قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۲) (2/2)


تاہم امام شافعی کا ذاتی رجحان دوسری راے کے حق میں معلوم ہوتا ہے۔ امام صاحب کا کہنا ہے کہ دین کے معاملے میں مسلمانوں کو جو بھی مشکل یا سوال پیش آ سکتا ہے، کتاب اللہ میں اصولی طورپر اس کے متعلق رہنمائی کا سامان موجود ہے۔ امام صاحب نے اس بات کی تائید میں قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں کتاب الہٰی کو ہدایت کے لیے کافی ووافی قرار دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی تبیین اور وضاحت کریں۔ یہ آیات حسب ذیل ہیں:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِﵿ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ. (ابراہیم ۱۴ :۱)

''یہ کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے، اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف، یعنی اس ہستی کے بتائے ہوئے راستے کی طرف لاؤ جو غالب اور ستودہ صفات ہے۔''

وَاَنْزَلْنَا٘ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ.(النحل ۱۶: ۴۴)

''اور ہم نے تمھاری طرف یاد دہانی کرانے والی کتاب نازل کی تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ غور وفکر کریں۔''

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًي وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰي لِلْمُسْلِمِيْنَ.(النحل ۱۶: ۸۹)

''اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو خوب کھول کر بیان کرنے والی ہے اور فرماں برداروں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے۔''

مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَاﵧ وَاِنَّكَ لَتَهْدِيْ٘ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ.(الشوریٰ ۴۲: ۵۲)

''تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب الہٰی کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اس کو نور بنایا جس کے ذریعے سے ہم اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں اور بے شک تم سیدھے راستے کی طرف (لوگوں کی) رہنمائی کر رہے ہو۔''

ان آیات سے امام صاحب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:

فلیست تنزل بأحد من أھل دین اللہ نازلة إلا وفي کتاب اللہ جل ثناوہ الدلیل علی سبیل الھدی فیھا. (الام ۱/ ۶)

''اللہ کے دین کو ماننے والوں کو جس کسی مسئلے سے بھی سابقہ پیش آ سکتا ہے، اللہ کی کتاب میں اس کے متعلق رہنمائی موجود ہے۔''

مزید فرماتے ہیں:

وما فرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئًاقط إلا بوحي اللہ، فمن الوحي ما یتلی ومنہ ما یکون وحیًا إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیستن بہ. (الام ۹/ ۷۰)''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم اللہ کی وحی کے بغیر مقرر نہیں کیا۔ وحی کی ایک قسم وہ ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے اور ایک قسم وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جاتی تھی اور اس کی روشنی میں آپ احکام مقرر فرماتے تھے۔''
سنت کا وظیفہ: قرآن مجید کی تبیین

امام شافعی کے نزدیک سنت کا بنیادی وظیفہ کتاب اللہ کی تبیین وتوضیح ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں مستقل احکام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن میں نازل کردہ احکام کی تشریح وتفصیل بھی کرتی ہے۔ یہ توضیحات اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی حیثیت ایسے ہی ہے، جیسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنی مراد کی وضاحت کی ہو۔

نوعیت کے اعتبار سے سنت کے ذریعے سے قرآن کی تبیین کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں:

قرآن کے مجمل احکام کی تبیین

سنت کے ذریعے سے قرآن کی تبیین کی سب سے بنیادی اور واضح ترین صورت قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں دین کے بہت سے بنیادی فرائض سے متعلق اصولی حکم تو بیان کر دیا گیا ہے، لیکن ان کو عملاً بجا لانے کے لیے جن تفصیلات کی ضرورت ہے، وہ بیان نہیں کی گئیں، بلکہ ان کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کی گئی ہے۔ اس کی معروف ترین مثالوں میں نماز اور زکوٰۃ کے احکام شامل ہیں (الام ۱/ ۷)۔ اسی طرح حج اور عمرہ کی ادائیگی کی پوری تفصیلات کا ذکر بھی ہمیں سنت میں ہی ملتا ہے (الام ۱/ ۱۲)۔

