قانون معاشرت (9)


(گزشتہ سے پیوستہ) طلاق

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ، لَا تُخْرِجُوْھُنَّ مِنْ بُیُوْتِھِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ۔ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ، وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ، فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ۔لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْراً۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ، وَّاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ، وَاَقِیْمُوا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ ۔ذٰلِکُمْ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ، وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ، قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْ ءٍ قَدْرًا۔ وَالّٰیئْ یَءِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآءِکُمْ، اِنِ ارْتَبْتُمْ، فَعِدَّتُھُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْھُرٍ، وَّالّٰءِیْ لَمْ یَحِضْنَ، وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ، وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا۔ ذٰلِکَ اَمْرُ اللّٰہِ اَنْزَلَہٗ اِلَیْکُمْ، وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّاٰتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہٗ اَجْرًا۔ اَسْکِنُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلاَ تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ، وَاِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ۔ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ، وَاْتَمِرُوْ بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ، وَاِنْ تَعَاسَرْ تُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗ اُخْرٰی، لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ، وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰہُ اللّٰہُ، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰھَا، سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْراً ۔ (الطلاق۶۵: ۱۔۷)

''اے نبی ، تم لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دو تو عدت کے حساب سے طلاق دو اور عدت کا یہ زمانہ ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو ۔ (عدت کے دوران میں) نہ تم انھیں اُن کے گھروں سے نکالو، نہ وہ خود نکلیں ، الاّ یہ کہ وہ کسی صریح بے حیائی کی مرتکب ہوں ۔ اور (یاد رکھو کہ) یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کریں گے تو (سمجھ لو کہ) انھوں نے اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ تم نہیں جانتے ، شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے ۔ (اِسی طرح طلاق دو) ، پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے پر پہنچ جائیں تو یا اُنھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھو یا بھلے طریقے سے الگ کر دو۔ اور (نباہ کا ارادہ ہو یا جدائی کا ، دونوں صورتوں میں) دو ثقہ آدمیوں کو اپنے میں سے گواہ بنا لو۔ اور (گواہی دینے والو) ، تم اِس گواہی کو اللہ کے لیے قائم رکھو۔ یہ بات ہے جس کی اُن لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور جو لوگ اللہ سے ڈریں گے ، (اُنھیں کوئی مشکل پیش آئی) تو اللہ اُن کے لیے (اِس سے نکلنے کا) راستہ پیدا کرے گا اور اُنھیں وہاں سے رزق دے گا ، جدھر اُن کا گمان بھی نہ جاتا ہو ۔ اور جو اللہ پر بھروسا کریں گے ، وہ اُن (کی دست گیری) کے لیے کافی ہے ۔ اللہ اپنے ارادے پورے کر کے رہتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اور وہ بھی جنھیں (حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود) حیض نہیں آیا، ان کے بارے میں اگر کوئی شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہو گی اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل سے فارغ ہو جائیں ۔ اور (تم میں سے) جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے اُس کے معاملے میں سہولت پیدا کر دے گا ۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے ۔ او رجو اللہ سے ڈرے گا ، وہ اُس کے گناہ اُس سے دور کر دے گا اور اُس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا ۔ (زمانۂ عدت میں) ان عورتوں کو وہیں رکھو، جہاں تم رہتے ہو، اپنی حیثیت کے مطابق۔ اور ان پر عرصہ تنگ کرنے کے لیے انھیں ستاؤ نہیں ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو، جب تک وہ حمل سے فارغ نہ ہو جائیں ۔ پھر اگر وہ تمھارے بچے کو دودھ پلائیں تو اُن کا معاوضہ انھیں دو اور یہ معاملہ دستور کے مطابق باہمی مشورے سے طے کرلو ۔ اور اگر تم زحمت محسوس کرو تو شوہر کے لیے بچے کو کوئی دوسری عورت دودھ پلا لے گی ۔ چاہیے کہ خوش حال آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جسے نپا تلا ہی ملا ہے ، وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے ، اس سے زیادہ کا وہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ (تم مطمئن رہو) ، اللہ عنقریب کچھ تنگی کے بعد آسانی عطا فرمائے گا۔''

میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکے تو انبیا علیہم السلام کے دین میں علیحدگی کی گنجایش ہمیشہ رہی ہے ۔ اصطلاح میں اسے طلاق کہا جاتا ہے ۔ دین ابراہیمی کی روایات کے تحت عرب جاہلیت بھی اس سے پوری طرح واقف تھے ۔ بعض بدعات اور انحرافات تو یقیناًراہ پا گئے تھے ، لیکن ان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا قانون ان کے ہاں بھی کم و بیش وہی تھا جواب اسلام میں ہے ۔ ۲۶ ؂ سورۂ طلاق کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند ترامیم اور اضافوں کے ساتھ اسی قانون کی تجدید فرمائی ہے ۔ اس کی بعض تفصیلات بقرہ و احزاب میں بھی بیان ہوئی ہیں، لیکن غور کیجیے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اس میں اصل کی حیثیت سورۂ طلاق کی ان آیات ہی کو حاصل ہے ۔

