قرآن و سنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱) (1/2)


ساتویں صدی عیسوی میں جزیرۂ عرب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کی فراہمی کا جو طریقہ اختیار کیا گیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب کے ساتھ ساتھ اللہ کے رسول بھی اپنے قول وعمل کے ذریعے سے اہل ایمان کی رہنمائی فرما رہے تھے۔ اپنی اس منصبی حیثیت میں آپ کو اہل ایمان کے لیے دینی ہدایات واحکام مقرر کرنے کا مستقل اختیار حاصل تھا اور اہل ایمان سے کتاب الہٰی اور پیغمبر، دونوں کی اطاعت کسی امتیاز کے بغیر یکساں مطلوب تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ٘ا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْﵐ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَي اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِﵧ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا.(النساء ۴ :۵۹)''اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی بھی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول اور ان لوگوں کی بھی اطاعت کرو جو تم میں سے صاحب اختیار ہوں۔ پھر اگر تمھارا کسی معاملے میں باہم تنازع ہو جائے تو اسے (فیصلے کے لیے) اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ ، اگر تم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر بھی ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا بھی۔''
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَﵐ وَمَنْ تَوَلّٰي فَمَا٘ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا. (النساء۴: ۸۰)''جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمھیں ایسے لوگوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔''

اس کے ساتھ قرآن مجید میں یہ بات بھی اتنی ہی وضاحت کے ساتھ بتا دی گئی تھی کہ پیغمبر کو حاصل تشریعی اختیار، کتاب اللہ کے مدمقابل یا اس کے متوازی نہیں ہے، بلکہ اس کے تابع ہے۔ یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، کتاب الہٰی میں دی گئی ہدایت کے پابند اور پیروکار تھے اور اس میں کسی قسم کی ترمیم وتغییر کے مجاز نہیں تھے۔ چنانچہ کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْ٘ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰ٘ي اِلَيَّﵐ اِنِّيْ٘اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ. (یونس ۱۰: ۱۵ )''تم کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو تبدیل کر دوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔''

ایک موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلال چیز کو ذاتی طور پر اپنے لیے ممنوع قرار دیا تو قرآن مجید میں آپ کو اس پر تنبیہ کی گئی۔ فرمایا:

يٰ٘اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا٘ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ. (التحریم۶۶ : ۱)''اے نبی، تم کیوں اپنی بیویوں کی خوش نودی پانے کے لیے اس چیز کو حرام ٹھیراتے ہو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''

اس بات کی وضاحت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مواقع پر صاف لفظوں میں فرمائی۔ چنانچہ ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے خطبہ میں فرمایا:

إن مکة حرمھا اللہ ولم یحرمھا الناس، فلا یحل لامرئ یؤمن باللہ والیوم الآخر أن یسفك بھا دمًا ولا یعضد بھا شجرة، فإن احد ترخص لقتال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقولوا لہ: إن اللہ أذن لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یأذن لکم، وإنما أذن لي ساعة من نھار، وقد عادت حرمتھا الیوم کحرمتھا بالأمس، ولیبلغ الشاھد الغائب. (بخاری، رقم ۱۸۳۲)''مکہ کو لوگوں نے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے، پس کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، حلال نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے یا کسی درخت کو کاٹے۔ اور اگر کوئی شخص اس بات سے رخصت نکالنا چاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قتال کیا ہے تو اس سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، لیکن تمھیں اس کی اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی اس میں قتال کرنے کی اجازت بس دن کے ایک مختصر سے حصے میں دی گئی، پھر اس کی حرمت اسی طرح دوبارہ قائم ہو گئی جیسے گذشتہ روز تھی۔ اور جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ بات ان تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔''

ایک موقع پر سیدنا علی نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کی اجازت نہ دی۔ اس موقع پر آپ نے اپنی بات کی وضاحت میں فرمایا:

وإني لست أحرم حلالًا ولا أحل حرامًا ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ و بنت عدو اللہ مکانًا واحدًا أبدًا.(مسلم، رقم ۲۴۴۹)''میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا، لیکن بخدا، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی، کبھی ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔''

اسی طرح ایک موقع پر آپ نے لوگوں کو لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا۔ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ شاید لہسن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کی اور فرمایا:

أیھا الناس إنہ لیس لي تحریم ما أحل اللہ لي ولکنھا شجرۃ أکرہ ریحھا. (مسلم،رقم ۵۶۵)''اے لوگو، مجھے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ بس مجھے اس پودے کی بو پسند نہیں۔''

