قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴) (1/2)


اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے:

۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰۃ کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے:'خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً'(التوبہ ۹: ۱۰۳)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰۃ عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سےمستثنیٰہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی ، زکوٰۃ کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰۃ وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰۃ ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی دلالت نہ ہوتی تو ظاہر قرآن سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اموال یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب میں زکوٰۃ عائد ہوتی ہے (الام ۱/ ۸۰ -۸۵۔ ۳/ ۷ )۔

امام شافعی اس سے یہ اہم نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ جب اس مثال میں سب کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ قرآن کے حکم کے عموم یا خصوص کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کی روشنی میں کی جائے گی تو پھر اصولی طور پر ایسی ہر مثال کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ لکھتے ہیں:

وکان في ما أبان من ھذا مع غیرہإبانةالموضع الذي وضع اللہ بہ رسولہصلی اللہ علیہ وسلم من دینہ وکتابہ، والدلیل علی أن سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في ما للہ عزوجل فیہ حکم، والدلیل علی ما أراد اللہ تبارک وتعالیٰ بحکمہ أخاصًا أراد أم عامًا وکم قدر ما أراد منہ، وإذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھذا الموضع من کتاب اللہ عزوجل ودینہ في موضع کان کذلک في کل موضع، وسنتہ لا تکون إلا بالإبانة عن اللہ تبارک وتعالیٰ واتباع أمرہ.(الام۳/ ۷)

''اس مثال سے اور باتوں کے علاوہ اس مقام کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دین اور اپنی کتاب کے حوالے سے دیا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس معاملے میں اللہ عزوجل کا کوئی حکم ہو، اس میں سنت یہ رہنمائی کرتی ہے کہ اللہ نے اپنے حکم سے خصوص کا ارادہ کیا ہے یا عموم کا اور (مثلاً مال کی وصولی کے حکم میں) کتنی مقدار اللہ کی مراد ہے۔ جب ایک مثال میں اللہ کی کتاب کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت ہے تو ہر مثال میں اس کی یہی حیثیت ہونی چاہیے اور (یہ ماننا چاہیے کہ) آپ کی سنت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کی توضیح اور اللہ کے حکم کی اتباع ہوتی ہے۔''

۱۰۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے'وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ'(المائدہ ۵ :۶) کے الفاظ میں پاؤں کا حکم بیان کیا ہے۔ یہاں اسلوب عموم کی نوعیت کے لحاظ سے، یہ احتمال بھی ہے کہ ہر طرح کے وضو کرنے والے پاؤں کو دھونے یا مسح کرنے کے پابند ہوں[۱] اور یہ بھی احتمال ہے کہ سب نہیں، بلکہ بعض وضو کرنے والے مراد ہوں۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور یہ ہدایت دی کہ پورے وضو کی حالت میں جس آدمی نے پاؤں پر موزے پہنے ہوں، وہ مسح کر سکتا ہے تو اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد سب وضو کرنے والے نہیں، بلکہ بعض ہیں ،یعنی بعض حالتوں میں وضو کرنے والے پاؤں کو دھوئیں گے اور بعض میں مسح کریں گے (الام ۱/ ۲۹-۳۰)۔

۱۱۔ اللہ تعالیٰ نے چوری کرنے والے مرد اور عورت کی سزا صیغۂ عموم کے ساتھ یہ بیان کی ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں (المائدہ ۵: ۳۸)۔ یہاں اسلوب عموم کی رو سے ہر قسم کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹنا ثابت ہوتا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ درخت سے پھل توڑ لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چوری کسی غیر محفوظ جگہ سے کی گئی ہو یا اس کی قیمت ایک چوتھائی دینار سے کم ہو تو بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر طرح کی چوری پر ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے (الام ۱/ ۳۰۔ ۷/ ۳۱۹)۔

۱۲۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ زانی مرد اور عورت، دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں (النور ۲۴ : ۲)۔ یہاں بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شادی شدہ زانی کو کوڑے لگوانے کے بجاے سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر شادی شدہ زانی ہیں (الام ۱/ ۳۰، ۵۶)۔

