قانون معاشرت (۲)


(گزشتہ سے پیوستہ)

محرمات

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُ کُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا ۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ و خٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّھٰتُکُمْ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّھٰتُ نِسَآءِکُمْ وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ، وَحَلَآءِلُ اَبْنَاءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ ، اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۔ وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ۔ (النساء ۴ : ۲۲۔ ۲۴)

''اور اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ بے شک ، یہ کھلی بے حیائی، نفرت انگیز فعل اور نہایت برا طریقہ ہے ۔ تم پر تمھاری مائیں ، تمھاری بیٹیاں ، تمھاری بہنیں ، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں ، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھای وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ (اِسی طرح ) تمھاری بیویوں کی مائیں اور اُن کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو ، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں——اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اللہ یقیناًبخشنے والا ہے ، اس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں ، الاّ یہ کہ وہ ملک یمین ہوں ۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ۔''

یہ ان عورتوں کی فہرست ہے جن سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی تمہید سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کی حرمت سے اٹھائی گئی ہے اور خاتمہ ان عورتوں سے نکاح کی ممانعت پر ہوا ہے جو کسی دوسرے کے عقد میں ہوں ۔ اس تمہید و خاتمہ کے درمیان جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں ، وہ رشتہ داری کے اصول ثلاثہ ، یعنی نسب ، رضاعت اور مصاہرت پر مبنی ہیں ۔

عرب جاہلی کے بعض طبقوں میں رواج تھا کہ باپ کی منکوحات بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے انھیں بیوی بنا لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے ۔ قرآن نے فرمایا کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی ، نہایت قابل نفرت فعل اور نہایت برا طریقہ ہے ، لہٰذا اسے اب بالکل ممنوع قرار دیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا، لیکن آیندہ کسی مسلمان کو اس فعل شنیع کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے ۔

یہی معاملہ اس عورت کا ہے جو کسی شخص کے نکاح میں ہو ۔ شوہر سے باقاعدہ علیحدگی کے بغیر کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کا حق نہیں رکھتا ۔ بالبداہت واضح ہے کہ نکاح کا طریقہ خاندان کے جس ادارے کو وجود میں لانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے ، وہ اس کے نتیجے میں ہرگز وجود میں نہیں آ سکتا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے ممنوع ٹھیرا یا ہے ۔ زمانۂ رسالت کی لونڈیاں، البتہ اس سے مستثنیٰ تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسروں سے نکاح کے باوجود ان کے مالکوں کا حق ملکیت ان میں قائم رہتا تھا اور وہ اگر اسے استعمال کرنا چاہتے تو ان کے شوہروں کا حق آپ سے آپ کالعدم ہو جاتا تھا ۔ 'الا ماملکت ایمانکم' میں قرآن نے یہی استثنا بیان کیا ہے ۔ چنانچہ اس کے بعد کی آیت میں اسی بنا پر فرمایا ہے کہ جو عورتیں اس طرح دوسروں کی ملکیت میں ہیں ، ان سے نکاح آدمی کو کسی مجبوری کی حالت ہی میں کرنا چاہیے ۔ قرآن کا ارشاد ہے :

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ ، فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ، بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مْحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَامُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ... ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ، وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌلَّکُمْ ، وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ۔(النساء ۴ : ۲۵)

''اور جو تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہ رکھتا ہو، وہ اُن مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لے جو تمھاری ملکیت میں ہوں ۔ اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو ۔ لہٰذا ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں ، نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والی ہوں ... یہ اجازت تم میں سے اُن کے لیے ہے جن کے مشکل میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اور صبر کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے ۔ اور اللہ بخشنے والا ہے، اس کی شفقت ابدی ہے ۔ ''

