قانون معاشرت (حصہ دوم / سوم)


ظہار

اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآءِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ ، اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا الّٰءِیْ وَلَدْنَھُمْ ، وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ، وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ. وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآءِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا ، فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا. ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ. فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا، فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا. ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ، وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ، وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ . (المجادلہ ۵۸: ۲۔۴)

''تم میں سے جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں ، وہ اُن کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ اُن کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے اُن کو جنا ہے ۔ اِس طرح کے لوگ ، البتہ ایک نہایت بے ہودہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے ۔ اور (اِس معاملے میں حکم یہ ہے کہ) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں ، پھر اُسی بات کی طرف پلٹیں جو اُنھوں نے کہی تھی تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کیا جائے گا ۔ یہ بات ہے جس کی تمھیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے ۔ پھر جسے غلام میسر نہ ہو، اُسے دو مہینے کے پے در پے روزے رکھنا ہوں گے ، اِس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ او رجو یہ بھی نہ کر سکے تو وہ ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔ یہ اِس لیے ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول کو فی الواقع مانو ۔ اور یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، (اِنھیں اللہ اور رسول کے منکرہی توڑتے ہیں ) ، اور اِس طرح کے منکروں کے لیے بڑی درد ناک سزا ہے ۔''

یہ 'ظہار' کا حکم ہے ۔ ایلا کی طرح ظہار بھی عرب جاہلیت کی اصطلاح ہے ۔ اس کے معنی یہ تھے کہ شوہر نے بیوی کے لیے 'انت علیّ کظھرامی' (تجھے ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا) کے الفاظ زبان سے نکال دیے ہیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی تھی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے الگ ہو جاتی تھی ۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ یہ الفاظ کہہ کر شوہر نہ صرف یہ کہ بیوی سے اپنا رشتہ توڑ رہا ہے ، بلکہ اسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے ۔ لہٰذا ان کے نزدیک طلاق کے بعد تو رجوع کی گنجایش ہو سکتی تھی ، لیکن ظہار کے بعد اس کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔ ۲۲؂

قرآن نے یہ اسی کا حکم بیان کیا ہے۔

اس میں پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے یا اس کے کسی عضو کو ماں کے کسی عضو سے تشبیہ دے دیتا ہے تو اس سے بیوی ماں نہیں ہو جاتی اور نہ اس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے ۔ ماں کا ماں ہونا ایک امر واقعی ہے ، اس لیے کہ اس نے آدمی کو جنا ہے ۔ اس کو جو حرمت حاصل ہوتی ہے ، وہ اسی جننے کے تعلق سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ایک ابدی اور فطری حرمت ہے جو کسی عورت کو محض منہ سے ماں کہہ دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ لہٰذااس طرح کی تشبیہ سے نہ کسی کا نکاح ٹوٹتا ہے او رنہ اس کی بیوی اس کے لیے ماں کی طرح حرام ہو جاتی ہے ۔ سورۂ احزاب میں یہ بات اس طرح بیان ہوئی ہے :

وَمَاجَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰءِیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ . (۳۳: ۴)

''اور اپنی جن بیویوں سے تم ظہار کرتے ہو، اللہ نے اُن کو تمھاری مائیں نہیں بنایا ہے ۔ ''

دوسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ اس طرح کا جملہ اگر کسی شخص کی زبان سے نکلا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک نہایت بے ہودہ اور جھوٹی بات ہے جس کا تصور بھی کسی شریف آدمی کو نہیں کرنا چاہیے ، کجا یہ کہ وہ اسے زبان سے نکالے۔ اس پر سخت محاسبہ ہو سکتا تھا، لیکن اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے ۔لہٰذا کوئی شخص اگر اشتعال میں آ کر اس طرح کی خلاف حقیقت بات منہ سے نکال بیٹھے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو تو اللہ اس سے درگزر فرمائیں گے ۔

تیسری بات یہ واضح کی گئی ہے کہ اس کے یہ معنی بہرحال نہیں ہیں کہ اسے بغیر کسی تنبیہ کے چھوڑ دیا جائے ۔ انسان کی معاشرتی زندگی پر اس طرح کی باتوں کے اثرات بڑے غیر معمولی ہوتے ہیں ، اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی تادیب کی جائے تاکہ آیندہ وہ بھی احتیاط کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے اسے اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہیے ۔

یہ کفارہ درج ذیل ہے :

ایک لونڈی یا غلام آزاد کیا جائے ۔ ۲۳؂

وہ میسر نہ ہو تو پے در پے ۲۴؂ دو مہینے کے روزے رکھے جائیں۔

یہ بھی نہ ہو سکے تو ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس حکم کی تعمیل اگر اس کی صحیح روح کے ساتھ کرو گے تو اس سے اللہ اور رسول پر تمھارا ایمان محکم ہو گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر اپنی کسی غلطی کی تلافی اس طرح کی کوئی مشقت اٹھا کر کرتا ہے تو اس سے غلطی کی تلافی بھی ہو جاتی ہے اور اسے اپنے ایمان و عقیدہ میں رسوخ بھی حاصل ہوتا ہے ۔

طلاق

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ، لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ. وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ، وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ، فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ. لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْراً. فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ، وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ، وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ. ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ، وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ. وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ، قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ءٍ قَدْرًا. وَّالّٰءِیْ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآءِکُمْ، اِنِ ارْتَبْتُمْ، فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ، وَّالّٰءِیْ لَمْ یَحِضْنَ، وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا. ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ، وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا. اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ، وَاِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ. فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ، وَاْتَمِرُوْ بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ، وَاِنْ تَعَاسَرْ تُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗ اُخْرٰی، لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ، وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰہُ اللّٰہُ، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰھَا، سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْراً . (الطلاق۶۵: ۱۔۷)

''اے نبی ، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تو عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا یہ زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو ۔ (عدت کے دوران میں) نہ تم اُنھیں اُن کے گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں ، الاّ یہ کہ وہ کسی صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں ۔ اور (یاد رکھو کہ) یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں گے تو (سمجھ لو کہ) اُنھوں نے اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ تم نہیں جانتے ، شاید اللہ اِس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے ۔ (اِسی طرح طلاق دو) ، پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے پر پہنچ جائیں تو یا اُنھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھو یا بھلے طریقے سے الگ کر دو۔ اور (نباہ کا ارادہ ہو یا جدائی کا ، دونوں صورتوں میں) دو ثقہ آدمیوں کو اپنے میں سے گواہ بنا لو۔ اور (گواہی دینے والو) ، تم اِس گواہی کو اللہ کے لیے قائم رکھو۔ یہ بات ہے جس کی اُن لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈریں گے ، (اُنھیں کوئی مشکل پیش آئی) تو اللہ اُن کے لیے (اِس سے نکلنے کا) راستہ پیدا کرے گا اور اُنھیں وہاں سے رزق دے گا ، جدھر اُن کا گمان بھی نہ جاتا ہو ۔ اور جو اللہ پر بھروسا کریں گے ، وہ اُن (کی دست گیری) کے لیے کافی ہے ۔ اللہ اپنے ارادے پورے کر کے رہتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، اُن کے بارے میں اگر کوئی شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں ۔ اور (تم میں سے) جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے اُس کے معاملے میں سہولت پیدا کر دے گا ۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے ۔ او رجو اللہ سے ڈرے گا ، وہ اُس کے گناہ اُس سے دور کر دے گا اور اُس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا ۔ (زمانۂ عدت میں) اُن عورتوں کو وہیں رکھو، جہاں تم رہتے ہو، اپنی حیثیت کے مطابق۔ اور اُن پر عرصہ تنگ کرنے کے لیے اُنھیں ستاؤ نہیں ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو، جب تک وہ حمل سے فارغ نہ ہو جائیں ۔ پھر اگر وہ تمھارے بچے کو دودھ پلائیں تو اُن کا معاوضہ اُنھیں دو اور یہ معاملہ دستور کے مطابق باہمی مشورے سے طے کرلو ۔ اور اگر تم زحمت محسوس کرو تو شوہر کے لیے بچے کو کوئی دوسری عورت دودھ پلا لے گی ۔ چاہیے کہ خوش حال آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جسے نپا تلا ہی ملا ہے ، وہ اُسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے ، اُس سے زیادہ کا وہ اُس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ (تم مطمئن رہو) ، اللہ عنقریب کچھ تنگی کے بعد آسانی عطا فرمائے گا۔''

میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکے تو انبیا علیہم السلام کے دین میں علیحدگی کی گنجایش ہمیشہ رہی ہے ۔ اصطلاح میں اسے طلاق کہا جاتا ہے ۔ دین ابراہیمی کی روایات کے تحت عرب جاہلیت بھی اس سے پوری طرح واقف تھے ۔ بعض بدعات اور انحرافات تو یقیناًراہ پا گئے تھے ، لیکن ان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا قانون ان کے ہاں بھی کم و بیش وہی تھا جواب اسلام میں ہے ۔ ۲۵ ؂ سورۂ طلاق کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند ترامیم اور اضافوں کے ساتھ اسی قانون کی تجدید فرمائی ہے ۔ اس کی بعض تفصیلات بقرہ و احزاب میں بھی بیان ہوئی ہیں، لیکن غور کیجیے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اس میں اصل کی حیثیت سورۂ طلاق کی ان آیات ہی کو حاصل ہے ۔

ہم یہاں اس قانون کی وضاحت کریں گے ۔

طلاق سے پہلے

طلاق کا یہ حکم جس صورت حال سے متعلق ہے ، اس کی نوبت پہنچنے سے پہلے ہر شخص کی خواہش ہونی چاہیے کہ جو رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو گیا ہے ، اسے ممکن حد تک ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی جائے ۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے اسی بنا پر شوہر کو اجازت دی ہے کہ وہ بیوی کے نشوز پر اس کی تادیب کر سکتا ہے ۔ لیکن اصلاح کی تمام ممکن تدابیر اختیار کر لینے کے بعد بھی اگر صورت حال بہتر نہیں ہوتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ رشتہ قائم نہ رہ سکے گا تو طلاق سے پہلے آخری تدبیر کے طور پر اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے قبیلہ ، برادری اور ان کے رشتہ داروں اور خیر خواہوں کو اسی سورہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر معاملات کو سدھارنے کی کوشش کریں ۔ اس کی صورت قرآن نے یہ بتائی ہے کہ ایک حکم میاں اور ایک بیوی کے خاندان میں سے منتخب کیا جائے اور وہ دونوں مل کر ان میں صلح کرائیں ۔ اس سے توقع ہے کہ جس جھگڑے کو فریقین خود طے کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ، وہ خاندان کے بزرگوں اور دوسرے خیر خواہوں اور ہم دردوں کی مداخلت سے طے ہو جائے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا ، فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا. اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحاً، یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا. اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا.(النساء ۴: ۳۵)

