قرآن میں تقویتِ دلالت کا اضافی اہتمام (1/2)


عام بول چال کی دلالت میں قطعیت بالعموم مانی جاتی ہے ۔ روزوشب کی ہماری گفتگو میں ابلاغ مدعا کے مسائل کم ہی پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ ہماری یہ گفتگو زیادہ تر مادی امور سے متعلق ہوتی ہے ۔ گرچہ ہم وہاں بھی مجاز، کنایے اور معنویت پر مبنی اسالیب کو استعمال کرتے ہیں، مگر وہ حالات کے اندر اس طرح گُدے ہوئے ہوتے ہیں کہ باتیں اور ان کی دلالتیں واضح او ردو ٹوک ہوتی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے کلام الٰہی بھی وقت کی ضرورتوں کے لحاظ سے نازل ہوتا رہا۔

لیکن اپنے حالات سے جدا ہو کرکلام جب ماثور ہوجائے تو اس کی قوتِ دلالت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے ظنی اور بعض اسے کاملاً سامع کے فہم پر منحصر مانتے، اور سخن ور (author) کو کلام سے خارج مانتے ہیں۔ لیکن یہ واضح رہے کہ یہ انسانی فطرت کا عجیب مظہر ہے کہ انسان کا ملکۂ اظہار مختلف صورتوں میں مختلف طریقے سے بات کرتا ہے۔ پس منظر سے واقف سامعین سے بات ہو تو ہم ضروری بات بتانے پر اکتفا کرتے ہیں، ناواقف سے معاملہ ہو تو تفصیلات بڑھا دیتے ہیں۔درحدیث دیگراں بات جتانی ہو توہم ایسی معلومات کلام میں لے آتے ہیں کہ سامع کو کان ہو جائیں ۔خطوط تفصیلات وانداز میں روز مرہ کی گفتگو سے مختلف ہوتے ہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر ہم ابلاغ مدعا کے لیے ہزار جتن کرتے ہیں۔ہم صاف لفظوں میں بات نہ کہنا چاہیں تب بھی، اورصاف لفظوں میں کہنا چاہیں تب بھی اتنی قوتِ اظہار رکھتے ہیں کہ ابلاغ کردیتے ہیں۔ ہماری اس صلاحیت کو اللہ تعالیٰ نے بیان کا نام دیا ہے نہ کہ صرف زبان کا۔

بولتے یا لکھتے وقت جب غیر معین سامع کا لحاظ بھی ہو تو ہماری قوتِ بیان ایسے تمام قرائن زیبِ کلام کردیتی ہے کہ حاضر سامع کے ساتھ غیر معین سامع بھی ہمارا مدعا پا سکے۔ لہٰذا ابلاغ کے لیے لکھا گیا ہرکلام اپنی دلالت میں واضح ہوتا ہے۔ ان کلاموں کو باعتبارِ وضوح قطعیت یا اس سے کم درجوں میں رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ انسان کی قوتِ بیان کا فرق اور خطا و نسیان کلام کو قطعیت کے درجے سے نیچے گراسکتے ہیں۔

