قانون معاشرت (حصہ سوم / سوم)


جن اعزہ اور متعلقین کے سامنے اظہار زینت کی یہ پابندی نہیں ہے ، وہ یہ ہیں :

۱۔ شوہر

ب۔ باپ

ج ۔ شوہروں کے باپ

اپنے اور شوہر کے باپ کے لیے اصل میں لفظ ' آباء' استعمال ہوا ہے ۔ اس کے مفہوم میں صرف باپ ہی نہیں ، بلکہ اجدادواعمام ، سب شامل ہیں ۔ لہٰذا ایک عورت اپنی ددھیال اور ننھیال ، اور اپنے شوہر کی ددھیال اور ننھیال کے ان سب بزرگوں کے سامنے زینت کی چیزیں اسی طرح ظاہر کر سکتی ہے ، جس طرح اپنے والد اور خسر کے سامنے کر سکتی ہے ۔

د۔ بیٹے

ہ۔ شوہروں کے بیٹے

و۔ بھائی

ز۔ بھائیوں کے بیٹے

ح ۔ بہنوں کے بیٹے

بیٹوں میں پوتے ، پرپوتے اور نواسے ، پر نواسے ، سب شامل ہیں اور اس معاملے میں سگے اور سوتیلے کا بھی کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی حکم بھائیوں اور بھائی بہنوں کی اولاد کا ہے ۔ ان میں بھی سگے ، سوتیلے اور رضاعی ، تینوں قسم کے بھائی اور بھائی بہنوں کی اولاد شامل سمجھی جائے گی ۔

ط۔ اپنے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتیں

اس سے واضح ہے کہ اجنبی عورتوں کو بھی مردوں ہی کے حکم میں سمجھنا چاہیے اور ان کے سامنے بھی مسلمان عورتوں کو اپنی چھپی ہوئی زینت کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مالی اور اخلاقی ، دونوں قسم کی آفتوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ، بلکہ بعض حالات میں یہ چیز اس سے بھی بڑے خطرات کا باعث بن جاتی ہے ۔

ی۔ غلام

یہ اس زمانے میں موجود تھے ۔ ' ما ملکت ایمانھن' کے جو الفاظ ان کے لیے اصل میں آئے ہیں، ان سے بعض فقہا نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں ، لیکن اس کا کوئی قرینہ ان الفاظ میں موجود نہیں ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح اور واضح تعبیر ' اوا مآءھن' کی ہوتی ، ایک عام لفظ جو لونڈیوں اور غلاموں ، دونوں پر مشتمل ہے ، اس کے لیے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اس سے پہلے ' نساءھن' کا لفظ آ چکا ہے جو ان تمام عورتوں پر، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے ، مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں ۔ اس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ''(تدبر قرآن ۵/ ۳۹۸)

ک۔ وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور زیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے انھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو ۔

ل۔ بچے جو ابھی بلوغ کے تقاضوں سے واقف نہ ہوئے ہوں ۔

۶۔ عورت کا سینہ بھی چونکہ صنفی اعضا میں سے ہے ، پھر گلے میں زیورات بھی ہوتے ہیں ، اس لیے ایک مزید ہدایت یہ فرمائی ہے کہ اس طرح کے موقعوں پر اسے دوپٹے سے ڈھانپ لینا چاہیے ۔ اس سے ، ظاہر ہے کہ گریبان بھی فی الجملہ چھپ جائے گا ۔ یہ مقصد اگر دوپٹے کے سوا کسی اور طریقے سے حاصل ہو جائے تو اس میں بھی مضایقہ نہیں ہے ۔ مدعا یہی ہے کہ عورتوں کو اپنا سینہ اور گریبان مردوں کے سامنے کھولنا نہیں چاہیے ، بلکہ اس طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے کہ نہ وہ نمایاں ہو اور نہ اس کی زینت ہی کسی پہلو سے نمایاں ہونے پائے ۔

ان آداب سے متعلق چند توضیحات بھی اسی سورہ میں بیان ہوئی ہیں ۔

اولاً، فرمایا ہے کہ گھروں میں آمدورفت رکھنے والے غلاموں اور نابالغ بچوں کے لیے ہر موقع پر اجازت لینا ضروری نہیں ہے ۔ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تین اوقات میں اجازت لے کر داخل ہوں : نماز فجر سے پہلے جبکہ لوگ ابھی بستروں میں ہوتے ہیں ؛ ظہر کے وقت جب وہ قیلولہ کے لیے کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہیں اور عشا کے بعد جب وہ سونے کے لیے بستروں میں چلے جاتے ہیں ۔ یہ تین وقت پردے کے وقت ہیں ۔ ان میں اگر کوئی اچانک آ جائے گا تو ممکن ہے کہ گھر والوں کو ایسی حالت میں دیکھ لے جس میں دیکھا جانا پسندیدہ نہ ہو ۔ ان کے سوا دوسرے اوقات میں نابالغ بچے اور گھر کے غلام عورتوں اور مردوں کے پاس ، ان کے تخلیے کی جگہوں میں اور ان کے کمروں میں اجازت لیے بغیر آ سکتے ہیں ۔ اس میں کسی کے لیے کوئی قباحت نہیں ہے ، لیکن ان تین وقتوں میں ضروری ہے کہ جب وہ خلوت کی جگہ آنے لگیں تو پہلے اجازت لے لیں ۔ نابالغ بچوں کے لیے ، البتہ بالغ ہو جانے کے بعد یہ رخصت باقی نہ رہے گی ۔ اس دلیل کی بنا پر کہ یہ بچپن سے گھر میں آتے جاتے رہے ہیں ، انھیں ہمیشہ کے لیے مستثنیٰ نہیں سمجھا جائے گا۔ بلوغ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد ان کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ عام قانون کے مطابق اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ : مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ، وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّھِیْرَۃِ، وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ ، ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ، لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَ لَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ بَعْدَھُنَّ ، طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ. کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ ، وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ. وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ .کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ ، وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(النور ۲۴: ۵۸۔۵۹)

