قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴) (2/2)


قطعی اور ظنی دلائل کا تقابل

" کتاب الام"کے آخر میں 'کتاب جماع العلم' کے زیر عنوان امام شافعی نے اس بحث کے بعض مزید اور بہت اہم پہلوؤں پر کلام کیا ہے۔ امام صاحب نے یہاں احادیث کی قبولیت یا عدم قبولیت، اجماع کی حقیقت اور قیاس کی حجیت وغیرہ مباحث کے حوالے سے مختلف نقطہ ہاے نظر رکھنے والے گروہوں کے ساتھ ہونے والی بحثوں کی روداد بیان کی ہے۔ ان میں سے ایک اہم بحث قطعیت اور ظنیت کے حوالے سے کتاب اللہ اور احادیث کے باہمی تقابل سے متعلق ہے۔

معترض کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ کے جو احکام نازل کیے گئے ہیں، وہ قطعی ہیں اور اگر کوئی شخص ان میں سے ایک حرف کے ثبوت میں بھی شک کرے تو اسے مرتد سمجھ کر توبہ کے لیے کہا جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اب ایسے قطعی حکم کے عام یا خاص ہونے یا فرض یا مباح ہونے کا فیصلہ احادیث کی بنیاد پر کیونکر کیا جا سکتا ہے، جب کہ ان کا ثبوت یقینی نہیں اور ان کو نقل کرنے والے راویوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے متعلق علماے حدیث کے مابین اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ کسی روایت کو درست سمجھ کر قبول کرنے والے، اس کا انکار کرنے والے کو کبھی یہ نہیں کہتے کہ وہ توبہ کرے، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی راے غلط ہے۔ جب کتاب اللہ اور احادیث کے درمیان ثبوت کے لحاظ سے اتنا بنیادی فرق ہے تو پھر احادیث کو کتاب اللہ کے درجے میں رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر کتاب اللہ کے کسی حکم کے عموم وخصوص یا درجے کو طے کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ (الام ۹/ ۵- ۶)۔

اس اشکال کے جواب میں امام شافعی نے درج ذیل نکات بیان کیے ہیں:

۱۔ یہ اعتراض صرف قرآن کے عام احکامات کی تخصیص تک محدود نہیں، بلکہ قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل وتشریح پر بھی وارد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز، زکوٰۃ اور حج کے بارے میں قرآن مجید میں جو اصولی اور اجمالی حکم دیا ہے، اس کی تفصیل وتبیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے کی گئی ہے اور اس کا علم ہم تک نقل العامۃ اور خبر الخاصۃ، دونوں طریقوں سے پہنچا ہے۔ گویا نماز کے پورے احکام بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں جانے جا سکتے۔ یہی معاملہ حج اور زکوٰۃ کا ہے۔ جب کتاب اللہ کے مجمل احکام کی بہت سی تفصیلات کا علم اخبار آحاد پر منحصر ہے اور وہ قابل قبول ہیں تو اسی اصول پر کتاب اللہ کے عام احکام سے اللہ کی مراد کو جاننے کے لیے بھی اخبار آحاد کو قبول کرنا درست ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بھی حکم الہٰی کی توضیح وتبیین ہی کا ایک پہلو ہے (الام ۹/ ۷- ۸)۔

۲۔ بعض مثالوں میں کتاب اللہ کے ناسخ اور منسوخ احکام کا حتمی تعین بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔ مثلاً سورۂ بقرہ میں والدین اور اقربا کے لیے وصیت کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے (۲: ۱۸۰)، جب کہ سورۂ نساء میں انھی رشتہ داروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ترکے میں متعین حصے بھی بیان کیے ہیں (۴: ۱۰-۱۱)۔ قرآن مجید میں ایسی کوئی فیصلہ کن دلیل موجود نہیں جو یہ بتائے کہ ان میں سے منسوخ حکم کون سا ہے اور ناسخ کون سا؟ چنانچہ یہ قیاس کرنا بھی ممکن ہے کہ وصیت کے حکم کو متعین حصے مقرر کرنے کے حکم نے منسوخ کر دیا ہے اور اس کے برعکس یہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے کہ وصیت کے حکم نے متعین حصوں کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کا حتمی تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ہوتا ہے، جو خبر واحد ہے، کہ ہر حق دار کا حصہ طے ہو جانے کے بعد اب وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی(الام ۹/ ۱۰- ۱۱)۔

