قانون معاشرت (11)


(گزشتہ سے پیوستہ)طلاق کی عدت

سورۂ طلاق کی ان آیتوں میں جس عدت کے لحاظ سے طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے ، قرآن نے دوسری جگہ وضاحت فرمائی ہے کہ وہ تین حیض ہے :

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۸)

''اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں ۔ ''

اس آیت میں 'قروء ' ' قرء ' کی جمع ہے ۔ یہ لفظ جس طرح حیض کے معنی میں آتا ہے ، اسی طرح طہر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ''تدبر قرآن '' میں اس کی تحقیق یہ بیان فرمائی ہے:

''اس کے اصل مادہ اور اس کے مشتقات پر ہم نے جس قدر غور کیا ہے ، اس سے ہمارا رجحان اسی بات کی طرف ہے کہ اس کے اصل معنی تو حیض ہی کے ہیں ، لیکن چونکہ ہر حیض کے ساتھ طہر بھی لازماً لگا ہوا ہے ، اس وجہ سے عام بول چال میں اس سے طہر کو بھی تعبیر کر دیتے ہیں ، جس طرح رات کے لفظ سے اس کے ساتھ لگے ہوئے دن کو یا دن کے لفظ سے اس کے ساتھ لگی ہوئی رات کو ۔ اس قسم کے استعمال کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں ۔ '' (۱/ ۵۳۲)

ہم نے اسے حیض کے معنی میں لیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اصل مسئلہ ہی یہ متعین کرنے کا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں ، اور اس کا فیصلہ حیض سے ہوتا ہے ، نہ کہ طہر سے ۔ پھراس کے لیے توقف کی مدت مقرر کی گئی ہے اور یہ بھی حیض سے بالکل متعین ہو جاتی ہے ، اس لیے کہ اس کی ابتدا کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔

عام حالات میں عدت یہی ہے، لیکن عورت حیض سے مایوس ہو چکی ہو یا حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود اسے حیض نہ آیا ہو ۳۷ ؂ تو سورۂ طلاق کی ان آیتوں میں قرآن نے بتایا ہے کہ پھر یہ تین مہینے ہو گی ۔ اسی طرح یہ بھی بتا دیا ہے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ حیض سے مایوس عورتوں کے ساتھ ان آیتوں میں ' ان ارتبتم' کی شرط بھی لگی ہوئی ہے ۔ استاذ امام اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ 'ان ارتبتم' کی شرط یہاں آئسہ مدخولہ اور آئسہ غیر مدخولہ کے درمیان امتیاز کے لیے آئی ہے ۔ یعنی آئسہ اگر مدخولہ ہے تو آئسہ ہونے کے باوجود اس کا امکان ہے کہ شاید یاس کی حالت عارضی ہو، پھر امید کی مشکل پیدا ہو گئی ہو اور اس کے رحم میں کچھ ہو ۔ یہی صورت اس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے ، لیکن وہ مدخولہ ہے ... ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر یہی بات کہنی تھی تو صاف صاف یوں کیوں نہ کہہ دی کہ اگر آئسہ مدخولہ ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بات یوں کہی جاتی تو اس سے عدت کی اصل علت واضح نہ ہوتی ، جبکہ اس کا واضح ہونا ضروری تھا۔ اس عدت کی اصل علت عورت کا مجرد مدخولہ ہونا نہیں ، بلکہ یہ اشتباہ ہے کہ ممکن ہے کہ اس کے رحم میں کچھ ہو ۔ '' (تدبر قرآن ۸/ ۴۴۲)

اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اگر غیر مدخولہ ہو تو اس کے متعلق چونکہ حمل کا سوال پیدا نہیں ہوتا ، اس لیے اس کی کوئی عدت بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت فرما دی ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَانَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ، فَمَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا۔ (۳۳: ۴۹)

''ایمان والو، تم جب مسلمان عورتوں سے نکاح کرو، پھر اُن کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو اُن پر تمھارے لیے کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے تم پورا ہونے کا تقاضا کرو گے ۔ ''

زمانۂ عدت کے جو احکام سورۂ طلاق کی زیر بحث آیات میں بیان ہوئے ہیں ، وہ یہ ہیں:

اولاً، ہدایت کی گئی ہے کہ اس دوران میں نہ بیوی کو اپنا گھر چھوڑنا چاہیے او رنہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کے گھر سے اسے نکال دے۔ اس طرح اکٹھا رہنے کے نتیجے میں توقع ہے کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہوجائے ، دونوں اپنے رویے کا جائزہ لیں اور ان کا اجڑتا ہوا گھر ایک مرتبہ پھر آباد ہو جائے ۔ ' لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امراً' (شاید، اللہ اس کے بعد کوئی دوسری صورت پیدا کردے) کے الفاظ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے ساتھ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو شخص ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا ، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا ، بلکہ اپنے ہی مصالح برباد کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حدود اپنے کسی فائدے کے لیے قائم نہیں کیے ۔ یہ بندوں کی بہبود کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔ لہٰذا انھیں کوئی شخص اگر توڑتا ہے تو وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھاتا ہے۔

