قانون معاشرت (۳)


(گزشتہ سے پیوستہ)

حدود و شرائط

وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ ، فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً، وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِالْفَرِیْضَۃِ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ (النساء ۴ : ۲۴)

''اور اِن کے ماسوا جوعورتیں ہیں ، وہ تمھارے لیے حلال ہیں ، اِس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے اُنھیں طلب کرو ، اس شرط کے ساتھ کہ تم پاک دامن رہنے والے ہو، نہ کہ بدکاری کرنے والے ۔ (چنانچہ اس سے پہلے اگر مہر ادا نہیں کیا) تو جو فائدہ اُن سے اٹھایا ہے ، اُس کے صلے میں اُن کے مہر اُنھیں ادا کر دو، ایک فرض کے طور پر ۔ مہر ٹھیرانے کے بعد ، البتہ باہمی رضا مندی سے جو کچھ طے کر لو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ بے شک ، اللہ علیم و حکیم ہے ۔''

اس آیت میں نکاح کے لیے جو حدود و شرائط بیان ہوئے ہیں ، ان کی تفصیل یہ ہے:

پہلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ نکاح مال یعنی مہر کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ ایک فریضہ کی حیثیت سے یہ نکاح کی ایک لازمی شرط ہے ۔ چنانچہ ہدایت فرمائی ہے کہ اس سے پہلے اگر کسی عورت کا مہر ادا نہیں کیا گیا تو اسے فوراً ادا کر دیا جائے ۔ مہر ٹھیرانے کے بعد ، البتہ اسے اپنے اوپر ایک فرض اور عورت کا حق مان کر آپس کی رضا مندی سے کوئی تقدیم و تاخیر یا کمی بیشی اگر کر لی جائے تو اس کی اجازت ہے ، لیکن اتنی بات ہر شخص پر واضح رہنی چاہیے کہ جس ہستی نے یہ قانون دیا ہے ، وہ علیم حکیم ہے ۔ اس کی ہر بات بے خطا علم اورگہری حکمت پر مبنی ہے ۔ لہٰذا نہ اس قانون کی خلاف ورزی کسی کے لیے جائز ہے اور نہ اس میں کسی ترمیم و تغیر کی جسارت کسی شخص کو کرنی چاہیے ۔

یہ مہر کیا ہے ؟ مردو عورت نکاح کے ذریعے سے مستقل رفاقت کا جو عہد باندھتے ہیں ، اس میں نان و نفقہ کی ذمہ داریاں ہمیشہ سے مرد اٹھاتا رہا ہے ، یہ اس کی علامت (Token)ہے ۔ قرآن میں اس کے لیے 'صدقۃ' اور 'اجر'کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ یعنی وہ رقم جو عورت کی رفاقت کے صلے میں اس کی ضرورتوں کے لیے دی جائے ۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ نکاح اور خطبے کی طرح یہ بھی ایک قدیم سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں اسی طرح رائج تھی ۔ بائیبل میں بھی اس کا ذکر اسی حیثیت سے ہوا ہے ۔ ۵؂

اس کی یہ اہمیت کیوں ہے ؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے:

''جس معاملے کے ساتھ اداے مال کی شرط لگی ہو اور اس اداے مال کی حیثیت محض تبرع اور احسان کی نہ ہو ، بلکہ ایک فریضہ کی ہو ، یہاں تک کہ اگر وہ مذکورہ نہ بھی ہو ، جب بھی لازماً مضمر سمجھاجائے اور عورت کی حیثیت عرفی کے اعتبار سے اس کی ادائیگی واجب قرار پائے ، شرعاً و عرفاً ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے ۔ کوئی بھی ذی ہوش آدمی ایسے معاہدے میں ایک پارٹی بننے کی جرأت نہ کرے گا ، جب تک وہ سو بار سوچ کر اس میں شرکت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرے——- ان مصالح سے مہر کی شرط ضروری ہوئی ۔ جن لوگوں کی نظر ان مصالح کی طرف نہیں گئی ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس شرط نے عورت کو ایک خریدنی و فروختنی شے کے درجے تک گرا دیا ہے ۔ یہ خیال محض ناسمجھی کا نتیجہ ہے ۔ یہ شرط تو ایک آگاہی ہے کہ جو بھی عورت کے حرم میں قدم رکھنا چاہے ، وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم رکھے ۔ نکاح و طلاق کے معاملے میں کسی مذاق کی گنجایش نہیں ہے ۔ یہاں مذاق بھی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے :

ہشدار کہ رہ بردم تیغ است قدم را ''

(تدبر قرآن ۲/ ۲۷۸)