دوسرے مقام پر امام شافعی نے اس کی ایک دوسری مثال ذکر کی ہے۔ وہ یہ کہ سورۂ مزمل کے آغاز میں نماز تہجد کو فرض قرار دیا گیا ہے، لیکن آخری آیت کی رو سے کچھ عرصے کے بعد اس حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو ( ۷۳ : ۲۰)۔ اس رخصت کو نماز تہجد کی فرضیت کے سرے سے منسوخ ہونے پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے اور اس پر بھی کہ فرضیت تو برقرار ہے، لیکن اس کے متعین دورانیے کی پابندی منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس کی وضاحت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ہوتی ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ کر دی گئی ہے (الام ۱/ ۴۸- ۴۹)۔

۳۔ عام قانونی معاملا ت میں بھی ہم اس اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک یقینی حکم میں کسی ایسی بنیاد پر تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں جو یقینی نہیں ہوتی اور اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال کسی آدمی کو قصاص میں قتل کرنا ہے۔ کوئی شخص جس پر یہ الزام لگایا جائے کہ اس نے کسی کو قتل کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہے، اس سے پہلے اس کی جان اور مال، دونوں کو قطعی اور یقینی حرمت حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر قاضی کے سامنے دو عادل گواہ یہ گواہی دے دیں کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس کی بنیاد پر اسے قصاص میں قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، حالاں کہ ان گواہوں کی گواہی کے یقینی طور پر درست ہونے کی کوئی ضمانت موجود نہیں اور ان کا جھوٹ بولنا یا گواہی میں غلطی کا مرتکب ہونا بھی عین ممکن ہے (الام ۹/ ۱۳)۔

اس پوری بحث کا خلاصہ امام صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ کسی چیز کے ثبوت کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں اور ان میں قطعیت یا ظنیت کے اعتبار سے درجے کا واضح فرق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی ذریعہ فی نفسہٖ ایک قابل وثوق ذریعہ ہے تو اس پر فیصلے کا مدار رکھنا اور اسی نوعیت کا نتیجہ مرتب کرنا جو کسی قطعی اور یقینی ذریعے سے ثابت چیز پر رکھا جاتا ہے، علمی وعقلی طور پر بالکل درست ہے۔ لکھتے ہیں:

قلت: إنما نعطي من وجہ الإحاطةأو من جھة الخبر الصادق وجھة القیاس، وأسبابھا عندنا مختلفة، وإن أعطینا بھا کلھا فبعضھا أثبت من بعض، قال: ومثل ماذا؟ قلت: إعطائي من الرجل بإقرارہ وبالبینةوإبائہ الیمین وحلف صاحبہ، والإقرارأقوی من البینة والبینة أقوی من إباء الیمین ویمین صاحبہ، ونحنوإن أعطینا بھا عطاء واحدًا فأسبابھامختلفة.(الام۹ /۶- ۷)

''میں نے کہا کہ ہم (عام معاملات زندگی میں بھی) کسی بات کے ثبوت کا فیصلہ قطعی اور شک سے پاک علم کی بنیاد پر بھی کرتے ہیں، سچی خبر کی بنیاد پر بھی اور قیاس کی بنیاد پر بھی۔ ہمارے نزدیک ثبوت کے ذرائع مختلف ہیں اور اگرچہ ہم ان سب کو فیصلے کی بنیاد بناتے ہیں، لیکن ان میں سے بعض ثبوت کے اعتبار سے بعض سے زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دو۔ میں نے کہا کہ جیسے میں (بطور قاضی) ایک شخص کے خلاف اس کے اپنے اقرار کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں، گواہ کی گواہی کی بنیاد پر بھی، ملزم کے قسم کھانے سے انکار کی بنیاد پر بھی اور مدعی کے قسم کھانے کی بنیاد پر بھی۔ اب ان میں سے ملزم کا اقرار، گواہ کی گواہی کے مقابلے میں، اور گواہی ملزم کے قسم کھانے سے انکار یا مدعی کے قسم کھانے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ اور ہم اگرچہ ان سب بنیادوں پر ایک ہی طرح کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ثبوت کے ذرائع درجے میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔''

