اس لیے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو کہ اس کے دیے ہوئے اموال بھی ساتھ ہی جائیں گے تو بیوی یہ اموال یا ان کا کچھ حصہ واپس کر کے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے ۔ اس طرح کی صورت حال اگر کبھی پیدا ہو جائے تو شوہر کے لیے اسے لینا ممنوع نہیں ہے ۔

دوسری یہ کہ بیوی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرے ۔ اس سے میاں بیوی کے رشتے کی بنیاد ہی چونکہ منہدم ہو جاتی ہے ، لہٰذا شوہر کے لیے جائز ہے کہ اس صورت میں وہ اپنا دیا ہوا مال اس سے واپس لے لے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَلَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْأً ، اِلَّآاَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ، تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا، وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ ، فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۹)

''اور تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے ، اس میں سے کچھ بھی (اس موقع پر) واپس لو۔یہ صورت ، البتہ مستثنیٰ ہے کہ دونوں کو حدودالہٰی پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ پھر اگر تمھیں بھی اندیشہ ہو کہ وہ حدود الہٰی پر قائم نہیں رہ سکتے تو (شوہر کی دی ہوئی) ان چیزوں کے معاملے میں ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیے میں دے کر طلاق حاصل کر لے ۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں ۔ سو ان سے آگے نہ بڑھو ۔ اور (جان لو کہ) جو اللہ کے حدود سے آگے بڑھتے ہیں ، وہی ظالم ہیں ۔ ''

وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآاَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ... وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَاراً فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْءًا۔ اَتَاْ خُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ، وَ کَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ ، وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا ۔(النساء ۴ : ۱۹۔۲۱)

''اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ انھیں دے چکے ہو، اُس کا کچھ حصہ اڑا لینے کے لیے انھیں تنگ کرو، ہاں اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بدچلنی کی مرتکب ہوں... اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو تو خواہ تم نے اسے ڈھیروں مال دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم بہتان لگا کر اور صریح حق تلفی کر کے اسے واپس لوگے ؟ اور آخر کس طرح لو گے ، جبکہ تم ایک دوسرے کے لیے بے حجاب ہو چکے ہو اور (نکاح کے موقع پر)وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔''

اس دوسری صورت کے لیے تنبیہ فرما دی ہے کہ کوئی شخص بیوی پر بہتان لگا کر اس سے دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے جواز پیدا کرنے کی جسارت نہ کرے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا پیمان وفا باندھا ، جو ایک نہایت مضبوط میثاق کے تحت اس کے حبا لۂ عقد میں آئی ، جس نے اپنا سب ظاہر و باطن اس کے لیے بے نقاب کر دیا اور دونوں نے ایک مدت تک یک جان ودو قالب ہو کر زندگی گزاری ، اس سے جب جدائی کی نوبت آئے تو اپنا کھلایا پہنایا اس سے اگلوانے کی کوشش کی جائے ، یہاں تک کہ اس ذلیل غرض کے لیے اس کو بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بھی بنایا جائے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۱)

ثانیاً، عورت کو ہاتھ لگانے یا اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دی جائے تو مہر کے معاملے میں شوہر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ، لیکن مہر مقرر ہو اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی نوبت پہنچ جائے تو مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا ہو گا ، الاّ یہ کہ عورت اپنی مرضی سے پورا چھوڑ دے یا مرد پورا ادا کر دے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

لَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ ، اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِیْضَۃً ... وَّاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ، وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً، فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ ، اِلَّآاَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ، وَاَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ، وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ ( البقرہ ۲ : ۲۳۶۔ ۲۳۷)

