قانون معاشرت (13)


(گزشتہ سے پیوستہ) مرد و زن کا اختلاط

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَبُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلآی اَھْلِھَا ، ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ، وَ اِنْ قِیْلَ لَکُمْ : ارْجِعُوْا ، فَارْجِعُوْا ، ھُوَ اَزْکیٰ لَکُمْ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۔ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ۔ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ، ذٰلِکَ اَزْکیٰ لَھُمْ ، اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۔ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ ، وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ ، وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا، وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ، وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآءِ ھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ ھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِی اِخْوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآءِ ھِنَّ اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولیِ الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالَ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ ، وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ، وَتُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعاً ، اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ ، لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ (النور ۲۴: ۲۷۔۳۱)

''ایمان والو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، جب تک تعارف پیدا نہ کرلو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو ۔ یہ طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے ۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو ، جب تک تمھیں اجازت نہ دی جائے ، اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔ اِس میں ، البتہ کوئی مضایقہ نہیں کہ تم ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہیں ہیں اور اِن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے ۔ اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو او رجو کچھ چھپاتے ہو ۔ مومن مردوں سے کہہ دو ، (اے پیغمبر کہ ان گھروں میں اگر عورتیں ہوں تو) وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں ، سوائے اُن کے جواُن میں سے کھلی ہوتی ہیں ، اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں ۔ اور زینت کی چیزیں نہ کھولیں ، مگر اپنے شوہر کے سامنے یا اپنے باپ ، اپنے شوہر کے باپ ، اپنے بیٹوں ، اپنے شوہر کے بیٹوں ، اپنے بھائیوں ، اپنے بھائیوں کے بیٹوں ، اپنی بہنوں کے بیٹوں ، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے ۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت( لوگوں کے لیے ) ظاہر ہو جائے ۔ اور ایمان والو، سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

یہ اخلاقی مفاسد سے معاشرے کی حفاظت اور باہمی تعلقات میں دلوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اختلاط مردو زن کے آداب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرمائے ہیں ۔ سورۂ نور کی ان آیات میں یہ اس تنبیہ کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں جانے ا ور ملنے جلنے کا یہی طریقہ لوگوں کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے ۔ وہ اگر اسے ملحوظ رکھیں گے تو یہ ان کے لیے خیرو برکت کا باعث ہو گا ۔ لیکن اس میں ایک ضروری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کو علیم و خبیر سمجھتے ہوئے اس طریقے کی پابندی کریں اور اس بات پر ہمیشہ متنبہ رہیں کہ ان کا پروردگار ان کے عمل ہی سے نہیں ، ان کی نیت اور ارادوں سے بھی پوری طرح واقف ہے ۔

یہ آداب درج ذیل ہیں :

۱۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے ۔ اس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے جس کا شایستہ او رمہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے ۔ اس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے ؟ کیا چاہتا ہے اور اس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔ ۴۸؂

اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے ، اس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے ۔ ۴۹ ؂

۲۔ ان جگہوں کے لیے یہ پابندی ، البتہ ضروری نہیں ہے جہاں لوگوں کے بیوی بچے نہ رہتے ہوں ۔ قرآن نے اس کے لیے 'بیوتاً غیر مسکونۃ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ یعنی ہوٹل ، سرائے ، مہمان خانے ، دکانیں ، دفاتر ، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ ۔ ان میں اگر کسی منفعت اور ضرورت کا تقاضا ہو تو آدمی اجازت کے بغیر بھی جا سکتا ہے ۔ اجازت لینے کی جو پابندی اوپر عائد کی گئی ہے ، وہ ان جگہوں سے متعلق نہیں ہے ۔

۳۔ دونوں ہی قسم کے مقامات پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی ۔ اس کے لیے اصل میں 'یغضوا من ابصارھم' کے الفاظ آئے ہیں ۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے ، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اس حکم کا منشا یقیناًپورا ہو جاتا ہے ، اس لیے کہ اس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے ، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے ۔ اس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زنا ہے ۔ اس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے ۔ ۵۰؂ چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسے فوراً پھیر لینا چاہیے ۔

بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : علی ، ایک کے بعد دوسری نظر کو اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے ، اس لیے کہ پہلی تو معاف ہے ، مگر دوسری معاف نہیں ہے ۔ ۵۱ ؂

