قانون معاشرت (4)


(گزشتہ سے پیوستہ) حقوق و فرائض[ا]

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ، فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ ، حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ، وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ، فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً ، اِنَّ اللّٰہَ کاَنَ عَلِیًّا کَبِیْرًا۔ (النساء ۴ : ۳۴)

''مرد عورتوں پر قوام ہیں ، اِس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ، اور اِس لیے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ پھر جو نیک عورتیں ہیں ، وہ فرماں برادر ہوتی ہیں ، رازوں کی حفاظت کرتی ہیں ، اِس بنا پر کہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے ۔ اور جن سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو ، اُنھیں نصیحت کرو، اور اُن کے بستروں میں اُنھیں تنہا چھوڑ دو اور (اِس پر بھی نہ مانیں تو) اُنھیں سزا دو ۔ پھر اگر وہ اطاعت کریں تو اُن پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک اللہ بہت بلند ہے ، وہ بہت بڑا ہے ۔ ''

اس آیت سے اوپر کے پیرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ انسان کے لیے جدوجہد اور مسابقت کا اصلی میدان اس کی خلقی صفات نہیں ہیں ، اس لیے کہ خلقی صفات کے لحاظ سے بعض کو بعض پر فی الواقع ترجیح حاصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذہنی ، کسی کو جسمانی ، کسی کو معاشی اور کسی کو معاشرتی برتری کے ساتھ پیدا کیا اور دوسروں کو اس کے مقابلے میں کم تر رکھا ہے۔ مردو عورت کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ ان میں زوجین کا تعلق ایک کو فاعل اور دوسرے کو منفعل بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ فعلیت جس طرح غلبہ ، شدت اور تحکم چاہتی ہے ، انفعالیت اسی طرح نرمی ، نزاکت اور اثر پزیری کا تقاضا کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے ۔ یہ ان کی خلقی صفات ہیں ۔ ان میں اگر مسابقت اور تنافس کا رویہ اختیار کیاجائے گا تو یہ فطرت کے خلاف جنگ ہو گی جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ بالآخر دونوں اپنی بربادی کا ماتم کرنے کے لیے باقی رہ جائیں ۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا میدان بھی ہے اور وہ اکتسابی صفات کا میدان ہے ۔ یہ نیکی ، تقویٰ، عبادت، ریاضت اور علم و اخلاق کا میدان ہے ۔ قرآن نے اس کے لیے جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کی جامع تعبیر اختیار فرمائی ہے ۔ مسابقت اور تنافس کا میدان درحقیت یہی ہے ۔ اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں ، بلکہ مسابقت اس میدان میں اتنی ہی محمود ہے ، جتنی خلقی صفات کے میدان میں مذموم ہے ۔ مرد بڑھے تو اسے بھی اپنی جدوجہد کا پھل ملے گا اور عورت بڑھے تو وہ بھی اپنی تگ و دو کا ثمرہ پائے گی ۔ بانو ، باندی ، آزاد ، غلام ، شریف ، وضیع ، خوب صورت، بدصورت اور بینا و نابینا ، سب کے لیے یہ میدان یکساں کھلا ہو اہے ۔ دوسروں پر فضیلت کی خواہش ہو تو انسان کو اس میدان میں خدا کا فضل تلاش کرنے کے لیے نکلنا چاہیے ۔ اپنی محنت غلط میدان میں برباد کرنے سے لاحاصل تصادم اور بے فائدہ تنازعات کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ حوصلہ آزمانے اور ارمان نکالنے کے لیے صحیح میدان یہ ہے ۔ جس کو اترنا ہو ، وہ اس میدان میں اترے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ، لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ ، وَسْءَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمًا۔ (النساء ۴ : ۳۲)

''اور جس چیز میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ، اُس کی تمنا نہ کرو ۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے ، اُن کو بھی اُس میں سے حصہ ملے گا اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے ، وہ بھی اُس میں سے اپنا حصہ پائیں گی ۔ اور اللہ سے اُس کا فضل (اِس معاملے میں) چاہو ۔ یقیناًاللہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔''

اسی ہدایت کو رہنما اصول قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے آیۂ زیر بحث میں خاندان کی تنظیم کے لیے اپنا قانون بیان فرمایا ہے ۔ خاندان کا ادارہ بھی ، اگر غور کیجیے تو ایک چھوٹی سی ریاست ہے ۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے ، اسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے ۔ سربراہی کا مقام اس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا تھا اور عورت کو بھی ۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ مرد کو دیا گیا ہے ۔ آیت میں اس کے لیے 'قوامون علی النساء' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے ۔ عربی زبان میں 'قام' کے بعد 'علی' آتاہے تو اس میں حفاظت ، نگرانی ، تولیت اور کفالت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے ۔ سربراہی کی حقیقت یہی ہے اور اس میں یہ سب چیزیں لازم و ملزوم ہیں ۔ اپنے اس فیصلے کے حق میں قرآن نے دو دلیلیں دی ہیں ۔ استاذ امام ان کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کوعورت پر فضیلت بخشی ہے ۔ مرد کوبعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق حاصل ہے جس کی بنا پر وہی سزاوار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے ۔مثلاً محافظت و مدافعت کی جو قوت وصلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد و ہمت اس کے اندر ہے ، وہ عورت کے اندر نہیں ہے ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے ، بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے ۔ بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں ، لیکن ان کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے ۔ مثلاً عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے ، وہ مرد نہیں رکھتا۔اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت ، دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے، ۱۵؂ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے ۔

دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ یعنی بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعاً نہیں اٹھائی ہے ، بلکہ اس وجہ سے اٹھائی ہے کہ یہ ذمہ داری اسی کے اٹھانے کی ہے ۔ وہی اس کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور وہی اس کا حق ادا کر سکتا ہے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۹۱)