''اور اگر تم عورتوں کو طلاق دو، اس سے پہلے کہ تم نے انھیں ہاتھ لگایا ہو یا ان کا مہر مقرر کیا ہو تو (مہر کے معاملے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں ہے ...اور اگر تم نے طلاق تو انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے دی ، مگر مہر مقرر کر چکے ہو تو مقررہ مہر کا نصف انھیں دینا ہوگا ، الاّیہ کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں یا وہ چھوڑ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔ اور یہ کہ تم مرد اپنا حق چھوڑ دو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے ۔ اور اپنے درمیان کی فضیلت نہ بھولو۔ بے شک ، اللہ دیکھ رہا ہے اس کو جو تم کر رہے ہو۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے ان آیات کی تفسیر میں لکھا ہے :

''اگرچہ ایک محرک عورت کے لیے بھی مہر چھوڑنے کا موجود ہے کہ شوہر نے ملاقات سے پہلے ہی طلاق دی ہے ، لیکن قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کاتقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہش مند نہ ہو ، بلکہ اس میدان ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلووں سے ابھارا ہے : ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ نکاح کی گرہ کو جس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے ، اسی طرح اس کو کھولنے کا بھی مجاز ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی جو تقویٰ کے اعلیٰ ترین اوصاف میں سے ہے ، وہ جنس ضعیف کے مقابل میں جنس قوی کے شایان شان زیادہ ہے ۔ تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشا ہے اور جس کے سبب سے اس کو عورت کا قوام اور سربراہ بنایا ہے ، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہیے ۔ اس فضیلت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت سے لینے والا نہیں ، بلکہ اس کو دینے والا بنے ۔ ''(تدبر قرآن ۱/ ۵۴۸)

ثالثاً، عورت کو کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کیا جائے ۔ قرآن نے اسے اللہ سے ڈرنے والوں اور احسان کا رویہ اختیار کرنے والوں پر ایک حق قرار دیا ہے ۔ طلاق اگر عورت کو ہاتھ لگائے بغیر بھی دی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ حق ادا ہونا چاہیے :

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ، حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ۔ (البقرہ ۲ : ۲۴۱)

''اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق زندگی کا کچھ سامان دے کر رخصت کرنا ہے ۔ یہ حق ہے اُن پر جو خدا سے ڈرنے والے ہوں ۔ ''

سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۹ میں یہی بات 'فمتعوھن و سرحوھن سراحاً جمیلاً ' (لیکن انھیں کچھ سامان دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ بقرہ میں ان عورتوں کے متعلق بھی اسی کا حکم دیا ہے جن سے خلوت نہ ہوئی ہو یا جنھیں مہر مقرر کیے بغیر طلاق دے دی جائے ۔ قرآن کی ہدایت ہے کہ اس کی مقدار آدمی کو سوسائٹی کے دستور اور اپنے معاشی حالات کی رعایت سے متعین کرنی چاہیے :

وَّمَتِّعُوْہُنَّ ، عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ، حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (۲ : ۲۳۶)

''اور انھیں دستور کے مطابق کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کرو، اچھی حالت والے اپنی حالت کے مطابق اور غریب اپنی حالت کے مطابق ۔ یہ حق ہے ان پر جو احسان کا رویہ اختیار کرنے والے ہوں ۔ ''

اس سے واضح ہے کہ یہ ایک حق واجب ہے ۔ اگر کوئی شخص اسے ادا نہیں کرتا تو تقویٰ اور احسان کی صفات پر مبنی ہونے کی وجہ سے قانون چاہے اس پر گرفت نہ کر سکے ، لیکن اللہ کے ہاں وہ اس پر یقیناًماخوذ ہو گا اور آخرت میں اس کے ایمان و احسان کا وزن اس کے لحاظ سے متعین کیا جائے گا ۔