اسی طرح احادیث میں کنوارے زانی کے لیے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ ایک سال کے لیے علاقہ بدر کیے جانے کی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی ان روایات کی بنیاد پر کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کو بھی زنا کی شرعی حد کا حصہ شمار کرتے ہیں (الام ۷/۳۳۷-۳۳۸)۔ اس حوالے سے ان کا اصولی استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی حکم کے بعض حصے قرآن میں بیان کر دیتا ہے اور بعض حصے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے واضح فرماتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ اللہ ہی کا حکم ہے جسے قبول کرنا ضروری ہے (الام ۱/ ۸۸، ۱۰۰۔ ۶/ ۱۲، ۳۹۰)۔

۱۳۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں سے خمس کا حق دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذوی القربیٰ، یتامیٰ ، مساکین ا ور مسافروں کو قرار دیا ہے (الانفال ۸:۴۱)۔ یہاں ذوی القربیٰ کے الفاظ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنوہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقربا نہیں، بلکہ بعض مراد ہیں (الام ۱/ ۳۱)۔

۱۴۔ اسی طرح قرآن مجید میں مال غنیمت کے خمس کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی مال کو اسلوب عموم میں مجاہدین کا مشترک حق قرار دیا ہے (الانفال ۸ : ۴۱) ، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت اقدام میں دشمن کو قتل کر کے اس سے چھینے ہوئے مال کو خاص طور پر قاتل کا حق قرار دیا جس سے واضح ہو گیا کہ قرآن کی مراد پورا مال غنیمت نہیں، بلکہ وہ مال ہے جو مذکورہ صورت سے ہٹ کر دشمن سے چھینا گیا ہو (الام ۱/ ۳۲)۔

۱۵۔ قرآن مجید میں ترکے میں ورثا کے حصے بیان کرتے ہوئے بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس کی رو سے ظاہراً تمام والدین، بہن بھائی اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں (النساء ۴ :۱۰- ۱۱)۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ایسے رشتہ دار ہیں جن کا دین ایک ہی ہو اور مرنے والا اور اس کے ورثا دار الاسلام کے باشندے ہوں۔ اسی طرح دونوں کا آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اسی طرح سنت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غلام کو ملکیت کا حق حاصل نہیں ہوتا اور اس کا مال دراصل اس کے مالک ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نہ تو غلام کسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ اگر وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اسے اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا (الام ۱/ ۲۹)۔

۱۶۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہیں کھانا چاہیے، جب تک کہ وہ باہمی رضامندی پر مبنی تجارت نہ ہو (النساء ۴ :۲۹ )۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے'وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ'(البقرہ ۲ :۲۷۵) فرمایا، جس سے بظاہر بیع کی ساری صورتیں جائز قرار پاتی ہیں۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید وفروخت کے بعض ایسے طریقوں کو بھی ممنوع قرار دیا جن پر فریقین رضامند ہوتے ہیں اور ان میں نہ تو غرر پایا جاتا ہے اور نہ بائع اور مشتری میں سے کوئی، کسی بات سے ناواقف ہوتا ہے، مثلاً سونے کے ساتھ سونے کے تبادلے میں کمی بیشی یا سونے اور چاندی کے باہمی تبادلے میں ادھار سے کام لینا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کی تمام صورتوں کو حلال قرار نہیں دیا، بلکہ وہ صورتیں اس جواز سے خارج ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے (الام ۱/ ۷۳- ۷۴۔ ۴/ ۵)[۲]۔

مذکورہ دوسری قسم کی مثالوں میں امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے کچھ بیانات ایسے ہو سکتے ہیں جو بظاہر عام ہوں اور ان کے خصوص کا کوئی لفظی یا عقلی قرینہ بظاہر قرآن کے حکم میں موجود نہ ہو، اور اگر صرف ظاہر قرآن پر اعتبار کیا جائے تو ان میں کسی قسم کی تخصیص کی گنجایش دکھائی نہ دیتی ہو، لیکن سنت میں اس بات کی وضاحت کی جائے کہ ان کا ظاہری عموم مراد نہیں، بلکہ وہ خصوص پر محمول ہیں۔ امام صاحب لکھتے ہیں:

ولولا الاستدلال بالسنة وحکمنابالظاھر قطعنا من لزمہ اسم سرقة،وضربنا مائة کل من زنی حرًا ثیبًا، وأعطینا سھم ذي القربی کل من بینہ وبین النبي قرابة ثم خلص ذلک إلی طوائف من العرب لأن لہ فیھم وشایج أرحام، وخمسنا السلب لأنہ من المغنم مع ما سواہ من الغنیمة.(الام ۱/ ۳۲)

