قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۵) (2/2)


ظاہری عموم مراد نہ ہونے کی صورت میں تخصیص کا جواز

اگر شارع نے کوئی حکم عموم کے صیغے سے بیان کیا ہو ، لیکن قابل اعتماد دلائل وقرائن سے یہ واضح ہو جائے کہ اس کا ظاہری عموم متکلم کی مراد نہیں تو ایسے ظاہری عموم کی تخصیص بالاتفاق خبر واحد کے ذریعے سے کی جاسکتی ہے۔ فقہاے احناف کے نزدیک قابل اعتماد دلائل میں عقلی قرائن اور لفظ کے محتمل ہونے کے علاوہ ایک اہم دلیل یہ بھی ہے کہ ظاہری عموم کے مراد نہ ہونے پر علماے سلف کا اتفاق ہو یا ان کے مابین اجتہادی اختلاف واقع ہوا ہو اور انھوں نے اس اختلاف پر کوئی نکیر نہ کر کے یہ واضح کر دیا ہو کہ زیر بحث نص میں عموم کا مراد ہونا قطعی نہیں (الفصول فی الاصول ۱/ ۷۴)۔

اس کی مثال قرآن کی وہ آیت ہے جس میں خورونوش میں حرمت کو چار چیزوں میں محصور قرار دیا گیا ہے۔ اس کا ظاہری مفہوم مراد نہ ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، کیونکہ تمام فقہا کے نزدیک کچھ ایسے جانور بھی حرام ہیں جن کا آیت میں ذکر نہیں، مثلاً شراب اور بندر کا گوشت وغیرہ۔ مزید یہ کہ اس آیت کے متعلق صحابہ کا باہمی اختلاف ہوا اور بعض نے اس سے ظاہری عموم سمجھا اور بعض نے خصوص، لیکن کسی نے دوسرے پرنکیر نہیں کی۔ چنانچہ ایسی آیت کی تخصیص خبر واحد سے کی جا سکتی ہے (الفصول فی الاصول ۱/ ۱۸۱- ۱۸۲) ۔

اسی طرح قرآن مجید میں ماں باپ اور اولاد کے مطلقاً ایک دوسرے کے وارث بننے کا ذکر ہے (النساء ۴: ۱۱)، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں تخصیص کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان، کافر کا وارث نہیں بنے گا (بخاری، رقم ۶۷۶۴)۔ نیز فرمایا کہ جو شخص (اپنے مورث کو) قتل کر دے، وہ بھی وراثت میں حصہ نہیں پائے گا (ابن ماجہ، رقم ۲۶۴۵)۔ جصاص لکھتے ہیں کہ وراثت کی آیت کا عموم باتفاق فقہا مراد نہیں، اس لیے اس کی تخصیص خبر واحد سے کرنا درست ہے (احکام القرآن ۲/ ۱۰۲) ۔

قرآن مجید میں چور کی سزا مطلقاً یہ بیان ہوئی ہے کہ اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں (المائدہ ۵: ۳۸ )، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چیز چرانے پر بھی چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے (مسلم، رقم ۱۶۸۴)۔ اسی طرح غیر محفوظ جگہ سے کی گئی چوری کو بھی قطع ید سے مستثنیٰ قرار دیا (ابی داؤد، رقم ۴۳۹۰) ۔ نیز فرمایا کہ درختوں سے پھل وغیرہ اتارنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا (ابن ماجہ، رقم ۲۵۹۳)۔ احناف کا کہنا ہے کہ یہاں قرآن کی آیت کا عموم مراد نہ ہونا سلف کے اتفاق سے ثابت ہے اور ایسی آیت کی تخصیص اخبار آحاد سے کی جا سکتی ہے (الفصول فی الاصول ۱/ ۱۸۵) ۔

اس بحث میں امام شافعی بھی علماے سلف کے فہم کو ایک دلیل کے طور پر قبول کرتے ہیں، تاہم وہ اسے ان کے اجماعی اور متفقہ فہم تک محدود رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحابہ کے اقوال سے ظاہری عموم کو خصوص پر محمول کرنا ثابت ہو یا اہل علم کا اجماعی فہم یہ بتاتا ہو کہ قرآن کا ظاہری معنی یا ظاہری عموم مراد نہیں تو اس تفسیر کو قبول کرنا لازم ہے (الام ۶/ ۲۸۰۔ ۷/۱۶۰- ۱۶۱)۔ اہل علم کے مابین اختلاف کی صورت میں امام شافعی کے نزدیک قرآن کا ظاہری عموم ہی واجب الاتباع ہوتا ہے (الام ۸/ ۵۵)۔