اس کے بعد اب باتی حرمتوں کو لیجیے۔

نسب

پہلے نسبی حرمتیں بیان ہوئی ہیں ۔ ماں ، بیٹی، بہن ، پھوپھی ، خالہ ، بھانجی اور بھتیجی ، یہی وہ سات رشتے ہیں جن کی قرابت اپنے اندر فی الواقع اس نوعیت کا تقدس رکھتی ہے کہ اس میں جنسی رغبت کا شائبہ بھی ہو تو اسے فطرت صالحہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ تقدس ہی درحقیقت تمدن کی بنیاد، تہذیب کی روح اور خاندان کی تشکیل کے لیے رأفت و رحمت کے بے لوث جذبات کا منبع ہے ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ماں کے لیے بیٹے ، بیٹی کے لیے باپ ، بہن کے لیے بھائی ، پھوپھی کے لیے بھتیجے ، خالہ کے لیے بھانجے ، بھانجی کے لیے ماموں اور بھتیجی کے لیے چچا کی نگاہ جنس و شہوت کی ہر آلایش سے پاک رہے اور عقل شہادت دیتی ہے کہ ان رشتوں میں اس نوعیت کا علاقہ شرف انسانی کا ہادم اور شرم و حیا کے اس پاکیزہ احساس کے بالکل منافی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں وجہ امتیاز ہے ۔

ان کا جو حکم یہاں بیان ہوا ہے ، وہ ہر لحاظ سے بالکل متعین ہے ۔ تاہم یہ تین باتیں اس کے بارے واضح رہنی چاہییں :

ایک یہ کہ عربی زبان کے جو الفاظ اس حکم میں استعمال ہوئے ہیں ، ان میں سگے اور سوتیلے کے درمیان فرق کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ چنانچہ سگی اور سوتیلی ماں ، سگی بہن ، ماں شریک بہن اور باپ شریک بہن، یہ سب اس حکم میں یکساں ہوں گی ۔ اسی طرح ماں اور باپ کی بہن خواہ سگی ہو یا سوتیلی یا باپ شریک ، اس کا حکم بھی یہی ہو گا ۔ یہی معاملہ بھائی اور بہن کی بیٹیوں کا ہے ۔ وہ سگے ہوںیا سوتیلے ، ان کی بیٹیوں کو اسی کے تحت سمجھا جائے گا ۔

دوسری یہ کہ ماں کا لفظ باپ کی ماں اور ماں کی ماں کو اوپر تک شامل ہے اور بیٹی کا لفظ بھی پوتی اور نواسی کو نیچے تک شامل ہے ۔ ان میں حکم کے لحاظ سے ہر گز کوئی فرق نہ ہو گا ۔

تیسری یہ کہ نانا کی بہن اور دادی کی بہن بھی بالترتیب پھوپھی اور خالہ ہی ہیں ۔ لہٰذا وہ بھی اس حکم میں یکساں شامل ہوں گی۔

رضاعت

یہی تقدس رضاعی رشتوں میں بھی ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''رضاعت کے تعلق کو لوگ ہمارے ہاں اس گہرے معنی میں نہیں لیتے ، جس معنی میں اس کو لوگ عرب میں لیتے تھے۔ اس کا سبب محض رواج کا فرق ہے ۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اس کو مادرانہ رشتے سے بڑی گہری مناسبت ہے ۔ جو بچہ جس ماں کی آغوش میں ، اس کی چھایتوں کے دودھ سے پلتا ہے ، وہ اس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے ۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس کا دودھ اس کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے ، اس سے اس کے جذبات و احساسات متاثر نہ ہوں۔ اگر نہ متاثر ہو ں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں ، بلکہ بگاڑ ہے اور اسلام جو دین فطرت ہے ، اس کے لیے ضروری تھا کہ اس بگاڑ کو درست کرے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۵)

یہ تعلق کس طرح دودھ پلانے سے قائم ہوتا ہے ؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہ تعلق مجرد کسی اتفاقی واقعے سے قائم نہیں ہو جاتا ۔ قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اسے بیان کیا ہے ، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں ، بلکہ اہتمام کے ساتھ، ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اس کا اعتبار ہے ۔ اول تو فرمایا ہے : ''تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے ۔'' پھر اس کے لیے رضاعت کا لفظ استعمال کیا ہے ، ' واخواتکم من الرضاعۃ' ۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ' ارضاع' باب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح رضاعت کا لفظ بھی اس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اس کے منہ میں لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے گی ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۵)

قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے:

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا : ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا۔ ۱؂

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ کو یہ ناگوار ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ، یہ میرے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اپنے ان بھائیوں کو دیکھ لیا کرو، اس لیے کہ رضاعت کا تعلق تو صرف اس دودھ سے قائم ہوتا ہے جو بچے کو دودھ کی ضرورت کے زمانے میں پلایا جائے ۔ ۲ ؂