ان نصوص کی روشنی میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے اتارے ہوئے کسی حکم میں تبدیلی یا ترمیم کے مجاز نہیں تھے، تاہم منصب رسالت کے تحت اس کے علاوہ مستقل احکام وشرائع وضع کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے اور اہل ایمان پر ان کی پابندی قبول کرنا بھی کتاب اللہ ہی کی طرح لازم تھا۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا ألفین أحدکم متکئًا علی أریکتہ یأتیہ الأمر من أمري مما أمرت بہ أو نھیت عنہ فیقول لا ندري ما وجدنا فی کتاب اللہ اتبعناہ.( ابوداؤد، رقم ۴۶۰۵)''میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور میرا کوئی حکم اس تک پہنچے جس میں، میں نے کسی بات کا حکم دیا یا کسی بات سے منع کیا ہو اور وہ کہہ دے کہ ہم نہیں جانتے، ہمیں تو بس کتاب اللہ میں جو بات ملے گی، اسی کی پیروی کریں گے۔''

مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا إني أوتیت الکتاب ومثلہ معہ، ألا یوشک رجل شبعان علی أریکتہ یقول علیکم بھذا القرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فأحلوہ وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ، ألا لا یحل لکم لحم الحمار الأھلي ولا کل ذي ناب من السباع ولا لقطة معاھد إلا أن یستغني عنھا صاحبھا. (ابوداؤد،رقم ۴۶۰۴)''آگاہ رہو کہ مجھے اللہ کی کتاب بھی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی جیسی ایک اور چیز بھی (جس کی پیروی تم پر لازم ہے)۔ آگاہ رہو، قریب ہے کہ کوئی شخص خوب سیر ہو کر اپنے تکیے پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور تم سے کہے کہ بس اس قرآن کو اختیار کر لو اور اس میں تمھیں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جو حرام ملے، اسے حرام مانو۔ آگاہ رہو کہ تمھارے لیے گھریلو گدھے کا گوشت کھانا بھی حلال نہیں ہے اور کسی کچلی والے درندے کا بھی، اور کسی معاہد کی گری ہوئی چیز اٹھانا بھی حلال نہیں، الّا یہ کہ (وہ ایسی معمولی ہو کہ) اس کا مالک اس سے بے نیاز ہو۔''

ایک زاویے سے دیکھا جائے تو اگرچہ اس وقت اللہ کی کتاب بھی براہ راست نازل ہو رہی تھی، لیکن چونکہ اہل ایمان کو قرآن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مل رہا تھا اور اس کے علاوہ مستقل احکام و شرائع وضع کرنے کے اختیار کے تحت ہدایت الہٰی کی تفصیل وتکمیل کا عمل بھی آپ ہی کے ہاتھوں سے انجام پا رہا تھا، اس لیے آپ کے حین حیات میں اصل مرکز اطاعت آپ ہی کی شخصیت تھی۔ ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنی اس حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گویا الوداعی گفتگو کرنے کے لیے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:

فاسمعوا وأطیعوا ما دمت فیکم، فإذا ذھب بي فعلیکم بکتاب اللہ، أحلوا حلالہ وحرموا حرامہ. (احمد، رقم ۶۶۰۶)''جب تک میں زندہ ہوں، میری اطاعت کرو، اور جب میں رخصت ہو جاؤں تو اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنا، اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام ماننا۔''

چنانچہ یہ بدیہی بات تھی کہ کتاب اللہ کے معنی ومراد کو سمجھنے اور اس کی تشریح وتوضیح میں آپ ہی کے ارشاد یا عمل کو صحابہ کی نظر میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أظھرنا، علیہ ینزل القرآن وھو یعرف تأویلہ، وما عمل بہ من شيء عملنا بہ. (احمد، رقم ۱۴۴۴۰)''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ آپ پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ ہی اس کی مراد کو (سب سے بہتر) جانتے تھے، چنانچہ آپ جو بھی عمل کرتے، ہم بھی وہی کرتے تھے۔''