۴۔ عدت کے دوران میں شوہر رجوع کر لے تو عورت بدستور اس کی بیوی رہے گی ، لیکن اس کے معنی کیا یہ ہیں کہ شوہر اسی طرح جب چاہے بار بار طلاق دے کر عدت میں رجوع کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے کہ طلاق اور طلاق کے بعد رجوع کا یہ حق ہر شخص کو ایک رشتۂ نکاح میں دو مرتبہ حاصل ہے : الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان' ۳۱؂ (اس طلاق کا حق دو مرتبہ ہے ، پھر بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا خوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے)۔ یعنی آدمی طلاق دے کر رجوع کر لے تو عورت کے ساتھ اس کی پوری ازدواجی زندگی میں اس کو ایک مرتبہ پھر اسی طرح طلاق دے کر عدت کے دوران میں رجوع کر لینے کا حق حاصل ہے ، لیکن اس کے بعد یہ حق باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ایک رشتۂ نکاح میں دو مرتبہ رجوع کے بعد تیسری مرتبہ پھر علیحدگی کی نوبت آ گئی اور شوہر نے طلاق دے دی تو اس کے نتیجے میں عورت ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو جائے گی ، الاّ یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہو اور وہ بھی اسے طلاق دے دے :

فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ، فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ، اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ، وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُھَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ۔(البقرہ ۲ : ۲۳۰)

''پھر اگر اُس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے جائز نہ ہوگی ، جب تک اس کے سوا کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ۔ پھر اگر اس نے بھی طلاق دے دی تو ان دونوں کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضایقہ نہیں ، اگر یہ توقع رکھتے ہوں کہ اب وہ حدود الہٰی پر قائم رہ سکیں گے ۔ اور یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں جنھیں وہ ان لوگوں کے لیے واضح کر رہا ہے جو جاننا چاہتے ہیں۔''

پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کے لیے قرآن نے اس آیت میں تین شرطیں بیان فرمائی ہیں :

ایک یہ کہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرے ۔

دوسری یہ کہ اس سے بھی نباہ نہ ہو سکے اور وہ اسے طلاق دے دے ۔

تیسری یہ کہ وہ دونوں سمجھیں کہ دوبارہ نکاح کے بعد اب وہ حدود الہٰی پر قائم رہ سکیں گے ۔

پہلی اور دوسری شرط میں نکاح سے مراد عقد نکاح اور طلاق سے مراد وہی طلاق ہے جو آدمی نباہ نہ ہونے کی صورت میں علیحدگی کا فیصلہ کر لینے کے بعد اپنی بیوی کو دیتا ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''اصل یہ ہے کہ لفظ نکاح شریعت اسلامی کی ایک معروف اصطلاح ہے جس کا اطلاق ایک عورت اور مرد کے اس ازدواجی معاہدے پر ہوتا ہے جو زندگی بھر کے نباہ کے ارادے کے ساتھ زن و شو کی زندگی گزارنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ اگر یہ ارادہ کسی نکاح کے اندر نہیں پایا جاتا تو وہ فی الحقیقت نکاح ہی نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک سازش ہے جو ایک عورت اور ایک مرد نے باہم مل کر کر لی ہے ۔ نکاح کے ساتھ شریعت نے طلاق کی جو گنجایش رکھی ہے تو وہ اصل اسکیم کا کوئی جزو نہیں ہے ، بلکہ یہ کسی ناگہانی افتاد کے پیش آ جانے کا ایک مجبورانہ مداوا ہے ۔ اس وجہ سے نکاح کی اصل فطرت یہی ہے کہ وہ زندگی بھر کے سنجوگ کے ارادے کے ساتھ عمل میں آئے ۔ اگر کوئی نکاح واضح طور پر محض ایک معین و مخصوص مدت تک ہی کے لیے ہو تو اس کو متعہ کہتے ہیں او رمتعہ اسلام میں قطعی حرام ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس نیت سے کسی عورت سے نکاح کرے کہ اس نکاح کے بعد طلاق دے کر وہ اس عورت کو اس کے پہلے شوہر کے لیے جائز ہونے کا حیلہ فراہم کرے تو شریعت کی اصطلاح میں یہ حلالہ ہے اور یہ بھی اسلام میں متعہ ہی کی طرح حرام ہے ۔ جو شخص کسی کی مقصد بر آری کے لیے یہ ذلیل کام کرتا ہے ، وہ درحقیقت ایک قرم ساق یا بھڑوے یا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے 'کرایے کے سانڈ' کا رول ادا کرتا ہے اور ایسا کرنے والے اور ایسا کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہے ۔ '' ۳۲؂ (تدبر قرآن ۱/۵۳۷)