''اگر سنت سے استدلال نہ کیا جائے اور ہم قرآن کے ظاہر پر فیصلہ کریں تو ہمیں ہر اس شخص کا ہاتھ کاٹنا ہوگا جس نے چوری کی ہو اور آزاد شادی شدہ زانی کو بھی سو کوڑنے لگانے پڑیں گے اور ذی القربیٰ کا حصہ ان سب لوگوں کو دینا ہوگا جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری ہے اور پھر یہ عرب کے کئی اور قبیلوں کو بھی شامل ہو جائے گا،کیونکہ مختلف قبائل کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ اسی طرح جو شخص میدان جنگ میں دشمن کو قتل کر کے اس کا سامان حاصل کر لے، اس سے بھی اس سامان کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینا ہوگا، جیسے باقی سارے مال غنیمت سے لیا جاتا ہے۔''

تاہم امام شافعی کو اصرار ہے کہ چونکہ عام الفاظ استعمال کر کے خاص صورتیں مراد لینا عربی زبان کا معروف اور مسلم اسلوب ہے اور قرآن کے یہ تمام بیانات اپنی اصل میں تخصیص کا احتمال رکھتے ہیں، اس لیے سنت میں وارد تخصیصات کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا اور نہ سنت، قرآن کے خلاف ہو سکتی ہے۔ لکھتے ہیں:

قال: أفیعد ھذا خلافًا للقرآن؟ قلت: لا تخالف سنة لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ بحال، قال: فما معنی ھذا عندک؟قلت: معناہ أن یکون قصد بفرضإمساس القدمین الماء من لا خفي علیہ لبسھما کامل الطھارة، قال: أو یجوز ھذا في اللسان؟ قلت: نعم،کما جاز أن یقوم الی الصلاة من ھوعلی وضوء، فلا یکون المراد بالوضوء،استدلالا بأن رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم صلی صلاتین وصلوات بوضوءواحد، وقال اللہعزوجل: ''والسارق والسارقة فاقطعواایدیھماجزاء بما کسبا نکالا من اللہ، واللہعزیز حکیم''، فدلت السنة علی أناللہعزوجل لم یرد بالقطع کل السارقین.(الام۱/ ۲۵۳)

''مخاطب نے کہا کہ کیا اس کو قرآن کی مخالفت شمار کیا جائے گا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت کسی حال میں کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا کہ پھر تمھارے نزدیک اس کا، (یعنی آیت میں پاؤں کو دھونے کے حکم کا) کیا مطلب ہوگا؟ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاؤں کو دھونے کے حکم میں اللہ تعالیٰ کی مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مکمل طہارت کی حالت میں پاؤں پر موزے نہ پہنے ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا ازروے زبان اس طرح کلام کرنا درست ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، ایسے ہی جیسے کوئی شخص پہلے سے باوضو ہو اور نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ وضو کے حکم کا مخاطب نہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اور بعض مواقع پر کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو...، اور سنت نے اس پر دلالت کی کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر ہر چور کا ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔''

متعارض روایات میں سے اوفق بالقرآن کو ترجیح

امام شافعی کے نقطۂ نظر کے مطابق صحیح اور مستند اخبار آحاد اور قرآن مجید کے مابین تعارض ممکن نہیں اور ظاہری تعارض کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کو مراد الہٰی قرار دینا لازم ہے۔ البتہ اگر کسی ایک معاملے سے مختلف اخبار آحاد میں تعارض ہو تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے قرآن مجید کے ساتھ موافقت کا اصول امام شافعی کو بھی تسلیم ہے۔ فرماتے ہیں:

إن أصل ما نبني نحن وأنتم علیہأن الأحادیث إذا اختلفت لم نذھبإلی أحد منھا دون غیرہ إلا...أنیکون أحد الحدیثین أشبہ بکتاباللہ، فإذا کان أشبہ کتاب اللہ تبارکوتعالیٰ کانت فیہ الحجة.(الام۱/ ۱۲۷)

