قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۲) (1/2)


منحرف گروہوں کے فکری رجحانات اور فقہاے صحابہ

قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور قرآن مجید کے عمومات سے استدلال کے ضمن میں بحث ومباحثہ کا دوسرا دائرہ وہ تھا جس میں فقہاے صحابہ کا سامنا بعض منحرف گروہوں کے اس فکری رجحان سے تھا کہ دینی احکام اور پابندیوں کا ماخذ قرآن مجید میں تلاش کرنے پر اصرار کیا جائے اور اصولاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل تشریعی حیثیت پر سوال نہ اٹھاتے ہوئے بھی عملاً احادیث میں منقول احکام وہدایات کو زیادہ اہم نہ سمجھا جائے۔ اس رجحان کی پیشین گوئی اور اس کے حوالے سے تنبیہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر فرمائی تھی، جیسا کہ ماسبق میں نقل کی گئی بعض احادیث سے واضح ہوتا ہے۔

عہد صحابہ میں یہ انداز فکر خوارج اور بعض دیگر منحرف گروہوں کی طرف سے سامنے آیا۔ نصوص کے فہم اور ان سے استدلال کے ضمن میں خوارج کا بنیادی رجحان حرفیت، یعنی کلام کے بالکل ظاہری اور لفظی معنی پر اصرار سے عبارت تھا۔ اس رجحان کے تحت انھوں نے جنگ صفین میں حکمین کی تقرری کو قبول کرنے پر 'اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ' سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا علی اور ان کے ساتھیوں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا (تاریخ الامم والملوک، ۱/ ۱۱۰۴، ۱۱۰۷، ۱۱۱۳) اور اسی نقطۂ نظر کی توسیع کرتے ہوئے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے مسلمانوں کی تکفیر اور جہنم سے نکالے جانے کے امکان کو کلیتاً مسترد کرنے کا موقف اختیار کیا (جصاص، احکام القرآن ۲/ ۴۳۹۔ طرح التثریب ۸/ ۲۷۸۔ شرح مشکل الآثار ۱۴/ ۳۴۶)۔

خوارج کے ہاں حرفیت کے رجحان کا ایک ظہور بہت سی ایسی احادیث کے انکار کی صورت میں بھی ہوا جو بظاہر قرآن مجید کی کسی آیت سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ خوارج نے اس نوعیت کی احادیث کو رد کرنے کے لیے قرآن مجید کے ظاہر کو اپنا بنیادی مستدل قرار دیا۔ مثال کے طور پر وہ قیامت کے دن نیک لوگوں کی سفارش پر گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے جانے کے متعلق احادیث کو یہ کہہ کر رد کرتے تھے کہ یہ قرآن مجید کے خلاف ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ دوزخی جب دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو انھیں دوبارہ آگ میں دھکیل دیا جائے گا (الحج ۲۲: ۲۲)۔ اسی طرح قرآن کریم میں مومنوں کو دعا سکھائی گئی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں داخل کیا تو اسے رسوا کر دیا اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا (آل عمران ۳: ۱۹۲۔ مسلم، رقم ۴۷۳)۔ ان آیات سے خوارج یہ استدلال کرتے تھے کہ جس شخص کو بھی، چاہے وہ کافر ہو یا مومن، جہنم میں داخل کیا جائے گا، اسے کسی بھی حال میں اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا۔

حرفیت ہی کے رجحان کے تحت خوارج نے بہت سے امور میں ایسے شرعی احکام کو قبول کرنے سے بھی انکار کیا جو مشہور ومعروف احادیث سے تو ثابت تھے، لیکن قرآن مجید میں مذکور نہیں تھے یا قرآن کے ظاہری حکم میں تحدید وتخصیص کا تقاضا کرتے تھے۔ ابن حجر نے اس ضمن میں خوارج کے رجحان کا بنیادی نکتہ یوں واضح کیا ہے:

ھم فرق کثیرة، لکن من أصولھم المتفق علیھا بینھم الأخذ بما دل علیہ القرآن ورد ما زاد علیہ من الحدیث مطلقًا.(فتح الباری ۱/ ۳۹۶)''خوارج کے مختلف فرقے ہیں، لیکن ان کے متفقہ اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ جتنا حکم قرآن نے بیان کیا ہے، اسے لے لیا جائے اور حدیث میں اس سے متعلق جو اضافے وارد ہوئے ہیں، انھیں مطلقاً رد کر دیا جائے۔''

اس رجحان کے حوالے سے خوارج کے مختلف گروہوں سے منقول بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ماہواری کی حالت میں فوت شدہ نمازوں کی قضا سے مستثنیٰ قرار دیا۔ خوارج اس استثنا کو نماز کی فرضیت اور فوت ہو جانے کی صورت میں نماز کی قضا کے حکم کے منافی سمجھتے تھے اور ماہواری سے پاک ہونے پر ان دنوں کی نمازوں کی قضا کو بھی خواتین پر لازم قرار دیتے تھے (بخاری، رقم ۳۱۷)۔

۲۔ مشہور ومعروف احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے مکمل وضو کے بعد موزے پہننے کی صورت میں وضو کی تجدید کرتے ہوئے پاؤں کو دھونے کے بجاے موزوں پر مسح فرمایا اور اس سے متعلق مختلف ہدایات دیں (مسلم، رقم ۶۲۲- ۶۳۲، ۶۳۹- ۶۴۱)۔ تاہم خوارج وضو میں موزوں پر مسح کرنے کے منکر تھے اور ان کا استدلال یہ تھا کہ قرآن مجید میں وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے پاؤں کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے موزوں پر مسح کرنا قرآن کے حکم کے خلاف ہے (نیل الاوطار ۱/ ۲۲۴)۔

۳۔ تیسری طلاق کے بعد قرآن نے یہ پابندی عائد کی ہے کہ عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور اگر وہ بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ اور اس کا سابقہ شوہر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں (البقرہ ۲ :۲۳۰)۔ بظاہر الفاظ کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ دوسرے شوہر سے صرف عقد نکاح ہو جانا کافی ہے، تاہم ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک دوسرا شوہر بیوی سے ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی (بخاری، رقم ۵۰۳۱)۔ خوارج کے بعض گروہ اس کو قبول نہیں کرتے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ اگر دوسرا شوہر محض ایجاب وقبول کے بعد بھی عورت کو طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی (ابن قدامۃ، المغنی ۷/۳۹۸) [1]۔