تیسری شرط اس لیے عائد کی گئی ہے کہ نکاح و طلاق کو لوگ بچوں کا کھیل نہ سمجھیں اور متنبہ رہیں کہ کسی عورت کو طلاق دینی ہے تو خدا سے ڈرتے ہوئے اور نباہ کی کوئی صورت نہ پا کر دی جائے ، اور اس سے نکاح کرنا ہے تو یہ لازماً دل کے سچے ارادے اور سازگاری کی مخلصانہ خواہش کے ساتھ کیا جائے ۔ اس سے مختلف کوئی رویہ اختیار کرنا کسی بندۂ مومن کے لیے اس معاملے میں جائز نہیں ہے ۔

ہمارے فقہا ان شرائط پر یہ اضافہ کرتے ہیں کہ دوسرے شوہر سے طلاق لازماً مباشرت کے بعد ہونی چاہیے ، اس کے بغیر وہ عورت کو پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں سمجھتے ۔ اس رائے کے حق میں جو دلائل ان کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ اہم یہ تین ہیں :

اول یہ کہ آیت میں فعل 'تنکح'استعمال ہوا ہے ۔ اس میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے ، لیکن نکاح چونکہ عورت نہیں ، بلکہ مرد کرتا ہے ، اس لیے 'تنکح' لازماً یہاں مباشرت کے معنی میں ہو گا ۔

دوم یہ کہ 'تنکح' کے بعد 'زوجاً غیرہ'کے الفاظ آئے ہیں ۔ ان میں 'زوجاً' کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ نکاح تو ہو چکا، اس لیے ضروری ہے کہ 'تنکح' کو اب مباشرت کرنے ہی کے معنی میں لیا جائے ۔

سوم یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے ایک عورت کو پہلے شوہر کی طرف مراجعت سے یہ کہہ کر روک دیا کہ دوسرے شوہر سے مباشرت کے بغیر وہ اس کے لیے جائز نہیں ہو سکتی ۔

پہلی اور دوسری دلیل کا نہایت واضح جواب خود قرآن نے دے دیا ہے ۔ آیۂ زیر بحث کے صرف ایک آیت بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ ۔(البقرہ ۲ : ۲۳۲)

''اور جب تم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی اور وہ اپنی عدت کو بھی پہنچ گئیں تو اب اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کر لیں ۔ ''

اس میں دیکھ لیجیے ، نکاح کی نسبت بھی عورتوں کی طرف ہے اور اس کے بعد 'ازواجھن' بھی بالکل 'زوجاً غیرہ' کے طریقے پر آیا ہے ، لیکن صاف واضح ہے کہ 'ان ینکحن' کے معنی یہاں عقد نکاح ہی کے ہیں ۔ اسے مباشرت کے معنی میں کسی طرح نہیں لیا جا سکتا ۔

پھر یہ بات بھی نہایت عجیب ہے کہ نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف نہیں ہو سکتی ۔ اس پر یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ نکاح کی نسبت اگر ان کی طرف نہیں ہو سکتی تو فعل مباشرت کی نسبت کیا ہو سکتی ہے ؟ اس طریقے سے دیکھا جائے تو یہ بھی عورت نہیں ، بلکہ مرد ہی کرتا ہے ۔

