قومیت بطور مذہب


["نقطۂ نظر" کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

زیر نظر مضمون کارلٹن جے ایچ ہیز( ١٩٦٤ء ـ ١٨٨٢ ء (Carlton J H Hayes, کے آرٹیکل، Nationalism as a Religion" "کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن ایک امریکی مؤرخ تھا۔ ایک وقت میں وہ تصورقومیت کا حامی رہا،پھر اس کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔

قومیت کا تعارف

اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق اور عصبیت کا احساس قدیم اور فطری احساس ہے۔ لیکن یہ تصور کہ ایک خاص جغرافیہ میں رہایش پذیر انسانوں کا گروہ ایک قوم ہے، ان پر حق حکمرانی ان کے ہم قوم کو ہی حاصل ہےاور یہ ایک مقدس تصور ہے، جس کی خاطر انسانی جان سمیت کوئی بھی قربانی دی اور لی جا سکتی ہے اور دوسرے انسانوں کی جان و مال کو پامال کیا جا سکتا ہے، یہ قومیت اور قومی ریاست کا عقیدہ ہے، جس پر ایمان لانا ایک وفادار شہری کے لیے لازم تصور کیا گیا ہے۔ مغرب سے در آمد ہونے والا قومیت کا یہ سیاسی تصور ہے۔

مضمون کا متن

انسان مذہب چھوڑ سکتا ہے، لیکن مذہبی حس اس کو نہیں چھوڑتی۔ یہ مذہبی حس اعتقادات اور مقدسات کی طالب ہے جن کے لیے آدمی اپنی جان، مال اور اولاد سب قربان کر سکے۔ مذہبی اعتقادات نہ ملیں تو آدمی اپنے جیسے انسانوں کے وضع کردہ نظریات اور فلسفوں کے ساتھ ایسے ہی اعتقادات اور جذباتیت وابستہ کرلیتا ہے۔ مسیحیت نے یورپ میں آ کر قدیم مذہب کو تو بدلا، لیکن قدیم مذہبی تصورات، اعتقادات اور ان سے متعلق مقدس سمجھی جانے والی رسوم و رواج اور آداب کو اس نے اپنے اندر سمو لیا۔ اگلے مرحلے میں کیتھولزم پر پروٹسٹین ازم کے ذریعے سے اعتراضات اور اصلاحات کا دروازہ تو کھلا، لیکن فرد کی مذہبی حس میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ یہ مذہبی حس اب پروٹسٹین ازم میں منتقل ہوگئی اور وہی جذباتی وابستگیوں کے مظاہرے یہاں بھی دیکھنے کو ملے۔

اٹھارھویں صدی کے یورپ میں تشکیک کا دور دورہ ہو گیا۔ لوگوں نے مذہب کو چیلنج کر دیا۔ مسیحیت کے عقائد کو عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر رد کیا جانے لگا، مذہب کے ساتھ وابستہ اعتقادات اور عقیدتیں ماند پڑنے لگیں، لیکن اس کےمظاہر فرد سے پھر بھی جدا نہ ہوئے۔ یہ عقیدتیں اب تصور فطرت، سائنس، عقل اور انسانیت سے متعلق انسانی فلسفوں کی پجاری اور فدائی بن گئیں۔ مذہب کا رنگ ہلکا تو ہو رہا تھا، مگر مذہبی عقیدتوں کی عادت اب بھی گہری تھی جس نے اپنی تسکین کے لیے انسان ساختہ فلسفیانہ خداؤں کے ساتھ وابستگی پیدا کر لی تھی۔ ان کی تبلیغ اور دفاع میں وہی جذباتیت پائی گئی جو مذہب کے لیے پائی جاتی تھی۔

یہی وہ دور تھا جب فرد کی مذہبی حس، ریاست کے ساتھ بھی وابستہ ہوگئی۔ مذہبی عقیدوں اور عقیدتوں کا مذہب سے منتقل ہو کر انسان کے وضع کردہ فلسفوں کے ساتھ وابستہ ہو جانے کا یہ رجحان اٹھارھویں صدی کی خصوصیت ہے۔ انسان ساختہ خدا حسی تھے جن کی پوجا کرنے اور ان کی خاطر قربانیاں دینے کا نقد اور مادی فائدہ ملتا نظر آتا تھا، اپنے لیے نہیں تواپنوں کے لیے۔

