قرآن وسنت کا باہمی تعلق:اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۳) (1/2)


قرآن اور اخبار آحاد میں تعارض کی بحثقرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اہم ترین سوال جس پر امام شافعی نے داد تحقیق دی ہے، بعض احادیث کے، بظاہر قرآن کے حکم سے متعارض یا اس سے متجاوز ہونے کا سوال ہے۔ اس ضمن میں عہد صحابہ و تابعین میں جو مختلف زاویہ ہاے نظر پائے جاتے تھے، ان کی وضاحت پچھلی فصل میں کی جا چکی ہے۔ جمہور فقہا و محدثین ایسی صورت میں قرآن مجید کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دیتے تھے اور ظاہری تعارض کو، کسی قابل اعتماد روایت کو رد کرنے کی درست بنیاد تصور نہیں کرتے تھے۔ امام شافعی نے بھی اس بحث میں جمہور اہل علم کے موقف کی تائید کی، البتہ امام شافعی سے پہلے اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث کو جس رخ پر آگے بڑھایا، اس میں یہ نکتہ تو بدیہی طور پر موجود ہی تھا، لیکن انھوں نے اس میں ایک نہایت بنیادی پہلو کا اضافہ کر کے اسلامی روایت میں گویا تفسیر متن کے اصولوں (hermeneutics) کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی ۔

امام شافعی نے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جس نکتے کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور جسے پورے زور استدلال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، وہ کلام عرب میں اسلوب عموم کی نوعیت ہے۔ یہ نکتہ امام شافعی کے زیربحث تصور میں محوری حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر ان کے اس بنیادی دعوے کا انحصار ہے کہ قرآن کے ساتھ سنت کا تعلق، محض تبیین ووضاحت تک محدود ہے اور وہ قرآن کے مدعا ومفہوم میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرتی۔

امام شافعی کا اٹھایا ہوا سوال یہ تھا کہ اگر قرآن نے کوئی حکم کسی قسم کی قیود وشرائط کے بغیر عموم کے اسلوب میں بیان کیا ہو تو فہم کلام کے اصولوں کی رو سے یہ فرض کرنے کا جواز کس حد تک ہے کہ فی الواقع شارع کی مراد اس حکم کو، کسی قسم کے خصوص یا استثنا کے بغیر، ہر ہر فرد پر اور ہر ہر صورت میں واجب العمل قرار دینا ہے؟ اگر تو واقعی یہ فرض کرنا ممکن ہو کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو شامل ہونا قطعی طور پر مراد ہے تو پھر کسی حدیث کے، ظاہر قرآن کے خلاف ہونے کی صورت میں اسے قبول کرنے کی نوعیت دو متعارض دلیلوں میں سے ایک کو ترجیح دینے کی ہوگی، لیکن اگر یہ فرض کرنے ہی کی معقول بنیاد موجود نہ ہو اور قرآن کا اسلوب عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہو تو یہاں سرے سے کسی قسم کا تعارض پایا ہی نہیں جاتا جسے دور کرنے کی ضرورت ہو، چنانچہ متکلم کی طرف سے بیان کی جانے والی کوئی بھی تخصیص یا تقیید دراصل سابقہ حکم کی تفصیل اور تشریح ہی تصور کی جائے گی۔

امام شافعی کہتے ہیں کہ قرآن کے بیانات کے استقرا سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عموم کا اسلوب بذات خود قطعی طور پر یہ طے نہیں کرتا کہ متکلم کی مراد عموم ہی ہے، بلکہ اس میں دونوں احتمال ہوتے ہیں اور متکلم کی مراد متعین کرنے کے لیے اضافی دلائل وقرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض جگہ عموم کے اسلوب سے فی الواقع عموم ہی مراد ہوتا ہے، یعنی الفاظ کی ظاہری دلالت جن مصداقات کو شامل ہے، وہ سب متکلم کی مراد ہوتے ہیں، بعض جگہ عموم کے اسلوب سے عموم مراد تو ہوتا ہے، لیکن قرائن ودلائل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس عموم سے فلاں اور فلاں صورتیں خارج ہیں، اور بعض مقامات پر عموم کے اسلوب سے سرے سے عموم مراد ہی نہیں ہوتا، بلکہ کچھ خاص مصداقات کا ذکر عموم کے الفاظ سے کر دیا جاتا ہے۔