ہمارا یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان ابلاغِ مدعا میں عموماً کامیاب رہتا ہے ۔لیکن جدید ماہرینِ لسان اس سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں زبان ابلاغ مدعا کے لیے ناقص ذریعہ ہے۔ لیکن یہ نظریہ انسانی تاریخ کے مطالعہ میں درست ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ حقیقتِ واقعہ ہے کہ انسانی تاریخ ہمارے علوم واخبار کے نسل در نسل انتقال و حصول کا نام ہے۔واضح ہے کہ ان علوم کا ابلاغ محض لسانی پیراے ہی میں ہوتا آیاہے۔ یہ عمل ''نقص بیانی'' کے باوجود ہوتا آرہا ہے،یہاں تک کہ ہمارا قافلۂ علم وعرفان بہت دو ر تک نکل آیا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ مزعومہ ''نقص بیانی'' بھی ابلاغِ معنی میں رکاوٹ نہیں بنی۔ تاریخ نے یہ عجیب منظر بارہا دیکھا ہے جو منظر فکر یونان کے عربی تراجم کے وقت ہوا کہ ایک فلسفہ ناآشنا قوم محض تراجم کی بنیاد پر نہ صرف فلسفہ آشنا بن جاتی ہے، بلکہ اس کی ترویج و ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ پھر عرب قوم جب اس فکرکو مغرب کے حوالے کرتی ہے توپھر زبان ہی کے ذریعے سے یہ عمل ہوتا ہے۔ لہٰذا، جب انسان اتنے دقیق اور اتنے مشکل تصورا ت کو بیان کرسکتا اور دوسروں سے اسے حاصل کرسکتا ہے تو یہ عمل زبان کی دلالت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ یہ عمل قبل از تاریخ سے ہوتا آرہا ہے، اور آج تک جاری ہے۔ زبانوں نے کئی روپ بدلے ، کئی زبانیں مرچکیں، کئی نئی پیدا ہورہی ہیں، لیکن ابلاغ کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ہم آج بھی ارسطو و فلاطون کے حوالے دیتے اور ابراہیم ونوح (علیہما السلام) کی باتیں سمجھ سکتے ہیں۔ ازمنہ قدیم میں لکھی ان کی باتوں کو سمجھ لیتے ہیں۔

ہمارے خیال میں ہرکلام اپنی دلالت میں واضح و دوٹوک ہوتا ہے ۔قرآن مجید ان سب کلاموں سے بڑھ کر دلالت میں واضح ہے — میں عقیدۃً نہیں کہہ رہا — بلکہ لسانی پہلو ہی سے کہہ رہا ہوں۔ قرآن مجید میں — عام کلاموں کے برعکس — کچھ ایسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں، جو اسے دلالت میں کہیں بڑھ کر قطعیت عطا کردیتی ہیں۔ ہم بات میں آسانی کے لیے ان چیزوں کو ادواتِ ۱؂ ابلاغ کا نام دے لیتے ہیں۔

زبان کا چناؤ

قرآن کا فرمان ہے:

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ.(یوسف ۱۲: ۲)

''ہم نے اس کتابِ الٰہی کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ یہ اسے سمجھ سکیں۔''

اللہ تعالیٰ نے انسانی زبانوں میں سے بالعموم اور اولادِ ابراہیم کی زبانوں میں سے بالخصوص عربی زبان ۲؂ کو چنا ہے، جو دیگر زبانوں کی نسبت تعددِ احتمالات کو رد کرنے کی کچھ زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔غالبًا عربوں کواپنی زبان کی اسی خوبی کا شعور تھا، جس کی وجہ سے وہ باقی اقوام کو عجمی (بولنے میں لکنت والا) کہتے تھے۔ ردِ احتمالات کے باب میں عربی میں بہت سی خوبیاں ہیں، جو اسے باقی زبانوں سے ممتاز کرتی ہیں۔چند ایک ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔

اعراب

یہ عربی زبان کی ایک خوبی ہے ، جو ردِ احتمال میں مددگارہے۔ عربی میں الفاظ پر نحو (grammar) کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ مثلاً اردوکے جملوں: — ''میں نے پانی پیا''، اور ''پانی بہ گیا'' — میں پانی پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ جب کہ عربی میں دیکھیے 'شربتُ الماءَ' اور 'سال الماءُُ' میں اعراب کس طرح 'الماء' پر ظاہرہوئے ہیں۔ ان اعراب کی بنیاد پر کلمات کی نحوی حالتوں کی پہچان میں عربی زبان سب سے زیادہ معاون ہے۔اعراب بہت سے مواقع پر رد احتمالات میں مدد گار ہوتے ہیں۔