''ایمان والو، تمھارے غلام اور لونڈیاں اور تمھارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں ، تین وقتوں میں اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں : نماز فجر سے پہلے اور دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد ۔ یہ تین وقت تمھارے لیے پردے کے وقت ہیں ۔ اِن کے بعد نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر ۔ (اِس لیے کہ ) تم ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہو ۔ اِس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ اور جب تمھارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ بھی اُسی طرح اجازت لیں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں ۔ اِس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ ''

ثانیاً، ارشادہوا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا حکم ان بڑی بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں ، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں ۔ عورت کی خواہشات جس عمر میں مر جاتی ہیں اور اس کو دیکھ کر مردوں میں بھی کوئی صنفی جذبہ پیدا نہیں ہوتا، اس میں سینے اور گریبان پر آنچل ڈالے رکھنا ضروری نہیں ہے ۔ لہٰذا بوڑھی عورتیں اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تاہم پسندیدہ بات ان کے لیے بھی یہی ہے کہ وہ احتیاط کریں اور مردوں کی موجودگی میں اسے نہ اتاریں ۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے :

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا ، فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَمُتَبَرِّجٰتٍ بِزِیْنَۃٍ، وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ ، وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ . (النور ۲۴: ۶۰)

''اور بڑی بوڑھیاں جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں ، وہ اگر اپنے دوپٹے اتار دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ، بشرطیکہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں ۔ اور اگر احتیاط برتیں تو اُن کے لیے بہتر ہے ۔ اور اللہ سننے والا ہے ، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔''

ثالثاً، وضاحت فرمائی ہے کہ لوگ خود ہوں یا ان کے مجبور و معذور اعزہ اور احباب جو انھی کے گھروں پر گزارہ کرتے ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں جائیں ، ملیں جلیں او رمردو عورت الگ الگ یا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں پئیں ، نہ ان کے اپنے گھروں میں ، نہ باپ دادا کے گھروں میں ، نہ ماؤں کے گھروں میں ، نہ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں ، نہ چچاؤں ، پھوپھیوں ، مامووں اور خالاؤں کے گھروں میں ، نہ زیر تولیت افراد کے گھروں میں اور نہ دوستوں کے گھروں میں ۔ اتنی بات ، البتہ ضروری ہے کہ گھروں میں داخل ہوں تو اپنے لوگوں کو سلام کریں ۔ یہ بڑی بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے جس سے باہمی تعلقات میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔ ملنے جلنے کے جو آداب انھیں بتائے گئے ہیں ، ان سے ربط و تعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا ان کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے ۔ وہ اگر سمجھ بوجھ سے کام لیں تو ان آداب کی رعایت کے ساتھ یہ سارے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ۔ اس سے مختلف کوئی بات اگر انھوں نے سمجھی ہے تو غلط سمجھی ہے ۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی ممنوع قرار دینا پیش نظر نہیں ہے :

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلَاعَلآی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآءِ کُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّھٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَامَلَکْتُمْ مَّفَاتِحَہٗ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ، لَیْسَ,عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعاً اَوْ اَشْتَاتًا. فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلآی اَنْفُسِکُمْ ، تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ، مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً . کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ الْاٰیٰتِ، لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.(النور ۲۴ : ۶۱)

''نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے ، نہ لنگڑے کے لیے اور نہ مریض کے لیے او رنہ خود تمھارے لیے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے مامووں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت لوگوں کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ پیو ۔ تم پر کوئی گناہ نہیں ، چاہے مردو عورت اکٹھے بیٹھ کر کھاؤ یا الگ الگ۔ (اتنی بات ، البتہ ضروری ہے کہ) جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ۔ اِس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔''

عام حالات میں آداب یہی ہیں ، لیکن مدینہ میں جب اشرار نے مسلمان شریف زادیوں پر تہمتیں تراشنا اور انھیں تنگ کرنا شروع کیا تو سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو مزید یہ ہدایت فرمائی کہ اندیشے کی جگہوں پر جاتے وقت وہ اپنی چادروں کے پلو اوپر سے چہرے پر لٹکا لیا کریں تاکہ اخلاق باختہ عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور ان کے بہانے سے کوئی انھیں اذیت نہ دے ۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو یہ اشرار ان کے درپے آزار ہوتے اور اس پر گرفت کی جاتی تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر ان سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی ۔ ۵۵ ؂ ارشاد فرمایا ہے :

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا ، فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا. یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ، قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَا بِیْبِھِنَّ، ذٰلِکَ اَدْنآی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ ، وَکاَنَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلاَّ قَلِیْلًا، مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا ، اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا. (۳۳: ۵۸۔ ۶۱)

''اور جو لوگ مسلمان عورتوں او رمردوں کو اُن چیزوں کے معاملے میں اذیت دیتے ہیں جن کا اُنھوں نے ارتکاب نہیں کیا ہے ، (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اُنھوں نے ایک بڑے بہتان او رصریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے ۔ (اِس صورت حال میں) ، اے پیغمبر ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو ہدایت کر دو کہ (باہر نکلیں تو) اپنی چادروں کے پلو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ (لونڈیوں سے الگ) پہچانی جائیں اور اُنھیں اذیت نہ دی جائے، اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ یہ منافق اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بھی جو مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم اِن کے خلاف تمھیں اٹھا کھڑا کریں گے ۔ پھر وہ مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے۔ اِن پر پھٹکارہو گی ، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے ۔ ''

