قومی تعمیر میں مذہبی قیادت کا کردار


عرفان الہٰی کی وہ میراث جو ابراہیم وموسیٰ اور مسیح ومحمد علیھم الصلوٰۃ والسلام نے چھوڑی ہے، وہ علما کا سرمایۂ حیات ہے۔ چنانچہ انبیا کی نیابت میں اب یہ انھی کا منصب ہے کہ اپنے ہم قوموں کو جہنم کے عذاب سے خبردار کریں اور جنت کے انعام کی خوش خبری سنائیں؛ یہ انھی کا کام ہے کہ علوم دینیہ پر غور کریں اور ان کی روشنی میں زمانے کے لیے لائحۂ عمل تشکیل دیں؛ یہ انھی کا فریضہ ہے کہ دینی تعلیم کو ہر آمیزش سے پاک کریں اور اسے دنیا کے قریے قریے تک پہنچائیں؛ اور یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ عامۂ امت کو انداز زندگی سکھائیں اور ان کی تعمیر وترقی کے لیے صحیح راستوں کا تعین کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ علماے امت نے ان فرائض منصبی کو نہایت خوبی سے نبھایا ہے۔ یہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے۔ انھوں نے جنگلوں اور صحراؤں کی خاک چھانی ہے، گھر بار چھوڑے ہیں، نعمتوں سے صرف نظر کیا ہے، تازیانے کھائے ہیں، قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور بسا اوقات اپنی جانیں بھی راہ حق میں پیش کر دی ہیں۔ بخاری ومسلم، مالک واحمد، بو حنیفہ وشافعی، غزالی وابن تیمیہ نے دین وملت کی جو خدمت کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اس طائفۂ علما کے سرخیل تھے۔ ان کے پیرووں نے عزم واستقامت اور حکمت ودانش کے ساتھ اقوام امت کی رہنمائی کی اور انھیں مدت تک جسد واحد میں پروئے رکھا۔ انھوں نے ارباب اقتدار کو ان کے فرائض سے منحرف نہیں ہونے دیا۔ عامۃ الناس کے اخلاق وکردار کو مجروح ہونے سے بچایا اور انھیں خوابوں میں جینے کے بجائے حقیقت پسندی کا درس دیا۔ اس رہنمائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان اخلاق وکردار، عدل وانصاف، علم وہنر اور نظم و ترتیب میں اوج کمال پر فائز ہوئے اوراسی بنا پر صدیوں تک علم کی مسند اقتدار پر فائز رہے۔

امت جب زوال پزیر ہوئی تو جہاں وہ حکمران ہوئے جن کے عدل اجتماعی کو امتیں تسلیم کرتی تھیں، وہ سالار رخصت ہوئے جن کی ہیبت سے ظالم قومیں کانپ جاتی تھیں، وہ صناع رخصت ہوئے جنھوں نے اشہب تمدن کو مہمیز کر دیا تھا، وہ مدبر رخصت ہوئے جن کی دانش نے عمرانی علوم کے نئے دریچے کھول دیے تھے، وہ حکما رخصت ہوئے جن کے افکار نے اسرار حیات کو آشکارا کر دیاتھا، وہاں وہ داعیان دین حق، وہ معلمیں کتاب وسنت اور وہ قائدین ملت اسلامیہ بھی رخصت ہو گئے جوان سب کے لیے قوت محرکہ کا کردار ادا کر رہے تھے اور جن کے وجود سے ان سب کا وجود قائم تھا۔ یہ علما دنیا سے اٹھے اور اس طرح اٹھے کہ امت کا وجود روح اسلام سے خالی ہو گیا اور طاغوت کے تن مردہ میں پھر سے جان پڑگئی:

جہاں سے اس طرح اٹھے یہ اہل مے خانہ

کہ بحروبر میں عزازیل نے جلائے چراغ

فلک کا نوحہ زمیں کے حدود میں پہنچا

کہ کھو دیا ہے ستاروں نے منزلوں کا سراغ

جو لوگ ان کے جانشین ہوئے انھوں نے علم وتحقیق اور اخلاق وتقویٰ کا بہرہ تو وافر جمع کر لیا، مگر قومی واجتماعی امور میں امت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر رہے۔اس ضمن میں انھوں نے امت کو جو درس دیا، واقعہ یہ ہے کہ وہ امت کی تعمیر وترقی کے بجائے شکست وریخت ہی کا باعث ہوا۔ اس موقع پر زمانہ ان سے یہ توقع کر رہا تھا کہ وہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھیں گے، حکمت ودانش کو بروئے کار لائیں گے، اسباب زوال کو متعین کر کے ان کے تدارک کی حکمت عملی ترتیب دیں گے اور پھر امت کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ صحیح خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ مگر نہ زمانے کی نبض کو ٹٹولا گیا، نہ حکمت ودانش کو آزمایا گیا، نہ اسباب زوال کی تحقیق کی گئی اور نہ قومی ترقی کے لیے لائحۂ عمل مرتب کیا گیا۔ اس کے برعکس اس جماعت علما کی کارگزاری کی تفصیل یہ ہے کہ ان میں سے کچھ زوال کی نوحہ خوانی سے قوم پر مایوسی طاری کر کے خاموش ہوگئے، کچھ کنارہ کش ہو کر خانقاہوں میں کھو گئے، مگر بیشتر نے امت میں آتش جذبات کو انگیخت کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہی جذبات پرور علما اس دور زوال میں امت کی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے اور آج تک یہ منصب انھی کے پاس ہے۔

گزشتہ دوتین صدیوں میں انھوں نے مسلمانوں کو جو رہنمائی فراہم کی ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن وسنت کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

انھوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ انھیں معاملات دنیا کوچشم خرد سے نہیں، بلکہ نگاہ جذبات سے دیکھنا چاہیے۔ ان پر اگر زوال آیا ہے تو اس کے اسباب ان کے اپنے ہا ں جو ہیں سو ہیں، مگر اس کا بڑا سبب ان کے دشمنوں کی ریشہ دوانیاں ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ دشمن اقوام کا قلع قمع کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوں اور اس وقت تک برسرپیکار رہیں، جب تک وہ ان کی سیاست تسلیم نہیں کر لیتیں یا صفحۂ ہستی سے محو نہیں ہو جاتیں۔ اس جدوجہد میں اگر وہ خود دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو انھیں جان رکھنا چاہیے کہ محکومی کی زندگی سے شہادت کی موت بدرجہا بہتر ہے۔

یہ طرز عمل سکھایا ہے کہ کمزور کو طاقت ور کے جواب میں حکمت سے نہیں، بلکہ شدید ردعمل سے کام لینا چاہیے۔ حکمت سراسر بزدلی کی علامت ہے۔ اگر وہ ظلم سہتے جائیں گے تو اس کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا۔

یہ تعلیم دی ہے کہ انھیں اسباب ووسائل کی فکر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اللہ کی نصرت پر بھروسا کر کے اپنے حقوق کے لیے برسرجنگ ہو جانا چاہیے۔ اگر ان کا ایما ن سلامت ہے تو پروردگار عالم لازماً اپنے فرشتوں سے ان کی مدد فرمائیں گے۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کئی مرتبہ پہلے بھی مختلف میدان ہائے کارزار میں ہزاروں اور لاکھوں کے مقابلے میں سینکڑوں مسلمانوں کوفتح عظیم سے ہم کنار کیا ہے۔

یہ سمجھایا ہے کہ ان کی بقا کا یہ ناگزیر تقاضا ہے کہ جہاں وہ مقیم ہوں، وہاں ان کے پاس لازماً سیاسی اقتدار ہونا چاہیے۔ وہ اقلیت میں ہوں تب بھی انھیں اس کے حصول کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ اگر پر امن طریقے سے یہ جدوجہد بار آور نہ ہو سکے تو پر تشدد ہو کر اسے جاری رکھنا چاہیے۔

یہ باور کرایا ہے کہ دنیا پر حکمرانی نہ صرف ان کا استحقاق ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فریضہ ہے۔ ہر مسلمان کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی استعداد کے لحاظ سے اس فرض کو بجا لائے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک مسلمان کا مقصد حیات ہی دنیا پر اسلام کی حکومت کا قیام ہونا چاہیے۔