جریربن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا : اس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں ؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو ۔ ۵۲ ؂

حجۃ الوداع کا قصہ ہے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک کر مسئلہ پوچھنے لگی تو فضل بن عباس نے اس پر نگاہیں گاڑ دیں ۔ آپ نے دیکھا تو ان کا منہ پکڑ کر دوسری طرف کر دیا ۔ ۵۳؂

۴۔ اس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے ۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ تعبیر ناجائز شہوت رانی سے پرہیز کے لیے اختیار کی گئی ہے ، لیکن سورۂ نور کی ان آیات میں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد عورتوں اور مردوں کا اپنے صنفی اعضا کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ مردو زن ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپانا چاہیے ۔ اس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں او رمرد ،دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو ۔ پھر ملاقات کے موقع پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے ۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے ۔

۵۔ عورتوں کے لیے ، بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں ۔ اس سے زیبایش کی وہ چیزیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادۃً کھلی ہوتی ہیں ۔ یعنی ہاتھ، پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ ۔ اس کے لیے اصل میں 'الا ما ظھر منھا' کے جو الفاظ آئے ہیں، ان کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے 'الا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ والاصل فیہ الظھور ' ۵۴؂ کے الفاظ میں بیان کر دیا ہے ۔ یعنی وہ اعضا جنھیں انسان عادۃً اور جبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کو چھپا کر رکھنی چاہیے، یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے ۔ ۵۵؂

جن اعزہ اور متعلقین کے سامنے اظہار زینت کی یہ پابندی نہیں ہے ، وہ یہ ہیں:

شوہر

باپ

شوہروں کے باپ

اپنے اور شوہر کے باپ کے لیے اصل میں لفظ ' آباء' استعمال ہوا ہے ۔ اس کے مفہوم میں صرف باپ ہی نہیں ، بلکہ اجدادواعمام ، سب شامل ہیں ۔ لہٰذا ایک عورت اپنی ددھیال اور ننھیال ، اور اپنے شوہر کی ددھیال اور ننھیال کے ان سب بزرگوں کے سامنے زینت کی چیزیں اسی طرح ظاہر کر سکتی ہے ، جس طرح اپنے والد اور خسر کے سامنے کر سکتی ہے ۔

بیٹے

شوہروں کے بیٹے

بھائی

بھائیوں کے بیٹے

بہنوں کے بیٹے

بیٹوں میں پوتے ، پرپوتے اور نواسے ، پر نواسے ، سب شامل ہیں اور اس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا بھی کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی حکم بھائیوں اور بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے ۔ ان میں بھی سگے ، سوتیلے اور رضاعی ، تینوں قسم کے بھائی اور بھائی بہنوں کی اولاد شامل سمجھی جائے گی ۔

اپنے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتیں

اس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں ہی کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور ان کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مالی اور اخلاقی ، دونوں قسم کی آفتوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، بلکہ بعض حالات میں یہ چیز اس سے بھی بڑے خطرات کا باعث بن جاتی ہے ۔

غلام

یہ اس زمانے میں موجود تھے ۔ ' ما ملکت ایمانھن' کے جو الفاظ ان کے لیے اصل میں آئے ہیں ، ان سے بعض فقہا نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں ، لیکن اس کا کوئی قرینہ ان الفاظ میں موجود نہیں ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح اور واضح تعبیر 'اوا مآءھن' کی ہوتی ، ایک عام لفظ جو لونڈیوں اور غلاموں، دونوں پر مشتمل ہے ، اس کے لیے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اس سے پہلے 'نساءھن' کا لفظ آ چکا ہے جو ان تمام عورتوں پر، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے ، مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں ۔ اس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔'' (تدبر قرآن ۵/ ۳۹۸)

وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور زیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے انھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو۔

بچے جو ابھی بلوغ کے تقاضوں سے واقف نہ ہوئے ہوں ۔

۶۔ عورت کا سینہ بھی چونکہ صنفی اعضا میں سے ہے ، پھر گلے میں زیورات بھی ہوتے ہیں ، اس لیے ایک مزید ہدایت یہ فرمائی ہے کہ اس طرح کے موقعوں پر اسے دوپٹے سے ڈھانپ لینا چاہیے ۔ اس سے ، ظاہر ہے کہ گریبان بھی فی الجملہ چھپ جائے گا ۔ یہ مقصد اگر دوپٹے کے سوا کسی اور طریقے سے حاصل ہو جائے تو اس میں بھی مضایقہ نہیں ہے ۔ مدعا یہی ہے کہ عورتوں کو اپنا سینہ اور گریبان مردوں کے سامنے کھولنا نہیں چاہیے ، بلکہ اس طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے کہ نہ وہ نمایاں ہو اور نہ اس کی زینت ہی کسی پہلو سے نمایاں ہونے پائے ۔