ظاہر قرآن میں جواز تخصیص کی بنیادیں

قرآن کے ظاہری عموم میں سنت کی بیان کردہ تخصیصات کو نسخ اور تغییر کے بجاے توضیح مراد اور تبیین پر محمول کرنے کے لیے امام شافعی نے جو استدلال پیش کیا، اس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے عموم کا اسلوب بجاے خود ایک ایسا اسلوب ہے جو متعدد احتمالات رکھتا ہے اور جب تک قرائن سے یہ واضح نہ ہو کہ متکلم کی مراد کیا ہے، الفاظ کے عموم سے حتمی طور پر یہ سمجھنا کہ عموم مراد بھی ہے، درست نہیں۔ امام صاحب نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سنت میں وارد تخصیصات کی نوعیت بھی قرآن کی مراد کی توضیح و تبیین ہی کی ہے اور انھیں تبدیلی یا نسخ سمجھنا درست نہیں۔ تاہم اس نتیجے کو مانتے ہی ایک دوسرا سوال یہ سامنے آجاتا ہے کہ اگر کلام کا عموم اپنی دلالت میں قطعی نہیں اور ہر کلام تخصیص کا محتمل ہوتا ہے تو پھر کلام کے عموم سے استدلال کی اصولی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ کوئی معنویت اور اہمیت نہیں رکھتا اور کسی بھی بنیاد پر حکم میں تخصیص پیداکی جا سکتی ہے؟

یہ سوال امام شافعی کے پیش نظر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ ان کے لیے قابل قبول نہیں، چنانچہ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ کلام کے ظاہری عموم میں خصوص کا احتمال اسی وقت قابل توجہ ہوگا جب اس کے حق میں خود قرآن یا سنت میں دلیل موجود ہو۔ اگر خود قرآن کے اندر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں تخصیص کا کوئی قرینہ نہ ہو تو ایسے عموم کو محض امکانی احتمال کی بنیاد پر ظاہر سے صرف کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کلام سرے سے اپنی دلالت سے ہی محروم ہو جائے گا۔ لکھتے ہیں:

وما کان ھکذا فھو الذي یقول لہ أظھر المعاني وأعمھا وأغلبھا والذي لو احتملت الآیة معاني سواہ کان ھو المعنی الذي یلزم أھل العلم القول بہ، إلا أن تاتي سنة النبي علیہ الصلاة والسلام تدل علی معنی غیرہ مما تحتملہ الآیة فیقولھذا معنی ما أراد اللہ تبارک وتعالیٰ.قال الشافعي رحمة اللہ علیہ: ولا یقالبخاص في کتاب اللہ تعالیٰ ولا سنة إلا بدلالة فیھما أو في واحد منھما، ولا یقال بخاص حتی تکون الآیة تحتمل أن یکون أرید بھا ذلک الخاص، فأما ما لم تکن محتملة لہ فلا یقال فیھا بما لا تحتملہ الآیة.(الام۱/ ۸۹)

''جس حکم کی نوعیت یہ ہو، اسی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت کا سب سے واضح، عام اور غالب معنی ہے اور اگر آیت اس کے علاوہ کچھ اور معنوں کا احتمال رکھتی ہو تو بھی اسے اسی (واضح اور غالب) معنی پر محمول کرنا اہل علم پر لازم ہے، الّا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے علاوہ دوسرے معنی پر، جس کا آیت احتمال رکھتی ہے، دلالت کرے اور یہ بتائے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ معنی ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب یا رسول اللہ کی سنت میں کسی حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کی دلیل ان دونوں میں یا کسی ایک میں نہ پائی جائے۔ اسی طرح آیت کے حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ خود آیت اس کا احتمال نہ رکھتی ہو کہ اس کی مراد خاص ہے۔ اگر آیت خصوص کا احتمال نہ رکھتی ہو تو غیر محتمل معنی پر آیت کو محمول نہیں کیا جائے گا۔''

