قرآن وسنت کا باہمی تعلق:اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۳) (2/2)


سنت میں قرآن کی تخصیص کی مثالیں

مذکورہ بنیادی مقدمے کی روشنی میں امام شافعی نے ان تمام اہم مثالوں پر کلام کیا ہے جو قرآن میں وارد عام احکام کی سنت کے ذریعے سے تخصیص وتحدید کی بحث سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان مثالوں کو ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایک قسم ایسی مثالوں کی ہے جن میں امام شافعی سنت میں وارد تخصیصات کے لفظی یا عقلی قرائن خود قرآن مجید سے بیان کرتے ہیں اور یوں واضح کرتے ہیں کہ سنت نے قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ اسی میں موجود اشارات، علل اور قرائن کی روشنی میں مراد الہٰی کی وضاحت کی ہے۔ دوسری قسم کی مثالوں سے متعلق امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ ان میں حکم کی تخصیص کا کوئی قرینہ بظاہر قرآن میں دکھائی نہیں دیتا، تاہم چونکہ اصولی طور پر یہ بات طے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو واضح کرتے ہیں، اس لیے ان مثالوں کو بھی نسخ اور تغییر کی نہیں، بلکہ تبیین وتوضیح ہی کی مثالیں تسلیم کرنا لازم ہے۔

پہلی نوعیت کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حالت حیض میں خواتین سے دور رہنے کا حکم دیا ہے:'وَلَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰي يَطْهُرْنَ'(البقرہ ۲: ۲۲۲) ،امام شافعی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ ماہواری کی حالت میں خواتین نماز ادا نہیں کر سکتیں، کیونکہ نماز کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ نے وضو اور غسل کے ذریعے سے طہارت حاصل کرنے کو فرض قرار دیا ہے، جب کہ مذکورہ آیت کی رو سے ماہواری کی حالت میں خواتین کے لیے پاک ہونا ممکن نہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ نماز کی فرضیت کا حکم ایسے لوگوں کے لیے ہو جو اگر وضو اور غسل کر کے پاک ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں، جب کہ حائضہ خواتین کا معاملہ یہ نہیں۔ پھر یہ کہ ماہواری چونکہ کوئی اختیاری چیز نہیں جس کی وجہ سے عورت ترک نماز کی وجہ سے گناہ گار ہو، اس لیے ماہواری کے ایام میں وہ نماز کی ادائیگی کی مکلف ہی نہیں، چنانچہ ان ایام کی نمازوں کی قضا بھی اس پر واجب نہیں۔ روزے کا معاملہ نماز سے مختلف ہے۔ شریعت میں انسان کو حالت سفر میں روزہ چھوڑ دینے اور رمضان کے بعد تک موخر کر دینے کی اجازت دی گئی ہے، جب کہ نماز کے معاملے میں ایسی رخصت نہیں دی گئی۔ مزید یہ کہ نماز ہر روز پانچ اوقات میں فرض کی گئی ہے، جب کہ روزہ صرف ایک مہینے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ گویا خود قرآن مجید کے احکام میں وہ بنیادیں موجود ہیں جن کی روشنی میں اور جن سے استنباط کر کے سنت میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ایام حیض میں فوت شدہ نمازوں کی قضا تو خواتین کے ذمے نہیں، لیکن روزوں کی قضا لازم ہے (الام ۱ /۵۰، ۵۱۔ ۲ /۱۳۱)۔

۲۔ قرآن مجید میں قصاص کا حکم بیان کرتے ہوئے بعض مقامات پر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً'اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ'(المائدہ ۵: ۴۵)اور'وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ'(بنی اسرائیل ۱۷: ۳۳)۔ اس کا بظاہر یہ مطلب بنتا ہے کہ قصاص کے معاملے میں تمام انسانوں کا حکم یکساں ہے اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کرے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ تاہم اس عموم کو خصوص پر محمول کرنے کا احتمال بھی موجود ہے، یعنی یہ کہ اس سے مراد ایسے دو آدمیوں کے مابین قصاص ہو جو مکافئ الدم ہوں، یعنی جن کی جان یکساں حیثیت رکھتی ہو۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دوسرا معنی ہی مرادہے، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان کو کسی کافر کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا (الام ۷ / ۶۱، ۶۲، ۲۵۹) ۔