ان آداب سے متعلق چند توضیحات بھی اسی سورہ میں بیان ہوئی ہیں ۔

اولاً، فرمایا ہے کہ گھروں میں آمدورفت رکھنے والے غلاموں اور نابالغ بچوں کے لیے ہر موقع پر اجازت لینا ضروری نہیں ہے ۔ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تین اوقات میں اجازت لے کر داخل ہوں : نماز فجر سے پہلے جبکہ لوگ ابھی بستروں میں ہوتے ہیں ؛ ظہر کے وقت جب وہ قیلولہ کے لیے کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہیں اور عشا کے بعد جب وہ سونے کے لیے بستروں میں چلے جاتے ہیں ۔ یہ تین وقت پردے کے وقت ہیں ۔ ان میں اگر کوئی اچانک آ جائے گا تو ممکن ہے کہ گھر والوں کو ایسی حالت میں دیکھ لے جس میں دیکھا جانا پسندیدہ نہ ہو ۔ ان کے سوا دوسرے اوقات میں نابالغ بچے اور گھر کے غلام عورتوں اور مردوں کے پاس ، ان کے تخلیے کی جگہوں میں اور ان کے کمروں میں اجازت لیے بغیر آ سکتے ہیں ۔ اس میں کسی کے لیے کوئی قباحت نہیں ہے ، لیکن ان تین وقتوں میں ضروری ہے کہ جب وہ خلوت کی جگہ آنے لگیں تو پہلے اجازت لے لیں ۔ نابالغ بچوں کے لیے ، البتہ بالغ ہو جانے کے بعد یہ رخصت باقی نہ رہے گی ۔ اس دلیل کی بنا پر کہ یہ بچپن سے گھر میں آتے جاتے رہے ہیں ، انھیں ہمیشہ کے لیے مستثنیٰ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلوغ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد ان کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ عام قانون کے مطابق اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ ، وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّھِیْرَۃِ، وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ ، ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ، لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَ لَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَھُنَّ ، طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ ، وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ۔ وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ ، وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔(النور ۲۴: ۵۸۔۵۹)

''ایمان والو، تمھارے غلام اور لونڈیاں اور تمھارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں ، تین وقتوں میں اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں : نماز فجر سے پہلے اور دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد ۔ یہ تین وقت تمھارے لیے پردے کے وقت ہیں ۔ ان کے بعد نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر ۔ (اِس لیے کہ ) تم ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہو ۔ اِس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ اور جب تمھارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں ۔ اِس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ ''

ثانیاً، ارشادہوا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا حکم ان بڑی بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں ، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں ۔ عورت کی خواہشات جس عمر میں مر جاتی ہیں اور اس کو دیکھ کر مردوں میں بھی کوئی صنفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا ، اس میں سینے اور گریبان پر آنچل ڈالے رکھنا ضروری نہیں ہے ۔ لہٰذا بوڑھی عورتیں اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تاہم پسندیدہ بات ان کے لیے بھی یہی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور مردوں کی موجودگی میں اسے نہ اتاریں ۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے :

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الَّتِٰیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا ، فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِیْنَۃٍ، وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ ، وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔(النور ۲۴: ۶۰)

''اور بڑی بوڑھیاں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں ، وہ اگر اپنے دوپٹے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں ۔ اور اگر احتیاط برتیں تو اُن کے لیے بہتر ہے ۔ اور اللہ سننے والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ ''