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

القرآن عربي کما وصفت والأحکامفیہ علی ظاھرھا وعمومھا، لیسلأحد أن یحیل منھا ظاھرًا إلی باطن ولا عامًا إلی خاص إلا بدلالةمنکتاب اللہ، فإن لم تکن فسنة رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدل علی أنہ خاص دون عام أو باطن دون ظاھر، أو إجماع من عامة العلماءالذین لا یجھلون کلھم کتابًا ولا سنة،وھکذا السنة.ولو جاز في الحدیث أن یحال شيء منہ علی ظاھرہ إلیمعنی باطن یحتملہ کان أکثر الحدیثیحتمل عددًا من المعاني، ولا یکونلأحد ذھب إلی معنی منھا حجة علیأحد ذھب إلی معنی غیرہ، ولکن الحق فیھا واحد لأنھا علی ظاھرھاوعمومھا، إلا بدلالة عن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم أو قول عامةأھل العلم بأنھا علی خاص دون عاموباطن دون ظاھر، إذا کانت إذا صرفت إلیہ عن ظاھرھا محتملة للدخول في معناہ.(الام۱۰/ ۲۱-۲۲)

''قرآن، جیسا کہ میں نے بیان کیا، عربی ہے اور اس کے احکام ظاہری معنی پر اور عموم پر محمول ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کے ظاہری معنی میں تاویل کرے یا عام حکم کو خاص قرار دے، جب تک کہ اس پر اللہ کی کتاب میں دلیل موجود نہ ہو۔ اگر کتاب اللہ میں دلیل نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس پر دلالت کرتی ہو کہ یہ حکم خاص ہے، عام نہیں یا اس کے ظاہری معنی کے علاوہ دوسرا معنی مراد ہے۔ یا پھر اکثر اہل علم کا اس پر اتفاق ہو جو سب کے سب کتاب اور سنت کی مراد سے ناواقف نہیں ہو سکتے۔ یہی حکم سنت میں وارد احکام کا ہے۔ اگر کسی حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر کسی دوسرے معنی پر محمول کرنا،جس کا وہ احتمال رکھتی ہو، جائز ہو تو اکثر احادیث متعدد معانی کا احتمال رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جو شخص ان میں سے جو بھی معنی اختیار کرے گا، اس کے پاس دوسرے کے مقابلے میں، جس نے کوئی دوسرا معنی اختیار کیا ہے، کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ لیکن حدیث کا صحیح مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ احادیث اپنے ظاہری معنی اور عموم پر ہی محمول ہیں، الّا یہ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کسی دوسری حدیث میں) یا اکثر اہل علم کی راے سے اس کی وضاحت ہوتی ہو کہ وہ عام نہیں، بلکہ خاص ہے اور اس کا ظاہری معنی نہیں، بلکہ کوئی دوسرا معنی مراد ہے۔ اس میں یہ شرط ہے کہ اگر حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر جس معنی پر محمول کیا جائے، حدیث اس کا احتمال رکھتی ہو۔''

ایک اور بحث میں لکھتے ہیں:

قال الشافعي: فإذا لم تکن سنة وکان القرآن محتملًا فوجدنا قول أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلموإجماع أھل العلم یدل علی بعض المعانيدون بعض قلنا: ھم أعلم بکتاب اللہ عزوجل وقولھم غیر مخالف إنشاء اللہ کتاب اللہ، وما لم یکن فیہسنة ولا قول أصحاب النبي صلی اللہعلیہ وسلم ولا إجماعیدل منہ علی ما وصفت من بعض المعاني دونبعض فھو علی ظھورہ وعمومہ لا یخصمنہ شيء دون شيء، وما اختلف فیہ بعض أصحاب النبي صلی اللہعلیہ وسلم أخذنا منہ بأشبھہ بظاھرالقرآن.(الام۸/ ۵۵)

''اگر کسی مسئلے میں سنت تو نہ ہو اور قرآن (تخصیص کا) احتمال رکھتا ہو، اور ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول یا اہل علم کی اجماعی راے مل جائے جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتی ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان کی بات اللہ نے چاہا تو کتاب اللہ کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر کسی مسئلے میں سنت بھی نہ ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول اور اجماع بھی نہ ہو جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتا ہو تو ایسا حکم اپنے ظاہری معنی اور اپنے عموم پر برقرار رہے گا اور اس میں کسی چیز کی تخصیص نہیں کی جائے گی۔ اور جس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا اختلاف ہو تو اس میں ہم وہ بات قبول کریں گے جو ظاہر قرآن کے زیادہ مطابق ہو۔''س

