قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۵) (1/2)


فقہاے احناف کا موقف

قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ائمۂ احناف کے نظریے پر خود ان کی زبانی کوئی تفصیلی بحث دست یاب ذخیرے میں امام ابوبکر الجصاص کی ''الفصول فی الاصول'' اور ''احکام القرآن'' سے پہلے نہیں ملتی۔ ائمۂ احناف سے اس موضوع پر حنفی مآخذ میں جو کچھ منقول ہے، ان کی نوعیت متفرق اقوال یا مختصر تبصروں کی ہے جن سے ان کا پورا اصولی تصور اور اس کا استدلال واضح نہیں ہوتا۔ تاہم تاریخی اہمیت کے پہلو سے ان کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ابو مقاتل حفص بن سلم السمرقندی نے امام ابو حنیفہ کا یہ قول روایت کیا ہے کہ:

فرد کل رجل یحدث عن النبی صلیاللہ علیہ وسلم بخلاف القرآنلیس ردا علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا تکذیبا لہ، ولکن رد علی منیحدث عن النبی صلی اللہ علیہ وسلمبالباطل، والتھمة دخلتعلیہ لیس علی نبی اللہ علیہ السلام.('العالم والمتعلم، ص۲۵)

''کسی بھی ایسے راوی کی روایت کو رد کرنا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے خلاف روایت نقل کرتا ہو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنا نہیں ہے اور نہ اس سے آپ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ یہ تو اس شخص کی بات کو رد کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے باطل بات کو نقل کرتا ہے۔ اس میں مورد الزام وہ شخص ہے، نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔''

امام ابو یوسف لکھتے ہیں:

والروایة تزداد کثرة ویخرج منھاما لا یعرف ولا یعرفہ اھل الفقہ ولایوافق الکتاب ولا السنة، فایاک وشاذالحدیث، وعلیک بما علیہ الجماعةمن الحدیث وما یعرفہ الفقھاء ومایوافق الکتاب والسنة، فقس الاشیاءعلی ذلک، فما خالف القرآن فلیسعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلموان جاء ت بہ الروایة...فاجعل القرآنوالسنة المعروفة لک اماما قائدا واتبعذالک وقس علیہ ما یردعلیک مما لم یوضح لک فی القرآن والسنة.(الرد علی سیر الاوزاعی، ص۳۱)

''روایات بڑھتی جا رہی ہیں اور ان میں ایسی غیرمعروف روایات بھی سامنے آ رہی ہے جن سے نہ فقہا واقف ہیں اور نہ وہ کتاب اور سنت کے مطابق ہیں۔ اس لیے شاذ حدیثوں سے گریز کرو اور انھی حدیثوں کو اختیار کرو جو بہت سے راویوں سے منقول ہیں اور جنھیں فقہا جانتے ہیں اور جو کتاب اور سنت کے مطابق ہیں۔ اسی معیار پر روایات کو جانچو۔ جو بات قرآن کے خلاف ہو، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہو سکتی، چاہے کسی روایت میں ایسا بیان ہوا ہو۔ … سو قرآن اور معلوم ومشہور سنت کو اپنا رہنما بناؤ اور انھی کی پیروی کرو اور جو باتیں قرآن اور سنت میں واضح نہیں کی گئیں، انھیں قرآن وسنت پر قیاس کرو۔''

امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا کہ:

ما قلت بالمسح علی الخفین حتیوردت فیہ آثار اضوا من الشمس وعنہ:اخاف الکفر علی من لم یر المسح علی الخفین.(ملا علی القاری، فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ۱/ ۱۲۱)

''میں اس وقت تک مسح علی الخفین کا قائل نہیں ہوا جب تک اس کے متعلق سورج سے زیادہ روشن روایات میرے علم میں نہیں آ گئیں۔ امام ابوحنیفہ سے ہی منقول ہے کہ جو شخص مسح علی الخفین کو درست نہیں سمجھتا، مجھے اس پر کفر کا خوف ہے۔''

اسی طرح امام ابویوسف کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ:

انما یجوز نسخ القرآن بالسنة اذا وردت کورود المسح علی الخفین فیالاستفاضة.(جصاص، احکام القرآن،۲/ ۳۴۸ )

''قرآن کے حکم میں سنت کے ذریعے سے تبدیلیکرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے جب سنت اس طرح شہرت کے ساتھ وارد ہوئی ہو جیسے مسح علی الخفین میں وارد ہوئی ہے۔''

ان بیانات سے اصولی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ ائمۂ احناف شاذ اور غریب احادیث کو قرآن اور سنت پر جانچنے کے قائل تھے اور مشہور ومستفیض احادیث کے علاوہ نادر اور غریب احادیث کی بنا پر قرآن کے ظاہری حکم میں ترمیم وتغییر کو درست نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ امام عیسیٰ بن ابان سے اس ضمن میں ائمۂ احناف کی ترجمانی یوں منقول ہے:

واما اذا روی عن رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم حدیث خاص، وکانظاھر معناہ بیان السنن والاحکام، اوکان ینقض سنة مجمعا علیھا اویخالف شیئا من ظاھر القرآن، فکانللحدیث وجہ ومعنی یحمل علیہلا یخالف ذلک، حمل معناہ علی احسنوجوھہ واشبھہ بالسنن واوفقہ لظاھرالقرآن، فان لم یکن معنی یحملذلک فھو شاذ.(الفصول فی الاصول ۱/ ۱۵۶)

''اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خبر واحد روایت کی جائے اور ظاہری مفہوم کے لحاظ سے اس کا موضوع سنن اور احکام کا بیان ہو اور وہ کسی متفق علیہ سنت یا ظاہر قرآن کے خلاف ہو تو اگر تو حدیث کو کسی ایسے مفہوم پر محمول کیا جا سکے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو تو اسے اس کے بہترین محمل پر محمول کیا جائے گا جو سنن کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو اور ظاہر قرآن کے بھی موافق ہو۔ لیکن اگر ایسے کسی مفہوم پر محمول کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی حدیث شاذ ہے۔''

تاہم اس مواد سے متعین طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مثال کے طور پر مسح علی الخفین کو وہ کس مفہوم میں نسخ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آیا وہ اسے قرآن کی مراد میں تغییر سمجھتے اور اس پہلو سے سنت کے مشہور ومستفیض ہونے کی شرط عائد کرتے ہیں یا اسے قرآن کی مراد ہی کی وضاحت تصور کرتے ہوئے صرف احتیاط کے پہلو سے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن کے ظاہری مفہوم کو غریب اور نادر احادیث کی بنیاد پر ترک نہ کیا جائے۔

امام محمد بن الحسن الشیبانی نے محرمات نکاح کی بحث میں قرآن مجید کی آیات کے ظاہری مفہوم پر سنت اور اجماع سے ثابت زیادات اور تخصیصات کا جس اسلوب میں ذکر کیا ہے، اس سے بھی مذکورہ نکتے پر زیادہ روشنی نہیں پڑتی، اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ ان زیادات وتخصیصات کو قرآن کی مراد کی وضاحت اور تبیین ہی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مثا ل کے طور پر لکھتے ہیں:

فھذہ جملة فی تحریم ما نصہ اللہتعالٰی من الصھر والنسب، لانہ بلغناعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال ''یحرم من الرضاع ما یحرم منالنسب''، وقال رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم ''لا تنکح المراة علیعمتھا ولا علی خالتھا''، وقال رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حدیثابی قعیس لعائشة رضی اللہ عنھا ''لیلج علیک، فانہ عمک'' .(الاصل۴/ ۳۵۷)

''اللہ تعالیٰ نے جن صہری اور نسبی رشتوں کو حرامٹھیرایا ہے، ان آیات میں ان کی اصولی وضاحت کی گئی ہے (تاہم یہ تمام تفصیلات پر مشتمل نہیں)، کیونکہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پہنچا ہے کہ رضاع سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی عورت کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ آپ نے ابو قعیس کے واقعے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اسے اپنے پاس آنے دو، کیونکہ وہ تمھارا چچا لگتا ہے۔''

امام صاحب نے اس بحث میں محرمات سے متعلق قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت تمام جزئیات کو اس اسلوب میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں رشتے کو حرام قرار دیا ہے، جب کہ سنت نے یا اجماع نے فلاں کو بھی اس کے دائرے میں شمار کیا ہے، یعنی وہ قرآن میں بیان کردہ حکم اور سنت یا اجماع سے ثابت اضافات کا باہمی تعلق متعین نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایک اصولی سوال کے حوالے سے ان کے زاویۂ نظر کی حتمی تعیین ممکن نہیں ہو پاتی۔

جہاں تک کسی خبر واحد کو قرآن سے متعارض ہونے کی بنا پر رد کرنے کا تعلق ہے تو ہمارے استقرا کی حد تک ائمۂ احناف سے اس کی صرف ایک مثال منقول ہے۔ یہ قضاء بالیمین مع الشاہد کی روایت تھی جس کا رد یا قبول حجازی اور عراقی فقہا کے مابین ایک اہم متنازع فیہ مسئلہ تھا۔ امام مالک، اہل مدینہ کے تعامل کی روشنی میں اس کے جواز کے قائل تھے، جب کہ فقہاے عراق اس طریقے کو فیصلے کا جائز طریقہ نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس پر امام محمد نے بھی"الحجۃ علی اہل المدینۃ"میں تفصیلی کلام کیا ہے اور امام شافعی نے بھی کتاب الام کے متعدد مقامات پر اس ضمن میں فقہاے عراق کے ساتھ اپنے علمی مجادلوں کی روداد نقل کی ہے۔ امام شافعی نے اس حوالے سے دو مسئلوں کا بطور خاص ذکر کیا ہے جس میں عراقی فقہا اپنے موقف کے حق میں زور دار اور تفصیلی استدلال پیش کرتے تھے۔ ان میں سے ایک دوران نماز میں سہواً کلام کرنے سے نماز کے باطل ہونے یا نہ ہونے کا اور دوسرا مدعی کے پیش کردہ ایک گواہ کے ساتھ اس سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے(الام ۲/۲۸۲)۔ اس پورے مواد سے، فقہاے عراق کے موقف کی تین بنیادی دلیلیں سامنے آتی ہیں:

ایک یہ کہ یہ طریقہ قرآن مجید کے بیان کردہ طریقے کے خلاف ہے، کیونکہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲ سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ دو مردوں یا ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرے، جب کہ زیر بحث حدیث میں اس کے برخلاف ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے ایک قسم لے کر فیصلہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے (الاصل ۱۱/ ۵۰۵)۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ عراقی فقہا کے نزدیک اگرکوئی قاضی اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرے تو اس کے فیصلے کو فسخ کر دیا جائے گا، کیونکہ یہ طریقہ قرآن مجید کے خلاف ہے (الام ۸/ ۱۵۔ ۱۰/ ۲۹۰)۔ یہی بات ابن عبد البر نے امام محمد کا نام لے کر ذکر کی ہے (ابن عبد البر، الاستذکار ۲۲/ ۵۳)۔

