قانون معاشرت (14)


(گزشتہ سے پیوستہ) والدین

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ، حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ، اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ، اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰآی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا وَ صَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفاً، وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ، ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ، فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔(لقمٰن ۳۱: ۱۴۔۱۵)

''اور ہم نے انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اُس کو پیٹ میں رکھا اور اُس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا (ہم نے اُس کو نصیحت کی ہے) کہ میرے شکر گزار ہو اور اپنے والدین کا شکر بجا لاؤ ۔ بالآخر پلٹنا میری ہی طرف ہے ۔ لیکن اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ جسے تم نہیں جانتے تو اُن کی بات نہ مانو اور دنیا میں اُن کے ساتھ نیک برتاؤ کرتے رہو اور پیروی اُنھی لوگوں کے طریقے کی کرو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ تم سب کو پلٹنا پھر میری ہی طرف ہے اور میں (اُس وقت) تمھیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو ۔''

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام الہامی صحائف میں دی گئی ہے ۔ قرآن مجید نے بھی جگہ جگہ اس کی تلقین فرمائی ہے ۔ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیات ۲۳۔ ۲۴ ، عنکبوت (۲۹) کی آیت ۸ اور احقاف (۴۶) کی آیت ۱۵ میں یہ مضمون کم و بیش انھی الفاظ میں بیان ہوا ہے ۔ سورۂ لقمان کی ان آیات میں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ والدین سے حسن سلوک کے حدود بھی بالکل متعین فرما دیے ہیں ۔ اس سے حکم کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ انسان کے والدین ہی اس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس معاملے میں باپ کی شفقت بھی کچھ کم نہیں ہوتی ، لیکن حمل ، ولادت اور رضاعت کے مختلف مراحل میں جو مشقت بچے کی ماں اٹھاتی ہے ، اس کا حق کوئی شخص کسی طرح ادا نہیں کر سکتا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بنا پر ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجے زیادہ قرار دیا ہے ۔ ۵۸؂ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے کہ اپنے پروردگار کے بعد انسان کو سب سے بڑھ کر اپنے ماں باپ ہی کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا۔ اس کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی ان کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آئے ، ان کے خلاف دل میں کوئی بیزاری نہ پیدا ہونے دے ، ان کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے، بلکہ نرمی ، محبت ، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے ۔ ان کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں ان کی دل داری اور تسلی کرتا رہے ۔

بنی اسرائیل میں فرمایا ہے :

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْآ اِلاّآاِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا، اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْھَرْھُمَا، وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا ، وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ۔ رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ، اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّا بِیْنَ غَفُوْراً۔(۱۷: ۲۳۔ ۲۴)

''اور تیرے پروردگار کا فیصلہ یہ ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو ۔ تمھارے سامنے اگر اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ادب کی بات کہو اوراُن کے سامنے مہر و محبت سے عاجزی کے بازو جھکائے رکھو اور دعا کرتے رہو کہ پروردگار ، ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔ تمھارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ۔ اگر تم سعادت مند رہو گے تو رجوع کرنے والوں کے لیے وہ بڑا بخشنے والا ہے۔''

سیدنا ابن مسعود کی روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا : وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد ؟ فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ۔ ۵۹ ؂

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے لیے ذلت ہے ، اس شخص کے لیے ذلت ہے ، اس شخص کے لیے ذلت ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : کس کے لیے ، یا رسول اللہ ؟ فرمایا : جس کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک اس کے پا س بڑھاپے کو پہنچا اور وہ اس کے باوجود جنت میں داخل نہ ہو سکا ۔ ۶۰ ؂

عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے جہاد کی اجازت چاہی ۔ آپ نے پوچھا : تمھارے والدین زندہ ہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : پھر ان کی خدمت میں رہو ، یہی جہاد ہے ۔ ۶۱؂