ان تینوں طرح کے مواقع کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

پہلی نوعیت کی مثال'خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ'(الانعام ۶: ۱۰۲)، 'وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِاِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا'(ہود ۱۱: ۶)اور'يٰ٘اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰي وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا'(الحجرات۴۹: ۱۳)جیسی آیات ہیں۔ ان مثالوں میں عموم کے اسلوب سے حقیقتاً عموم ہی مراد ہے، کیونکہ عقلی ونقلی دلائل کی رو سے ہر چیز کا خدا کی مخلوق ہونا اور ہر جان دار کے رزق کا بندوبست اللہ کے ذمے ہونا قطعی طور پر واضح ہے۔ اسی طرح انسانوں کا مرد وعورت سے پیدا ہونا اور قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم ہونا ہر دور اور ہر علاقے کے انسانوں کے حق میں درست ہے اور کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ فلاں یا فلاں مصداقات اس دلالت سے خارج ہیں۔

دوسری نوعیت (کہ عموم کے اسلوب سے عموم ہی مراد ہو، لیکن قرائن سے بعض صورتوں کا اس سے خارج ہونا بھی واضح ہو) کی ایک مثال یہ آیت ہے:

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْمِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ.(التوبہ ۹: ۱۲۰)

''مدینہ میں رہنے والوں اور اس کے گرد بسنے والےدیہاتیوں کے لیے یہ روا نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ انھیں پیغمبر سے زیادہ اپنی جانوں کو بچانے کی رغبت ہو۔''

یہاں عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، لیکن عقلی دلیل سے واضح ہے کہ اس حکم کے مخاطب تمام اہل مدینہ نہیں، بلکہ وہ عاقل وبالغ مرد ہیں جو جہاد کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی طرح'حَتّٰ٘ي اِذَا٘ اَتَيَا٘ اَهْلَ قَرْيَةِ اِۨسْتَطْعَمَا٘ اَهْلَهَا'(الکہف ۱۸: ۷۷)اور'رَبَّنَا٘ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا'(النساء ۴: ۷۵) میں یہ واضح ہے کہ بستی کے سارے لوگ نہیں، بلکہ بعض لوگ مراد ہیں۔ یہی اصول'اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ'(الحجرات ۴۹:۱۳) کے عموم کو بھی عاقل اوربالغ انسانوں تک محدود کرتا ہے۔ نماز اور روزہ کے احکام کے مخاطب بھی اسی اصول کی رو سے عاقل اور بالغ مرد اور عورتیں قرار پاتے ہیں، جبکہ بچے، پاگل اور ماہواری کے ایام میں خواتین اس کے مخاطب نہیں ہیں۔

تیسرا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ عموم کے اسلوب میں دراصل کچھ خاص افراد یا حالات کا ذکر کیا گیا ہو اور یہ تخصیص کلام کے سیاق وسباق سے واضح ہو۔ مثلاً'اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ'(آل عمران ۳: ۱۷۳)میں قرینے سے واضح ہے کہ اطلاع دینے والے'النَّاس'سے بھی چند لوگ مراد ہیں اور جن کے متعلق اطلاع دی گئی ہے، وہ بھی چند ہی لوگ تھے۔ اسی طرح'ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ'(البقرہ ۲: ۱۹۹)میں بداہتاً واضح ہے کہ'النَّاس'سے سب لوگ نہیں، بلکہ صرف وہ لوگ مراد ہیں جو حج کے لیے جمع ہوئے ہوں۔ اسی کی ایک مثال'وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ'(البقرہ ۲: ۲۴)کی آیت ہے جس میں بالبداہت'النَّاس'سے بعض انسان مراد ہیں۔

مذکورہ تمام مثالوں میں عموم سے متعلق متکلم کا ارادہ خود کلام کے ساتھ جڑے ہوئے عقلی یا داخلی قرائن سے واضح ہے اور اس کے سمجھنے میں کسی صاحب فہم کو دقت نہیں ہو سکتی۔ امام شافعی لکھتے ہیں:

فإنما خاطب اللہ بکتابہ العرببلسانھا علی ما تعرف من معانیھا وکان مما تعرف من معانیھا اتساع لسانھا وأن فطرتہ أن یخاطب بالشيء منہ عامًا ظاھرًا یراد بہ العام الظاھر ویستغنی بأول ھذا منہ عن آخرہ، وعامًا ظاھرًا یراد بہ العام ویدخلہ الخاص فیستدل علی ھذا ببعض ما خوطب بہ فیہ، وعامًا ظاھرًا یراد بہ الخاص وظاھرًا یعرف في سیاقہ أنہ یراد بہ غیر ظاھرہ، وکل ھذا موجودہ علمہ في أول الکلام أو وسطہ أو آخرہ، وتبتدئ الشيء من کلامھا یبین أول لفظھا فیہ عن آخرہ، وتبتدئ الشيء یبین آخر لفظھا فیہ عن أولہ، وتکلم بالشيء تعرفہ بالمعنی دون الإیضاح باللفظ کما تعرف الإشارة، ثم یکون ھذا عندھا من أعلی کلامھا لانفراد أھل علمھا بہ دون أھل جھالتھا.(الام ۱/ ۲۲)

''اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اہل عرب کو ان کی زبان میں ان اسالیب کے مطابق مخاطب کیا ہے جن کو وہجانتےتھے۔ ان اسالیب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زبان کے استعمال میں وسعت ہے اور زبان کا یہ فطری طریقہ ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے اور مراد بھی عام ہی ہو اور اس میں کلام کے ابتدائی حصے کو سمجھنے کے لیے آخری حصے کو دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ زبان کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے اور مراد بھی عام ہو، لیکن اس میں سے کچھ افراد یا صورتیں مستثنیٰ ہوں جس کا پتا اس دلیل سے چلے گا جس میں ان مخصوص افراد کا حکم بتایا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی زبان کا ایک اسلوب ہے کہ کسی چیز کا ذکر بظاہر عام الفاظ میں کیا جائے، لیکن اس سے مراد مخصوص افراد ہوں اور کلام کے سیاق سے ہی واضح ہو رہا ہو کہ اس کا ظاہری عموم مراد نہیں۔ یہ سب قرائن کلام کے آغاز میں یا درمیان میں یا آخر میں موجود ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ کلام کا آغاز ایک بات سے کیا جاتا ہے اور کلام کا پہلا حصہ اس کے آخری حصے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ کلام کا آخری حصہ، ابتدائی حصے کی مراد کو واضح کر رہا ہوتا ہے۔ کلام کرتے ہوئے آپ کسی بات کا ابلاغ، الفاظ میں وضاحت کیے بغیر، معنی ومفہوم کے ذریعے سے بھی کر سکتے ہیں، جیسا کہ اشارےکی مدد سے کر سکتے ہیں۔ پھر یہ سب اسالیب اہل عرب کے ہاں کلام کی بلند ترین صورت سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ ان کا فہم ان میں سے اہل علم ہی کو حاصل ہوتا ہے، نہ کہ جاہلوں کو۔''

امام شافعی نے اسی اصول کے تحت شرعی احکام میں، بعض قیاسی ونقلی تخصیصات کی بھی وضاحت کی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں مردوں سے خطاب کر کے انھیں چار تک عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے (النساء ۴: ۳)۔امام شافعی کہتے ہیں کہ یہاں حکم کی نوعیت سے ہی واضح ہے کہ اس کے مخاطب آزاد مرد ہیں، نہ کہ غلام، اس لیے کہ یہاں ان سے خطاب کیا گیا ہے جو خود نکاح کر سکتے ہیں اور باندیوں کے مالک ہو سکتے ہیں، جب کہ غلام کے متعلق معلوم ہے کہ وہ نہ تو خود اپنا نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی باندی کا مالک ہو سکتا ہے (الام ۶/ ۳۷۹) ۔ گویا یہ اجازت چونکہ براہ راست اور اصلاً صرف آزاد مردوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس لیے اگر کسی دوسری دلیل سے غلاموں کے لیے منکوحہ عورتوں کی تعداد اس سے کم مقرر کی جائے تو وہ مذکورہ آیت کے خلاف نہیں ہوگا۔