چنانچہ آپ نے واضح فرمایا کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ ہے اور یہ کہ حضر میں ظہر، عصر اور عشاء کی رکعتیں چار، مغرب کی تین اور فجر کی دو ہیں۔ اسی طرح آپ نے ہر نماز میں قراء ت کا طریقہ مقرر کیا اور مغرب، عشاء اور فجر میں جہری قراء ت کو، جب کہ ظہر اور عصر میں سری قراء ت کو مشروع کیا۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ نماز میں داخل ہونے کا طریقہ'اللہ اکبر' کہنا اور نماز سے نکلنے کا طریقہ'السلام علیکم' کہنا ہے۔ نیز یہ کہ نماز میں تکبیر کے بعد قراء ت کی جائے گی، پھر رکوع ہوگا اور رکوع کے بعد دو سجدے کیے جائیں گے۔ پھر آپ نے سفر کی حالت میں مسافر کو اختیار دیا کہ وہ تمام چہارگانہ نمازوں کی دو رکعتیں ادا کر سکتا ہے، جب کہ فجر اور مغرب کی رکعتیں اتنی ہی رہیں گی۔ آپ نے یہ ضابطہ بھی مقرر کیا کہ حالت خوف کے علاوہ ہر حالت میں سفر و حضر میں تمام نمازیں قبلہ رخ ہو کر ادا کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ نے بتایا کہ نفل نماز باقی تمام تفصیلات وشرائط میں فرض نماز کی طرح ہے، البتہ اگر کوئی شخص سواری پر سوار ہو تو وہ نفل نماز اسی رخ پر ادا کر سکتا ہے جس طرف سواری آگے بڑھ رہی ہو (الام ۱ /۷۵)۔

یہی معاملہ حج کا ہے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں پر حج کو فرض قرار دیا گیا ہے جو سفر کی استطاعت رکھتے ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سفر کی استطاعت سے مراد زاد راہ اور سواری کی دست یابی ہے۔ اسی طرح آپ نے حج کے مواقیت، تلبیہ کا طریقہ، محرم کے لیے سلے ہوئے لباس اور خوشبو کی ممانعت اور اس کے علاوہ عرفات ومزدلفہ میں ادا کیے جانے والے مناسک ، رمی، حلق اور طواف وغیرہ کی وضاحت فرمائی ہے (الام ۱/ ۸۵، ۸۶)۔

محتمل احکام کی تفصیل

قرآن کے ساتھ سنت کے تعلق کی دوسری اہم جہت قرآن کے حکم میں موجود مختلف احتمالات میں سے کسی ایک احتمال کی تعیین ہے۔ امام شافعی نے درج ذیل مختلف مثالوں کی مدد سے اس جہت کو واضح کیا ہے:

وضو کی آیت میں بازوؤں کے ساتھ کہنیوں اور پاؤں کے ساتھ ٹخنوں کا ذکر ہے۔ قرآن کے الفاظ اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے کے حکم میں شامل ہوں اور اس کا بھی کہ وہ اس سے خارج ہوں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے واضح فرمایا کہ وضو کرتے ہوئے ان دو اعضا کو بھی دھویا جائے گا (الام ۱/۱۱، ۷۰۔ ۱۰/۱۵۹)۔

سورۂ مزمل میں نماز تہجد کی فرضیت سے متعلق سابقہ ہدایت میں تبدیلی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: 'فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ' (۷۳: ۲۰ )، یعنی اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو۔ یہاں بظاہر یہ امکان بھی ہو سکتا ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت کو ہی سرے سے منسوخ کر دیا گیا ہو اور یہ بھی کہ فرضیت برقرار ہو، لیکن اس کے متعین دورانیے کی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں اور اسی سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت ہی فی نفسہٖ منسوخ کردی گئی ہے (الام ۱/ ۴۸، ۴۹)۔

قرآن مجید میں حج کے فرض ہونے کے لیے سفر کی استطاعت کو شرط قرار دیا گیا ہے (آل عمران ۳: ۹۷)۔ بظاہر استطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی خود سفر کر کے حج کے مناسک ادا کر سکتا ہو۔ تاہم ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو خثعم کی ایک خاتون سے، جس نے بتایا کہ اس کے والد پر حج فرض ہے، لیکن وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، کہا کہ وہ اپنے والد کی طرف سے حج کر لے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ استطاعت کی صورت صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سفر کر سکے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنی طرف سے نیابتاً حج کے لیے بھیج سکے۔ چنانچہ اس دوسری صورت میں بھی حج فرض ہوگا، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت سے کہتے کہ تمھارا والد چونکہ خود سفر نہیں کر سکتا، اس لیے اس پر حج فرض نہیں ہے (الام ۳/ ۳۰۲)۔