امام شافعی اس تخصیص کے حق میں قرآن مجید سے یہ قیاسی استشہاد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ (۹: ۲۸)میں اہل ذمہ پر 'جزیہ' عائد کرنے کا حکم دیا ہے جو ان کی محکومانہ حیثیت کی ایک علامت ہے اور اس کی رو سے وہ قانونی ومعاشرتی امور میں مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تو اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن مسلمان خواتین کے لیے کسی کافر سے نکاح کو جائز قرار نہیں دیا (الام ۹ /۱۳۴) ۔ گویا شریعت کے احکام کا عمومی منشا یہی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں کے برابر اور ہم پلہ تصور نہ کیا جائے، اس لیے قصاص کے معاملے میں یہ تفریق روا رکھنا خود قرآن مجید کے منشا کے مطابق ہے۔

۳۔ خور ونوش میں حلت وحرمت کے احکام کے سیاق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًاعَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗ٘ اِلَّا٘ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖﵐ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ.(الانعام ۶: ۱۴۵ )

''کہہ دو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں، میں کسی کھانے والے کے لیے کسی چیز کو حرام نہیں پاتا، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا جانے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے یا گناہ کا کام، یعنی ایسا جانور ہو جسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے، دراں حالیکہ نہ تو خواہش رکھنے والا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو بے شک تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔''

قرآن مجید کے اس بیان کے برعکس احادیث میں ان چار کے علاوہ بھی کئی جانوروں، مثلاً گدھے اور درندوں وغیرہ کا شمار محرمات میں کیا گیا ہے۔ چونکہ قرآن میں تصریحاً یہ کہا گیا ہے کہ ان چار کے علاوہ کوئی چیز اللہ کی شریعت میں حرام نہیں، اس لیے بظاہر ان جانوروں کی تحریم آیت میں بیان ہونے والی عمومی اباحت کے منافی معلوم ہوتی ہے۔

اس اشکال کے جواب میں امام شافعی واضح کرتے ہیں کہ مذکورہ آیت کا تناظر عام نہیں، بلکہ خاص ہے، یعنی اس میں دنیا کے تمام جانور اور اشیاے خور ونوش زیر بحث نہیں، بلکہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ خاص اشیا سے متعلق سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ مراد یہ ہوئی کہ جن چیزوں سے متعلق پوچھا گیا ہے، ان میں سے ان چار کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں (الام ۱ / ۹۰، ۱۰۱) ۔ آیت کے مخصوص تناظر کے حوالے سے امام صاحب نے دوسری توجیہ یہ ذکر کی ہے کہ یہاں صرف وہ جانور زیر بحث ہیں جنھیں اہل عرب حلال سمجھتے تھے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام اور حلال کے ضمن میں چیزوں کے پاکیزہ اور ناپاک ہونے کو معیار قرار دیا ہے۔ چونکہ حکم کے مخاطب اہل عرب ہیں، اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کو اہل عرب طیب سمجھتے ہیں، وہ حلال اور جن کو وہ خبیث سمجھتے ہیں، وہ حرام ہیں۔ البتہ بعض چیزوں کے معاملے میں وہ غلطی میں مبتلا تھے اور چار ایسی چیزوں کو بھی طیب سمجھتے تھے جو درحقیقت خبیث تھیں۔ قرآن مجید نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ یہ چار چیزیں دراصل طیبات میں داخل نہیں ہیں (الام ۳ / ۶۲۷، ۶۲۸) ۔

گویا اس توجیہ کے مطابق'قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا'میں علی الاطلاق تمام جانور زیربحث نہیں، بلکہ صرف ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جن کو اہل عرب حلال سمجھ کر ان کا گوشت کھاتے تھے۔ باقی رہے وہ جانور جن کو وہ پہلے ہی ناپاک اور خبیث تصور کرتے اور ان کا گوشت نہیں کھاتے تھے تو ان سے اس آیت میں کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ ان کی حرمت کا ذکر اجمالی طور پر'وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ'(الاعراف ۷: ۱۵۷)میں کیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے اور درندوں وغیرہ کی حرمت بیان کر کے اسی اجمالی حکم کی تفصیل فرمائی ہے اور یوں ان جانوروں کو حرام قرار دینا قرآن مجید کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی تصریحات کے بالکل مطابق ہے۔