مفصل صیغے

عربی زبان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس میں مذکر مؤنث، واحد جمع اور تثنیہ وغیرہ کے لیے ضمائر، اسماء اور افعال کے بہت زیادہ صیغے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً اس میں افعال کے چودہ اور ضمائر کے بارہ صیغے بنتے ہیں وغیرہ۔ اس قدر صیغوں کی موجودگی کی وجہ سے کلام میں فاعل ومفعول ضمائر کے مراجع وغیرہ کے تعین میں باقی زبانوں کے مقابلے میں زیادہ مدد ملتی ہے۔مثلاً، 'ہُم' کی ضمیرذوی العقول کے لیے بولی جاتی ہے۔ سورۂ بقرہ میں 'عَرَضَہُمْ' (۲: ۳۱) میں ضمیر 'ہُم' بولی گئی ہے، لیکن یہاں اس کا مرجع 'الْاَسْمَآء' ہے، جو کہ غیر ذوی العقول میں سے ہے۔جس کے لیے 'ہُم' کی ضمیر مناسب نہیں ہے ، سوائے اس کے کہ 'الْاَسْمَآء' بول کر ان کے ذوی العقول مسمی مراد ہوں۔ چنانچہ ہم محض اس ضمیر کی وجہ سے وہ تفسیر رد کرسکتے ہیں کہ جو 'الْاَسْمَآء' سے غیر ذوی العقول اشیا کے نام مراد لیتی ہے۔ لہٰذا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عربی ضمائرو اسماء کسی بھی زبان کے مقابلے میں تعین مدعا میں زیادہ مدد گار ہیں۔

قراء ت

عربی کو چننے کے بعد، ردِ احتمالات کے لیے قرآن کایہ دوسرا اضافی اہتمام ہے، جو عربی کے خصائص ہی کی وجہ سے ممکن ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے صرف لکھا ہوا کلام ہی نازل نہیں کیا، بلکہ اسے جبریل علیہ السلام کی زبانی قراء ت بھی کرایا گیا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ. فَاِذَا قَرَاْنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ. ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ.(القیامہ ۷۵: ۱۷۔۱۹)

''اس کا جمع کرنا اور قراء ت کرنا، سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لیے جب ہم اس کی قراء ت کریں تو اس کی اس قراء ت کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمے ہے کہ ہم اس کی وضاحت کر دیں۔''

قراء ت تمام زبانوں میں اہمیت رکھتی ہے، لیکن عربی زبان میں اس کی اضافی اہمیت ہر عربی شناس جانتا ہے۔ مثلاً 'ذہبت' کا صیغہ واحد متکلم، واحد مؤنث غائب، واحد مذکر مخاطب، واحد مؤنث مخاطب کے لیے یکساں احتمال رکھتا ہے۔اب اگر اس کی قراء ت کردی جائے احتمالات ختم ہو جائیں گے۔اگرچہ سیاق وسباق بھی ممد و معاون ہوتا ہے،لیکن بعض مقامات پر سیاق وسباق مدد گار نہیں ہوتا،وہاں احتمالات کو قراء ت کی مدد سے زائل کردیا جاتا ہے۔

اس کی سب سے واضح مثال آیتِ وضو میں 'اَرْجُلکُم' کے الفاظ ہیں۔اگر قراء ت موجود نہ ہو تو سیاق و سباق کی مدد سے واضح رجحان 'اَرْجُل' کے مجرور، یعنی 'اَرْجُلِکُم' ہونے کا بنتا ہے۔ لیکن معلوم ہے کہ متواتر قراء ت میں اسے منصوب 'اَرْجُلَکُم' پڑھا گیا ہے۔ اس قراء ت کی تائید سنتِ متواتر ہ میں عمل وضو سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر قراء ت نہ کی جاتی تو ہرقاری کے لیے یہ احتمالات موجود رہتے، جنھیں قراء ت نے ختم کردیا ہے۔ یا فقہا یہ کہنے پر مجبور ہوتے کہ سنت نے تخصیص کردی ہے۔یوں احتمالات کی تردید کے لیے قراء ت بھی ادواتِ ابلاغ میں سے ایک اہم چیز ہے۔