قرآن مجید میں بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو بچے کی ماں کا درجہ دیتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ماں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بچے کی رضاعی بہن کو بھی حرمت کے دائرے میں شمار کیا ہے (النساء ۴: ۲۳)۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ یہاں ان دو رشتوں کا ذکر کرنے سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ رضاعت کے تعلق سے صرف ان دو رشتوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ نسب کے مقابلے میں رضاعت، حرمت کا سبب ضعیف ہے، چنانچہ جیسے نسبی رشتوں میں سے صرف وہی حرام ہیں جو آیت میں مذکور ہیں، اسی طرح رضاعی رشتوں میں سے صرف ماں اور بہن کو ہی حرام ہونا چاہیے۔ دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ رضاعی بہن کو رضاعی ماں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے محرمات میں شامل کر کے اس طرف اشارہ مقصود ہو کہ ماں کے ساتھ رضاعی رشتہ اس تک محدود نہیں، بلکہ متعدی ہے۔ اس صورت میں رضاعی ماں کے رشتے سے وہ تمام خواتین بھی حرام قرار پائیں گی جو نسبی رشتے سے ہوتی ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دوسرا احتمال اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ رضاعت کے تعلق سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی رشتے سے حرام ہیں (الام ۶/ ۶۳، ۶۸، ۳۸۷، ۳۳۸)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کی حرمتوں کے بیان میں بچے کو دودھ پلانے والی عورتوں کا ذکر 'وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْ٘ اَرْضَعْنَكُمْ' (النساء ۴: ۲۳) کے الفاظ سے کیا ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ رضاع کا اطلاق ایک چسکی لگانے سے لے کر کئی بار دودھ پینے تک اور دو سال کی مدت پوری کرنے، بلکہ اس کے بعد بھی دودھ پینے پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان مختلف احتمالات میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کے لیے مستقل دلیل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے کسی عورت اور بچے کے مابین حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے (الام ۶/ ۷۲، ۷۷)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بیان کیا ہے کہ شوہر کی طرف سے بیوی کو تیسری طلاق دیے جانے کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کر لے۔ اگر دوسرا خاوند بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے (البقرہ ۲: ۲۳۰)۔ یہاں دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کے لیے 'حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ' کے الفاظ آئے ہیں جو دو معنوں کا احتمال رکھتے ہیں: ایک یہ کہ عورت دوسرے شوہر کے ساتھ عقد نکاح کر لے اور دوسرا یہ کہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ میاں بیوی کا تعلق بھی قائم کرے، کیونکہ نکاح کا لفظ عقد نکاح اور ہم بستری دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قضیے میں ایک عورت کو، جسے اس کے پہلے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں، یہ کہا کہ جب تک دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہی ہے (الام ۱/ ۶۶۔ ۶/ ۶۲۹)۔

قرآن مجید میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن (البقرہ ۲: ۲۳۴)، طلاق یافتہ خواتین کی عدت تین ماہواریاں (البقرہ ۲: ۲۲۸) اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بیان کی گئی ہے (الطلاق ۶۵: ۴ )۔ اب اگر کوئی خاتون حاملہ ہو اور اس کے شوہر کی وفات ہو جائے تو یہ احتمال بھی ہے کہ اس پر بیوہ اور حاملہ کی دونوں عدتیں پوری کرنا لازم ہو، جیسا کہ بعض اہل علم کا قول ہے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ صرف حاملہ کی عدت گزارے۔ اسی طرح اگر عورت حاملہ ہو اور اسے طلاق دے دی جائے تو اس کے لیے دونوں عدتیں گزارنا بھی مطلوب ہو سکتا ہے اور صرف وضع حمل بھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ بنت الحارث کے متعلق جو فیصلہ فرمایا، اس سے واضح ہو گیا کہ طلاق اور وفات کی صورت میں جن خواتین کی عدت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر حاملہ خواتین ہیں، جب کہ حاملہ خواتین کی عدت، چاہے انھیں طلاق دی گئی ہو یا وہ بیوہ ہو جائیں، یہی ہے کہ وہ بچے کو جنم دے دیں (الام ۱/ ۸۷، ۲۶۵)۔

معاہدۂ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو قرآن میں ہدایت کی گئی کہ ان کے نکاح میں جو مشرک عورتیں ہیں، وہ انھیں نکاح سے آزاد کر دیں اور اگر کوئی خاتون مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ آ جائے تو وہ اپنے مشرک شوہر کے لیے حلال نہیں رہے گی (الممتحنہ ۶۰: ۱۰ )۔ حکم میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں کے مابین نکاح، ایک فریق کے مسلمان ہوتے ہی کالعدم تصور کیا جائے اور یہ احتمال بھی ہے کہ کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد نکاح کے فسخ ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسے مقدمات میں علی الفور فسخ نکاح کا فیصلہ کرنے کے بجاے کچھ مدت تک دوسرے فریق کو یہ موقع دیا کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے اور پھر اسلام قبول کرنے کے بعد دونوں کے سابقہ نکاح کو برقرار رکھا (الام ۶/ ۱۲۰، ۱۲۱)۔

