قانون معاشرت (6)


(گزشتہ سے پیوستہ) تعدد ازواج

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنیٰ وَ ثُلٰثَ وَرُبٰعَ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ، ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلَّا تَعُوْلُوْا۔ وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْ ءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْءًا مَّرِیٓءًا۔(النساء ۴ :۳۔۴ )

''اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کی ) جو (مائیں) تمھارے لیے جائز ہوں ، اُن میں سے دو دو ، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو ۔ پھر اگر اِس بات کا ڈر ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی یا پھر وہ جو ملک یمین کی بنا پر تمھارے قبضے میں ہوں ۔ یہ اِس بات کے زیادہ قرین ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو ۔ اور اِن عورتوں کو بھی اِن کے مہر دو اُسی طرح جس طرح مہر دیا جاتا ہے ۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ چھوڑدیں تو اُسے شوق سے کھالو۔ ''

اس آیت کے مخاطب یتیموں کے سرپرست ہیں ۔ اس میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ یتیموں کے اموال و املاک اور حقوق کی نگہداشت جیسی کچھ ہونی چاہیے ، وہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور وہ تنہا اس ذمہ داری سے حسن و خوبی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہو سکتے تو انھیں چاہیے کہ ان کی ماؤں میں سے جو ان کے لیے جائز ہوں ، ان کے ساتھ نکاح کر لیں ۔ وہ اگر اس ذمہ داری میں شریک ہو جائیں گی تو وہ زیادہ بہتر طریقے پر اسے پورا کر سکیں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیموں کے ساتھ جو دلی تعلق ان کی ماؤں کو ہو سکتا ہے اور ان کے حقوق کی نگہداشت جس بیداری کے ساتھ وہ کر سکتی ہیں ، وہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔

اس سے واضح ہے کہ یہ آیت اصلاً تعدد ازواج سے متعلق کوئی حکم بیان کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ، بلکہ یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر تعدد ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب کے لیے نازل ہوئی ہے جو عرب میں پہلے سے تھا۔ قرآن نے دوسرے مقامات پر صاف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے ، اس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مردو عورت میں رشتۂ نکاح سے قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسانیت کی ابتدا سیدنا آدم سے ہوئی ہے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی بیوی پیدا کی تھی ۔ یہ تمدن کی ضروریات اور انسان کے نفسی ، سیاسی اور سماجی مصالح ہیں جن کی بنا پر تعدد ازواج کا رواج کم یا زیادہ ہر معاشرے میں رہا ہے اور انھی کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کسی شریعت میں اسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ یہاں بھی اسی نوعیت کی ایک مصلحت میں اس سے فائدہ اٹھانے کی طرف رہ نمائی فرمائی گئی ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ دو شرطیں اس پر عائد کر دی ہیں :

ایک یہ کہ یتیموں کے حقوق کی نگہداشت جیسی مصلحت کے لیے بھی عورتوں کی تعداد کسی شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔ ۱۷؂

دوسری یہ کہ بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ آدمی اگر اسے پورا نہ کرسکتا ہو تو اس طرح کی کسی اہم دینی مصلحت کے پیش نظر بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے ۔

اس انصاف کے حدود کیا ہیں ؟ اس سے مراد اگر دل کے میلان اور ظاہری برتاؤ میں پوری مساوات ہے تو یہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے ۔ کوئی شخص اگر اپنی ایک پسندیدہ بیوی رکھتے ہوئے کسی عورت سے صرف اس لیے نکاح کرتا ہے کہ اس کے یتیم بچوں کے حقوق صحیح طریقے پر ادا ہو سکیں تو یہ ناممکن ہے کہ وہ ان دونوں بیویوں سے یکساں محبت اور یکساں برتاؤ کا رویہ اختیار کر سکے ۔ یہ سوال زمانۂ نزول قرآن ہی میں پیداہو گیا تھا۔ چنانچہ قرآن نے آگے اسی سورۂ نساء کی آیات ۱۲۷ ۔ ۱۳۰ میں اس کا جواب دیا ہے ۔

