قانون سیاست (1/2)


[یہ ''میزان'' کا ایک باب ہے۔ نئی طباعت کے لیے مصنف نے اس میں بعض

اہم ترامیم کی ہیں۔ یہ پورا باب ان ترامیم کے ساتھ ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔]

انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے ،اُس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ وہ تمدن کو چاہتا ہے اور پھر اِس تمدن کو اپنے ارادہ و اختیار کے سوء استعمال سے بچانے کے لیے جلد یا بدیر اپنے اندر ایک نظم اجتماعی پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں سیاست و حکومت، انسان کی اِس خواہش اور اِس مجبوری ہی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے اور انسان جب تک انسان ہے، وہ اگر چاہے بھی تو اِس سے نجات حاصل کر لینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا ، لہٰذا عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اِس دنیا میں حکومت کے بغیر کسی معاشرے اور تمدن کا خواب دیکھنے کے بجاے وہ اپنے لیے ایک ایسا معاہدۂ عمرانی وجود میں لانے کی کوشش کرے جو نظم اجتماعی کا تزکیہ کر کے اُس کے لیے ایک صالح حکومت کی بنیاد فراہم کر سکے ۔

اِس میں شبہ نہیں کہ انسان کی فطرت نے اُسے بالعموم یہی راہ دکھائی اور اِسی راستے پر جدوجہد کے لیے آمادہ کیا ہے، لیکن اِس کے جو نتائج اب تک نکلے ہیں اور جنھیں ہر شخص بچشم سر اِس عالم میں دیکھ سکتا ہے ،تنہا وہی اِس حقیقت کو بالکل آخری حد تک ثابت کر دینے کے لیے کافی ہیں کہ زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح عقل انسانی اس معاملے میں بھی آسمانی ہدایت کے بغیر اپنے لیے کوئی سواء السبیل تلاش نہیں کر سکتی۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے پیش نظر ایک مفصل قانون سیاست اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید اور اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ہمیں دیا ہے ۔

یہ قانون جن مباحث کو شامل ہے ، وہ یہ ہیں :

بنیادی اصول

اصل ذمہ داری

دینی فرائض

شہریت اور اس کے حقوق

نظم حکومت

ذیل میں ہم اِس قانون سے متعلق قرآن مجید کے نصوص کی وضاحت کریں گے ۔

بنیادی اصول یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا ، اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ، فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلیَ اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ، اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ. ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا.(النساء ۴ : ۵۹)

''ایمان والو ،اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں ۔ پھر تمھارے درمیان اگر کسی معاملے میں اختلاف راے ہو تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ، اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہ اچھا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے۔''

یہ حکم اُس وقت دیا گیا جب قرآن نازل ہو رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اور وہ اپنے نزاعات کے لیے جب چاہتے ، آپ کی طرف رجوع کر سکتے تھے ۔ لیکن صاف واضح ہے کہ اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے ، لہٰذا جن معاملات میں بھی کوئی حکم اُنھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے ، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان ، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ اولی الامر کے احکام اِس اطاعت کے بعد اور اِس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں ۔اِس اطاعت سے پہلے یا اِس سے آزاد ہو کر اُن کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولی الامر سے اختلاف کا حق بے شک، رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا،بلکہ اِس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولی الامر سے بھی پیش آ جائے اور اُس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اُس کا فیصلہ لازماً اُس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا ۔

تاہم اللہ اور رسول کی اِس اطاعت کے تحت اولی الامر کی اطاعت کے چند لوازم ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں واضح فرمادیا ہے:

اول یہ کہ اُن کے تحت جو نظم ریاست قائم کیا جائے ،مسلمانوں کو اُس سے پوری طرح وابستہ رہنا چاہیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس نظم کو 'الجماعۃ'اور 'السلطان'سے تعبیر کیا ہے اور اِس کے بارے میں ہر مسلمان کو پابند کیا ہے کہ اِس سے کسی حال میں الگ نہ ہو ۔ یہاں تک کہ اِس سے نکلنے کو آپ نے اسلام سے نکلنے کے مترادف قرار دیا اور فرمایا کہ کوئی مسلمان اگر اِس سے الگ ہو کر مرا تو جاہلیت کی موت مرے گا ۔ آپ کا ارشاد ہے :