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو امت کی مائیں قرار دیا گیا ہے (الاحزاب ۳۳: ۶)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں ماں صرف اس معنی میں کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ نکاح کرنا امت کے لیے حلال نہیں، یہ مراد نہیں کہ ان کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جیسے اپنی صلبی ماؤں کی بیٹیوں سے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں کا نکاح بھی لوگوں سے کیا اور آپ کی ازواج کی بہنوں سے بھی لوگوں نے نکاح کیا۔ اسی طرح ازواج اور امت کے مابین وراثت کا تعلق بھی قائم نہیں کیا گیا (الام ۶/ ۳۶۴، ۳۶۵)۔

قرآن مجید میں ابتداءً مرنے والے پر لازم کیا گیا تھا کہ وہ اپنے والدین اور اقربا کے حق میں اور اسی طرح اپنی بیوہ کے لیے اپنے ترکے میں سے وصیت کر کے جائے (البقرہ ۲: ۱۸۰، ۲۴۰)۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ترکے میں والدین، اولاد، بہن بھائی اور میاں بیوی کے حصوں کے متعلق اپنے احکام نازل فرمائے (النساء ۴: ۱۱، ۱۲)۔ وراثت سے متعلق احکام کے نزول کے بعد وصیت کی ہدایت کے متعلق دو احتمال سامنے آتے ہیں: ایک یہ کہ ترکے میں متعین حصے مقرر کیے جانے کے بعد وارثوں کے حق میں وصیت کی ہدایت منسوخ کر دی گئی ہو، اور دوسرا یہ کہ وصیت کا حکم بھی اپنی جگہ برقرار ہو اور ورثا ازروے وصیت بھی ترکے میں سے حصہ لینے کے حق دار ہوں۔ ان دونوں احتمالات سے پہلے احتمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں متعین کر دیا گیا ہے، چنانچہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ واضح فرمایا کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی (الام ۱/ ۵۹، ۶۰)۔

سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے:'وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا' (۵: ۹۶)۔ قرآن کے ظاہر کے لحاظ سے زیادہ واضح مفہوم یہ ہے کہ محرم کے لیے خود جانور کو شکار کرنا ممنوع ہے، (تاہم ایک احتمال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شکار کیے ہوئے جانور کو مطلقًا ممنوع قرار دیا گیا ہو)۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ معلوم ہوا کہ محرم کے لیے خود شکار کرنے کے علاوہ ایسے جانور کا گوشت کھانا بھی ممنوع ہے جسے خاص طور پر اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔ پس قرآن کی ممانعت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا درست ہے جو سنت سے واضح ہوتا ہے (الام ۱۰/ ۲۴۴)۔

قرآن مجید میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ حج کے ارادے سے نکلنے والے اپنے ساتھ قربانی کے لیے جو جانور لے کر جائیں، انھیں بیت اللہ کے قریب، یعنی حدود حرم میں لے جا کر ذبح کیا جائے: 'ثُمَّ مَحِلُّهَا٘ اِلَي الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ' (الحج ۲۲: ۳۳)۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر دشمن کی طرف سے رکاوٹ پیش آنے کی وجہ سے آدمی حرم تک نہ پہنچ سکے اور راستے میں اسے روک دیا جائے تو وہ قربانی کا ایک جانور بھیج دے اور جب تک جانور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ جائے، آدمی اپنا سر نہ منڈوائے (البقرہ ۲: ۱۹۶)۔ یہاں 'حَتّٰي يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ' سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ احصار کی صورت میں بھی جانور کو حدود حرم میں ہی ذبح کرنا ضروری ہے، لیکن صلح حدیبیہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ حدود حرم سے باہر جہاں آپ مقیم تھے، وہیں جانوروں کو ذبح کر دیا تھا۔ امام شافعی اس سے استدلال کرتے ہیں کہ احصار کی صورت میں 'يَبْلُغَ مَحِلَّهٗ' سے مراد حرم میں پہنچنا نہیں، بلکہ جہاں بھی آدمی رک جائے، وہ جانور کو وہیں ذبح کر سکتا ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ عربی زبان کے اسالیب میں بڑی وسعت ہے، اس لیے 'يَبْلُغَ مَحِلَّهٗ' کی تعبیر اسی مقام پر جانور کو ذبح کرنے پر بھی صادق آ سکتی ہے جہاں آدمی کو روکا گیا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے یہ احتمال مؤکد ہو جاتا ہے (الام ۳/ ۴۰۰، ۴۰۱) [2]۔

