قانون معاشرت (15)


(گزشتہ سے پیوستہ) یتامیٰ

وَاٰتُوا الْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ، وَلَاتَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلآی اَمْوَالِکُمْ ، اِنَّہٗ کَانَ حُوْباً کَبِیْرًا ۔ وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنآی اَلَّا تَعُوْلُوْا۔ وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْئًا مَّرِیْٓئاً۔ وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْہُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْالَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً، وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ، فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ، وَلاَ تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافاً وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا ، وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ، وَمَنْ کَانَ فَقِیْراً فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ، فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْھِدُوْاعَلَیْھِمْ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا۔ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ، مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ ، نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا۔ وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَ قُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا، وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْھِمْ، فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمیٰ ظُلْمًا، اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا، وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ۔ (النساء ۴: ۲۔۱۰)

''اور یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو ، نہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے بدلو اور نہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھاؤ ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کی ) جو (مائیں) تمھارے لیے جائز ہوں ، اُن میں سے دو دو ، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو ۔ پھر اگر اس بات کا ڈر ہو کہ (اِن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی یا پھر وہ جو ملک یمین کی بنا پر تمھارے قبضے میں ہوں ۔ یہ اس بات کے زیادہ قرین ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو ۔ اور اِن عورتوں کو بھی اِن کے مہر دو ، اسی طرح جس طرح مہر دیا جاتا ہے ۔ پھر اگر وہ خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے شوق سے کھا لو ۔ اور (یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنا وہ مال جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے ، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں ، اس سے اُن کو کھلاؤ، پہناؤ اور اُن سے اچھی بات کرو۔ اور اِن یتیموں کو چانچتے رہو ، یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ۔ پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کرو ، اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے اُن کا مال اڑا کر اور جلدی جلدی کھا نہ جاؤ ۔ اور (یتیم کا) جو (سرپرست) غنی ہو، اُسے چاہیے کہ (اُس کے مال سے) پرہیز کرے اور جو محتاج ہو ، وہ (اپنے حق خدمت کے طور پر) دستور کے مطابق (اُس میں سے) کھائے ۔ پھر جب اُن کا مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اُن پر گواہ ٹھیرا لو ۔ اور حساب کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔ ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں ، اُس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں ، اُس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے ، خواہ یہ تھوڑا ہو یا بہت ، ایک متعین حصے کے طو رپر ۔ لیکن تقسیم کے موقع پر جب قریبی اعزہ اور یتیم اور مسکین وہاں آ جائیں تو اِس مال میں سے اُن کو بھی کچھ دو اور اُن سے اچھی بات کرو۔ اور اُن لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑتے تو اُن کے بارے میں انھیں بہت کچھ اندیشے ہوتے ۔ اس لیے چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور (ہر معاملے میں) سیدھی بات کہیں ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔''

یتیموں کی بہبود اور اُن سے حسن سلوک کی ہدایت قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ہوئی ہے ۔ سورۂ نساء کی ان آیات میں ان کے بارے میں چند متعین احکام دیے گئے ہیں ۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے :

۱۔ یتیموں کے سرپرست ان کا مال ان کے حوالے کریں ، اسے خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ظلم و ناانصافی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا گویا اپنے پیٹ میں آگ بھرنا ہے ۔ اس آگ کے ساتھ دوزخ کی آگ سے بچنا ممکن نہ ہو گا۔ لہٰذا کوئی شخص نہ اپنا برا مال ان کے اچھے مال سے بدلنے کی کوشش کرے اور نہ انتظامی سہولت کی نمایش کرکے اس کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانے کے مواقع پیدا کرے ۔اس طرح کا اختلاط اگر کسی وقت کیا جائے تو یہ خوردبرد کے لیے نہیں، بلکہ ان کی بہبود اور ان کے معاملات کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے ۔

