قانونِ معاشرت


(۱)

انسان کے خالق نے اسے ایک معاشرت پسند حیوان کی فطرت عطا فرمائی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس طرح نہیں ہوتی کہ اس کا خالق اسے آسمان پر کہیں بنا کر بالکل عالم شباب میں براہِ راست زمین پر نازل کرتا اور پھر ہرم وشیب کے مراحل سے گزارے بغیر اسی عالم شباب میں اسے واپس لے جاتا ہے ۔ اس کے برخلاف اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ تہ بر تہ ظلمتوں میں ایک ناتواں بچے کی حیثیت سے وجود پزیر ہوتا ہے ۔ آغوشِ مادر میں آنکھیں کھولتا ہے ۔ ہمکتا، کھیلتا، دوسروں کے ہاتھ سے کھاتا ، پیتا اور اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ وہ پہلے زمین پر گھسٹتا، گھٹنوں کے بل چلتا اور پھر بڑی مشکل سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوتا ہے ۔ اس کے بعد بھی قدم قدم پر اسے سہارے کے ضرورت رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ بچپن اور لڑکپن کے کئی مراحل طے کر کے وہ پندرہ یا سولہ برس کے سن کو پہنچ کر کہیں جوان ہوتا ہے ۔ اس کا یہ دورِ شباب بھی بیس تیس برس سے زیادہ طویل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہ دیکھتا ہے کہ بڑھاپے کے آثار نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بارہا علم و معرفت کی انتہائی بلندیوں کو چھونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ناتواں بچوں ہی کی طرح دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے ۔

انسان کا یہ معاملہ لازماً تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک معاشرت پسند ہستی کی زندگی بسر کرے ۔ مردو عورت کی حیثیت سے یہ معاشرت خلقت کی ابتدا ہی سے بہ تمام و کمال خود اس کے اندر چھپی ہوتی ہے ۔ اس کو تلاش کرنے کے لیے اسے اپنے وجود سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اس دنیا میں آتا ہے تو اپنا سازو برگ اور خیمہ و خرگاہ ساتھ لے کر آتا ہے اور وادی و کوہسار ہو یا دشت و بیاباں ، ہر جگہ اپنی بزم خود آراستہ کر لیتا ہے ۔

انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کی تخلیق میں پنہاں اسی اسکیم کے پیش نظر سیدنا آدم علیہ السلام جب پہلے انسان کی حیثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے تو انھیں تنہا نہیں بھیجا گیا ، بلکہ ان کی رفاقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھی کی جنس سے ان کا جوڑا بنایا ۔ پھر اس سے بہت سے مردو عورت دنیا میں پھیلا دیے ، یہاں تک کہ خاندان ، قبیلہ اور بالآخر ریاست کی سطح پر نظم معاشرت وجود میں آئے جن میں انسان کو وہ سب کچھ میسر ہو گیا جو اس کی مخفی صلاحیتوں کو روبہ عمل کرنے کے لیے ناگزیر تھا ۔ قرآن نے یہ حقیقت اپنے خاص اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہے:

یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْراً وَّ نِسَآءً ، وَ اتَّقُواا للّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ (النساء ۴ : ۱)

'' لوگو ، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُس کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور اُن سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں ، اور اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور رشتوں کے بارے میں بھی خبردار رہو—- بے شک ،اللہ تم پر نگران ہے ۔''

اس آیت میں ، اگر غور کیجیے تو وہ تمام اصول نہایت خوبی کے ساتھ بیان ہو گئے ہیں جن پر اس کائنات کے خالق نے انسانی معاشرت کی بنا قائم کی ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ اصول درج ذیل ہیں:

''ایک یہ کہ یہ دنیا کوئی بے راعی کا گلہ نہیں ہے ، بلکہ اس کو خدا نے وجود بخشا ہے جو سب کا پرورگار ہے ۔ اس وجہ سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں دھاندلی مچائے اور من مانی کرنے کی جسارت کرے ، بلکہ سب کو اس خداوند کی پکڑ سے ڈرتے رہنا چاہیے جو سب کا خالق و مالک ہے۔

دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک ہی نفس—- حضرتِ آدم—- سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے نسب کے اعتبار سے سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے ۔ عربی اور عجمی ، کالے اور گورے ، سب برابر ہیں ۔ ان میں کسی کو کسی پر ترجیح ہو گی تو اکتسابی صفات کی بنا پر ہو گی ۔ اس کے سوا شرف کے دوسرے معیارات ، سب باطل ہیں ۔