سورۂ نساء کی آیت ۳ میں ایک سے زائد خواتین سے نکاح کی ہدایت دیتے ہوئے چار تک کی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ امام شافعی کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو صریح اور ناطق نہیں سمجھتے، اور اسے چار کی تحدید پر محمول کرنے میں فیصلہ کن حیثیت حدیث کو دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

فدلت سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی أن انتھاء اللہ عزوجل في العدد بالنکاح إلی أربع تحریم أن یجمع رجل بنکاح بین أکثر من أربع.(الام ۶/ ۱۳۱)''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح میں صرف چار تک عورتوں کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کے لیے بیک وقت چار سے زائد عورتوں سے نکاح حرام ہے۔''

گویا اس مسئلے سے متعلق وارد احادیث سے حتمی طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی مراد چار سے زائد عورتوں سے نکاح کی ممانعت ہے (الام ۶/ ۱۱۳، ۱۳۰، ۳۷۷، ۳۷۸)۔

قرآن کے ظاہری عموم کی تخصیص

قرآن مجید کی تبیین کی ایک اہم صورت یہ ہے کہ قرآن میں کوئی حکم بظاہر عام بیان ہوا ہو، لیکن سنت میں یہ واضح کیا جائے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد بعض مخصوص افراد یا مخصوص صورتیں ہیں۔

مثلاً قرآن مجید میں مسلمانوں کے اموال سے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے (التوبہ ۹: ۱۰۳) جس سے بظاہر ہر مال کا قابل زکوٰۃ ہونا معلوم ہوتا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰۃ عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی ، زکوٰۃ کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰۃ وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ یوں سنت نے واضح کیا کہ زکوٰۃ ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے (الام ۱/ ۸۰- ۸۵۔ ۳/ ۷)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کو دھونے کا حکم دیا ہے (المائدہ ۵: ۶)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور یہ ہدایت دی کہ پورے وضو کی حالت میں جس آدمی نے پاؤں پر موزے پہنے ہوں، وہ مسح کر سکتا ہے۔ یوں سنت سے یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد سب وضو کرنے والے نہیں، بلکہ بعض ہیں ،یعنی بعض حالتوں میں وضو کرنے والے پاؤں کو دھوئیں گے اور بعض میں مسح کریں گے (الام ۱/ ۲۹ ، ۳۰)۔

اللہ تعالیٰ نے چوری کرنے والے مرد اور عورت کی سزا یہ بیان کی ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں (المائدہ ۵: ۳۸)۔ بظاہر الفاظ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی بھی قسم کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ درخت سے پھل توڑ لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چوری کسی غیر محفوظ جگہ سے کی گئی ہو یا اس کی قیمت ایک چوتھائی دینار سے کم ہو تو بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر طرح کی چوری پر ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے (الام ۱/ ۳۰۔ ۷/ ۳۱۹)۔

اللہ تعالیٰ نے زنا کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ زانی مرد اور عورت، دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں (النور ۲۴: ۲)۔ بظاہر یہ حکم ہر طرح کے زانی کے لیے بیان ہوا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانی کو کوڑے لگوانے کے بجاے سنگ سار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر شادی شدہ زانی ہیں (الام ۱/ ۳۰، ۵۶)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں سے خمس کا حق دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذوی القربیٰ، یتامی ٰ، مساکین ا ور مسافروں کو قرار دیا ہے (الانفال ۸: ۴۱)۔ یہاں'ذوی القربیٰ' کے الفاظ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقربا نہیں، بلکہ بعض مراد ہیں (الام ۱/ ۳۱)۔

قرآن مجید میں ترکے میں ورثاء کے حصے بیان کرتے ہوئے بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس کی رو سے ظاہراً تمام والدین، بہن بھائی اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں (النساء ۴: ۱۰، ۱۱)۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ایسے رشتہ دار ہیں جن کا دین ایک ہی ہو۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ اگر وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اسے اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا (الام ۱/ ۲۹)۔

قرآن کے احکام کی تکمیل

سنت میں احکام وہدایات کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جو قرآن میں بیان ہونے والے احکام کی تکمیل کرتا ہے، یعنی ان کے ساتھ جڑے ہوئے چند مزید سوالات کی وضاحت کرتا ہے جن کا قرآن نے ذکر نہیں کیا۔