''اور اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے لوگوں میں سے اور ایک عورت کے لوگوں میں سے مقرر کردو۔ اگر (میاں اور بیوی) ، دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا ۔ بے شک، اللہ علیم و خبیر ہے ۔ ''

آیت کے آخر میں اگر غور کیجیے تو نہایت بلیغ اسلوب میں میاں بیوی کو ترغیب دی ہے کہ انھیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ وہ اگر افتراق کے بجائے ساز گاری چاہیں گے تو ان کا پروردگار بڑا کریم ہے ۔ اس کی توفیق ان کے شامل حال ہو جائے گی۔

طلاق کا حق

سورہ کی ابتدا 'اذا طلقتم النساء' کے الفاظ سے ہوئی ہے ۔ اس کے بعد یہاں بھی اور قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر بھی طلاق کے احکام جہاں بیان ہوئے ہیں ، اس فعل کی نسبت مرد ہی کی طرف کی گئی ہے ۔ پھر بقرہ (۲) کی آیت ۲۳۷ میں قرآن نے شوہر کے لیے 'الذی بیدہ عقدۃ النکاح' (جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے ۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے ۔ عورت کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری ہمیشہ سے مرد پر ہے اور اس کی اہلیت بھی قدرت نے اسے ہی دی ہے ۔ قرآن نے اسی بنا پر اسے قوام قرار دیا اور بقرہ ہی کی آیت ۲۲۸ میں بہ صراحت فرمایا ہے کہ 'للرجال علیھن درجۃ' (شوہروں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے)۔ چنانچہ ذمہ داری کی نوعیت اور حفظ مراتب، دونوں کا تقاضا ہے کہ طلاق کا اختیار بھی شوہر ہی کو دیا جائے ۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ خاندان کا ادارہ انسان کی ناگزیر ضرورت ہے ۔ ذمہ داریوں کے فرق اور وصل و فصل کے یکساں اختیارات کے ساتھ جس طرح دنیا کا کوئی دوسراادارہ قائم نہیں رہ سکتا ، اسی طرح خاندان کا ادارہ بھی نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ عورت نے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت و کفالت کے عوض اگر اپنے آپ کو کسی مرد کے سپرد کر دینے کا معاہدہ کر لیا ہے تو اسے ختم کر دینے کا اختیار بھی اس کی رضا مندی کے بغیر عورت کو نہیں دیا جا سکتا ۔ یہی انصاف ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسری صورت اگر اختیار کی جائے گی تو یہ بے انصافی ہو گی اور اس کا نتیجہ بھی لامحالہ یہی نکلے گا کہ خاندان کا ادارہ بالآخر ختم ہو کر رہ جائے گا ۔

اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ عورت اگر علیحدگی چاہے تو وہ طلاق دے گی نہیں ، بلکہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی ۔ عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پا کر یہ مطالبہ مان لے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو عدالتوں کے لیے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ اتنی بات اگر متحقق ہو جاتی ہے کہ عورت اپنے شوہر سے بے زار ہے اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی توشوہر کو حکم دیا جائے کہ اس نے مہر کے علاوہ کوئی مال یا جائداد اگر بیوی کو دی ہوئی ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے تو واپس لے کر اسے طلاق دے دے ۔

سیدنا ابن عباس کی روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ میں اس کے دین و اخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی ، مگر مجھے اسلام میں کفر کا اندیشہ ہے ۔ ۲۶؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شکایت سنی تو فرمایا : اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے مان لیا تو آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کر دو۔ ۲۷؂

طلاق کا طریقہ

شوہر خود طلاق دے یا بیوی کے مطالبے پر اسے علیحدہ کر دینے کا فیصلہ کرے ، دونوں ہی صورتوں میں اس کا جو طریقہ ان آیات میں بتایا گیا ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ طلاق عدت کے لحاظ سے دی جائے گی ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے ۔یہ جب دی جائے گی ، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی ۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی ۔ یہ مدت چونکہ اصلاً مقرر ہی اس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے ، اس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ہر مسلمان کو اس معاملے میں اس غصے کے باوجود جو اس طرح کے موقعوں پر بیوی کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے ، اللہ ، اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبد اللہ کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا :

<

strong>مرہ فلیراجعھا، ثم لیمسکھا حتی تطھر، ثم تحیض ثم تطھر، ثم إن شاء امسک بعد، وإن شاء طلق قبل ان یمس، فتلک العدۃ التی امر اللّٰہ ان تطلق لھا النساء .(بخاری ، رقم ۴۸۵۰)

''اس کو حکم دو کہ رجوع کرے ، پھر اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو۔۲۸؂ اس کے بعد چاہے تو روک لے اور چاہے تو ملاقات سے پہلے طلاق دے دے ۔ اس لیے کہ یہی اس عدت کی ابتدا ہے جس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ ''

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ عدت کا شمار پوری احتیاط کے ساتھ کیا جائے ۔ طلاق کا معاملہ چونکہ نہایت نازک ہے ، ا س سے عورت اور مرد اور ان کی اولاد اور ان کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ جب طلاق دی جائے تو اس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ طلاق کے وقت عورت کی حالت کیا تھی ، عدت کی ابتدا کس وقت ہوئی ہے ، یہ کب تک باقی رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی ۔ معاملہ گھر میں رہے یا خدانخواستہ کسی مقدمے کی صورت میں عدالت تک پہنچے، دونوں صورتوں میں اسی سے متعین کیا جائے گا کہ شوہر کو رجو ع کا حق کب تک ہے، اسے عورت کو گھر میں کب تک رکھنا ہے ، نفقہ کب تک دینا ہے ، وراثت کا فیصلہ کس وقت کے لحاظ سے کیا جائے گا ،عورت اس سے کب جدا ہو گی اور کب اسے دوسرا نکاح کر لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔

۲۔ عدت کے پورا ہونے تک شوہر کو رجوع کا حق ہے ۔ 'فاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف' (پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے تک پہنچ جائیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھویا بھلے طریقے سے الگ کردو) کے الفاظ میں یہ بات قرآن نے ان آیات میں واضح کر دی ہے ۔ پھر سورۂ بقرہ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کی طرح رجوع کا یہ حق بھی شوہر کو اس لیے دیا گیا ہے کہ خاندان کے نظم کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیوی کے مقابلے میں اس کے لیے ایک درجہ ترجیح کا رکھا ہے ۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حقوق صرف شوہروں کے ہیں ، بیویوں کا کوئی حق نہیں ہے ۔ لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ عورتوں پر جس طرح ان کے شوہروں سے متعلق حقوق ہیں ، اسی طرح ان کے بھی حقوق ہیں ۔ بنی آدم کے لیے یہ حقوق کوئی اجنبی چیز نہیں ہیں ۔ وہ ان سے ہمیشہ واقف رہے ہیں ۔ لہٰذاشوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے مطالبے کے ساتھ دستور کے مطابق بیوی کے حقوق کا بھی لحاظ کریں :

وَبُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ، اِنْ اَرَادُوْآ اِصْلَاحاً، وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ.(البقرہ۲: ۲۲۸)

''اور اُن کے شوہر اگر معاملات کی اصلاح چاہیں تو اِس عدت کے دوران میں اُنھیں لوٹا لینے کے زیادہ حق دار ہیں ، اور اُن عورتوں پر دستور کے مطابق جیسے حقوق ہیں ، اِسی طرح اُن کے بھی حقوق ہیں ۔ (شوہر کی حیثیت سے) البتہ، مردوں کے لیے اُن پر ایک درجہ ترجیح کا ہے۔ (یہ اللہ کا حکم ہے ) اور اللہ عزیزو حکیم ہے۔ ''

اس طرح کے معاملات چونکہ جذبات پر مبنی اقدامات اور افراط و تفریط کے رویوں کا باعث بن سکتے اور لوگ اس میں چنددر چند غلطیوں کا ارتکاب کر سکتے ہیں ، اس لیے آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات عزیزوحکیم کا حوالہ دیا ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی ان کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''خدا عزیز ہے ، اس وجہ سے اسی کو حق ہے کہ وہ حکم دے اور وہ حکیم ہے ، اس وجہ سے جو حکم بھی اس نے دیا ہے ، وہ سراسر حکمت پر مبنی ہے۔ بندوں کا کام یہ ہے کہ ا س کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کریں۔ اگر وہ اس کے احکام کی مخالفت کریں گے تو اس کی غیرت و عزت کو چیلنج کریں گے اور اس کے عذاب کو دعوت دیں گے ، اور اگر خدا سے زیادہ حکیم اور مصلحت شناس ہونے کے خبط میں مبتلا ہوں گے تو خود اپنے ہاتھوں اپنے قانون اور نظام ، سب کا تیا پانچا کر کے رکھ دیں گے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۳۳)

۳۔ شوہر رجوع نہ کرے تو عدت کے پورا ہو جانے پر میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ہدایت فرمائی ہے کہ یہ خاتمے کو پہنچ رہی ہو تو شوہر کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اسے بیوی کو روکنا ہے یا رخصت کردینا ہے ۔ دونوں ہی صورتوں میں اللہ کا حکم ہے کہ معاملہ معروف کے مطابق ، یعنی بھلے طریقے سے کیا جائے ۔ فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فیصلے کریں گے ، انھیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اگر کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ ان کے لیے اس سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا ۔

سورۂ بقرہ میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ روکنامقصود ہو تو یہ ہرگز ہرگز دست ستم دراز کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے ۔ اس سورہ کی جو آیت اوپر نقل ہوئی ہے ، اس میں 'ان ارادوا اصلاحاً ' کی شرط اسی لیے عائد کی گئی ہے کہ رجوع اس ارادے سے نہ ہو کہ بیوی کو اپنی خواہش کے مطابق اذیت دی جا سکے ، بلکہ محبت اور سازگاری کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ہو، ورنہ یہ محض ظلم ہو گا جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی کا باعث بن جائے گا ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ، وَّلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا، وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ، وَلَا تَتَّخِذُوْآ اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُواً ، وَّاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ، یَعِظُکُمْ بِہٖ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ.(البقرہ ۲ : ۲۳۱)

''اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کے خاتمے پر پہنچ جائیں تو یا اُنھیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ اور اُنھیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ اُن پر زیادتی کرو۔ اور (جان لو کہ)جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا ۔ اور اللہ کی آیتوں کو مذاق نہ بناؤ اور اپنے اوپر اللہ کی عنایت کو یاد رکھواور اُس قانون اور حکمت کو یاد رکھو جو اُس نے اتاری ہے ، جس کی وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ، اور خوب جان رکھو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہ۔ ''

استاذ امام اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''مثبت پہلو سے بات اوپر کہہ چکنے کے بعد منفی پہلو سے بھی اس کی وضاحت ا س لیے کر دی گئی کہ ظالم لوگ طلاق اور طلاق کے بعد مراجعت کے شوہری حق کو اس ظلم کے لیے استعمال کر سکتے تھے ، حالانکہ یہ صریح اعتدا ، یعنی اللہ کے حدود سے تجاوز اور اس کی شریعت کو مذاق بنانا ہے ۔ فرمایا کہ جو ایسی جسارت کرتے ہیں ، بظاہر تو وہ ایک عورت کو نشانۂ ظلم بناتے ہیں ، لیکن حقیقت میں وہ سب سے بڑا ظلم اپنی جان پر کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ کے حدود کو پھاندنے اور اس کی شریعت کو مذاق بنانے کی سزا بڑی ہی سخت ہے ۔

آخر میں فرمایا کہ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو کہ اس نے تمھیں ایک برگزیدہ امت کے منصب پر سرفراز فرمایا ، تمھاری ہدایت کے لیے تمھارے اندر اپنا نبی بھیجا، تمھیں خیر و شر اور نیک و بد سے آگاہ کرنے کے لیے تمھارے اوپر اپنی کتاب اتاری جو قانون اور حکمت ، دونوں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ کی ایسی عظیم نعمتیں پانے کے بعد اگر تم نے ان کا یہی حق ادا کیا کہ خدا کے حدود کو توڑا اور اس کی شریعت کو مذاق بنایا تو سوچ لو کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ وہ تمھاری ہر بات سے باخبر ہے ، یعنی وہ لوگوں کی شرارتوں کے باوجود ان کو ڈھیل تو دیتا ہے ، لیکن جب وہ پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے کوئی بھی چھوٹ نہ سکے گا۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۳۹)

اسی طرح رخصت کر دینے کا فیصلہ ہو تو 'تسریح باحسان' کا حکم دیا ہے : 'فامساک بمعروف او تسریح باحسان' ۲۹؂ یعنی بیوی کو اچھے طریقے سے رخصت کیا جائے ۔ اس باب میں جو ہدایات خود قرآن میں دی گئی ہیں ، وہ یہ ہیں :

اولاً ، بیوی کو کوئی مال ، جائداد ، زیورات اور ملبوسات وغیرہ ، خواہ کتنی ہی مالیت کے ہوں ، اگر تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں تو ان کا واپس لینا جائز نہیں ہے ۔ نان نفقہ اور مہر تو عورت کا حق ہے ، ان کے واپس لینے یا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ جو چیزیں دی گئی ہوں ، ان کے بارے میں بھی قرآن کا حکم ہے کہ وہ ہرگز واپس نہیں لی جا سکتیں ۔

اس سے دو صورتیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں :

ایک یہ کہ میاں بیوی میں حدودالہٰی کے مطابق نباہ ممکن نہ رہے ، معاشرے کے ارباب حل و عقد بھی یہی محسوس کریں ، لیکن میاں صرف اس لیے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو کہ اس کے دیے ہوئے اموال بھی ساتھ ہی جائیں گے تو بیوی یہ اموال یا ان کا کچھ حصہ واپس کر کے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے ۔ اس طرح کی صورت حال اگر کبھی پیدا ہو جائے تو شوہر کے لیے اسے لینا ممنوع نہیں ہے ۔

دوسری یہ کہ بیوی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرے ۔ اس سے میاں بیوی کے رشتے کی بنیاد ہی چونکہ منہدم ہو جاتی ہے ، لہٰذا شوہر کے لیے جائز ہے کہ اس صورت میں وہ اپنا دیا ہوا مال اس سے واپس لے لے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَلَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْأً ، اِلَّآاَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ، تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا، وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ ، فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ. (البقرہ ۲: ۲۲۹)

''اور تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم نے جو کچھ اِن عورتوں کو دیا ہے ، اِس میں سے کچھ بھی (اِس موقع پر) واپس لو۔یہ صورت، البتہ مستثنیٰ ہے کہ دونوں کو حدودالہٰی پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ پھر اگر تمھیں بھی اندیشہ ہو کہ وہ حدود الہٰی پر قائم نہیں رہ سکتے تو (شوہر کی دی ہوئی) اُن چیزوں کے معاملے میں اُن دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیے میں دے کر طلاق حاصل کر لے ۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں ۔ سو اِن سے

آگے نہ بڑھو ۔ اور (جان لو کہ) جو اللہ کے حدود سے آگے بڑھتے ہیں ، وہی ظالم ہیں۔''

وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآاَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ... وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَاراً فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْءًا. أَتَاْ خُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ، وَ کَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ ، وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا.(النساء ۴ : ۱۹۔۲۱)

''اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ اُنھیں دے چکے ہو، اُس کا کچھ حصہ اڑا لینے کے لیے اُنھیں تنگ کرو، ہاں اِس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بدچلنی کی مرتکب ہوں... اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیروں مال دیا ہو، اُس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم بہتان لگا کر اور صریح حق تلفی کر کے اُسے واپس لوگے ؟ اور آخر کس طرح لو گے ، جبکہ تم ایک دوسرے کے لیے بے حجاب ہو چکے ہو اور (نکاح کے موقع پر)وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔''

اس دوسری صورت کے لیے تنبیہ فرما دی ہے کہ کوئی شخص بیوی پر بہتان لگا کر اس سے دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے جواز پیدا کرنے کی جسارت نہ کرے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا پیمان وفا باندھا ، جو ایک نہایت مضبوط میثاق کے تحت اس کے حبا لۂ عقد میں آئی ، جس نے اپنا سب ظاہر و باطن اس کے لیے بے نقاب کر دیا اور دونوں نے ایک مدت تک یک جان ودو قالب ہو کر زندگی گزاری ، اس سے جب جدائی کی نوبت آئے تو اپنا کھلایا پہنایا اس سے اگلوانے کی کوشش کی جائے ، یہاں تک کہ اس ذلیل غرض کے لیے اس کو بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بھی بنایا جائے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۱)

ثانیاً، عورت کو ہاتھ لگانے یا اس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دی جائے تو مہر کے معاملے میں شوہر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ، لیکن مہر مقرر ہو اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی نوبت پہنچ جائے تو مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا ہو گا ، الاّ یہ کہ عورت اپنی مرضی سے پورا چھوڑ دے یا مرد پورا ادا کر دے ۔ ارشاد فرمایا ہے:

لَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ ، اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِیْضَۃً... وَّاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ، وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً، فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ ، اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ، وَاَنْ تَعْفُوْا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ، وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ .( البقرہ ۲ : ۲۳۶۔ ۲۳۷)

''اور اگر تم عورتوں کو طلاق دو، اِس سے پہلے کہ تم نے اُنھیں ہاتھ لگایا ہو یا اُن کا مہر مقرر کیا ہو تو (مہر کے معاملے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں ہے ...اور اگر تم نے طلاق تو اُنھیں ہاتھ لگانے سے پہلے دی ، مگر مہر مقرر کر چکے ہو تو مقررہ مہر کا نصف اُنھیں دینا ہوگا ، الاّیہ کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں یا وہ چھوڑ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔ اور یہ کہ تم مرد اپنا حق چھوڑ دو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے ۔ اور اپنے درمیان کی فضیلت نہ بھولو۔ بے شک ، اللہ دیکھ رہا ہے اُس کو جو تم کر رہے ہو۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے ان آیات کی تفسیر میں لکھا ہے :

''اگرچہ ایک محرک عورت کے لیے بھی مہر چھوڑنے کا موجود ہے کہ شوہر نے ملاقات سے پہلے ہی طلاق دی ہے ، لیکن قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کاتقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہش مند نہ ہو ، بلکہ اس میدان ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلووں سے ابھارا ہے : ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ نکاح کی گرہ کو جس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے ، اسی طرح اس کو کھولنے کا بھی مجاز ہے ۔ دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی جو تقویٰ کے اعلیٰ ترین اوصاف میں سے ہے ، وہ جنس ضعیف کے مقابل میں جنس قوی کے شایان شان زیادہ ہے ۔ تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشا ہے اور جس کے سبب سے اس کو عورت کا قوام اور سربراہ بنایا ہے ، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہیے ۔ اس فضیلت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت سے لینے والا نہیں ، بلکہ اس کو دینے والا بنے ۔ ''(تدبر قرآن ۱/ ۵۴۸)

ثالثاً، عورت کو کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کیا جائے ۔ قرآن نے اسے اللہ سے ڈرنے والوں اور احسان کا رویہ اختیار کرنے والوں پر ایک حق قرار دیا ہے ۔ طلاق اگر عورت کو ہاتھ لگائے بغیر بھی دی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ حق ادا ہونا چاہیے :

<

strong>وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ، حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ .(البقرہ ۲ : ۲۴۱)

''اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق زندگی کا کچھ سامان دے کر رخصت کرنا ہے۔ یہ حق ہے اُن پر جو خدا سے ڈرنے والے ہوں ۔ ''

سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۹ میں یہی بات 'فمتعوھن و سرحوھن سراحاً جمیلاً ' (لیکن انھیں کچھ سامان دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے ۔ بقرہ میں اُن عورتوں کے متعلق بھی اِسی کا حکم دیا ہے جن سے خلوت نہ ہوئی ہو یا جنھیں مہر مقرر کیے بغیر طلاق دے دی جائے ۔ قرآن کی ہدایت ہے کہ اس کی مقدار آدمی کو سوسائٹی کے دستور اور اپنے معاشی حالات کی رعایت سے متعین کرنی چاہیے :

وَّمَتِّعُوْہُنَّ ، عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ، حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ . (۲ : ۲۳۶)

''اور اُنھیں دستور کے مطابق کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کرو، اچھی حالت والے اپنی حالت کے مطابق اور غریب اپنی حالت کے مطابق ۔ یہ حق ہے اُن پر جو احسان کا رویہ اختیار کرنے والے ہوں۔''