رہی تیسری دلیل تو یہ درحقیقت ایک روایت کا مدعا نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ امام بخاری نے اسے جس طرح نقل کیا ہے ، اسے دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عورت نے نکاح کیا ہی اس مقصد سے تھا کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ چنانچہ طلاق لینے کے لیے اس نے جب غلط بیانی کر کے دوسرے شوہر کو زن و شو کا تعلق قائم کرنے سے قاصر قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سرزنش کے لیے اسے یہ کہہ کر پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا کہ اب تم اس دوسرے شوہر سے لذت اندوز ہونے کے بعد ہی اس کے پاس جا سکتی ہو ۔ یہ بیان شرط نہیں ، بلکہ تعلیق بالمحال کا اسلوب ہے ۔ لہٰذا یہ روایت اگر کسی چیز کا ثبوت ہے تو حلالہ کی ممانعت کا ثبوت ہے ، اس میں فقہا کے موقف کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔

روایت یہ ہے :

''عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبد الرحمن بن زبیر قرظی نے نکاح کر لیا ۔ سیدہ عائشہ بتاتی ہیں کہ وہ سبز دوپٹا اوڑھے ہوئے ان کے پاس آئی اور ان سے شوہر کی شکایت کی اور اپنے جسم کے نیل دکھائے ۔ عورتیں ایک دوسری کی مدد کرتی ہی ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ نے عرض کیا : میں نے مسلمان عورتوں کے سوا کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہیں دیکھا ۔ اس کی جلد تو اس کے دوپٹے سے بھی زیادہ سبز ہو رہی ہے ۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ اس کے شوہر کو جب معلوم ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لے کر گئی ہے تو وہ بھی دوسری بیوی سے اپنے دو بیٹوں کو ساتھ لے کر حاضر ہو گیا ۔ شوہر کو دیکھ کر اس نے دوپٹے کا سرا ہاتھ میں پکڑ کر لٹکایا اور کہا : مجھے اس سے یہی شکایت ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے ، وہ میرے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اس پر عبد الرحمن نے عرض کیا : خدا کی قسم ، یا رسول اللہ ، میں تو اس کے ساتھ وہی کرتا ہوں جو دباغت دینے والا چمڑے کے ساتھ کرتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ نافرمان ہے اور رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا : یہ بات ہے تو تم رفاعہ کے لیے ہرگز حلال نہیں ہو ، جب تک عبد الرحمن تم سے لذت اندوز نہ ہولے ۔ پھر آپ نے عبد الرحمن کے بیٹوں کو دیکھ کر پوچھا : یہ تمھارے بیٹے ہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : تم اس طرح کے جھوٹ بولتی ہو ۔ بخدا، یہ تو عبدالرحمن کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں ، جتنا کوئی کوا دوسرے سے ملتا ہوا ہوتا ہے ۔ '' (بخاری ، رقم ۵۸۲۵)

۵۔ شوہر طلاق دے یا رجوع کرے ، دونوں ہی صورتوں میں فرمایا ہے کہ اپنے اس فیصلے پر وہ دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لے اور گواہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے لیے اپنی اس گواہی پر قائم رہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی واقعے کا انکار نہ کرے اور اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو اس کا فیصلہ آسانی کے ساتھ ہو جائے ۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور لوگوں کے لیے ہر چیز بالکل واضح اور متعین رہے ۔

یہ طلاق کا صحیح طریقہ ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کے مطابق اپنی بیوی کو علیحدہ کرتایا علیحدگی کا فیصلہ کر لینے کے بعد اس کی طرف مراجعت کرتا ہے تو اس کے یہ فیصلے شرعاً نافذ ہو جائیں گے ، لیکن کسی پہلو سے اس کی خلاف ورزی کر کے اگر طلاق دی جاتی ہے تو یہ پھر ایک قضیہ ہے جس کا فیصلہ عدالت کرے گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کے جو مقدمات پیش ہوئے ، ان میں دو نہایت اہم ہیں ۔

پہلا مقدمہ عبد اللہ بن عمر کا ہے ۔ انھوں نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ اسے سن کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا : اسے حکم دو کہ رجوع کرے، پھر اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو ، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو ۔ اس کے بعد چاہے تو روک لے اور چاہے تو ملاقات سے پہلے طلاق دے دے ۔ اس لیے کہ یہی اس عدت کی ابتدا ہے جس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ ۳۳ ؂