میاں اور بیوی کے تعلق میں شوہر کو قوام قرار دینے کے بعد خاندان کے نظم کو صلاح و فلاح کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے عورتوں سے جس چیز کا تقاضا کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ انھیں اپنے شوہر کے ساتھ موافقت اور فرماں برداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔

۲۔ شوہر کے رازوں اور ا س کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنی چاہیے ۔

پہلی بات تو محتاج وضاحت نہیں ، اس لیے کہ نظم خواہ ریاست کا ہو یا کسی ادارے کا ،اطاعت اور موافقت کے بغیر ایک دن کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا ۔ یہ نظم کی فطرت ہے ۔ اسے نہ مانا جائے تو وہ نظم نہیں ،بلکہ اختلال و انتشار ہو گا جس کے ساتھ کوئی ادارہ بھی وجود میں نہیں آتا۔

رہی دوسری بات تو اس کے لیے قرآن نے 'حٰفظت للغیب'کی تعبیر اختیار کی ہے ۔ عام طور پر اس کے معنی پیٹھ پیچھے کی حفاظت کے لیے گئے ہیں ۔ ہم نے اسے رازوں کی حفاظت کرنے والی کے معنی میں لیا ہے ۔ اس کا یہی مفہوم ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یہ معنی لینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ 'غیب' کا لفظ راز کے مفہوم کے لیے مشہور ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ترکیب کلام ایسی ہے کہ پیٹھ پیچھے کے معنی لینے کی گنجایش نہیں ۔ تیسری یہ کہ عورت اور مرد کے درمیان رازوں کی امانت داری کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مسئلہ ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی امین ہیں ۔ بالخصوص عورت کامرتبہ تو یہ ہے کہ وہ مرد کے محاسن و معائب، اس کے گھر در ، اس کے اموال و املاک اور اس کی عزت و ناموس ، ہر چیز کی ایسی رازدان ہے کہ اگر وہ اس کا پردہ چاک کرنے پر آ جائے تو مرد بالکل ہی ننگا ہو کر رہ جائے ۔ اس وجہ سے قرآن نے اس صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ۔ اس کے ساتھ 'حفظ اللّٰہ' کا جو اضافہ ہے ، اس سے اس صفت کی عالی نسبی کا اظہار مقصود ہے کہ ان کی اس صفت پر خدا کی صفت کا ایک پرتو ہے ، اس لیے کہ خدا نے بھی اپنے بندوں اور بندیوں کے رازوں کی حفاظت فرمائی ہے ۔ ورنہ وہ لوگوں کا پردہ چاک کرنے پر آ جاتا تو کون ہے جو کہیں منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا ۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۹۲)

قرآن نے فرمایا ہے کہ صالح بیویوں کا رویہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو عورتیں سرکشی اور تمرد اختیار کریں یا گھر کے راز دوسروں پر افشا کرتی پھریں ،وہ خدا کی نگاہ میں ہرگز صالحات نہیں ہیں ۔

لیکن کوئی عورت اگر اس طرح کی سرکشی پر اتر ہی آئے تو مرد کیا اس کی تادیب کر سکتا ہے ؟ قرآن نے اس کا جواب اثبات میں دیا ہے ۔ آیۂ زیر بحث میں اس سرکشی کے لیے 'نشوز' کا لفظ آیا ہے ۔ اس کے معنی سر اٹھانے کے ہیں ، مگر اس کا زیادہ استعمال اس سرکشی اور شوریدہ سری کے لیے ہوتا ہے جو کسی عورت کی طرف سے اس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو۔ یہ لفظ عورت کی ہر کوتاہی ، غفلت یا بے پروائی یا اپنے ذوق اور رائے اور اپنی شخصیت کے اظہار کی فطری خواہش کے لیے نہیں بولا جاتا ، بلکہ اس رویے کے لیے بولا جاتا ہے ، جب وہ شوہر کی قوامیت کو چیلنج کر کے گھر کے نظام کو بالکل تلپٹ کر دینے پر آمادہ نظر آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاملہ یہاں تک پہنچ رہا ہو تو مرد تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے ۔

پہلی یہ کہ عورت کو نصیحت کی جائے ۔ آیت میں اس کے لیے 'وعظ' کا لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی حد تک زجرو توبیخ بھی ہو سکتی ہے ۔

دوسری یہ کہ اس سے بے تکلفانہ قسم کا خلاملا ترک کرد یا جائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں ۔

تیسری یہ کہ عورت کو جسمانی سزا دی جائے ۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیر تربیت شاگردوں کو ، یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حد 'غیر مبرح' ۱۶ ؂ کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی پائدار اثر چھوڑے ۔

آیت کے انداز بیان سے واضح ہے کہ ان تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ ہے ۔ یعنی پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری صورت اسی وقت اختیار کرنی چاہیے جب آدمی مطمئن ہو جائے کہ بات نہیں بنی اور اگلا قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ مرد کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے ۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اگر اس سے اصلاح ہو جائے تو عورت کے خلاف انتقام کی راہیں نہیں ڈھونڈنی چاہییں ۔ چنانچہ 'ان اللّٰہ کان علیاً کبیراً' کے الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ سب سے بلند اور سب سے بڑا خدا ہے ۔ وہ جب آسمان و زمین کا مالک ہو کر بندوں کی سرکشی سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ واصلاح کے بعد نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کے بندوں کو بھی دوسروں پر اختیار پا کر اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔

(باقی)

___________

۱۵؂ چنانچہ اولاد اور والدین کے تعلق میں اسی بنا پر ماں کو باپ پر فضیلت دی گئی ہے ۔ اس معاملے میں قرآن کا نقطۂ نظر ہم آگے اس کے محل میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔

۱۶؂ ابوداؤد ، رقم ۱۸۷۸۔