من رأی من امیرہ شیئًا یکرھہ فلیصبر علیہ، فانہ من فارق من الجماعۃ شبرًا فمات الا مات میتۃ جاھلیۃ.(بخاری ،رقم ۷۰۵۴)

''جس نے اپنے حکمران کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھی، اُسے چاہیے کہ صبر کرے،کیونکہ جو ایک بالشت کے برابر بھی مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے الگ ہوا اور اِسی حالت میں مر گیا ، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔''

یہی روایت ایک دوسرے طریق میں اِس طرح آئی ہے :

من کرہ من امیرہ شیءًا فلیصبر، فانہ من خرج من السلطان شبرًا مات میتۃ جاھلیۃ.(بخاری ،رقم۷۰۵۳)

''جسے حکمران کی کوئی بات ناگوار گزرے ، اُسے صبر کرنا چاہیے ،کیونکہ جو ایک بالشت کے برابر بھی اقتدار کی اطاعت سے نکلا اور اِسی حالت میں مر گیا ، اُس کی موت جاہلیت پر ہوئی۔''

سیاسی خلفشار اور فتنہ و فساد کے زمانے میں بھی آپ کی ہدایت ہے کہ کسی مسلمان کو نظم اجتماعی کے خلاف کسی اقدام میں نہ صرف یہ کہ شریک نہیں ہونا چاہیے ،بلکہ پوری وفاداری کے ساتھ اُس سے وابستہ رہنا چاہیے ۔امام مسلم کی ایک روایت میں سیدنا حذیفہ کے لیے آپ کا یہ ارشاد کہ :'تلزم جماعۃ المسلمین وامامھم' ۱؂ (اِس طرح کی صورت حال میں تم مسلمانوں کے نظم اجتماعی اور اُن کے حکمران سے وابستہ رہو گے )،ریاست سے متعلق دین کے اِسی منشا پر دلالت کرتا ہے ۔

دوم یہ کہ وہ قانون کے پابند رہیں ۔جو حکم دیا جائے،اُس سے گریز و فرار کے بجاے اُسے پوری توجہ سے سنیں اور مانیں۔ کوئی اختلاف ،کوئی ناپسندیدگی ،کوئی عصبیت اورکسی نوعیت کا کوئی ذہنی تحفظ بھی قانون سے انحراف کا باعث نہیں بننا چاہیے ،الاّ یہ کہ خدا کی معصیت میں کوئی قانون بنایا جائے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

علیک السمع والطاعۃ فی عسرک ویسرک ومنشطک ومکرھک واثرۃ علیک.(مسلم ، رقم ۱۸۳۶)

''تم پر لازم ہے کہ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سمع و طاعت کا رویہ اختیار کرو ،چاہے تم تنگی میں ہو یا آسانی میں اور چاہے یہ رضا و رغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ اور اِس کے باوجود کہ تمھارا حق تمھیں نہ پہنچے۔''

علی المرء المسلم السمع والطاعۃ فیما احب وکرہ الا ان یؤمر بمعصیۃ، فان امر بمعصیۃ فلا سمع ولاطاعۃ.(مسلم،رقم ۱۸۳۹)

'' مسلمان پر لازم ہے کہ خواہ اُسے پسند ہو یا ناپسند ، وہ ہر حال میں اپنے حکمران کی بات سنے اور مانے ، سواے اس کے کہ اُسے کسی معصیت کا حکم دیا جائے ۔ پھر اگر معصیت کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نہ سنے گا اور نہ مانے گا۔''

اسمعوا واطیعوا وان استعمل علیکم عبد حبشی کان رأسہ زبیبۃ. (بخاری، رقم۷۱۴۲)

''سنو اور مانو ،اگرچہ تمھارے اوپر کسی حبشی غلام کو حکمران بنا دیا جائے جس کا سر منقا جیسا ہو۔''