حنفی اصولیین کا یہ موقف بھی ہے کہ اگر یہ واضح ہو جائے کہ کسی حکم میں ظاہری عموم مراد نہیں، خاص طور پر جب اس میں ایک دفعہ کسی یقینی دلیل سے تخصیص ثابت ہو چکی ہو، تو پھر نہ صرف خبر واحد، بلکہ قیاس کی بنیاد پر بھی اس کی مزید تخصیص کی جا سکتی ہے۔ امام شافعی کے ہاں بھی بعض ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں وہ نصوص میں مذکور دیگر احکام پر قیاس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن کے حکم میں عموم سے خصوص مراد ہے۔ مثلاً قرآن میں طلاق اور عدت کی آیات سے متعلق امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ احکام اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ ان سے مراد عموم ہو اور آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ غلاموں اور باندیوں کے لیے بھی یہی حکم ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا اطلاق صرف آزاد مرد وعورت پر مقصود ہو۔ چونکہ شریعت کے بہت سے دیگر احکام میں آزاد اور غلام میں فرق کیا گیا ہے، مثلاً غلاموں کی سزا آزاد مرد وعورت سے نصف مقرر کی گئی ہے، غلاموں کی گواہی قابل قبول نہیں اور وہ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت کے حق دار بھی نہیں، نیز شادی شدہ غلام کو بدکاری کرنے پر سنگ سار نہ کرنے پر بھی اجماع ہے، اس لیے ان تمام دلائل پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم کا اجماع ہے کہ باندی کی طلاقوں کی تعداد اور عدت کا دورانیہ بھی آزاد عورت سے نصف، یعنی دو طلاقیں اور دو ماہواریاں ہے (الام ۶/۵۵۰-۵۵۱)۔ تاہم اس مثال میں جس حکم، یعنی طلاقوں کی تعداد اور عدت کا دورانیہ نصف ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ صرف قیاسی دلیل پر مبنی نہیں، بلکہ اس پر اجماع بھی ہے، اس لیے اس سے یہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ امام شافعی محض قیاس کی بنیاد پر بھی عموم متحمل کی تخصیص کو جائز سمجھتے ہوں۔

اثبات نسخ کے لیے یقینی دلیل کی شرط

امام شافعی اور حنفی اصولیین کے مابین اختلاف کا ایک بنیادی اور اہم نکتہ یہ ہے کہ احناف کے نزدیک قطعی ذریعے سے ثابت حکم میں نسخ ثابت کرنے کے لیے ظنی دلیل کافی نہیں، بلکہ یقینی دلیل درکار ہے۔ چنانچہ امام شافعی ہر خبر واحد سے جو صحت کے شرائط پر پورا اترتی ہو، قرآن کے حکم میں تخصیص یا اس پر زیادت کے جواز کے قائل ہیں، جب کہ فقہاے احناف علی الاطلاق اس کے جواز کے قائل نہیں، بلکہ اس ضمن میں مخصوص شرائط عائد کرتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ایسے کسی بھی حکم کی تخصیص کے لیے ضروری ہے کہ جس حدیث کی بنیاد پر تخصیص کی جا رہی ہے، وہ خبر واحد نہیں، بلکہ مشہور ومستفیض حدیث ہو یا اگر خبر واحد ہو تو اسے فقہا کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہو (الفصول فی الاصول ۱/ ۷۴)۔ تخصیص وتقیید کی طرح احناف قرآن کے حکم میں کسی زیادت یعنی اضافے کو بھی ''تغییر'' اور جزوی نسخ کی ایک صورت قرار دیتے ہیں اور اخبار آحاد سے قرآن پر زیادت کے لیے وہی شرائط عائد کرتے ہیں جو تخصیص وتقیید کی صورت میں عائد کی جاتی ہیں۔

اس اصول کی روشنی میں فقہاے احناف نے بہت سی اخبار آحاد کی بنیاد پر قرآن کے حکم میں تخصیص و زیادت کو قبول کیا ہے۔

چنانچہ قرآن مجید میں مرنے والے کے لیے اپنے مال میں وصیت کرنے کا حق بیان کیا گیا ہے اور اس کی مقدار کے حوالے سے کوئی تحدید بیان نہیں کی گئی ( النساء ۴: ۱۱ )، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعے میں اس حق کو ترکے کے ایک تہائی تک محدود کر دیا (بخاری، رقم ۲۷۴۴)۔ جصاص لکھتے ہیں کہ یہ روایت شہرت و استفاضہ کی بنا پر ہمارے نزدیک متواتر کے درجے میں ہے اور فقہا کے ہاں بھی اسے تلقی بالقبول حاصل ہے اور ایسی روایت جو علم وعمل کے وجوب کے لحاظ سے قرآن کی آیات کے ہم پلہ ہو، اس کے ذریعے سے قرآن کے حکم کو منسوخ کرنا ہمارے نزدیک جائز ہے (احکام القرآن ۱/ ۱۶۵- ۱۶۶) ۔

اس کی ایک اور مثال قرآن مجید کا یہ بظاہر مطلق حکم ہے کہ میت کا ترکہ ورثا میں تقسیم کرنے سے پہلے اس کی وصیت پوری کرنا لازم ہے (النساء ۴: ۱۱)، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی (ابی داؤد، رقم ۲۸۷۰)۔ جصاص لکھتے ہیں کہ فقہا نے اس حدیث پر عمل کیا ہے اور اسے ان کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہے اور جو اخبار آحاد فقہا کے ہاں تلقی بالقبول حاصل کر لیں، وہ درجے اور قوت میں متواتر روایت کے برابر ہو جاتی ہیں، ا س لیے مذکورہ روایت کے ذریعے سے قرآن کی آیت کی تخصیص جائز ہے (احکام القرآن ۱/ ۳۷) ۔