مذکورہ اقتباسات اوران کے علاوہ متعلقہ مثالوں میں امام شافعی کی توجیہات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے نقطۂ نظر سے آیت یا حدیث کے ظاہری عموم میں تخصیص کی درج ذیل بنیادیں متعین کی جا سکتی ہیں:

۱۔ قرآن مجید یا حدیث میں حکم کے سیاق سے مخاطب کی تحدید واضح ہو۔

مثلاً'يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي'(البقرہ ۲: ۱۷۸) میں ابتداے خطاب ہی سے واضح ہے کہ اس کے مخاطب مسلمان ہیں، چنانچہ اسے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مابین قصاص کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

۲۔ حکم کے داخلی قرائن، جو لفظی بھی ہو سکتے ہیں اور عقلی بھی، اس کے دائرۂ اطلاق کی تحدید کو واضح کر رہے ہوں۔

مثلا ً'وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا'(المائدہ ۵ : ۹۶) کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، اور وہ جانور زیربحث نہیں جو ویسے بھی حرام ہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا (الام ۳/ ۴۶۴- ۴۶۵) ۔ چونکہ درندوں اور دیگر موذی جانوروں کو قتل کرنے سے روکنا آیت کی مراد نہیں ہے، اس لیے حدیث میں پانچ موذی جانوروں کو حدود حرم کے اندر اور باہر قتل کرنے کی جو اباحت بیان کی گئی ہے، اس سے قرآن کی ممانعت میں کوئی استثنا یا تخصیص بھی واقع نہیں ہوتی۔

اسی طرح قرآن مجید میں چار عورتوں سے نکاح کے جواز (النساء ۴: ۳) کے مخاطب آزاد مرد ہیں نہ کہ غلام، کیونکہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا اختیار آزاد مردوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی دوسری دلیل سے غلام کے لیے بیویوں کی تحدید چار سے کم ثابت ہو تو اسے قرآن کی تخصیص نہیں کہا جا سکتا۔

۳۔ نصوص میں مذکور دیگر احکام پر قیاس سے واضح ہو رہا ہو کہ کسی حکم میں عموم سے خصوص مراد ہے۔

اس کی مثال غلام اور باندی کی طلاق اور عدت کے مسائل ہیں۔ قرآن مجید میں مردوں کے لیے تین تک طلاقوں کا اختیار بیان کیا (البقرہ ۲: ۲۲۸- ۲۲۹)، جب کہ عورتوں کو تین قروء (البقرہ ۲: ۲۲۸) یا تین مہینوں تک (الطلاق ۶۵ : ۴) عدت گزارنے کی ہدایت کی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ احکام اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ ان سے مراد عموم ہو اور آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ غلاموں اور باندیوں کے لیے بھی یہی حکم ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا اطلاق صرف آزاد مرد وعورت پر مقصود ہو۔ اب ہم نے بعض دیگر احکام میں دیکھا کہ شریعت نے آزاد اور غلام میں فرق کیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے غلاموں کے لیے زنا کی سزا آزاد مرد وعورت سے نصف مقرر کی ہے (النساء ۴: ۲۵)۔ اسی طرح بعض اجماعی مسائل سے بھی یہ فرق ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً غلاموں کی گواہی قابل قبول نہیں اور وہ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت کے حق دار بھی نہیں۔ اسی طرح اس پر اجماع ہے کہ شادی شدہ غلام کو بدکاری کرنے پر سنگ سار نہیں کیا جائے گا۔

ان تمام دلائل پر قیاس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باندی کے لیے طلاق اور عدت کے احکام بھی آزاد عورت سے مختلف ہونے چاہییں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے لیے استبراء رحم کا طریقہ ایک ماہواری گزارنے کو قرار دیا ہے (جو اس لحاظ سے آزاد عورت سے مختلف ہے کہ امام شافعی کے نزدیک آزاد عورت کی عدت ماہواری کے لحاظ سے نہیں، بلکہ طہر کے لحاظ سے ہوتی ہے) ، اس لیے مذکورہ احکام پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم کا اجماع ہے کہ باندی کی طلاقوں کی تعداد اور عدت کا دورانیہ بھی آزاد عورت سے نصف، یعنی دو طلاقیں اور دو ماہواریاں ہے (الام ۶/ ۵۵۰- ۵۵۱) ۔