اس میں پہلے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ نکاح یتیموں کے حقوق کی نگہداشت کے لیے کیا گیا ہو یا کسی اور مقصد سے ، مہر اور عدل عورت کا حق ہے اور یہ ، جس طرح کہ آیت ۳میں تاکید کی گئی ہے ، نہایت خوش دلی کے ساتھ ادا ہونا چاہیے ۔ پھر عورت کو نصیحت کی ہے کہ اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ بیویوں میں برابری کے حقوق پر اصرار کے نتیجے میں مرد اس سے بے پروائی برتے گا یا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرے گا تو اس میں حرج نہیں کہ دونوں مل کر آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضاً فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا ، وَالصُّلْحُ خَیْرٌ، وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ، وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا ، فَاِنَّ اللّٰہ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ (۴: ۱۲۸)

''اور اگر (اِن میں سے ) کسی عورت کو اپنے شوہر سے زیادتی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو اِس میں حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں ، اور (سمجھیں کہ اِس معاملے میں) سمجھوتا ہی بہتر ہے ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) حرص لوگوں کی سرشت میں ہے ۔ اور اگر تم اچھا رویہ اختیار کرو گے اور اللہ سے ڈرو گے تو (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ) جو کچھ تم کرو گے ، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یعنی عورت اپنے حق مہر ، عدل اور نان نفقے کے معاملے میں ایسی رعایتیں شوہر کو دے دے کہ قطع تعلق کا اندیشہ رفع ہو جائے ۔ فرمایا کہ صلح اور سمجھوتے ہی میں بہتری ہے ، اس لیے کہ میاں اور بیوی کا رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو جانے کے بعد فریقین کی فلاح اسی میں ہے کہ یہ قائم ہی رہے ، اگرچہ اس کے لیے کتنا ہی ایثار کرنا پڑے ۔ فرمایا کہ حرص طبائع کی عام بیماری ہے جو باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ یا تو دونوں فریق ایثار پر آمادہ ہوں اور اگر ایک فریق کا مرض لاعلاج ہے تو دوسرا قربانی پر آمادہ ہو ۔ غرض رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنے کے لیے اگر عورت کو قربانی بھی دینی پڑے تو بہتری اس کے برقرار رہنے ہی میں ہے ۔ اس کے بعد 'وان تحسنوا و تتقوا'کے الفاظ سے مرد کو ابھارا ہے کہ ایثار و قربانی اور احسان و تقویٰ کا میدان اصلاً اسی کے شایان شان ہے ۔ وہ اپنی فتوت اور مردانگی کی لاج رکھے اور عورت سے لینے والا بننے کی بجائے اس کو دینے والا بنے ۔ اللہ ہر ایک کے عمل سے باخبر ہے اور ہر نیکی کا وہ بھرپور صلہ دے گا۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۳۹۹)

اس کے بعد عدل کے حدود اس طرح واضح فرمائے ہیں :

وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ، فَلاَتَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ، وَکَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا۔(۴: ۱۲۹۔۱۳۰)

''اورتم اگر چاہو بھی تو عورتوں کے درمیان پورا پورا عدل تو کر ہی نہیں سکتے ۔ اِس لیے یہی کافی ہے کہ کسی ایک کی طرف بالکل نہ جھک جاؤ کہ دوسری ادھر میں لٹکتی رہ جائے۔ اور اگر اصلاح کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ بخشنے والا ہے ، اس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور اگر (میاں اور بیوی) ، دونوں (بالآخر) جدا ہی ہو جائیں گے تو اللہ اُن میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا ، اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا ، بڑا صاحب حکمت ہے ۔ ''

اس سے معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان جس عدل کا تقاضا قرآن نے کیا ہے ، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ظاہر کے برتاؤ اور دل کے لگاؤ میں کسی پہلو سے کوئی فرق باقی نہ رہے ۔ اس طرح کا عدل کسی کی طاقت میں نہیں ہے اور کوئی شخص یہ کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ دل کے میلان پر آدمی کو اختیار نہیں ہوتا ، لہٰذا قرآن کا تقاضا صرف یہ ہے کہ شوہر ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائے کہ دوسری بالکل معلق ہو کر رہ جائے گویا کہ اس کا کوئی شوہر نہیں ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ برتاؤ اور حقوق میں اپنی طرف سے توازن قائم رکھنے کی کوشش کرو، اگر کوئی حق تلفی یا کوتاہی ہو جائے تو فوراً تلافی کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر لو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ تمھاری اس کوشش کے باوجود اگر کوئی فروگزاشت ہو جاتی ہے تو اللہ بخشنے والا ہے ۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