''ہمارے اور تمھارے مابین یہ اصول مسلم ہے کہ جب احادیث باہم مختلف ہوں تو ان میں سے کسی کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیں گے، الّا یہ کہ ترجیح کی کوئی وجہ موجود ہو، مثلاً ان میں سے ایک حدیث کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہو۔ جب وہ کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہوگی تو وہی حجت ہوگی۔''

اس اصول کا استعمال امام شافعی کے ہاں درج ذیل مثالوں میں ملتا ہے:

روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، نماز فجر ادا کرنے کے مختلف اوقات کا ذکر ملتا ہے۔ بعض کے مطابق آپ اندھیرے کی حالت میں نماز ادا فرما لیتے تھے، جب کہ بعض میں روشنی میں ادا کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اندھیرے میں نماز ادا کرنے کی روایت کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی محافظت کا حکم دیا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہونے پر جلد سے جلد نماز ادا کر لی جائے (الام ۱/ ۱۲۷)۔

روایات میں صلاۃ الخوف مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ امام شافعی ان میں سے اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ذکر ہے کہ ایک فریق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک رکعت ادا کرنے کے بعد آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے اپنی باقی ماندہ نماز پوری کر لی اور پھر دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے فریق کے انتظار میں کھڑے رہے اور اس کے آنے پر دوسری رکعت ادا فرمائی۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ مختلف روایات میں سے یہ روایت کتاب اللہ کے ظاہر کے زیادہ مطابق ہے، اس لیے ہم نے اس کو اختیار کیا ہے (الام ۲/ ۴۴۰۔ ۱۰/ ۱۷۶)۔

بعض روایات میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے کتے، گدھے اور عورت کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے، جب کہ دیگر بہت سی احادیث سے اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت ان سب احادیث کے بھی خلاف ہے جو سنداً بھی اس سے زیادہ صحیح ہیں اور ظاہر قرآن کے بھی مطابق ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:'لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي'، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی کا عمل دوسرے آدمی کے عمل کو باطل نہیں کر سکتا، چنانچہ ایک انسان کا نماز کی حالت میں دوسرے انسان کے آگے سے گزرنا اس کی نماز کو باطل نہیں کرتا (الام ۱۰/ ۱۲۶- ۱۲۷)۔

حضرت فاطمہ بنت قیس بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے، جو کہیں سفر پر گئے ہوئے تھے، انھیں تیسری طلاق بھیج دی تو ان کے سسرال والوں نے عدت کے دوران میں انھیں اپنے ہاں رہایش اور نفقہ دینے سے انکار کر دیا۔ فاطمہ اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ نے ان کے سسرال والوں کی توثیق کی اور فرمایا کہ فاطمہ کا نفقہ ان کے ذمے نہیں ہے۔ پھر آپ نے فاطمہ کو عدت گزارنے کے لیے عبد اللہ بن ام مکتوم کے گھر میں رہایش کرنے کی ہدایت فرمائی (ابو داؤد، رقم ۲۲۹۱)۔ اس روایت کے بعض طرق میں ہے کہ آپ نے فاطمہ سے کہا کہ تم نہ نفقے کی حق دار ہو اور نہ رہایش کی، جب کہ بعض طرق میں صرف نفقہ نہ ملنے کا ذکر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مطلقہ مبتوتہ کو دوران عدت میں رہایش سے محروم کرنے کی بات قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت دی ہے اور یہ حکم عام ہے، اس لیے درست روایت وہی ہے جس میں ایسی مطلقہ کے لیے صرف نفقہ کے حق کی نفی کی گئی ہے۔ البتہ مذکورہ واقعہ میں فاطمہ کو آپ نے اس وجہ سے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم اس لیے دیا کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہایش مہیا کی جائے گی (الام ۶/ ۲۸۱)۔

امام شافعی نے عبد اللہ بن عمر کی روایت ذکر کی ہے جس میں وہ سیدنا عمر سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ نے یہ بات سنی تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں، بلکہ یہ کہا کہ کافر کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کومزید عذاب دیتے ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ نے کہا کہ تمھیں قرآن کافی ہے اور یہ آیت پڑھی:'لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰي'۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کی روایت کتاب اللہ اور سنت کے مطابق ہونے کی وجہ سے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے ہی عمل کا بدلہ پائے گا اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (الام ۱۰/ ۲۱۸)۔