۴۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے ان خواتین کی ایک فہرست ذکر کی ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ اس فہرست میں ایک شق یہ بھی ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنا ممنوع ہے۔ اس کے بعد فرمایا ہے:

وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ.(النساء ۴: ۲۴)

''اور ان کے علاوہ جو بھیعورتیںہیں، وہ تمھارےلیے حلال کی گئی ہیں۔''

یہاں صرف دو بہنوں کو جمع کرنے کی حرمت پر اکتفا کرنے اور اس کے بعد'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ'کی تصریح کا مقتضا یہ بنتا ہے کہ دو بہنوں کے علاوہ کوئی بھی دو ایسی عورتیں جن کے ساتھ انفراداً نکاح کرنا جائز ہو، انھیں ایک آدمی اپنے نکاح میں جمع بھی کر سکتا ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بہنوں کے ساتھ ساتھ خالہ اور بھانجی کو اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت بیان فرمائی ہے۔ امام شافعی نے اس اشکال کے جواب میں قرآن مجید کے داخلی قرائن واشارات کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ حدیث میں بیان کی جانے والی ممانعت، قرآن مجید کی دلالت کے خلاف نہیں۔

پہلے اشکال، یعنی قرآن میں جمع کے حوالے سے صرف دو بہنوں کے ذکرپر اقتصار کیے جانے سے متعلق امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان کے علاوہ اور کسی بھی دو خواتین کو جمع کرنا ممنوع نہیں ہو سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی مسئلے کی بعض جزئیات اپنی کتاب میں اور بعض دیگر جزئیات اپنے پیغمبر کی زبان سے بیان فرماتے ہیں۔ گویا پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا قرآن میں مسکوت عنہ ہے، یعنی اس کا نفیًایا اثباتًا کوئی ذکر نہیں اور حدیث میں وارد ممانعت ایک مسکوت عنہ امر کے بارے میں شریعت کے حکم کا بیان ہے۔

جہاں تک دوسرے اشکال، یعنی'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ' کا تعلق ہے تو اس ضمن میں امام شافعی کا استدلال دو نکات پر مبنی ہے :

ایک یہ کہ اس جملے کا روے سخن'وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ'کی طرف نہیں، بلکہ آیت میں مذکورہ باقی محرمات کی طرف ہے۔ اس فرق کی وجہ ان دونوں طرح کی حرمتوں میں نوعیت کا مختلف ہونا ہے۔ باقی تمام محرمات، جیسے ماں، بہن، خالہ اور پھوپھی وغیرہ ہمیشہ او رہر حال میں حرام ہیں، جب کہ دو بہنوں میں سے کوئی بھی فی الاصل حرام نہیں، بلکہ انھیں صرف بیک وقت ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ'کا تعلق ان محرمات سے ہے جو فی الاصل اور ابدی طور پر حرام ہیں اور اس جملے کا مدعا یہ ہے کہ مذکورہ خواتین کے علاوہ کوئی بھی خاتون ابدی اور مطلق حرمت کا حکم نہیں رکھتی۔ باقی رہا عارضی اور وقتی حرمت کا حکم جو دو بہنوں کے حوالے سے بیان ہوا ہے تو یہ جملہ اس سے کوئی تعرض نہیں کر رہا، چنانچہ اس سے اخذ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ دو بہنوں کے علاوہ باقی کوئی بھی رشتہ رکھنے والی خواتین کے ساتھ بیک وقت نکاح کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ' ایک اور بدیہی شرط کے ساتھ مشروط ہے، اوروہ یہ کہ ابدی محرمات کے علاوہ باقی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے ، جب تک کہ شریعت میں بیان کردہ کسی دوسریپابندی کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ گویا یہ اباحت ان تمام پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے جو قرآن وسنت میں اپنے اپنے مقامات پر بیان کی گئی ہیں اور ان سے قطع نظر کر کے مطلقًاان سب عورتوں سے نکاح کی اجازت دینا یہاں مراد نہیں ہے۔ مثلاً شریعت میں چار سے زائد عورتوں سے نکاح کی ممانعت کی گئی ہے، اس لیے'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ' میں بیان کردہ اجازت اس شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ اسی طرح دوسرے مقام پر قرآن نے تین طلاقوں کے بعد اسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے (البقرہ ۲: ۲۳۰) ۔یہی معاملہ لعان کی صورت میں میاں بیوی کے مابین تفریق کا ہے جس کے بعد وہ کبھی نکاح نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جیسے یہ صورتیں'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ' کی اباحت سے مستثنیٰ ہیں، اسی طرح ایک پابندی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ آدمی پھوپھی اور بھتیجی کو اور اسی طرح خالہ اور بھانجی کو اپنے نکاح میں جمع نہ کرے، چنانچہ زیر بحث اباحت میں یہ شرط بھی ملحوظ ہوگی (الام ۱ /۸۸، ۱۰۰۔ ۶/۱۲ ، ۳۹۰)۔