قرآن مجید میں شوہر کے لیے بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تین مرتبہ تک بیان کیا گیا ہے (البقرہ ۲: ۲۲۹- ۲۳۰)۔ اسی طرح مطلقہ کے لیے تین ماہواریوں کی عدت لازم کی گئی ہے (البقرہ ۲: ۲۲۸)۔ تاہم احادیث میں بیان ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کی طلاق کو دو تک اور عدت کو دو ماہواریوں تک محدود قرار دیا (ابن ماجہ، رقم ۲۰۷۹)۔ جصاص لکھتے ہیں کہ یہ روایت اگرچہ بطریق آحاد نقل ہوئی ہے، لیکن امت کے اہل علم نے اسے بالاتفاق قبول کیا ہے جس کی بدولت یہ متواتر کے درجے میں آ گئی ہے اور اس سے قرآن کے حکم کی تخصیص جائز ہے (احکام القرآن ۱/ ۳۸۶) ۔

قرآن اور اخبار آحاد کے مابین رفع تعارض کی صورتیں

اگر سنت میں وارد تخصیص یا زیادت کو کتاب اللہ کی تبیین قرار نہ دیا جا سکتا ہو اور مطلوبہ شرائط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے حدیث سے کتاب اللہ کے حکم کو منسوخ کرنا بھی ممکن ہو تو خبر واحد کو قوی تر دلیل کے معارض ہونے کے اصول پر رد کرنے سے پہلے حنفی اہل علم رفع تعارض اور تطبیق کے دو امکانات کو بروے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

قرآن کی روشنی میں احادیث کی تاویل

قرآن اور حدیث کے ظاہری تعارض کی صورت میں تطبیق کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ حدیث کو اس کے ظاہری مفہوم کے لحاظ سے قبول کرنے کے بجاے اس کی ایسی تاویل کی جائے جس سے وہ قرآن کے مطابق ہو جائے۔

مثلاً بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرماتے ہوئے سر پر رکھے ہوئے عمامہ کو کھولنے کے بجاے اس کے اوپر ہی مسح کر لیا (بخاری، رقم ۲۰۵۔ ابی داؤد، رقم ۱۵۰)۔ فقہاے احناف اور جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سر پر مسح کرنے کاحکم دیا ہے، جب کہ پگڑی یا کپڑے پر مسح کرنے کو سر کامسح نہیں کہا جا سکتا، اس لیے سر کے بالوں کے جتنے حصے کا مسح فرض ہے، وہ بالوں پر ہی کرنا ضروری ہے اور اس کے خلاف کوئی روایت کتاب اللہ کے معارض ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کی جا سکتی، البتہ روایت کو اس پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض کے بقدر سر پر مسح کرنے کے بعد پورے سر پر مسح کرنے کی سنت پگڑی یا کپڑے پر مسح کرکے اد ا فرما لی ہوگی (ابن نجیم، البحر الرائق ۱/ ۱۹۳)۔

متعدد واقعات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح میں مال کے علاوہ کچھ دوسری چیزوں مثلاً قرآن کی تعلیم دینے، خاتون کو آزاد کر دینے یا اس کی طرف سے بدل کتابت ادا کر دینے وغیرہ کو مہر وغیرہ مقرر کر دینا ثابت ہے (بخاری، رقم ۵۰۸۶- ۵۰۸۷۔ ابی داؤد، رقم ۳۹۳۱)۔ فقہاے احناف کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں مہر کا ذکر کرتے ہوئے'اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ'کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (النساء ۴: ۲۴) جن کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کے طور پر کوئی ایسی چیز ہی دی جا سکتی ہے جس کو ''مال'' کہا جا سکتا ہو۔ احناف اس کی روشنی میں مذکورہ روایت کی مختلف تاویلات کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ تعلیم قرآن کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ چونکہ تمھیں قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے، اس لیے میں (مہر کی رقم نہ ہونے کے باوجود) اس عورت کا نکاح تمھارے ساتھ کر رہا ہوں۔ رہا مہر کا معاملہ تو احناف کے نقطۂ نظر کے مطابق اس کی ادائیگی استطاعت ہونے پر اس آدمی کے ذمے لازم رہی (القدوری، التجرید ۹/ ۴۶۳۰)۔ اسی طرح ایک واقعے میں عورت نے اپنے آپ کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کیا تھا اور اپنا معاملہ آپ کے سپرد کردیا تھا۔ چونکہ قرآن میں آپ کو مہر کے بغیر نکاح کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے، اس لیے آپ نے اس اختیار کے تحت اس کا نکاح بغیر مہر کے ایک دوسرے خواہش مند کے ساتھ کر دیا (الطحاوی، شرح معانی الآثار ۳ /۱۸- ۱۹)۔ بعض امہات المومنین کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیے جانے کی توجیہ بھی احناف نے اسی تناظر میں کی ہے اور ان کی راے میں امہات المومنین کو آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ چونکہ آپ پر سرے سے مہر ادا کرنا ہی لازم نہیں تھا، اس لیے آپ جیسے بغیر مہر کے نکاح کر سکتے تھے، اسی طرح مہر میں کوئی ایسی چیز بھی دے سکتے تھے جو مال نہ ہو (شرح معانی الآثار ۳/ ۲۰، ۲۲) ۔

بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے سرپرست کی رضامندی کے بغیر ازخود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور اگر کوئی عورت ایسا کرے تو اس کا نکاح باطل ہوگا (ترمذی، رقم ۱۱۰۱- ۱۱۰۲)۔