قرآن اور سنت میں نسخ کا تعلق

امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ سنت، کتاب اللہ کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، بلکہ وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اور اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ کلام الہٰی کی مراد کی تفصیل وتشریح کرے۔ امام شافعی نے اس کے لیے درج ذیل آیت سے استدلال کیا ہے:

وَاِذَا تُتْلٰي عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍﶈ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَا٘ اَوْ بَدِّلْهُﵧ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْ٘ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْﵐ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰ٘ي اِلَيَّ.(یونس۱۰:۱۵)

''جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ تم اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آؤ یا اسی کو بدل ڈالو۔ تم کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو بدل ڈالوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔''

اسی طرح'يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ'(الرعد ۱۳ : ۳۹)،'مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا٘ اَوْ مِثْلِهَا'(البقرہ ۲: ۱۰۶) اور'وَاِذَا بَدَّلْنَا٘ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ'(النحل ۱۶: ۱۰۱) جیسی آیات بھی اسی مدعا کو واضح کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں بیان ہونے والے کسی حکم کو قرآن ہی کی کوئی دوسری آیت منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے۔

امام صاحب کا کہنا ہے کہ سنت سے واضح ہونے والے خصوص کو نسخ یا تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہر حال میں قرآن کے حکم کی وضاحت اور اس کی تبیین ہی ہوگی۔ لکھتے ہیں:

فإن قال قائل: حیث وجدت القرآنظاھرًا عامًا ووجدت سنة تحتمل أنتبین عن القرآن وتحتمل أن تکونبخلاف ظاھرہ علمت أن السنةمنسوخةبالقرآن؟ قلت لہ: لا یقول ھذا عالم، فإذا کان اللہ عزوجل فرض علی نبیہ اتباع ما أنزل إلیہ وشھد لہ بالھدی وفرض علی الناس طاعتہ وکان اللسان کما وصفت قبل ھذا محتملًاللمعاني وأن یکون کتاب اللہ ینزل عامًا یراد بہ الخاص وخاصًا یراد بہ العام وفرضًا جملة بینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقامت السنة مع کتاب اللہ ھذا المقام، لم تکن السنة لتخالف کتاب اللہ ولا تکون السنة إلا تبعًا لکتاب اللہ بمثل تنزیلہ أو مبینة معنی ما أراد اللہ تعالیٰ، فھي بکل حال متبعة کتاب اللہ.(الام۱/ ۹۷)

''اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جہاں مجھے قرآن کا حکم ظاہراً عام ملے اور ایسی سنت بھی ملے جس کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ قرآن کی وضاحت کر رہی ہے اور یہ بھی کہ وہ قرآن کے ظاہر کے خلاف ہے تو کیا اس سے مجھے یہ سمجھنا چاہیے کہ اس سنت کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، یہ بات کوئی صاحب علم نہیں کہہ سکتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کو فرض ٹھیرایا اور اس کے ہدایت ہونے کی گواہی دی ہے اور اپنے بندوں پر بھی اس کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے، اور عربی زبان بھی، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا، مختلف معانی کا احتمال رکھتی ہے، مثلاً یہ کہ کتاب اللہ میں عام الفاظ نازل ہوئے ہوں، لیکن مراد خاص ہو یا الفاظ خاص اور مراد عام ہو یا کتاب اللہ میں حکم اصولی اور اجمالی ہو جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور سنت کی حیثیت اللہ کی کتاب کے ساتھ یہ ہو، تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ سنت، کتاب اللہ کی مخالفت کرے۔ سنت ہمیشہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی ہوگی، چاہے اس میں اسی حکم کو بیان کیا جائے جو کتاب اللہ میں اترا ہے یا اللہ کی مراد کو واضح کیا جائے۔ بہرحال سنت، کتاب اللہ کے تابع ہی ہوتی ہے۔''