امام شافعی کے استدلال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ چونکہ یہ اباحت ابتداءًا ہی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے اس سے پہلے یا اس کے بعد جن جن صورتوں کو بھی شارع نے اس اباحت سے مستثنیٰ کیا ہے، وہ اس کے معارض نہیں ہیں۔

۵۔ سورۂ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اگر اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو فوراً انھیں ان کے گھروں سے نکال نہ دیں، بلکہ دوران عدت میں انھیں اپنی استطاعت کے مطابق رہایش مہیا کریں (الطلاق ۶۵: ۱، ۶) ۔

اسلوب سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عام ہدایت ہے اور عدت گزارنے والی تمام خواتین اس عرصے میں رہایش کی، اور چونکہ رہایش کے ساتھ نفقہ بھی عادتًالازم ہوتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ نفقہ کی بھی حق دار ہیں۔ تاہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انھیں تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ آپ نے فاطمہ سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے بجاے عبد اللہ بن ام مکتوم کے گھر میں عدت مکمل کریں (ابوداؤد، رقم ۲۲۹۱)۔ فاطمہ بنت قیس کی یہ روایت فقہاے صحابہ وتابعین کے مابین خاصے اختلاف کا باعث رہی ہے۔ مثلاً سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سورۂ طلاق کی مذکورہ آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اس روایت کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم کتاب اللہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتا نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں۔ ایسی عورت کو رہایش بھی ملے گی اور نفقہ بھی (مسلم، رقم ۳۷۱۰)۔ یہی موقف صحابہ وتابعین کی ایک جماعت نے بھی اختیار کیا۔

امام شافعی فرماتے ہیں کہ فاطمہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے عین مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت تو سب عورتوں کے متعلق دی ہے اور یہ حکم عام ہے، لیکن نفقہ ادا کرنے کی پابندی صرف حاملہ عورتوں کے حوالے سے لازم کی ہے۔ پہلا حکم سورہ کی ابتدا میں'لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۣ بُيُوْتِهِنَّ'کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد حاملہ اور غیر حاملہ، دونوں طرح کی خواتین کے لیے عدت کے احکام بیان فرمائے ہیں اور شوہروں کو پابند کیا ہے کہ وہ دونوں کو دوران عدت میں رہایش فراہم کریں، لیکن نفقہ کی ہدایت دیتے ہوئے صرف حاملہ عورتوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْوُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّﵧ وَاِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ حَتّٰي يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ.(الطلاق ۶۵: ۶ )

''جیسی جگہ پر تم ٹھیرے ہو، اپنی گنجایش کے مطابق ان کوبھیٹھیراؤ اور انھیں تنگی میں ڈالنے کے لیے ان کو ضرر پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو جب تک بچے کو جنم نہ دے دیں، ان پر (اپنا مال بھی) خرچ کرو۔''

یوں قرآن مجید کی دلالت اس پر واضح ہے کہ حاملہ مطلقہ کے علاوہ کوئی دوسری مطلقہ دوران عدت میں نفقہ کی حق دار نہیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو نفقہ کا حق دار تسلیم نہ کرنا قرآن مجید کے عین مطابق ہے۔ البتہ آپ نے اس کو شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم اس لیے دیا کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہایش مہیا کی جائے گی (الام ۶ /۲۸۰، ۲۸۱ )۔