حنفی فقہا اس روایت کو ظاہر کے اعتبار سے قرآن مجید کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے نکاح کے احکام کا ذکر کرتے ہوئے علی العموم اس کی نسبت خود عورت کی طرف کی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نکاح کرنے کو اصلاً عورت کا حق سمجھتا ہے اور بالغ ہونے کے بعد عورت جیسے اپنے مال میں خود تصرف کرنے کا حق رکھتی ہے، اسی طرح اپنی ذات کے بارے میں بھی فیصلہ کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ روایات کو ظاہری مفہوم کے لحاظ سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ حنفی فقہا زیربحث روایات کی ایک ممکنہ تاویل یہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں باندیوں کا حکم بیان کیا گیا ہے، کیونکہ ان کے بارے میں خود قرآن مجید نے تصریح کی ہے کہ وہ اپنا نکاح اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتیں اور اگر کوئی شخص کسی باندی سے نکاح کرنا چاہے تو اس کے مالک کی رضامندی ضروری ہے (النساء ۴: ۲۵)۔ یوں ان روایات کو آزاد خواتین کے بجاے باندیوں سے متعلق قرار دیا جائے تو وہ قرآن کے مطابق ہو جاتی ہیں (احکام القرآن ۱/ ۴۰۰۔ ۲/ ۵۳)۔

اسی نوعیت کی ایک معروف مثال وہ حدیث ہے جس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ جانور کے پیٹ میں اگر بچہ ہو تو اس کی ماں کا ذبح کیا جانا بچے کے حلال ہونے کے لیے کافی ہے (ابی داؤد، رقم ۲۸۲۸)۔ یعنی جانور کے پیٹ سے اگر بچہ نکل آئے تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے اور اس کی ماں کا ذبح کر دیا جانا پیٹ میں موجود بچے کے لیے بھی ذبح کا حکم رکھتا ہے۔ تاہم فقہاے احناف کے نزدیک ایسے جانور کا حکم مردار کا ہے جو قرآن مجید کی رو سے حرام ہے۔ چنانچہ وہ زیر بحث حدیث کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ اس میں مادہ جانور کے ذبح کیے جانے کو اس کے پیٹ میں موجود بچے کی حلت کے لیے کافی قرار نہیں دیا گیا، بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ بچے کوبھی اس کی ماں ہی کی طرح ذبح کرنا ضروری ہے۔ احناف کہتے ہیں کہ عربی زبان کی رو سے 'ذكاة الجنين ذكاة امة' کے جملے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچے کے لیے اس کی ماں کا ذبح کیا جانا ہی کافی ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچے کو بھی اسی طرح ذبح کیا جائے جیسے اس کی ماں کو کیا گیا ہے۔ چونکہ قرآن کی نص کی رو سے ماں کے پیٹ سے مردہ نکلنے والا بچہ 'ميتة' ہے، اس لیے حدیث کو اس مفہوم پر محمول کیا جائے گا جو قرآن کے موافق ہو (احکام القرآن ۱/ ۱۱۲)۔

احکام کی درجہ بندی کے لحاظ سے تطبیق

اگر کتاب اللہ کا حکم فی نفسہٖ واضح ہو او رکسی تبیین وتوضیح کا محتاج نہ ہو، جب کہ احادیث میں بیان ہونے والی تفصیلات اس حکم کی تخصیص یا اس پر زیادت کی نوعیت رکھتی ہوں تو ایسی صورت میں حنفی منہج میں قرآن اور سنت کے مابین توفیق وتطبیق کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فقہی درجے کے اعتبار سے قرآن کے حکم اور حدیث کے حکم میں فرق کر لیا جائے اور قرآن کے حکم کو بنیادی، جب کہ حدیث میں بیان ہونے والے حکم کو اہمیت کے لحاظ سے ثانوی قرار دیا جائے۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایسی مثالوں میں اگر کسی حکم کو قرآن مجید نے بنیادی طور پر موضوع بنایا ہو تو اس کا جتنا حصہ قرآن میں بیان کیا گیا ہے، وہ اصل اور بنیادی حکم ہوگا، جب کہ اس سے زائد کچھ چیزیں اگر احادیث میں بیان کی جائیں تو وہ اہمیت کے اعتبار سے ثانوی درجے کی ہوں گی، کیونکہ اگر انھیں بھی اسی درجے میں فرض اورلازم مانا جائے تو اس سے قرآن کے حکم کا، جسے اس نے باقاعدہ موضوع بنا کر بیان کیا ہے، ناقص اور نامکمل ہونا لازم آتا ہے جو کہ درست نہیں۔

اس حوالے سے بعض مثالوں میں امام شافعی اور حنفی فقہا کے زاویۂ نظر میں ایک دل چسپ مماثلت بھی دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے چہرے، بازوؤں اور پاؤں کو دھونے اور سر پر مسح کرنے کا ذکر کیا گیا ہے (المائدہ ۵ : ۶)۔ تاہم احادیث میں منہ دھوتے ہوئے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بھی ذکر ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں نماز کے اعمال میں رکوع اور سجود کا ذکر کیا گیا ہے (الحج ۲۲: ۷۷)، لیکن اس حالت میں پڑھے جانے والے مخصوص اذکار کا ذکر قرآن میں نہیں، بلکہ ان کی تفصیل ہمیں سنت میں ملتی ہے۔ امام شافعی اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے وضو کے طریقے میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا اور اسی طرح رکوع وسجود کے علاوہ کسی اور عمل کا ذکر نہیں کیا، اس لیے جو شخص بس منہ دھو لے اور رکوع وسجود کر لے، وہ وضو اور نماز کے فرض سے بری الذمہ ہو جائے گا، جب کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا نیز رکوع وسجود میں اذکار پڑھنا ایک مستحب عمل ہوگا (الام ۲/ ۲۵۳)۔