اولی الامر کی اطاعت کا یہ حکم ، ظاہر ہے کہ صرف مسلمان حکمرانوں کے لیے ہے۔ سورۂ نساء کی آیۂ زیر بحث میں 'اولو الامر' کے ساتھ ' منکم'کے الفاظ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ کسی شخص کے مسلمان قرار پانے کے جو شرائط قرآن میں بیان ہوئے ہیں ، اُن سے انحراف کے بعد اطاعت کا یہ حکم اُس سے متعلق نہیں رہتا۔ عبادہ بن صامت کی روایت ہے :

دعانا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فبایعناہ ، فکان فیما اخذ علینا ان بایعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا و عسرنا و یسرنا واثرۃ علینا، وان لا ننازع الامر اھلہ ، قال: الا ان تروا کفرًا بواحًا، عندکم من اللّٰہ فیہ برھان.(مسلم ،رقم ۱۷۰۹)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا تو ہم نے آپ سے بیعت کی ۔ اُس میں جن باتوں کا عہد لیا گیا، وہ یہ تھیں کہ ہم سنیں گے اور مانیں گے، چاہے یہ رضا و رغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ اور چاہے ہم تنگی میں ہوں یا آسانی میں اور اِس کے باوجود کہ ہمارا حق ہمیں نہ پہنچے اور یہ بھی کہ ہم اپنے حکمرانوں سے اقتدار کے معاملے میں کوئی جھگڑا نہ کریں گے ۔آپ نے فرمایا : ہاں، البتہ جب تم کوئی کھلا کفر اُن کی طرف سے دیکھو اورتمھارے پاس اِس معاملے میں اللہ کی واضح حجت موجود ہو ۔''

اِسی طرح بعض روایتوں میں ہے :

انہ یستعمل علیکم امراء فتعرفون و تنکرون، فمن کرہ فقد بری ، ومن انکر فقد سلم ، ولکن من رضی و تابع قالوا: یا رسول اللّٰہ، الا نقاتلھم قال : لا ما صلوا. (مسلم ،رقم ۱۸۵۴)

''تم پر ایسے لوگ حکومت کریں گے جن کی بعض باتیں تمھیں اچھی لگیں گی اور بعض بری۔ پھر جس نے بری باتوں کو ناپسند کیا ، وہ بری الذمہ ہوا اور جس نے اُن کا انکار کیا ، وہ بھی محفوظ رہا ۔ مگر جو اُن پر راضی ہوا اور پیچھے چل پڑا تو اُس سے پوچھا جائے گا۔صحابہ نے پوچھا : یہ صورت ہو تو یا رسول اللہ ، کیا ہم اُن سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا:نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے ہوں۔''

شرار ائمتکم الذین تبغضونھم و یبغضونکم، و تلعنونھم و یلعنونکم ، قیل: یا رسول اللّٰہ، افلا ننابذھم بالسیف فقال : لا، ما اقاموا فیکم الصلٰوۃ.(مسلم ،رقم ۱۸۵۵)

''تمھارے بدترین حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں۔ تم اُن پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ،یہ صورت ہو تو کیا ہم اُن کے خلاف تلوار نہ اٹھائیں ؟ فرمایا : نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔''

تاہم اِس حد کو پہنچ جانے کے بعد بھی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا حق کسی شخص کو اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتا ،جب تک مسلمانوں کی واضح اکثریت اُس کی تائید میں نہ ہو ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پھر حکومت کے خلاف نہیں ،بلکہ مسلمانوں کے خلاف بغاوت قرار پائے گی جو اسلامی شریعت کی رو سے فساد فی الارض ہے اور جس کی سزا قرآن میں قتل مقرر کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

من اتاکم وامرکم جمیع علی رجل واحد، یرید ان یشق عصاکم او یفرق جماعتکم، فاقتلوہ.(مسلم ،رقم ۱۸۵۲)

''تم کسی شخص کی امارت پر جمع ہو اور کوئی تمھاری جمعیت کو پارہ پارہ کرنے یا تمھارے نظم اجتماعی میں تفرقہ پیدا کرنے کے لیے اُٹھے تو اُسے قتل کر دو ۔'' ۲؂