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یمن کے لوگوں میں سے ایک شخص جہاد کی غرض سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا : یمن میں کوئی عزیز ہے ؟ عرض کیا : میرے ماں باپ ہیں ۔ فرمایا : انھوں نے اجازت دی ہے ؟ عرض کیا : نہیں ۔ فرمایا : جاؤ اور ان سے اجازت لو ۔ اگر دیں تو جہاد کرو ، ورنہ ان کی خدمت کرتے رہو۔ ۶۲؂

معاویہ اپنے باپ جاہمہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ، جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ آپ نے پوچھا : تمھاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : تو اس کی خدمت میں رہو ، اس لیے کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔ ۶۳ ؂

سیدنا عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار کی خوشی باپ کی خوشی میں اور اس کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ۔ ۶۴؂

ابو الدردا کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کا بہترین دروازہ باپ ہے ، اس لیے چاہو تو اسے ضائع کرو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ۔ ۶۵؂

عمرو بن شعیب اپنی ماں سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے ، لیکن میرے والد اس مال کے ضرورت مند ہیں ۔ آپ نے فرمایا : تم اور تمھارا مال ، دونوں والد ہی کے ہیں ۔ ۶۶؂

۲۔ والدین کی اس حیثیت کے باوجود یہ حق ان کو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو بے دلیل اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کے لیے اولاد پر دباؤ ڈالیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ والدین کی نافرمانی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ، ۶۷؂ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں اولاد کو ان کی اطاعت سے صاف انکار کر دینا چاہیے اور پیروی ہر حال میں انھی لوگوں کے طریقے کی کرنی چاہیے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں ۔ خدا سے انحراف کی دعوت والد ین بھی دیں تو قبول نہیں کی جا سکتی ۔ 'لاطاعۃ فی المعصیۃ، انما الطاعۃ فی المعروف' ، ۶۸؂ (اللہ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی اطاعت نہیں ہے ، اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اسی بنا پر فرمائی ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام و ہدایات بھی اسی کے تحت سمجھے جائیں گے اور والدین کے کہنے سے ان کی خلاف ورزی بھی کسی کے لیے جائز نہ ہو گی ۔

۳۔ شرک جیسے گناہ پر اصرار کے باوجود دنیا کے معاملات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک دستور کے مطابق اسی طرح باقی رہنا چاہیے ۔ ان کی ضروریات حتی المقدور پوری کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کے لیے ہدایت کی دعا بھی برابرجاری رہے ۔ یہ سب 'صاحبھما فی الدنیا معروفاً' کا تقاضا ہے ۔ دین و شریعت کا معاملہ الگ ہے ، مگر اس طرح کی چیزوں میں اولاد سے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔

آخر میں اولاد اور والدین ، دونوں کو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ اعمال کی جواب دہی کے لیے ایک دن پلٹنا میری ہی طرف ہے ، 'ثم الی مرجعکم فانئبکم بما کنتم تعملون'۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''یہ خطاب والدین اور اولاد، دونوں سے یکساں ہے اور اس میں تنبیہ بھی ہے اور اطمینان دہانی بھی ۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اس دن جو کچھ جس نے کیا ہو گا، میں اس کے سامنے رکھ دوں گا ۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے اور اولاد نے والدین کے حق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کماحقہ پہچانا اور اس حق پر قائم رہنے میں استقامت دکھائی تو وہ اپنی اس عزیمت کا بھر پور صلہ پائے گی ۔ '' (تدبر قرآن ۶/ ۱۳۰)

(باقی)

_______

۵۸؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۱۔

۵۹؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۰۔

۶۰؂ مسلم ، رقم ۴۶۲۷۔

۶۱؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۲۔

۶۲؂ ابوداؤد، رقم ۲۵۳۰۔

۶۳؂ نسائی ، رقم ۳۱۰۴۔

۶۴؂ ترمذی ، رقم ۱۸۹۹۔

۶۵؂ ترمذی ، رقم ۱۹۰۰۔

۶۶؂ ابوداؤد، رقم ۳۵۳۰۔

۶۷؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۶۔

۶۸؂ بخاری ، رقم ۷۲۵۷۔

____________