اس سے واضح ہے کہ یہ ایک حق واجب ہے ۔ اگر کوئی شخص اسے ادا نہیں کرتا تو تقویٰ اور احسان کی صفات پر مبنی ہونے کی وجہ سے قانون چاہے اس پر گرفت نہ کر سکے ، لیکن اللہ کے ہاں وہ اس پر یقیناًماخوذ ہو گا اور آخرت میں اس کے ایمان و احسان کا وزن اس کے لحاظ سے متعین کیا جائے گا ۔

۴۔ عدت کے دوران میں شوہر رجوع کر لے تو عورت بدستور اس کی بیوی رہے گی ، لیکن اس کے معنی کیا یہ ہیں کہ شوہر اسی طرح جب چاہے بار بار طلاق دے کر عدت میں رجوع کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے کہ طلاق اور طلاق کے بعد رجوع کا یہ حق ہر شخص کو ایک رشتۂ نکاح میں دو مرتبہ حاصل ہے : الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان' ۳۰؂ (اس طلاق کا حق دو مرتبہ ہے ، پھر بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا خوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے)۔ یعنی آدمی طلاق دے کر رجوع کر لے تو عورت کے ساتھ اس کی پوری ازدواجی زندگی میں اس کو ایک مرتبہ پھر اسی طرح طلاق دے کر عدت کے دوران میں رجوع کر لینے کا حق حاصل ہے ، لیکن اس کے بعد یہ حق باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ایک رشتۂ نکاح میں دو مرتبہ رجوع کے بعد تیسری مرتبہ پھر علیحدگی کی نوبت آ گئی اور شوہر نے طلاق دے دی تو اس کے نتیجے میں عورت ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو جائے گی ، الاّ یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہو اور وہ بھی اسے طلاق دے دے :

فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ، فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ، اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ ، وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ یُبَیِّنُھَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ.(البقرہ ۲ : ۲۳۰)

''پھر اگر اُس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اِس کے بعد وہ عورت اُس کے لیے جائز نہ ہوگی ، جب تک اُس کے سوا کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ۔ پھر اگر اُس نے بھی طلاق دے دی تو اُن دونوں کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضایقہ نہیں ، اگر یہ توقع رکھتے ہوں کہ اب وہ حدود الہٰی پر قائم رہ سکیں گے۔ اور یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں جنھیں وہ اُن لوگوں کے لیے واضح کر رہا ہے جو جاننا چاہتے ہیں۔''

پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کے لیے قرآن نے اس آیت میں تین شرطیں بیان فرمائی ہیں :

ایک یہ کہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرے ۔

دوسری یہ کہ اس سے بھی نباہ نہ ہو سکے اور وہ اسے طلاق دے دے ۔

تیسری یہ کہ وہ دونوں سمجھیں کہ دوبارہ نکاح کے بعد اب وہ حدود الہٰی پر قائم رہ سکیں گے ۔

پہلی اور دوسری شرط میں نکاح سے مراد عقد نکاح اور طلاق سے مراد وہی طلاق ہے جو آدمی نباہ نہ ہونے کی صورت میں علیحدگی کا فیصلہ کر لینے کے بعد اپنی بیوی کو دیتا ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''اصل یہ ہے کہ لفظ نکاح شریعت اسلامی کی ایک معروف اصطلاح ہے جس کا اطلاق ایک عورت اور مرد کے اس ازدواجی معاہدے پر ہوتا ہے جو زندگی بھر کے نباہ کے ارادے کے ساتھ زن و شو کی زندگی گزارنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ اگر یہ ارادہ کسی نکاح کے اندر نہیں پایا جاتا تو وہ فی الحقیقت نکاح ہی نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک سازش ہے جو ایک عورت اور ایک مرد نے باہم مل کر کر لی ہے ۔ نکاح کے ساتھ شریعت نے طلاق کی جو گنجایش رکھی ہے تو وہ اصل اسکیم کا کوئی جزو نہیں ہے ، بلکہ یہ کسی ناگہانی افتاد کے پیش آ جانے کا ایک مجبورانہ مداوا ہے ۔ اس وجہ سے نکاح کی اصل فطرت یہی ہے کہ وہ زندگی بھر کے سنجوگ کے ارادے کے ساتھ عمل میں آئے ۔ اگر کوئی نکاح واضح طور پر محض ایک معین و مخصوص مدت تک ہی کے لیے ہو تو اس کو متعہ کہتے ہیں او رمتعہ اسلام میں قطعی حرام ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس نیت سے کسی عورت سے نکاح کرے کہ اس نکاح کے بعد طلاق دے کر وہ اس عورت کو اس کے پہلے شوہر کے لیے جائز ہونے کا حیلہ فراہم کرے تو شریعت کی اصطلاح میں یہ حلالہ ہے اور یہ بھی اسلام میں متعہ ہی کی طرح حرام ہے ۔ جو شخص کسی کی مقصد بر آری کے لیے یہ ذلیل کام کرتا ہے ، وہ درحقیقت ایک قرم ساق یا بھڑوے یا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے 'کرایے کے سانڈ' کا رول ادا کرتا ہے اور ایسا کرنے والے اور ایسا کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہے ۔ '' ۳۱؂ (تدبر قرآن ۱/ ۵۳۷)

تیسری شرط اس لیے عائد کی گئی ہے کہ نکاح و طلاق کو لوگ بچوں کا کھیل نہ سمجھیں اور متنبہ رہیں کہ کسی عورت کو طلاق دینی ہے تو خدا سے ڈرتے ہوئے اور نباہ کی کوئی صورت نہ پا کر دی جائے ، اور اس سے نکاح کرنا ہے تو یہ لازماً دل کے سچے ارادے اور سازگاری کی مخلصانہ خواہش کے ساتھ کیا جائے ۔ اس سے مختلف کوئی رویہ اختیار کرنا کسی بندۂ مومن کے لیے اس معاملے میں جائز نہیں ہے ۔

ہمارے فقہا ان شرائط پر یہ اضافہ کرتے ہیں کہ دوسرے شوہر سے طلاق لازماً مباشرت کے بعد ہونی چاہیے ، اس کے بغیر وہ عورت کو پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں سمجھتے ۔ اس رائے کے حق میں جو دلائل ان کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ اہم یہ تین ہیں :

اول یہ کہ آیت میں فعل 'تنکح'استعمال ہوا ہے ۔ اس میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے، لیکن نکاح چونکہ عورت نہیں ، بلکہ مرد کرتا ہے ، اس لیے 'تنکح' لازماً یہاں مباشرت کے معنی میں ہو گا۔

دوم یہ کہ 'تنکح' کے بعد 'زوجاً غیرہ'کے الفاظ آئے ہیں ۔ ان میں 'زوجاً' کا لفظ خود بتا رہا ہے کہ نکاح تو ہو چکا، اس لیے ضروری ہے کہ 'تنکح' کو اب مباشرت کرنے ہی کے معنی میں لیا جائے ۔

سوم یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے ایک عورت کو پہلے شوہر کی طرف مراجعت سے یہ کہہ کر روک دیا کہ دوسرے شوہر سے مباشرت کے بغیر وہ اس کے لیے جائز نہیں ہو سکتی ۔

پہلی اور دوسری دلیل کا نہایت واضح جواب خود قرآن نے دے دیا ہے ۔ آیۂ زیر بحث کے صرف ایک آیت بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ .(البقرہ ۲ : ۲۳۲)

''اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو اب اِس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کر لیں ۔ ''

اس میں دیکھ لیجیے ، نکاح کی نسبت بھی عورتوں کی طرف ہے اور اس کے بعد 'ازواجھن' بھی بالکل 'زوجاً غیرہ' کے طریقے پر آیا ہے ، لیکن صاف واضح ہے کہ 'ان ینکحن' کے معنی یہاں عقد نکاح ہی کے ہیں ۔ اسے مباشرت کے معنی میں کسی طرح نہیں لیا جا سکتا ۔

پھر یہ بات بھی نہایت عجیب ہے کہ نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف نہیں ہو سکتی ۔ اس پر یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ نکاح کی نسبت اگر ان کی طرف نہیں ہو سکتی تو فعل مباشرت کی نسبت کیا ہو سکتی ہے ؟ اس طریقے سے دیکھا جائے تو یہ بھی عورت نہیں ، بلکہ مرد ہی کرتا ہے ۔

رہی تیسری دلیل تو یہ درحقیقت ایک روایت کا مدعا نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ امام بخاری نے اسے جس طرح نقل کیا ہے ، اسے دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عورت نے نکاح کیا ہی اس مقصد سے تھا کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ چنانچہ طلاق لینے کے لیے اس نے جب غلط بیانی کر کے دوسرے شوہر کو زن و شو کا تعلق قائم کرنے سے قاصر قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سرزنش کے لیے اسے یہ کہہ کر پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا کہ اب تم اس دوسرے شوہر سے لذت اندوز ہونے کے بعد ہی اس کے پاس جا سکتی ہو ۔ یہ بیان شرط نہیں ، بلکہ تعلیق بالمحال کا اسلوب ہے ۔ لہٰذا یہ روایت اگر کسی چیز کا ثبوت ہے تو حلالہ کی ممانعت کا ثبوت ہے ، اس میں فقہا کے موقف کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔

روایت یہ ہے :

عن عکرمۃ ان رفاعۃ طلق امراتہ فتزوجھا عبد الرحمن بن الزبیر القرظی، قالت عائشۃ ، وعلیھا خمار اخضر فشکت الیھا ، وارتھا خضرۃ بجلدھا، فلما جاء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، والنساء ینصر بعضھن بعضا، قالت عائشۃ : مارایت مثل ما یلقی المؤمنات، لجلدھا اشد خضرۃ من ثوبھا. قال: وسمع انھا قد اتت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فجاء ومعہ ابنان لہ من غیرھا. قالت : واللّٰہ ما لی الیہ من ذنب الا ان ما معہ لیس باغنی عنی من ھذہ ،واخذت ھدبۃ من ثوبھا ، فقال : کذبت واللّٰہ ، یا رسول اللّٰہ ، انی لانفضھا نفض الادیم ، ولکنھا ناشز ترید رفاعۃ. فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : فان کان ذلک لم تحلی لہ او لم تصلحی لہ حتی یذوق من عسیلتک. قال : وابصر معہ ابنین لہ ، فقال : بنوک ھولاء؟ قال : نعم. قال : ھذا الذی تزعمین ما تزعمین. فواللّٰہ ، لھم اشبہ بہ من الغراب بالغراب. (بخاری ، رقم ۵۳۷۷)

''عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس کے ساتھ عبد الرحمن بن زبیر قرظی نے نکاح کر لیا ۔ سیدہ عائشہ بتاتی ہیں کہ وہ سبز دوپٹا اوڑھے ہوئے ان کے پاس آئی اور ان سے شوہر کی شکایت کی اور اپنے جسم کے نیل دکھائے ۔ عورتیں ایک دوسری کی مدد کرتی ہی ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ نے عرض کیا : میں نے مسلمان عورتوں کے سوا کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہیں دیکھا ۔ اس کی جلد تو اس کے دوپٹے سے بھی زیادہ سبز ہو رہی ہے ۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ اس کے شوہر کو جب معلوم ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لے کر گئی ہے تو وہ بھی دوسری بیوی سے اپنے دو بیٹوں کو ساتھ لے کر حاضر ہو گیا ۔ شوہر کو دیکھ کر اس نے دوپٹے کا سرا ہاتھ میں پکڑ کر لٹکایا اور کہا: مجھے اس سے یہی شکایت ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے ، وہ میرے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اس پر عبد الرحمن نے عرض کیا: خدا کی قسم ، یا رسول اللہ ، میں تو اس کے ساتھ وہی کرتا ہوں جو دباغت دینے والا چمڑے کے ساتھ کرتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ نافرمان ہے اور رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا : یہ بات ہے تو تم رفاعہ کے لیے ہرگز حلال نہیں ہو ، جب تک عبد الرحمن تم سے لذت اندوز نہ ہولے ۔ پھر آپ نے عبدالرحمن کے بیٹوں کو دیکھ کر پوچھا: یہ تمھارے بیٹے ہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : تم اس طرح کے جھوٹ بولتی ہو ۔ بخدا، یہ تو عبدالرحمن کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں ، جتنا کوئی کوا دوسرے سے ملتا ہوا ہوتا ہے ۔ ''

۵۔ شوہر طلاق دے یا رجوع کرے ، دونوں ہی صورتوں میں فرمایا ہے کہ اپنے اس فیصلے پر وہ دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لے اور گواہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے لیے اپنی اس گواہی پر قائم رہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی بات کا

یہ طلاق کا صحیح طریقہ ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کے مطابق اپنی بیوی کو علیحدہ کرتایا علیحدگی کا فیصلہ کر لینے کے بعد اس کی طرف مراجعت کرتا ہے تو اس کے یہ فیصلے شرعاً نافذ ہو جائیں گے ، لیکن کسی پہلو سے اس کی خلاف ورزی کر کے اگر طلاق دی جاتی ہے تو یہ پھر ایک قضیہ ہے جس کا فیصلہ عدالت کرے گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح کے جو مقدمات پیش ہوئے ، ان میں دو نہایت اہم ہیں ۔

پہلا مقدمہ عبد اللہ بن عمر کا ہے ۔ انھوں نے ایام حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ اسے سن کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا : اسے حکم دو کہ رجوع کرے، پھر اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو ، پھر حیض آئے ، پھر پاک ہو ۔ اس کے بعد چاہے تو روک لے اور چاہے تو ملاقات سے پہلے طلاق دے دے۔ اس لیے کہ یہی اس عدت کی ابتدا ہے جس کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ ۳۲ ؂

دوسرامقدمہ رکانہ بن عبد یزید کا ہے ۔ روایتوں کو جمع کرنے سے واقعے کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں ۔ پھر نادم ہوئے اور اپنا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔آپ نے پوچھا : طلاق کس طرح دی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : ایک ہی وقت میں بیوی کو تین طلاق دے بیٹھا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے عرض کیا کہ ارادہ تو ایک ہی طلاق دینے کا تھا۔ آپ نے قسم دے کر پوچھا اور انھوں نے قسم کھا لی تو آپ نے فرمایا : یہ بات ہے تو رجوع کر لو ۔ یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے ۔ انھوں نے عرض کیا : لیکن میں نے تو ، یا رسول اللہ ، تین طلاق کہا تھا۔ آپ نے فرمایا : میں جانتا ہوں ، تم رجوع کر لو، یہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لحاظ سے طلاق دو۔ ۳۳؂

ان دونوں مقدمات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ جن اساسات پر مبنی ہے ، وہ یہ ہیں :

قانون کی خلاف ورزی ہو جائے اور ا س کی تلافی ممکن ہو تو قانون کے احترام کا تقاضا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو تلافی کا حکم دیا جائے ۔

قائل کو اپنے منشا کی وضاحت کا حق ہے ۔ وہ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں بات مجھ سے بلا ارادہ یا ارادہ واختیار کے کسی وجہ سے سلب ہو جانے کے باعث صادر ہوئی ہے تو اس کی یہ وضاحت تسلیم کی جا سکتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی اسی اصل سے متعلق ہے کہ ' لا طلاق و لاعتاق فی غلاق' ۳۴؂ ( غصے سے مغلوب ہو کر دی گئی طلاق موثر ہوتی ہے ، نہ غلام کی آزادی کا فیصلہ ) ۔

تین طلاق کے الفاظ بیان عدد کے لیے بھی بولے جا سکتے ہیں اور فیصلے کی سختی ، اتمام اور قطعیت ظاہر کرنے کے لیے بھی ۔ یہ دونوں احتمالات چونکہ زبان و بیان کی رو سے بالکل یکساں ہیں ، اس لیے قائل کی وضاحت اس معاملے میں بھی قابل قبول ہونی چاہیے ۔

تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ قرائن اس کے خلاف بھی ہوں تو اس طرح کی وضاحت ماننا ضروری ہے ۔ عدالت کو یہ حق یقیناًحاصل ہے کہ وہ اگر مطمئن نہیں ہو سکی تو اسے ماننے سے انکار کر دے ۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں معلوم ہے کہ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ لوگ پہلے کی طرح محتاط نہیں رہے تو اعلان کر دیا کہ اب کسی کا بیان بھی اس معاملے میں تسلیم نہ ہو گا اور تین طلاق کو تین طلاق ہی مان کر نافذ کر دیا جائے گا ۔ ۳۵ ؂

طلاق کی عدت

سورۂ طلاق کی ان آیتوں میں جس عدت کے لحاظ سے طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے ، قرآن نے دوسری جگہ وضاحت فرمائی ہے کہ وہ تین حیض ہے :

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ. (البقرہ ۲ : ۲۲۸)

''اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں ۔ ''

اس آیت میں 'قروء ' ' قرء ' کی جمع ہے ۔ یہ لفظ جس طرح حیض کے معنی میں آتا ہے ، اسی طرح طہر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ''تدبر قرآن '' میں اس کی تحقیق یہ بیان فرمائی ہے :

''اس کے اصل مادہ اور اس کے مشتقات پر ہم نے جس قدر غور کیا ہے ، اس سے ہمارا رجحان اسی بات کی طرف ہے کہ اس کے اصل معنی تو حیض ہی کے ہیں ، لیکن چونکہ ہر حیض کے ساتھ طہر بھی لازماً لگا ہوا ہے ، اس وجہ سے عام بول چال میں اس سے طہر کو بھی تعبیر کر دیتے ہیں ، جس طرح رات کے لفظ سے اس کے ساتھ لگے ہوئے دن کو یا دن کے لفظ سے اس کے ساتھ لگی ہوئی رات کو ۔ اس قسم کے استعمال کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں ۔ '' (۱/ ۵۳۲)

ہم نے اسے حیض کے معنی میں لیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اصل مسئلہ ہی یہ متعین کرنے کا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں ، اور اس کا فیصلہ حیض سے ہوتا ہے ، نہ کہ طہر سے ۔ پھراس کے لیے توقف کی مدت مقرر کی گئی ہے اور یہ بھی حیض سے بالکل متعین ہو جاتی ہے ، اس لیے کہ اس کی ابتدا کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہوتا۔

عام حالات میں عدت یہی ہے ، لیکن عورت حیض سے مایوس ہو چکی ہو یا حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود اسے حیض نہ آیا ہو ۳۶ ؂ تو سورۂ طلاق کی ان آیتوں میں قرآن نے بتایا ہے کہ پھر یہ تین مہینے ہو گی ۔ اسی طرح یہ بھی بتا دیا ہے کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔ حیض سے مایوس عورتوں کے ساتھ ان آیتوں میں ' ان ارتبتم' کی شرط بھی لگی ہوئی ہے ۔ استاذ امام اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ 'ان ارتبتم' کی شرط یہاں آئسہ مدخولہ اور آئسہ غیر مدخولہ کے درمیان امتیاز کے لیے آئی ہے ۔ یعنی آئسہ اگر مدخولہ ہے تو آئسہ ہونے کے باوجود اس کا امکان ہے کہ شاید یاس کی حالت عارضی ہو، پھر امید کی شکل پیدا ہو گئی ہو اور اس کے رحم میں کچھ ہو ۔ یہی صورت اس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے ، لیکن وہ مدخولہ ہے ... ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر یہی بات کہنی تھی تو صاف صاف یوں کیوں نہ کہہ دی کہ اگر آئسہ مدخولہ ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بات یوں کہی جاتی تو اس سے عدت کی اصل علت واضح نہ ہوتی ، جبکہ اس کا واضح ہونا ضروری تھا۔ اس عدت کی اصل علت عورت کا مجرد مدخولہ ہونا نہیں ، بلکہ یہ اشتباہ ہے کہ ممکن ہے کہ اس کے رحم میں کچھ ہو ۔ '' (تدبر قرآن ۸/ ۴۴۲)

اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اگر غیر مدخولہ ہو تو اس کے متعلق چونکہ حمل کا سوال پیدا نہیں ہوتا ، اس لیے اس کی کوئی عدت بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت فرما دی ہے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَانَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ ، فَمَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا.(۳۳: ۴۹)

''ایمان والو، تم جب مسلمان عورتوں سے نکاح کرو، پھر اُن کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو اُن پر تمھارے لیے کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے تم پورا ہونے کا تقاضا کرو گے ۔ ''

زمانۂ عدت کے جو احکام سورۂ طلاق کی زیر بحث آیات میں بیان ہوئے ہیں ، وہ یہ ہیں :