تاہم ذخیرۂ حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ فقہاے صحابہ قرآن کے معنی ومفہوم پر مستقلاً بھی غور کرتے تھے اور ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں اہل علم صحابہ کو قرآن کی کسی آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے مابین تفاوت محسوس ہوا اور انھوں نے اس حوالے سے اپنا اشکال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ ام مبشر بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے سامنے فرمایا: ''اللہ نے چاہا تو (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔''ام المومنین حفصہ نے کہا کہ یا رسول اللہ، بالکل جائے گا۔ اس پر آپ نے انھیں ڈانٹ دیا تو ام المومنین نے قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ دیا:

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا.(مریم ۱۹: ۷۱)''تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہوگا۔ یہ تمھارے رب کا اٹل فیصلہ ہے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں اس سے اگلی آیت پڑھی:

ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا.( مسلم،رقم ۲۴۹۶)''پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔''

علامہ ابن القیم لکھتے ہیں کہ سیدہ حفصہ کو آیت اور حدیث کے مابین تعارض محسوس ہوا اور انھوں نے سمجھا کہ قرآن میں ورود سے مراد آگ میں داخل ہونا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اہل ایمان اور اہل کفر کے ورود کی نوعیت مختلف ہوگی۔ متقین کا ورود ایسا ہوگا کہ وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے، جب کہ ظالموں کا ورود انھیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں رکھنے کے لیے ہوگا (الصواعق المرسلۃ ۳/ ۱۰۵۴)۔

۲۔ ام المومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے حساب لیا گیا، اسے لازماً عذاب ہوگا۔ میں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کے بارے میں نہیں فرمایا کہ:

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا. (الانشقاق ۸۴ :۸)

''ان سے آسان حساب لیا جائے گا۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ تو محض سرسری پوچھ گچھ ہوگی۔ لیکن جس سے حساب لیتے ہوئے چھان بین کی گئی، وہ مارا گیا'' (بخاری، رقم ۱۰۳)۔

۳۔ النساء (۴) کی آیت ۱۰۱میں نماز کو قصر کرنے کا حکم اصلاً جہاد کے احکام کے ضمن میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا کو دشمن قبائل کے علاقے سے گزر کر جانا ہوتا تھا اور خدشہ ہوتا تھا کہ اگر کسی جگہ زیادہ دیر قیام کیا تو دشمن کو خبر ہو جائے گی اور وہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ قرآن مجید میں نماز کو قصر کرنے کی ہدایت اسی تناظر میں آئی ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت کو اس خاص صورت تک محدود رکھنے کے بجاے اس کو عمومی طو رپر ہر طرح کے سفر سے متعلق قرار دیا جس پر بعض صحابہ کو اشکال ہوا اور انھوں نے یہ اشکال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔

یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ النساء (۴: ۱۰۱) میں تو نماز کو قصر کرنے کی اجازت کفار کی طرف سے اندیشے اور خوف کی حالت میں دی گئی تھی تو اب جب کہ اہل ایمان کو امن حاصل ہو گیا ہے، اس رخصت پر عمل کیوں برقرار ہے؟ سیدنا عمر نے فرمایا:

عجبت مما عجبت منہ فسألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلک، فقال:"صدقة تصدق اللہ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ". (مسلم، رقم ۶۸۶)''جس بات پر تم حیران ہوئے ہو، وہ میرے لیے بھی باعث حیرانی بنی تھی، چنانچہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مہربانی ہے جو اس نے تم پر کی ہے، اس لیے اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرو۔''

گویا آپ نے واضح فرمایا کہ آیت میں'اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا'(اگر تمھیں خوف ہو کہ اہل کفر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے) کی قید کسی شرط کے طور پر نہیں، بلکہ قصر کی رخصت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک خاص وجہ کے طور پر ترغیب کے پہلو سے بیان کی گئی ہے۔

۴۔ قرآن مجید میں ایسی خواتین کی فہرست بیان کرتے ہوئے جن سے نکاح کرنا حرام ہے، مختلف نسبی اور رضاعی رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم نسبی رشتوں میں ماں اور بہن کے علاوہ خالہ، پھوپھی، بھتیجی اور بھانجی کو بھی شامل کرتے ہوئے رضاعی رشتوں کے ذکر میں صرف رضاعی والدہ اور رضاعی بہن کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے (النساء ۴: ۲۳) ۔