مہر کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی گئی ۔ اسے معاشرے کے دستور اور لوگوں کے فیصلے پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ چنانچہ عورت کی سماجی حیثیت اور مرد کے معاشی حالات کی رعایت سے وہ جتنا مہر چاہیں ، مقرر کر سکتے ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے ۔

سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ایک عورت نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ، اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ اپنے آپ کو حضور کے لیے پیش کر دوں ۔ سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی ، پھر سر جھکا لیا ۔ عورت نے محسوس کیا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اتنے میں ایک شخص آپ کے صحابہ میں سے اٹھا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ، آپ کو ضرورت نہیں تو اسے میرے ساتھ بیاہ دیجیے ۔ آپ نے پوچھا : تمھارے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا : بخدا ، نہیں ، یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا : اپنے گھر جاؤ اور دیکھو، شاید کچھ مل جائے ۔ وہ گیا، پھر لوٹ کے آیا اوربتایا کہ خدا کی قسم ، کوئی چیز نہیں ۔ فرمایا : دیکھو تو سہی ، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ۔ وہ دوبارہ گیا اور واپس آ کر عرض کی : اللہ گواہ ہے کہ وہ بھی نہیں ہے ۔ ہاں ، یہ تہ بند ضرور ہے سہل کہتے ہیں کہ اس کے پاس اوڑھنے کی چادر بھی نہیں تھی——اس نے عرض کی : یہ تہ بند آدھا اسے دے دیجیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تیرا تہ بند لے کر کیا کرے گی ۔ تم پہنو گے تو اس پر کچھ نہیں ہو گا اور یہ پہنے گی تو تمھارے پاس کچھ نہ رہے گا ۔ اس پر وہ شخص بیٹھ گیا ۔ پھر کافی دیر ہو گئی تو جانے کے لیے اٹھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو بلانے کا حکم دیا ۔ چنانچہ اسے بلایا گیا تو آپ نے پوچھا : تمھیں قرآن کتنا آتا ہے ؟ اس نے عرض کی : مجھے فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں اور گن کر بتائیں ۔ آپ نے فرمایا : کیا زبانی یاد ہیں ؟ عرض کی : ہاں ۔ ارشاد فرمایا : میں نے اس قرآن کے صلے میں اسے تمھارے ساتھ بیاہ دیا ۔ ۶؂

دوسری بات آیۂ زیر بحث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ نکاح کے لیے پاک دامن ہونا ضروری ہے ۔ کوئی زانی یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی عفیفہ سے بیاہ کرے اور نہ کوئی زانیہ یہ حق رکھتی ہے کہ کسی مرد عفیف کے نکاح میں آئے ، الّا یہ کہ معاملہ عدالت میں نہ پہنچا ہو اور وہ توبہ و استغفار کے ذریعے سے اپنے آپ کو اس گناہ سے پاک کر لیں ۔ 'محصنین ، غیر مسافحین' کے الفاظ یہاں اسی شرط کے لیے آئے ہیں ۔ دوسری جگہ قرآن نے یہ بات اس طرح واضح فرمائی ہے:

اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَایَنْکِحُھَآ اِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ، وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔(النور ۲۴: ۳)

''یہ زانی نکاح نہ کرنے پائے ، مگر زانیہ اور مشرکہ کے ساتھ اور اس زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے ، مگر کوئی زانی یا مشرک ۔ اور اہلِ ایمان پر یہ بہرحال حرام ٹھیرایا گیا ہے ۔ ''۷؂

اس آیت میں بھی صاف اشارہ ہے اور دوسرے الہامی صحائف سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ زنا اور شرک بالکل مماثل ہیں ۔ جس طرح یہ بات گوارا نہیں کی جا سکتی کہ میاں اور بیوی میں سے کوئی کسی دوسرے کے بستر پر سوئے ، اسی طرح یہ بات بھی کسی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی کہ اس کے گھر میں خدا کے ساتھ کسی اور کی پرستش کی جائے ۔ بلکہ یہ اس کے نزیک کسی اور کے بستر پر سونے سے زیادہ قابل نفرت چیز ہے ۔ زنا اور شرک کی یہ مماثلت سمجھی جا سکتی تھی ، لیکن قرآن نے دوسری جگہ اسے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے:

وَلاَ تَنْکِحُواالْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ، وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ، وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ، وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ ۔ (البقرہ ۲: ۲۲۱)

'' اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ اور (یاد رکھو کہ) ایک مسلمان لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی بھلی لگے ۔ اور اپنی عورتیں مشرکین کے نکاح میں نہ دو ، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ اور (یاد رکھو کہ)ایک مسلمان غلام مشرک شریف زادے سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمھیں کتنا ہی بھلا لگے ۔ '' ۸؂