قراء ت کی اسی اہمیت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ قراء ت کرنے کا پورا اہتمام کیا گیا، بلکہ اسے محفوظ کرنے کا بھی پورا بندوبست کیا گیا ۔ سورۂ قیامہ کی مذکورہ بالا آیات (۷۵: ۱۷۔۱۸) میں اس اہتمام کو بیان کیا گیا ہے۔ قراء ت کی یہی اہمیت ہے جس کی وجہ سے صحابہ نے بھی جب قرآن کے نسخے تیار کیے تو ساتھ حفاظ بھی بھیجے تاکہ وہ اعراب و حرکات کو صحیح صحیح پڑھ کر طلبہ کو سکھائیں۔ اسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حجاج بن یوسف نے قراء ت کو محفوظ کرنے کے لیے اعراب ایجاد کیے۳؂ اور قرآن کے متن پر ثبت کردیے تاکہ قراء ت تحریر میں بھی محفوظ ہو جائے، اور حفاظ معلمین کے بغیر بھی سیکھی جا سکے۔ اس لیے ان علما کی بات درست نہیں ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کا متن متواتر ہے، اوراس کی قراء ت قاری (reader) پر چھوڑدی گئی ہے۔قراء ت بس وہی مانی جائے گی جو جبریل امین نے حکم الٰہی سے نبی صادق و امین کو سکھائی اور انھوں نے امت کے حفاظِ قرآن کے ذریعے سے تواتر کے حوالے کردی تاکہ تاقیامت حجت قائم کرتی رہے۔

چنانچہ احتمالات کے رد کے لیے اللہ علیم و خبیر نے پہلا کام تو یہ کیا کہ عربی کو اظہارِ مدعا کے لیے چنا۔ دوسرا کام یہ کیا کہ قراء ت کے ذریعے سے تلفظِ الٰہی کو منتقل کیا۔ بعد ازاں یہ تلفظِ الٰہی بہ اہتمام محفوظ کردیا گیا۔پھر صحابہ اور تابعین کو توفیق بخشی کہ وہ ان دونوں کو محفوظ کرنے میں جتے رہے، یہاں تک کہ متن، اعراب اور حرکات بالحفظ اور بالقلم محفوظ کردیے گئے تاکہ اس راہ سے آنے والے احتمالات قراء تِ متواترہ سے زائل کردیے جائیں۔

لسانِ مبین

دلالت کی قوت میں اضافے کے لیے یہ قرآن کا اگلا اہتمام ہے ۔قرآن مجیدکا فرمان ہے:

نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ. عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ. بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ.(الشعراء ۲۶:۱۹۳۔۱۹۵)

''اِسے تمھارے دل پرروح الامین لے کر اترا ہے تاکہ تم بھی خبردار کرنے والے بنو۔ واضح عربی زبان میں۔''

قرآن کے اپنے بیانات کے مطابق یہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ عربی مبین کے معنی واضح زبان کے ہیں۔ہر زبان کی کئی سطحیں ہوتی ہیں۔ مثلاً مغلق، مشکل اور آسان۔اسی طرح کم مستعمل زبان اور عام مستعمل زبان۔کم مستعمل زبان کی مثالیں ہمیں ''مقامات حریری'' وغیرہ کی صورت میں ملتی ہیں، جن کو سمجھنے کے لیے بسا اوقات اہل زبان کو بھی لغات (ڈکشنری) کا سہارا لینا پڑتا ہے۔زبان کی ایک وہ سطح ہوتی ہے جسے ہم روز مرہ کی زبان کہہ سکتے ہیں۔ یہ سہل اور صبح وشام کے استعمال کی زبان ہوتی ہے۔ زبان کے اس دائرے میں الفاظ، گرامر، محاورے، جملے ، تراکیب، امثال اتنی معلوم و معروف ہوتی ہیں کہ اہل زبان بغیر کسی دقت کے سمجھ لیتے ہیں۔