مثلاً قرآن میں وضو کا طریقہ تو بیان کیا گیا ہے (المائدہ ۵: ۶)، لیکن رفع حاجت کے بعد استنجا اور جنابت کے بعد غسل کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح وضو میں اعضا کو کتنی مرتبہ دھویا جائے، اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی۔ نیز جن چیزوں سے وضو اور غسل ٹوٹ جاتے ہیں، ان کی کوئی جامع فہرست قرآن میں مذکور نہیں۔ ان سب چیزوں کی وضاحت ہمیں سنت میں ملتی ہے (الام ۱/ ۱۱)۔

قرآن مجید میں وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے چہرے، بازوؤں اور پاؤں کو دھونے اور سر پر مسح کرنے کا ذکر کیا گیا ہے (المائدہ ۵: ۶)۔ تاہم احادیث میں منہ دھوتے ہوئے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بھی ذکر ہے (الام ۲/ ۲۲۵، ۲۵۳)۔

قرآن مجید میں نماز کے اعمال میں رکوع اور سجود کا ذکر کیا گیا ہے (الحج ۲۲: ۷۷)، لیکن اس حالت میں پڑھے جانے والے مخصوص اذکار کا ذکر قرآن میں نہیں، بلکہ ان کی تفصیل ہمیں سنت میں ملتی ہے (الام ۲/ ۲۲۵ ، ۲۵۳)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سفر میں دشمن سے خوف کی کیفیت میں مسلمانوں کو نماز، قصر کر کے پڑھنے کی اجازت دی ہے (النساء ۴: ۱۰۱)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت سے ایسی کیفیت میں بھی فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جب خوف کی کیفیت نہ ہو اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے جسے اہل ایمان کو قبول کرنا چاہیے (الام ۱۰/ ۵۰)۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے شوہر کی طرف سے بیوی پر بدکاری کا الزام عائد کیے جانے کی صورت میں دونوں کے مابین لعان کا حکم دیا ہے (النور ۲۴: ۶- ۹)۔ تاہم قرآن میں یہ ذکر نہیں کہ لعان کے بعد کیا معاملہ کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں یہ واضح فرمایا کہ لعان ہو جانے کے بعد میاں بیوی میں تفریق کر دی جائے گی اور بچے کا نسب، عورت کے شوہر سے ثابت نہیں مانا جائے گا (الام ۱/ ۶۴۔ ۶/ ۷۳۳)۔

قرآن مجید میں بیوہ کے لیے عدت کا حکم بیان کیا گیا ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اس عرصے میں وہ نیا نکاح کرنے سے رکی رہے (البقرہ ۲: ۲۳۴)۔ قرآن کے ظاہر سے اس پابندی کا مطلب اتنا ہی نکلتا ہے کہ عورت نیا نکاح نہ کرے اور اپنے گھر میں ٹھیری رہے۔ تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ رکے رہنے کے مفہوم میں کچھ اور پابندیاں بھی شامل ہوں جو عدت سے پہلے عائد نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو زیب وزینت اور خوشبو وغیرہ لگانے سے بھی منع فرما دیا (الام ۱/ ۹۱۔ ۶/ ۵۸۳)۔

قرآن مجید سے استنباط

امام شافعی کا نقطۂنظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شارع کی حیثیت سے قرآن مجید کی ہدایات سے زائد جو احکام بیان فرمائے ہیں، وہ بھی درحقیقت قرآن مجید ہی کی فراہم کردہ رہنمائی پر مبنی ہیں، یعنی کتاب اللہ میں جو احکام نازل ہوئے ہیں، آپ نے ان کی تہ تک پہنچ کر اور ان کی حکمت ومعنویت کو پا کر ان سے مزید جزئیات وفروع اخذ کی ہیں۔ اس ضمن میں امام شافعی نے سنت کے احکام کا ماخذ قرآن میں واضح کرنے کے لیے کئی لطیف استنباطات کا ذکر کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضو میں اعضا کو دھونے کا حکم دیا ہے (المائدہ ۵: ۶)۔ یہاں لفظ غسل کا کم سے کم مصداق ایک مرتبہ دھونا ہے اور اس کی فرضیت قرآن سے واضح ہے، جب کہ اس سے زیادہ مرتبہ دھونا محتمل ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر صرف ایک دفعہ اعضا کو دھو کر واضح کر دیا کہ قرآن کے ظاہر کے مطابق ایک ہی مرتبہ دھونا فرض ہے، جب کہ دوسرے مواقع پر دو دو یا تین تین مرتبہ دھو کر واضح فرمایا کہ یہ واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے (الام ۱/ ۱۱، ۶۹)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حالت خوف میں اجازت دی ہے کہ مسلمان سواری پر سوار ہو کر یا پیدل چلتے ہوئے، کسی بھی حالت میں نماز ادا کر سکتے ہیں (البقرہ ۲: ۲۳۹)۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قبلہ رخ ہونے کی پابندی بیان نہیں کی (اور عقلاً بھی سواری پر سوارہو کر استقبال قبلہ کا التزام ممکن نہیں)۔ یوں اس رخصت سے ہی واضح ہے کہ ایسی صورت میں قبلہ رخ ہونے کی پابندی ضروری نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر حالت خوف میں سواری پر یا چلتے ہوئے نماز پڑھنے کی نوبت آ جائے تو ایسی صورت میں قبلہ رخ ہوتے ہوئے یا اس کے بغیر، دونوں حالتوں میں نماز ادا کی جا سکتی ہے (الام ۱/ ۵۴)۔