یہ بتایا ہے کہ وہ خدا کے نزدیک دنیا کی سب سے مکرم قوم ہیں۔ اس لیے کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور ان کی زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہے۔ اس بنا پر آخرت میں تو انھیں سرخ رو ہونا ہی ہے، لیکن دنیا میں بھی وہ لائق فضیلت ہیں۔ چنانچہ اگر کسی وقت وہ اخلاقی اعتبار سے نہایت پست بھی ہو جائیں، تب بھی تعظیم وتکریم کے مستحق ہیں۔

یہ واضح کیا ہے کہ ان کی سیاست کی کلید جہادوقتال ہے۔جب تک وہ اس میدان میں سرگرم تھے تو وہ دنیا پر غالب تھے اور جب سے انھوں نے اس میدان کو چھوڑا ہے، محکومی ان کا مقدر بن گئی ہے۔ چنانچہ اگر وہ اپنی عظمت رفتہ کوواپس لانا چاہتے تو انھیں جہادوقتال کے لیے مستعد ہونا ہو گا۔

اس تعلیم وتربیت کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک ہی درس ہے جو مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے علما کی زبانوں پر جاری ہے کہ مسلمانو، تلوار اٹھاؤ اور دنیا سے برسرپیکار ہو جاؤ، یہاں تک کہ دنیا کی مسند اقتدار پر قابض ہو جاؤ یا آخرت کے مرتبہ شہادت پر فائز ہو جاؤ۔

علما کی اس رہنمائی کو اگر تاریخ کے اوراق میں دیکھا جائے تو چند مثالیں بہت نمایاں ہیں۔

سید احمد شہید (۱۷۸۶۔۱۸۳۱) ہیں جنھوں نے ہند میں سکھوں کی حکومت کے خاتمے اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے تحریک شروع کی۔ جہاد کے نام پر چند سو سرفروشوں کوجمع کر کے سکھوں کی طاقت ور حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ ابتدا میں کچھ علاقے پر قبضہ بھی کر لیا، مگر بالآخر بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں کی بیس ہزار فوج سے مقابلے میں اپنے تمام سرفروش ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔

امام شامل (۱۷۹۷۔۱۸۷۱) ہیں جن کی قیادت میں داغستان کے مسلمانوں نے روسی استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی۔ یہ جنگ کم وبیش پچیس سال تک جاری رہی۔ جہاد اور آزادی کے نام پر ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، مگر آخر کار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔

مہدی سوڈانی (۱۸۴۴۔۱۸۸۵) ہیں جو سوڈان کو مصر سے آزاد کرا کے انگریزوں کے خلاف برسرپیکار ہوگئے۔ اسی دوران میں ۱۸۸۵ میں ان کی وفات ہو گئی۔ ان کے جانشین زیادہ عرصہ انگریزوں کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ۱۸۹۹ میں انگریز سوڈان پر قابض ہو گئے۔ انگریز سالار نے جذبۂ انتقام کے تحت سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہدی سوڈانی کی قبر اکھاڑ دی اور ان کی ہڈیاں تک جلا ڈالیں۔

مفتی اعظم امین الحسینی (۱۸۹۳۔۱۹۷۴) ہیں جنھوں نے فلسطین کی آزادی کے لیے انگریزوں اوریہودیوں کے خلاف بھر پور جدوجہد کی۔ انگریزوں نے انھیں فلسطین سے جلاوطن کردیا۔ انھوں نے آخری دم تک فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جو بار آور نہ ہو سکی۔

حسن البنا (۱۹۰۶۔۱۹۴۹) ہیں جنھوں نے مصر میں اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد کے لیے ''اخوان المسلمون'' کے نام سے تنظیم قائم کی اوررضا کار بھرتی کیے۔ اخوان کے رضا کاروں نے فلسطین کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ برطانیہ کے دباؤ پر مصری حکومت نے ''اخوان المسلمون'' پر پابندی عائد کردی، ہزاروں کارکنوں کو قید کر لیا۔ اسی ہنگامے میں حسن البنا کو شہید کر دیا گیا۔