۴۔ خوارج نے عموماً شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنے اور شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کو قبول کرنے سے انکار کیا، کیونکہ قرآن مجید میں ایسا کوئی فرق نہیں کیا گیا اور زانی مرد وعورت کے لیے مطلقاً سو کوڑے کی سزا بیان کی ہے (جصاص، احکام القرآن ۲/ ۱۰۸ ، ۳/ ۲۶۳)۔

۵۔ اسی طرح انھوں نے پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کو جائز قرار دیا اور اس ضمن میں احادیث میں وارد ممانعت کو قبول نہیں کیا، کیونکہ قرآن مجید میں ظاہراً صرف دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی پابندی بیان کی گئی ہے (جصاص، احکام القرآن ۲/ ۱۳۴، ۱۳۵)۔

۶۔ قرآن مجید میں چوری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹنے کی سزا بیان کی گئی ہے اور اس ضمن میں کوئی مزید قید یا تحدید بیان نہیں کی گئی۔ خوارج نے اس سے یہ اخذ کیا کہ ہاتھ کا لفظ چونکہ پورے بازو کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے چور کا ہاتھ کندھے کاٹ کر الگ کیا جائے گا (جصاص، احکام القرآن ۲/ ۴۲۱)۔ اسی طرح انھوں نے اس پر اصرار کیا کہ ہاتھ کاٹنے کے لیے مسروقہ مال کی قیمت کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا اور معمولی سے معمولی چیز کی چوری پر بھی یہ سزا نافذ کی جائے گی (طرح التثریب ۸/ ۲۳، ۲۴)۔ یوں انھوں نے ان احادیث کو رد کر دیا جن میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ گٹے سے کاٹا اور ہاتھ کاٹنے کے لیے یہ شرط بیان کی کہ چور نے اتنی مالیت کی چیز چرائی ہو جس کی قیمت کم سے کم ایک ڈھال کے برابر ہو۔

۷۔ قرآن مجید میں قتل خطا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دے تو وہ مقتول کے ورثا کو دیت کرے (النساء ۴: ۹۲)۔ ظاہراً دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری قاتل پر ہی عائد ہوتی ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قاتل کی عاقلہ، یعنی قبیلے کو بھی شریک قرار دیا۔ خوارج قرآن کے ظاہری الفاظ کی بنا پر اس حدیث کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور دیت کی ادائیگی کی ذمہ داری سرتاسر قاتل پر ہی عائد کرتے تھے (نیل الاوطار ۷/ ۹۸)۔

۸۔ قرآن مجید میں والدین اور اولاد، نیز میاں بیوی اور بہن بھائیوں کے ایک دوسرے کے وارث بننے کے احکام بیان کیے گئے ہیں اور بظاہر ان میں کوئی قید مذکور نہیں (النساء ۴: ۱۰، ۱۱)، تاہم احادیث اور صحابہ کے تعامل سے ثابت ہے کہ وارث اگر اپنے مورث کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اسے وراثت سے حصہ نہیں دیا جائے گا۔ اس تخصیص کے، بظاہر قرآن کے عموم کے خلاف ہونے کی وجہ سے خوارج نے اسے قبول نہیں کیا اور ان کی راے یہ تھی کہ عمداً مورث کو قتل کرنے والا بھی وراثت میں حصہ دار ہوگا (المغنی ۹/ ۱۵۰)۔

فقہاے صحابہ کا اسلوب استدلال

اخذ ہدایت میں قرآن کریم پر انحصار کرنے یا قرآن کے ظاہر سے استدلال کرتے ہوئے احادیث کو ترک کر دینے کے اس رجحان کے مقابلے میں فقہاے صحابہ وتابعین کے موقف کا بنیادی اور اہم ترین نکتہ یہ تھا کہ کتاب اللہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی واجب الاتباع ہے اور ہدایت کا ماخذ ہونے میں قرآن اور سنت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جسم کو گدوانے والی، ابروؤں کو باریک کرنے والی اور دانتوں میں مصنوعی طور پر فاصلہ پیدا کرنے والی خواتین پر لعنت کی تو ام یعقوب نے اس پر تعجب ظاہر کیا۔ ابن مسعود نے کہا کہ جس پر اللہ کے رسول نے لعنت کی ہو، اور وہ بات اللہ کی کتاب میں بھی ہو، میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں؟ ام یعقوب نے کہا کہ بخدا، میں نے پورا قرآن پڑھا ہے، لیکن یہ بات مجھے اس میں نہیں ملی۔ ابن مسعود نے کہا کہ اگر تم نے صحیح معنوں میں پڑھا ہوتا تو مل جاتا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی:'وَمَا٘ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا' (بخاری، رقم ۵۶۱۸)۔

ابو البختری الطائی کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سلم کے متعلق پوچھا اور کہا کہ :

إنا ندع أشیاء لا نجد لھا في کتاب اللہ عز وجل تحریمًا، قال: إنا نفعل ذلک، نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع النخل حتی یؤکل. (شرح معانی الآثار، رقم ۳۶۴۵)''ہم بہت سی ایسی چیزیں بھی ترک کر دیتے ہیں جن کے متعلق اللہ کی کتاب میں حرمت کا حکم ہمیں نہیں ملتا۔ ابن عباس نے کہا کہ ہاں، ہم ایسے ہی کرتے ہیں (کیونکہ اللہ کے رسول کی بیان کردہ حرمت کا حکم بھی وہی ہے جو قرآن کا ہے، اور) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔''

عبد اللہ بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہمیں کتاب اللہ میں خوف کی حالت میں تو نماز قصر کرنے کا ذکر ملتا ہے، لیکن سفر میں نماز قصر کا ذکر نہیں ملتا؟ ابن عمر نے جواب میں فرمایا کہ:

إن اللہ بعث إلینا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم ولا نعلم شیئًا، فإنما نفعل کما رأینا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم یفعل. (ابن ماجہ، رقم ۱۰۶۹)''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ہمیں کسی بات کا علم نہیں تھا، (یعنی ہم نے جو کچھ سیکھا، آپ سے ہی سیکھا)، اس لیے ہم تو ویسے ہی کرتے ہیں، جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔''

ایک خاتون نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ کو ماہواری کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازیں قضا کرنی چاہییں؟ سیدہ عائشہ نے کہا کہ:

أحروریة انت؟ کنا نحیض مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم فلا یأمرنا بہ. (بخاری، رقم ۳۱۷)

''کیا تو حروری، (یعنی خارجی) ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ماہواری آتی تھی تو آپ ہمیں (بعد میں) نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے۔''

قرآن کے بیان کردہ احکام پر اکتفا کرنے اور احادیث میں وارد احکام کو نظر انداز کرنے کے زاویۂ نظر کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے صحابہ وتابعین کے ہاں یہ استدلال بہت عام ملتا ہے کہ خوارج وغیرہ بھی سنت کو ماخذ استدلال مانے بغیر، صرف قرآن پر انحصار کرتے ہوئے بہت سے بنیادی دینی احکام حاصل نہیں کر سکتے۔

ابو نضرۃ بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث بیان کی تو ایک شخص نے کہا کہ لوگو، اللہ کی کتاب کی بات بیان کیا کرو اور اس کے علاوہ کسی اور کی بات نہ بیان کیا کرو۔ عمران بن حصین نے اس سے کہا کہ تم ایک احمق آدمی ہو۔ کیا تمھیں کتاب اللہ میں یہ بات ملتی ہے کہ ظہر کی نماز کی چار رکعتیں ہیں جن میں جہری قراء ت نہ کی جائے؟ پھر انھوں نے نمازوں کی رکعات اور زکوٰۃ کے نصابات کا ذکر کیا اور کہا کہ:

أتجد ھذا مفسرًا في کتاب اللہ؟ إن اللہ قد أحکم ذلک والسنة تفسر ذلک. (مسند عبد اللہ بن المبارک، رقم ۲۳۴۔ الشریعۃ للآجری، رقم ۹۶)''کیا تمھیں یہ ساری تفصیل کتاب اللہ میں ملتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اصولی طور پر ذکر کیا ہے، جب کہ سنت ان کی تشریح وتفصیل کرتی ہے۔''
ایک دوسری روایت کے مطابق عمران بن حصین نے فرمایا:

من أین تجدون في کتاب اللہ الصلاة الخمس وفي کل مائتین خمسة دراھم وفي کل أربعین دینارًا دینار وفي کل عشرین نصف دینار؟ أشیاء من ھذا عددھا، ولکن خذوا کما أخذنا. (مسند البزار، رقم ۳۰۲۱) ''تمھیں کتاب اللہ میں پانچ نمازوں کا، اور ہر دو سو درہم میں پانچ درہم اور ہر چالیس دینار میں ایک دینار اور ہر بیس دینار میں نصف دینار زکوٰۃ لینے کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ عمران بن حصین نے اس نوعیت کی اور باتوں کا بھی ذکر کیا (اور کہا کہ) جیسے ہم نے یہ احکام (سنت سے) لیے ہیں، اسی طرح تم بھی لو۔''

خوارج میں سے دو آدمی عمر بن عبد العزیز کے پاس آئے اور زانیوں کو رجم کرنے اور پھوپھی کے ساتھ بھتیجی یا خالہ کے ساتھ بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی حرمت پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ باتیں قرآن مجید میں نہیں ہیں۔ عمر بن عبد العزیز نے ان سے کہا کہ اللہ نے تم پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ عمر بن عبد العزیز نے ان سے نمازوں کی رکعتوں کی تعداد پوچھی جو انھوں نے بتائی۔ انھوں نے زکوٰۃ کی مقدار اور نصابات سے متعلق دریافت کیا اور انھوں نے وہ بھی بتا دیے۔ عمر بن عبد العزیز نے پوچھا کہ یہ باتیں تمھیں کتاب اللہ میں کس جگہ ملتی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ کتاب اللہ میں تو نہیں ملتیں۔ عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ پھر تم نے یہ کیسے قبول کی ہیں؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے اور آپ کے بعد مسلمانوں نے بھی۔ عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ پھر جو باتیں تم پوچھ رہے ہو، ان کا معاملہ بھی یہی ہے (المغنی ۹/ ۵۲۳)۔

جہاں تک قرآن مجید کے ظاہری عمومات سے استدلال کرنے کے رجحان کا تعلق ہے، جس کا ایک نتیجہ بعض صورتوں میں احادیث کو رد کرنے کی صورت میں نکلتا تھا، تو فقہاے صحابہ وتابعین نے اس کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے۔

مثال کے طور پر ایک اسلوب یہ تھا کہ جن آیات سے کوئی خاص نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے، ان کے سیاق وسباق اور داخلی دلالتوں یا دیگر آیات کی روشنی میں فہم کی غلطی کو واضح کیا جائے۔

طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ میں شفاعت کے سخت ترین منکروں میں سے تھا۔ میری ملاقات جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کے سامنے قرآن مجید کی وہ تمام آیات پڑھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ہمیشہ کے لیے آگ میں ڈالے جانے کا ذکر کیا ہے۔ جابر بن عبد اللہ نے کہا کہ اگر میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہو تو یہ بہرے ہو جائیں، آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ جہنم سے نکل آئیں گے۔ جابر نے کہا کہ جو آیات تم پڑھتے ہو، وہ ہم بھی پڑھتے ہیں، لیکن ان سے مراد مشرکین ہیں (مسلم، رقم ۴۷۳۔ شرح مشکل الآثار ۱۴/ ۳۴۹)۔