مشرکین اہل عرب فقر یا عار کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کر دیتے تھے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا (الانعام ۶: ۱۵۱) تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت جنگ میں مشرکین کے بچوں کو قتل کرنا ممنوع ہے، جب کہ کسی بھی جان کو ناحق قتل کرنے کی ممانعت کا مستقل اخلاقی اصول بھی قرآن میں بیان کیا گیا ہے (الام ۷/ ۶)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے مہر کی مقدار طے کرنے کی نسبت شوہروں کی طرف کی ہے (البقرہ ۲: ۲۳۵- ۲۳۶)۔ چونکہ مہر عورت کا حق ہے جو شوہر پر لازم ہوتا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ اس کی مقدار طے کرنے میں عورت کی رضامندی بھی شامل ہونی چاہیے۔ یوں قرآن سے واضح ہے کہ مہر کی مقدار فریقین کی باہمی رضامندی سے طے کی جائے گی اور اس کی کوئی تحدید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں کی گئی۔ چنانچہ اس کی حیثیت وہی ہے جو بیع میں کسی چیز کی قیمت طے کرنے کی ہے، یعنی جیسے مبیع کی قیمت فریقین کی رضامندی سے طے کی جاتی ہے، اسی طرح مہر بھی میاں بیوی کے باہمی اتفاق سے طے کیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سنت میں اسی کی وضاحت فرمائی ہے کہ جس چیز پر دونوں اہل خانہ رضامند ہو جائیں، وہی مہر ہے (الام ۶/ ۱۵۳)۔

قرآن مجید میں بیویوں سے استمتاع کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ 'فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰي شِئْتُمْ' (البقرہ ۲: ۲۲۳)۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ یہ آیت بظاہر دو معنوں کی محتمل ہے: ایک یہ کہ بیوی سے کسی بھی طریقے سے استمتاع کرنا، یعنی وطی فی الدبر (anal sex) بھی مباح ہے، اور دوسرا یہ کہ ایسی جگہ استمتاع مراد ہے جو کھیتی بن سکتی ہو، یعنی اس سے اولاد پیدا ہو سکتی ہو۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کے مابین اسی وجہ سے اختلاف ہے۔ بعض وطی فی الدبر کو حلال کہتے ہیں اور بعض حرام۔ تاہم احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی سے دبر میں استمتاع کو حرام قرار دیا۔ امام شافعی قرآن مجید سے اس کے حق میں دو شواہد پیش کرتے ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حالت حیض میں خواتین سے الگ رہنے کی ہدایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں، ان کے قریب نہ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی سے استمتاع صرف قبل میں کیا جا سکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بیوی کے لیے کھیتی کی تعبیر اختیار کی ہے اور اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بیوی سے استمتاع اسی جگہ ہو سکتا ہے جہاں سے بچے کی پیدایش ہو سکتی ہو (الام ۶/ ۲۴۲، ۲۴۴، ۴۴۳) ۔