دوسری یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرنے کا ایک عمومی اور معروف اصول یہ بیان کیا ہے کہ مدعی سے گواہ طلب کیا جائے اور مدعا علیہ سے قسم لی جائے۔ چنانچہ امام محمد، امام ابوحنیفہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں مدعا علیہ کے بجاے مدعی سے حلف لینے کے قائل نہیں تھے، حتیٰ کہ اگر مدعا علیہ اس پر راضی ہو کہ مدعی کے قسم کھانے پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے، تب بھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا۔ امام ابوحنیفہ کا استدلال یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی کی ذمہ داری گواہ پیش کرنا اور مدعا علیہ کی ذمہ داری قسم کھانا بیان فرمائی ہے، اس لیے اس طریقے کے خلاف مدعی سے قسم نہیں لی جا سکتی (الاصل ۱۲/ ۱۳۲)۔

تیسری یہ کہ قضاء بالیمین مع الشاہد کی روایت سنداً کم زور اور ناقابل اعتماد ہے۔"الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ"میں امام محمد کی بحث بنیادی طور پر اسی نکتے پر مرکوز ہے۔

اس ایک مثال کے علاوہ ہمیں ائمۂ احناف کی آرا میں کوئی ایسی انطباقی مثال نہیں ملتی جس میں انھوں نے خبرواحد کو قرآن سے متعارض ہونے کی بنا پر رد کیا ہو۔

حنفی ائمہ سے براہ راست منقول توضیحات کے علاوہ ان کے منہج کی تفہیم میں امام شافعی کے بیانات بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں جو کتاب الام کے مختلف مباحث میں ملتے ہیں۔ امام شافعی کا اصل مطمح نظر تو فقہاے احناف کے نظریے کے بنیادی نکات کو بیان کر کے ان پر نقد کرنا ہے، تاہم اس کے ضمن میں انھوں نے حنفی فقہا کا منہج بھی متعین کیا ہے جس کی اپنی علمی قدر وقیمت ہے اور اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے کتاب الام کی ''کتاب الدعویٰ والبینات'' میں"الخلاف فی الیمین مع الشاھد"کے زیر عنوان طویل بحث خاص طورپر اہم ہے جس میں امام شافعی نے قرآن کے ظاہری عموم سے استدلال کے حوالے سے حنفی فقہا کے انداز فکر پر اپنا نقد بے شمار مثالوں اور تفصیلی تجزیے کے ساتھ پیش کیا ہے۔

فقہاے احناف پر امام شافعی کی تنقید کے مقدمات حسب ذیل ہیں:

۱۔ احناف اصولی طور پر یہ بات مانتے ہیں کہ سنت، اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو بیان کرتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی حکم ثابت ہو تو قرآن کی مراد اسی کی روشنی میں متعین کی جائے گی اور دونوں حکموں کو تعارض پر محمول نہیں کیا جائے گا۔

۲۔ احناف بہت سی مثالوں میں اس اصول کا عملی انطباق بھی کرتے ہیں، چنانچہ مسح علی الخفین، نصاب سرقہ، زنا کی سزا ، قاتل اور غیر مسلم کو وراثت سے محروم قرار دینے، قرض کی ادائیگی کو وصیت سے مقدم کرنے، حق وصیت کو ایک تہائی تک محدود کرنے، کچلی والے درندوں کے گوشت کی حرمت اور اس جیسے دیگر کئی مسائل میں وہ سنت سے ثابت احکام کو واجب الاتباع قرار دیتے ہیں، اگرچہ وہ بظاہر قرآن کے عموم کے خلاف ہیں (الام ۸/ ۵۲)۔

۳۔ احناف نے بعض مثالوں میں ایسی احادیث سے بھی قرآن کے ظاہر کی تخصیص کو قبول کیا ہے جنھیں صحت کے ساتھ صرف ایک صحابی نے نقل کیا ہے، جیسے پھوپھی اور بھتیجی سے بیک وقت نکاح کی ممانعت کے راوی صرف ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکوٰۃ واجب نہ ہونے کی روایت صرف ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے (الام ۳/ ۷۶۔ ۸/ ۴۸) ۔

۴۔ بعض مثالوں میں مختلف فیہ احادیث کو بھی احناف نے جواز تخصیص کی بنیاد مانا ہے، جیسے وارث کے حق میں وصیت کے عدم جواز کی روایت جو علماے حدیث کے نزدیک سنداً ثابت نہیں (الام ۸/۴۹)۔ اسی طرح احناف ایسی صورت میں جب شوہر محدود فی القذف ہو اور اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے، دونوں کے مابین لعان کے قائل نہیں، جب کہ اس ضمن میں عمرو بن شعیب کی نقل کردہ حدیث کمزور اور ناقابل استدلال ہے (الام ۸/ ۶۲)۔

۵۔ بعض مثالوں میں احناف نے حدیث کے بغیر، بعض صحابہ کے قول کی بنا پر ظاہر قرآن میں تخصیص کو قبول کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں بیوی سے ہم بستری سے پہلے اسے طلاق دینے کی صورت میں اسے نصف مہر کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ہے، لیکن احناف سیدنا عمر کے قول کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ خلوت صحیحہ کی صورت میں ہم بستری کے بغیر بھی پورا مہر ادا کرنا لازم ہوگا (الام ۸/۵۰)۔ اسی طرح حالت احرام میں قرآن نے عمداً جانور کا شکار کرنے پر کفارے کی ادائیگی لازم کی ہے، لیکن احناف عمر اور عبد الرحمٰن کے آثار کی روشنی میں غلطی سے جانور کو قتل کرنے والے پر بھی کفارہ لازم قرار دیتے ہیں (الام ۸/ ۵۳)۔