خوارج کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مباحثے میں بھی اس اسلوب کی مثال ملتی ہے۔ خوارج کا کہنا تھا کہ اللہ کے علاوہ کسی کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں، اس لیے جنگ صفین میں علی، اپنے اور معاویہ کے مابین ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن العاص کو حکم تسلیم کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ابن عباس نے ان کے سامنے قرآن مجید کی دوہدایات کا حوالہ پیش کیا جن میں فیصلے کے لیے انسانوں کو حکم بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ ابن عباس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں جانور کو شکار کرنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جیسا جانور کفارے کے طور پر قربان کرے اور اس کا فیصلہ مسلمانوں میں سے دو عادل آدمی کریں گے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے مابین ناچاقی کی صورت میں دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک حکم مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے جو دونوں کے مابین تصفیہ کروانے کی کوشش کریں۔ ابن عباس نے کہا کہ مذکورہ دو معاملات زیادہ اہم ہیں یا ہزاروں مسلمانوں کے خون کی زیادہ اہمیت ہے؟ اس لیے اگر مسلمانوں کی باہمی خون ریزی سے بچنے کے لیے کسی کو حکم بنایا گیا ہے تو یہ 'اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ' کے خلاف نہیں ہے (نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۴۶)۔

ایک اسلوب استدلال یہ تھا کہ اختیار کردہ انداز استدلال کے بعض ایسے منطقی نتائج کی طرف توجہ دلائی جائے جو خود مخاطب کو بھی تسلیم نہیں اور اس طرح یہ واضح کیا جائے کہ یہ انداز استدلال درست نہیں۔

مثال کے طور پر خوارج کا سیدنا علی پر یہ اعتراض تھا کہ انھوں نے جنگ صفین میں مدمقابل فریق کے فوجیوں کو قیدی کیوں نہیں بنایا؟ خوارج کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف لڑی جانے والی جنگ شرعاً جائز تھی تو جنگ کے احکام کے مطابق انھیں قیدی بنایا جانا چاہیے تھا۔ فقہاے صحابہ اپنی فقہی بصیرت کی بنا پر اس سے واقف تھے کہ جنگ میں قیدی وغیرہ بنانے کے عمومی احکام کفار کے ساتھ لڑائی کے تناظر میں دیے گئے ہیں، جب کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں اللہ تعالیٰ کامنشا یہ نہیں ہے، کیونکہ کفار کے خلاف قتال اور شکست خوردہ کفار کی توہین و تذلیل ایک مطلوب امر ہے، جب کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی سرے سے مطلوب ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اس لیے جنگ میں ہارنے والے مسلمانوں پر قیدی بنانے جیسے احکام نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کا منشا نہیں ہوسکتا۔ تاہم خوارج کے ظاہر پرست اور حرفیت پسند ذہن کو اس استدلال پر مطمئن کرنا مشکل تھا، چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں ان کی غلطی اس طرح سمجھائی کہ یہ بتاؤ کہ کیا جنگ جمل میں ام المومنین سیدہ عائشہ کو جنگ کے نتیجے میں قیدی بنانا اور ان پر باندی کے احکام جاری کرنا درست ہوتا؟ اگر تم کہو کہ ہاں تو قرآن مجید نے امہات المومنین کے بارے میں جو احکام دیے ہیں، یہ بات ان کے خلاف ہوگی اور اگر یہ کہو کہ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیدی بنانے کے احکام عمومی اور ہر لڑائی پر قابل اطلاق نہیں ہیں (نسائی، السنن الکبریٰ، رقم ۷۳۴۶)۔

ایک اور اسلوب یہ تھا کہ زیر بحث مسئلے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد یا عمل کے حوالے سے یہ واضح کیا جائے کہ قرآن سے جو مدعا سمجھا جا رہا ہے، وہ غلط ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیر و تشریح فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے بعض اکابر صحابہ کے ہاں سے یہ خاص انداز فکر ملتا ہے کہ وہ قرآن مجید کے متشابہ اور ذو الوجوہ بیانات سے گم راہ گروہوں کے استدلالات کی غلطی کو واضح کرنے کے لیے جوابی استدلال قرآن کے بجاے سنت سے کرنے کو بہتر اور زیادہ موثر طریقہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ عمر بن الاشج روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر نے کہا کہ:

أنہ سیأتي ناس یجادلونکم بشبھاتالقرآن، فخذوھم بالسنن فإن أصحاب السنن أعلم بکتاب اللہ عزوجل. (سنن الدارمی، رقم ۱۲۱، ۱/ ۲۴۱)''عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمھارے ساتھ قرآن کی متشابہ آیات کی بنیاد پر بحث کریں گے۔ تم ان پر سنن کے ذریعے سے گرفت کرنا، کیونکہ سنن کو جاننے والے اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔''

یہی قول سیدنا علی سے بھی مروی ہے (اللالکائی، شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ، رقم ۱۷۵)۔

سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو خوارج کے ساتھ گفتگو کے لیے بھیجا تو ان سے فرمایا کہ:

اذہب إلیہم فخاصمہم وادعھم إلی الکتاب والسنة، ولا تحاجہم بالقرآن فإنہ ذو وجوہ، ولکن خاصمہم بالسنة .... فقال ابن عباس: یا أمیر المومنین، فأنا أعلم بکتاب اللہ منہم، في بیوتنا نزل، فقال علی: صدقت، ولکن القرآن حمال ذو وجوہ، تقول ویقولون، ولکن حاجہم بالسنن فإنہم لن یجدوا عنہا محیصًا. (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۶/ ۳۳۹)''ان کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو اور انھیں کتاب اور سنت کی طرف دعوت دو، لیکن ان کے سامنے قرآن کریم سے استدلال نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں مختلف معانی کا احتمال ہوتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ سنت کے حوالےسے گفتگو کرنا۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا : اے امیرالمومنین، میں قرآن کریم کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، یہ تو ہمارے گھروں میں اترا ہے۔ سیدنا علی نے فرمایا کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن قرآن کریم احتمالات کا حامل ہے۔ تم ایک مطلب بیان کرو گے تو وہ دوسرا مطلب نکال لیں گے۔ تم ان کے ساتھ سنن کی بنیاد پر بحث کرنا، کیونکہ ان سے بھاگنے کی راہ انھیں نہیں مل سکے گی۔''

زبیر بن العوام سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن زبیر کو ہدایت کی کہ:

لا تجادل الناس بالقرآن، فإنک لا تستطیعھم، ولکن علیک بالسنة. (خطیب بغدادی، الفقیہ والمتفقہ ۱/ ۵۶۱)''لوگوں کے ساتھ قرآن کی بنیاد پر بحث نہ کیا کرو،کیونکہ اس میں تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، بلکہ سنت سے استدلال کیا کرو۔''

امام شافعی کا نقطۂ نظر

فکری و دینی پس منظر

امام محمد بن ادریس شافعی کی ولادت ۱۵۰ہجری میں فلسطین کے شہر غزہ میں قریش کے خاندان میں ہوئی۔ یہ وہی سال ہے جس میں ان کے جلیل القدر پیش رَو امام ابوحنیفہ کا بغدادمیں انتقال ہوا۔ ان کے سلسلۂنسب کی نویں کڑی میں مطلب بن عبد مناف کا نام آتا ہے۔ یہ وہی عبد مناف ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے۔ اس مناسبت سے امام شافعی کو 'الامام المطلبی' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ کم عمری میں ہی وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں منتقل ہو گئے اور یہاں انھیں عرب کے مشہور قبیلہ بنو ہذیل کے ساتھ میل جول اور اختلاط کے وسیع مواقع میسر آئے جس نے امام شافعی کو عربی زبان وادب اور بنو ہذیل کے اشعار میں کمال و مہارت پیدا کرنے میں غیر معمولی مدد دی۔

مکہ مکرمہ میں تحصیل علم کی ابتدا کرنے کے بعد ان تک امام مالک کا شہرہ پہنچا جو مدینہ منورہ میں علمی مرجع کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی تصنیف 'الموطا' اطراف واکناف میں غیر معمولی شہرت حاصل کر چکی تھی۔ امام شافعی نے اس کا نسخہ حاصل کر کے بغور مطالعہ کیا اور پھر امام مالک سے براہ راست استفادہ کے لیے مدینہ منورہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ مدینہ میں انھوں نے امام مالک کے حلقۂتلمذ میں شمولیت اختیار کی اور ۱۷۹ھ میں امام مالک کی وفات تک ان کے حلقہ نشین رہے۔

۱۸۴ھ میں بغداد کے ایک سفر میں خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں امام شافعی کا تعارف، امام محمد بن الحسن الشیبانی سے ہوا اور یہیں سے وہ ان کے حلقۂشاگردی میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے طویل عرصے تک امام محمد کی مصاحبت اختیار کی، ان کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور علمی مسائل پر ان کے ساتھ ان گنت مکالمے اور مباحثے کیے۔ یوں انھیں اپنے دور کے دو بڑے فقہی مراکز، یعنی حجاز اور عراق کے علمی اصولوں اور انداز فکر کو براہ راست ان کے اعلیٰ ترین علمی نمایندوں سے سمجھنے کا موقع ملا اور اہل حجاز اور اہل عراق کی فقہ پر انھیں دسترس حاصل ہو گئی۔

۱۹۵ھ میں امام شافعی دوسری مرتبہ بغداد آئے تو ان کے مستفیدین کی طرف سے ان سے کتاب وسنت سے استدلال و استنباط کے اصول وضوابط سے متعلق ایک تصنیف سپرد قلم کیے جانے کی فرمایش ہوئی۔ چنانچہ معروف محدث عبد الرحمٰن بن مہدی کی گذارش پر امام شافعی نے "کتاب الرسالہ" کا پہلا مسودہ تصنیف کیا۔ عمر کے آخری حصے میں، ۱۹۹ھ میں امام شافعی بغداد سے مصر منتقل ہو گئے اور چھ سال تک تصنیف وتالیف اور تدریس سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ۲۰۵ھ میں وفات پائی۔ اس عرصے میں انھوں نے "کتاب الرسالہ" کا نیا مسودہ تصنیف کرنے کے علاوہ اپنی فقہی تحقیقات اور مناظرات پر مبنی مبسوط کتاب ''الام'' سپرد قلم کی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی بہت سی فقہی آرا پر بھی نظر ثانی کی اور نئے غور وفکر کی روشنی میں اپنی قدیم آرا سے رجوع کیا۔ فقہ شافعی میں امام صاحب کی ان دونوں طرح کی آرا کو قول قدیم اور قول جدید کے عنوان سے ذکر کیا جاتا ہے۔

اہل عراق اور اہل حجاز سے حصول علم کے اس طویل سفر میں امام شافعی اس نتیجے تک پہنچے کہ ان دونوں مکاتب کے منہج فکر اور آرا میں جہاں اخذ واستفادہ کے غیر معمولی مواقع اور علم وتفقہ کے شان دار مظاہر پائے جاتے ہیں، وہاں بہت سی آرا اور نتائج فکر قابل نقد بھی ہیں۔ ان نزاعی موضوعات کا تعلق زیادہ تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات واخبار کے رد وقبول سے تھا اور امام شافعی کے نقطۂنظر سے اہل عراق اور اہل حجاز، دونوں جہاں بہت سی ایسی روایات کو اپنے اجتہادات کی بنیاد بنا رہے تھے جن کا ثبوت علمی طور پر قابل اطمینان نہیں تھا، وہاں بہت سی صحیح اور ثابت شدہ احادیث کو بعض قیاسی وعقلی اصولوں کی بنیاد پر رد بھی کر رہے تھے۔ امام شافعی نے محسوس کیا کہ ان قابل نقد نتائج فکر کے پیچھے احادیث کے رد وقبول کے حوالے سے عراقی اور حجازی ائمہ کے کچھ اصولی رجحانات کارفرما ہیں اور ان کی غلطی واضح کرنے کے لیے علمی طور پر چند بنیادی اصولی مباحث سے تعرض کرنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے متعدد معاصر اہل علم کی جزوی فقہی آرا پر تنقیدی تحریریں لکھنے کے علاوہ مختلف اصولی مباحث کو بھی اپنا موضوع بنایا اور اصول فقہ کے بنیادی ترین اور اہم ترین مباحث کے حوالے سے اپنے نتائج فکر کو مختلف تصانیف میں بہت واضح اور منضبط انداز میں پیش کیا۔