اسی طرح قرآن مجید میں اہل ایمان کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ مقتولوں کا قصاص لینا ان پر فرض ہے (البقرہ۲: ۱۷۸)۔یہاں ایک تو اہل ایمان کو مخاطب کرنے سے ہی واضح ہے کہ قصاص کا حکم اصلاً مسلمانوں کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ پھر اسی حکم میں اللہ تعالیٰ نے مقتول کے وارث کی طرف سے قاتل کو قصاص معاف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے 'فَمَنْ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں جو اہل ایمان کے باہمی رشتے کو بیان کرتے ہیں اور اس سے مزید واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین قصاص کا معاملہ زیر بحث نہیں (الام ۷/ ۹۷)۔ امام شافعی اس وضاحت سے گویا اس طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں اگر یہ کہا گیا ہے کہ مسلمان کو غیر مسلم کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے تو اسے قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ یہ آیت سرے سے اس صورت سے بحث ہی نہیں کر رہی۔

یہ امام شافعی کے استدلال کا پہلا مقدمہ ہے، یعنی اسلوب عموم سے متکلم کی مراد ہمیشہ اور لازمی طور پر عموم نہیں ہوتی، بلکہ اس عموم کا مبنی بر خصوص ہونا بھی عین ممکن ہے جسے خود کلام کے اندر موجود قرائن سے سمجھا جاسکتا ہے۔

استدلال کا دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ اسلوب عموم میں ارادۂ تخصیص کی وضاحت اگر ازخود کلام کے داخلی قرائن سے واضح نہ ہو تو بھی متکلم یہ حق رکھتا ہے کہ وہ مستقل وضاحت کے ذریعے سے ارادۂ تخصیص کو واضح کر دے۔ ایسی صورت میں بعض دفعہ متکلم یہ وضاحت اسی سیاق کلام میں کر دیتا ہے اور بعض دفعہ کسی دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ پہلی صورت کی مثال سورۂ نور میں قذف سے متعلق آیات ہیں۔ چنانچہ آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتوں پر بدکاری کا الزام لگانے والوں کو چار گواہ پیش نہ کرنے کی صورت میں ۸۰ کوڑے لگانے کی ہدایت کی ہے، تاہم اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں تو ان سے چار گواہ نہیں، بلکہ اپنے الزام کے سچا ہونے پر پانچ قسمیں کھانا مطلوب ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے دوسری آیت نے پہلی آیت کے حکم کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ یہ واضح کیا ہے کہ ا س کے عموم سے شوہر خارج ہیں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے الگ حکم بیان فرمایا ہے (الام ۱ /۶۳، ۶۴)۔

امام شافعی لکھتے ہیں:

وفي ھذا الدلیل علی ما وصفت من أن القرآن عربي، یکون منہ ظاھرہ عامًا وھو یراد بہ الخاص، لا أن واحدة من الآیتین نسخت الأخری، ولکن کل واحدة منھما علی ما حکم اللہ عزوجل بہ.(الام ۱ /۶۴)

''یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن، عربی زبان کے اسالیب میں کلام کرتا ہے جس میں بعض اوقات ظاہراً الفاظ عام ہوتے ہیں، لیکن مراد خاص ہوتی ہے۔ چنانچہ دونوں آیتوں میں سے کسی نے دوسری کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ ہر آیت اس حکم کو بیان کر رہی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔''

دوسری صورت کی مثال سورۂ نور میں ہی زنا کی سزا کا حکم ہے جہاں بظاہر'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ'کے الفاظ عام ہیں، اور ان کی سزا یہ بیان کی گئی ہے کہ زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں (النور ۲۴: ۲)۔یہاں بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، تاہم دوسری جگہ خود قرآن نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر باندیاں زنا کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد عورتوں سے نصف ہوگی (النساء ۴: ۲۵)۔اس سے معلوم ہو گیا کہ سورۂ نور میں اسلوب عموم میں جو حکم بیان کیا گیا ہے، اس میں عموم مراد نہیں، بلکہ وہ سزا صرف آزاد مرد اور عورت کے لیے ہے۔ یہ ہدایت بھی سورۂ نور کے حکم میں نسخ یا تبدیلی واقع نہیں کر رہی، بلکہ صرف متکلم کے ارادے کو واضح کر رہی ہے کہ'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ'سے مراد آزاد مرد اور عورت ہیں (الام ۱ /۳۰، ۵۷)۔

