قانون معاشرت (7)


(گزشتہ سے پیوستہ) مباشرت

وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ، قُلْ ھُوَ اَذًی ، فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ ، وَلَاتَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ فَاِذَاتَطَھَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ، وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ، وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۲۔ ۲۲۳)

''اور وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو : یہ نجاست ہے ۔ چنانچہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ خون سے پاک نہ ہو جائیں ، اُن کے قریب نہ جاؤ ۔ پھر جب وہ نہاکر پاکیزگی حاصل کر لیں تو اُن سے ملاقات کرو ، جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ بے شک ، اللہ توبہ قبول کرنے والوں اورپاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ تمھاری یہ عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں ۔ لہٰذا تم اپنی اِس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ اور (اِس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت، دونوں میں) اپنے لیے آگے بڑھاؤ، ۱۹؂ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تمھیں (ایک دن) لازماً اُس سے ملنا ہے ۔ اور ایمان والوں کو ، (اے پیغمبر، اس ملاقات کے موقع پر فلاح و سعادت کی) خوش خبری سنا دو۔''

مردو عورت کا جنسی تعلق تو انسان کی جبلت ہے اور وہ اس معاملے میں کسی ہدایت کا محتاج نہیں ہوتا ، لیکن حیض و نفاس کے جو دن عورتوں پر آتے ہیں ، ان میں بھی یہ تعلق کیا قائم رہنا چاہیے ؟ بالبداہت واضح ہے کہ دین جس کا مقصد ہی تزکیہ ہے ، وہ اسے گوارا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا تمام الہامی مذاہب نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے اور ان ایام میں یہ تعلق ممنوع ٹھیرایا ہے ۔ دین ابراہیمی کے زیر اثر عرب جاہلیت بھی اسے ناجائز ہی سمجھتے تھے ۔ ان کی شاعری میں ا س کا ذکر کئی پہلووں سے ہوا ہے ۔ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہ تھا ، لیکن عورت ان ایام سے گزر رہی ہو تو اس سے اجتناب کے حدود کیا ہیں ، اس میں ، البتہ بہت کچھ افراط و تفریط پائی جاتی تھی ۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو قرآن نے اس کے متعلق شریعت کا حکم سورۂ بقرہ کی ان آیات میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی ان کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''اس زمانے میں عورت سے علیحدہ رہنے (اعتزال) کا جو حکم دیا ہے ، اس کی صحیح حد آگے کے الفاظ 'ولاتقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللّٰہ'(اور تم ان سے قربت نہ کرو، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں ، تو جب وہ پاکیزگی حاصل کرلیں تو ان کے پاس آؤ، جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے) سے خود واضح ہو رہی ہے کہ یہ علیحدگی صرف زن و شو کے خاص تعلق کے حد تک ہی مطلوب ہے ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو بالکل اچھوت بنا کے رکھ دو، جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے ۔ اس چیز کی وضاحت احادیث اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ہوئی ہے ۔ ''(تدبر قرآن ۱/ ۵۲۶)

روایات درج ذیل ہیں:

سیدہ عائشہ کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اور وہ حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھیں ۔ ۲۰؂

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گود میں تکیہ کیے ہوئے قرآن پڑھتے تھے ۔ ۲۱؂

انھی سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی حیض کی حالت میں ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب آنا چاہتے تو ہدایت کرتے کہ حیض کی جگہ پر تہ بند باندھ لے ، پھر قریب آ جاتے ۔ ۲۲؂

وہ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں پانی پیتی، پھر وہی پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی اور آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پی لیتے جہاں میں نے رکھا ہوتا۔ اسی طرح ہڈی چوستی ، پھر آپ کو دے دیتی اور آپ اسی جگہ منہ رکھ کر کھا لیتے جہاں میں نے رکھا ہوتا۔ ۲۳؂

استاذ امام لکھتے ہیں :

''اس آیت میں 'طھر' اور 'تطھر' دولفظ استعمال ہوئے ہیں ۔ طہر کے معنی تو یہ ہیں کہ عورت کی ناپاکی کی حالت ختم ہو جائے اور خون کا آنا بند ہو جائے اور تطہر کے معنی یہ ہیں کہ عورت نہا دھو کر پاکیزگی کی حالت میں آ جائے ۔آیت میں عورت سے قربت کے لیے طہر کو شرط قرار دیا ہے اور ساتھ ہی فرمادیا ہے کہ جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں ، تب ان کے پاس آؤ۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ چونکہ قربت کی ممانعت کی اصلی علت خون ہے ، اس وجہ سے اس کے انقطاع کے بعد یہ پابندی تو اٹھ جاتی ہے ، لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کر لے ، تب اس سے ملاقات کرو۔ ''(تدبرِ قرآن ۱/ ۵۲۶)

اس کے ساتھ یہ بات بھی قرآن نے انھی آیات میں واضح کر دی ہے کہ نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کر لینے کے بعد بھی عورت سے ملاقات لازماً اسی راستے سے ہونی چاہیے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھا ہے ۔ چنانچہ فرمایاہے :'فاتوھن من حیث امرکم اللّٰہ' (تو ان سے ملاقات کرو، جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے)۔یہ چیز بدیہیات فطرت میں سے ہے اور اس پہلو سے ، لاریب خدا ہی کا حکم ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ، درحقیقت خدا کے ایک واضح، بلکہ واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے ، اور اس پر یقیناًاس کے ہاں سزا کامستحق ہو گا ۔