اس سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ مرد نے عورت کو طلاق ہی کسی ' فاحشۃ مبینۃ' کے ارتکاب پر دی ہو ۔ عربی زبان میں یہ تعبیر زنا اور اس کے لوازم و مقدمات کے لیے معروف ہے ۔ اس صورت میں ، ظاہر ہے کہ نہ شوہر سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو گھر میں رہنے دے ، اور نہ اس سے وہ فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے لیے یہ ہدایت کی گئی ہے۔

ثانیاً، فرمایا ہے کہ عدت کے دوران میں وہ عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کی جگہ اور نان و نفقہ فراہم کرے گا۔ طلاق دے دینے کے بعد مرد اس معاملے میں بہت کچھ خست کا رویہ اختیار کر سکتا ہے ۔ چنانچہ تاکید کی گئی ہے کہ عورت کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اس کی خودداری مجروح ہو ، بلکہ تمام معاملات شوہر کی آمدنی کے لحاظ سے اور ا س کے معیار زندگی کے مطابق ہونے چاہییں ۔ مزید فرمایا ہے کہ اس عرصے میں اس کو کسی پہلو سے تنگ کرنے کی تدبیریں اختیار نہ کی جائیں کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ شوہر کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہو جائے ۔

یہ ذمہ داری ، ظاہر ہے کہ تیسری طلاق کے بعد بھی شوہر پر رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدت کی پابندی عورت اسی کے حمل کی تعیین اور حفاظت کے لیے قبول کرتی ہے ۔ سورۂ احزاب (۳۳) کی جو آیت ہم نے اوپر نقل کی ہے ، اس میں ' فمالکم علیھن من عدۃ' کے الفاظ بالکل صریح ہیں کہ حمل کا امکان ہو تو عدت شوہر کی طرف سے بیوی پر ایک حق واجب ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ تیسری طلاق کے بعد شوہر کے لیے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا ، لیکن اس کے نتیجے میں اگر کوئی چیز ختم کی جا سکتی ہے تو وہ اکٹھا رہنے کی پابندی ہے ، بیوی کو رہنے کی جگہ اور نان و نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی حال میں بھی ختم نہیں کی جا سکتی ۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ عدت خواہ تین حیض ہو یا تین مہینے یا وضع حمل تک ممتد ہو جائے ، شوہر پر یہ ذمہ داری ہر حال میں عائد ہو گی ۔

یہاں ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ فاطمہ بنت قیس کی روایت ہماری اس رائے کے خلاف پیش کریں ۔ ان کا قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے شوہر ابو عمروپہلے ان کو دو طلاق دے چکے تھے ۔ پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ یمن بھیجے گئے تو انھوں نے تیسری طلاق بھی ان کو بھیج دی ۔ عدت کے دوران میں انھوں نے نفقہ و سکونت کا مطالبہ کیا تو شوہر کے اعزہ نے ان کا حق ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر یہ دعویٰ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضور نے فیصلہ فرمایا کہ نہ تمھارے لیے نفقہ ہے اور نہ سکونت ۔ ۳۸ ؂

یہ روایت حدیث کی بعض کتابوں میں نقل ہوئی ہے ، لیکن روایتوں ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کی گئی تو انھوں نے یہ کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم ایک عورت کے قول پر اپنے پر وردگار کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو ترک نہیں کر سکتے ۔ ۳۹ ؂ پھر مروان کے زمانۂ حکومت میں جب یہ مسئلہ دوبارہ زیر بحث آیا تو سیدہ عائشہ نے اس روایت پر سخت اعتراضات کیے ۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ سے پوچھا : کیا آپ کو فاطمہ کا قصہ معلوم نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : فاطمہ کی حدیث کا ذکر نہ کرو تو اچھا ہے ۔ ۴۰ ؂ ایک دوسری روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں : فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے ، وہ خدا سے ڈرتی نہیں ۔ ۴۱ ؂ تیسری روایت عروہ بن زبیر سے ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سیدہ نے فرمایا : فاطمہ کے لیے یہ حدیث بیان کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ ۴۲ ؂ ایک اور روایت میں انھی عروہ کا بیان ہے کہ ام المومنین نے فاطمہ پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا اور کہا : وہ دراصل ایک خالی مکان میں تھیں جہاں کوئی مونس نہ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سلامتی کی خاطر ان کو گھر بدل دینے کی ہدایت فرمائی تھی ۔ ۴۳ ؂