اسی نوعیت کی ایک مثال وہ آیات ہیں جن میں جہاد کی فرضیت کا حکم بیان کیا گیا ہے (التوبہ ۹: ۳۹و ۴۱)۔ یہ آیات بظاہر تمام مسلمانوں کو مخاطب کر رہی ہیں اور ان کا ظاہری مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ نماز، زکوٰۃ اور حج کی طرح تمام مسلمانوں پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہو۔ تاہم دوسری آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ یہ حکم فرض کفایہ کی نوعیت کا ہے اور سب مسلمانوں کے لیے نکلنا لازم نہیں (النساء ۴: ۹۵۔ التوبہ ۹: ۱۲۲)(الام ۱/ ۱۶۷، ۱۶۸)۔ یعنی ان دونوں طرح کی آیات کا باہمی تعلق بھی نسخ کا نہیں، بلکہ توضیح وتبیین کا ہے اور دوسرے مفہوم کی آیات پہلی آیات میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہیں، بلکہ انھی میں مضمر مراد الہٰی کو بیان کر رہی ہیں۔

مذکورہ دو مقدمات کے بعد امام شافعی اپنے استدلال کے اصل اور اہم ترین مقدمے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ اسلوب عموم سے واقعتاً عموم کا مراد ہونا قطعی نہیں، بلکہ اس کا تعین اضافی دلائل وقرائن کی روشنی میں کیا جا تا ہے اور خود متکلم بھی مستقل کلام کے ذریعے سے اس کی تخصیص کو واضح کر سکتا ہے تو اب یہ بات سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے کہ قرآن میں عموم کے اسلوب میں وارد بعض احکام کی تخصیص سنت کے ذریعے سے بھی واضح کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ کے نمایندے اور ترجمان کی حیثیت سے اور وحی وحکمت کی رہنمائی سے بہرہ ور ہونے کی بنیاد پر قرآن کی مراد کی وضاحت فرماتے ہیں اور یہ وضاحت مراد الہٰی کی تعیین میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے ۔ بالفاظ دیگر امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کئی دلائل وقرائن، مثلاً عقلی اقتضاء ات اور سیاق وسباق وغیرہ، متکلم کی مراد کو واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں، اسی طرح سنت بھی یہ بات طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ کہاں اسلوب عموم سے قرآن کی مراد واقعتاً عموم ہے اور کہاں عموم کی دلالت سے بعض خاص صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ پس قرآن میں وارد حکم عام کو اسی وقت تک اس کے عموم پر سمجھا جائے گا جب تک اس سے متعلق سنت میں کوئی تخصیص بیان نہ ہوئی ہو۔ سنت میں تخصیص وارد ہونے کے بعد قرآن کے حکم کو اس کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا اور دونوں کے مجموعے سے اللہ تعالیٰ کی مراد طے کی جائے گی۔ اس تخصیص کی نوعیت ایسی ہی ہوگی جیسے متکلم نے ایک مقام پر ایک حکم بیان کرنے کے بعد دوسرے مقام پر یہ واضح کیا ہو کہ فلاں صورت میں حکم یہ نہیں، بلکہ یہ ہوگا۔ اس صورت میں سنت کے حکم کو کتاب اللہ سے اختلاف پر محمول کر کے حدیث کو رد کر دینے یا منسوخ تصور کرنے کا طریقہ غلط اور غیر علمی طریقہ ہوگا۔

امام شافعی لکھتے ہیں:

فوجب علی کل عالمألا یشک أنسنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قامت ھذا المقام مع کتاب اللہ تعالٰی في أن اللہ أحکم فرضہ بکتابہ وبین کیف ما فرض علی لسان نبیہ وأبان علی لسانہ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أراد بہ العام والخاص کانت کذالک سنتہ في کل موضع لا تختلف، وأن قول من قال: تعرض السنة علی القرآن فإن وافقت ظاھرہ وإلا استعملنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث جھل لما وصفت.(الام ۱۰ / ۳۲)

''چنانچہ ہر عالم پر واجب ہے کہ وہ اس میں شک نہ کرے کہ جب (ان مثالوں میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی حیثیت، اللہ کی کتاب کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے مقرر کردہ فرائض کو اجمالاً قرآن میں بیان کیا ہے،جب کہ ان پر عمل کی کیفیت کو اپنے نبی کی زبان سے واضح کیا ہے اور اسی طرح نبی کی زبان سے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ کی مراد عام ہے یا خاص، تو پھر رسول کی سنت کو کسی فرق کے بغیر ہر مسئلے میں یہی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ چنانچہ ان لوگوں کا یہ قول کہ سنت کو قرآن پر پرکھا جائے گا، اگر وہ اس کے ظاہر کے ساتھ موافق ہو تو ٹھیک، ورنہ ہم قرآن کے ظاہر پر عمل کریں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے، اس اصول سے ناواقفیت پر مبنی ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔''

