قانون معاشرت (8)


(گزشتہ سے پیوستہ) ایلا

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِ ھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ ، فَاِنْ فَآءُ وْ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ ، فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۶۔۲۲۷)

''اُن لوگوں کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے جو اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ پھر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور اگر طلاق کا فیصلہ کر لیں تو (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ سمیع و علیم ہے۔''

سورۂ بقرہ کی اس آیت میں عورتوں سے 'ایلاء' کا حکم بیان ہوا ہے ۔ یہ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم بیوی سے زن و شو کا تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینا ہے ۔ اس طرح کی قسم اگر کھا لی جائے تو اس سے بیوی چونکہ معلق ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ چیز عدل و انصاف اور برو تقویٰ کے منافی ہے ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر کر دی ہے۔ شوہر پابند ہے کہ اس کے اندر یا تو بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کر لے یا طلاق دینے کا فیصلہ ہے تو اس کو طلاق دے دے۔

پہلی صورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ غفورورحیم ہے ۔ یعنی اگرچہ یہ قسم حق تلفی کے لیے کھائی گئی تھی اور اس طرح کی قسم کھانا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ، لیکن اصلاح کر لی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیں گے ۔

اس میں ، ظاہر ہے کہ شوہر قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے گا ۔

دوسری صورت کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ سمیع و علیم ہے ۔ یعنی اگر طلاق کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس میں اللہ کا قانون اور اس کے حدودوقیود ہر حال میں پیش نظر رہنے چاہییں ۔ اللہ ہر چیز کو سنتا اور جانتا ہے ۔ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو گی تو وہ ہرگز اس سے چھپی نہ رہے گی ۔

اس سے معلوم ہوا کہ عذر معقول کے بغیر بیوی سے ازدواجی تعلق منقطع کر لینا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے اگر قسم بھی کھا لی گئی ہے تو اسے توڑ دینا ضروری ہے ۔ یہ عورت کا حق ہے اور اسے ادانہ کرنے پر دنیا اور آخرت ، دونوں میں شوہر کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے ۔

ظہار

اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآءِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ ، اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا الّٰیئْ وَلَدْنَھُمْ ، وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ، وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ وَالَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآءِھِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا ، فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا۔ ذٰلِکُمْ تُوْعَظُوْنَ بِہٖ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا، فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ، وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ، وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۔ (المجادلہ ۵۸: ۲۔۴)

''تم میں سے جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں ، وہ اُن کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ اُن کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے اُن کو جنا ہے ۔ اِس طرح کے لوگ ، البتہ ایک نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے ۔ اور (اِس معاملے میں حکم یہ ہے کہ) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں ، پھر اُسی بات کی طرف پلٹیں جو اُنھوں نے کہی تھی تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کیا جائے گا ۔ یہ بات ہے جس کی تمھیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح واقف ہے ۔ پھر جسے غلام میسر نہ ہو، اُسے دو مہینے کے پے در پے روزے رکھنا ہوں گے ، اِس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔ او رجو یہ بھی نہ کر سکے تو وہ ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔ یہ اِس لیے ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول کو فی الواقع مانو ۔ اور یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، (اِنھیں اللہ اور رسول کے منکرہی توڑتے ہیں ) ، اور اِس طرح کے منکروں کے لیے بڑی درد ناک سزا ہے ۔''

یہ 'ظہار' کا حکم ہے ۔ ایلا کی طرح ظہار بھی عرب جاہلیت کی اصطلاح ہے ۔ اس کے معنی یہ تھے کہ شوہر نے بیوی کے لیے 'انت علی کظھرامی' (تجھے ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا) کے الفاظ زبان سے نکال دیے ہیں ۔ زمانۂ جاہلیت میں بیوی کو اس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑ جاتی تھی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے الگ ہو جاتی تھی ۔ اہل عرب سمجھتے تھے کہ یہ الفاظ کہہ کر شوہر نہ صرف یہ کہ بیوی سے اپنا رشتہ توڑ رہا ہے ، بلکہ اسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے ۔ لہٰذا ان کے نزدیک طلاق کے بعد تو رجوع کی گنجایش ہو سکتی تھی ، لیکن ظہار کے بعد اس کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔ ۲۴؂