ان آیتوں میں ' ان یعرفن فلا یوذین ' کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہ تھا، بلکہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں کے شرسے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی نوعیت کی بعض مصلحتوں کے پیش نظر، عورتوں کو تنہا لمبا سفر کرنے اور راستوں میں مردوں کے ہجوم کا حصہ بن کر چلنے سے منع فرمایا ۔ ۵۶ ؂ لہٰذامسلمان خواتین کو اگر اب بھی اس طرح کی صورت حال کسی جگہ درپیش ہو تو وہ ایسی کوئی تدبیر دوسری عورتوں سے اپنا امتیاز قائم کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے اختیار کر سکتی ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی رعایت سے اور خاص آپ کی ازواج مطہرات کے لیے بھی اس سلسلہ کی بعض ہدایات اسی سورۂ احزاب میں بیان ہوئی ہیں ۔ عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے ان ہدایات کا اگرچہ کوئی تعلق نہیں ہے ، لیکن بعض اہل علم چونکہ ان کی تعمیم کرتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی صحیح نوعیت بھی یہاں واضح کر دی جائے ۔

سورہ پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ کے وہی اشرار اور منافقین جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، جب رات دن اس تگ و دو میں رہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق کوئی اسکینڈل پیدا کریں تاکہ عام مسلمان بھی آپ سے برگشتہ اور بدگمان ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ بھی بالکل برباد ہو کر رہ جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کا سدباب اس طرح کیا کہ پہلے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو دنیا کے عیش اور اس کی زینتوں کی طلب میں حضور سے الگ ہو جائیں اور چاہیں تو اللہ و رسول اور قیامت کے فوزو فلاح کی طلب گار بن کر پورے شعور کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کر لیں کہ انھیں اب ہمیشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ اگر حضور کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو انھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی رفاقت سے جو مرتبہ انھیں حاصل ہوا ہے ، اس کے لحاظ سے ان کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے ۔ وہ پھر عام عورتیں نہیں ہیں ۔ ان کی حیثیت مسلمانوں کی ماؤں کی ہے ۔ اس لیے وہ اگر صدق دل سے اللہ و رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کریں گی تو جس طرح ان کی جزا دہری ہے ، اسی طرح اگر ان سے کوئی جرم صادر ہوا تو اس کی سزا بھی دوسروں کی نسبت سے دہری ہو گی ۔ ان کے باطن کی پاکیزگی میں شبہ نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ انھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے ۔ یہ ان کے مقام و مرتبہ کا تقاضا ہے اور اس کے لیے یہ چند باتیں اپنے شب و روز میں انھیں لازماً ملحوظ رکھنی چاہییں :

اول یہ کہ وہ اگر خدا سے ڈرنے والی ہیں تو ہر آنے والے سے بات کرنے میں نرمی اور تواضع اختیار نہ کیا کریں ۔ عام حالات میں تو گفتگو کا پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی تواضع اختیار کرے ، لیکن جو حالات انھیں درپیش ہیں ، ان میں اشرار و منافقین مروت اور شرافت کے لہجے سے دلیر ہوتے اور غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اس سے انھیں یہ توقع پیدا ہو جاتی ہے کہ جو وسوسہ اندازی وہ ان کے دلوں میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس میں انھیں کامیابی حاصل ہو جائے گی ۔ اس لیے ایسے لوگوں سے اگر بات کرنے کی نوبت آئے تو بالکل صاف اور سادہ انداز میں اور اس طرح بات کرنی چاہیے کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آئے ہیں تو انھیں اچھی طرح اندازہ ہو جائے کہ یہاں ان کے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے :

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ ، لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ، اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ ، وَّ قُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً. (۳۳: ۳۲)

''نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، (اِس لیے) اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو لہجے میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں خرابی ہے ، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور (اِس طرح کے لوگوں سے) صاف سیدھی بات کیا کرو۔''

دوم یہ کہ اپنے مقام و مرتبہ کی حفاظت کے لیے وہ گھروں میں ٹک کر رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جس ذمہ داری پر انھیں فائز کیا ہے ، ان کے سب انداز اور رویے بھی اس کے مطابق ہونے چاہییں ۔ لہٰذا کسی ضرورت سے باہر نکلنا ناگزیر ہو تو اس میں بھی زمانۂ جاہلیت کی بیگمات کے طریقے پر اپنی زیب و زینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نکلنا جائز نہیں ہے ۔ ان کی حیثیت اور ذمہ داری ، دونوں کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں رہ کر شب و روز نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام رکھیں اور ہر معاملے میں پوری وفاداری کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت میں سرگرم ہوں ۔ تاہم کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اسلامی تہذیب کا بہترین نمونہ بن کر نکلیں اور کسی منافق کے لیے انگلی رکھنے کا کوئی موقع نہ پیدا ہونے دیں :

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ، وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلیٰ، وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ ، وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ ، وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ. اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ، اَھْلَ الْبَیْتِ ، وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا.(۳۳: ۳۳)

''اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو، اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ و رسول کی فرماں برداری کرو ۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اِس گھرکی بیبیوکہ تم سے (وہ ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پو ری طرح پاک کر دے۔''

سوم یہ کہ اللہ کی آیات اور ایمان و اخلاق کی جو تعلیم ان کے گھروں میں دی جا رہی ہے ، دوسری باتوں کے بجائے وہ اپنے ملنے والوں سے اس کا چرچا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جس کام کے لیے منتخب فرمایا ہے ، وہ یہی ہے ۔ ان کا مقصد زندگی اب دنیا اور اس کا عیش و عشرت نہیں ، بلکہ اسی علم و حکمت کا فروغ ہونا چاہیے :

وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ. اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا.(۳۳: ۳۴)

''اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی نازل کردہ حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، (اپنے ملنے والوں سے) اُس کا چرچا کرو۔ بے شک ، اللہ بڑا ہی دقیقہ شناس ہے، وہ پوری طرح خبر رکھنے والا ہے ۔ ''