یہاں کسی شخص کو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے سالم کی بڑی عمر میں رضاعت سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔ زیادہ سے زیادہ جو بات اس واقعے سے معلوم ہوتی ہے ، وہ یہ ہے کہ منہ بولے بیٹوں کے بارے میں قرآن کا حکم آ جانے کے بعد جو صورت حال ایک گھرانے کے لیے پیدا ہو گئی ، اس سے نکلنے کا ایک طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا ہے ۔ اسے کسی مستقل حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ۔ واقعہ یہ ہے :

جاء ت سھلۃ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامری وھی امراۃ ابی حذیفۃ فقالت : یا رسول اللّٰہ ، انا کنا نری سالماً ولداً ، و کان یأوی معی و مع ابی حذیفۃ فی بیت واحد و یرانی فضلا ، و قد انزل اللّٰہ عزو جل فیھم ما قد علمت ، فکیف تری فیہ ؟ فقال لھا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أرضعیہ ۔ (ابوداؤد ، رقم ۲۰۶۱)

''ابو حذیفہ کی بیوی اور سہیل بن عمرو قرشی عامری کی بیٹی سہلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ، ہم تو سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔ وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا اور مجھے گھر کے کپڑوں میں دیکھتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو حکم ان لڑکوں کے متعلق نازل کیا ہے ، اس سے آپ واقف ہیں ۔ اب بتائیے ، اس معاملے میں آپ کا کیا ارشاد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنا دودھ پلادو ۔''

لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ رضاعت کے لیے دودھ کی عمر اور دودھ پلانے کا اہتمام ، دونوں ضروری ہیں اور اس سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہو تے ہیں ۔ قرآن کا مدعا یہی ہے ،لیکن اس کے لیے عربیت کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ الفاظ و قرائن کی دلالت اورحکم کے عقلی تقاضے جس مفہوم کو آپ سے آپ واضح کر رہے ہوں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا تا ۔ ۳ ؂ ارشاد فرمایا ہے : 'و امھاتکم التی ارضعنکم و اخواتکم من الرضاعۃ' (اور تمھاری وہ مائیں بھی حرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی )۔ اس میں دیکھ لیجیے ، رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اس میں بے شک ، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی ، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو ۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ ،ا س کے شوہر کو باپ ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی ؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناًحرام ہیں ۔ یہ قرآن کا منشا ہے اور 'اخواتکم من الرضاعۃ' کے الفاظ اس پر اس طرح دلالت کرتے ہیں کہ قرآن پر تدبر کرنے والے کسی صاحب علم سے اس کا یہ منشا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے:

یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ۔ (المؤطا ، رقم ۱۲۹۱)

''ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے ، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ''

مصاہرت

نسب اور رضاعت کے بعد وہ حرمتیں بیان ہوئی ہیں جو مصاہرت پر مبنی ہیں ۔ا س تعلق سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں ، ان کا تقدس بھی فطرت انسانی کے لیے ایسا واضح ہے کہ اس کے لیے کسی استدلال کی ضرور ت نہیں ہے ۔ چنانچہ باپ کے لیے بہو اور شوہر کے لیے بیوی کی ماں ، بیٹی ، بہن ، بھانجی اور بھتیجی، یہ سب حرام ہیں ۔ تاہم یہ رشتے چونکہ بیوی اور شوہر کی وساطت سے قائم ہوتے ہیں اور اس سے ایک نوعیت کا ضعف ان میں پیدا ہو جاتا ہے ، اس لیے قرآن نے یہ تین شرطیں ان پر عائد کر دی ہیں :

ایک یہ کہ بیٹی صرف اس بیوی کی حرام ہے جس سے خلوت ہو جائے ۔

دوسری یہ کہ بہو کی حرمت کے لیے بیٹے کا صلبی ہونا ضروری ہے ۔

تیسری یہ کہ بیوی کی بہن ، بھانجی اور بھتیجی کی حرمت اس حالت کے ساتھ خاص ہے ، جب میاں بیوی میں نکاح کا رشتہ قائم ہو ۔

پہلی بات قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: 'وربائبکم التی فی حجو رکم من نسائکم التی دخلتم بھن، فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم' (اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں )۔ اس میں خلوت کی شرط کے ساتھ لڑکیوں کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، لیکن صاف واضح ہے کہ اس کی حیثیت حرمت کے لیے شرط کی نہیں ہے۔