۴۔ ایک ہی مسئلے سے متعلق وارد مختلف احکام، جو قرآن میں بھی ہو سکتے ہیں اور سنت میں بھی، باہم ایک دوسرے کے ظاہری عموم کی تخصیص کر رہے ہوں۔

مثلاً زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کو آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ مخصوص کرنے کی دلیل قرآن مجید میں ہی موجودہے، جب کہ شادی شدہ زانی کے لیے کوڑوں کے بجاے رجم کی سزا سنت میں بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح 'النَّفْسَ بِالنَّفْسِ' (المائدہ ۵ : ۴۵) میں قصاص کا حکم بظاہر عام ہے، تاہم حدیث کی رو سے مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ 'النَّفْسَ بِالنَّفْسِ' سے مراد ایسے دو افراد کے مابین قصاص ہے جن کی جانیں حرمت کے اعتبار سے مساوی ہوں۔

۵۔ صحابہ کے اقوال سے ظاہری عموم کو خصوص پر محمول کرنا ثابت ہو یا اہل علم کا اجماعی فہم یہ بتاتا ہو کہ قرآن کا ظاہری معنی یا ظاہری عموم مراد نہیں۔

مثال کے طور پر قرآن مجید کے حکم: 'وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ'(الطلاق ۶۵ : ۶) کی دلالت اس پر واضح ہے کہ حاملہ مطلقہ کے علاوہ کوئی دوسری مطلقہ دوران عدت میں نفقہ کی حق دار نہیں۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق فاطمہ کو، جنھیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں، نفقہ کا حق دار تسلیم نہیں کیا۔ یہی حکم ایسی مطلقہ کا بھی ہونا چاہیے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو، تاہم اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مطلقہ رجعیہ کا شوہر دوران عدت میں اسے نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اگر یہاں مطلقہ رجعیہ کو نفقہ دیے جانے پر اہل علم کا اجماع نہ ہو تو قرآن کے ظاہر کی رو سے وہ نفقے کی حق دا رنہیں بنتی (الام ۶/ ۲۸۰)۔

اسی طرح قصاص کی آیت میں'اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰي بِالْاُنْثٰي'(البقرہ۲: ۱۷۸) کے الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ عورت کو عورت ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے، یعنی اگر عورت کسی مرد کو یا مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو ان کے مابین قصاص نہیں ہوگا۔ تاہم چونکہ امت کے اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کو مرد کے اور مرد کو عورت کے قصاص میں قتل کیا جائے گا، اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا یہ ظاہری معنی مراد نہیں۔ امام شافعی نے شان نزول کی روایات کی روشنی میں آیت کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں عورت کو عورت کے بدلے میں قتل کرنے کی تخصیص اس واقعاتی تناظر میں کی گئی ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، کیونکہ عرب کے بعض قبائل خود کو دوسروں سے افضل تصور کرتے تھے اور اگر کسی دوسرے قبیلے کی عورت ان کے کسی فرد کو قتل کر دیتی تو وہ بدلے میں اس عورت کے بجاے اسی قبیلے کے کسی مرد کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے افضلیت کے اس تصور کی نفی کی ہے اور فرمایا ہے کہ جس عورت نے قتل کیا ہے، اسی عورت کو قتل کیا جائے گا (الام ۷/ ۱۶۰- ۱۶۱)۔

تاہم صحابہ یا دیگر اہل علم کے مابین اختلاف کی صورت میں امام شافعی صحابی کی راے کی بنیاد پر حدیث کی تخصیص کے جواز کے قائل نہیں۔ چنانچہ معاذ بن جبل اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی راے یہ تھی کہ حدیث میں مسلمان کے، کافر کا وارث بننے کی جو ممانعت آئی ہے، وہ صرف مشرکین سے متعلق ہے، جب کہ اہل کتاب کی وراثت مسلمان کو مل سکتی ہے۔ امام شافعی اس مسئلے میں اور ایسی تمام مثالوں میں متعلقہ آیات واحادیث کو ان کے عموم پر برقرار رکھتے ہیں اور بعض صحابہ کی راے کی وجہ سے ان کی تخصیص کو درست نہیں سمجھتے (الام ۷/ ۴۲۴۔ ۹/ ۱۳۶)۔