اس کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ اشرار اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے ۔ چنانچہ اسی سورہ میں آگے اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ چند مزید ہدایات اس سلسلہ میں دی ہیں ۔

فرمایا ہے کہ اب کوئی مسلمان بن بلائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ لوگوں کو کھانے کی دعوت بھی دی جائے گی تو وہ وقت کے وقت آئیں گے اور کھانا کھانے کے فوراً بعد منتشر ہو جائیں گے ، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہیں گے۔

آپ کی ازواج مطہرات لوگوں سے پردے میں ہوں گی اور قریبی اعزہ اور میل جول کی عورتوں کے سوا کوئی ان کے سامنے نہ آئے گا ۔ جس کو کوئی چیز لینا ہو گی ، وہ بھی پردے کے پیچھے ہی سے لے گا۔

پیغمبر کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔ جو منافقین ان سے نکاح کے ارمان اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، ان پر واضح ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ازواج مطہرات سے کسی کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔ ان کی یہ حرمت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کے دل میں احترام و عقیدت کا وہی جذبہ ان کے لیے ہونا چاہیے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں کی یہ باتیں باعث اذیت رہی ہیں ۔ اب وہ متنبہ ہو جائیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے ۔ یہاں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لیے بھی کوئی عذر تراش لے ، لیکن وہ پروردگار جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے ، یہ باتیں اس کے حضور میں کسی کے کام نہ آ سکیں گی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ، وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا، فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا ، وَلَامُسْتَانِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ. اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ ، وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ. وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعاً ، فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ. ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِھِنَّ .وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْآ اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَداً. اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْماً. اِنْ تُبْدُوْا شَیْئاً اَوْ تُخْفُوْہُ ، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا. لَا جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْ اٰبَآءِ ھِنَّ وَلَآ اَبْنَآءِ ھِنَّ ، وَلَآ اِخْوَانِھِنَّ ، وَلَآاَبْنَآءِ اِخْوَانِھِنَّ، وَلا آاَبْنَآءِ اَخَوٰتِھِنَّ وَلَا نِسَآءِھِنَّ وَلاَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ ، وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْداً. (۳۳: ۵۳۔ ۵۵)

''ایمان والو، نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو،الاّ یہ کہ تمھیں کسی وقت کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے ۔ اِس صور ت میں بھی اُس کے پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہ بیٹھو ۔ ہاں ، جب بلایا جائے تو آؤ۔ پھر جب کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو ۔ یہ باتیں نبی کے لیے باعث اذیت تھیں ، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے رہے اور اللہ حق بتانے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور نبی کی بیویوں سے تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ۔ یہ طریقہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی ۔ اور تمھارے لیے جائزنہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کے بعد اُن کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔ تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ اِن (بیبیوں) پر ، البتہ اِس معاملے میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنے میل جول کی عورتوں,اور اپنے غلاموں کے سامنے ہوں ۔ اور اللہ سے ڈرتی رہو ، بیبیو۔ بے شک ، اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے ۔ ''

والدین

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ، حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ ، اَنِ اشْکُرْلِیْ وَلِوَالِدَیْکَ، اِلَیَّ الْمَصِیْرُ. وَاِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰآی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ، فَلَا تُطِعْھُمَا وَ صَاحِبْھُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفاً، وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ، ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ، فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ. (لقمان ۳۱: ۱۴۔۱۵)

''اور ہم نے انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اُس کو پیٹ میں رکھا اور اُس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا (ہم نے اُس کو نصیحت کی ہے) کہ میرے شکر گزار ہو اور اپنے والدین کا شکر بجا لاؤ ۔ بالآخر پلٹنا میری ہی طرف ہے ۔ لیکن اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھیراؤ جسے تم نہیں جانتے تو اُن کی بات نہ مانو اور دنیا میں اُن کے ساتھ نیک برتاؤ کرتے رہو اور پیروی اُنھی لوگوں کے طریقے کی کرو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ تم سب کو پلٹنا پھر میری ہی طرف ہے اور میں (اُس وقت) تمھیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو ۔''

والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام الہامی صحائف میں دی گئی ہے ۔ قرآن مجید نے بھی جگہ جگہ اس کی تلقین فرمائی ہے ۔ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیات ۲۳۔ ۲۴ ، عنکبوت (۲۹) کی آیت ۸ اور احقاف (۴۶) کی آیت ۱۵ میں یہ مضمون کم و بیش انھی الفاظ میں بیان ہوا ہے ۔ سورۂ لقمان کی ان آیات میں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ والدین سے حسن سلوک کے حدود بھی بالکل متعین فرما دیے ہیں ۔ اس سے حکم کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ انسان کے والدین ہی اس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس معاملے میں باپ کی شفقت بھی کچھ کم نہیں ہوتی ، لیکن حمل ، ولادت اور رضاعت کے مختلف مراحل میں جو مشقت بچے کی ماں اٹھاتی ہے ، اس کا حق کوئی شخص کسی طرح ادا نہیں کر سکتا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بنا پر ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجے زیادہ قرار دیا ہے ۔ ۵۷؂ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے کہ اپنے پروردگار کے بعد انسان کو سب سے بڑھ کر اپنے ماں باپ ہی کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی ان کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ پیش آئے ، ان کے خلاف دل میں کوئی بیزاری نہ پیدا ہونے دے ، ان کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے، بلکہ نرمی ، محبت ، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے ۔ ان کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں ان کی دل داری اور تسلی کرتا رہے ۔

بنی اسرائیل میں فرمایا ہے :