سید قطب شہید (۱۹۰۶۔۱۹۶۶) ہیں جو مصر میں ''اخوان المسلمون'' ہی کے بڑے رہنماؤں میں سے تھے۔ حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ۱۵ سال قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ اس دوران میں صدر جمال عبدالناصر نے انھیں وزارت تعلیم کی پیش کش کی، مگر سید قطب نے انکار کر دیا۔ ۱۹۶۶ میں انھیں حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں پھانسی سے دی گئی۔

محمد بن عبدالکریم ریفی (۱۸۸۲۔۱۹۶۳) ہیں جنھوں نے شمالی مراکش پر مسلط اسپین کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اسپین کی حکومت نے بغاوت فرو کرنے کے لیے انیس ہزار فوج بھیجی۔ عبدالکریم نے اسے زبردست شکست دے کر شمالی مراکش کو آزاد کرالیا اور وہاں جمہوریہ ریف کے نام سے نئی حکومت قائم کی۔ اس سے فرانس کو خطرہ ہوا جو مراکش کے باقی حصے پر قابض تھا۔ اس نے اسپین سے مل کر تقریباً تین لاکھ افواج پر مشتمل لشکر تیار کیا اور بہت مختصر مدت میں ریاست ریف پر قبضہ کر کے عبدالکریم کو ۲۱ سال کے لیے قید کردیا۔

ملاعمر ہیں جنھوں نے افغانستان کے حالیہ زمانۂ طوائف الملوکی میں طالبان کے ذریعے سے بزور حکومت حاصل کی۔ امریکی سپرپاور کے مطلوبہ افراد کو پناہ دے کر پورے دینی جذبے کے ساتھ امریکہ سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ وہ حکومت سے محروم ہوئے، ہزاروں صالح مسلمان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بموں کی تاخت سے افغانستان کھنڈر بن کر رہ گیا۔

یہ وہ خطوط ہیں جن پر جمال الدین افغانی، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، علامہ اقبال، ابوالاعلیٰ مودودی، ابوالحسن علی ندوی، آیت اللہ خمینی، امیر شکیب ارسلان، مصطفے حسن سباعی، رشید رضا مصری اور ڈاکٹر حسن ترابی رحمھم اللہ جیسے جلیل القدر علما نے مسلمانوں کی تربیت کی۔ یہ سب لوگ دین کے علم بردار تھے، اسلام سے بے پناہ محبت رکھتے تھے، نیک نیت اور پاکیزہ صفت تھے اور دین وملت کے بعض دوسرے پہلووں میں لافانی خدمات کے کارگزار تھے، مگر اس سب کچھ کے باوجود قومی معاملات میں غلط رہنمائی کی وجہ سے امت کے وجود اجتماعی کے لیے ضرر رسانی کا باعث ہوئے۔

یہ رجال کار اگر جذباتی ہیجان اور مثالیت پسندی سے بالاتر رہتے اور حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر امت کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے تو ان کا طرز عمل یقیناًمختلف ہوتا۔ کاش! وہ اس موقع پر مسلمانوں کو قومو ں کے عروج وزوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس غیر متبدل قانون سے روشناس کراتے کہ:

''اللہ اس انعام کو جو کسی قوم پر کرتا ہے، اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اس چیز کو نہ بدل ڈالے جس کاتعلق خود اس سے ہے۔ بے شک اللہ سننے والا اورجاننے والا ہے۔''(الانفال۸: ۵۳)

''اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے۔اور جب اللہ کسی قوم پر آفت لانے کا ارادہ کر لے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابلے میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا۔'' (الرعد ۱۳: ۱۱)

گویا قوموں کے عروج وزوال اور انعام وعقوبت کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس کا انعام قوم کے کردار اور صفات پر مبنی ہوتاہے۔ جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردار کی حامل اور مطلوبہ صفات سے متصف رہتی ہے تو وہ انعامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، بصورت دیگر وہ اس کے لیے زوال اور بربادی مقدر کر دیتے ہیں۔

____________