انقلاب فرانس نے قومیت کو مذہب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایبے رینل (Abbe Raynal) کہتا ہے کہ ریاست، مذہب کے لیے نہیں ہے، بلکہ مذہب، ریاست کے لیے ہے۔ (غور کیجیے تو یہ ڈاکٹرائین مولانا مودودی کے فلسفۂ سیاست و حکومت کا بھی ہے۔ ان کے نزدیک بھی دین کا مطمح نظر ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ گویا ان کے ہاں بھی دین، ریاست کے قیام کا ذریعہ ہے۔ انیسویں صدی میں قومیت کا جو صور پھونکا گیا، مولانا مودودی کے ہاں وہ مذہب کے اسلوب میں ملتا ہے۔) فرانس میں کیتھولزم اور نیشنلزم کے درمیان جنگ چھڑ گئی ۔سول کانسٹیٹیوشن آف کلرجی (1790ء) پاس ہوا جس کے مطابق وہی پادری گرجے میں اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکتا تھا جو ریاست کے آئین کو تسلیم کرے۔ اس کا انکار کرنے والوں پر جبر کیا گیا اور ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ۔ قومیت کے نام پر جبر نے قومیت کو ایک مکمل مذہبی روپ دے دیا جہاں ایک فرد کو قومیت کے اس تصور کی بنا پر دوسرے انسانوں پر جبر کرنےاور اس کی جان لینے کا حق اوراختیارحاصل ہو گیا۔ 1791ء میں فرانس کا آئین منظور ہوا، جس نے اسے نہیں مانا، اسے آئین کا منکرقرار دے دیاگیا۔ آئین کے منظور ہونے کے بعد آئین کے صحیفے کو ہاتھ میں پکڑ کر سر اور سینے پر رکھ کر ایک جلوس نکالا گیاجو آئین کی تقدیس میں سرجھکائے، ادب و احترام سے آہستہ آہستہ سے چل رہا تھا، جب کہ راستے میں کھڑے دیگر افسران نے آئین کے احترام میں اپنےسروں سے ٹوپیاں اتار لیں۔ یہ مسیحی مذہبی رسوم تھیں جو اب آئین کی تقدیس کے ساتھ وابستہ کر دی گئی تھیں۔

مذہب کے ساتھ وابستہ دیگر مذہبی مظاہر، جیسے بپتسمہ دینا یا اسلام میں کلمۂ شہادت ادا کرنے کے طرز پر قومیت سے وفادار رہنے کا حلف آ گیا، اسی بنا پر کسی دوسری قومیت میں داخل کرنے کے لیے پہلے فرد سے وفاداری کا حلف لیا جاتا ہے؛ پھر مذہب سے انحراف کرنے کی جسارت کو ارتداد قرار دینے کے اصول پرقومیت سے انحراف کرنےکوغداری قرار دیا گیا، جس کی سزا، ارتداد کی سزا کی طرح موت مقرر کی گئی؛ بچے کے پیدا ہوتے ہی جیسے اس کے مذہب کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس کا باقاعدہ اندراج کرایا جاتا ہے؛ اسی طرز پر اس کی قومیت کا فیصلہ بھی پیدایش کے ساتھ ہی کر دیا جاتا ہے اور اس کا بھی اندراج کرایا جاتا ہے، چرچ اور مسجد جیسی مذہبی عمارات کے طرز پر قومی عمارتوں کی یادگاریں وجود میں لائی گئیں؛ مذہبی مظاہر کی طرح قومیت کے اظہار کے مظاہر مقرر کیے گئے،مثلاً، قومی جھنڈا اور قومی دن کی علامات مقرر کی گئیں؛ قومی مظاہر کی تقدیس کے اظہار کے لیے مذہب کی طرز پر مخصوص آداب اور اوقات بھی وضع کیے گئے، مثلاً قومی ترانہ بجتے وقت یا جھنڈا بلند کرتے وقت باادب کھڑا ہونا، سیلیوٹ کرنا، سینے پر ہاتھ رکھنا؛ مذہبی تہواروں کی طرح قومی دن منانے کی رسم کی طرح بھی ڈالی گئی؛ مذہب کی مقدس ہستیوں، رسولوں اور انبیا اور مذہبی بزرگوں کی طرح قومی ہیرو ز کی تقدیس اور احترام فرد پر واجب قرار دے دیا گیا جن پر تنقید بھی توہین قرار پائی؛ خدا کی حمد کی جگہ قومی ترانے اور حج جیسی مرکزی مذہبی رسم کے طرز پر قومی اجتماعات اور ان کے لیے مخصوص دن مقرر کیے گئے؛ مذہبی شعار کی بے حرمتی کے تصور کی بنیاد پر قومی شعار کی بے حرمتی بھی توہین کی طرح سخت قابل سزا جرم قرار پایا؛ مذہبی خطبات کی جگہ قومی خطبات نے لے لی جو سیاسی اور فوجی زعما دیتے اور مذہبی خطبا کی طرح ہی عقل و منطق سے ہٹ کر محض جذبات کی اپیل کر کےلوگوں کا خون گرماتے ہیں۔ یوں قومیت اپنے تمام تر اعتقادات اور رسوم کے ساتھ ایک مکمل مذہب بن گئی۔