پھر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ بغاوت اگر مسلح بغاوت ہے تو اِس پر وہ تمام شرائط بھی آپ سے آپ عائد ہو جائیں گے جو اسلامی شریعت میں جہاد و قتال کے لیے بیان ہوئے ہیں ۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہ ہو گا کہ وہ اُنھیں پورا کیے بغیر اِس نوعیت کا کوئی اقدام اپنے حکمرانوں کے خلاف کرے۔

اصل ذمہ داری اِنَّ اللّٰہَ یَاْ مُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلآی اَھْلِھَا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ، اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا.(النساء ۴ : ۵۸)

''اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ نہایت عمدہ بات ہے یہ جس کی اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے ۔ بے شک ،اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔''

سورۂ نساء میں جہاں اللہ و رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا وہ بنیادی اصول بیان ہوا ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر کی ہے ، اُس سے متصل پہلے یہ آیت اِس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اِس اصول کی بنیاد پر جو ریاست قائم ہو گی، اُس کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ اسے عدل و انصاف کو ہر سطح پر اور اُس کی آخری صورت میں قائم کر دینے کی جدوجہد کرتی رہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی اِس آیت کی تفسیر میں 'واذا حکمتم بین الناس' کے تحت لکھتے ہیں :

''...یہ امانت کے سب سے اہم پہلو کی تفصیل بھی ہے اور اقتدار کے ساتھ جو ذمہ داری وابستہ ہے اُس کی وضاحت بھی۔ جن کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین میں اقتدار بخشتا ہے ،اُن پر اولین ذمہ داری جو عائد ہوتی ہے ، وہ یہی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے جھگڑوں کو عدل و انصاف کے ساتھ چکائیں۔ عدل کا مطلب یہ ہے کہ قانون کی نگاہ میں امیر و غریب، شریف و وضیع، کالے اور گورے کا کوئی فرق نہ ہو۔ انصاف خریدنی و فروختنی چیز نہ بننے پائے۔ اُس میں کسی جانب داری،کسی عصبیت، کسی سہل انگاری کو راہ نہ مل سکے۔کسی دباؤ،کسی زور و اثر اور کسی خوف و طمع کو اُس پر اثر انداز ہونے کا موقع نہ ملے۔

جن کو بھی اللہ تعالیٰ نے زمین میں اقتدار بخشا ہے ،اِسی عدل کے لیے بخشا ہے ۔ اِس وجہ سے سب سے بڑی ذمہ داری اِسی چیز کے لیے ہے ۔خدا کے ہاں عادل حکمران کا اجر بھی بہت بڑا ہے اور غیرعادل کی سزا بھی بہت سخت ہے ۔ اِس وجہ سے تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ بہت ہی اعلیٰ نصیحت ہے جو اللہ تعالیٰ تمھیں کر رہا ہے ، اِس میں کوتاہی نہ ہو ۔ آخر میں اپنی صفات سمیع و بصیر کا حوالہ دیا ہے کہ یاد ر کھو کہ خدا سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ،کوئی مخفی سے مخفی ناانصافی بھی اُس سے مخفی رہنے والی نہیں ۔'' (تدبر قرآن ۲ /۳۲۳ )

صحابۂ کرام نے جب روم و ایران کی سلطنتوں پر تاخت کی تو یہی حقیقت ہے جسے اِن الفاظ میں بیان فرمایا کہ ہم اِس دعوت کے ساتھ اٹھے ہیں کہ تم میں سے جو چاہے انسانوں کی بندگی سے نکل کر خدا کی بندگی اور دنیا کی تنگی سے نکل کر اُس کی وسعت اور ادیان کے ظلم سے نکل کر اسلام کے عدل کی طرف آ جائے ۔ ۳؂

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی کے پیش نظر اصرار فرمایا کہ ریاست کا کوئی منصب کسی ایسے شخص کو نہ دیا جائے جو اُس کا حریص ہو ،اِس لیے کہ اُس سے پھر معاملات میں عدالت کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ آپ کا ارشاد ہے :

انا، واللّٰہ، لا نولی علی ھذا العمل احدًا سألہ ولا احدًا حرص علیہ. (مسلم ،رقم ۱۷۳۳)