مورخین میں اس حوالے سے بحث پائی جاتی ہے کہ کیا امام شافعی کو علم اصول کا اولین واضع قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ ایک گروہ کا خیال ہے کہ امام شافعی سے پہلے فقہا اپنے اجتہادات میں متعین اصول وضوابط کے بجاے شریعت کے عمومی مقاصد کے فہم اور نصوص کے اشارات پر انحصار کرتے تھے اور علمی سرگرمی کی نوعیت ایسی ہوتی تھی جیسے کوئی طبع موزوں رکھنے والا شاعر، علم عروض کے اصول وضوابط کو پیش نظر رکھے بغیر، اپنے طبعی ذوق کی مدد سے شعر گوئی کر لیتا ہے (ابو زہرہ، الشافعی، حیاتہ وعصرہ ۱۸۵)۔ تاہم یہ بات کلی طور پر درست معلوم نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ واجتہاد کے باب میں اصولی نوعیت کے سوالات و مباحث کی روایت امام شافعی سے پہلے بھی موجود تھی اور امام شافعی نے دراصل اپنے ماحول میں موجود مختلف اصولی مواقف کے تناظر میں ہی اپنی دینی وفقہی فکر کی تشکیل کی اور درپیش سوالات کے حوالے سے اپنا علمی نقطۂنظر پیش کیا تھا، اس لیے اگر علم اصول فقہ کے واضع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اصولی سوالات اٹھانے کا کام سب سے پہلے انھوں نے کیا تو یہ بات تاریخی طور پر درست نہیں، البتہ اصول فقہ سے متعلق مختلف مباحث کو مستقلاً موضوع بحث بنانے اور ان پر تصانیف کی ابتدا کے حوالے سے یقیناً امام شافعی کو سبقت وفضیلت حاصل ہے اور مثال کے طور پر سنت کی نقل وروایت کی مختلف صورتوں، ان کی درجہ بندی، قبول روایت کے معیارات و ضوابط، کتاب اور سنت کے باہمی تعلق، ناسخ ومنسوخ احادیث کی تعیین اور اس طرح کے دیگر سوالات پر مستقل اصولی بحث ہمیں سب سے پہلے امام شافعی کے ہاں ہی دکھائی دیتی ہے۔

ان سوالات کے حوالے سے مختلف اصولی نقطہ ہاے نظر یقیناً موجود تھے اور فقہی مباحث کے ضمن میں متفرق اور منتشر انداز میں ان کا ذکر بھی اہل علم کی تصانیف میں کیا جاتا تھا۔ اس حوالے سے حجازی روایت میں امام مالک کی"الموطا" اور عراقی روایت میں امام ابویوسف اور امام محمد بن الحسن الشیبانی کی تصانیف بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم دست یاب تاریخی مواد کی حد تک امام شافعی سے پہلے اصول فقہ پر کسی مستقل اور باقاعدہ تصنیف کا وجود تاریخ میں نہیں ملتا۔ یوں ایک لحاظ سے اصول فقہ میں امام شافعی کی حیثیت وہی ہے جو فلسفے میں افلاطون کی ہے۔ ان مباحث کا آغاز ان سے پہلے ہو چکا تھا، لیکن انھیں مرتب کر کے پیش کرنے اور ان کا تجزیہ ومحاکمہ کرنے کی روایت کا آغاز امام شافعی سے ہوتا ہے۔

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے ضمن میں امام صاحب نے اپنے موقف کی شرح وبسط کے ساتھ وضاحت"الرسالہ" میں کی ہے اور عموماً اس حوالے سے"الرسالہ" ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جو بہت بنیادی اور مفصل ماخذ ہے، لیکن"الرسالہ" کے علاوہ امام صاحب کی دیگر تصانیف او رخاص طور پر"کتاب الام" کے مختلف مباحث کے ضمن میں بھی اس بحث سے متعلق اہم نکات بیان کیے گئے ہیں جنھیں پیش نظر رکھنا ان کے نقطۂنظر کے جامع فہم کے لیے ضروری ہے۔

قرآن و سنت کے باہمی تعلق کی بحث

امام شافعی کو قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے ضمن میں جس بنیادی سوال کا سامنا تھا، وہ یہ تھا کہ ان کے ماحول میں مختلف اہل علم اور مذہبی گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض ایسی احادیث کو جن کا استناد علماے حدیث کے ہاں عموماً ثابت تھا، اس بنیاد پر قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے کہ وہ قرآن کے ظاہری عموم کے خلاف ہیں۔ یہ رجحان، جیسا کہ ہم نے پچھلی فصل میں دیکھا، بعض فقہاے صحابہ سے بھی منقول تھا اور خوارج نے بھی اس اصول کو بہت سی احادیث کے رد کر دینے کے لیے بنیاد بنایا تھا، چنانچہ وہ مثال کے طور پر ہر قسم کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کے قائل اور رجم اور مسح علی الخفین کے جواز کے منکر تھے۔ اس کے علاوہ حجاز میں امام مالک،جب کہ عراق میں امام ابوحنیفہ کا مکتب فکر بھی بعض احادیث کی عدم قبولیت کے حوالے سے اس بحث میں فریق تھا۔ ائمۂاحناف نے اس اصول کے تحت قضاء بالیمین مع الشاہد کی روایات کو رد کر دیا تھا اور وہ بطور ایک علمی اصول یہ موقف رکھتے تھے کہ قرآن مجید کے ساتھ موافقت، حدیث کی قبولیت کی ایک بنیادی شرط ہے اور کسی ایسی روایت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست نہیں مانی جا سکتی جو قرآن مجید کے ساتھ ٹکراتی ہو (العالم والمتعلم ۲۵۔ ابو یوسف، الرد علی سیر الاوزاعی ۳۱) ۔

امام مالک کے ہاں بھی بعض مثالوں میں یہ رجحان دکھائی دے رہا تھا۔ مثلاً روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضر کی حالت میں موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ثابت ہے (ابو داؤد، رقم ۱۵۷)۔ لیکن امام مالک، ایک روایت کے مطابق، ان کی صحت پر مطمئن نہیں تھے۔ چنانچہ ابن القاسم بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضر میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ''اس کے حق میں تو بس یہ حدیثیں ہی ہیں، کتاب اللہ کا حکم اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے'' (ابن عبد البر، اختلاف اقوال مالک و اصحابہ ۱/ ۶۶)۔