ثالثاً، وضاحت فرمائی ہے کہ لوگ خود ہوں یا ان کے مجبور و معذور اعزہ اور احباب جو انھی کے گھروں پر گزارہ کرتے ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں جائیں ، ملیں جلیں او رمردو عورت الگ الگ یا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں پئیں ، نہ ان کے اپنے گھروں میں ، نہ باپ دادا کے گھروں میں ، نہ ماؤں کے گھروں میں ، نہ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں ، نہ چچاؤں ، پھوپھیوں ، مامووں اور خالاؤں کے گھروں میں ، نہ زیر تولیت افراد کے گھروں میں اور نہ دوستوں کے گھروں میں ۔ اتنی بات ، البتہ ضروری ہے کہ گھروں میں داخل ہوں تو اپنے لوگوں کو سلام کریں ۔ یہ بڑی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جس سے باہمی تعلقات میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ ملنے جلنے کے جو آداب انھیں بتائے گئے ہیں ، ان سے ربط و تعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا ان کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے ۔ وہ اگر سمجھ بوجھ سے کام لیں تو ان آداب کی رعایت کے ساتھ یہ سارے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ۔ اس سے مختلف کوئی بات اگر انھوں نے سمجھی ہے تو غلط سمجھی ہے ۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی ممنوع قرار دینا پیش نظر نہیں ہے :

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلَاعَلآی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآءِ کُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّھٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَامَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ، لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعاً اَوْ اَشْتَاتًا۔ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلآی اَنْفُسِکُمْ ، تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ، مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ الْاٰیٰتِ، لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ (النور ۲۴ : ۶۱)

''نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے ، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے او رنہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے مامووں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت لوگوں کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو ۔ تم پر کوئی گناہ نہیں ، چاہے مردو عورت اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ (اتنی بات ، البتہ ضروری ہے کہ) جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ''

عام حالات میں آداب یہی ہیں ، لیکن مدینہ میں جب اشرار نے مسلمان شریف زادیوں پر تہمتیں تراشنا اور انھیں تنگ کرنا شروع کیا تو سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو مزید یہ ہدایت فرمائی کہ اندیشے کی جگہوں پر جاتے وقت وہ اپنی چادروں کے پلو اوپر سے چہرے پر لٹکا لیا کریں تاکہ اخلاق باختہ عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور ان کے بہانے سے کوئی انھیں اذیت نہ دے ۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو یہ اشرار ان کے درپے آزار ہوتے اور اس پر گرفت کی جاتی تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر ان سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی ۔ ۵۶ ؂ ارشاد فرمایا ہے :

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا ، فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ۔ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ ، قُلْ لِّاَ زْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُوْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ، ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ ، وَکاَنَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلاَّ قَلِیْلًا، مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ ، اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا۔ (۳۳: ۵۸۔ ۶۱)

''اور جو لوگ مسلمان عورتوں او رمردوں کو اُن چیزوں کے معاملے میں اذیت دیتے ہیں جن کا اُنھوں نے ارتکاب نہیں کیا ہے ، (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اُنھوں نے ایک بڑے بہتان او رصریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے ۔ (اِس صورت حال میں) ، اے پیغمبر ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (باہر نکلیں تو) اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ (لونڈیوں سے الگ) پہچانی جائیں اور اُنھیں اذیت نہ دی جائے، اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ یہ منافق اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بھی جو مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اِن کے خلاف تمھیں اٹھا کھڑا کریں گے ۔ پھر وہ مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے ۔اِن پر پھٹکارہو گی ، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے ۔ ''

ان آیتوں میں ' ان یعرفن فلا یوذین ' کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہ تھا، بلکہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں کے شرسے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی نوعیت کی بعض مصلحتوں کے پیش نظر، عورتوں کو تنہا لمبا سفر کرنے اور راستوں میں مردوں کے ہجوم کا حصہ بن کر چلنے سے منع فرمایا ۔ ۵۷ ؂ لہٰذا مسلمان خواتین کو اگر اب بھی اس طرح کی صورت حال کسی جگہ درپیش ہو تو وہ ایسی کوئی تدبیر دوسری عورتوں سے اپنا امتیاز قائم کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے اختیار کر سکتی ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی رعایت سے اور خاص آپ کی ازواج مطہرات کے لیے بھی اس سلسلہ کی بعض ہدایات اسی سورۂ احزاب میں بیان ہوئی ہیں ۔ عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے ان ہدایات کا اگرچہ کوئی تعلق نہیں ہے ، لیکن بعض اہل علم چونکہ ان کی تعمیم کرتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی صحیح نوعیت بھی یہاں واضح کر دی جائے ۔