یہی طرز استدلال حنفی اصولیین کے ہاں بھی ملتا ہے۔ چنانچہ احادیث میں وضو کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنے، منہ دھوتے ہوئے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے، اعضا کو تین مرتبہ دھونے، ڈاڑھی کا خلال اور کانوں کا مسح کرنے کے اعمال میں سے کسی کو وضو کی صحت کے لیے شرط اور لازم نہیں سمجھتے، بلکہ انھیں مستحب کے درجے میں قبول کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر یہ بھی وضو کے لازمی اعمال ہوتے تو قرآن میں اعضا کے دھونے او رمسح کرنے کے ساتھ ان کا بھی اہتمام کے ساتھ ذکر کیا جاتا (اصول البزدوی، ص ۱۴۔ اصول السرخسی ۱/۱۴۳)۔ امام محمد، امام ابوحنیفہ سے نقل کرتے ہیں کہ وضو میں سر کا مسح فرض ہے، کیونکہ یہ قرآن میں مذکور ہے، جب کہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا فرض نہیں، کیونکہ ان کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا (الحجۃ علیٰ اہل المدینۃ ۱/ ۱۸) ۔

تاہم اس اصول کے انطباق کے حوالے سے بعض مثالوں میں امام شافعی اور حنفی فقہا کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ مثلاً احناف اسی اصول کی روشنی میں علاقہ بدر کرنے کو، جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت میں بیان ہوئی ہے، کنوارے زانی کی سزا کا لازمی حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی راے میں قرآن نے جس سزا کے بیان پر اکتفا کی ہے، وہی اصل سزا ہے اور اس پر کوئی اضافہ کرنا قرآن کے نسخ کو مستلزم ہے جو خبر واحد سے نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ جلاوطنی کی سزا ایک تعزیری اور اختیاری سزا ہو سکتی ہے جس کے نفاذ یا عدم نفاذ کا مدار قاضی کی صواب دید پر ہے (احکام القرآن ۳/ ۲۵۵- ۲۵۶)۔ امام شافعی کا موقف اس مثال میں مختلف ہے اور وہ کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کو بھی زنا کی شرعی حد کا حصہ شمار کرتے ہیں (الام ۷/ ۳۳۷- ۳۳۸)۔

بعض مثالوں میں احناف، حدیث سے ثابت بعض زائد احکام کو، دلائل وقرائن کی روشنی میں مستحب سے بڑھ کر واجب کے درجے میں قبول کرتے ہیں جو احناف کے نزدیک فرض سے کم تر ایک درجہ ہے۔

مثال کے طور پر قرآن مجید میں نماز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ'فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ'(المزمل ۷۳ : ۲۰ )، لیکن احادیث میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کی قراء ت کے بغیر نماز کو نامکمل قرار دیا (بخاری، رقم ۷۵۶)۔ فقہاے احناف نے ان روایات کی بنیاد پر فاتحہ کو نماز کے فرائض میں شمار نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں نماز کے دوران میں کسی تعیین کے بغیر مطلقاً قرآن کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ قرآن مجید میں نماز کے دوران میں کسی تعیین کے بغیر مطلقاً قرآن کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ فاتحہ کی قراء ت کو فرض قرار دینا قرآن کی ہدایت کے نسخ کو مستلزم ہے جو خبر واحد سے نہیں ہو سکتا، اس لیے جمہور فقہاے احناف نے دونوں نصوص میں یوں تطبیق دی ہے کہ نماز میں قرآن مجید کے کسی بھی حصے کی قراء ت فرض ہے جس کے بغیر نماز سرے سے ادا ہی نہیں ہوگی، جب کہ فاتحہ کی قراء ت واجب ہے جو اگر سہواً چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو سے اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔ یہاں بھی احناف کا طرز استدلال یہی ہے کہ حکم یا حکم کا جتنا حصہ قطعی الثبوت نص سے ثابت ہے، اسے فرض کا، جب کہ ظنی الثبوت نصوص سے ثابت حکم کو واجب کا درجہ دیا جائے گا (السرخسی، المبسوط ۱/ ۱۹۔ الکاسانی، بدائع الصنائع ۱/ ۱۶۰) ۔

اسی کی ایک مثال رکوع وسجود کی حالت میں سکون واطمینان کا حکم ہے۔ احناف، سورۂ بقرہ کی آیت ۴۳ :'وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ'کی روشنی میں نفس رکوع کو فرض مانتے ہیں جس کا ترک نماز کو باطل کر دیتا ہے، لیکن رکوع وسجود کی حالت میں اطمینان اور سکون کی ہدایت چونکہ حدیث سے ثابت ہے، اس لیے احناف اسے واجب کا درجہ دیتے ہیں جس کے ترک کرنے سے نماز کلیتاً باطل نہیں، بلکہ ناقص شمار ہوتی ہے (احکام القرآن ۱/ ۳۲) ۔