''ہم ، بخدا کسی ایسے شخص کو اِس نظام میں کوئی منصب نہ دیں گے جو اُسے مانگے اور اُس کے لیے حریص ہو۔''

صحابہ کو بھی آپ نے نصیحت کی کہ وہ اِس معاملے میں خدا سے ڈرتے رہیں اور امارت کے طالب نہ بنیں۔ آپ نے فرمایا:

لا تسأل الامارۃ ، ان اعطیتھا عن مسألۃ وکلت الیھا و ان اعطیتھا عن غیر مسألۃ اعنت علیھا.(مسلم ، رقم ۱۶۵۲)

''امارت کے طالب نہ ہو ۔ اگر یہ تمھاری خواہش کے نتیجے میں تمھیں دی گئی تو تم اِسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر خواہش کے حاصل ہوئی تو اللہ کی طرف سے اِس میں تمھاری مدد کی جائے گی۔''

چنانچہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ اِسی عدل کو قائم کر دینے کے لیے خلفاے راشدین نے اپنے دروازے فریاد اور اعتراض کرنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے ،فقیرانہ زندگی اختیار کی، یہاں تک کہ پیوند لگے کپڑے پہنے ،بوریے کو تخت بنایا اور اپنے عوام کے اندر اُنھی کی طرح اور اُنھی کے معیار پر اِس طرح جیے کہ زمین و آسمان پکار اٹھے:

سلطنت اہل دل فقر ہے ،شاہی نہیں

دینی فرائض اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ.(الحج ۲۲ : ۴۱)

''یہ اہل ایمان وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم اِن کو اِس سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتمام کریں گے ، زکوٰ ۃادا کریں گے ،بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے ۔''

سورۂ حج کی یہ آیت وہ دینی فرائض بیان کرتی ہے جو کسی خطۂ ارض میں اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر عائد ہوتے ہیں ۔نماز قائم کی جائے ،زکوٰۃ ادا کی جائے، بھلائی کی تلقین کی جائے اور برائی سے روکا جائے ، یہ چار باتیں اِس آیت میں مسلمانوں پر اُن کی اجتماعی حیثیت میں لازم کی گئی ہیں ۔

قرآن کے اِس حکم کی تعمیل میں ریاست کی سطح پرنماز قائم کرنے کے لیے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قائم کی ہے ،اُس کی رو سے :

۱۔ لوگوں سے اس بات کا تقاضا کیا جائے گا کہ وہ اگر مسلمان ہیں تو اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر نماز ادا کریں۔

۲۔ مسجدوں کا اہتمام اور ان کے لیے ائمہ کا تقرر حکومت کرے گی۔

۳۔ نماز جمعہ کا خطاب اور اُس کی امامت، ریاست کے صدر مقام کی مرکزی جامع مسجد میں سربراہ مملکت، صوبوں میں گورنر اور مختلف انتظامی و حدتوں میں اُن کے عمال کریں گے ۔

اِسی طرح زکوٰۃ کے بارے میں جو سنت قائم کی ہے، اس کی رو سے ریاست کے مسلمان شہریوں میں سے ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو ، اپنے مال ، مواشی اور پیداوار میں مقرر ہ حصہ اپنے سرما ئے سے الگ کر کے لازماً حکومت کے حوالے کر دے گا اور حکومت دوسرے مصارف کے ساتھ اُس سے اپنے حاجت مند شہریوں کی ضرورتیں ، اُن کی فریاد سے پہلے ، اُن کے دروازے پر پہنچ کر پوری کرنے کی کوشش کرے گی ۔

بھلائی کی تلقین کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے ایک جماعت اس کام کے لیے باقاعدہ مقرر کی جائے۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.(آل عمران۳ : ۱۰۴)

''اور تمھارے اندر سے ایک جماعت اس کام پر مقرر ہونی چاہیے کہ وہ نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کی تلقین کرے اور برائی سے منع کرے۔ اور جو لوگ یہ اہتمام کریں گے، وہی فلاح پائیں گے۔'' ۴؂

اس زمانے کی تعبیر اختیار کیجیے تو گویا قرآن کا منشا یہ ہے کہ دوسرے محکموں کی طرح ایک محکمہ قانونی اختیارات کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے بھی ریاست کے نظام میں قائم ہونا چاہیے جو اپنے لیے متعین کردہ حدود کے مطابق اِس کام کو انجام دینے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتا ہے۔