دوسرامقدمہ رکانہ بن عبد یزید کا ہے ۔ روایتوں کو جمع کرنے سے واقعے کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں ۔ پھر نادم ہوئے اور اپنا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔آپ نے پوچھا : طلاق کس طرح دی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : ایک ہی وقت میں بیوی کو تین طلاق دے بیٹھا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے عرض کیا کہ ارادہ تو ایک ہی طلاق دینے کا تھا۔ آپ نے قسم دے کر پوچھا اور انھوں نے قسم کھا لی تو آپ نے فرمایا : یہ بات ہے تو رجوع کر لو ۔ یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے ۔ انھوں نے عرض کیا : لیکن میں نے تو ، یا رسول اللہ ، تین طلاق کہا تھا۔ آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں ، تم رجوع کر لو ، یہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لحاظ سے طلاق دو۔ ۳۴؂

ان دونوں مقدمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ جن اساسات پر مبنی ہے ، وہ یہ ہیں :

قانون کی خلاف ورزی ہو جائے اور ا س کی تلافی ممکن ہو تو قانون کے احترام کا تقاضا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو تلافی کا حکم دیا جائے ۔

قائل کو اپنے منشا کی وضاحت کا حق ہے ۔ وہ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں بات مجھ سے بلا ارادہ یا ارادہ واختیار کے کسی وجہ سے سلب ہو جانے کے باعث صادر ہوئی ہے تو اس کی یہ وضاحت تسلیم کی جا سکتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی اسی اصل سے متعلق ہے کہ ' لا طلاق و لاعتاق فی غلاق' ۳۵؂ ( غصے سے مغلوب ہو کر دی گئی طلاق موثر ہوتی ہے ، نہ غلام کی آزادی کا فیصلہ ) ۔

تین طلاق کے الفاظ بیان عدد کے لیے بھی بولے جا سکتے ہیں اور فیصلے کی سختی ، اتمام اور قطعیت ظاہر کرنے کے لیے بھی ۔ یہ دونوں احتمالات چونکہ زبان و بیان کی رو سے بالکل یکساں ہیں ، اس لیے قائل کی وضاحت اس معاملے میں بھی قابل قبول ہونی چاہیے ۔

تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ قرائن اس کے خلاف بھی ہوں تو اس طرح کی وضاحت ماننا ضروری ہے ۔ عدالت کو یہ حق یقیناًحاصل ہے کہ وہ اگر مطمئن نہیں ہو سکی تو اسے ماننے سے انکار کر دے ۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں معلوم ہے کہ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ لوگ پہلے کی طرح محتاط نہیں رہے تو اعلان کر دیا کہ اب کسی کا بیان بھی اس معاملے میں تسلیم نہ ہو گا اور تین طلاق کو تین طلاق ہی مان کر نافذ کر دیا جائے گا ۔ ۳۶ ؂

[باقی]

_______

۲۹؂ یہ دوسری مرتبہ حیض سے پاک ہو جانے تک طلاق نہ دینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ حمل کے بارے میں ، جس حد تک ممکن ہو ، پورا اطمینان ہو جائے ۔

۳۰؂ البقرہ ۲ : ۲۲۹۔

۳۱؂ البقرہ ۲ : ۲۲۹۔

۳۲ ؂ ابن ماجہ ، رقم ۱۹۳۶۔

۳۳؂ بخاری ، رقم ۵۲۵۱۔ ابوداؤد ، رقم ۲۱۸۲۔

۳۴؂ ابو داؤد ، رقم ۲۱۹۶، ۲۲۰۶۔ ابن ماجہ ، رقم ۲۰۵۱۔ ترمذی ، رقم ۱۱۷۷۔ احمد بن حنبل ، رقم ۲۳۸۳۔

۳۵؂ ابوداؤد، رقم ۲۱۹۳۔

۳۶؂ مسلم ، رقم ۲۶۸۹۔

____________