یہودو نصاریٰ بھی علم و عمل ، دنوں میں شرک جیسی نجاست سے پوری طرح آلودہ تھے ، لیکن اس کے باوجود وہ چونکہ اصلاً توحید ہی کے ماننے والے ہیں ، اس لیے اتنی رعایت اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ ٰاتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِْیَنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ۔ (المائدہ ۵ : ۵)

''اور تم سے پہلے کے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی (حلال ہیں) ، جب تم اُن کے مہر ادا کرو ، اِس شرط کے ساتھ کہ تم بھی پاک دامن رہنے والے ہو، نہ بدکاری کرنے والے اور نہ چوری چھپے آشنا بنانے والے ۔''

آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اس وقت دی گئی ، جب توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا اور مشرکانہ تہذیب پر اس کا غلبہ ہر لحاظ سے قائم ہو گیا ۔ اس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ 'الیوم'کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی یقینادخل تھا۔ لہٰذا اس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان ان عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ ان سے متاثر ہوں گی اور اس طرح شرک و توحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہو گا ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں ۔

چنانچہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت یہ چیز اس زمانے میں بھی لازماً ملحوظ رہنی چاہیے ۔

اسی طرح یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ نکاح خاندان کے جس ادارے کو وجود میں لانے کے لیے کیا جاتا ہے ، اس کی حرمت کا تقاضا ہے کہ یہ والدین اور سرپرستوں کو ساتھ لے کر اور ان کی رضا مندی سے کیا جائے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح میں فیصلہ اصلاً مردو عورت کرتے ہیں اور ان کے علانیہ ایجاب و قبول سے یہ منعقد ہو جاتا ہے ، لیکن اولیا کا اذن اگر اس میں شامل نہیں ہے تو اس کی کوئی معقول وجہ لازماً سامنے آنی چاہیے ۔ یہ نہ ہو تو معاشرے کا نظم اجتماعی یہ حق رکھتا ہے کہ اس نکاح کو باطل قرار دے ۔ ۹؂ 'لا نکاح الابولی' ۱۰؂ (سرپرست کے بغیر کوئی نکاح نہیں) اور اس طرح کی دوسری روایتوں میں یہی بات بیان ہوئی ہے ۔ عورت کی بغاوت چونکہ اس معاملے میں خاندان کے لیے غیر معمولی اختلال کا باعث بن جاتی ہے ، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اولیا پر واضح کر دیا ہے کہ اس کے بارے میں وہ کوئی فیصلہ اس کی اجازت کے بغیر نہ کریں ، ورنہ عورت چاہے گی تو ان کا یہ فیصلہ رد کر دیا جائے گا ۔

ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیوہ کا نکاح اس سے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت ضروری ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : اس کی اجازت کیسے ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ خاموش رہے تو یہی اجازت ہے ۔ ۱۱؂

ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : بیوہ اپنا فیصلہ خود کر سکتی ہے اور کنواری سے اجازت لینی چاہیے ۔ ۱۲؂

بنت خذام کہتی ہیں کہ وہ بیوہ ہوئیں تو ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا۔ انھیں یہ فیصلہ پسند نہیں آیا ۔ چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے انھیں نکاح ختم کرنے کی اجازت دے دی۔ ۱۳؂

[باقی]

________

۵؂ پیدایش ۳۴: ۱۲، خروج ۲۲:۱۷۔

۶؂ بخاری ، رقم ۴۶۹۷۔

۷؂ بعض روایتوں میں بھی یہ بات اسی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔ ملاحظہ ہو : ابوداؤد ، رقم ۲۰۵۱ ، ۲۰۵۲۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے اسی کتاب میں : ''حدود و تعزیرات''۔

۸؂ سورۂ ممتحنہ (۶۰) کی آیت ۱۰ میں جن کافروں سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے ، اس کا باعث بھی ان کا شرک ہی ہے ۔ آیت سے واضح ہے کہ اس میں کافروں سے مراد مشرکین عرب ہیں ۔

۹؂ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس دوران میں جو کچھ ہو چکا ہے ، اسے ناجائز قرار دیا جائے گا، بلکہ یہی ہیں کہ اسے آیندہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا ۔

۱۰؂ ابوداؤد ، رقم ۲۰۸۵۔

۱۱؂ بخاری، رقم ۴۷۴۱۔

۱۲؂ مسلم ، رقم ۲۵۴۵۔

۱۳؂ بخاری ، رقم۴۷۴۳۔

____________