اس تناظر میں، ام المومنین سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ان کی رضاعی والدہ کے شوہر ابو القعیس کے بھائی افلح ان کے پاس آئے، جب کہ امہات المومنین کے لیے حجاب کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ ام المومنین نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر انھیں اپنے پاس نہیں آنے دوں گی، کیونکہ میرا رضاعی رشتہ ابوالقعیس کی بیوی سے تو بنتا ہے، لیکن ابو القعیس سے نہیں، اس لیے ان کا بھائی میرے لیے غیر محرم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام المومنین نے آپ سے یہ سوال پوچھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے چچا کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دیتیں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے ابو القعیس نے تو دودھ نہیں پلایا، بلکہ اس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا۔ آپ نے فرمایا: ''تمھارے ہاتھ خاک آلود ہوں، اس کو اجازت دے دو، کیونکہ وہ تمھارا چچا ہے'' (بخاری، رقم ۴۷۹۶)۔

ایک دوسری ر وایت میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے تھے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے باہر سے کسی آدمی کی آواز سنائی دی جو اندر جانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا کہ غالباً یہ فلاں شخص ہے۔ یہ شخص حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر فلاں شخص، جو سیدہ عائشہ کا رضاعی چچا تھا، زندہ ہوتا تو وہ بھی میرے پاس آ سکتا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہوتے ہیں (بخاری، رقم ۲۶۴۶) ۔

دل چسپ امر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وضاحت کے بعد بھی سیدہ عائشہ اس پر مطمئن نہیں ہوئیں کہ کسی عورت کا دودھ پینے سے اس کے شوہر کے ساتھ بھی بچے کا حرمت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے، چنانچہ قاسم بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ا م المومنین ایسے لڑکوں سے تو حجاب نہیں کرتی تھیں جنھیں ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہو، لیکن جن لڑکوں نے ام المومنین کے بھائیوں کی بیویوں کا دودھ پیا ہوتا، انھیں اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں (موطا، رقم ۱۲۸۰)۔ یعنی وہ یہ سمجھتی تھیں کہ ان لڑکوں نے ان کے بھائی کی بیوی کا دودھ پینے سے وہ ان کے بھائی کے رضاعی بیٹے نہیں بن گئے اور نتیجتاً ام المومنین کے ساتھ بھی ان کا بھتیجے کا رشتہ قائم نہیں ہوا۔ چنانچہ جمہور فقہا ومحدثین کی طرف سے ابو القعیس کی مذکورہ روایت کو اس اصول کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کسی راوی کا عمل خود اپنی نقل کردہ روایت کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں اس کے عمل کا نہیں، بلکہ روایت کا اعتبار کیا جائے گا (فتح الباری ۹/ ۵۶۔ بدایۃ المجتہد ۲/ ۳۹)۔

۵۔ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے طرز عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے نفاق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے حق میں اللہ کے رسول کی دعاے مغفرت بھی قبول نہیں کرے گا، اس لیے اے پیغمبر، آپ ان کے لیے دعا کریں یا نہ کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی دعاے مغفرت کریں تو اللہ ان کی بخشش نہیں کرے گا (۹: ۸۰)۔

قرآن کے اس تبصرے سے واضح تھا کہ اللہ تعالیٰ کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منافقین کے حق میں استغفار کرنا پسند نہیں، تاہم جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی فرمایش پر اس کو کفن دینے کے لیے اپنی قمیص عطا کی اور پھر اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر سیدنا عمر نے آپ کو کھینچا اور کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقوں کی نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے اس معاملے میں اختیار دیا گیا ہے، اور پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی (بخاری، رقم ۱۲۶۹)۔

اس واقعے سے فہم نص میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے کو واضح کرتے ہوئے مولانا ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

وحاصل اجتھادہ أنہ فھم من الآیة إباحة الاستغفار لھم، وخالفہ في ذلک عمر وفھم منھا النھي عن الاستغفار ومنع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الصلاة علی عبد اللہ بن أبي، ولم ینکر النبي صلی اللہ علیہ وسلم ذلک منہ ولکن لم یرجع من اجتھادہ، وأقرھما اللہ تعالی علی اجتھادھما حیث لم یعاتب واحدًا منھما ولا بین المخطئ من المصیب.