سورہ پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ کے وہی اشرار اور منافقین جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، جب رات دن اس تگ و دو میں رہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق کوئی اسکینڈل پیدا کریں تاکہ عام مسلمان بھی آپ سے برگشتہ اور بدگمان ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ بھی بالکل برباد ہو کر رہ جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کا سدباب اس طرح کیا کہ پہلے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو دنیا کے عیش اور اس کی زینتوں کی طلب میں حضور سے الگ ہو جائیں اور چاہیں تو اللہ و رسول اور قیامت کے فوزو فلاح کی طلب گار بن کر پورے شعور کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کر لیں کہ انھیں اب ہمیشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ اگر حضور کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو انھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی رفاقت سے جو مرتبہ انھیں حاصل ہوا ہے ، اس کے لحاظ سے ان کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے ۔ وہ پھر عام عورتیں نہیں ہیں ۔ ان کی حیثیت مسلمانوں کی ماؤں کی ہے ۔ اس لیے وہ اگر صدق دل سے اللہ و رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کریں گی تو جس طرح ان کی جزا دہری ہے ، اسی طرح اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا تو اس کی سزا بھی دوسروں کی نسبت سے دہری ہو گی ۔ ان کے باطن کی پاکیزگی میں شبہ نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ انھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے ۔ یہ ان کے مقام و مرتبہ کا تقاضا ہے اور اس کے لیے یہ چند باتیں اپنے شب و روز میں انھیں لازماً ملحوظ رکھنی چاہییں :

اول یہ کہ وہ اگر خدا سے ڈرنے والی ہیں تو ہر آنے والے سے بات کرنے میں نرمی اور تواضع اختیار نہ کیا کریں ۔ عام حالات میں تو گفتگو کا پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی تواضع اختیار کرے ، لیکن جو حالات انھیں درپیش ہیں ، ان میں اشرار و منافقین مروت اور شرافت کے لہجے سے دلیر ہوتے اور غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اس سے انھیں یہ توقع پیدا ہو جاتی ہے کہ جو وسوسہ اندازی وہ ان کے دلوں میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس میں انھیں کامیابی حاصل ہو جائے گی ۔ اس لیے ایسے لوگوں سے اگر بات کرنے کی نوبت آئے تو بالکل صاف اور سادہ انداز میں اور اس طرح بات کرنی چاہیے کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آئے ہیں تو انھیں اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ یہاں ان کے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے :

یٰنِسَآءَ النَّبِّیِّ ، لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ، اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ ، وَّ قُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً۔ (۳۳: ۳۲)

''نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ، (اِس لیے) اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو لہجے میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں خرابی ہے ، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور (اِس طرح کے لوگوں سے) صاف سیدھی بات کیا کرو۔''

دوم یہ کہ اپنے مقام و مرتبہ کی حفاظت کے لیے وہ گھروں میں ٹک کر رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جس ذمہ داری پر انھیں فائز کیا ہے ، ان کے سب انداز اور رویے بھی اس کے مطابق ہونے چاہییں ۔ لہٰذا کسی ضرورت سے باہر نکلنا ناگزیر ہو تو اس میں بھی زمانۂ جاہلیت کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نکلنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی حیثیت اور ذمہ داری ، دونوں کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں رہ کر شب و روز نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام رکھیں اور ہر معاملے میں پوری وفاداری کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت میں سرگرم ہوں ۔ تاہم کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اسلامی تہذیب کا بہترین نمونہ بن کر نکلیں اور کسی منافق کے لیے انگلی رکھنے کا کوئی موقع نہ پیدا ہونے دیں :

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ، وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلیٰ، وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ ، وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ ، وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ، اَھْلَ الْبَیْتِ ، وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا ۔ (۳۳: ۳۳)

''اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو، اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ و رسول کی فرماں برداری کرو ۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اِس گھرکی بیبیوکہتم سے (وہ ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پو ری طرح پاک کر دے۔''

سوم یہ کہ اللہ کی آیات اور ایمان و اخلاق کی جو تعلیم ان کے گھروں میں دی جا رہی ہے ، دوسری باتوں کے بجائے وہ اپنے ملنے والوں سے اس کا چرچا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس کام کے لیے منتخب فرمایا ہے ، وہ یہی ہے ۔ ان کا مقصد زندگی اب دنیا اور اس کا عیش و عشرت نہیں ، بلکہ اسی علم و حکمت کا فروغ ہونا چاہیے :

وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۔(۳۳: ۳۴)

''اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی نازل کردہ حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے ، (اپنے ملنے والوں سے) اُس کا چرچا کرو۔ بے شک ، اللہ بڑا ہی دقیقہ شناس ہے ، وہ پوری طرح خبر رکھنے والا ہے ۔ ''

اس کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ اشرار اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے ۔ چنانچہ اسی سورہ میں آگے اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ چند مزید ہدایات اس سلسلہ میں دی ہیں ۔

فرمایا ہے کہ اب کوئی مسلمان بن بلائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ لوگوں کو کھانے کی دعوت بھی دی جائے گی تو وہ وقت کے وقت آئیں گے اور کھانا کھانے کے فوراً بعد منتشر ہو جائیں گے ، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہیں گے ۔

آپ کی ازواج مطہرات لوگوں سے پردے میں ہوں گی اور قریبی اعزہ اور میل جول کی عورتوں کے سوا کوئی ان کے سامنے نہ آئے گا ۔ جس کو کوئی چیز لینا ہو گی ، وہ بھی پردے کے پیچھے ہی سے لے گا۔

پیغمبر کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔ جو منافقین ان سے نکاح کے ارمان اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، ان پر واضح ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ازواج مطہرات سے کسی کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔ ان کی یہ حرمت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کے دل میں احترام و عقیدت کا وہی جذبہ ان کے لیے ہونا چاہیے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں کی یہ باتیں باعث اذیت رہی ہیں ۔ اب وہ متنبہ ہو جائیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے ۔ یہاں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لیے بھی کوئی عذر تراش لے ، لیکن وہ پروردگار جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے ، یہ باتیں اس کے حضور میں کسی کے کام نہ آ سکیں گی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآاَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ، وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا،فَاِذَ اطَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا ، وَلَامُسْتَانِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ۔ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ ، وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ ۔ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعاً ، فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ ۔ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِھِنَّ ۔ وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْآ اَزْوَاجَہٗ مَنْ بَعْدِہٖ اَبَداً ۔ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْماً ۔ اِنْ تُبْدُوْا شَیْئاً اَوْ تُخْفُوْہُ ، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۔ لَا جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْ اٰبَآءِ ھِنَّ وَلَآ اَبْنَآءِ ھِنَّ ، وَلَآ اِخْوَانِھِنَّ ، وَلَآاَبْنَآءِ اِخْوَانِھِنَّ، وَلاآاَبْنَآءِ اَخَوٰتِھِنَّ وَلَا نِسَآءِھِنَّ وَلاَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ ، وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْداً ۔ (۳۳: ۵۳۔ ۵۵)

''ایمان والو، نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، الا یہ کہ تمھیں کسی وقت کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے ۔ اِس صور ت میں بھی اُس کے پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہ بیٹھو ۔ ہاں ، جب بلایا جائے تو آؤ۔ پھر جب کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو ۔ یہ باتیں نبی کے لیے باعث اذیت تھیں ، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے رہے اور اللہ حق بتانے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور نبی کی بیویوں سے تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ۔ یہ طریقہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی ۔ اور تمھارے لیے جائزنہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کے بعد اُن کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔ تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ ان (بیبیوں) پر ، البتہ اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے ہوں ۔ اور اللہ سے ڈرتی رہو ، بیبیو۔ بے شک ، اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے ۔ ''

(باقی)

_______

۴۸؂ بخاری ، رقم ۶۲۴۵۔

۴۹؂ بخاری ، رقم ۶۲۴۱۔

۵۰؂ بخاری ، رقم ۶۳۴۳۔

۵۱؂ ابوداؤد ، رقم ۲۱۴۹۔

۵۲؂ مسلم ، رقم ۲۱۵۹۔

۵۳؂ بخاری ، رقم ۱۵۱۳۔

۵۴؂ الکشاف ۳/ ۲۳۱۔

۵۵؂ ابوداؤد ، رقم ۴۱۷۳۔

۵۶؂ تفسیر القرآن العظیم ، ابن کثیر ۳/ ۵۱۸۔ الکشاف ، زمخشری ۳/ ۵۶۰۔

۵۷؂ بخاری ، رقم ۱۰۸۸۔ ابوداؤد ، رقم ۵۲۷۲۔

____________