''الرسالہ'' میں عربی زبان میں اسلوب عموم کی نوعیت کی اصولی وضاحت کے ساتھ ساتھ ''الام'' میں بعض متعلقہ مثالوں پر کلام کرتے ہوئے امام شافعی نے کلام میں تخصیص کے دو عقلی اصولوں کا بھی حوالہ دیا ہے جنھیں اگر اس استدلال میں شامل کر لیا جائے تو امام صاحب کا زاویۂ نظر زیادہ وضاحت سے سمجھا جا سکتا ہے:

ایک یہ کہ کسی نص میں اگر کسی امر کی اباحت بیان کی گئی ہو تو وہ عقلاً اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ شارع نے دوسری نصوص میں اس اباحت پر جو قدغنیں عائد کی ہیں، وہ اپنی جگہ برقرار ہیں اور انھیں ملحوظ رکھتے ہوئے ہی حکم اباحت کی تعبیر کی جائے گی۔ مثلاً سورۂ نساء میں محرمات کی ایک فہرست ذکر کرنے کے بعد'وَاُحِلَّلَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ'(النساء ۴: ۲۴)کی اباحت بیان کی گئی ہے، تاہم یہ اباحت چار بیویوں کی تحدید کے ساتھ مشروط ہے جو دوسری نصوص میں بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی اسی مضمر شرط کی روشنی میں اس ممانعت کی بھی توجیہ کرتے ہیں جو حدیث میں پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو ایک آدمی کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کے حوالے سے بیان کی گئی ہے (الام ۱ /۸۸ ، ۱۰۰۔ ۶ /۱۲، ۳۹۰) ۔ ایک اور مثال'اِلَّا٘ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ'(النساء ۴: ۲۹) کی اباحت ہے جو بظاہر باہمی رضامندی سے کی جانے والی ہر بیع کو مباح قرار دیتی ہے، لیکن یہ بھی درحقیقت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ایسی کسی بیع کو شارع نے دیگر نصوص میں ممنوع قرار نہ دیا ہو۔ چنانچہ احادیث میں مختلف بیوع سے متعلق جو ممانعت وارد ہوئی ہے، وہ اسی شرط کی وجہ سے اصل اباحت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے اندر مضمر ہے (الام ۱ /۷۳، ۷۴۔ ۴ / ۵)۔

دوسرا اصول جس کا امام صاحب نے ذکر کیا ہے، یہ ہے کہ جب متکلم کوئی عمومی حکم بیان کرے تو عقلی طور پر اس میں یہ قید شامل ہوتی ہے کہ وہ بعض خاص صورتوں کو، ان کی مخصوص نوعیت کی وجہ سے، اس عمومی حکم سے مستثنیٰ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ایسے کسی استثنا کا بیان، ابتداءً ہی حکم کی قیود میں شامل ہونے کی وجہ سے، اصل عمومی حکم کے منافی نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ استثنا سامنے آنے کے بعد اسے اصل حکم کے ساتھ ملا کر مجموعی تعبیر کی جائے گی۔ نصوص میں متعدد مثالوں کی روشنی میں اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے امام شافعی لکھتے ہیں:

أن العرایا لیست مما نھی عنہ غنيولا فقیر، ولکن کان کلامہ فیھا جملة عام المخرج یرید بہ الخاص، وکما نھی عن الصلاة بعد الصبح والعصر وکان عام المخرج، ولما أذان في الصلاة للطواف في ساعات اللیل والنھار وأمر من نسي صلاة أن یصلیھا إذا ذکرھا فاستدللنا علی أن نھیہ ذلک العام إنما ھو علی الخاص، والخاص أن یکون نھی عن أن یتطوع الرجل، فأما کل صلاة لزمتہ فلم ینہ عنھا، وکما قال:''البینة علی المدعي والیمینعلی المدعیٰ علیہ''، وقضی بالقسامةوقضی بالیمین مع الشاھد، والقسامة استثناء مما أراد لأن المدعي في القسامة یحلف بلا بینة والمدعي مع الشاھد یحلف ویستوجبان حقوقھما.(الام ۴ /۱۱۵)