اس معلوم و معروف زبان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک بازاری اور دوسرے شایستہ و مہذب۔یہ دونوں اگرچہ مبین ہوتی ہیں، لیکن بازاری زبان کا شرفاکے ہاں چلن نہیں ہوتا، اس لیے ایک طبقہ اس سے ناواقف ہوتا ہے۔البتہ جو شرفا کی زبان ہے، اس کا چلن ہر گھر ، گلی، محلے بیٹھک اور چوپال میں ہوتا ہے۔قرآن مجید نے اسی دائرے کی زبان کو اپنے ابلاغ مدعا کے لیے چنا۔اس زبان میں اعلیٰ مضامین بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔لیکن قرآن نے اس زبان کو اعلیٰ تر مضامین کے لیے سہل ممتنع ۴؂ اسلوب میں برتا ہے ۔

چنانچہ قرآنی زبان کے مفردات، مرکبات، جملے، اسالیب ، محاورے، استعارے و کنایے اس قدر معروف و معلوم تھے کہ سب کے لیے آسان اور سریع المفہوم تھے۔ زبان کے اس دائرے میں شاذ اور غریب الفاظ کا گزر ہوتا ہی نہیں ہے۔اس لیے ان کے معنی کو پانے کے لیے اہل زبان کو ذرا دقت نہیں ہوتی۔ نہ اس کلام میں کوئی انیچ پینچ ہوتی ہے۵؂ اور نہ قاری کو اس کے مدعا کو پانے کے لیے کوئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔۶؂ یہی زبان اپنے تمام اجزا کے ساتھ اہل زبان کے ہاں متواترات کا حصہ ہوتی ہے،زبان کا یہ حصہ بالعموم صدیوں تک متروک نہیں ہوتا۔اس کے مفردات و اسالیب مسلسل استعمال کی وجہ سے — زبان کی زندگی میں — کبھی شناسائی سے محروم نہیں ہوتے ۔ اس کی اسی خوبی کی وجہ سے اس زبان میں کہا گیا کلام ہمیشہ زیادہ قابل فہم ہوتا ہے۔ایسی زبان اپنے متواتر استعمالات کی معاشرے میں موجودگی کی وجہ سے احتمالات کے وجود ہی میں آنے سے روک دیتی ہے۔اگر کہیں احتمال پیدا بھی ہو جائے تو محض تنبہ ہی کافی ہوتا ہے۔

یک معیاری زبان

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیۡنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا.(مریم ۱۹: ۹۷)

''سو، (اے پیغمبر)، ہم نے اِس قرآن کو تمھاری زبان میں اِسی لیے سہل اور موزوں بنا دیا ہے کہ تم اُن لوگوں کو اِس کے ذریعے سے بشارت دو جو خدا سے ڈرنے والے ہیں اور اِن ہٹ دھرم لوگوں کو اِس کے ذریعے سے خبردار کر دو۔''

لسان مبین میں لکھے گئے کلام میں بھی احتمالات پیدا ہو سکتے ہیں، اگر وہ متعدد علاقائی لہجوں کا مجموعہ ہو، اور معلوم نہ ہو سکے کہ متکلم نے کس جملے میں کس علاقے کے محاورے اور لہجے میں بات کی ہے۔ مثلاً ہماری اردو میں دہلوی ، لکھنوی اور پنجابی لہجے ہیں۔ انگریزی میں برطانوی اور امریکی لہجے ہیں۔اگر کوئی مصنف بغیر کسی امتیاز کے امریکی اور برطانوی لہجوں کو برابر استعمال کرتا جائے تو سوال پیدا ہو جائے گا کہ اس جملے میں لفظ برطانوی معنی میں آیا ہے یا امریکی معنی میں؟ مثلاً امریکیوں کا لفظ hood لباس بھی ہے اور گاڑی کا بونٹ بھی۔ جب کہ برطانیہ میں ایسا نہیں ہے، وہاں لباس تو ہے، مگر بونٹ اس کے معنی میں نہیں آتا۔چنانچہ اگر کوئی مصنف امریکی اور برطانوی لہجوں کو بلاامتیاز استعمال کرتا جائے تو کئی مقامات پر احتمالات کو زائل کرنا، ناممکن ہو جائے گا۔ہم نہیں جان سکیں گے کہ یہاں لفظ برطانوی معنی میں آیا ہے یا امریکی میں۔ کہتے ہیں کہ چرچل کے لیے اپنے برطانوی اتحادیوں کے ساتھ میٹنگ میں ایک فعل ''to table'' غلط فہمی کا باعث بن گیا تھا۔امریکی لہجے میں اس کا مطلب تھا، ایجنڈے سے کسی آئٹم کو ملتوی کر دیا جائے، جب کہ برطانوی انگریزی میں اس کا مطلب تھا کہ اب اس نقطے کو میز پر، یعنی گفتگو میں لایا جائے۔