اولاً، ہدایت کی گئی ہے کہ اس دوران میں نہ بیوی کو اپنا گھر چھوڑنا چاہیے او رنہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کے گھر سے اسے نکال دے۔ اس طرح اکٹھا رہنے کے نتیجے میں توقع ہے کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے، دونوں اپنے رویے کا جائزہ لیں اور ان کا اجڑتا ہوا گھر ایک مرتبہ پھر آباد ہو جائے ۔ ' لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امراً' (شاید، اللہ اس کے بعد کوئی دوسری صورت پیدا کردے ) کے الفاظ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے ساتھ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو شخص ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا ، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا ، بلکہ اپنے ہی مصالح برباد کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حدود اپنے کسی فائدے کے لیے قائم نہیں کیے ۔ یہ بندوں کی بہبود کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔ لہٰذا انھیں کوئی شخص اگر توڑتا ہے تو وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھاتا ہے ۔

اس سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ مرد نے عورت کو طلاق ہی کسی ' فاحشۃ مبینۃ' کے ارتکاب پر دی ہو ۔ عربی زبان میں یہ تعبیر زنا اور اس کے لوازم و مقدمات کے لیے معروف ہے ۔ اس صورت میں ، ظاہر ہے کہ نہ شوہر سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو گھر میں رہنے دے ، اور نہ اس سے وہ فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے لیے یہ ہدایت کی گئی ہے ۔

ثانیاً، فرمایا ہے کہ عدت کے دوران میں وہ عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کی جگہ اور نان و نفقہ فراہم کرے گا۔ طلاق دے دینے کے بعد مرد اس معاملے میں بہت کچھ خست کا رویہ اختیار کر سکتا ہے ۔ چنانچہ تاکید کی گئی ہے کہ عورت کو ساتھ رکھنے کا طریقہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے اس کی خودداری مجروح ہو ، بلکہ تمام معاملات شوہر کی آمدنی کے لحاظ سے اور ا س کے معیار زندگی کے مطابق ہونے چاہییں ۔ مزید فرمایا ہے کہ اس عرصے میں اس کو کسی پہلو سے تنگ کرنے کی تدبیریں اختیار نہ کی جائیں کہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر وہ شوہر کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہو جائے ۔

یہ ذمہ داری ، ظاہر ہے کہ تیسری طلاق کے بعد بھی شوہر پر رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدت کی پابندی عورت اسی کے حمل کی تعیین اور حفاظت کے لیے قبول کرتی ہے ۔ سورۂ احزاب (۳۳) کی جو آیت ہم نے اوپر نقل کی ہے ، اس میں ' فمالکم علیھن من عدۃ' کے الفاظ بالکل صریح ہیں کہ حمل کا امکان ہو تو عدت شوہر کی طرف سے بیوی پر ایک حق واجب ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ تیسری طلاق کے بعد شوہر کے لیے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا ، لیکن اس کے نتیجے میں اگر کوئی چیز ختم کی جا سکتی ہے تو وہ اکٹھا رہنے کی پابندی ہے ، بیوی کو رہنے کی جگہ اور نان و نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری کسی حال میں بھی ختم نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ عدت خواہ تین حیض ہو یا تین مہینے یا وضع حمل تک ممتد ہو جائے ، شوہر پر یہ ذمہ داری ہر حال میں عائد ہو گی ۔

یہاں ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ فاطمہ بنت قیس کی روایت ہماری اس رائے کے خلاف پیش کریں ۔ ان کا قصہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے شوہر ابو عمروپہلے ان کو دو طلاق دے چکے تھے ۔ پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ یمن بھیجے گئے تو انھوں نے تیسری طلاق بھی ان کو بھیج دی ۔ عدت کے دوران میں انھوں نے نفقہ و سکونت کا مطالبہ کیا تو شوہر کے اعزہ نے ان کا حق ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر یہ دعویٰ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضور نے فیصلہ فرمایا کہ نہ تمھارے لیے نفقہ ہے اور نہ سکونت ۔ ۳۷ ؂

یہ روایت حدیث کی بعض کتابوں میں نقل ہوئی ہے ، لیکن روایتوں ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کی گئی تو انھوں نے یہ کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ ہم ایک عورت کے قول پر اپنے پر وردگار کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو ترک نہیں کر سکتے ۔ ۳۸ ؂ پھر مروان کے زمانۂ حکومت میں جب یہ مسئلہ دوبارہ زیر بحث آیا تو سیدہ عائشہ نے اس روایت پر سخت اعتراضات کیے ۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ سے پوچھا : کیا آپ کو فاطمہ کا قصہ معلوم نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : فاطمہ کی حدیث کا ذکر نہ کرو تو اچھا ہے ۔ ۳۹ ؂ ایک دوسری روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں : فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے ، وہ خدا سے ڈرتی نہیں ۔ ۴۰ ؂ تیسری روایت عروہ بن زبیر سے ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ سیدہ نے فرمایا : فاطمہ کے لیے یہ حدیث بیان کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ ۴۱ ؂ ایک اور روایت میں انھی عروہ کا بیان ہے کہ ام المومنین نے فاطمہ پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا اور کہا : وہ دراصل ایک خالی مکان میں تھیں جہاں کوئی مونس نہ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سلامتی کی خاطر ان کو گھر بدل دینے کی ہدایت فرمائی تھی ۔ ۴۲ ؂

یہ اس روایت کی حقیقت ہے ، لہٰذا کسی شخص کو اب بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھنا چاہیے ۔

ان ہدایات کے علاوہ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مزید ہدایت یہ کی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورتیں اپنا حمل چھپانے کی کوشش نہ کریں ۔ ہم نے اوپر جگہ جگہ بیان کیا ہے کہ عدت کا حکم دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ عورت کے حاملہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہو جائے ۔ لہٰذا یہ اس حکم کا لازمی تقاضا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ اس کی تاکید فرمائی ہے :

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ، وَلَا یَحِلُّ لَھُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِھِنَّ ، اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِر. (۲ : ۲۲۸)

''اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار کرائیں ، اور اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں تو اُن کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے جو کچھ اُن کے پیٹ میں پیدا کیا ہے ، اُسے چھپالیں ۔ ''

طلاق کے بعد

طلاق موثر ہو جائے تو جو چیزیں اس کے بعد بھی باعث نزاع ہو سکتی ہیں ، ان میں سے ایک بچوں کی رضاعت ہے ۔ سورۂ طلاق کی زیر بحث آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کی ماں اگر انھیں دودھ پلانے پر آمادہ ہو تو مرد اسے اس خدمت کا معاوضہ ادا کرے گا اور یہ معاوضہ باہمی مشورے سے اور بھلے طریقے سے طے کیا جائے گا ۔ اس طرح کی کوئی قرارداد اگر بچوں کے ماں باپ کے مابین نہ ہو سکے تو قرآن کا ارشاد ہے کہ پھر کوئی دوسری عورت دودھ پلا لے گی ۔ اس کے ساتھ خرچ کا معیار بھی بتا دیا ہے کہ خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے لحاظ سے خرچ کرے گا اور تنگ دست اپنی حیثیت کے مطابق ۔ نہ خوش حال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے معیار سے دوسروں کو فروتر رکھ کر معاملہ کرے اور نہ غریب پر اس کی حیثیت سے بڑھ کر کوئی بوجھ ڈالنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی حیثیت کے لحاظ ہی سے اپنے احکام کا مکلف ٹھیراتے ہیں۔

سورۂ بقرہ میں اس حکم کی تفصیل کر دی گئی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ، وَعَلَی الْمَوْلُوْدِلَہٗ رِزْقُھُنَّ وَ کِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّاوُسْعَھَا، لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا وَلاَمَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ، وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ. فَاِنْ اَرَادَ فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا ، وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْا اَوْلَادَکُمْ ، فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ،وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. (۲: ۲۳۳)

''اور مائیں ، اُن کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنا چاہتے ہوں، اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں ۔ اور بچے کے باپ کو (اِس صورت میں) دستور کے مطابق اُن کا کھانا کپڑا دینا ہو گا ۔ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ نہ کسی ماں کو اُس کے بچے کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی باپ کو اُس کے بچے کے سبب سے اور اِسی طرح کی ذمہ داری (اُس کے) وارث پر بھی ہے پھر اگر دونوں باہمی رضا مندی او رمشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی کوئی مضایقہ نہیں،بشرطیکہ(بچے کی ماں سے) جو کچھ دینا طے کیا ہے ، وہ دستور کے مطابق اسے دے دو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ ''

ان احکام کا خلاصہ، استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ ہے :

''۱۔ مطلقہ پر اپنے بچے کو پورے دو سال دودھ پلانے کی ذمہ داری ہے ، اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ عورت یہ رضاعت کی مدت پوری کر ے ۔

۲۔ اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں دستور کا لحاظ ہو گا ، یعنی شوہر کی حیثیت ، عورت کی ضروریات اور مقام کے حالات پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طور پر کیا دیا جائے ۔

۳۔ فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ، نہ بچے کے بہانے سے ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ، اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی ناروا دباؤ ڈالا جائے گا ۔

۴۔ اگر بچے کا باپ وفات پا چکا ہو تو بعینہٖ یہی پوزیشن مذکورہ ذمہ داریوں اور حقوق کے معاملے میں اس کے وارث کی ہو گی۔

۵۔ اگر باہمی رضا مندی اور مشورے سے دو سال کی مدت کے اندر ہی اندر بچے کا دودھ چھڑا دینے کا عورت مرد فیصلہ کر لیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں ۔

۶۔ اگر باپ یا بچے کے ورثابچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہیں ، بشرطیکہ بچے کی والدہ سے دینے دلانے کی جو قرار داد ہوئی ہے ، وہ پوری کر دی جائے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۴۵)

دوسری چیز جو باعث نزاع ہو سکتی ہے ، وہ آگے عورت کی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے ، عام اس سے کہ وہ صریح ممانعت کی صورت میں ہو یا کسی سازش اور جوڑ توڑ کے انداز میں ۔ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت سختی کے ساتھ روکا ہے اور لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ جب ایک عورت کو طلاق دے دی گئی ہے تو اب اس کے کسی فیصلے میں رکاوٹ بننے کا حق پہلے شوہر کے لیے باقی نہیں رہا ۔ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے ۔ اس کا یہ فیصلہ اگر دستو رکے مطابق ہے تو اس پرکسی اعتراض کی گنجایش نہیں ہو سکتی ۔ اس کے لیے اصل میں 'بالمعروف ' کے الفاظ آئے ہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ عورت اور مرد ، دونوں اپنے معاملات طے کرنے میں پوری طرح آزاد ہیں ، لیکن اتنی بات بہرحال ضروری ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو شرفا کی روایات کے خلاف ہو اور جس سے پہلے شوہر یا ہونے والے شوہر یا خود عورت کے خاندان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ. ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ. ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُْم وَاَطْھَرُ، وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ.(البقرہ ۲:۲۳۲)

''اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو اب اِس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کر لیں ، جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق معاملہ طے کریں ۔ یہ نصیحت تم میں سے اُن لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہی تمھارے لیے زیادہ شایستہ اور زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ ''

آیت کے آخری حصے کی وضاحت میں استاذ امام نے لکھا ہے :

''فرمایا کہ یہ نصیحتیں ان لوگوں کو کی جا رہی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی جن لوگوں کے اندر خدا اور آخرت پر ایمان موجود ہے ، ان کے ایمان کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان نصیحتوں پر عمل کریں ۔ پھر فرمایا کہ یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے ۔ یعنی اگر عورت کی حسب مرضی نکاح کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اس سے خاندان اور پھر معاشرے میں بہت سی برائیاں پھیلنے کے اندیشے ہیں ۔ یہیں سے خفیہ روابط، پھر زنا ، پھر اغوا اور فرار کے بہت سے چور دروازے پیدا ہوتے ہیں اور ایک دن ان سب کی ناک کٹ کے رہتی ہے جو ناک ہی اونچی رکھنے کے زعم میں فطری جذبات کے مقابل میں بے ہودہ رسوم کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آخر میں فرمایا کہ : اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔ یعنی تمھارا علم اور تمھاری نظر بہت محدود ہے ، تمھارے لیے زندگی کے تمام نشیب و فراز کو سمجھ لینا بڑا مشکل ہے ، اس وجہ سے جو کچھ تمھیں خدا کی طرف سے حکم دیا جا رہا ہے ، اس پر عمل کرو۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۴۴)

ان دو چیزوں کے علاوہ مطلقہ اور اس کے شوہر میں بچوں کی حضانت پر بھی جھگڑا ہو سکتا ہے ، لیکن اس کا فیصلہ چونکہ بچے کی مصلحت اور والدین کے حالات کی رعایت ہی سے کیا جا سکتا ہے اور یہ مختلف صورتوں میں مختلف ہو سکتا ہے ، اس لیے شریعت نے اس معاملے میں کوئی ضابطہ متعین نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے ، البتہ ، اس نوعیت کے مقدمات میں ارباب حل و عقد کو بہت کچھ رہنمائی مل سکتی ہے ۔ ان میں سے دو کی روداد ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں ۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، میرے اس بیٹے کے لیے میرا پیٹ ہی گویا ایک ظرف تھا اور میری چھاتیاں ہی اس کا مشکیزہ تھیں اور میری گود ہی اس کا گھر تھی۔ اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو مجھ سے لے لے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمھی اس کو رکھنے کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم نکاح نہ کر لو ۔ ۴۳ ؂

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آئی ۔ میں نے سنا کہ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، میرا شوہر یہ میرا بچہ مجھ سے لینا چاہتا ہے ، دراں حالیکہ اس نے مجھے ابو عنبہ کے کنوئیں سے پانی لا کر دیا ہے اور بہت کچھ نفع پہنچایا ہے ۔ حضور نے فرمایا : تم دونوں اس پر قرعہ ڈال سکتے ہو ۔ شوہر (یہ سن کر) بولا : میرے اس بچے کے معاملے میں کون مجھ سے جھگڑا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : بیٹے ، یہ تمھارا باپ اور یہ تمھاری ماں ہے ، تم ان میں سے جس کا ہاتھ پکڑنا چاہتے ہو ، پکڑ لو ۔ بچے نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۔ ۴۴ ؂

شوہر کی وفات

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَّ عَشْرًا . فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ. وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ ، عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَھُنَّ، وَلٰکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرّاً اِلاّ آاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفاً، وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ ، وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہٗ ، وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ.(البقرہ ۲: ۲۳۴۔۲۳۵)

''اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑیں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں ۔ پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو اپنے بارے میں جو کچھ دستور کے مطابق وہ کریں ، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔ اور اِس میں بھی کوئی گناہ نہیں جو تم اشارے کنایے میں نکاح کا پیغام اُن عورتوں کو دو یا اُسے دل میں چھپائے رکھو ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ عنقریب یہ بات تو تم اُن سے کرو گے ہی ۔ (سو کرو) ، لیکن (اِس میں) کوئی وعدہ اُن سے چھپ کر نہ کرنا۔ ہاں ، دستور کے مطابق کوئی بات ، البتہ کہہ سکتے ہو ۔ اور عقد نکاح کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو، جب تک قانون اپنی مدت پوری نہ کر لے ۔ اور جان رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ، اِ س لیے اُس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا ہے ، وہ بڑا بردبار ہے ۔ ''

سورۂ بقرہ کی ان آیات میں بیواؤں کی عدت کا حکم بیان ہوا ہے ۔

اس میں پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے ۔ ۴۵؂ عام مطلقہ کی نسبت سے یہ اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ اس کو تو ایسے طہر میں طلاق دینے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں شوہر سے اس کی ملاقات نہ ہوئی ہو ، لیکن بیوہ کے لیے اس طرح کا کوئی ضابطہ بنانا چونکہ ممکن نہیں ہے ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ دن بڑھا دیے جاتے ۔ قرآن نے یہی کیا ہے اور مطلقہ کی نسبت سے اس کی عدت ایک ماہ دس دن زیادہ مقرر کر دی ہے ۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ عدت گزر جائے تو اس کے بعد وہ آزاد ہے اور اپنے معاملے میں جو قدم مناسب سمجھے اٹھا سکتی ہے ۔ معاشرے کے دستور کی پابندی ، البتہ اسے کرنی چاہیے ، یعنی ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے متعلق خاندانوں کی عزت، شہرت ، وجاہت اور اچھی روایات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔ یہ ملحوظ رہے تو اس پر یا اس کے اولیا پر پھر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''مطلب یہ ہے کہ غیر شرعی رسوم کوشریعت کا درجہ دے کر خواہ مخواہ ایک دوسرے کو مورد طعن و الزام نہیں بنانا چاہیے ۔ نہ شوہر کے وارثوں اور عورت کے اولیا کو یہ طعنہ دینا چاہیے کہ عورت اپنے شوہر کا پورا سوگ بھی نہ منا چکی کہ وہ اس سے تنگ آگئے اور نہ عورت کو یہ طعنہ دینا چاہیے کہ ابھی شوہر کا کفن بھی میلا نہ ہونے پایا تھا کہ یہ شادی رچانے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ خدا نے جو حدود مقرر کر دیے ہیں ، بس انھی کی پابندی کرنی چاہیے اور اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ بندوں کے ہر عمل سے باخبر ہے ۔ ''(تدبرقرآن ۱/ ۵۴۶)

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص بیوہ سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو عدت کے دوران میں وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنے دل میں اس کا ارادہ کر لے یا اشارے کنایے میں کوئی بات زبان سے نکال دے ، لیکن اس کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ ایک غم زدہ خاندان کے جذبات کا لحاظ کیے بغیر عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے یا کوئی خفیہ عہد و پیمان کرے ۔ اس طرح کے موقعوں پر جو بات بھی کی جائے ، اسے ہم دردی اور تعزیت کے اظہار تک ہی محدود رہنا چاہیے ۔ چنانچہ تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم اپنا یہ ارادہ ظاہر کرو گے ، مگر اس طرح نہیں کہ نکاح کی پینگیں بڑھانا شروع کردو ، قول و قرار کرو یا چھپ کر کوئی عہد باندھ لو ۔ اس کا انداز وہی ہونا چاہیے جو ایسے حالات میں پسندیدہ اور دستور کے موافق سمجھا جاتا ہے ۔ عدت گزر جائے تو ان عورتوں سے نکاح کا فیصلہ ، البتہ کر سکتے ہو۔ اس کے بعد تم پر کوئی الزام نہیں ہے ۔

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب و زینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

المتوفی عنھا زوجھا لاتلبس المعصغر من الثیاب ولا الممشقۃ ، ولا الحلی ، ولا تختضب ولا تکتحل .(ابوداؤد، رقم ۱۹۶۰)

''بیوہ عورت رنگین کپڑے نہیں پہنے گی ، نہ زرد ، نہ گیرو سے رنگے ہوئے ۔ وہ زیورات استعمال نہیں کرے گی اور نہ مہندی اور سرمہ لگائے گی ۔''

لیکن اس عرصے میں عورت کے نان و نفقہ اور سکونت کا کیا ہو گا ؟ قرآن نے اسی سورہ میں آگے وضاحت فرمائی ہے کہ شوہروں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنی بیواؤں کے لیے ایک سال کے نان و نفقہ اور اپنے گھروں میں سکونت کی وصیت کر جائیں ، الاّ یہ کہ وہ خود اپنی مرضی سے شوہر کا گھر چھوڑ دیں یا اس نوعیت کا کوئی دوسرا قدم اٹھالیں ۔ ۴۶؂

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا، وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ ، غَیْرَ اِخْرَاجٍ ، فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِھِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ . (البقرہ ۲: ۲۴۰)

''اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں تو وہ اپنی اُن بیویوں کے لیے سال بھر کے نان و نفقہ کی وصیت کر جائیں ، اور یہ بھی کہ اُنھیں گھر سے نکالا نہ جائے ۔ پھر اگر وہ خود گھر چھوڑیں تو جو کچھ اپنے معاملے میں دستور کے مطابق کریں ، اُس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، اور اللہ عزیز و حکیم ہے ۔ ''

مرد و زن کا اختلاط

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَبُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلآی اَھْلِھَا ، ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ. فَاِنْ لَّمُ تَجِدُوْا فِیْھَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْ، وَ اِنْ قِیْلَ لَکُمْ : ارْجِعُوْا ، فَارْجِعُوْا ، ھُوَ اَزْکیٰ لَکُمْ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ . لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ. قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ، ذٰلِکَ اَزْکیٰ لَھُمْ ، اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ. وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ ، وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ ، وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا، وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ، وَلاَیُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآءِ ھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ ھِنَّ اَوْاَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِی اَخَوٰتِھِنَّ اَوْنِسَآءِ ھِنَّ اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولیِ الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ ، وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ، وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعاً ، اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ ، لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. (النور ۲۴: ۲۷۔۳۱)