اس تمام مواد سے، جیسا کہ عرض کیا گیا، اس بحث میں ائمۂ احناف کا بنیادی اور اصولی رجحان اور ان کے منہج کے خط وخال کافی حد تک واضح ہو جاتے ہیں، تاہم ایک مفصل ومنضبط اصولی نظریے کی وضاحت اور بہت سے اہم اصولی سوالات کی تنقیح کی ضرورت باقی رہتی ہے جس کی پہلی باقاعدہ کوشش ہمیں امام ابوبکر الجصاص کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ ذیل میں ہم جصاص کی توضیحات کی روشنی میں حنفی فقہا کے اصولی موقف اور امام شافعی کے ساتھ اس کے اختلافی اور امتیازی نکات کی وضاحت کریں گے۔

کتاب اللہ کی تبیین

امام شافعی نے سنت میں کتاب اللہ کی تبیین کی جو مختلف صورتیں ذکر کی ہیں، ان میں قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل، قرآن کے حکم میں موجود مختلف احتمالات میں سے کسی ایک احتمال کی تعیین اور کتاب اللہ کے عام احکام کی تخصیص شامل ہیں۔ حنفی اصولیین، ان میں سے پہلی دونوں صورتوں کے حوالے سے امام شافعی سے اتفاق رکھتے ہیں اور ایسے امور میں حدیث میں وارد توضیحات کو مراد الہٰی کی تعیین میں فیصلہ کن حیثیت دیتے ہیں۔ البتہ تیسری صورت یعنی عموم کی تخصیص کے ضمن میں ان کا نقطۂ نظر امام شافعی سے مختلف ہے اور وہ اس صورت کو مزید ذیلی صورتوں میں تقسیم کرتے ہوئے مختلف حالتوں میں مختلف علمی اصولوں کی روشنی میں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی توجیہ کرتے ہیں۔

امام ابوبکر الجصاص نے سنت میں قرآن کے محتملات کی توضیح کی متعدد مثالیں ذکر کی ہیں۔ مثلاً وضو میں بازوؤں کو دھونے کا حکم بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں 'اِلَى الْمَرَافِقِ' (المائدہ ۵: ۶) کے الفاظ آئے ہیں جن سے قطعی طور پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ کہنیاں دھونے کے حکم میں شامل ہیں یا نہیں۔ چنانچہ یہ تعبیر محتاج وضاحت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنے کا طریقہ اس کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے (جصاص، شرح مختصر الطحاوی ۱/ ۳۲۴- ۳۲۵)۔ اسی طرح تیمم کی آیت میں'اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ'(النساء ۴: ۴۳) کے الفاظ باعتبار لغت یہ لفظ ہاتھ سے چھونے اور جماع کرنے کے دونوں معانی کو محتمل ہیں۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے اپنی ایک اہلیہ کو بوسہ دیا اور اس کے بعد وضو کیے بغیر نماز ادا فرما لی۔ یوں آپ نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ آیت میں'لٰمَسْتُم'کا لفظ چھونے کے معنی میں نہیں، بلکہ ہم بستری کے معنی میں آیا ہے (احکام القرآن ۲/ ۳۷۰) ۔

کتاب اللہ میں کسی حکم کے مجملاً وارد ہونے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکم پر عمل کے لیے مقدار کی تعیین کی ضرورت پیش آئے، لیکن قرآن نے اس کی وضاحت نہ کی ہو۔ مثلاً 'اٰتُوا الزَّكٰوةَ'میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ زکوٰۃ کی مقدار کیا ہے۔ اسی طرح وضو کے حکم میں'بِرُءُوْسِكُمْ'(المائدہ ۵ : ۶) کے ساتھ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سر کے کتنے حصے پر مسح کرنا مطلوب ہے۔ یوں یہ دونوں حکم مجمل ہیں اور توضیح کا تقاضا کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جو وضاحت کی، وہ مراد الہٰی کی تبیین کی حیثیت رکھتی ہے (احکام القرآن ۲/ ۳۴۳) ۔

جصاص کے مطابق کتاب اللہ میں مجمل احکام کی معروف ترین صورت وہ اصطلاحات ہیں جنھیں قرآن نے ان کے عام لغوی مفہوم سے نقل کر کے ایک بالکل نئے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً'صلاة' کا لفظ عربی زبان میں دعا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، تاہم قرآن مجید میں'اقامت صلاة' کا حکم دیا گیا تو اس سے اس کا معروف لغوی معنی مراد نہیں تھا۔ اسی طرح'زكاة' کا لفظ عربی میں بڑھوتری کے لیے، جب کہ'صوم' کا لفظ کسی چیز سے رکنے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن قرآن میں'زكاة' کی ادائیگی اور'صوم'کے اہتمام سے مراد یہ لغوی معانی نہیں ہیں (الفصول فی الاصول ۱/ ۶۷- ۶۸ )۔ یہی معاملہ حج کے لفظ کا ہے جو لغت میں کسی جگہ کا قصد کرنے کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن شرعی اصطلاح میں اسے ایک مفہوم کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے جو اس کے عام لغوی مفہوم سے مختلف ہے (احکام القرآن ۱/ ۹۶)۔ یوں یہ تمام الفاظ مجمل ہیں جو متکلم کی طرف سے اپنی مراد کی وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جو مفہوم واضح کیا، وہ ان کے بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔

مذکورہ دونوں قسم کے شرعی مفاہیم کے لیے اصولیین ''الاسماء الشرعیۃ'' اور ''الاسماء اللغویۃ'' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اگر قرآن کے الفاظ سے وہی مفہوم مراد ہو جو لغت سے واضح ہوتا ہے تو احناف کے ہاں ایسے الفاظ کے لیے المعانی اللغویۃ کی اصطلاح مستعمل ہے۔ البتہ اگر ایسے قرائن ودلائل موجود ہوں جو یہ بتاتے ہوں کہ شارع نے اس لفظ کے مفہوم ومعنی میں سادہ لغوی یا عرفی مفہوم کے مقابلے میں کوئی تبدیلی کی ہے اور اسے گویا ایک شرعی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے تو ایسے الفاظ کے لیے احناف ''الاسماء الشرعیۃ'' کی تعبیر استعمال کرتے اور انھیں ''مجمل مفتقر الی البیان'' کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔

اس بحث میں جصاص کا ایک اہم اضافہ الاسماء الشرعیۃ کی ایک ذیلی قسم کا بیان ہے۔ جصاص کا کہنا ہے کہ بعض دفعہ شارع، الفاظ کو ان کے لغوی مفہوم سے بالکل منقطع تو نہیں کرتا، تاہم ان کے اصل لغوی مفہوم کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے مفہوم میں کچھ ایسی مزید چیزیں شامل کر دیتا ہے جنھیں محض لغت کے علم کے ذریعے سے نہیں جانا جا سکتا۔ مثال کے طور پر 'ربا' کا لفظ لغت میں کسی چیز پر زیادتی کے مفہوم میں آتا ہے، لیکن شریعت میں اس سے مراد مالی لین دین میں ایک خاص نوعیت کی زیادتی ہے جس پر لفظ اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے دلالت نہیں کرتا۔ مثلاً اہل عرب سونے کے ساتھ سونے اور چاندی کے ساتھ چاندی کے ادھار تبادلے کو 'ربا' نہیں سمجھتے تھے، جب کہ شریعت میں اسے 'ربا' قرار دیا گیا ہے (احکام القرآن ۱/ ۴۶۴- ۴۶۵)۔ اسی طرح 'سرقہ'کا لغوی مفہوم اہل زبان کے نزدیک بالکل واضح ہے جو کسی مزید بیان کا محتاج نہیں۔ اب اگر آیت کے ظاہر پر عمل کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جہاں بھی لغوی مفہوم کے لحاظ سے 'سرقہ' پایا جائے، وہاں ہاتھ کاٹنا لازم ہو، تاہم دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ قطع کا حکم صرف لغوی مفہوم پر مرتب نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے ساتھ کچھ مزید قیود مثلاً حرز اور مقدار کا بھی اعتبار کیا گیا ہے۔ اس لیے مال مسروقہ کی مقدار کے پہلو سے یہ حکم مجمل ہے جو وضاحت اور بیان کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا محض لغوی مفہوم مراد نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ احادیث میں مال مسروق کی قیمت ڈھال کے برابر ہونے کی قید لگائی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس سے کم مقدار میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ جصاص لکھتے ہیں کہ اس کی وضاحت گویا آیت کا حصہ ہے اور آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ چو ر جب چوری کرے اور چوری شدہ مال کی قیمت ڈھال کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹ دو (احکام القرآن ۲/ ۴۱۵) ۔

اس اضافے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مذکورہ دونوں مثالوں یعنی ربا اور سرقہ کا تقابل امام شافعی کی توجیہ سے کرنا مناسب ہوگا۔ امام شافعی نے ان دونوں مثالوں کا ذکر اس صورت کے ضمن میں کیا ہے جب قرآن کا حکم عام ہو اور اس میں تخصیص کا بظاہر کوئی قرینہ موجود نہ ہو، لیکن سنت میں اس حکم کے حوالے سے کچھ تخصیصات وارد ہوئی ہوں۔ امام شافعی کے نزدیک ان تخصیصات کا کوئی ظاہری قرینہ قرآن میں موجود نہ ہونے کے باوجود انھیں اللہ تعالیٰ کی مراد کے طور پر قبول کرنا لازم ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد الہٰی کو سمجھنے اور اس کی وضاحت کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں (الام ۱/ ۳۰ ،۷۳- ۷۴۔ ۴/ ۵۔ ۷/ ۳۱۹)۔

جصاص بھی ان تخصیصات کو قرآن کی تبیین قرار دیتے ہیں، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ امام شافعی کے نزدیک اصولی طور پر قرآن کا بیان واضح تھا اور مذکورہ تخصیصات سنت میں بیان نہ کی جاتیں تو قرآن کا ظاہری عموم ہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتا، جب کہ جصاص کی توجیہ کے مطابق قرآن میں ربا اور سرقہ کا ظاہری لغوی مفہوم ابتداءً ہی مراد نہیں تھا، بلکہ انھیں الاسماء الشرعیۃ کے طور پر ایک اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا گیا تھا جو محتاج وضاحت تھیں، اس لیے سنت میں وارد توضیحات کی نوعیت، قرآن کے عموم کے تخصیص کی نہیں، بلکہ مجمل کی تبیین کی ہے۔