تیسرا یہ کہ جس طرح سب انسان ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ، اسی طرح سب کی ماں بھی اصلاً ایک ہی—- حضرت حوا—- ہیں ۔ اس اعتبار سے بھی کسی کو کسی پر کوئی ترجیح اور فوقیت حاصل نہیں ہے ۔ ایک ہی ماں باپ سے یہ پورا گھرانا وجود میں آیا ہے ۔ حضرت حوا، آیت سے واضح ہے کہ حضرت آدم ہی کی جنس سے ہیں ۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ عورت مرد کے مقابل میں کوئی حقیر اور فروتر مخلوق نہیں ہے ، بلکہ وہ بھی اس شرف میں برابر کی شریک ہے جو انسان کو بحیثیتِ انسان حاصل ہے۔

چوتھا یہ کہ انسانی معاشرے میں تعاون و تناصر کی بنیاد وحدتِ الہ، وحدتِ آدم اور اشتراک رِحم کے عقیدے اور جذبے پر ہے ۔ ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اس اشتراک کا حق پہچانے اور اس کو ادا کرے اور ساتھ ہی اس امر کا اہتمام رکھے کہ کوئی ایسا نعرہ لوگوں پر غالب نہ ہونے پٖائے جو اس فطری اشتراکیت کو منہدم کر دینے والا اور اس کی جگہ کسی جاہلی جذبے کو ابھارنے والا ہو۔ اگر اس طرح کی کوئی چیز ابھرتی نظر آئے تو یہ پورے معاشرے کے لیے ایک شدید خطرے کا الارم ہے اور معاشرے کے ہر درد مند کا فرض ہے کہ وہ اس کو روکنے کے لیے اپنا زور صرف کرے ۔ آیت کے آخر میں 'واتقواللّٰہ الذی تساء لون بہ والارحام' (اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہم دگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے ) کے الفاظ سے اسی خطرے سے متنبہ کیا ہے ۔ اس لیے کہ حقیقت میں یہی ستون ہیں جن پر اسلام نے خاندان، معاشرے اور ریاست کی عمارت تعمیر کی ہے ۔ جب تک یہ ستون قائم ہیں ، یہ عمارت قائم رہے گی ۔ جب یہ کمزور پڑ جائیں گے ، عمارت خطرے میں پڑ جائے گی اور جب یہ گر جائیں گے ، عمارت بھی پیوندِ زمین ہو جائے گی ۔ '' (تزکیۂ نفس۲/ ۱۴۲ )

یہ اساسات ہیں جن پر معاشرت کی بنیاد قائم کرنے کے لیے انبیا علیہم السلام کے دین میں زوجین کی مستقل رفاقت کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے تمام داعیات ازل ہی سے ان کے اندر ودیعت کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ دو قالب یک جان ہو کر اس رفاقت کا حق ادا کر سکیں ۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمِنْ ٰایٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْآ اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الروم ۳۰ : ۲۱)

''اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو ،اور (اِس مقصد کے لیے ) اُس نے تمھارے اندر محبت اور ہم دردی ودیعت فرمائی ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں اُن کے لیے جو غور کرنے والے ہوں۔ ''

یہی چیز ہے جسے اصطلاح میں 'نکاح' سے تعبیر کیا جاتاہے۔ علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ یہ مستقل رفاقت کا عہد ہے جو لوگوں کے سامنے اور کسی ذمہ دار شخصیت کی طرف سے اس موقع پر تذکیر و نصیحت کے بعد پورے اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ باندھا جاتا ہے ۔ اس کی حیثیت ایک قدیم سنت کی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت میں اسی طرح باقی رکھا ہے۔ پورے انسان کو اس کے بچپن سے بڑھاپے تک سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اس کی حیاتی، نفسیاتی اور معاشرتی ضرورتوں کے لحاظ سے یہی طریقہ عقل و فطرت کے مطابق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے متعلق اور اس کی بنا پر جو معاشرت وجود میں آتی ہے ، اس کے بارے میں ایک مفصل قانون انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے بنی آدم کو دیا ہے ۔ ذیل میں ہم اس کے ان نصوص کی وضاحت کریں گے جو قرآن و سنت میں اب خدا کی ابدی شریعت کے طور پر بیان ہوئے ہیں ۔

(باقی)

____________