۶۔ اگر حدیث کو نقل کرنے والا راوی یہ تصریح کرے کہ اس حکم کا تعلق فلاں مخصوص صورت سے ہے تو امام شافعی، حدیث کی حد تک، اسے جواز تخصیص کا ایک قرینہ تسلیم کرتے ہیں (الام ۱۰/ ۴۰)۔ مثلاً قضاء بالیمین مع الشاہد کی روایت میں حدیث کے ایک راوی، عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ مالی امور سے متعلق مقدمے میں فرمایا تھا۔ چونکہ فیصلے کا اصل طریقہ دو گواہ ہی ہے، جب کہ قضاء بالیمین مع الشاہد کی نوعیت استثنائی حکم کی ہے، اس لیے اسے اسی نوعیت کے مقدمے میں اختیار کیا جائے گا جس میں آپ نے اختیار فرمایا (الام ۸/ ۱۶)۔

خلاصۂمباحث

کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو امام شافعی نے جس طرح متعین کیا ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:

۱۔ بیان احکام میں کتاب اللہ کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور سنت کا وظیفہ قرآن کے احکام کی تفصیل وتوضیح اور ان سے مزید احکام کا استنباط ہے۔

۲۔ سنت میں بیان ہونے والے ایسے احکام جو قرآن سے زائد ہیں، یا تو وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے گئے اور یا کتاب اللہ سے ہی مستنبط ہیں۔

۳۔ قرآن مجید میں عموم کے اسلوب میں بیان کیے جانے والے احکام کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ بعض جگہ یقیناً عموم مراد ہوتا ہے، لیکن بہت سے مقامات پر سیاق وسباق اور عقلی قرائن سے واضح ہو رہا ہوتا ہے کہ فلاں اور فلاں صورتیں عموم کے تحت داخل نہیں۔ اسی طرح بعض جگہ قرائن اور دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ دراصل کچھ مخصوص افراد کا ذکر عموم کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔

۴۔ چونکہ عموم کا اسلوب ارادۂ عموم میں قطعی نہیں، بلکہ محتمل ہوتا ہے، اس لیے جب خود متکلم کی طرف سے کسی مستند دلیل سے کلام کی تخصیص ثابت ہو جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عموم، متکلم کی مراد نہیں تھا۔ چنانچہ ایسی تخصیص کو مراد ِ متکلم میں تبدیلی یا تغییر نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کی نوعیت متکلم کی مراد کی وضاحت کی ہوگی۔یوں سنت میں وارد تمام تخصیصات قرآن کی مراد کی وضاحت اور بیان ہی کا درجہ رکھتی ہیں۔

۵۔ کتاب اللہ اور سنت،دونوں کا منبع ایک ہی چیز یعنی وحی الہٰی ہے، اس لیے اطاعت واتباع کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ جیسے قرآن میں الفاظ عموم میں بیان ہونے والے حکم میں تخصیص کی وضاحت قرآن مجید کی کوئی دوسری آیت کر سکتی ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کوئی حدیث بھی کر سکتی ہے۔

۶۔ عموم پر مبنی اصل حکم کا قطعیت سے ثابت ہونا اور تخصیص کا کسی ظنی دلیل، یعنی خبر واحد سے ثابت ہونا درست ہے، اس لیے کہ انسان کو عملی زندگی میں قطع ویقین کے ساتھ ساتھ ظن غالب کا بھی مکلف ٹھیرایا گیا ہے۔ چنانچہ ظنی درجے میں ہی سہی، کسی حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو اس کے ذریعے سے قرآن کے عام حکم کی تخصیص کرنا جائز ہے۔

۷۔ سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی، اور اسی طرح قرآن کے ذریعے سے سنت کے کسی حکم کی تنسیخ نہیں کی جا سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ کتاب اللہ میں وارد حکم کا ناسخ بھی کتاب اللہ میں ہی ہو اور سنت کے کسی حکم کا ناسخ بھی سنت میں ہی بیان ہوا ہو۔

۸۔ ارادۂ عموم کے خلاف کوئی دلیل یا قرینہ نہ ہونے کی صورت میں اسے اپنے ظاہری عموم پر برقرار رکھنا ضروری ہے، چنانچہ خود قرآن یا حدیث میں جب تک کسی حکم کی تخصیص کی دلیل موجود نہ ہو، محض راے سے کسی منصوص حکم کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔

[باقی]

____________