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلاّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا، اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْھَرْھُمَا، وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا ، وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا. رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ ، اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّا بِیْنَ غَفُوْراً. (۱۷: ۲۳۔ ۲۴)

''اور تیرے پروردگار کا فیصلہ یہ ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو۔ تمھارے سامنے اگر اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُنھیں اف تک نہ کہو، نہ اُنھیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ادب کی بات کہو اوراُن کے سامنے مہر و محبت سے عاجزی کے بازو جھکائے رکھو اور دعا کرتے رہو کہ پروردگار ، اُن پر رحم فرما جس طرح انھوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔ تمھارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے ۔ اگر تم سعادت مند رہو گے تو رجوع کرنے والوں کے لیے وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ ''

ابن مسعود کی روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا : وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد ؟ فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ۔ ۵۸ ؂

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے لیے ذلت ہے ، اس شخص کے لیے ذلت ہے ، اس شخص کے لیے ذلت ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : کس کے لیے ، یا رسول اللہ ؟ فرمایا : جس کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک اس کے پا س بڑھاپے کو پہنچا اور وہ اس کے باوجود جنت میں داخل نہ ہو سکا ۔ ۵۹ ؂

عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے جہاد کی اجازت چاہی ۔ آپ نے پوچھا : تمھارے والدین زندہ ہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : پھر ان کی خدمت میں رہو ، یہی جہاد ہے ۔ ۶۰؂

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یمن کے لوگوں میں سے ایک شخص جہاد کی غرض سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ نے پوچھا : یمن میں کوئی عزیز ہے ؟ عرض کیا : میرے ماں باپ ہیں ۔ فرمایا : انھوں نے اجازت دی ہے ؟ عرض کیا : نہیں ۔ فرمایا : جاؤ اور ان سے اجازت لو ۔ اگر دیں تو جہاد کرو ، ورنہ ان کی خدمت کرتے رہو۔ ۶۱؂

معاویہ اپنے باپ جاہمہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ، جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ آپ نے پوچھا : تمھاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : تو اس کی خدمت میں رہو ، اس لیے کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔ ۶۲ ؂

عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار کی خوشی باپ کی خوشی میں اور اس کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ۔ ۶۳؂

ابو الدردا کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کا بہترین دروازہ باپ ہے ، اس لیے چاہو تو اسے ضائع کرو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ۔ ۶۴؂

عمرو بن شعیب اپنی ماں سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے ، لیکن میرے والد اس مال کے ضرورت مند ہیں ۔ آپ نے فرمایا : تم اور تمھارا مال ، دونوں والد ہی کے ہیں ۔ ۶۵؂

۲۔ والدین کی اس حیثیت کے باوجود یہ حق ان کو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو بے دلیل اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کے لیے اولاد پر دباؤ ڈالیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ والدین کی نافرمانی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ، ۶۶؂ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں اولاد کو ان کی اطاعت سے صاف انکار کر دینا چاہیے اور پیروی ہر حال میں انھی لوگوں کے طریقے کی کرنی چاہیے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں ۔ خدا سے انحراف کی دعوت والد ین بھی دیں تو قبول نہیں کی جا سکتی ۔ ' لاطاعۃ فی المعصیۃ، انما الطاعۃ فی المعروف' ۶۷؂ (اللہ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی اطاعت نہیں ہے ، اطاعت تو صرف بھلائی کے کاموں میں ہے)، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اسی بنا پر فرمائی ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام و ہدایات بھی اسی کے تحت سمجھے جائیں گے اور والدین کے کہنے سے ان کی خلاف ورزی بھی کسی کے لیے جائز نہ ہو گی ۔

۳۔ شرک جیسے گناہ پر اصرار کے باوجود دنیا کے معاملات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ دستور کے مطابق اسی طرح قائم رہنا چاہیے ۔ ان کی ضروریات حتی المقدور پوری کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کے لیے ہدایت کی دعا بھی برابرجاری رہے ۔ یہ سب ' صاحبھما فی الدنیا معروفاً'کا تقاضا ہے ۔ دین و شریعت کا معاملہ الگ ہے ، مگر اس طرح کی چیزوں میں اولاد سے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔

آخر میں اولاد اور والدین ، دونوں کو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ اعمال کی جواب دہی کے لیے ایک دن پلٹنا میری ہی طرف ہے ، ' ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون' ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''یہ خطاب والدین اور اولاد، دونوں سے یکساں ہے اور اس میں تنبیہ بھی ہے اور اطمینان دہانی بھی ۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن سب کی واپسی میری ہی طرف ہونی ہے اور اس دن جو کچھ جس نے کیا ہو گا، میں اس کے سامنے رکھ دوں گا ۔ اگر کسی کے والدین نے میرے بخشے ہوئے حق سے غلط فائدہ اٹھا کر اولاد کو مجھ سے منحرف کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کی سزا بھگتیں گے اور اولاد نے والدین کے حق کے ساتھ ساتھ میرے حق کو بھی کماحقہ پہچانا اور اس حق پر قائم رہنے میں استقامت دکھائی تو وہ اپنی اس عزیمت کا بھر پور صلہ پائے گی ۔ '' (تدبر قرآن ۶/ ۱۳۰)

یتامیٰ

وَاٰتُواالْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَھُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ، وَلَاتَاْکُلُوْا اَمْوَالَھُمْ اِلآی اَمْوَالِکُمْ ، اِنَّہٗ کَانَ حُوْباً کَبِیْرًا. وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنآی اَلَّا تَعُوْلُوْا. وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیئًا مَّرِیْئاً. وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْہُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْالَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً، وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ، فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ، وَلاَ تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافاً وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا ، وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ، وَمَنْ کَانَ فَقِیْراً فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ، فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ فَاَشْھِدُوْاعَلَیْھِمْ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا. لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ، مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ ، نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا. وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ اُولُوا الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَ قُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا، وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْھِمْ، فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا. اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمیٰ ظُلْمًا، اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا، وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا.(النساء ۴: ۲۔۱۰)

''اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کردو ، نہ اپنے برے مال کو اُن کے اچھے مال سے بدلو اور نہ اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھاؤ ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کی ) جو (مائیں) تمھارے لیے جائز ہوں ، اُن میں سے دو دو ، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو ۔ پھر اگر اِس بات کا ڈر ہو کہ (اِن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی یا پھر وہ جو ملک یمین کی بنا پر تمھارے قبضے میں ہوں ۔ یہ اِس بات کے زیادہ قرین ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو ۔ اور اِن عورتوں کو بھی اِن کے مہر دو ، اُسی طرح جس طرح مہر دیا جاتا ہے ۔ پھر اگر وہ خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اُسے شوق سے کھا لو ۔ اور (یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنا وہ مال جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے ، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں ، اس سے اُن کو کھلاؤ، پہناؤ اور اُن سے اچھی بات کرو۔ اور اِن یتیموں کو چانچتے رہو، یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ۔ پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کرو ، اور اِس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے ، اُن کا مال اڑا کر اور جلدی جلدی کھا نہ جاؤ ۔ اور (یتیم کا) جو (سرپرست) غنی ہو، اُسے چاہیے کہ (اُس کے مال سے) پرہیز کرے اور جو محتاج ہو ، وہ (اپنے حق خدمت کے طور پر) دستور کے مطابق (اُس میں سے) کھائے ۔ پھر جب اُن کا مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اُن پر گواہ ٹھیرا لو ۔ اور حساب کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔ ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں ، اُس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں ، اُس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے ، خواہ یہ تھوڑا ہو یا بہت ، ایک متعین حصے کے طو رپر ۔ لیکن تقسیم کے موقع پر جب قریبی اعزہ اور یتیم اور مسکین وہاں آ جائیں تو اِس مال میں سے اُن کو بھی کچھ دو اور اُن سے اچھی بات کرو۔ اور اُن لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑتے تو اُن کے بارے میں اُنھیں بہت کچھ اندیشے ہوتے ۔ اِس لیے چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور (ہر معاملے میں) سیدھی بات کہیں ۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔''

یتیموں کی بہبود اور اُن سے حسن سلوک کی ہدایت قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ہوئی ہے ۔ سورۂ نساء کی ان آیات میں ان کے بارے میں چند متعین احکام دیے گئے ہیں۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱۔ یتیموں کے سرپرست ان کا مال ان کے حوالے کریں ، اسے خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ظلم و ناانصافی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا گویا اپنے پیٹ میں آگ بھرنا ہے ۔ اس آگ کے ساتھ دوزخ کی آگ سے بچنا ممکن نہ ہو گا۔ لہٰذا کوئی شخص نہ اپنا برا مال ان کے اچھے مال سے بدلنے کی کوشش کرے اور نہ انتظامی سہولت کی نمایش کرکے اس کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانے کے مواقع پیدا کرے ۔اس طرح کا اختلاط اگر کسی وقت کیا جائے تو یہ خوردبرد کے لیے نہیں، بلکہ ان کی بہبود اور ان کے معاملات کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے ۔

۲۔ یتیموں کے مال کی حفاظت اور ان کے حقوق کی نگہداشت ایک بڑی ذمہ داری ہے ۔ لوگوں کے لیے تنہا اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا مشکل ہو اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یتیم کی ماں کو اس میں شامل کر کے وہ اپنے لیے سہولت پیدا کر سکتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ ان کی ماؤں میں سے جو ان کے لیے جائز ہوں ، ان میں سے دو دو، تین تین ، چار چار کے ساتھ نکاح کر لیں ۔ لیکن یہ اجازت صرف اس صورت میں ہے ، جب بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھنا ممکن ہو ۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکیں گے تو پھر یتیموں کی بہبود جیسے نیک مقصد کے لیے بھی ایک سے زیادہ نکاح نہ کریں ۔ انصاف پر قائم رہنے کے لیے یہی طریقہ زیادہ صحیح ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان عورتوں کا مہر اسی طریقے سے دیا جائے جس طرح عام عورتوں کو دیا جاتا ہے ۔ ۶۸؂ یہ عذر نہیں پیدا کرنا چاہیے کہ نکاح چونکہ انھی کی اولاد کی مصلحت سے کیا گیا ہے ، اس لیے اب کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی ۔ ہاں ، اگر اپنی خوشی سے وہ مہر کا کوئی حصہ معاف کر دیں یا کوئی اور رعایت کریں تو اس میں حرج نہیں ہے ۔ لوگ اگر چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

۳۔ مال لوگوں کے لیے قیام و بقا کا ذریعہ ہے ۔ اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے ۔ لہٰذا یتیموں کا مال ان کے حوالے کر دینے کی جو ہدایت کی گئی ہے ، اس پر عمل اسی وقت کیا جائے ، جب وہ اپنا مال سنبھال لینے کی عمر کو پہنچ جائیں ۔ اس سے پہلے ضروری ہے کہ یہ سرپرستوں کی حفاظت اور نگرانی میں رہے اور وہ یتیموں کو جانچتے رہیں کہ ان کے اندر معاملات کی سوجھ بوجھ اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں ۔ اس دوران میں ان کی ضروریات ، البتہ فراخی کے ساتھ پوری کی جائیں ۔ اس اندیشے سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے ، ان کا مال جلدی جلدی اڑانے کی کوشش نہ کی جائے او ر بات چیت میں ان کی دل داری کا خیال رکھا جائے ۔