قرآن نے یہی بات اس کے بعد کھیتی کے استعارے سے واضح فرمائی ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

'' عورتوں کے لیے کھیتی کے استعارے میں ایک سیدھا سادہ پہلو تو یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے لیے قدرت کا بنایا ہو ایہ ضابطہ ہے کہ تخم ریزی ٹھیک موسم میں اور مناسب وقت پر کی جاتی ہے ، نیز بیج کھیت ہی میں ڈالے جاتے ہیں ، کھیت سے باہر نہیں پھینکے جاتے ، کوئی کسان اس ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، اسی طرح عورت کے لیے فطرت کا یہ ضابطہ ہے کہ ایام ماہواری کے زمانے میں یا کسی غیر محل میں اس سے قضاے شہوت نہ کی جائے، اس لیے کہ حیض کا زمانہ عورت کے جمام اور غیرآمادگی کا زمانہ ہوتا ہے ، اور غیر محل میں مباشرت باعث اذیت و اضاعت ہے ۔ اس وجہ سے کسی سلیم الفطرت انسان کے لیے اس کا ارتکاب جائز نہیں ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۷)

اس کے بعد 'فاتواحرثکم انی شئتم'(لہٰذا تم اپنی اس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ) کی وضاحت میں انھوں نے لکھا ہے :

''(اس) میں یہ بیک وقت دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک تو اس آزادی ، بے تکلفی ، خود مختاری کی طرف جو ایک باغ یاکھیتی کے مالک کو اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں حاصل ہوتی ہے ، اور دوسری اس پابندی ، ذمہ داری اور احتیاط کی طرف جو ایک باغ یا کھیتی والا اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں ملحوظ رکھتا ہے ۔ اس دوسری چیز کی طرف 'حرث' کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اور پہلی چیز کی طرف 'انی شئتم'کے الفاظ۔ وہ آزادی اور یہ پابندی، یہ دونوں چیزیں مل کر اس رویے کو متعین کرتی ہیں جو ایک شوہر کو بیوی کے معاملے میں اختیار کرنا چاہیے ۔

ہر شخص جانتا ہے کہ ازدواجی زندگی کا سارا سکون و سرور فریقین کے اس اطمینان میں ہے کہ ان کی خلوت کی آزادیوں پر فطرت کے چند موٹے موٹے قیود کے سواکوئی قید ، کوئی پابندی اور کوئی نگرانی نہیں ہے ۔ آزادی کے اس احساس میں بڑا کیف اور بڑا نشہ ہے ۔ انسان جب اپنے عیش و سرور کے اس باغ میں داخل ہوتا ہے تو قدرت چاہتی ہے کہ وہ اپنے اس نشہ سے سرشار ہو، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس کے سامنے قدرت نے رکھ دی ہے کہ یہ کوئی جنگل نہیں ، بلکہ اس کا اپنا باغ ہے اور یہ کوئی ویرانہ نہیں ، بلکہ اس کی اپنی کھیتی ہے ، اس وجہ سے وہ اس میں آنے کو تو سو بار آئے اور جس شان ، جس آن ، جس سمت اور جس پہلو سے چاہے آئے ، لیکن اس باغ کا باغ ہونا اور کھیتی کا کھیتی ہونا یاد رکھے ۔ اس کے کسی آنے میں بھی اس حقیقت سے غفلت نہ ہو ۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۷)

یہ ہدایات کس درجہ اہمیت رکھتی ہیں ؟ قرآن نے اسے ان آیتوں میں 'ان اللّٰہ یحب التوابین و یحب المتطھرین' (بے شک ، اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ آیت کے اس حصے کی وضاحت استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس طرح کی ہے :

''توبہ اور تطہر کی حقیقت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ توبہ اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنے کا نام ہے اور تطہر اپنے ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا ہے ۔ اس اعتبار سے ان دونوں کی حقیقت ایک ہوئی اور مومن کی یہ دونوں خصلتیں اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ ان سے محروم ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں ۔ یہاں جس سیاق میں یہ بات آئی ہے ، اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جو لوگ عورت کی ناپاکی کے زمانے میں قربت سے اجتناب نہیں کرتے یا قضاے شہوت کے معاملے میں فطرت کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں ، وہ اللہ کے نزدیک نہایت مبغوض ہیں ۔''(تدبر قرآن ۱ /۵۲۶)

(باقی)

____________

۱۹؂ یعنی ایسی اولاد پیدا کرو جو دنیا اور آخرت ، دونوں میں تمھارے لیے سرمایہ بنے ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ لوگ بچوں کی پیدایش کے معاملے میں اپنے اقدام کی ذمہ داری سمجھیں اور جو کچھ کریں ، اس ذمہ داری کو پوری طرح سمجھ کر کریں ۔

۲۰؂ بخاری ، رقم ۲۹۶۔

۲۱؂ بخاری ، رقم ۲۹۷۔

۲۲؂ بخاری ، رقم ۳۰۲۔

۲۳؂ مسلم ، رقم ۳۰۰۔