یہ اس روایت کی حقیقت ہے ، لہٰذا کسی شخص کو اب بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے ۔

ان ہدایات کے علاوہ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مزید ہدایت یہ کی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورتیں اپنا حمل چھپانے کی کوشش نہ کریں ۔ ہم نے اوپر جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ عدت کا حکم دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ عورت کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہو جائے ۔ لہٰذا یہ اس حکم کا لازمی تقاضا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ اس کی تاکید فرمائی ہے :

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ، وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِھِنَّ ، اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ۔ (۲ : ۲۲۸)

''اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں ، اور اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے جو کچھ اُن کے پیٹ میں پیدا کیا ہے ، اُسے چھپالیں۔''

طلاق کے بعد

طلاق موثر ہو جائے تو جو چیزیں اس کے بعد بھی باعث نزاع ہو سکتی ہیں ، ان میں سے ایک بچوں کی رضاعت ہے ۔ سورۂ طلاق کی زیر بحث آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کی ماں اگر انھیں دودھ پلانے پر آمادہ ہو تو مرد اسے اس خدمت کا معاوضہ ادا کرے گا اور یہ معاوضہ باہمی مشورے سے اور بھلے طریقے سے طے کیا جائے گا ۔ اس طرح کی کوئی قرارداد اگر بچوں کے ماں باپ کے مابین نہ ہو سکے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ پھر کوئی دوسری عورت دودھ پلا لے گی ۔ اس کے ساتھ خرچ کا معیار بھی بتا دیا ہے کہ خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے لحاظ سے خرچ کرے گا اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق ۔ نہ خوش حال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے معیار سے دوسروں کو فروتر رکھ کر معاملہ کرے اور نہ غریب پر اس کی حیثیت سے بڑھ کر کوئی بوجھ ڈالنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی حیثیت کے لحاظ ہی سے اپنے احکام کا مکلف ٹھیراتے ہیں۔

سورۂ بقرہ میں اس حکم کی تفصیل کر دی گئی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ، وَعَلَی الْمَوْلُوْدِلَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّاوُسْعَھَا، لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا وَلاَمَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ، وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ۔ فَاِنْ اَرَادَ فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا، وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْآ اَوْلَادَکُمْ ، فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔(۲/ ۲۳۳)

''اور مائیں ، ان کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنا چاہتے ہوں، اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں ۔ اور بچے کے باپ کو (اس صورت میں) دستور کے مطابق ان کا کھانا کپڑا دینا ہو گا ۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ نہ کسی ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی باپ کو اس کے بچے کے سبب سے اور اسی طرح کی ذمہ داری (اُس کے) وارث پر بھی ہے پھر اگر دونوں باہمی رضا مندی او رمشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر تم کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں۔ بشرطیکہ(بچے کی ماں سے) جو کچھ دینا طے کیا ہے ، وہ دستور کے مطابق اسے دے دو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ، اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ ''

ان احکام کا خلاصہ، استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ ہے:

''۱۔ مطلقہ پر اپنے بچے کو پورے دو سال دودھ پلانے کی ذمہ داری ہے ، اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ عورت یہ رضاعت کی مدت پوری کرے۔

۲۔ اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں دستور کا لحاظ ہو گا ، یعنی شوہر کی حیثیت ، عورت کی ضروریات اور مقام کے حالات پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طور پر کیا دیا جائے ۔

۳۔ فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ، نہ بچے کے بہانے سے ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ، اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی ناروا دباؤ ڈالا جائے گا ۔

۴۔ اگر بچے کا باپ وفات پا چکا ہو تو بعینہٖ یہی پوزیشن مذکورہ ذمہ داریوں اور حقوق کے معاملے میں اس کے وارث کی ہو گی۔

۵۔ اگر باہمی رضا مندی اور مشورے سے دو سال کی مدت کے اندر ہی اندر بچے کا دودھ چھڑا دینے کا عورت مرد فیصلہ کر لیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں ۔

۶۔ اگر باپ یا بچے کے ورثابچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہیں ، بشرطیکہ بچے کی والدہ سے دینے دلانے کی جو قرار داد ہوئی ہے ، وہ پوری کر دی جائے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۴۵)

