قانون معاشرت (12)


(گزشتہ سے پیوستہ)

شوہر کی وفات

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا ۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ ٓاَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۔ وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ ، عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَھُنَّ، وَلٰکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرّاً اِلاّآاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفاً، وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہٗ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔(البقرہ ۲: ۲۳۴۔۲۳۵)

''اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑیں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں ۔ پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اپنے بارے میں جو کچھ دستور کے مطابق وہ کریں ، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔ اور اِس میں بھی کوئی گناہ نہیں جو تم اشارے کنایے میں نکاح کا پیغام اُن عورتوں کو دو یا اُسے دل میں چھپائے رکھو ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ عنقریب یہ بات تو تم اُن سے کرو گے ہی ۔ (سو کرو) ، لیکن (اِس میں) کوئی وعدہ اُن سے چھپ کر نہ کرنا۔ ہاں ، دستور کے مطابق کوئی بات ، البتہ کہہ سکتے ہو ۔ اور عقد نکاح کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو، جب تک قانون اپنی مدت پوری نہ کر لے ۔ اور جان رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ، اِ س لیے اُس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا ہے ، وہ بڑا بردباد ہے ۔ ''

سورۂ بقرہ کی ان آیات میں بیواؤں کی عدت کا حکم بیان ہوا ہے ۔

اس میں پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے ۔ ۴۶؂ عام مطلقہ کی نسبت سے یہ اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ اس کو تو ایسے طہر میں طلاق دینے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں شوہر سے اس کی ملاقات نہ ہوئی ہو ، لیکن بیوہ کے لیے اس طرح کا کوئی ضابطہ بنانا چونکہ ممکن نہیں ہے ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ دن بڑھا دیے جاتے ۔ قرآن نے یہی کیا ہے اور مطلقہ کی نسبت سے اس کی عدت ایک ماہ دس دن زیاہ مقرر کر دی ہے ۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ عدت گزر جائے تو اس کے بعد وہ آزاد ہے اور اپنے معاملے میں جو قدم مناسب سمجھے اٹھا سکتی ہے ۔ معاشرے کے دستور کی پابندی ، البتہ اسے کرنی چاہیے ، یعنی ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے متعلق خاندانوں کی عزت ، شہرت ، وجاہت اور اچھی روایات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔ یہ ملحوظ رہے تو اس پر یا اس کے اولیا پر پھر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''مطلب یہ ہے کہ غیر شرعی رسوم کوشریعت کا درجہ دے کر خواہ مخواہ ایک دوسرے کو مورد طعن و الزام نہیں بنانا چاہیے ۔ نہ شوہر کے وارثوں اور عورت کے اولیا کو یہ طعنہ دینا چاہیے کہ عورت اپنے شوہر کا پورا سوگ بھی نہ منا چکی کہ وہ اس سے تنگ آگئے اور نہ عورت کو یہ طعنہ دینا چاہیے کہ ابھی شوہر کا کفن بھی میلا نہ ہونے پایا تھا کہ یہ شادی رچانے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ خدا نے جو حدود مقرر کر دیے ہیں ، بس انھی کی پابندی کرنی چاہیے اور اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ بندوں کے ہر عمل سے باخبر ہے ۔ ''(تدبرقرآن ۱/ ۵۴۶)

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص بیوہ سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو عدت کے دوران میں وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنے دل میں اس کا ارادہ کر لے یا اشارے کنایے میں کوئی بات زبان سے نکال دے ، لیکن اس کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ ایک غم زدہ خاندان کے جذبات کا لحاظ کیے بغیر عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے یا کوئی خفیہ عہد و پیمان کرے ۔ اس طرح کے موقعوں پر جو بات بھی کی جائے ، اسے ہم دردی اور تعزیت کے اظہار تک ہی محدود رہنا چاہیے ۔ چنانچہ تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم اپنا یہ ارادہ ظاہر کرو گے ، مگر اس طرح نہیں کہ نکاح کی پینگیں بڑھانا شروع کردو ، قول و قرار کرو یا چھپ کر کوئی عہد باندھ لو ۔ اس کا انداز وہی ہونا چاہیے جو ایسے حالات میں پسندیدہ اور دستور کے موافق سمجھا جاتا ہے ۔ عدت گزر جائے تو ان عورتوں سے نکاح کا فیصلہ ، البتہ کر سکتے ہو۔ اس کے بعد تم پر کوئی الزام نہیں ہے ۔

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب و زینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

المتوفی عنھا زوجھا لاتبس المعصغر من الثیاب ولا المحشۃ ، ولا الحلی ، ولا تحنقب ولا تکتحل۔ (ابوداؤد، رقم ۲۳۰۴)

''بیوہ عورت رنگین کپڑے نہیں پہنے گی ، نہ زرد ، نہ گیرو سے رنگے ہوئے ۔ وہ زیورات استعمال نہیں کرے گی اور نہ مہندی اور سرمہ لگائے گی ۔''

لیکن اس عرصے میں عورت کے نان و نفقہ اور سکونت کا کیا ہو گا ؟ قرآن نے اسی سورہ میں آگے وضاحت فرمائی ہے کہ شوہروں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنی بیواؤں کے لیے ایک سال کے نان و نفقہ اور اپنے گھروں میں سکونت کی وصیت کر جائیں ، الا یہ کہ وہ خود اپنی مرضی سے شوہر کا گھر چھوڑ دیں یا اس نوعیت کا کوئی دوسرا قدم اٹھالیں ۔ ۴۷؂

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا، وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ ، غَیْرَ اِخْرَاجٍ ، فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔(البقرہ ۲: ۲۴۰)

''اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں تو وہ اپنی اُن بیویوں کے لیے سال بھر کے نان و نفقہ کی وصیت کر جائیں ، اور یہ بھی کہ اُنھیں گھر سے نکالا نہ جائے ۔ پھر اگر وہ خود گھر چھوڑیں تو جو کچھ اپنے معاملے میں دستور کے مطابق کریں ، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، اور اللہ عزیز و حکیم ہے ۔ ''

(باقی)

_______

۴۶؂ مطلقہ اور بیوہ کے لیے عدت کا حکم چونکہ ایک ہی مقصد سے دیا گیا ہے ، اس لیے جو مستثنیات اوپر طلاق کی بحث میں بیان ہوئے ہیں، وہ بیوہ کی عدت میں بھی اسی طرح ملحوظ ہوں گے ۔ چنانچہ بیوہ غیر مدخولہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہو گی اور حاملہ کی عدت وضع حمل کے بعد ختم ہو جائے گی ۔ بخاری کی روایت (رقم ۵۳۲۰) ہے کہ ایک حاملہ خاتون ، سبیعہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے یہی فیصلہ فرمایا۔

۴۷؂ عام طور پر لوگ اس حکم کو سورۂ نساء میں تقسیم وراثت کی آیات سے منسوخ مانتے ہیں ، لیکن صاف واضح ہے کہ عورت کو نان و نفقہ اور سکونت فراہم کرنے کی جو ذمہ داری شوہر پر اس کی زندگی میں عائد ہوتی ہے ، یہ اسی کی توسیع ہے ۔ عدت کی پابندی وہ شوہر ہی کے لیے قبول کرتی ہے ۔ پھر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی اسے کچھ مہلت لازماً ملنی چاہیے ۔ یہ حکم ان مصلحتوں کے پیش نظر دیا گیاہے ، تقسیم وراثت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

____________