قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۴)


جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر

اسلوب عموم اور تخصیص و زیادت

غامدی صاحب، جیسا کہ واضح کیا گیا، امام شافعی کے اس موقف سے متفق ہیں کہ حدیث، قرآن کی صرف تبیین کر سکتی ہے، اس کے حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ البتہ اس اصول کے انطباق اور تفصیل میں ان کا منہج امام شافعی سے مختلف ہے اور یہ اختلاف بظاہر جزوی ہونے کے باوجود نتائج کے اعتبار سے بہت اہم اور بنیادی ہے۔

امام شافعی کے منہج میں قرآن مجید میں اسلوب عموم کو تخصیص پر محمول کرنے کی درج ذیل تین صورتیں جائز مانی جاتی ہیں:

پہلی یہ کہ کلام کے سیاق وسباق سے تخصیص واضح ہو رہی ہو۔

دوسری یہ کہ حکم کی علت اور معنوی اشارات سے تخصیص اخذ کی جا سکتی ہو یا حکم میں اس کا احتمال نمایاں ہو۔

تیسری یہ کہ ایسی کوئی تخصیص حدیث میں بیان ہوئی ہو، چاہے اس کا کوئی ظاہری قرینہ یا اساس خود قرآن کے حکم میں نہ بتائی جا سکے۔

گویا امام شافعی اس اصول کا انطباق ان صورتوں میں بھی کرتے ہیں جہاں کلام کی تخصیص کے قرائن خود کلام کے سیاق وسباق یا اشارات میں موجود ہوں اور ان صورتوں میں بھی جہاں کلام کی تخصیص احادیث میں بیان ہوئی ہو، اگرچہ خود قرآن کے سیاق وسباق میں اس کا کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو۔ غامدی صاحب ان میں سے پہلی دو صورتوں میں حدیث کے ذریعے سے قرآن کی تخصیص کو درست تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے نزدیک کلام کی تبیین ہی کی صورتیں ہیں، جب کہ تیسری صورت کو درست نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ تبیین کے دائرے سے متجاوز اور نسخ وتغییر کے زمرے میں آتی ہے۔

پہلی صورت سے متعلق غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...امام شافعی نے اپنی کتاب ''الرسالہ'' میں قرآن کے خاص وعام سے متعلق فرمایا ہے کہ زبان محتمل المعانی ہوتی ہے۔ اُس کے خاص وعام بھی جب کسی کلام کا جزو بن کر آتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہر حال میں اُسی معنی کے لیے آئیں جس کے لیے وہ اصلاً وضع کیے گئے ہیں۔ اللہ کی کتاب اس طرح نازل ہوئی ہے کہ اُس میں لفظ عام ہوتا ہے، مگر اُس سے خاص مراد لیا جاتا ہے اور خاص ہوتا ہے، مگر اُس سے عام مرادلیا جاتا ہے۔ لہٰذا نہ خاص کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے مدلول کے لیے قطعی ہے اور نہ عام کے بارے میں کہ وہ اپنے تحت تمام افراد پر لازماً دلالت کرے گا۔ ائمۂ اصول کے ایک گروہ کو اِس سے اختلاف ہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ اِس معاملے میں امام شافعی کا نقطۂ نظر ہی صحیح ہے، اِس لیے کہ یہ مجرد لفظ نہیں، بلکہ اُس کا موقع استعمال ہے جو سامع یا قاری کو اُس کے مفہوم سے متعلق کسی حتمی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔'' (مقامات ۱۴۱- ۱۴۲)

بعض انطباقی مثالوں کی روشنی میں اس اصول کو واضح کرتے ہوئے غامدی صاحب نے لکھا ہے:

''...قرآن میں یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر الفاظ عام ہیں، لیکن سیاق وسباق کی دلالت پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ اُن سے مراد عام نہیں ہے۔ قرآن 'النَّاس' کہتا ہے، لیکن ساری دنیا کا تو کیا ذکر، بارہا اِس سے عرب کے سب لوگ بھی اُس کے پیش نظر نہیں ہوتے۔ وہ 'عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ' کی تعبیر اختیار کرتا ہے، لیکن اِس سے دنیا کے سب ادیان مراد نہیں لیتا۔ وہ 'الْمُشْرِكُوْن' کا لفظ استعمال کرتا ہے، لیکن اِسے سب شرک کرنے والوں کے معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ وہ 'اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ' کے الفاظ لاتا ہے، لیکن اِس سے پورے عالم کے اہل کتاب مراد نہیں ہوتے۔ وہ 'الْاِنْسَان' کے لفظ سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے، لیکن اِس سے ساری اولاد آدم کا ذکر مقصود نہیں ہوتا۔ یہ قرآن کا عام اسلوب ہے جس کی رعایت اگر ملحوظ نہ رہے تو قرآن کی شرح ووضاحت میں متکلم کا منشا بالکل باطل ہو کر رہ جاتا ہے اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے، لہٰذا ناگزیر ہے کہ اِس معاملے میں قرآن کے عرف اور اُس کے سیاق وسباق کی حکومت اُس کے الفاظ پر ہر حال میں قائم رکھی جائے۔'' (میزان ۲۳- ۲۴)