''ایمان والو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ، جب تک تعارف پیدا نہ کرلو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو ۔ یہ طریقہ تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تمھیں یاددہانی حاصل رہے ۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو ، جب تک تمھیں اجازت نہ دی جائے ، اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہی طریقہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔ اِس میں ، البتہ کوئی مضایقہ نہیں کہ تم ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہیں ہیں اور اِن میں تمھارے لیے کوئی منفعت ہے ۔ اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو او رجو کچھ چھپاتے ہو ۔ مومن مردوں سے کہہ دو ، (اے پیغمبر کہ اِن گھروں میں اگر عورتیں ہوں تو) وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں ، سوائے اُن کے جواُن میں سے کھلی ہوتی ہیں ، اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔ اور زینت کی چیزیں نہ کھولیں ، مگر اپنے شوہر کے سامنے یا اپنے باپ ، اپنے شوہر کے باپ ، اپنے بیٹوں ، اپنے شوہر کے بیٹوں ، اپنے بھائیوں ، اپنے بھائیوں کے بیٹوں ، اپنی بہنوں کے بیٹوں ، اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے یا اُن زیر دست مردوں کے سامنے جو عورتوں کی خواہش نہیں رکھتے یا اُن بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پردے کی چیزوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے ۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اُن کی چھپی ہوئی زینت( لوگوں کے لیے ) ظاہر ہو جائے۔ اور ایمان والو، سب مل کر اللہ سے رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

یہ اخلاقی مفاسد سے معاشرے کی حفاظت اور باہمی تعلقات میں دلوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اختلاط مردو زن کے آداب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرمائے ہیں ۔ سورۂ نور کی ان آیات میں یہ اس تنبیہ کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں جانے ا ور ملنے جلنے کا یہی طریقہ لوگوں کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے ۔ وہ اگر اسے ملحوظ رکھیں گے تو یہ ان کے لیے خیرو برکت کا باعث ہو گا ۔ لیکن اس میں ایک ضروری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کو علیم و خبیر سمجھتے ہوئے اس طریقے کی پابندی کریں اور اس بات پر ہمیشہ متنبہ رہیں کہ ان کا پروردگار ان کے عمل ہی سے نہیں ، ان کی نیت اور ارادوں سے بھی پوری طرح واقف ہے ۔

یہ آداب درج ذیل ہیں :

۱۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے ۔ اس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے، جس کا شایستہ او رمہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے ۔ اس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے ، کیا چاہتا ہے اور اس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں۔ اس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔ ۴۷؂

اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے ، اس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے ۔ ۴۸ ؂

۲۔ اُن جگہوں کے لیے یہ پابندی ، البتہ ضروری نہیں ہے جہاں لوگوں کے بیوی بچے نہ رہتے ہوں۔ قرآن نے اس کے لیے 'بیوتاً غیر مسکونۃ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ یعنی ہوٹل ، سرائے ، مہمان خانے ، دکانیں ، دفاتر ، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ ۔ ان میں اگر کسی منفعت اور ضرورت کا تقاضا ہو تو آدمی اجازت کے بغیر بھی جا سکتا ہے ۔ اجازت لینے کی جو پابندی اوپر عائد کی گئی ہے ، وہ ان جگہوں سے متعلق نہیں ہے ۔

۳۔ دونوں ہی قسم کے مقامات پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی ۔ اس کے لیے اصل میں 'یغضوا من ابصارھم ' کے الفاظ آئے ہیں ۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے ، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اس حکم کا منشا یقیناًپورا ہو جاتا ہے ، اس لیے کہ اس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے ، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے ۔ اس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زنا ہے ۔ اس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے ۔ ۴۹؂ چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسے فوراً پھیر لینا چاہیے ۔

بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : علی ، ایک کے بعد دوسری نظر کو اس کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے ، اس لیے کہ پہلی تو معاف ہے ، مگر دوسری معاف نہیں ہے ۔ ۵۰ ؂

جریربن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا : اس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو ۔ ۵۱ ؂

حجۃ الوداع کا قصہ ہے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں روک کر مسئلہ پوچھنے لگی تو فضل بن عباس نے اس پر نگاہیں گاڑ دیں ۔ آپ نے دیکھا تو ان کا منہ پکڑ کر دوسری طرف کر دیا ۔ ۵۲؂

۴۔ اس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے ۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ تعبیر ناجائز شہوت رانی سے پرہیز کے لیے اختیار کی گئی ہے ، لیکن سورۂ نور کی ان آیات میں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد عورتوں اور مردوں کا اپنے صنفی اعضا کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ مردو زن ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپانا چاہیے ۔ اس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں او رمرد ،دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو ۔ پھر ملاقات کے موقع پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے ۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے ۔

۵۔ عورتوں کے لیے ، بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں ۔ اس سے زیبایش کی وہ چیزیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادۃًکھلی ہوتی ہیں ۔ یعنی ہاتھ، پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ ۔ اس کے لیے اصل میں ' الا ما ظھر منھا'کے جو الفاظ آئے ہیں، ان کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے ' الا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ والاصل فیہ الظھور' ۵۳؂ کے الفاظ میں بیان کر دیا ہے ۔ یعنی وہ اعضا جنھیں انسان عادۃً اور جبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلے ہی ہوتے ہیں۔لہٰذا ان اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کو چھپا کر رکھنی چاہیے، یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے ۔ ۵۴؂

____________

۲۲؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۵/ ۵۵۱۔

۲۳؂ اصل میں لفظ 'رقبۃ' استعمال ہوا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں ۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لونڈی یا غلام کی کوئی تخصیص نہیں ہے، دونوں میں سے جو بھی میسر ہو ، اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا ۔ غلاموں کی آزادی کے لیے جو اقدامات اسلام نے کیے ، یہ بھی انھی میں سے ہے ۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بعد کی دونوں صورتوں پر مقدم رکھا ہے ۔ غلامی ختم ہو جانے کے بعد اب ظاہر ہے کہ یہی دونوں صورتیں باقی رہ گئی ہیں ۔

۲۴؂ اصل میں 'متتابعین' کا لفظ آیا ہے ۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اگر دو مہینے کے روزے پورے ہونے سے پہلے کسی شخص نے بیوی سے ملاقات کر لی تو اسے از سر نو پورے روزے رکھنا ہوں گے ۔

۲۵؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۵/ ۵۴۸۔

۲۶؂ اس جملے کا مطلب دوسری روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ثابت کی صورت پسند نہ تھی اور وہ محسوس کرتی تھیں کہ اس کے باوجود اگر وہ اس کے ساتھ رہیں تو اندیشہ ہے کہ ان احکام کی پابند نہ رہ سکیں گی جو شوہر سے وفاداری اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو دیے ہیں ۔

۲۷؂ بخاری ، رقم ۵۲۷۳۔

۲۸؂ یہ دوسری مرتبہ حیض سے پاک ہو جانے تک طلاق نہ دینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ حمل کے بارے میں ، جس حد تک ممکن ہو ، پورا اطمینان ہو جائے ۔

۲۹؂ البقرہ ۲ : ۲۲۹۔

۳۰؂ البقرہ ۲ : ۲۲۹۔

۳۱ ؂ ابن ماجہ ، رقم ۱۹۳۶۔

۳۲؂ بخاری ، رقم ۵۲۵۱۔ ابوداؤد ، رقم ۲۱۸۲۔

۳۳؂ ابو داؤد ، رقم ۲۱۹۶، ۲۲۰۶۔ ابن ماجہ ، رقم ۲۰۵۱۔ ترمذی ، رقم ۱۱۷۷۔ احمد بن حنبل ، رقم ۲۳۸۳۔

۳۴؂ ابوداؤد، رقم ۲۱۹۳۔

۳۵؂ مسلم ، رقم ۲۶۸۹۔

۳۶؂ اصل میں 'والیٰ لم یحضن' کے الفاظ آئے ہیں ۔ 'لم' عربی زبان میں نفی جحد کے لیے آتا ہے ، لہٰذا اس سے وہ بچیاں مراد نہیں ہو سکتیں جنھیں ابھی حیض آنا شروع نہیں ہوا ، بلکہ وہی عورتیں مراد ہوں گی جنھیں حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود حیض نہیں آیا ۔

۳۷؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۵۔ ابوداؤد، رقم ۲۲۹۰۔

۳۸؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۹۔

۳۹؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۱، ۵۳۲۲۔

۴۰؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۳، ۵۳۲۴۔

۴۱؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۵۔

۴۲؂ بخاری ، رقم ۵۳۲۶۔

۴۳؂ ابوداؤد، رقم ۲۲۷۶۔

۴۴؂ ابوداؤد، رقم ۲۲۷۷۔

۴۵؂ مطلقہ اور بیوہ کے لیے عدت کا حکم چونکہ ایک ہی مقصد سے دیا گیا ہے ، اس لیے جو مستثنیات اوپر طلاق کی بحث میں بیان ہوئے ہیں، وہ بیوہ کی عدت میں بھی اسی طرح ملحوظ ہوں گے ۔ چنانچہ بیوہ غیر مدخولہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہو گی اور حاملہ کی عدت وضع حمل کے بعد ختم ہو جائے گی ۔ بخاری کی روایت (رقم ۵۳۲۰) ہے کہ ایک حاملہ خاتون ، سبیعہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے یہی فیصلہ فرمایا۔

۴۶؂ عام طور پر لوگ اس حکم کو سورۂ نساء میں تقسیم وراثت کی آیات سے منسوخ مانتے ہیں ، لیکن صاف واضح ہے کہ عورت کو نان و نفقہ اور سکونت فراہم کرنے کی جو ذمہ داری شوہر پر اس کی زندگی میں عائد ہوتی ہے ، یہ اسی کی توسیع ہے ۔ عدت کی پابندی وہ شوہر ہی کے لیے قبول کرتی ہے ۔ پھر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی اسے کچھ مہلت لازماً ملنی چاہیے ۔ یہ حکم ان مصلحتوں کے پیش نظر دیا گیا ہے ، تقسیم وراثت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

۴۷؂ بخاری ، رقم ۶۲۴۵۔

۴۸؂ بخاری ، رقم ۶۲۴۱۔

۴۹؂ بخاری ، رقم ۶۳۴۳۔

۵۰؂ ابوداؤد ، رقم ۲۱۴۹۔

۵۱؂ مسلم ، رقم ۲۱۵۹۔

۵۲؂ بخاری ، رقم ۱۵۱۳۔

۵۳؂ الکشاف ۳/ ۲۳۱۔

۵۴؂ ابوداؤد ، رقم ۴۱۷۳۔