''عرایا سے کسی مال دار یا فقیر کو منع نہیں کیا گیا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزابنہ سے ممانعت کا) حکم مجموعی لحاظ سے عموم کے اسلوب میں بیان فرمایا جس سے مراد (سب نہیں، بلکہ) خاص صورتیں تھیں۔ اسی طرح جب آپ نے فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، لیکن طواف کی دو رکعتیں دن اور رات کی تمام ساعات میں ادا کرنے کی اجازت دی اور بھول کر نماز قضا کر دینے والے کو کہا کہ جب بھی اسے یاد آئے، وہ نماز ادا کر لے تو اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ نے جو عمومی ممانعت بیان کی تھی، وہ خاص تھی اور وہ یہ کہ ان اوقات میں آدمی نفل نماز نہ پڑھے۔ جو نمازیں (کسی وجہ سے) آدمی پر لازم ہوں، ان سے روکنا مقصود نہیں تھا۔ اسی طرح آپ نے یہ فرمایا کہ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے اور قسم کھانا مدعا علیہ کے ذمے ہے، لیکن پھر آپ نے قسامت کے طریقے پر فیصلہ کیا اور ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم لے کر بھی فیصلہ فرما دیا۔ یہاں قسامت کا طریقہ آپ کے اس حکم سے مستثنیٰ ہے (کہ مدعی کے ذمے گواہ پیش کرنا ہے)، کیونکہ قسامت میں تو مدعی گواہ پیش کرنے کے بجاے قسمیں کھاتا ہے اور اسی طرح قضاء بالیمین میں بھی مدعی ایک گواہ پیش کرکے (دوسرے کی جگہ) قسم کھاتا ہے اور یہ دونوں (قسم کھا کر) اپنا حق ثابت کر لیتے ہیں۔''

مذکورہ بحث کی روشنی میں امام شافعی کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مفروضہ کہ کتاب الہٰی میں عموم کا ظاہری اسلوب لازماً حکم اور مراد کے عموم پر ہی دلالت کرتا ہے، درست نہیں، بلکہ کلام کی حقیقی مراد کو سمجھنے کے لیے اضافی قرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قرائن عقلی بھی ہو سکتے ہیں، کلام کا سیاق وسباق اور کلام کے اندرموجود اشارات بھی اور اسی موضوع سے متعلق خود متکلم کی طرف سے کسی دوسری جگہ کی گئی وضاحت بھی۔ کتاب اللہ کی مراد بیان کرنے کے معاملے میں چونکہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر کی یہ ذمہ داری مقرر کی گئی ہے اور اس کے لیے آپ کو وحی کی صورت میں اللہ کی رہنمائی بھی حاصل ہے، اس لیے سنت میں اگر کتاب اللہ کے کسی عام حکم کا خصوص بیان کیا گیا ہو تو اس کی حیثیت بعینہ وہ ہے جو خود اللہ تعالیٰ کی اپنی وضاحت کی ہے۔ چنانچہ کسی قابل اعتماد حدیث کو کتاب اللہ کے ظاہری عموم کے خلاف ہونے کی بنا پر رد کرنا درست نہیں، بلکہ اسے خود اللہ کی طرف سے کی گئی تبیین اور وضاحت کے طور پر قبول کرنا اہل ایمان پر لازم ہے۔

یوں امام شافعی نے بحث میں دلالت کلام کے نہایت اہم سوال کا اضافہ کر کے نوعیت کے لحاظ سے جمہور اہل علم کے استدلال کو ایک اعتقادی مقدمے سے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کے نکتے کو بنیادی دلیل کی حیثیت حاصل تھی، ایک علمی وعقلی مقدمے میں تبدیل کر دیا جس میں کلام کے اسلوب عموم کی حقیقی مراد کے تعین کو اصل توجہ طلب علمی سوال کا درجہ حاصل تھا۔ امام صاحب کا یہ اضافہ ان کی غیر معمولی ذہانت کا مظہر تو تھا ہی، اس نے اسلامی علمیات میں ایک ایسی بحث کی بنیاد رکھ دی جو اس کے بعد سے آج تک علم اصول فقہ کی ایک مہتم بالشان اور اساسی بحث کا درجہ رکھتی ہے۔

____________