قانون معاشرت (5)


(گزشتہ سے پیوستہ) حقوق و فرائض[۲]

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْھاً، وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ، وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا۔ (النساء ۴ :۱۹)

''ایمان والو، تمھارے لیے جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ اُنھیں دیا ہے ، اُس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے اُ نھیں تنگ کرو ۔ ہاں ، اُس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کریں ۔ اور اُن سے بھلے طریقے کا برتاؤ کرو ، اِس لیے کہ تمھیں وہ پسند نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اُسی میں تمھارے لیے بہت بڑی بہتری پیدا کر دے ۔ ''

یہ عورتوں کے حقوق اور ان سے متعلق صحیح رویے کا بیان ہے ۔

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ عورتیں کوئی مال مواشی نہیں ہیں کہ جس کو میراث میں ملیں ، وہ انھیں لے جا کر اپنے باڑے میں باندھ لے ۔ ان کی حیثیت ایک آزاد ہستی کی ہے ۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں اور حدود الہٰی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقوں میں یہ رواج تھا کہ مرنے والے کی جائداد اور اس کے مال مواشی کی طرح اس کی بیویاں بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتی تھیں اور وہ اگر اس کے بیٹے بھی ہوتے تو بغیر کسی تردد کے ان کے ساتھ زن و شو کا تعلق قائم کر لیتے تھے ۔ قرآن نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کر دیا اور واضح فرمایا کہ عورتیں اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں ۔ ان کی مرضی کے بغیر کوئی چیز ان پر مسلط نہیں کی جا سکتی ۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ بیوی اگر ناپسند بھی ہو تو اس سے اپنا دیا دلایاواپس لینے کے لیے اس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش کسی بندۂ مومن کے لیے جائز نہیں ہے ۔ اس طرح کا رویہ صرف اس صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے جب وہ کھلی ہوئی بدکاری کرنے لگے ۔ اس قسم کی کوئی چیز اگر اس سے صادر نہیں ہوئی ہے ، وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے تو محض اس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے، اس کو تنگ کرنا عدل و انصاف اور فتوت و شرافت کے بالکل منافی ہے ۔ اخلاقی فساد ، بے شک قابل نفرت چیز ہے ،لیکن محض صورت کے ناپسند ہونے یا کسی ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر اسے شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود ان کے ساتھ ا س طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان ہو ، عقل و فطرت کے مطابق ہو ، رحم و مروت پر مبنی ہو ، اس میں عدل و انصاف کے تقاضے ملحوظ رہے ہوں ۔ اس کے لیے آیت میں 'وعاشروھن بالمعروف' کے الفاظ آئے ہیں ۔ 'معروف' کا لفظ قرآن مجید میں خیر وصلاح کے رویوں اور شرفا کی روایات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں بھی یہ اسی مفہوم میں ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ بیوی پسند ہو یا ناپسند ، بندۂ مومن سے اس کے پروردگار کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہرحال میں نیکی اور خیر کا رویہ اختیار کرے اور فتوت و شرافت کی جو روایت انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے ، اس سے سرمو انحراف نہ کرے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود شوہر اگر اس سے اچھا برتاؤ کرتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی برکتوں کے بہت سے دروازے اسی کے ذریعے سے اس کے لیے کھول دیے جائیں ۔

اس آخری بات کے لیے جو الفاظ آیت میں آئے ہیں ، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے ان کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یہاں لفظ اگرچہ 'عسٰی' استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہار امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے ، لیکن عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع میں ، جیسا کہ یہاں ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے ، و ہ یہی ہے کہ جو لوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اقدار کو اہمیت اور ان کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے ۔ جن لوگوں نے ا س وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں ، وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے ۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۰)

اس سے واضح ہے کہ جب ناپسندیدگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے تو عام حالات میں بیوی کے ساتھ کوئی غلط رویہ اللہ کی کس قدرناراضی کا باعث ہو گا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا ہے :

استوصوا بالنساء خیراً ، فإنھن عندکم عوان ، لیس تملکون منھن شیئاً غیر ذلک ، إلاّ أن یاتین بفاحشۃ مبینۃ ، فإن فعلن فاھجروھن فی المضاجع ، واضربوھن ضرباًغیر مبرح، فإن اطعنکم فلا تبغواعلیھن سبیلاً ، إن لکم من نسائکم حقاً ، و لنسائکم علیکم حقاً، فأما حقکم علی نسائکم فلا یوطئن فرشکم من تکرھون ، ولایأذن فی بیوتکم لمن تکرھون ، ألا وحقھن علیکم أن تحسنوا علیھن فی کسوتھن و طعامھن۔ (ابن ماجہ ، رقم ۱۸۷۸)

''عورتوں کے لیے اچھے برتاؤ کی نصیحت قبول کرو ، اس لیے کہ (حقوق زوجیت کے لیے) وہ تمھاری پابند ہیں ۔ تم ان پر اس کے سوا کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ ہاں اگر وہ کھلی ہوئی بدکاری کریں تو تم کو حق ہے کہ ان کے بستروں میں انھیں تنہا چھوڑ دو اور(اس پر بھی نہ مانیں تو) انھیں پیٹو ، مگر اتنا جو کوئی نشان نہ چھوڑے ۔ پھر اگر وہ اطاعت کریں تو ان پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو ۔ بے شک، عورتوں پر تمھارا حق ہے اور تم پر بھی ان کے حقوق ہیں ۔ تمھارا حق تو یہ ہے کہ تمھارے ناپسندیدہ کسی شخص کو وہ نہ تمھارا بستر پامال کرنے دیں نہ تمھارے گھر میں آنے کی اجازت دیں ۔ سنو ! اور ان کا حق یہ ہے کہ (اپنی استطاعت کے مطابق) انھیں اچھے سے اچھاکھلاؤ اور اچھے سے اچھا پہناؤ۔''

(باقی)

____________