وبہ تبین أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قد کان یجتھد في تأویل النص ویخالفہ أصحابہ في تأویلہ ولا ینکرہ علیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویقرھم اللہ تعالی علیہ، لأن اللہ تعالیٰ لم ینکرہ في ھذہ القصة علی أحد بین الفریقین، لا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا علی عمر، بل أنزل قولہ تعالٰی: ''وَلَا تُصَلِّ عَلٰ٘ي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ''(التوبة ۸۴) وھو یحتمل أن یکون نسخا لتخییرہ السابق ویحتمل ان یکون بیانًا لقولہ: ''استغفر لھم او لا تستغفر لھم'' إنہ لم یکن للتخییر، بل للنھي عن الاستغفار علی وجہ الکنایة. (اعلاءالسنن ۱۹/ ۹۳۱۶)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کا حاصل یہ تھا کہ آپ نے آیت سے منافقین کے حق میں استغفار کا مباح ہونا سمجھا، جب کہ عمر نے اس میں آپ سے اختلاف کیا اور آیت سے استغفار کا ممنوع ہونا اخذ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ آپ نے یہ اختلاف کرنے پر سیدناعمر پر کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن اپنے اجتہاد سے بھی رجوع نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان دونوں کو ان کے اجتہاد پر برقرار رکھا، کیونکہ نہ تو دونوں میں سے کسی کو عتاب کیا اور نہ یہ واضح کیا کہ کس کا اجتہاد غلط تھا اور کس کا صحیح۔

اس واقعے سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات قرآن کی آیت کی مراد سمجھنے میں اجتہاد سے کام لیتے تھے اور آپ کے صحابہ آپ کی سمجھی ہوئی مراد سے اختلاف کرتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی وجہ سے ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی انھیں اس پر برقرار رکھتے تھے، کیونکہ مذکورہ قصے میں اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر میں سے کسی پر بھی انکار نہیں کیا، بلکہ اپنا یہ ارشاد نازل کر دیا کہ ''(اے پیغمبر، ان میں سے جو کوئی بھی مرے، تم کبھی نہ تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کرنا اور نہ (دعا کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا''۔ یہ ارشاد اس کا بھی محتمل ہے کہ اسے سابقہ تخییر کا ناسخ سمجھا جائے اور اس کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ اسے 'استغفر لھم او لا تستغفر لھم' کی تفسیر قرار دیا جائے کہ اس سے مراد اختیار دینا نہیں، بلکہ کنایے کے اسلوب میں استغفار سے منع کرنا تھا۔''

مذکورہ تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو واجب الاتباع اور قرآن مجید کی تعبیر وتشریح میں حتمی سند تسلیم کرتے ہوئے بھی فقہاے صحابہ قرآن کے بیانات کو اپنے مدعا پر دلالت کے لحاظ سے کلیتاً حدیث نبوی پر منحصر نہیں سمجھتے تھے، بلکہ قرآن کو اپنی جگہ ایک واضح کلام تصور کرتے ہوئے اس کے معنی ومفہوم پر مستقلاً بھی غور کرتے تھے اور جہاں انھیں قرآن کی کسی آیت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے مابین تفاوت محسوس ہوتا، وہ نہ صرف اپنا اشکال آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے، بلکہ بعض اوقات اپنے فہم پر اصرار بھی کرتے تھے۔

فقہاے صحابہ کے رجحانات

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں تو خود آپ کی وضاحت یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں اس کا قطعی فیصلہ ممکن تھا کہ زیر بحث سوال کے حوالے سے مراد الہٰی کیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت حال میں باعتبار نوعیت ایک بنیادی فرق یہ واقع ہو گیا کہ اب وضاحت یا تصفیے کے لیے خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ ایک بنیادی سوال پیدا ہوا جس نے آگے چل کر علم اصول فقہ کی ایک مہتم بالشان بحث کی صورت اختیار کر لی کہ اگر کتاب اللہ میں کسی معاملے سے متعلق کوئی ہدایت ایسے اسلوب میں بیان کی گئی ہو جو فی نفسہٖ واضح ہو اور بظاہر محتمل اور توضیح طلب نہ ہو، جب کہ اسی معاملے سے متعلق کوئی ایسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی جائے جو قرآن مجید کے بیان سے ٹکرا رہی ہو تو ایسی صورت میں کیا موقف اختیار کیا جائے؟

عہد نبوی کے بعد کی صورت حال میں قرآن اور حدیث میں بظاہر دکھائی دینے والے تفاوت کی توجیہ کے حوالے سے علمی وعقلی طور پر دو مساوی امکانات کی گنجایش پیدا ہو گئی تھی:

ایک یہ کہ قرآن مجید سے بظاہر جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے، اسے اپنے علم وفہم کا قصور تصور کیا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ارشاد کو مراد الہٰی کی زیادہ قابل اعتماد تفسیر سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔

دوسرا یہ کہ قرآن مجید کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید ہی میں تلاش کی جائے یا توجیہ وتاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو آپ کی نسبت سے منقول بات کو راویوں کی غلط فہمی اور سوء سماع پر محمول کیا جائے۔

فقہاے صحابہ کی آرا میں اس نوعیت کی مثالیں محدود تعداد میں نقل ہوئی ہیں، تاہم ان سے ان کے مختلف و متخالف رجحانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ آیندہ سطور میں اس ضمن کی بنیادی بحثوں کا ایک جائزہ پیش کیا جائے گا۔

۱۔ وضو میں پاؤں کا دھونا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور جمہور صحابہ واہل علم کے تعامل سے وضو کا طریقہ یہی ثابت ہے کہ چہرے اور بازوؤں کے ساتھ ساتھ پاؤں کو بھی دھویا جائے۔ تاہم قرآن مجید میں وضو کا حکم بیان کرتے ہوئے سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۶ میں 'فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَي الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ' کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں بادی النظر میں پاؤں کا ذکر سر کے مسح کے ساتھ ہوا ہے جس سے ذہن کا اس طرف جانا ممکن ہے کہ پاؤں کا حکم بھی وہی ہے جو سر کا ہے۔ اس تناظر میں صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ وضو میں اصل حکم اس کو سمجھتے تھے کہ پاؤں پر صرف مسح کر لیا جائے۔ چنانچہ ربیع بیان کرتی ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا جس میں ربیع نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ ابن عباس نے کہا کہ :

إن الناس أبوا إلا الغسل ولا أجد في کتاب اللہ إلا المسح.(ابن ماجہ، رقم ۴۶۲)''لوگ پاؤں کو دھوئے بغیر نہیں رہتے، لیکن مجھے کتاب اللہ میں صرف مسح کرنے کا حکم ملتا ہے۔''

اسی طرح شعبی کہتے تھے کہ جبریل پاؤں پر مسح کرنے کا حکم لے کر اترے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۸۴، ۱۸۵)۔ شعبی اس کے حق میں ایک قیاسی دلیل بھی پیش کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ پاؤں پر مسح ہی کرنے کا حکم ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ (وضو میں) جن اعضا کو دھونے کا حکم ہے، تیمم میں صرف انھی (پر مسح کرنے) کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ (وضو میں) جن اعضا پر مسح کا حکم ہے، انھیں چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کا تیمم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا (ایضاً، رقم ۱۸۱)! یہی نقطۂنظر عکرمہ اور حسن بصری سے بھی مروی ہے (ایضاً، رقم ۱۷۸- ۱۷۹)۔ تاہم جمہور صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر سنت کی روشنی میں پاؤں دھونے ہی کو وضو کے مشروع کے طریقے کے طور پر قبول کیا اور اسی کی روشنی میں قرآن کی آیت میں 'وَاَرْجُلَكُمْ' کو حکم کے اعتبار سے 'وَامْسَحُوْا' کے بجاے 'فَاغْسِلُوْا' کے ساتھ متعلق قرار دیا۔

۲۔ موزوں پر مسح کرنے کی رخصت

سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت میں ، جمہور صحابہ کے فہم کے مطابق، پاؤں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے وضو کی حالت میں پاؤں پر موزے پہنے ہونے کی صورت میں پاؤں کو دھونے کے بجاے صرف موزوں پرمسح کرنے پر اکتفا فرمایا اور صحابہ کو بھی اس کی اجازت دی (بخاری، رقم ۶۳۹) ۔

بظاہر قرآن کی ہدایت سے مختلف ہونے کی وجہ سے یہ رخصت بعض صحابہ کے لیے باعث اشکال بنی۔ مثلاً ایک موقع پر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا تو کہا کہ یارسول اللہ، کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں نہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو۔ مجھے میرے رب نے یہی حکم دیا ہے (ابو داؤد، رقم ۱۴۰)۔