امام شافعی کا کہنا ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے کسی حکم کو بھی کوئی دوسری سنت ہی منسوخ کر سکتی ہے، اور اگر کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے سنت کے کسی حکم کو منسوخ کیا ہو تو اس کی بنیاد پر سنت ہی میں ناسخ حکم کی وضاحت کا وارد ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کرنا استنباط احکام میں الجھن پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔ مثلاً اگر منسوخ حکم قرآن میں اور ناسخ سنت میں ہو یا اس کے برعکس سنت کے کسی حکم کا ناسخ حکم قرآن میں آ جائے تو یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ ان میں سے مقدم کون سا ہے اور موخر کون سا، یعنی ان میں سے کسی کو بھی ناسخ اور دوسرے کو منسوخ تصور کرنا ممکن ہوگا۔ مثلاً سنت میں بیع کی جن صورتوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب بیانات'وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَوَحَرَّمَ الرِّبٰوا'(البقرہ ۲ :۲۷۵) کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں اور اس آیت نے ان سب کو منسوخ کر دیا۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کو سنگ سار کرنے کا حکم پہلے دور کا ہے جسے قرآن میں'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ'(النور ۲۴: ۲) کے نزول نے منسوخ کر دیا۔ اسی طریقے سے موزوں پر مسح کرنے کا عمل قرآن میں آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا جو اس کے بعد منسوخ قرار پایا اور سنت میں چوری کی جن جن صورتوں کو قطع ید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، مثلاً حرز کے بغیر پڑے ہوئے مال کی چوری یا چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چوری وغیرہ، وہ سب استثناء ات'وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْ٘ا اَيْدِيَهُمَا'(المائدہ ۵ :۳۸) کے نزول سے منسوخ ہو چکے ہیں۔ الغرض ایسی تمام احادیث کو رد کر دینا ممکن ہوگا جن میں بیان ہونے والا حکم کسی بھی پہلو سے قرآن کے ظاہر سے مختلف ہے یا حکم کے کچھ ایسے پہلوؤں کو بیان کرتا ہے جو قرآن سے زائد ہیں۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ قرآن میں وارد کسی حکم کا نسخ بھی قرآن کی آیت ہی کے ذریعے سے کیا جائے اور اسی طرح سنت کے کسی حکم کی تنسیخ بھی سنت ہی کے ذریعے سے کی جائے (الام ۱ /۴۶- ۴۷)۔

امام شافعی نے اس کی مثال یہ ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ یہ اختیار فرمایا تھا کہ اگر وقت پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو اسے عذر کی بنا پر موخر کر دیا جائے اور بعد میں قضا کر لیا جائے۔ چنانچہ غزوۂ خندق کے موقع پر آپ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو مغرب کے بعد باجماعت قضا کیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حالت خوف میں نماز کی ادائیگی کا طریقہ نازل کیا اور نماز کو وقت سے موخر کرنے کے طریقے کو منسوخ کر دیا۔ یہ حکم نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات میں قرآن کے طریقے کے مطابق صلاۃ الخوف ادا کر کے اپنی سنت کے ذریعے سے بھی سابقہ طریقے کے منسوخ ہونے کو واضح کر دیا تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور ان پر واضح ہو جائے کہ وہ ایک سنت کو چھوڑ کر ایک دوسری سنت ہی کو اختیار کر رہے ہیں (الام ۱/ ۷۹)۔

____________

[۱]۔امام شافعی کہتے ہیں کہ ہم'وَاَرْجُلَكُمْ' کو نصب کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاؤں کا حکم بھی وہیہے جو چہرے اور بازوؤں کا ہے۔ تاہم امام شافعی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہیں کہ'اَرْجُلَكُمْ'کا تعلق'وَامْسَحُوْا'کے ساتھ ہو۔ یوں پاؤں کا حکم غسل بھی ہو سکتا ہے اور مسح بھی (الام۱/ ۲۹-۳۰)۔

[۲]۔یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ امام شافعی ربا الفضل، یعنی ہم جنس چیزوں کے باہمی تبادلے میں کمی بیشی اور ادھار کی ممانعت کو قرآن مجید میں ممنوع 'الربا' میں داخل یا اس کی توسیع تصور نہیں کرتے۔ یعنی یہ ممانعت ان کے فہم کے مطابق نہ الربا کے براہ راست مصداق میں شامل ہے اور نہ اس کی قیاسی توسیع کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے الربا کو وہ قرض ہی سے متعلق سمجھتے ہیں، جب کہ سنت میں مذکور ربا الفضل ان کے نزدیک بیع کی مختلف ممنوعہ صورتوں میں سے ایک صورت ہے جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے۔