اسلامی ریاست کے دینی فرائض یہی ہیں ۔ دنیا میں جو ریاست بھی قائم ہوتی ہے ، وہ امن اور دفاع اور ملک کی مادی خوش حالی کے لیے سعی و جہد توہرحال میں کرتی ہے ،لیکن محض ایک ریاست سے آگے بڑھ کر جب وہ اسلامی ریاست کی حیثیت اختیار کرتی ہے تو اس سے قرآن مطالبہ کرتا ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کے اہتمام ، اور بھلائی کی تلقین کرنے اور برائی سے لوگوں کو روکنے کی ذمہ داری سے بھی کسی حال میں غافل اور بے پروانہ ہو۔

شہریت اور اُس کے حقوق

۱۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ، وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ ، فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ. (التوبہ ۹:۱۱)

''پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں۔''

۲۔ فَاِنْ تَابُوْا، وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ، وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ، فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ.(التوبہ ۹ :۵ )

''پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اُن کی راہ چھوڑ دو ۔''

یہ دونوں آیتیں سورۂ توبہ میں ایک ہی سلسلۂ بیان میں آئی ہیں ۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ حج کے موقع پر یہ اعلان کر دیا جائے کہ مشرکین عرب میں سے جو لوگ یہ تین شرطیں پوری کر دیں ، وہ دین میں تمھارے بھائی ہیں اور تمھارے لیے اللہ کا حکم یہ ہے کہ اِس کے بعد اُن کی راہ چھوڑ دو :

اولاً ،کفر و شرک سے توبہ کر کے وہ اسلام قبول کر لیں ۔

ثانیاً ،اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر نماز کا اہتمام کریں ۔

ثالثاً، ریاست کا نظم چلانے کے لیے اُس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اِسی حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے :

امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوا ان لا الٰہ الا اللّٰہ، و ان محمدًا رسول اللّٰہ، ویقیموا الصلٰوۃ، ویؤتوا الزکٰوۃ. فاذا فعلوہ عصموا منی دماء ھم واموالھم الا بحقھا ، وحسابھم علی اللّٰہ.(مسلم ، رقم ۲۲)

''مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، ۵؂ یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو اُن کی جانیں اور اُن کے مال محفوظ ہو جائیں گے ، الاّ یہ کہ وہ اُن سے متعلق کسی حق کے تحت اِس حفاظت سے محروم کر دیے جائیں۔ رہا اُن کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے ۔''

اس حکم پر غور کیجیے تو اس سے چند باتیں صاف واضح ہوتی ہیں:

اول یہ کہ جو لوگ یہ تین شرطیں پوری کر دیں ، اِس سے قطع نظر کہ اللہ کے نزدیک اُن کی حیثیت کیا ہے، قانون و سیاست کے لحاظ سے وہ مسلمان قرار پائیں گے اور وہ تمام حقوق اُنھیں حاصل ہو جائیں گے جو ایک مسلمان کی حیثیت سے، اُن کی ریاست میں اُن کو حاصل ہونے چاہییں۔

دوم یہ کہ عام مسلمان ہوں یا ارباب اقتدار ،اِن شرطوں کے پورا کر دینے کے بعد اُن کا باہمی تعلق لازماً اخوت ہی کا ہے، وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور اِس طرح قانونی حقوق کے لحاظ سے بالکل برابر ہیں۔ اُن کے درمیان کسی فرق کے لیے اسلام میں کوئی گنجایش نہیں مانی جا سکتی۔ قرآن نے اِس مدعا کے لیے 'فاخوانکم فی الدین' کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی وہ دین میں تمھارے بھائی بن جائیں گے ۔ 'الدین' کے لفظ سے ظاہر ہے کہ یہاں اسلام مراد ہے اور 'فاخوانکم' کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو خطاب کر کے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اِن تین شرطوں کے پورا ہو جانے کے بعد ریاست کے نظام میں تمھاری اور اِن نئے ایمان لانے والوں کی حیثیت بالکل برابر ہو گی۔ تمھارے اور اِن کے قانونی حقوق میں کسی لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا جائے گا ۔