عربی زبان بولنے والوں کے بھی کئی علاقے اور لہجے تھے۔ ہر علاقے کے الفاظ اور عربی اسالیب و محاورات کا فرق آجاتا تھا۔ جس سے کلام میں احتمالات کا امکان نہ صرف بڑھ جاتا ہے، بلکہ بسا اوقات ان کا زائل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اسی لیے قرآن مجید نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ قرآن صرف ایک لہجے میں اترا ہے۔ دیگر عربی لہجوں کا اس میں دخل نہیں ہے: یعنی 'یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ'۔ قرآن میں 'سٰمِدُوْنَ' کا لفظ آیا ہے۔ ۷؂ کہا جاتا ہے کہ حمیری زبان میں اس کے معنی گانے والوں کے تھے(تفسیر مجاہد سورۂ نجم آیت۶۱)۔ اب اس مقام کو نکالیے تو اگر ہم دونوں عربی لہجوں کا اعتبار کریں تو ہمارے پاس پیدا ہونے والے احتمالات میں سے ایک طے کرنے کے لیے شاید کوئی واضح قرینہ نہ ملے۔قرآن کا فرمان ہے:

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ. وَتَضْحَکُوْنَ وَلَا تَبْکُوْنَ. وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ. فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا.(النجم ۵۳: ۵۹۔۶۲)

اگرچہ 'سٰمِدُوْنَ' کو یہاں گانے والوں کے معنی میں لینا مضمون سے مطابقت نہیں رکھتا،اکھڑا اکھڑا سا لگتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس ذوق کے سوا کوئی ظاہری قرینہ نہیں ہے۔اب فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ قرآن قریش کی زبان — جو نبی اکرم کی زبان ہے — میں اترا ہے۔ تو اس زبان میں 'سٰمِدُوْنَ' کے جو معنی ہیں یہاں وہی مراد ہوں گے ۔ قرآن کی واضح نص ہے کہ قرآن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عربی میں اترا ہے نہ کہ حمیری وغیرہ میں۔قرآن کے الفاظ میں یہ بات یوں کہی گئی ہے: 'فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ' ''ہم نے تو بس ''اس (لیے قرآن) کو تمھاری زبان میں میسر کیا ہے کہ یہ(خوب) یاددہانی حاصل کرسکیں'' (الدخان ۴۴: ۵۸) ۔ قرآن اسی ایک زبان میں اترا ہے، اس لیے دوسرے لہجوں سے پیدا ہونے والے احتمالات صرف اسی بات سے مرجوح قرار پاجائیں گے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان نہیں ہے۔ یوں قرآن کا ایک لسانی لہجہ مقرر کرنا، بہت احتمالات کو رد کردیتا ہے، جو مفسرین نے اختیار کررکھے ہیں۔

اس لیے قریشی نحو وصرف، لغات اور بلاغت و فصاحت قرآن کے مفاہیم میں رد احتمالا ت کا ذریعہ ہو گی۔ خلافتِ راشدہ میں صحابہ کا طرزِ عمل اس کی واضح تائید کرتا ہے۔ مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے 'التابوت' کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ 'التابوہ' ہے یا 'التابوت' تو انھوں نے کہا کہ 'التابوت' صحیح ہے۔ اس لیے کہ قریشی لہجے کے مطابق یہ 'التابوت'، اس لیے مانا جائے گا کہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے (المقنع فی رسم مصاحف الأمصار ص ۱۵)۔