زیادت اور تخصیص:تبیین یا نسخ؟

سنت کے ذریعے سے کتاب اللہ پر زیادت یا تخصیص سے متعلق امام شافعی کے موقف کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ سنت، کتاب اللہ کے حکم کو منسوخ نہیں کر سکتی، اس لیے کہ پیغمبر کا منصب کتاب اللہ کی وضاحت ہے نہ کہ اس کے احکام میں ترمیم وتغییر کرنا۔ اس بنیادی موقف کی روشنی میں امام شافعی نے یہ قرار دیا ہے کہ سنت میں کتاب اللہ پر زیادت یا اس کی تخصیص کی تمام مثالیں، تبیین کی حیثیت رکھتی ہیں، چاہے تخصیص کا کوئی قرینہ قرآن کے حکم میں موجود ہو یا نہ ہو۔ چونکہ تخصیص وزیادت کی نوعیت تبیین کی ہے، اس لیے کتاب اللہ کی تخصیص کے لیے کسی حدیث کے صحیح ہونے کے علاوہ کوئی زائد شرط عائد کرنا درست نہیں۔

حنفی اصولیین نے ان تینوں نتائج فکر کے حوالے سے امام شافعی کے نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے متبادل موقف پیش کیا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

سنت کے ذریعے سے کتاب اللہ کا نسخ

امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ سنت، کتاب اللہ کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، بلکہ وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اور اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ کلام الہٰی کی مراد کی تفصیل وتشریح کرے۔ امام صاحب نے سنت کے ذریعے سے قرآن کے نسخ کے خلاف بنیادی استدلال یہ پیش کیا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اس قرآن کو بدل دو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ تم ان سے یہ کہہ دو کہ'مَا يَكُوْنُ لِيْ٘ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِيْ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰ٘ي اِلَيَّ'(یونس۱۰ : ۱۵)، یعنی ''مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو بدل ڈالوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔''

حنفی اصولیین نے امام شافعی کے اس موقف کو قبول نہیں کیا اور یہ قرار دیا کہ کتاب اور سنت، دونوں ایک دوسرے کے حکم کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ قرآن اور سنت، دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے واجب الاتباع ہیں۔ چنانچہ جس طرح قرآن کی کسی آیت کو کسی دوسری آیت کے ذریعے سے منسوخ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح سنت کے ذریعے سے بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ بھی اسی طرح وحی اور واجب الاتباع ہے جیسے قرآن کی آیت ہے۔ البتہ احناف یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ سنت میں بیان ہونے والا حکم ایسا ہونا چاہیے جو ہم تک خبر واحد کے طریقے سے نہیں، بلکہ خبر مشہور یا متواتر کے طریقے سے پہنچا ہو۔

ابوبکر الجصاص، امام شافعی کے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ استدلال فاسد ہے، کیونکہ سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی تنسیخ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے قرآن میں تبدیلی کا حق رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے کسی بھی حکم میں تبدیلی کا فیصلہ وحی ہی کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ وحی قرآن ہی کی صورت میں ہو، بلکہ وہ سنت کی صورت میں بھی نازل کی جا سکتی ہے۔ گویا مذکورہ آیت میں جس چیز کی نفی کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ پیغمبر اپنی خواہش سے قرآن کے کسی حکم کو نہیں بدل سکتے۔ اس سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ اگر آپ کو قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعے سے کوئی حکم دیا جائے تو وہ بھی قرآن کے کسی حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتا (الفصول فی الاصول ۲/ ۳۴۳ -۳۶۸)۔

اسلوب عموم کی اہمیت

اگر کلام میں بیان حکم کے لیے اسلوب عموم اختیار کیا گیا ہو اور بظاہر تخصیص کا کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو زاویۂ نگاہ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ امام شافعی اور حنفی اصولیین اس پر متفق ہیں کہ عموم کا یہ اسلوب کلام کی ایک مقصود دلالت ہے اور اس سے حکم کے عام ہونے پر استدلال کرنا درست ہے۔ البتہ اس نکتے کے بیان میں امام شافعی اور حنفی اصولیین کا انداز مختلف ہے۔ امام شافعی کا مدعا چونکہ حدیث سے غیر مشروط طور پر قرآن کے عموم کی تخصیص کا جواز ثابت کرنا ہے، اس لیے ان کا استدلال اس نکتے سے شروع ہوتا ہے کہ چونکہ عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے عموم کا اسلوب بجاے خود ایک ایسا اسلوب ہے جو متعدد احتمالات رکھتا ہے، اس لیے الفاظ کے عموم سے حتمی طور پر یہ سمجھنا کہ عموم مراد بھی ہے، درست نہیں۔ امام صاحب اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ سنت میں وارد تخصیصات کی نوعیت بھی قرآن کی مراد کی توضیح وتبیین ہی کی ہے اور انھیں تبدیلی یا نسخ سمجھنا درست نہیں۔ اس کے بعد وہ یہ نکتہ ثانوی طور پر بیان کرتے ہیں کہ اسلوب عموم کے اپنی دلالت میں قطعی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اسلوب عموم کی سرے سے کوئی معنویت اور اہمیت ہی نہیں اور کسی بھی بنیاد پر حکم میں تخصیص پیداکی جا سکتی ہے۔ ایسا نہیں ہے، اور اگر خود قرآن کے اندر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں تخصیص کا کوئی قرینہ نہ ہو تو ایسے عموم کو محض امکانی احتمال کی بنیاد پر ظاہر سے صرف کرنا درست نہیں ہوگا۔