سوم یہ کہ اخوت کا یہ رشتہ قائم ہو جانے کے بعد سب مسلمانوں پر ،خواہ وہ عوام میں سے ہوں یا ارباب حل و عقد میں سے، وہ تمام ذمہ داریاں خودبخود عائد ہو جاتی ہیں جو عقل و فطرت کی رو سے ایک بھائی پر اُس کے بھائی کے بارے میں عائد ہونی چاہییں ۔

چہارم یہ کہ آخرت میں جواب دہی کے لحاظ سے اسلام کے مطالبات اپنے ماننے والوں سے خواہ کچھ ہوں ، اُس کی ریاست اپنے مسلمان شہریوں سے جو مطالبات کر سکتا ہے ،وہ بس یہ تین ہی مطالبات ہیں جو اِن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پوری وضاحت کے ساتھ خود بیان فرما دیے ہیں۔ اِن میں نہ کمی کے لیے کوئی گنجایش ہے اور نہ بیشی کے لیے ۔ عالم کے پروردگار نے اِن پر خود اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ اِس وجہ سے کوئی قانون ،کوئی ضابطہ ،کوئی حکومت ،کوئی شوریٰ ،کوئی پارلیمان اب قیامت تک اِن شرائط کے پورا کر دینے کے بعد مسلمانوں کی جان ،مال ،آبرو اورعقل وراے کے خلاف کسی نوعیت کی کوئی تعدی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی ریاست کے پہلے حکمران سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب مانعین زکوٰۃ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تو لوگوں کے معارضہ پر یہ حقیقت پوری قطعیت کے ساتھ اِس طرح واضح فرمائی:

قال اللّٰہ تعالٰی : فان تابوا واقاموا الصلٰوۃ، واٰتوا الزکٰوۃ، فخلوا سبیلھم. واللّٰہ، لا اسئل فوقھن ، ولا اقصر دونھن . (احکام القرآن ،الجصاص ۲/ ۸۲)

''اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اِس کے بعد اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اُن کی راہ چھوڑ دو ، (اِس لیے) خدا کی قسم، میں اِن شرطوں پر کسی اضافے کا مطالبہ کروں گا اور نہ اِن میں کوئی کمی برداشت کروں گا۔''

اِس سے واضح ہے کہ ریاست اپنے مسلمان شہریوں کو کسی جرم کے ارتکاب سے روک سکتی اور اُس پر سزا تو دے سکتی ہے، لیکن دین کے ایجابی تقاضوں میں سے نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی چیز کو بھی قانون کی طاقت سے لوگوں پر نافذ نہیں کر سکتی۔ وہ، مثال کے طور پر ،اُنھیں روزہ رکھنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ اُن میں سے کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو جانے کے باوجود کہ وہ صاحب استطاعت ہے ، اُسے حج پر جانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتی ۔ جہاد و قتال کے لیے جبری بھرتی کا کوئی قانون نافذ نہیں کر سکتی۔ مختصر یہ کہ جرائم کے معاملے میں اُس کا دائرۂ اختیار آخری حد تک وسیع ہے ،لیکن شریعت کے اوامر میں سے اِن دو نماز اور زکوٰۃ کے سوا باقی سب معاملات میں یہ صرف ترغیب و تلقین اور تبلیغ و تعلیم ہی ہے جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرسکتی ہے ۔ اِس طرح کے تمام معاملات میں اِس کے سوا کوئی چیز اُس کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں اِسی بنا پر فرمایا :

ان اموالکم ودماء کم واعراضکم علیکم حرام کحرمۃ یومکم ہذا ، فی فی بلدکم ہذا ، شہرکم ہذا..۶؂(احمد بن حنبل، رقم ۲۰۳۷)

''تمھارے مال ، تمھاری جانیں اور تمھاری آبروئیں، تم پر اُسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمھارے اِس دن (یوم النحر)کی حرمت تمھارے اِس شہر (ام القریٰ مکہ) میں اور تمھارے اِس مہینے (ذوالحجہ) میں۔''