قرآن نے یہ اسی کا حکم بیان کیا ہے ۔ اس میں پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے یا اس کے کسی عضو کو ماں کے کسی عضو سے تشبیہ دے دیتا ہے تو اس سے بیوی ماں نہیں ہو جاتی اور نہ اس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے ۔ ماں کا ماں ہونا ایک امر واقعی ہے ، اس لیے کہ اس نے آدمی کو جنا ہے ۔ اس کو جو حرمت حاصل ہوتی ہے ، وہ اسی جننے کے تعلق سے حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ایک ابدی اور فطری حرمت ہے جو کسی عورت کو محض منہ سے ماں کہہ دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ لہٰذااس طرح کی تشبیہ سے نہ کسی کا نکاح ٹوٹتا ہے او رنہ اس کی بیوی اس کے لیے ماں کی طرح حرام ہو جاتی ہے ۔ سورۂ احزاب میں یہ بات اس طرح بیان ہوئی ہے :

وَمَاجَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الِّٰئْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ ۔ (۳۳: ۴)

''اور اپنی جن بیویوں سے تم ظہار کرتے ہو، اللہ نے اُن کو تمھاری مائیں نہیں بنایا ہے ۔ ''

دوسری یہ واضح کی گئی ہے کہ اس طرح کی بات اگر کسی شخص نے کہی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات ہے جس کا تصور بھی کسی شریف آدمی کو نہیں کرنا چاہیے ، کجا یہ کہ وہ اسے زبان سے نکالے ۔ اس پر سخت محاسبہ ہو سکتا تھا، لیکن اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مغفرت فرمانے والا ہے ۔لہٰذا کوئی شخص اگر اشتعال میں آ کر اس طرح کی خلاف حقیقت بات منہ سے نکال بیٹھے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو تو اللہ اس سے درگزر فرمائیں گے ۔

تیسری یہ واضح کی گئی ہے کہ اس کے یہ معنی بہرحال نہیں ہیں کہ اسے بغیر کسی تنبیہ کے چھوڑ دیا جائے ۔ انسان کی معاشرتی زندگی پر اس طرح کی باتوں کے اثرات بڑے غیر معمولی ہوتے ہیں ، اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کی تادیب کی جائے تاکہ آیندہ وہ بھی احتیاط کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے اسے اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہیے ۔

یہ کفارہ درج ذیل ہے :

ایک لونڈی یا غلام آزاد کیا جائے ۔ ۲۵؂

وہ میسر نہ ہو تو پے در پے ۲۶؂ دو مہینے کے روزے رکھے جائیں۔

یہ بھی نہ ہو سکے تو ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس حکم کی تعمیل اگر اس کی صحیح روح کے ساتھ کرو گے تو اس سے اللہ اور رسول پر تمھارا ایمان محکم ہو گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر اپنی کسی غلطی کی تلافی اس طرح کی کوئی مشقت اٹھا کر کرتا ہے تو اس سے غلطی کی تلافی بھی ہو جاتی ہے اور اسے اپنے ایمان و عقیدہ میں رسوخ بھی حاصل ہوتا ہے ۔

[باقی]

____________

۲۴؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۵/۵۵۱۔

۲۵؂ اصل میں لفظ 'رقبۃ' استعمال ہوا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں ۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لونڈی یا غلام کی کوئی تخصیص نہیں ہے، دونوں میں سے جو بھی میسر ہو ، اس سے کفارہ ادا ہو جائے گا ۔ غلاموں کی آزادی کے لیے جو اقدامات اسلام نے کیے ، یہ بھی انھی میں سے ہے ۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بعد کی دونوں صورتوں پر مقدم رکھا ہے ۔ غلامی ختم ہو جانے کے بعد اب ظاہر ہے کہ یہی دونوں صورتیں باقی رہ گئی ہیں ۔

۲۶؂ اصل میں 'متتابعین' کا لفظ آیا ہے ۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر دو مہینے کے روزے پورے ہونے سے پہلے کسی شخص نے بیوی سے ملاقات کر لی تو اسے از سر نو پورے روزے رکھنا ہوں گے ۔