اس کے بعد آخر میں یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ گھر بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہی مطلوب ہے، لیکن اگر حالات مجبور کر دیتے ہیں اور علیحدگی ہو ہی جاتی ہے تو اللہ سے اچھی امید رکھنی چاہیے ۔ وہی رزق دینے والا ہے اور مصیبتوں اور تکلیفوں میں اپنے بندوں کا ہاتھ بھی وہی پکڑتا ہے ۔ وہ میاں اور بیوی ، دونوں کو اپنی عنایت سے مستغنی کر دے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''مطلب یہ ہے کہ اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے میاں اور بیوی ، دونوں سے ایثار اور کوشش تو مطلوب ہے ، لیکن یہ غیرت اور خودداری کی حفاظت کے ساتھ مطلوب ہے ۔ میاں اور بیوی میں سے کسی کے لیے جس طرح اکڑنا جائز نہیں ہے ، اسی طرح ایک حد خاص سے زیادہ دبنا بھی جائز نہیں ہے ۔ اگرچہ الفاظ میں عمومیت ہے ، لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ اس میں عورتوں کی خاص طور پر حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ حتی الامکا ن نباہنے کی کوشش تو کریں اور مصالحت کے لیے ایثار بھی کریں ، لیکن یہ حوصلہ رکھیں کہ اگر کوشش کے باوجود نباہ کی صورت پیدا نہ ہوئی تو رزاق اللہ تعالیٰ ہے ۔ وہ اپنے خزانۂ جود سے ان کو مستغنی کر دے گا ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۴۰۰)

یہاں یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر کی حیثیت سے اپنی منصبی ذمہ داریوں کے بعض تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تعدد ازواج کی ان دونوں شرائط سے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ چنانچہ معاشرے میں غلاموں کا رتبہ بڑھانے کے لیے جب آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے سیدنا زید سے کیا اور ان دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا تو سیدہ کی دل داری اور متبنیٰ کی بیوی سے نکاح کی حرمت کے جاہلی تصور کو بالکل ختم کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ سیدہ سے خود نکاح کر لیں ، دراں حالیکہ اس وقت چار بیویاں پہلے سے آپ کے نکاح میں تھیں ۔ سیدہ اور ان کے شوہر کے درمیان جو صورت حال پیدا ہو گئی تھی ، اس میں آپ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ یہی کرنا پڑے گا ، لیکن اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کھول دی اور آپ کو توجہ دلائی کہ اللہ کے پیغمبر اپنی منصبی ذمہ داریوں کے معاملے میں لوگوں کے رد عمل کی پروا نہیں کرتے ۔ لہٰذا سیدہ کے ساتھ آپ کے نکاح کا اعلان خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کر دیا گیا۔ سورۂ احزاب میں ہے :

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ : اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ ، وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ وَ تَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ، فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَراً زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَایَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَ طَراً، وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔ مَاکَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ، سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ، وَ کَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْراً ، الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخْشَوْنَہٗ ، وَلَایَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ، وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا ۔(۳۳: ۳۷۔۳۸)

''اور یاد کرو ، (اے پیغمبر) جب تم اُس شخص سے بار بار کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تم نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو، اور اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنے والا تھا اور لوگوں سے ڈر رہے تھے ، دراں حالیکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو ۔ چنانچہ جب زید نے اُس (خاتون) سے اپنا تعلق توڑ لیا تو ہم نے تمھیں اُس سے بیاہ دیا، اِس لیے کہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے ، جب وہ اُن سے تعلق توڑ چکے ہوں ۔ اور اللہ کا یہ حکم تو عمل میں آنا ہی تھا۔ ''

یہ اعلان ہوا تو اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح و طلاق کا ایک مفصل ضابطہ بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سورہ میں بیان کردیا جس میں تعدد ازواج کے وہ شرائط تو اٹھا دیے گئے جو اوپر بیان ہوئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ بعض ایسی پابندیاں آپ پر عائد کر دی گئیں جو عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ ، اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَاِلکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الَّتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ، وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ ، اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا ، خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْ اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ، وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْراً رَّحِیْمًا۔ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَ تُءْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآءُ ، وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ ۔ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ ، وَاللّّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ، وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا۔ لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ، وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ، وَکاَنَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ رَّقِیْبًا۔ (۳۳ : ۵۰۔ ۵۲)