یہ مسلمانوں کے حقوق ہیں ۔ رہے اِس ریاست کے غیر مسلم شہری تو حالات و مصالح کی رعایت سے اوربین الاقوامی معاہدات کے مطابق اُن کے ساتھ ہم جو معاملہ چاہیں ، کر سکتے ہیں ۔اِس باب میں ہمارے لیے بہترین نمونہ وہ عہد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتمام حجت سے پہلے یثرب کے یہود کے ساتھ کیا تھا ۔تاریخ میں یہ ''میثاق مدینہ'' کے نام سے معروف ہے ۔اِس طرح کے معاہدے مسلمانوں نے بعد میں دوسری قوموں کے ساتھ بھی کیے۔یہ،ظاہر ہے کہ حالات کے لحاظ سے مختلف شرائط پر کیے جا سکتے ہیں ۔چنانچہ میثاق مدینہ کو اگر دیکھیے تو اِس میں یہ دفعہ پوری صراحت کے ساتھ ثبت ہوئی ہے کہ مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اقتدار تسلیم کر لینے کے بعد یہود مسلمانوں ہی کی طرح ایک مستقل گروہ ہیں ، لہٰذا اُن کے حقوق اب وہی ہوں گے جو یثرب کی اِس ریاست میں اُس کے مسلمان شہریوں کو حاصل ہیں :

وان یہود امۃ مع المؤمنین، للیھود دینھم وللمسلمین دینھم، موالیھم وانفسھم.(السیرۃ النبویہ ،ابن ہشام ۲/ ۱۰۷)

''یہود اِس دستور کے مطابق، سیاسی حیثیت سے، مسلمانوں ہی کی طرح ایک امت تسلیم کیے جاتے ہیں۔ رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور اُن کے موالی، سب اپنے دین پر۔''

یہاں کسی شخص کو سورۂ توبہ (۹) کی آیت ' قاتلوا الذین لا یومنون ' اِس نقطۂ نظر کی تردید میں پیش نہیں کرنی چاہیے۔ اِس آیت کے الفاظ اور سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اِس کا حکم اُن اہل کتاب کے لیے تھا جن پر نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم بنی اسمٰعیل کے اہل ایمان نے اتمام حجت کیا اور اُن کے کفر کی پاداش میں سنت الٰہی کے مطابق یہ سزا اُن پر نافذ کر دی کہ وہ اگر قتل سے بچنا چاہتے ہیں تو ریاست کی شہریت کے لیے :

اولاً ،جزیہ ادا کریں؛

ثانیاً ،ریاست کے نظام میں مسلمانوں کے زیردست ہو کر رہیں ۔

ارشاد فرمایا ہے :

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ، وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ.( التوبہ ۹ : ۲۹)

''اِن (اہل کتاب) سے لڑو جو نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ،نہ اللہ اور اُس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھیرایا ہے ، اُسے حرام ٹھیراتے ہیں اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے ہیں۔ (اِن سے لڑو )، یہاں تک کہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور زیردست بن کر رہیں ۔''

سورۂ توبہ کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کی ایک فرع اور اُنھی اقوام کے ساتھ خاص تھا جن پر یہ حجت پوری کی گئی۔اِس کے بعد اب دنیا کے کسی غیر مسلم سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

________

۱؂ مسلم، رقم ۱۸۴۷۔

۲؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ پر مبنی ہے۔

۳؂ تاریخ الامم والملوک، ابن جریر الطہری ۴/ ۷۰۱۔

۴؂ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست مدینہ میں قائم ہو گئی۔

۵؂ اس روایت میں جنگ کے ذکر سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ یہ محض اس لیے ہوا کہ اس وقت معاملہ مشرکین عرب سے تھا ، جن کے بارے میں قرآن نے وضاحت کر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اُن پر اتمامِ حجت کے بعد اب انھیں اسلام یا تلوار میں سے کسی ایک انتخاب بہرحال کرنا ہے۔

۶؂ یہ روایت مسلم، کتاب الحج میں بھی موجود ہے، لیکن وہاں 'اعراضکم' کے الفاظ نہیں ہیں، اس لیے ہم نے مسند کے متن کو ترجیح دی ہے۔

____________