۶۔ روایات میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا (مسلم، رقم ۱۷۱۲)۔ فقہاے احناف نے اس روایت کو قرآن مجید کے اس حکم کے منافی قرار دیتے ہوئے قبول نہیں کیا جس میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے (البقرہ ۲ : ۲۸۲)۔احناف کے نزدیک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو مردوں یا ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرے، جب کہ زیر بحث حدیث میں اس کے برخلاف ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے ایک قسم لے کر فیصلہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ فقہاے احناف اس معاملے میں اپنی راے کے درست ہونے پر ایسا اذعان رکھتے ہیں کہ امام محمد سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا کہ اگرکوئی قاضی اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرے تو اس کے فیصلے کو فسخ کر دیا جائے، کیونکہ یہ طریقہ قرآن مجید کے خلاف ہے (الام ۸ /۱۵ ۔ ابن عبد البر، الاستذکار ۲۲ /۵۳ ) ۔

امام شافعی نے متعدد مقامات پر اس مسئلے پر کلام کیا ہے اور اس ضمن میں امام محمد بن الحسن کے ساتھ اپنے مجادلے کی روداد بھی نقل کی ہے۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ اس آیت میں شہادت کا کوئی ایسا نصاب بیان نہیں کیا گیا جس کی پابندی ہر ہر مقدمے میں ضروری ہو، بلکہ یہاں موضوع بحث قرض کے لین دین کا مسئلہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی ہے، جب کہ اس کے علاوہ دوسرے متنوع قسم کے معاملات میں کئی دوسرے طریقوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا جواز بھی قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ ان میں سے ہر طریقہ معاملے کی نوعیت کے لحاظ سے اپنی جگہ درست ہے اور کسی بھی آیت یا حدیث کو دوسری آیت یا حدیث کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امام شافعی لکھتے ہیں:

أرأیت إذا حکم اللہ عز وجل في الزنا بأربعة شھود وجاء ت بذلکالسنة وقال اللہ عز وجل:''واستشھدواشھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان''، أما صارأھل العلم إلی إجازة أربعة في الزنا واثنین في غیر الزنا ولم یقولوا أن واحدًا منھما نسخ الآخر ولا خالفہ وامضوا کل واحد منھما علی ما جاء فیہ، قال: بلی.(الام ۸/ ۲۷ )

''بتاؤ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زنا میں چار گواہوں کی گواہی پر فیصلے کا حکم دیا ہے اور سنت میں بھی یہی آیا ہے، جب کہ (قرض کے معاملے میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مرد گواہ مقرر کرو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہییں، تو (ان دونوں الگ الگ حکموں کے بارے میں) کیا اہل علم کا یہ موقف نہیں ہے کہ زنا میں چار اور باقی معاملات میں دو گواہوں پر فیصلہ کیا جائے گا اور یہ نہیں کہا کہ ان میں سے ایک حکم دوسرے کے خلاف ہے اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ہے، بلکہ اہل علم نے ہر حکم کو اس دائرے میں واجب العمل مانا ہے جس میں وہ دیا گیا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔''

اسی بحث میں الزامی استدلال سے کام لیتے ہوئے امام شافعی لکھتے ہیں:

فکان مما رد بہ الیمین مع الشاھدأن قال: قال اللہ تبارک وتعالٰی:''شھیدینمن رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان''، فقلت لہ: لستأعلم في ھذہ الآیة تحریم أن یجوز أقل من شاھدین بحال، قال: فإن قلت فیھا دلالة علی ألا یجوز أقل من شاھدین؟ قلت: فقلہ، قال: فقد قلتہ، قلت: فمن الشاھدان اللذان أمر اللہ جل ثناوہ بھما؟ قال: عدلان حران مسلمان، فقلت: فلم أجزت شھادة أھل الذمة؟ وقلت: لم أجزت شھادة القابلة وحدھا؟ قال: لأن علیًا أجازھا، قلت: فخلاف ھي للقرآن؟ قال: لا، قلت: فقد زعمت أن من حکم بأقل من شاھدین خالف القرآن.(الام۱۰/۲۹۰)