۲۔ یتیموں کے مال کی حفاظت اور ان کے حقوق کی نگہداشت ایک بڑی ذمہ داری ہے ۔ لوگوں کے لیے تنہا اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا مشکل ہو اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یتیم کی ماں کو اس میں شامل کر کے وہ اپنے لیے سہولت پیدا کر سکتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ ان کی ماؤں میں سے جو ان کے لیے جائز ہوں ، ان میں سے دو دو، تین تین ، چار چار کے ساتھ نکاح کر لیں ۔ لیکن یہ اجازت صرف اس صورت میں ہے ، جب بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھنا ممکن ہو ۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکیں گے تو پھر یتیموں کی بہبود جیسے نیک مقصد کے لیے بھی ایک سے زیادہ نکاح نہ کریں ۔ انصاف پر قائم رہنے کے لیے یہی طریقہ زیادہ صحیح ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان عورتوں کا مہر اسی طریقے سے دیا جائے جس طرح عام عورتوں کو دیا جاتا ہے ۔ ۶۹؂ یہ عذر نہیں پیدا کرنا چاہیے کہ نکاح چونکہ انھی کی اولاد کی مصلحت سے کیا گیا ہے ، اس لیے اب کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی ۔ ہاں ، اگر اپنی خوشی سے وہ مہر کا کوئی حصہ معاف کر دیں یا کوئی اور رعایت کریں تو اس میں حرج نہیں ہے ۔ لوگ اگر چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

۳۔ مال لوگوں کے لیے قیام و بقا کا ذریعہ ہے ۔ اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ لہٰذا یتیموں کا مال ان کے حوالے کر دینے کی جو ہدایت کی گئی ہے ، اس پر عمل اسی وقت کیا جائے ، جب وہ اپنا مال سنبھال لینے کی عمر کو پہنچ جائیں ۔ اس سے پہلے ضروری ہے کہ یہ سرپرستوں کی حفاظت اور نگرانی میں رہے اور وہ یتیموں کو جانچتے رہیں کہ ان کے اندر معاملات کی سوجھ بوجھ اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں ۔ اس دوران میں ان کی ضروریات ، البتہ فراخی کے ساتھ پوری کی جائیں ۔ اس اندیشے سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے ، ان کا مال جلدی جلدی اڑانے کی کوشش نہ کی جائے او ر بات چیت میں ان کی دل داری کا خیال رکھا جائے ۔

۴۔ سرپرست اگر مستغنی ہو تو اپنی اس خدمت کے عوض اسے کچھ لینا نہیں چاہیے ، لیکن غریب ہو تو یتیم کے مال سے اپنا حق خدمت دستور کے مطابق لے سکتا ہے ۔ استاذ امام اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''دستور کے مطابق سے مراد یہ ہے کہ ذمہ داریوں کی نوعیت ، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات اور سرپرست کے معیار زندگی کے اعتبار سے وہ فائدہ اٹھانا جو معقولیت کے حدود کے اندر ہو ۔ یہ نوعیت نہ ہو کہ ہر معقول آدمی پر یہ اثر پڑے کہ یتیم کے بالغ ہو جانے کے اندیشے سے اسراف اور جلد بازی کر کے یتیم کی جائداد ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ '' (تدبرقرآن ۲/ ۲۵۵)

۵۔ مال حوالے کیا جائے تو اس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بنا لینا چاہیے تاکہ کسی سوے ظن اور اختلاف و نزاع کا احتمال باقی نہ رہے ۔ پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن یہی حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے اور وہ سمیع و علیم ہے ، اس سے کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی ۔

۶۔ مرنے والے کے ترکے میں وارثوں کے حصے اگرچہ متعین ہیں ، لیکن تقسیم وراثت کے موقع پر قریبی اعزہ اور یتامیٰ و مساکین اگر آ جائیں تو اس سے قطع نظر کہ قانونی لحاظ سے ان کا کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ، انھیں کچھ دے دلا کر اور اچھی بات کہہ کر رخصت کرنا چاہیے ۔ اس طرح کے موقعوں پر یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے بچے بھی یتیم ہو سکتے اور وہ بھی اسی طرح انھیں دوسروں کی نگاہ التفات کا محتاج چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے۔

(باقی)

_______

۶۹؂ ان شرائط کے بارے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ، ان کا جواب قرآن نے سورۂ نساء کی آیات ۱۲۷۔۱۳۰ میں دیا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس سے پہلے ''تعدد ازواج ''کے زیر عنوان کر چکے ہیں ۔

____________