۴۔ سرپرست اگر مستغنی ہو تو اپنی اس خدمت کے عوض اسے کچھ لینا نہیں چاہیے ، لیکن غریب ہو تو یتیم کے مال سے اپنا حق خدمت دستور کے مطابق لے سکتا ہے ۔ استاذ امام اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''دستور کے مطابق سے مراد یہ ہے کہ ذمہ داریوں کی نوعیت ، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات اور سرپرست کے معیار زندگی کے اعتبار سے وہ فائدہ اٹھانا جو معقولیت کے حدود کے اندر ہو ۔ یہ نوعیت نہ ہو کہ ہر معقول آدمی پر یہ اثر پڑے کہ یتیم کے بالغ ہو جانے کے اندیشے سے اسراف اور جلد بازی کر کے یتیم کی جائداد ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ '' (تدبرقرآن ۲/ ۲۵۵)

۵۔ مال حوالے کیا جائے تو اس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بنا لینا چاہیے تاکہ کسی سوء ظن اور اختلاف و نزاع کا احتمال باقی نہ رہے ۔ پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن یہی حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے اور وہ سمیع و علیم ہے ، اس سے کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی ۔

۶۔ مرنے والے کے ترکے میں وارثوں کے حصے اگرچہ متعین ہیں ، لیکن تقسیم وراثت کے موقع پر قریبی اعزہ اور یتامیٰ و مساکین اگر آ جائیں تو اس سے قطع نظر کہ قانونی لحاظ سے ان کا کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ، انھیں کچھ دے دلا کر اور اچھی بات کہہ کر رخصت کرنا چاہیے ۔ اس طرح کے موقعوں پر یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے بچے بھی یتیم ہو سکتے اور وہ بھی اسی طرح انھیں دوسروں کی نگاہ التفات کا محتاج چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے ۔

غلامی

وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا، وَّاٰتُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ اٰتٰکُم. (النور ۲۴: ۳۳)

''اور تمھارے غلاموں میں سے جومکاتبت چاہیں ، اُن سے مکاتبت کر لو، اگر اُن میں بھلائی دیکھتے ہو اور (اِس کے لیے) اللہ کا وہ مال اُنھیں دو جو اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے۔''

سورۂ نور کی اس آیت میں غلاموں سے مکاتبت کا حکم بیان ہوا ہے ۔ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا ، جس طرح اب سود کو سمجھا جاتا ہے ۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خریدو فروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے ۔ اس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو ان کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی اس کے سوا کوئی صورت باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اور عورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں ۔ یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر یہ قانون نازل فرمایا ۔ اس میں مکاتبت کا جو لفظ استعمال ہوا ہے ، یہ ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی غلام اپنے مالک سے یہ معاہدہ کر لے کہ وہ فلاں مدت میں اس کو اتنی رقم ادا کرے گایا اس کی کوئی متعین خدمت انجام دے گا اور اس کے بعد آزاد ہو جائے گا۔ سورۂ نور کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اگر یہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کی یہ درخواست لازماً قبول کر لی جائے ۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ بیت المال سے ، جسے یہاں اللہ کا مال کہا گیا ہے ، اس طرح کے غلاموں کی مدد کریں ۔ آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ مکاتبت کا یہ حق جس طرح غلاموں کو دیا گیا ہے ، اسی طرح لونڈیوں کو بھی دیا گیا ہے ۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی آزادی کی تحریراس پر جب چاہیں ، رقم کر سکتے ہیں۔

غلامی سے متعلق یہ آخری حکم ہے ۔ اس سے پہلے جو ہدایات وقتاً فوقتاً دی گئیں اور جن سے بتدریج اس رواج کو مسلمانوں کے معاشرے سے ختم کرنا ممکن ہوا ، وہ یہ ہیں :

۱۔ قرآن نے اپنی دعوت کی ابتدا ہی میں غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا اور لوگوں کو نہایت موثر الفاظ میں اس کی ترغیب دی ۔ چنانچہ اس کے لیے 'فک رقبۃ' یعنی گردنیں چھڑانے کی تعبیر اختیار کی گئی جس کی تاثیر کا اندازہ ہر صاحب ذوق بہ آسانی کر سکتا ہے ۔ قرآن میں جہاں یہ الفاظ آئے ہیں ، وہاں سیاق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حصول سعادت کی راہ میں سب سے بڑا اور پہلا قدم قرار دیا ہے ۔ ۶۹؂

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طریقے سے لوگوں کو اس کی ترغیب دی اور فرمایا : جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے ہر عضو کو دوزخ سے نجات دے گا ۔ ۷۰؂

۲۔ لوگوں کو تلقین کی گئی کہ جب تک وہ انھیں آزاد نہیں کرتے ، ان کے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ زمانۂ جاہلیت میں ان کے مالک جس طرح خود مختار اور مطلق العنان تھے ، اسے ختم کر دیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ غلام بھی انسان ہیں اور ان کے انسانی حقوق کے خلاف

ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : یہ تمھارے بھائی ہیں ۔ اللہ نے انھیں تمھارے ماتحت کر دیا ہے ۔ اس لیے جو کھاؤ ، انھیں کھلاؤاور جو پہنو، انھیں پہناؤ اور کوئی ایسا کام ان کو نہ کہو جو ان کی ہمت سے باہر ہو اور اگر کہو تو اس میں ان کی مدد کرو ۔ ۷۲؂

ابن عمر کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اس کی پٹائی کی ، اس کے گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے ۔ ۷۳؂

ابو مسعود انصاری کا بیان ہے کہ میں اپنے غلام کو پیٹ رہا تھا۔ میں نے پیچھے سے کسی کو کہتے ہوئے سنا : ابو مسعود، جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے ۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ میں نے فوراً کہا : یا رسول اللہ ، یہ اللہ کے لیے آزاد ہے ۔ آپ نے فرمایا : یہ نہ کرتے تو تمھیں آگ کی سزا دی جاتی ۔ ۷۴؂

ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا : یارسول اللہ ، اپنے خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں ؟ آپ خاموش رہے ۔ اس نے پھر پوچھا : آپ خاموش رہے ۔ تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ نے فرمایا : دن میں ستر مرتبہ ۔ ۷۵؂

۳۔ قتل خطا، ظہار اور اس طرح کے بعض دوسرے گناہوں میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ اور صدقہ قرار دیا گیا ۔ ۷۶؂

۴۔ تمام ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کر دینے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہ اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے دوسروں کے برابر ہو سکیں ۔ ۷۷؂

۵۔ یہ نکاح اگر دوسروں کی لونڈیوں سے کیا جائے تو اس میں چونکہ نکاح اور ملکیت کے حقوق میں تصادم کا اندیشہ تھا ، اس لیے احتیاط کی تاکید کی گئی ۔ تاہم انھیں اجازت دی گئی کہ وہ اگر آزاد عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہیں رکھتے تو ان لونڈیوں میں سے جو مسلمان ہوں اور پاک دامن رکھی گئی ہوں ، ان کے مالکوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کر لیں ۔ پھر اس نکاح میں بھی حکم دیا گیا کہ ان کا مہر انھیں لازماً دیا جائے تاکہ بتدریج وہ آزاد عورتوں کے معیار پر آ جائیں ۔ قرآن کا ارشاد ہے :

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ ، فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ، بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ، فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مْحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَامُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ... ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ، وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌلَّکُمْ ، وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ.(النساء ۴ : ۲۵)

''اور جو تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہ رکھتا ہو، وہ اُن مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لے جو تمھاری ملکیت میں ہوں ۔ اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو ۔ لہٰذا اُن لونڈیوں کے ساتھ اُن کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق اُن کے مہر ادا کرو ، اِس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں ، نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والی ہوں ... یہ اجازت تم میں سے اُن کے لیے ہے جن کے مشکل میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اور صبر کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے ۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ ''

۶۔ زکوٰۃ کے مصارف میں ایک مستقل مد ' فی الرقاب' بھی رکھی گئی تاکہ غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی اس مہم کو بیت المال سے بھی تقویت بہم پہنچائی جائے ۔ ۷۸؂

۷۔ زنا کو جرم قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے تمام اڈے آپ سے آپ بند ہو گئے اور اگر کسی نے خفیہ طریقے سے اس کاروبار کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو اسے نہایت عبرت ناک سزا دی گئی ۔ ۷۹؂

۸۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ سب اللہ کے غلام ہیں ، لہٰذالونڈیوں اور غلاموں کے لیے ' عبد' ا ور 'امۃ' کے الفاظ استعمال کرنے کے بجائے ' فتی' ا ور ' فتاۃ' کے الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ ان کے بارے میں لوگوں کی نفسیات بدلے اور صدیوں سے جو تصورات قائم کر لیے گئے ہیں ، وہ تبدیل ہو جائیں ۔ ۸۰؂

۹۔ غلاموں کے فراہم ہونے کا ایک بڑا ذریعہ اس زمانے میں اسیران جنگ تھے ۔ مسلمانوں کے لیے اس کا موقع پیدا ہوا تو قرآن نے واضح کر دیا کہ جنگی قیدیوں کے معاملے میں دو ہی صورتیں ہوں گی : انھیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا یا بغیر کسی معاوضے کے احسان کے طو رپر رہا کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ کوئی صورت اب مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رہی ۔ ۸۱؂

____________

۵۵؂ تفسیر القرآن العظیم ، ابن کثیر ۳/ ۵۱۸۔ الکشاف ، زمخشری ۳/ ۵۶۰۔

۵۶؂ بخاری ، رقم ۱۰۸۸۔ ابوداؤد ، رقم ۵۲۷۲۔

۵۷؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۱۔

۵۸؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۰۔

۵۹؂ مسلم ، رقم ۴۶۲۷۔

۶۰؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۲۔

۶۱؂ ابوداؤد، رقم ۲۵۳۰۔

۶۲؂ نسائی ، رقم ۳۱۰۴۔

۶۳؂ ترمذی ، رقم ۱۸۹۹۔

۶۴؂ ترمذی ، رقم ۱۹۰۰۔

۶۵؂ ابوداؤد، رقم ۳۵۳۰۔

۶۶؂ بخاری ، رقم ۵۹۷۶۔

۶۷؂ بخاری ، رقم ۷۲۵۷۔

۶۸؂ ان شرائط کے بارے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ، ان کا جواب قرآن نے سورۂ نساء کی آیات ۱۲۷۔۱۳۰ میں دیا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس سے پہلے ''تعدد ازواج ''کے زیر عنوان کر چکے ہیں ۔

۶۹؂ البلد ۹۰: ۱۳۔

۷۰؂ مسلم ، رقم ۱۵۰۹۔

۷۱؂ مسلم ، رقم ۱۶۶۲۔

۷۲؂ مسلم ، رقم ۱۶۶۱۔

۷۳؂ مسلم ، رقم ۱۶۵۷۔

۷۴؂ مسلم ، رقم ۱۶۵۹۔

۷۵؂ ابوداؤد، رقم ۵۱۶۴۔

۷۶؂ النساء ۴: ۹۲ ۔ المجادلہ ۸۵:۳۔ المائدہ ۵:۸۹۔

۷۷؂ النور ۲۴: ۳۲۔۳۳۔

۷۸؂ التوبہ ۹: ۶۰۔

۷۹؂ اس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے ، اسی کتاب میں : ''حدودوتعزیرات'' ۔

۸۰؂ مسلم ، رقم ۲۲۴۹۔

۸۱؂ محمد ۴۷: ۴۔ اس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے ، اسی کتاب میں : ''قانون جہاد '' ۔