مذکورہ آیت میں ہی حالت حیض میں بیوی کے پاس جانے کی ممانعت سے امام شافعی استدلال کرتے ہیں کہ شرم گاہ کے علاوہ جسم کے کسی دوسرے حصے سے استمتاع حرام نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ شوہر کے لیے مافوق الازار بیوی سے استمتاع درست ہے (الام ۶/ ۲۴۳، ۲۴۴)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ایسے افراد کو جن کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں تھیں، اسلام قبول کرنے پر یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی بیویوں میں سے جن چار کو نکاح میں رکھنا چاہیں، ان کو رکھ کر باقی سے علیحدگی اختیار کرلیں (ابو داؤد، رقم ۱۹۵۲)۔ امام شافعی اس استنباط کے حق میں قرآن سے یہ استشہاد پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ربا کو ممنوع قرار دیتے ہوئے 'مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰ٘وا' (البقرہ ۲: ۲۷۸) کو چھوڑ دینے کی ہدایت کی ہے، لیکن اس سے پہلے دور جاہلیت میں جو ربا لوگ لے چکے تھے، اس سے تعرض نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت کفر میں لوگوں نے جو خلاف شریعت اعمال کیے، ان سے شریعت میں صرف نظر کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں کیے گئے عقود کو معتبر مانا جائے گا اور شوہر کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی چار پسندیدہ بیویوں کو چن لے (الام ۶/ ۱۳۲)۔

قرآن مجید میں اہل ایمان کو حالت احرام میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے: 'وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا' (المائدہ ۵: ۹۶)، الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، اور وہ جانور زیر بحث نہیں جو ویسے بھی حرام ہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرام جانوروں، مثلاً درندوں کو ان کے حملے یا ضرر سے بچنے کے لیے قتل کرنے سے روکنا آیت کی مراد نہیں ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بات واضح کی اور فرمایا کہ پانچ جانوروں کو حدود حرم کے اندر اور باہر، کسی بھی جگہ قتل کرنا مباح ہے (الام ۳/ ۴۶۴، ۴۶۵) ۔

احادیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن پر شب خون مارنے، یعنی رات کے وقت بے خبری میں حملہ کرنے کی اجازت دی اور جب یہ پوچھا گیا کہ اس کی زد میں ان کی عورتیں اور بچے بھی آئیں گے تو فرمایا کہ ان کا شمار بھی انھی میں ہوتا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر ان کو قصداً قتل نہ کیا جائے اور وہ بلا قصد حملے کی زد میں آ جائیں تو اس کی وجہ سے حملہ کرنے والوں کو کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ کوئی کفارہ یا دیت لازم آئے گی۔ امام شافعی اس کے حق میں سورۂ نساء کی آیت سے استشہاد کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے کوئی دوسرا مسلمان، جس کا تعلق کسی کافر غیر معاہد قوم سے ہو، بلا ارادہ قتل ہو جائے تو اس پر قاتل کو صرف کفارہ ادا کرنا ہوگا، یعنی دیت اس پر لازم نہیں ہوگی (۴: ۹۲)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ایسی خواتین اور بچے جو نہ تو مومن ہیں اور نہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا معاہدہ ہے، اگر لڑائی میں مارے جائیں تو بدرجہ اولیٰ اس پر گناہ، کفارہ، قصاص یا دیت لازم نہیں آئے گی (الام ۱/ ۱۳۵)۔

[باقی]

_________

[2]۔ امام صاحب کی یہ توجیہ کم زور معلوم ہوتی ہے اور قرآن مجید کے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تک ہدی اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ جائے، اپنے سروں کو مت منڈواؤ (البقرہ ۲: ۱۹۶)۔ اگر جانور کو اسی جگہ ذبح کرنا جائز ہو تو اس کے لیے اس کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ جانور اپنے محل تک پہنچ جائے۔ اس لیے درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ احصار کی کیفیت میں بھی قربانی کے جانور کو حرم تک پہنچانا ضروری ہے۔ البتہ اگر دشمن کی طرف سے رکاوٹ کی نوعیت ایسی ہو کہ قربانی کے جانور کو بھی بھیجنا ممکن نہ ہو تو پھر عذر کے اصول پر اسے حدود حرم کے باہر ذبح کرنا بھی جائز ہو سکتا ہے اور حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی نوعیت بھی یہی تھی۔ قرآن مجید نے بھی سورۂ فتح میں اس صورت حال کا ذکر اسی حوالے سے کیا ہے کہ 'وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ' (۴۸: ۲۵)، یعنی مشرکین نے مسلمانوں کو بھی روک دیا تھا اور قربانی کے جانوروں کو بھی حرم تک پہنچنے کی اجازت دینے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ گویا عذر اور مجبوری کی صورت میں تو ایسا کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر احصار کے باوجود جانور کو حرم تک بھیجنا ممکن ہو تو پھر قرآن کی ہدایت یہی ہے کہ اسے حدود حرم میں ہی ذبح کیا جائے۔ واللہ اعلم

____________