امام شافعی نے اس موضوع پر امام محمد بن الحسن الشیبانی کے ساتھ اپنے مناظرے کا احوال بیان کرتے ہوئے ان سبھی گروہوں کا حوالہ دیا ہے، چنانچہ مذکورہ مختلف مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حجتنا حجتک علی من رد الأحادیث واستعمل ظاھر القرآن فقطع السارق في کل شيء لأن اسم السرقة یلزمہ، وأبطل الرجم لأن اللہ عزوجل یقول: اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، وعلی من استعمل بعض الحدیث مع ھولاء وقال: لا یمسح علی الخفین لأن اللہ قید القدمین بغسل أو مسح، وعلی آخرین من أھل الفقہ أحلوا کل ذي روح لم ینزل تحریمہ في القرآن لقول اللہ تبارک وتعالٰی:قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗ٘ اِلَّا٘ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ. (الام ۱۰/ ۳۳)

''ہماری دلیل بھی وہی ہے جو تم ان لوگوں کے خلاف پیش کرتے ہو جو احادیث کو سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں اور قرآن کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی چیز کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں، کیونکہ اس پر بھی چوری کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ رجم کو نہیں مانتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زانی مرد اور عورت کو بس سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے۔ (تم ان کے خلاف جو دلیل دیتے ہو، وہی دلیل) ان کے خلاف بھی دیتے ہو جو بعض احادیث کو قبول کرتے ہیں (لیکن بعض کو نہیں کرتے)۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ موزوں پر مسح کرنا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پاؤں کو دھونے یا ان پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح کچھ اور اہل فقہ ہیں جو ہر اس جانور کا گوشت کھانے کو حلال سمجھتے ہیں جس کی حرمت قرآن مجید میں واردنہیں ہوئی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر، تم کہہ دو کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے، اس میں، میں کسی چیز کو کسی کھانے والے کے لیے حرام نہیں پاتا، سواے اس کے کہ وہ مردار جانور ہو یا بہنے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔''

قلنا: إن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضی بالیمین مع الشاھد فرددتھا ..... ونسبت من قال بھا إلی خلاف القرآن.(الام ۱۰/ ۳۷- ۳۸)

''ہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ (مدعی سے) قسم لے کر فیصلہ فرمایا ہے تو تم نے اس کو رد کر دیا اور کہا کہ جو لوگ یہ بات کہتے ہیں، ان کی بات قرآن کے خلاف ہے۔''

اس نوعیت کی مثالوں میں روایات کو رد کرنے کا موقف اختیار کرنے والے حلقے اگرچہ مختلف مذہبی وکلامی پس منظر رکھتے تھے، تاہم روایات کو رد کرنے کی علمی بنیاد عموماً مشترک تھی، یعنی ان کا ظاہر قرآن کے خلاف ہونا۔ یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ خوارج سمیت مذکورہ مکاتب فکر میں سے کوئی بھی نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کامنکر تھا اور نہ قرآن کے مدعا ومنشا کی توضیح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم کو حتمی تسلیم کرنے میں اسے کوئی تردد تھا۔ متعلقہ روایات کو رد کرنے کے لیے ان کے پاس علمی بنیاد یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کسی حدیث کا قرآن کے خلاف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یا تو آپ کی طرف اس کی نسبت ہی درست نہیں، یا اس میں بیان کردہ حکم کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے یا کم سے کم یہ کہ قرآن کے قطعی الثبوت حکم میں ایک ظنی الثبوت حدیث کی بنیاد پر، جس میں غلطی کا پورا امکان ہے، ترمیم یا تبدیلی قبول کرنا علمی طور پر ایک غیر محتاط طریقہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جمہور فقہاء ومحدثین کا انداز فکر یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کے کسی حکم سے متعلق کوئی توضیح موجود ہونے کی صورت میں، اس سے صرف نظر کرتے ہوئے قرآن کی ہدایت کا مفہوم مستقلاً متعین کرنا ہی درست نہیں اور آپ کی بیان کردہ توضیح کو قرآن کی مراد کے طور پر قبول کرنا لازم ہے۔

یہ پس منظر تھا جس میں امام شافعی نے اسلامی روایت میں ایک نہایت بنیادی اور مہتم بالشان علمی بحث کی بنیاد رکھی اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی اساسات اور مختلف صورتوں کے حوالے سے اپنے گہرے غور وفکر کو ایک مرتب اور منظم اصولی نقطۂنظرکے طور پر پیش کیا۔

زیرنظر سطور میں اسی حوالے سے امام صاحب کے نتائج فکر کا ایک تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

سنت میں وارد احکام کا ماخذ

بحث کی ابتدا میں قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں یہ بنیادی نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اللہ کی کتاب کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقلاً مطاع کی حیثیت دی گئی تھی اور آپ کی طرف سے، قرآن مجید کے علاوہ بیان کردہ احکام وہدایات کی اتباع کو بھی کتاب الہٰی کی طرح لازم قرار دیا گیا تھا۔ امام شافعی نے بھی متعلقہ آیات واحادیث کی روشنی میں اس بنیادی اعتقادی مقدمے کی وضاحت کی ہے۔ البتہ اس حوالے سے انھوں نے ایک اہم یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی حکم بیان فرماتے تھے، وہ براہ راست وحی پر مبنی ہوتا تھا یا بیان احکام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اجتہاد اور صواب دید کا بھی کوئی دخل تھا؟ دوسرے لفظوں میں، کیا سنت محض وحی الہٰی کے ابلاغ کا ایک دوسرا اور متبادل طریقہ ہے اور وحی کے بغیر پیغمبر ازخود کوئی تشریع نہیں کر سکتا یا اس کے برعکس، پیغمبر کو خداداد اجتہادی بصیرت سے بہرہ ور کر کے تشریع وتقنین کا مستقل اختیار عطا کیا گیا ہے؟

امام شافعی نے اس ضمن میں تین آرا نقل کی ہیں:

ایک راے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ کی اطاعت کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا تو گویا آپ کو یہ اختیار عطا کر دیا کہ جہاں کتاب اللہ کی کوئی نص موجود نہ ہو، وہاں آپ مسلمانوں کے لیے احکام وضع کر سکتے ہیں۔ یوں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضع احکام کا مستقل اختیار حاصل تھا جس کے تحت آپ نے قرآن سے زائد احکام مقرر فرمائے۔

امام شافعی نے اس راے کے حق میں بعض اہل علم کا یہ استدلال بھی نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا ہے کہ پیغمبر کو اپنی طرف سے قرآن مجید میں کوئی تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں (یونس ۱۰: ۱۵)۔ اس کے مفہوم مخالف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی معاملے میں کوئی حکم نازل نہ کیا گیا ہو تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی راے سے کوئی حکم دے سکتے ہیں۔ امام شافعی لکھتے ہیں:

وقال بعض أھل العلم: في ھذہ الآیة، واللہ أعلم، دلالة علی أن اللہ عزوجل جعل لرسولہ أن یقول من تلقاء نفسہ بتوفیقہ في ما لم ینزل بہ کتابًا، واللہ أعلم.(الام ۱/ ۴۴)''بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس آیت میں اس بات پر دلالت ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ اختیار دیا ہے کہ جس معاملے میں اللہ نے کتاب میں کوئی حکم نہ اتارا ہو، وہ اس میں اپنی طرف سے کوئی حکم دے سکتا ہے۔''

دوسری راے یہ ہے کہ سنت میں اس نوعیت کے تمام احکام کی اصل خود قرآن میں موجود ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی بنیادی احکام کی تفصیل وتوسیع کی ہے۔ گویا یہ زائد پہلو اصل حکم کے اندر ہی شامل اور اس میں مضمر تھے ، جن کی وضاحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کروائی گئی۔ چنانچہ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ان تفصیلات کی وضاحت فرمائی جو قرآن کے اجمالی حکم کا حصہ تھیں، اسی طرح خرید وفروخت کے ضمن میں بہت سے احکام بیان فرمائے جو کوئی الگ اور نئے احکام نہیں، بلکہ قرآن مجید ہی کی اصولی ہدایات 'لَا تَاْكُلُوْ٘ا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ'(البقرہ ۲: ۱۸۸) اور 'وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا' (البقرہ ۲: ۲۷۵) پر مبنی اور انھی کی تفصیل وتوضیح ہیں۔

تیسری راے یہ ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے تمام احکام درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے القا کیے گئے ہیں اور ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی راے یا اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔ مثلاً ابن طاؤس کہتے ہیں کہ:

عند أبي کتاب من العقول نزل بہ الوحي، وما فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من العقول أو الصدقة فإنما نزل بہ الوحي. (الام ۳/ ۱۱) ''میرے والد کے پاس دیات کی مقدار پر مشتمل ایک تحریر ہے جو وحی کے ذریعے سے نازل ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت یا زکوٰۃ کی جو مقداریں مقرر فرمائیں، وہ وحی میں نازل ہوئی تھیں۔''

امام شافعی کہتے ہیں کہ اس گروہ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پیغمبر پر کتاب اور حکمت نازل کرنے کا ذکر کیا ہے (النساء ۴: ۱۱۳۔ الاحزاب ۳۳: ۳۴) اور الحکمہ سے مراد ایسی وحی ہے جو کتاب اللہ کے علاوہ آپ کی رہنمائی کے لیے نازل کی جاتی تھی۔ مزید برآں، بعض واقعات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی قضیہ پیش آنے کی صورت میں آپ وحی کا انتظار کرتے تھے اور وحی کے بغیر ازخود کوئی فیصلہ نہیں فرماتے تھے۔ اس کی مثال کے طور پر امام شافعی نے لعان کے حکم کو پیش کیا ہے۔ زنا کے جرم کے اثبات کے لیے چار گواہوں کی شرط قرآن مجید میں نازل ہوئی تو اس کے بعد عویمر عجلانی یہ سوال لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتا ہوا پائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر چار گواہ ڈھونڈنے چلا جائے؟ اور اگر وہ اس کے بغیر اس کے خلاف دعویٰ کرتا ہے تو آپ الٹا شوہر پر قذف کی حد جاری کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ سوال کو ناپسند کیا اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے مابین لعان کی آیات نازل کیں تو عویمر کو بلا کر اسے بتایا کہ اللہ نے تمھارے متعلق یہ حکم دیا ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اس واقعے سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ آپ دیگر معاملات میں بھی کوئی فیصلہ کرنے کے لیے وحی کا انتظار کرتے اور اسی کی روشنی میں احکام شرعیہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے (الام ۱/ ۴۱، ۴۲۔ ۶/ ۳۲۹)۔

امام شافعی علمی اور دینی لحاظ سے مذکورہ تینوں امکانات کا جواز مانتے ہیں اور ایسے احکام کی نوعیت کی تعیین میں ان سب احتمالات کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ بیوہ کے لیے زیب وزینت کی ممانعت کا ذکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

واحتملت السنة في ھذا الموضع ما احتملت في غیرہ من أن تکون السنة بینت عن اللہ تعالیٰ کیف إمساکھا کما بینت الصلاۃ والزکاة والحج، واحتملت أن یکون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن في ما لیس فیہ نص حکم اللہ عزوجل. (الام ۱/۹۱)''اس حکم میں اور اس جیسے دیگر احکام میں یہ بھی ممکن ہے کہ سنت نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (وحی پا کر) یہ واضح کیا ہو کہ عدت گزارنے کے آداب وشرائط کیا ہیں، جیسا کہ اس نے نماز، زکوٰۃ اور حج کے طریقے کی وضاحت کی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے) ایسے معاملے میں خود ایک طریقہ مقرر فرما دیا ہو جس میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔''

________

[1]۔ یہ نقطۂ نظر جلیل القدر تابعی سعید بن المسیب سے بھی منقول ہے، تاہم ابن کثیر نے اس کے ثبوت کو محل نظر قرار دیا ہے (تفسیر القرآن العظیم ۲/ ۳۵۶) ۔

____________