پوری ریاست قومیت کے خدا کی عبادت گاہ ہے، مسجد جس میں غیر قوم کے لوگ مسلمانوں کی اجازت کے بنا داخل نہیں ہو سکتے، اسی طرح دوسری قوم کے لوگ دوسرے قومی خدا کے پیروکار ہیں، جو کسی دوسرے ملک میں ان لوگوں کی اجازت کے بنا اس میں داخل نہیں ہو سکتے۔ یہ دوسری قومیت کے لوگ غیر ہیں جن کو اپنے قومی خدا کے چرنوں میں قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

قومیت کا مذہب نہ صرف عقیدت اور ایمان، بلکہ عقل و تصورات کو بھی اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ عقل عیار اس کے لیے تاویلات گھڑتی ہے، ایسے ہی جیسے مذہبی متکلمین مذہب کا دفاع کرنے کے لیے عقلی دلائل تلاشتے اور تراشتے ہیں۔

قومیت کے خدا کے ساتھ لوگ ایک رفاقت اور سرشاری محسوس کرتے ہیں، اسے اپنا محافظ سمجھتے ہیں، اس کو داتا اور رحم کرنے والا سمجھتے ہیں، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہمارے ہاں"دھرتی ماں" اور" ریاست ہو گی ماں کے جیسی" جیسے تصورات اسی کا نتیجہ ہیں۔ ریاست کو مونث خدا سمجھنے کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ برصغیر میں خدا کے تصور میں دیویوں کا تصور قدیم سے موجود رہا ہے۔ قومی ریاست کی سرحدوں کی ابدیت کا تصور بھی مذہب قومیت کے اسی تصور کا ایک خاصہ ہے۔

مزید یہ کہ مذہبی کتاب کی جگہ آئین نے لے لی۔ تقدیس میں اس کا درجہ وہی ہے جو قرآن یا بائیبل کا ہے۔ اس میں قومیت کی تعریف اور تعیین درج کر دی جاتی ہے اور اس کے معیار پر افراد کو ریاست کا کافر یا مومن تصور کیا جاتا ہے۔ آئین کے فہم میں باہم اختلاف بھی ہو جاتا ہے، ایسے ہی جیسے قران مجید یا بائیبل کے متن کے فہم میں ہو جاتا ہے، لیکن اس کی تقدیس اٹل اور متفقہ ہی سمجھی جاتی ہے۔

قومیت کی خاطر جان دینا اتنا ہی مقدس فرض باور کرایا جاتا ہے، جتنا مذہب کی خاطر اور مرنے والے کو شہادت کا درجہ بھی مذہب سے ہی لے کر دیا گیا ہے۔

قومیت کے بت کی تقدیس کو قائم رکھنے کے لیے قوم کی تاریخ کو بھی تقدس کا لبادہ پہنایا جاتا ہے۔ قومی کوتاہیوں کو منہا کر کے تاریخ ایسے انداز میں پڑھائی جاتی ہے کہ وہ معصوم ہستیو ں کی تاریخ کی طرح خطا سے پاک مقدس تاریخ بن جاتی ہے، جس پر ایمان لانا لازم ہوتا ہے اور اس پر سوال اٹھانا کفر کی طرح غداری سمجھا جاتا ہے۔ نیز، عوامی شہرت رکھنے والی غیر مستند مذہبی روایات کی طرح ہی قومی روحانی غیر مستند روایات بھی گھڑی جاتی ہیں جنھیں عوام میں پھیلایا جاتا ہے، بلکہ خواب و مکاشفات کی پوری دیو مالا اس کے لیے مرتب کی جاتی ہے۔

اسکولوں کالجوں کی نصاب سازی بھی تصور قومیت کے نقطۂ نظر سے کی جاتی ہے کہ کوئی ایسے حقائق اس میں شامل نہ ہوں جو قومیت کے مذہب یا اپنی قومیت کی تقدیس پر فرد کے ایمان کو متزلزل کر دے۔ قومی حق حکمرانی کے قیام اور اس کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینے، اس کی بنیاد پر اپنی جان دینے اور دوسروں کی جان لینے کو قومی بیانیے کے طور پر بچپن سے ہی بچوں کے اذہان میں ڈالا جاتا ہے اور اس طرح ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ میڈیا اور صحافت کو اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ قومیت کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتے، ورنہ سزا اور جرمانہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