ہم یہاں اس قانون کی وضاحت کریں گے ۔

طلاق سے پہلے

طلاق کا یہ حکم جس صورت حال سے متعلق ہے ، اس کی نوبت پہنچنے سے پہلے ہر شخص کی خواہش ہونی چاہیے کہ جو رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو گیا ہے ، اسے ممکن حد تک ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی جائے ۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے اسی بنا پر شوہر کو اجازت دی ہے کہ وہ بیوی کے نشوز پر اس کی تادیب کر سکتا ہے ۔ لیکن اصلاح کی تمام ممکن تدابیر اختیار کر لینے کے بعد بھی اگر صورت حال بہتر نہیں ہوتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ رشتہ قائم نہ رہ سکے گا تو طلاق سے پہلے آخری تدبیر کے طور پر اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے قبیلہ ، برادری اور ان کے رشتہ داروں اور خیر خواہوں کو اسی سورہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر معاملات کو سدھارنے کی کوشش کریں ۔ اس کی صورت قرآن نے یہ بتائی ہے کہ ایک حکم میاں اور ایک بیوی کے خاندان میں سے منتخب کیا جائے اور وہ دونوں مل کر ان میں صلح کرائیں ۔ اس سے توقع ہے کہ جس جھگڑے کو فریقین خود طے کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ، وہ خاندان کے بزرگوں اور دوسرے خیر خواہوں اور ہم دردوں کی مداخلت سے طے ہو جائے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا ، فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا۔ اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحاً، یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا۔ (النساء ۴: ۳۵)

''اور اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے لوگوں میں سے اور ایک عورت کے لوگوں میں سے مقرر کردو۔ اگر (میاں اور بیوی) دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا ۔ بے شک، اللہ علیم و خبیر ہے ۔ ''

آیت کے آخر میں اگر غور کیجیے تو نہایت بلیغ اسلوب میں میاں بیوی کو ترغیب دی ہے کہ انھیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ وہ اگر افتراق کے بجائے ساز گاری چاہیں گے تو ان کا پروردگار بڑا کریم ہے ۔ اس کی توفیق ان کے شامل حال ہو جائے گی۔

طلاق کا حق

سورہ کی ابتدا 'اذا طلقتم النساء' کے الفاظ سے ہوئی ہے ۔ اس کے بعد یہاں بھی اور قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر بھی طلاق کے احکام جہاں بیان ہوئے ہیں ، اس فعل کی نسبت مرد ہی کی طرف کی گئی ہے ۔ پھر بقرہ (۲) کی آیت ۲۳۷ میں قرآن نے شوہر کے لیے 'الذی بیدہ عقدۃ النکاح'(جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے ۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے ۔ عورت کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری ہمیشہ سے مرد پر ہے اور اس کی اہلیت بھی قدرت نے اسے ہی دی ہے ۔ قرآن نے اسی بنا پر اسے قوام قرار دیا اور بقرہ ہی کی آیت ۲۲۸ میں بہ صراحت فرمایا ہے کہ 'للرجال علیھن درجۃ'(شوہروں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے)۔ چنانچہ ذمہ داری کی نوعیت اور حفظ مراتب، دونوں کا تقاضا ہے کہ طلاق کا اختیار بھی شوہر ہی کو دیا جائے ۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ خاندان کا ادارہ انسان کی ناگزیر ضرورت ہے ۔ ذمہ داریوں کے فرق اور وصل و فصل کے یکساں اختیارات کے ساتھ جس طرح دنیا کا کوئی دوسراادارہ قائم نہیں رہ سکتا ، اسی طرح خاندان کا ادارہ بھی نہیں رہ سکتا۔ عورت نے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت و کفالت کے عوض اگر اپنے آپ کو کسی مرد کے سپرد کر دینے کا معاہدہ کر لیا ہے تو اسے ختم کر دینے کا اختیار بھی اس کی رضا مندی کے بغیر عورت کو نہیں دیا جا سکتا ۔ یہی انصاف ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسری صورت اگر اختیار کی جائے گی تو یہ بے انصافی ہو گی اور اس کا نتیجہ بھی لامحالہ یہی نکلے گا کہ خاندان کا ادارہ بالآخر ختم ہو کر رہ جائے گا ۔

اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ عورت اگر علیحدگی چاہے تو وہ طلاق دے گی نہیں ، بلکہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی ۔ عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پا کر یہ مطالبہ مان لے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو عدالتوں کے لیے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ اتنی بات اگر متحقق ہو جاتی ہے کہ عورت اپنے شوہر سے بے زار ہے اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی توشوہر کو حکم دیا جائے کہ اس نے مہر کے علاوہ کوئی مال یا جائداد اگر بیوی کو دی ہوئی ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے تو واپس لے کر اسے طلاق دے دے ۔

سیدنا ابن عباس کی روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ میں اس کے دین و اخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی ، مگر مجھے اسلام میں کفر کا اندیشہ ہے ۔ ۲۷؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شکایت سنی تو فرمایا : اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے مان لیا تو آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کر دو۔ ۲۸؂

[باقی]

___________

۲۶؂ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام ، جواد علی ۵/ ۵۴۸۔

۲۷؂ اس جملے کا مطلب دوسری روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ثابت کی صورت پسند نہ تھی اور وہ محسوس کرتی تھیں کہ اس کے باوجود اگر وہ اس کے ساتھ رہیں تو اندیشہ ہے کہ ان احکام کی پابند نہ رہ سکیں گی جو شوہر سے وفاداری اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو دیے ہیں ۔

۲۸؂ بخاری ، رقم ۵۲۷۳۔