احناف چونکہ قرآن کے عموم کی تخصیص کو بعض شرائط سے مشروط کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ان کے استدلال میں نکات کی ترتیب الٹ جاتی ہے۔ ان کے نزدیک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عموم کا اسلوب ایک مستند اور واضح اسلوب ہے جسے حکم کا عموم بیان کرنے کے لیے استعمال کرنا زبان کے عام اسالیب کا بھی حصہ ہے، قرآن و سنت میں بھی اس اسلوب کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور فقہاے صحابہ کے استدلالات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ظاہری عموم کے اسلوب کو حکم کے عام ہونے کی دلیل تصور کرتے تھے۔ چنانچہ ظاہری عموم کو ہی متکلم کی مراد سمجھنا ضروری ہے، الاّ یہ کہ اس کے برخلاف قابل اعتماد نقلی یا عقلی قرائن موجود ہوں جو حکم کو ظاہری عموم سے صرف کرنے کا جواز بن سکتے ہوں۔

تخصیص کی دو صورتوں میں نوعیت کا فرق

سنت میں قرآن کے عموم کی تخصیص کی جو مثالیں ثابت ہیں، امام شافعی ان کی دو صورتیں تسلیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جن میں حکم کی تخصیص کے قرائن خود قرآن مجید میں موجود ہوتے ہیں اور سنت انھی اشارات، علل اور قرائن کی روشنی میں مراد الہٰی کی وضاحت کرتی ہے، اور دوسری وہ جن میں حکم کی تخصیص کا کوئی قرینہ بظاہر قرآن میں دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم ان دو صورتوں میں سنت میں وارد توضیحات کی نوعیت سے متعلق ان کا کہنا یہ ہے کہ انھیں غیر مشروط طور پر کتاب اللہ کی تبیین پر محمول کرنا اور اسی حیثیت سے انھیں قبول کرنا لازم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے حکم میں تبدیلی یا ترمیم کرنا نہیں، بلکہ آپ اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو واضح کرتے ہیں، چنانچہ ان تخصیصات وزیادات کو بھی جن کا کوئی ظاہری قرینہ قرآن میں موجود نہیں، نسخ اور تغییر کے بجاے تبیین وتوضیح ہی کی مثال تسلیم کرنا لازم ہے۔

حنفی اصولیین امام شافعی کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے ان دونوں نوعیت کے احکام کا اصولی حکم الگ الگ متعین کرتے ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قرآن کے جو احکام بظاہر عام ہیں، لیکن عموم پر ان کی دلالت قطعی اور حتمی نہیں، بلکہ وہ توضیح وتفصیل کا احتمال رکھتے ہیں، ان سے متعلق سنت میں کسی دلیل مخصص کا وارد ہونا اس بات کی وضاحت ہوتا ہے کہ صیغہ عام سے تمام افراد نہیں، بلکہ بعض افراد مراد ہیں۔ گویا اس نوع کی تخصیص، نسخ کی نہیں، بلکہ بیان ہی کی قبیل سے ہے (الفصول فی الاصول ۱/ ۱۴۲۔ ۲/ ۲۲، ۲۷) ۔

مثلاً قرآن مجید میں غیر مسلم معاہدین کے ساتھ بر وقسط کا حکم دیا گیا ہے (الممتحنہ ۶۰ :۸)۔ صدقہ وخیرات دینا بھی بر وقسط کی ایک صورت ہے، چنانچہ جصاص لکھتے ہیں کہ ظاہر کے لحاظ سے یہ آیت اہل ذمہ کو صدقات دیے جانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ان صدقات (یعنی زکوٰۃ) کو مستثنیٰ کردیا ہے جن کی وصولی مسلمان حکمران کا اختیار ہے، چنانچہ زکوٰۃ غیر مسلموں کو نہیں دی جا سکتی (احکام القرآن ۱/۴۶۱)۔ اسی طرح قرآن مجید میں مال غنیمت کے متعلق یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ اس کا پانچواں حصہ مخصوص مصارف کے لیے الگ کر کے باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کر دیے جائیں (الانفال ۸ : ۴۱)۔ اگر اس آیت کے ظاہری مفہوم کو دیکھا جائے تو جنگ کے نتیجے میں فتح ہونے والی اراضی کا حکم بھی یہی بنتا ہے کہ ان کا خمس نکال کر باقی زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی جائیں، لیکن چونکہ متواتر روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر مفتوحہ زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجاے سابقہ مالکوں کی ملکیت کو برقرار رکھا، اس لیے اس تخصیص کو آیت کے ساتھ ملا کر یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ حکمران کو مفتوحہ زمینوں کے متعلق مذکورہ دونوں اختیار حاصل ہیں (شرح مختصر الطحاوی ۷/ ۶۹) ۔

مذکورہ مثالوں میں چونکہ قرآن کے بیان کی دلالت قطعی اور صریح نہیں، اس لیے فقہاے احناف نے خبرواحد کے ذریعے سے اس کے ظاہری مفہوم کی تخصیص کو قبول کیا ہے۔