دوسری چیز جو باعث نزاع ہو سکتی ہے ، وہ آگے عورت کی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے ، عام اس سے کہ وہ صریح ممانعت کی صورت میں ہو یا کسی سازش اور جوڑ توڑ کے انداز میں ۔ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت سختی کے ساتھ روکا ہے اور لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ جب ایک عورت کو طلاق دے دی گئی ہے تو اب اس کے کسی فیصلے میں رکاوٹ بننے کا حق پہلے شوہر کے لیے باقی نہیں رہا ۔ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے ۔ اس کا یہ فیصلہ اگر دستو رکے مطابق ہے تو اس پرکسی اعتراض کی گنجایش نہیں ہو سکتی ۔ اس کے لیے اصل میں 'بالمعروف ' کے الفاظ آئے ہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ عورت اور مرد ، دونوں اپنے معاملات طے کرنے میں پوری طرح آزاد ہیں ، لیکن اتنی بات بہرحال ضروری ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو شرفا کی روایات کے خلاف ہو اور جس سے پہلے شوہر یا ہونے والے شوہر یا خود عورت کے خاندان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۔ ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُْم وَاَطْھَرُ، وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ ۲: ۲۳۲)

''اور جب تم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی اور وہ اپنی عدت کو بھی پہنچ گئیں تو اب اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کر لیں ، جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق معاملہ طے کریں ۔ یہ نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہی تمھارے لیے زیادہ شایستہ اور زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ ''

آیت کے آخری حصے کی وضاحت میں استاذ امام نے لکھا ہے:

''فرمایا کہ یہ نصیحتیں ان لوگوں کو کی جا رہی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی جن لوگوں کے اندر خدا اور آخرت پر ایمان موجود ہے ، ان کے ایمان کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان نصیحتوں پر عمل کریں ۔ پھر فرمایا کہ یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے ۔ یعنی اگر عورت کی حسب مرضی نکاح کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اس سے خاندان اور پھر معاشرے میں بہت سی برائیاں پھیلنے کے اندیشے ہیں ۔ یہیں سے خفیہ روابط، پھر زنا ، پھر اغوا اور فرار کے بہت سے چور دروازے پیدا ہوتے ہیں اور ایک دن ان سب کی ناک کٹ کے رہتی ہے جو ناک ہی اونچی رکھنے کے زعم میں فطری جذبات کے مقابل میں بے ہودہ رسوم کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آخر میں فرمایا کہ : اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔ یعنی تمھارا علم اور تمھاری نظر بہت محدود ہے ، تمھارے لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز کو سمجھ لینا بڑا مشکل ہے ، اس وجہ سے جو کچھ تمھیں خدا کی طرف سے حکم دیا جا رہا ہے ، اس پر عمل کرو۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۴۴)

ان دو چیزوں کے علاوہ مطلقہ اور اس کے شوہر میں بچوں کی حضانت پر بھی جھگڑا ہو سکتا ہے ، لیکن اس کا فیصلہ چونکہ بچے کی مصلحت اور والدین کے حالات کی رعایت ہی سے کیا جا سکتا ہے اور یہ مختلف صورتوں میں مختلف ہو سکتا ہے ، اس لیے شریعت نے اس معاملے میں کوئی ضابطہ متعین نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے ، البتہ ، اس نوعیت کے مقدمات میں ارباب حل و عقد کو بہت کچھ رہنمائی مل سکتی ہے ۔ ان میں سے دو کی روداد ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں ۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، میرے اس بیٹے کے لیے میرا پیٹ ہی گویا ایک ظرف تھا اور میری چھاتیاں ہی اس کا مشکیزہ تھیں اور میری گود ہی اس کا گھر تھی۔ اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو مجھ سے لے لے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمھی اس کو رکھنے کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم نکاح نہ کر لو ۔ ۴۴ ؂

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عور ت آئی ۔ میں نے سنا کہ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، میرا شوہر یہ میرا بچہ مجھ سے لینا چاہتا ہے ، دراں حالیکہ اس نے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی لا کر دیا ہے اور بہت کچھ نفع پہنچایا ہے ۔ حضور نے فرمایا : تم دونوں اس پر قرعہ ڈال سکتے ہو ۔ شوہر (یہ سن کر) بولا : میرے اس بچے کے معاملے میں کون مجھ سے جھگڑا کرے گا ! آپ نے فرمایا : بیٹے ، یہ تمھارا باپ اور یہ تمھاری ماں ہے ، تم ان میں سے جس کا ہاتھ پکڑنا چاہتے ہو ، پکڑ لو ۔ بچے نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۔ ۴۵ ؂

(باقی)

_______

۳۷؂ اصل میں 'والیٰ لم یحضن' کے الفاظ آئے ہیں ۔ 'لم' عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتا ہے ، لہٰذا اس سے وہ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا ، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا ۔

۳۸؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۵۔ ابوداؤد، رقم ۲۲۹۰۔

۳۹؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۹۔

۴۰؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۱، ۵۳۲۲۔

۴۱؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۳، ۵۳۲۴۔

۴۲؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۵۔

۴۳؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۶۔

۴۴؂ ابوداؤد، رقم ۲۲۷۶۔

۴۵؂ ابوداؤد، رقم ۲۲۷۷۔

____________