یہی معاملہ طواف کی حالت میں باوضو ہونے کاہے۔ قرآن مجید میں بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس حالت میں باوضو ہونے کی شرط قرآن میں مذکور نہیں، بلکہ احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ احناف نے اسے طواف کے فرائض وارکان کے بجاے واجبات میں شمار کیا ہے (بدائع الصنائع ۲/ ۱۲۹) ۔

جواز تخصیص کے شرائط پر پورا نہ اترنے والی اخبار آحاد

حنفی اصولیین کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ قرآن کے جس حکم کا مفہوم واضح اور مراد بالکل روشن ہو اور وہ کسی وضاحت کا محتاج نہ ہو، نیز اہل علم کے اتفاق سے اس حکم میں (کسی پہلو سے) تخصیص بھی ثابت نہ ہو (نیز یہ کہ قرآن اور حدیث کے بیان میں بظاہر کوئی توفیق وتطبیق بھی ممکن نہ ہو) تو ایسے حکم کی تخصیص خبر واحد یا قیاس کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ ایسی صورت میں احناف قرآن سے متعارض اخبار آحاد کو ترک کر دیتے ہیں۔

فقہاے احناف نے اس اصول پر متعدد اخبار آحاد کو قبول نہیں کیا۔ اس کی معروف ترین مثالوں میں ایک تو قضاء بالیمین مع الشاہد کی روایت ہے جس کا ذکر بحث کی ابتدا میں امام محمد کے حوالے سے ہو چکا ہے۔ ایک اور مثال فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں، اس کا نفقہ دوران عدت میں خاوند کے ذمے واجب نہیں (ابی داؤد، رقم ۲۲۸۴)۔ احناف کا موقف یہ ہے کہ یہ روایت قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے جس میں شوہروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلاق کے بعد عدت کے دوران میں اپنی طاقت کے مطابق بیویوں پر خرچ کریں (الطلاق ۶۵: ۶)۔ نفقہ بھی چونکہ رہایش کے ساتھ لازم وملزوم ہے، اس لیے آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ دوران عدت میں بیوی کا نفقہ خاوند کے ذمہ ہے، لہٰذا مذکورہ حدیث کو قبول نہیں کیا جا سکتا (اصول السرخسی ۱/ ۳۷۵) ۔

جن احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا گیا ہے کہ ایک یا دو مرتبہ (عورت کا پستان) چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی (مسلم، رقم ۱۴۵۰)، احناف کے نقطۂ نظر سے وہ بھی قرآن کے مطلق حکم کے خلاف ہیں، کیونکہ قرآن میں کسی تفصیل کے بغیر بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو اس پر حرام قرار دیا گیا ہے (النساء ۴: ۲۳)۔ چنانچہ جصاص لکھتے ہیں کہ آیت کے حکم میں، جو معمولی مقدار میں دودھ پینے پر بھی حرمت ثابت ہونے کا مقتضی ہے، اخبار آحاد کی بنیاد پر تخصیص کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ ایک محکم آیت ہے جس کا معنی اور مراد بالکل واضح ہے اور اہل علم کے اتفاق سے اس میں کوئی تخصیص بھی ثابت نہیں۔ سو قرآن کا جو حکم اس نوعیت کا ہو، اس کی تخصیص خبر واحد یا قیاس کے ذریعے سے نہیں کی جا سکتی (احکام القرآن ۲/ ۱۲۴) ۔

متعارض روایات میں قرآن کی موافقت کی بنیاد پر ترجیح

مذکورہ اصول ہی کی روشنی میں فقہاے احناف متعارض روایات میں ترجیح کی بحث میں قرآن مجید کے ساتھ موافقت کے نکتے کو ایک بنیادی اصول کے طور پر ملحوظ رکھتے ہیں۔ اس ضمن کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ صلاۃ الخوف سے متعلق مروی بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ اس کی صرف ایک رکعت مشروع کی گئی ہے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ ذی قرد میں اس طرح صلاۃ الخوف ادا کی کہ ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی جس کے بعد وہ دشمن کے سامنے چلی گئی اور دوسری جماعت نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک رکعت ادا کی۔ یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں، جب کہ صحابہ کی دونوں جماعتوں نے ایک ایک رکعت ادا کی (ابی داؤد، رقم ۱۲۴۶- ۱۲۴۷)۔ فقہاے احناف نے ان روایات کو قرآن مجید کے خلاف ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا، کیونکہ قرآن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جماعت کے ساتھ ایک ایک رکعت ادا کرنے کی ہدایت کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صلاۃ الخوف کی دو رکعتیں ہیں۔ چنانچہ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ جس حدیث کو کتاب اللہ کی نص رد کرتی ہو، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا (شرح معانی الآثار ۱/ ۳۰۹) ۔