تاہم جو احکام اپنے مفہوم اور دلالت میں بالکل واضح ہیں اور مزید کسی تشریح وتبیین کا احتمال نہیں رکھتے اور بظاہر کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں جو اس پر دلالت کرتا ہو کہ یہاں عموم مراد نہیں تو ان سے متعلق سنت میں وارد تخصیص کو ''تبیین'' قرار دینے سے پہلے ایک مزید پہلو کا جائزہ لینا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ کیا اس تخصیص کی وضاحت اصل حکم کے ساتھ ہی بیان کر دی گئی ہے یا زمانی وقفے کے بعد ایک مستقل حکم کی حیثیت سے بیان کی گئی ہے؟پہلی صورت میں اس کی حیثیت تبیین کی ہوگی، لیکن دوسری صورت میں اسے تبیین قرار دینا ممکن نہیں، اسے لامحالہ ''تغییر'' اور ''نسخ'' قرار دیا جائے گا۔

اپنے اس موقف کی توضیح میں حنفی اصولیین یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ کسی حکم میں شامل ضروری تخصیصات و تقییدات کی وضاحت اصل حکم کے ساتھ ضروری ہے، ورنہ یہ ماننا لازم آئے گا کہ شارع نے بیان اور وضاحت کو اس وقت سے موخر کر دیا جب اس کی ضرورت تھی اور یہ بات درست نہیں ہو سکتی۔ ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ اگر قرآن کا بیان بذات خود واضح ہو اور کسی خارجی توضیح وتشریحکا محتاج نہ ہو، جب کہ روایت قرآن کے حکم کی تحدید یا اس میں کوئی اضافہ کر رہی ہو تو پھر اس امکان پر غور کیا جائے گا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ وضاحت آیت کے نزول کے موقع پر ہی فرما دی تھی؟ یعنی کیا حکم الہٰی کے ابلاغ کے ساتھ ہی آپ نے اس کی وضاحت بھی کر دی تھی جس سے سننے والوں کو معلوم ہو گیا کہ اصل حکم کے دائرۂ اطلاق میں فلاں اور فلاں صورتیں شامل نہیں؟ اگر یہ فرض کرنا ممکن ہو کہ دلیل مخصص، زمانی لحاظ سے حکم عموم کے مقارن ہے، یعنی شارع نے عین اسی وقت میں حکم کے خصوص کی وضاحت کر دی تھی تو یہ صورت ''بیان'' کے قبیل سے ہوگی، لیکن اگر آیت اپنے ظاہری عموم کے لحاظ سے لوگوں کو سنا دی گئی ہو اور لوگوں نے اس کے ظاہر سے حکم کا عام ہونا سمجھ لیا ہو اور پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا ہو کہ فلاں اور فلاں صورتیں اس سے خارج ہیں تو اسے ''بیان'' نہیں کہا جا سکتا۔ احناف کا کہنا ہے کہ اگر حکم عموم بیان کرنے کے ساتھ متصلاً وضاحت نہ کی جائے، بلکہ اس کے ابلاغ اور استقرار کے کچھ عرصے کے بعد اس میں تخصیص کی جائے تو یہ بیان نہیں ہے، بلکہ اس طرح کی تمام تخصیصات، تقییدات اور زیادات کو نسخ کا عنوان دیا جائے گا، کیونکہ عقلاً یہ جائز نہیں کہ شارع کی مراد کسی حکم میں عموم کے بجاے خصوص ہو، لیکن وہ برسر موقع اس کی وضاحت کرنے کے بجاے لوگوں کو یہ سمجھنے دے کہ اس حکم سے عموم مراد ہے، حالاں کہ وہ مراد نہ ہو (احکام القرآن ۲/ ۱۳۵)۔

جصاص نے تخصیص کی وضاحت کرنے والی حدیث کو زمانی لحاظ سے مقارن فرض کرنے کے لیے یہ شرط بھی بیان کی ہے کہ وہ شہرت واستفاضہ سے منقول ہو، کیونکہ خبر واحد سے منقول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ تخصیص آیت کے ساتھ نہیں، بلکہ بعد میں کسی موقع پر بیان کی گئی۔

مثلاً قرآن مجید نے محرمات کی ایک فہرست بیان کی ہے جس میں جمع بین الاختین کا بھی ذکر ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مذکورہ حرمتوں کے علاوہ باقی تمام عورتوں سے نکاح تمھارے لیے حلال ٹھیرایا گیا ہے (النساء ۴: ۲۳- ۲۴)۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی عورت کو اس کی بھتیجی یا بھانجی کے ساتھ بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا (بخاری، رقم ۵۱۰۸) ۔

جصاص لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت یا تو آیت کے ساتھ ہی فرما دی ہوگی یا پھر بعد میں کسی موقع پر۔ اگر آپ کا یہ ارشاد اسی موقع کا ہے جس پر آیت نازل ہوئی تھی تو اس کی حیثیت آیت کے بیان کی ہوگی۔ گویا حکم الٰہی کے ابلاغ کے ساتھ ہی آپ نے اس کی وضاحت بھی کر دی جس سے سننے والوں کو معلوم ہو گیا کہ'وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ'میں پھوپھی اور خالہ شامل نہیں۔ دوسرا امکان یہ ہو سکتا ہےکہ آیت اپنے ظاہری عموم کے لحاظ سے لوگوں کو سنا دی گئی ہو اور لوگوں نے اس کے ظاہر سے جمع بین العمۃ والخالۃ کی حلت سمجھی ہو اور پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا ہو کہ یہ ممنوع ہے۔ ایسی صورت میں یہ نسخ ہوگا۔ بہر دو صورت، یہ حدیث چونکہ متواتر ومستفیض ہے اور علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے، اس لیے اس کے ذریعے سے آیت کا نسخ، یعنی جزوی تخصیص جائز ہے (احکام القرآن ۲/ ۱۳۵) ۔

____________