''مخالف نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلے کے طریقے کو جن دلائل کی وجہ سے رد کیا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مرد گواہ ہونے چاہییں اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس آیت میں اس بات کی کوئی ممانعت نظر نہیں آتی کہ کسی بھی حال میں دو سے کم گواہوں پر فیصلہ نہ کیا جائے۔ اس نے کہا کہ لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اس میں اس پر دلالت موجود ہے کہ دو سے کم گواہوں پر فیصلہ جائز نہیں؟ میں نے کہا کہ کہو۔ اس نے کہا کہ میں یہی کہتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ دو گواہ جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے، کس قسم کے ہونے چاہییں؟ اس نے کہا کہ عادل، آزاد اور مسلمان ہونے چاہییں۔ میں نے پوچھا کہ پھر تم (بعض امور میں) اہل ذمہ کی گواہی کیوں قبول کرتے ہو اور اکیلی دایہ کی گواہی پر کیوں فیصلہ کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس لیے کہ سیدنا علی نے اس کو، (یعنی دایہ کی گواہی کو) درست قرار دیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ جو شخص (کسی بھی صورت میں) دو سے کم گواہوں پر فیصلہ کرتا ہے، اس کی بات قرآن کے خلاف ہے۔''

مذکورہ مثالوں کے علاوہ بعض دیگر احادیث میں بیان ہونے والی تخصیصات بھی بظاہر قرآن کے عا م حکم کے معارض محسوس ہوتی ہیں۔ امام شافعی نے ان کا ذکر اس بحث کے تناظر میں تو نہیں کیا، لیکن ان کی توجیہ بھی اس انداز سے کی ہے کہ ان تخصیصات کا خود اصل حکم میں مضمر ہونا واضح ہو جاتا ہے۔

۷۔ مثال کے طور پر روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اپاہج شخص کو، جس نے بدکاری کی تھی اور معذور اور کم زور ہونے کی وجہ سے کوڑوں کی سزا کا متحمل نہیں تھا، اس طرح سزا دی کہ سو تنکے جمع کر کے ایک ہی دفعہ اس کے جسم پر مارنے کا حکم دیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ اور سنت سے یہ واضح ہے کہ کوڑے لگوانے سے مقصود انسان کی جان لینا نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو حرام کاموں کے ارتکاب سے باز رکھنا ہے اور اس سے مجرم کا گناہ بخشے جانے کی توقع ہے۔ چونکہ معذور یا نہایت بیمار آدمی کو کوڑے لگانے سے اس کی جان جا سکتی ہے، اس لیے ایسے شخص کو کوڑے لگوانا شریعت کا مقصود نہیں ہو سکتا (الام ۷ / ۳۴۴ )۔ گویا امام صاحب یہ واضح کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں سزا کا عام طریقہ چھوڑ کر خصوصی طریقہ اختیار کرنا خود حکم کے مقصد اور شریعت کے عمومی مزاج کی رعایت سے ضروری تھا۔

۸۔ اسی طرح بعض احادیث میں کہا گیا ہے کہ دو مردار کھانا ہمارے لیے حلال ہے: ایک مچھلی اور دوسرا ٹڈی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ دراصل حلال جانوروں کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جن کے حلال ہونے کے لیے ان کو ذبح کرنا ضروری ہے اور دوسری وہ جنھیں ذبح کرنا ضروری نہیں۔ اس دوسری قسم کی مثال کے طور پر امام شافعی ٹڈی اور مچھلی کا ذکر کرتے ہیں (الام ۳ / ۶۰۳، ۶۰۶)۔ امام شافعی کی مراد یہ ہے کہ ذبح کرنے کی شرط ایسے جانوروں کے لیے ہے جن کے جسم میں خون ہوتا ہے اور اسے ذبح کے ذریعے سے بہا دیا جاتا ہے۔ چونکہ مچھلی اور ٹڈی میں خون ہی نہیں ہوتا جسے بہایا جا سکے، اس لیے ان کو ذبح کرنا بھی ضروری نہیں۔ گویا امام صاحب یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن میں جس مردار کو حرام کہا گیا ہے، وہ خون رکھنے والے جانور ہیں اور اس میں مچھلی اور ٹڈی سرے سے شامل ہی نہیں، بلکہ ان کا حکم اصولی طور پر ہی ایسے جانوروں سے مختلف ہے۔

[باقی]

____________