قومیت کے مذہب کا یہ کارنامہ ہے کہ بغیر کسی ما بعد الطبیعیاتی تصور اور آخرت میں ابدی انعامات کے حصول کی یقین دہانی کے لیے فرد کو اپنی جان محض قومی تفاخر کے اظہار کے لیے قربان کر دینے پر راضی کر لیتی ہے۔ یہاں، اسلام کا نقطۂ نظر پیش کرنا برمحل معلوم ہوتا ہے۔ قومیت اعلیٰ آفاقی اخلاقیات سے عاری ہے جو درحقیقت عصبیت کی ہی شکل ہے۔قومیت، عصبیت کی طرح حق و ناحق نہیں دیکھتی ، بلکہ ہر حال میں اپنی قوم کا ساتھ دینے کو فرض قرار دیتی ہے۔ دین نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے:

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰ٘ي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَﵐ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰي بِهِمَاﵴ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰ٘ي اَنْ تَعْدِلُوْاﵐ وَاِنْ تَلْوٗ٘ا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا.(النساء ۴: ۱۳۵)

"ایمان والو، انصاف پر قائم رہو، اللہ کے لیے اُس کی گواہی دیتے ہوئے، اگرچہ یہ گواہی خود تمھاری ذات، تمھارے ماں باپ اور تمھارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ امیر ہو یا غریب، اللہ ہی دونوں کا زیادہ حق دار ہے(کہ اُس کے قانون کی پابندی کی جائے)۔ اِس لیے (اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر) تم خواہشوں کی پیروی نہ کرو کہ اِس کے نتیجے میں حق سے ہٹ جاؤ اور (یاد رکھو کہ) اگر (حق و انصاف کی بات کو) بگاڑنے یا (اُس سے) پہلو بچانے کی کوشش کرو گےتواُس کی سزا لازماً پاؤ گے، اِس لیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس سلسلے میں یہ ہیں:

" ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ کوئی مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے ،کوئی شہرت اور نام وری کے لیے لڑتا ہے،کوئی اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، فرمائیے کہ ان میں سے کس کی لڑائی اللہ کی راہ میں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ کی راہ میں لڑائی تو صرف اس کی ہے جو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں اترے۔ "(بخاری، رقم 2810)

"وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی، وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی حالت میں مرگیا۔" (ابوداوٴد، رقم ۵۱۲۱۔ مشکوٰة ،رقم ۴۹۰۷)

"جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔" (ابوداوٴد ، رقم ۵۱۱۷۔ مشکوٰة، رقم ۴۹۰۴)

اس تصور قومیت کی تشکیل کے بعد سے لوگ میدان جنگ میں قومیت کے بت پر مسلسل قربان ہو رہے ہیں اور دوسرے انسانوں کومحض اس وجہ سے نفرت یا حقارت سے دیکھتے ہیں کہ وہ ان کے ہم قوم نہیں ہیں۔ محض اس بنا پر اپنے ملک کی کم معیاری یا غیر معیاری اشیا اور ادویات خرید لیتے ہیں کہ اس سے ان کی قومیت کا اظہار ہوتا ہے۔

قومیت ایک ایسا مذہب ہے کہ الہامی مذاہب کو ماننے والوں کے درمیان یا ایک الہامی مذہب کے مختلف فرقوں کے درمیان اگر نفرت اور چپقلش بھی پائی جاتی ہوتو قومیت کے مذہب میں آ کر وہ سب متحد ہو جاتے ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ قومیت اپنی نہایت میں اپنے اندر آفاقیت نہیں رکھتا۔ یہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور انسانوں کے درمیان تفاخر، نفرت اور حقارت کا بیانیہ ہے۔

قومیت بطور مذہب کشادہ دلی یا عدل کا کوئی تصور پیدا نہیں کرتی۔ یہ مغرورہے، متواضع نہیں۔ یہ انسانی اہداف کو عالم گیر نہیں ہونے دیتی۔ یہ کہتی ہے کہ دنیا میں بس یہود یا یونانی ہونے چاہییں، فرق صرف یہ ہے کہ یہ مختلف قسم کے یہودی اور یونانی اب ہرجگہ موجود ہیں۔ قومی ریاست قبائلی عصبیت کا دوسرا نام ہے جس میں خودغرضی، خاص طرح کی جہالت اور جابر قسم کا عدم برداشت اور جنگی رجحان پایا جاتا ہے۔ قومیت امن نہیں جنگ کی خوگر ہے اور ہم اس سے آگے دیکھنے کی تجویز آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

____________