''ہم نے تمھاری وہ بیویاں تمھارے لیے جائز ٹھیرائی ہیں ، اے پیغمبر، جن کے مہر تم دے چکے ہو اور (اسی طرح) وہ (خاندانی) عورتیں جو (تمھارے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں) اللہ تمھارے قبضے میں لے آئے اور تمھاری وہ چچا زاد ، پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مسلمان عورت جو اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کردے ، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے ۔ یہ حکم دوسرے مسلمانوں سے الگ صرف تمھارے لیے خاص ہے ۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں ، اُن پر فرض کیا ہے ۔ (اِس لیے خاص ہے ) کہ (اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں) تم پر کوئی تنگی نہ رہے ۔ اور (اگر کوئی کوتاہی ہو تو)اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ تمھیں اختیار ہے کہ اُن میں سے جسے چاہو الگ رکھو اور جسے چاہو ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالو ۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ (وضاحت) اس کے زیادہ قرین ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی تم اُن سب کو دو گے ، اُس پر راضی رہیں گی ۔ اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ ان کے علاوہ کوئی عورت تمھارے لیے جائز نہیں ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی جگہ اور بیویاں لے آؤ ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی پسندہوں ۔ لونڈیاں ، البتہ (اِس کے بعد بھی) جائز ہیں اور (یہ حقیقت ہے کہ) اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ ''

یہ ضابطہ جن نکات پر مبنی ہے ، وہ یہ ہیں :

اولاً ، سیدہ زینب سے نکاح کے بعد بھی آپ اگر چاہیں تو درج ذیل تین مقاصد کے لیے مزید نکاح کر سکتے ہیں :

۱۔ ان خاندانی عورتوں کی عزت افزائی کے لیے جو آپ کے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں قیدی بن کر آپ کے قبضے میں آ جائیں ۔

۲۔ ان خواتین کی دل داری کے لیے جو محض حصول نسبت کی غرض سے آپ کے ساتھ نکاح کی خواہش مند ہوں اور آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ہبہ کر دیں ۔

۳۔ اپنی ان چچا زاد ، ماموں زاد ، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کی تالیف قلب کے لیے جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اس طرح اپنا گھر بار اور اپنے اعزہ و اقربا ،سب کوچھوڑ کر آپ کا ساتھ دیا ہے ۔

ثانیاً، یہ نکاح چونکہ ایک دینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کیے جائیں گے ، اس لیے اپنی ان بیویوں کے ساتھ بالکل یکساں تعلق رکھنے کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی ۔

ثالثاً ، ان خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں اب آپ کے لیے حرام ہیں ۱۸؂ اور ان سے ایک مرتبہ نکاح کر لینے کے بعد انھیں الگ کر کے ان کی جگہ کوئی دوسری بیوی بھی آپ نہیں لا سکتے ، اگرچہ وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو ۔

چنانچہ سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مقصد کے لیے نکاح کیا۔ سیدہ میمونہ دوسرے مقصد سے آپ کی ازواج میں شامل ہوئیں ، اور سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ آپ کا نکاح تیسرے مقصد کے پیش نظر ہو ا۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی سورہ میں بیان کر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے ۔ کسی مسلمان کو اس کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لانا چاہیے :

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ ... وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْآ اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَداً ، اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا۔ (۳۳: ۶، ۵۳)

''نبی مسلمانوں کے لیے خود اُن کی ذات پر مقدم ہیں اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں ... اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی بیویوں سے تم اُن کے بعد بھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ہی سنگین بات ہے ۔''

اس سے واضح ہے کہ یہ ایک خالص دینی ذمہ داری تھی جو نبوت و رسالت کے منصبی تقاضوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد ہوئی اور آپ نے اسے پورا کر دیا۔ بشری خواہشات سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اسے عام قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

(باقی)

____________

۱۷؂ چنانچہ قیس بن حارث کے بارے میں روایت ہے کہ ان کی آٹھ بیویاں تھیں ۔ وہ اسلام لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر ان کو حکم دیاکہ چار بیویاں رکھ لیں اور باقی کو چھوڑ دیں ۔ ملاحظہ ہو : ابو داؤد، رقم ۲۲۴۱۔

۱۸؂ چنانچہ اسی پابندی کے باعث سیدہ ماریہ کے ساتھ آپ نکاح نہیں کر سکے اور وہ ملک یمین ہی کے طریقے پر آپ کے گھر میں رہیں ۔