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''عربی زبان میں ہر صفت کو لازماً قید و شرط کی حیثیت حاصل نہیں ہو جاتی کہ ان میں سے کوئی نہ پائی جائے تو وہ حکم کالعدم ہو جائے ، بلکہ اس کا انحصار قرینے پر ہوتا ہے ۔ قرینہ بتاتا ہے کہ کون سی صفت قید اور شرط کا درجہ رکھتی ہے اور کون سی صفت محض تصویر حال کے لیے ہے ۔ یہاں صرف قرینہ ہی نہیں ، بلکہ تصریح ہے کہ ربیبہ کی ماں اگر تمھاری مدخولہ نہ بنی ہو تو اس ربیبہ سے نکاح میں کوئی قباحت نہیں ۔ اس سے یہ بات صاف ہو گئی کہ ربیبہ کی حرمت میں اصل مؤثر چیز اس کی ماں کا مدخولہ ہونا ہے۔ اگر وہ مدخولہ ہے تو اس کی لڑکی سے نکاح ناجائز ہو گا، قطع نظر اس سے کہ وہ آغوش تربیت میں پلی ہے یا نہیں ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اعلیٰ عربی ، بالخصوص قرآن حکیم میں اثبات کے بعد نفی کے اسلوب یانفی کے بعد اثبات کے اسلوب میں جو باتیں بیان ہوتی ہیں وہ محض سخن گسترانہ نہیں ہوتیں، بلکہ کسی خاص فائدے کے لیے ہوتی ہیں ۔ا ن سے مقصود اکثر صورتوں میں رفع ابہام ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا خیال قرآن کے خلاف ہے جو ربیبہ کے ساتھ نکاح صرف اس صورت میں حرام سمجھتے ہیں، جب وہ نکاح کرنے والے کے آغوش تربیت میں پلی ہو ۔ بصورت دیگر وہ اس کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھتے ہیں ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۶)

دوسر ی بات کے لیے قرآن کے الفاظ ہیں : 'وحلائل ابناء کم الذین من اصلابکم، (اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی ) ۔ اس میں صلبی ہونے کی شرط بالخصوص اس لیے عائد کی گئی ہے کہ اس زمانے کے عرب میں لوگ اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کو ناجائز سمجھتے تھے ۔ قرآن نے اس شرط سے واضح کر دیا کہ کسی کو اپنا بیٹا کہہ دینے سے نہ وہ بیٹا بن جاتا ہے اور نہ اس سے کوئی حرمت قائم ہوتی ہے ۔ سورۂ احزاب میں یہ حقیقت قرآن نے اس طرح واضح فرمائی ہے :

وَمَاجَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ، ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ ، وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ، وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ ۔ اُدْعُوْ ھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ، ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ ، فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْآ ٰابَآءَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ ۔ (۳۳: ۴۔۵)

''اور نہ اُس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنایا ہے ۔ یہ سب تمھارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ کے لیے رہنمائی کرتا ہے ۔ اِن کو تم ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو ۔ یہی اللہ کے نزدیک قرین انصاف ہے ۔ پھر اگر ان کے باپوں کو نہیں جانتے تو یہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے رفیق ہیں۔''

تیسری بات 'وان تجمعوا بین الاختین' (اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اس میں بھی ، اگر غور کیجیے تو زبان کا وہی اسلوب ہے جس کا ذکر اوپر رضاعت کی بحث میں ہوا ہے ۔ قرآن نے 'بین الاختین' ہی کہا ہے ، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے ۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ 'ان تجمعوا بین الاختین و بین المرأۃ و عمتھا و بین المرأۃ و خالتھا'۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے ، لیکن 'بین الاختین' کے بعد یہ الفاظ اس نے اس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اس کا کوئی طالب علم اس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

لا یجمع بین المرأۃ و عمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا ۔ (المؤطا ، رقم ۱۱۲۹)

''عورت اور اس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے ، نہ عورت اور اس کی خالہ۔''

[باقی]

_______

۱؂ مسلم ، رقم ۲۶۲۸۔

۲؂ مسلم ، رقم ۲۶۴۲۔

۳؂ اس اسلوب کو سمجھنے کے لیے دیکھیے ، اسی کتاب میں : ''اصول و مبادی ''۔

____________