۲۔ صلاۃ الخوف ہی کی بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے ایک جماعت دشمن کے سامنے اور ایک آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ پھر آپ نے نماز شروع کی اور دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ پر تکبیر کہہ کر نماز میں شامل ہو گئیں، البتہ جو جماعت آپ کے پیچھے کھڑی تھی، اس نے رکوع اور سجدے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی، جب کہ دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ پھر جب آپ نے ایک رکعت مکمل کر لی تو آپ کے پیچھے کھڑی جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی اور دوسری جماعت آپ کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے طور پر ایک رکعت ادا کی، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے۔ جب انھوں نے ایک رکعت مکمل کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دوسری رکعت پڑھائی۔ جب آپ قعدے میں بیٹھے تو دشمن کے سامنے کھڑی جماعت بھی آپ کے پیچھے آ گئی اور باقی ماندہ ایک رکعت ادا کر کے آپ کے ساتھ قعدے میں شریک ہو گئی۔ پھر دونوں جماعتوں نے آپ کی اقتدا میں اجتماعی طور پر سلام پھیرا (ابی داؤد، رقم ۱۲۴۰)۔ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:'وَلْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰي لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ'(النساء، ۴: ۱۰۲)، جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسری جماعت شروع سے آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں، بلکہ ایک رکعت ادا ہو جانے کے بعد شریک ہوگی، جب کہ مذکورہ حدیث کے مطابق دونوں گروہ آغاز ہی سے جماعت میں شریک تھے (شرح معانی الآثار ۱/ ۳۱۵)۔

۳۔ اگر کوئی شخص حالت احرام میں ہو تو کیا وہ کسی ایسے شخص کے شکار کیے ہوئے جانور کا گوشت کھا سکتا ہے جو احرام میں نہ ہو؟ اس ضمن میں ذخیرۂ حدیث میں متعارض روایات منقول ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ صعب بن جثامہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا گوشت پیش کیا تو آپ نے یہ کہہ کر اسے رد کر دیا کہ ہم حالت احرام میں ہیں (مسلم، رقم ۱۱۹۳)۔ اس کے برعکس جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم حالت احرام میں ہو تو (کسی دوسرے کا) شکار کیا ہوا جانور تمھارے لیے حلال ہے، بشرطیکہ تم نے خود اسے شکار نہ کیا ہو یا تمھارے کہنے پر اسے شکار نہ کیا گیا ہو (ابی داؤد، رقم ۱۸۵۱) ۔

ائمۂ احناف نے ان میں سے دوسری روایت کو ترجیح دی ہے اور من جملہ دیگر دلائل کے ایک وجہ ترجیح یہ بیان کی ہے کہ قرآن مجید سے حالت احرام میں آدمی کے لیے جس چیز کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، وہ جانور کو شکار کرنا ہی ہے نہ کہ شکار کا گوشت کھانا، جیسا کہ'لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ'(المائدہ ۵: ۹۵) اور'حُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا'(المائدہ ۵: ۹۶) کے الفاظ سے واضح ہے، اس لیے اگر کسی دوسرے شخص نے شکار کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا گوشت کھانے کی ممانعت نہیں ہے (شرح معانی الآثار ۲/ ۱۷۵) ۔

۴۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑے کو ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا (بخاری، رقم ۵۵۱۹)۔ اسی طرح جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی، لیکن گدھوں کے گوشت سے منع کیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ہم نے فتح خیبر کے موقع پر گھوڑوں کاگوشت کھایا (بخاری، رقم ۵۵۲۰) ۔

امام ابو حنیفہ اور امام مالک وغیرہ نے اپنے اصول کے مطابق مذکورہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے اور اس کے تحت اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کھانے کے لیے اصلاً 'انعام'، یعنی چوپائے اور'بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ'، یعنی چوپایوں سے ملتے جلتے بہائم پیدا کیے ہیں (المائدہ ۵: ۱ )۔ سورۂ نحل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے استعمال میں آنے والے مختلف جانوروں کا ذکر ایسے اسلوب میں کیا ہے کہ ان کے اصلی اور امتیازی منافع اجاگر ہو گئے ہیں۔چنانچہ چوپایوں کا ذکر کرکے ان کے فوائد و منافع میں ان کے گوشت کے استعمال کا ذکر کیاہے، جب کہ اس کے مقابلے میں گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کے ذکر میں ان کا فائدہ یہ بتایا ہے کہ'لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً'(۱۶: ۸)، یعنی ''تاکہ تم ان پر سواری کرسکو اور زینت اختیار کرو''۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی تخلیق اصلاً ان کا گوشت کھانے کے لیے نہیں، بلکہ سواری اور جفا کشی کے لیے کی گئی ہے۔ چنانچہ مذکورہ آیت کی روشنی میں حنفی فقہا نے حرمت کی روایت کو اباحت کی روایت پر ترجیح دی ہے (شرح مختصر الطحاوی ۷/ ۲۸۹) ۔

۵۔ غیر مسلموں کی دیت کے متعلق روایات وآثار متعارض ہیں۔ بعض میں ان کی دیت مسلمانوں کے برابر بتائی گئی ہے، چنانچہ ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کے قتل پر مسلمان کی دیت کے برابر دیت ادا کی (جصاص، احکام القرآن۳/۲۱۳۔ بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۱۶۳۵۲)۔ روایت کے ایک طریق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ 'دية الذمي دية المسلم' (المعجم الاوسط، رقم ۷۹۱) ، یعنی ذمی کی دیت مسلمان کے مساوی ہے۔ اسی طرح اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہد کی دیت مسلمان کے برابر، یعنی ایک ہزار دینار مقرر کی (سنن الدارقطنی، کتاب الحدود والدیات وغیرہ، رقم ۳۲۸۸) ۔

اس کے مقابلے میں بعض دیگر روایات میں قصاص اور دیت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کے مابین فرق کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

عقل الکافر نصف عقل المومن.(نسائی، رقم۴۸۱۶)

''کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف ہے۔''

احناف نے ان احادیث کو ماخذ حکم نہیں بنایا جن میں قصاص ودیت میں مسلمان اور غیر مسلم کے مابین امتیاز کیا گیا ہے، بلکہ ان میں سے ان روایات کو ترجیح دی ہے جن میں قصاص ودیت کے اعتبار سے مسلمانوں اور غیرمسلموں کو مساوی قرار دیا گیا ہے اور اس ضمن میں قرآن کے الفاظ کے عموم سے استدلال کیا ہے۔ احناف کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کے نصوص کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسانی جان کی دنیوی حرمت کے دائرے میں اصولی طور پر مسلم اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ چنانچہ سورۂ مائدہ کی آیت ۳۲: 'مَنْ قَتَلَ نَفْسًاۣ بِغَيْرِ نَفْسٍ' اور سورۂ فرقان کی آیت ۶۸: 'لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ' اور ان کے ہم معنی نصوص میں قتل ناحق کو مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ نکتہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کے قتل کیے جانے پر، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، قاتل کو سزا بھی ایک جیسی دی جائے اور سزا میں، چاہے وہ قصاص کی صورت میں ہو یا دیت کی شکل میں، مذہب کی بنیاد پر کوئی فرق نہ کیا جائے۔ جصاص لکھتے ہیں کہ اخبار کے تعارض کی صورت میں وہ روایت زیادہ قابل ترجیح ہے جو کتاب اللہ کے ظاہر کے موافق ہے (احکام القرآن ۲/ ۲۴۰) ۔

حاصل بحث

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں فقہاے احناف کے نقطۂ نظر کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ قرآن کے مجمل احکام کی توضیح وتفصیل اور قرآن کے ظاہری عمومات کی تحدید وتقیید کے حوالے سے سنت کی اہمیت اور اس کا عملی کردار فقہاے اسلام کے ہاں مسلم ہے۔

۲۔ حنفی اصولیین کے نزدیک قرآن میں ایسے مجمل احکام پائے جاتے ہیں جو مختلف پہلوؤں سے توضیح وتفصیل کا تقاضا کرتے ہیں اور اس ضرورت کی تکمیل سنت کے ذریعے سے ہوتی ہے۔

۳۔ قرآن کے محتمل عمومات سے متعلق احناف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر قرآن یا سنت ثابتہ کے حکم کا ظاہری عموم مراد نہ ہونے پر امت کے اہل علم متفق ہوں، یا لفظ میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال ہو یا سلف کے ہاں اس کے مفہوم سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہو، یا لفظ فی نفسہٖ مجمل اور محتاج بیان ہو تو مذکورہ صورتوں میں قرآن یا سنت کے احکام عموم کی خبر واحد یا قیاس کے ذریعے سے تخصیص کی جا سکتی ہے۔

۴۔ اگر قرآن کا بیان بذات خود واضح ہو اور کسی خارجی توضیح وتشریح کا محتاج نہ ہو، جب کہ روایت قرآن کے حکم کی تحدید یا اس میں کوئی اضافہ کر رہی ہو تو حنفی فقہا کے نزدیک اس طرح کی تمام تخصیصات، تقییدات اور زیادات کو نسخ کا عنوان دیا جاتا ہے اور ایسی تخصیص کو قبول کرنے کے لیے یہ شرط عائد کرتے ہیں جس حدیث کی بنیاد پر تخصیص کی جا رہی ہے، وہ خبر واحد نہیں، بلکہ مشہور ومستفیض حدیث ہو یا اگر خبر واحد ہو تو اسے فقہا کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہو۔

۵۔ اگر قرآن کے حکم میں تخصیص یا زیادت بیان کرنے والی احادیث کو تلقی بالقبول حاصل نہ ہو تو فقہاے احناف کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قرآن کے ظاہری حکم کو برقرار رکھتے ہوئے احادیث کی تاویل وتشریح اس طرح سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تعارض ختم ہو جائے۔

۶۔ قرآن اور حدیث میں توفیق وتطبیق کے لیے حنفی فقہا ایک طریقہ یہ بھی اختیار کرتے ہیں کہ فقہی درجے کے اعتبار سے قرآن کے حکم اور حدیث کے حکم میں فرق کر لیا جائے اور قرآن کے حکم کو بنیادی، جب کہ حدیث میں بیان ہونے والے حکم کو اہمیت کے لحاظ سے ثانوی قرار دیا جائے۔

۷۔ اگر قرآن کا حکم کسی وضاحت کا محتاج نہ ہو، اور اہل علم کے اتفاق سے اس حکم میں (کسی پہلو سے) تخصیص بھی ثابت نہ ہو، نیز قرآن اور حدیث کے بیان میں بظاہر کوئی توفیق وتطبیق بھی ممکن نہ ہو تو احناف کے نزدیک ایسے حکم کی تخصیص خبر واحد یا قیاس کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ ایسی صورت میں احناف قرآن سے متعارض اخبار آحاد کو ترک کر دیتے ہیں۔

۸۔ باہم متعارض روایات میں ترجیح قائم کرتے ہوئے بھی حنفی فقہا قرآن کی موافقت کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہیں اور ان روایات کو ترجیح دیتے ہیں جو قرآن مجید کے ظاہر کے زیادہ قریب ہوں۔

[باقی]

____________