________

۱؂ 'أداۃ' کی جمع، یعنی آلہtool۔

۲؂ کوئی شخص یہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ عربی تو انسانی زبان ہے۔ جی ہاں، ایسا ہی ہے، لیکن خدا نے انسانی زبانوں میں سے عربی کا چناؤ کیا ہے، جب کہ ہم چناؤ نہیں کرتے۔ ہم آپ تو کسی زبان کے وطن میں پیدا ہوتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب کے لیے باقی تمام زبانیں چھوڑ کراسے چنا ہے۔

۳؂ بعض مسلمان اور مستشرقین یہ خیال کرلیتے ہیں کہ اعراب لگانا شاید متنِ قرآن میں تبدیلی ہے۔ واضح رہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اعراب کی دو قسمیں ہیں: ایک حرکات جو لفظ کے تلفظ سے متعلق ہیں، مثلاً میں گھر گیا۔ اس میں لفظ 'گھر' کے گاف پر زیر اور زبر پڑھنے سے معنی بدل جائیں گے۔یہ حرکات ہیں، یہ بھی معنی پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس جملے کا سیاق و سباق اگر مدد نہ کرتا ہو، تو ہمیں تلفظ، یعنی قراء ت سے مدد ملے گی کہ بولنے والے نے گھَر بولا ہے یا گھِر بولا ہے۔ اعراب کی دوسری قسم کو اعراب ہی کہا جاتاہے، جو نحو (grammar) کی وجہ سے آتے ہیں۔ مثلاً ''لڑکا آیا''، ''لڑکے نے کھایا''۔ ان دونوں جملوں میں ''لڑکا'' اور ''لڑکے'' کے آخر پر الف اور یے نحو کی وجہ سے آئے ہیں۔ عربی میں یہ اعراب حروف سے بھی ظاہر ہوتے ہیں، جیسے 'ضربت عابدًا جالسًا' میں 'عابد' اور 'جالس' کے آخری الف سے ہوا ہے، لیکن بالعموم اسے زیر، زبر اور پیش کی آوازوں سے بتایا جاتا ہے جیسے 'ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِہِمْ' میں ہوا۔

حرکاتِ تلفظ اور نحوی اعراب کلام کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ان کے ردو بدل سے معنی میں فرق آجاتا ہے۔دونوں کے پڑھنے میں اختلاف ہو سکتا ہے۔مثلاً اوپر ہم نے 'اَرْجُلَکُم' کی مثال دی تھی۔ لہٰذا، متکلم کے منشا کے مطابق صحیح پڑھنے کے لیے قراء ت کا سہارا لیا جانا ضروری ہے۔ اسی قراء ت کی روشنی میں حجاج بن یوسف نے اعراب اور حرکات، دونوں حفاظ کے حفظ کی روشنی میں لگوائے، کوئی اضافہ نہیں کیا۔ مثلاً ''میں گھر گیا'' جملے کو جیسا بولنے والے نے بولا، اس پر اعراب لگا دیے۔ جیسے: مِیْںْ گَھرْ گِیَا۔ اسی طرح ،انگریزی کے but اور put کے b پر اگر زبر اور p پر پیش لگا دیا جائے تو یہ کوئی متن میں تبدیلی نہیں ہو گی، جیسے butَ اور putُ۔

۴؂ شعر اتنا آسان کہہ دینا کہ اس سے آسان کہنا ممتنع، یعنی ناممکن ہو۔ درج ذیل شعر اس کی مثال بن سکتا ہے:

دل کو تھاما، اس کا دامن تھام کے میرے دونوں ہاتھ نکلے کام کے

۵؂ الزمر ۳۹: ۲۸۔ 'قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ'۔

۶؂ الزمر ۳۹: ۲۸ ۔

۷؂ النجم۵۳: ۶۱۔

____________

قرآن میں تقویتِ دلالت کا اضافی اہتمام (2/2)