صحابہ و تابعین کے مابین اس حوالے سے خاصی بحث بھی موجود رہی ہے۔ جن حضرات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اس رخصت پر عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، انھیں اس حوالے سے دوسرے صحابہ کی روایت قبول کرنے میں تردد اور مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مثلاً عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سفر میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ ابن عمر کو اس پر اطمینان نہ ہوا اور انھوں نے اس کی تحقیق کے لیے سیدنا عمر سے رجوع کیا۔ سیدنا عمر نے ان سے کہا کہ جب سعد تمھیں کوئی بات بیان کریں تو اسے رد نہ کیا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واقعتاً موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے (بخاری، رقم ۱۹۸) ۔

تاہم عبد اللہ بن عباس کے بیان کے مطابق اس موقع پر وہ بھی وہاں موجود تھے۔ جب سیدنا عمر نے سعد بن ابی وقاص کی تائید کی تو ابن عباس نے کہا کہ:

یا سعد، قد علمنا أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم مسح علی خفیہ ولکن أقبل المائدة أم بعدھا؟ قال:لا یخبرک أحد أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم مسح علیھما بعدما أنزلت المائدة، فسکت عمر. (احمد، رقم ۳۳۶۶) ''اے سعد، ہم جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تھا، لیکن کیا یہ سورۂ مائدہ کے نازل ہونے سے پہلے تھا یا بعد میں؟ کوئی شخص تمھیں یہ خبر نہیں دے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ مائدہ نازل ہونے کے بعد موزوں پر مسح کیا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر سیدنا عمر خاموش ہو گئے۔''

گویا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس عمل کو کتاب اللہ میں پاؤں دھونے کا حکم نازل ہونے کے بعد منسوخ سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں صحرا میں کسی راہ گیر کی پشت پر ہاتھ پھیر لوں، یہ مجھے موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ پسند ہے (احمد، رقم ۲۸۹۰)۔

تاہم عطاء ابن رباح کے سامنے ذکر کیا گیا کہ عکرمہ، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کا حکم موزوں پر مسح کے خلاف ہے تو عطاء نے کہا کہ عکرمہ نے غلط کہا ہے۔ میں نے عبداللہ بن عباس کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۹۶۳)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی غالباً صحیح صورت حال واضح ہونے کے بعد موزوں پر مسح کی رخصت پرعمل کرنے لگے تھے۔

بہرحال ابن عباس کے مذکورہ استدلال کے تناظر میں تابعین کے دور میں مسح علی الخفین سے متعلق جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۸۶۸)، کیونکہ جب ان کے موزوں پر مسح کرنے پر اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ رخصت سورۂ مائدہ کے نزول سے پہلے تھی تو انھوں نے جواب میں کہا کہ میں نے تو اسلام ہی سورۂ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد قبول کیا تھا (ابوداؤد، رقم ۹۳)۔ ان کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ سورۂ مائدہ میں وضو کا حکم نازل ہونے کی وجہ سے موزوں پر مسح کرنے کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔

بعض دیگر صحابہ نے بھی ابتداء ً ان روایات کو درست ماننے سے انکار کیا، مثلاً ام المومنین عائشہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ وہ مسح کرنے کے مقابلے میں پاؤں کو کٹوا دینا پسند کرتے ہیں (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۹۶۴، ۱۹۶۵)، [1]تاہم سیدہ عائشہ کو غالباً بعد میں مستند روایات سے اس کی اطلاع ملی اور وہ قائل ہو گئیں۔ چنانچہ شریح بن ہانی نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے کہا کہ اس کے بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھو، کیونکہ وہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جایا کرتے تھے اور اس کے متعلق مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں (مسلم، رقم ۵۵۶)۔

تابعین کے ہاں بھی اس حوالے سے تردد کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ مثلاً زر بن حبیش ، صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کھٹک ہے اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں تو کیا آپ نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی ہے؟ صفوان نے کہا کہ ہاں، آپ ہمیں ہدایت فرماتے تھے کہ سفر کی حالت میں ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتارا کریں (احمد، رقم ۱۷۸۳۲)۔ اسی طرح یحییٰ بن ابی اسحٰق کا بیان ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے موزوں پر مسح کے جواز کا فتویٰ دیا تو میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں، لیکن میں نے اپنے معتمد ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ موزوں پر مسح کرنا درست ہے (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۱۸۹۵)۔

__________

[1]۔ابن ابی شیبہ کی نقل کردہ بعض روایات میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی بات منقول ہے، لیکن بظاہر وہ درست معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسح علی الخفین کی روایات خود ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نقل کی ہیں (ابن ماجہ، رقم ۵۵۹)۔

_______________