دوسری اور تیسری صورت کے تعلق سے امام شافعی کے ساتھ اپنے اتفاق اور اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''زبان کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر قرآن کے علما ومحققین تقاضا کرتے ہیں کہ متکلم کے منشا تک پہنچنا ہو تو محض ظاہر الفاظ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُن کے باطن کو سمجھ کر حکم لگانا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب الہٰی کی یہی خدمت انجام دی ہے اور اپنے ارشادات سے اُن مضمرات وتضمنات کو واضح کر دیا ہے جن تک رسائی اُن لوگوں کے لیے مشکل ہو سکتی تھی جو لفظ ومعنی کی اِن نزاکتوں کو سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ امام شافعی بجا طور پر اصرار کرتے ہیں کہ ظاہر الفاظ کی بنیاد پر آپ کی اِس تفہیم وتبیین سے صرف نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ قرآن کا بیان ہے، اِس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہوتی۔ خدا کا پیغمبر کتاب الہٰی کا تابع ہے۔ وہ اُس کے مدعا کی تبیین کرتا ہے، اُس میں کبھی تغیر وتبدل نہیں کرتا۔ امام اپنی کتاب میں اِس کی مثالیں دیتے اور بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ قرآن کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، وہ بیان اور صرف بیان ہے۔ اُسے نہیں مانا جائے گا تو یہ قرآن کی پیروی نہیں، اُس کے حکم سے انحراف ہوگا، اِس لیے کہ اُس کا متکلم وہی چاہتا ہے جو پیغمبر کی تفہیم وتبیین سے واضح ہو رہا ہے، اُس کا منشا اُس سے مختلف نہیں ہے۔ امام شافعی کی اِس بات سے زیادہ سچی بات کیا ہو سکتی ہے! لیکن امام کے استدلال کی کم زوری یہ ہے کہ بیش تر موقعوں پر وہ مبرہن نہیں کر سکے کہ لفظ اور معنی کے جس تعلق کو وہ 'بیان'سے تعبیر کرتے ہیں، وہ اُن میں پیدا کس طرح ہوتا ہے؟ چنانچہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی چند ایسی روایتوں پر بھی مطمئن ہو گئے ہیں جنھیں کسی طرح بیان قرار نہیں دیا جا سکتا، دراں حالیکہ اُن کے بارے میں یہ بحث ہو سکتی تھی کہ اُن کے راویوں نے آپ کا مدعا ٹھیک طریقے سے سمجھا اور بیان بھی کیا ہے یا نہیں؟... ہم نے ''میزان'' میں کوشش کی ہے کہ امام کے موقف کو پوری طرح مبرہن کر دیں، اِس لیے کہ اصولاً وہ بالکل صحیح ہے۔ … اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ قرآن مجید کے احکام سے متعلق روایتوں میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ اُس کے الفاظ کا مضمر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریحات سے ظاہر کر دیا ہے۔ قرآن کے طالب علموں کو اِس سے لفظ کے باطن میں اتر کر اُس کو سمجھنے کی تربیت حاصل کرنی چاہیے، اِسے رد کر دینے یا اِس سے قرآن کے نسخ پر استدلال کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔'' (مقامات ۱۴۳- ۱۴۵)

ان توضیحات سے، امام شافعی کے نقطۂ نظر سے غامدی صاحب کا اتفاق اور اختلاف بالکل متعین ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ امام شافعی ایسی صورتوں کا امکان، بلکہ وقوع تسلیم کرتے ہیں جن میں خود قرآن میں کسی حکم کی تخصیص کے قرائن واضح نہ ہوں اور تخصیص کو صرف حدیث میں وارد ہونے کی بنا پر قرآن کی مراد قرار دیا جائے۔ غامدی صاحب کے نزدیک اگر ایسی کوئی صورت بالفرض پائی جاتی ہو تو اصولاً اسے تبیین نہیں کہا جا سکتا اور نتیجتاً قبول بھی نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی کوئی صورت عملاً پائی نہیں جاتی اور تمام مستند احادیث کا تعلق قرآن سے تبیین کے اصول پر واضح کیا جا سکتا ہے۔ اس بحث میں غامدی صاحب کا اہم ترین اضافہ یہی ہے اور اس نقطۂ نظر کے تحت انھوں نے سنت میں بیان ہونے والے تمام ایسے احکام کا ماخذ، جنھیں فقہا واصولیین قرآن کی تخصیص یا اس پر زیادت کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، خود قرآن مجید میں متعین کیا ہے۔ یہ ''میزان'' میں اختیار کردہ علمی منہج کی اہم ترین خصوصیات میں سے ہے اور تمام اعتقادی وفقہی نوعیت کے مباحث میں قرآن کے بیانات کے ساتھ احادیث کے تعلق کو واضح کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔

تاہم غامدی صاحب کے منہج میں تفہیم وتوجیہ کا یہ طریقہ یک طرفہ نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہر مثال میں جہاں حدیث، ظاہر کے لحاظ سے قرآن کے بیان سے متجاوز یا اس کے معارض ہو، وہاں قرآن میں اس کے موید قرائن ودلائل تلاش کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس یہ دو طرفہ تعلق ہے اور جہاں بہت سی مثالوں میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حدیث میں وارد تبیین یا تخصیص وزیادت کی بنیاد خود قرآن میں موجود ہے، وہاں بہت سی مثالوں میں احادیث کی تفہیم قرآن کے مدعا کی روشنی میں اس طرح کی گئی ہے کہ ان کا تجاوز یا تخالف باقی نہ رہے۔

ذیل میں ہم ''میزان'' سے ان دونوں نوعیت کی اہم مثالوں کی روشنی میں غامدی صاحب کے منہج کی وضاحت کریں گے۔

قرآن مجید میں تبیین یا تخصیص وزیادت کی اساسات

اس نوعیت کی اہم مثالیں حسب ذیل ہیں:

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے وضو کرتے ہوئے پاؤں کو دھونا ثابت ہے۔ اس پر بظاہر قرآن مجید کی آیت سے اشکال ہوتا ہے جس میں 'فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَي الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ ' (المائدہ ۵: ۶) کے الفاظ آئے ہیں اور 'اَرْجُلَكُمْ ' کا عطف اس سے بالکل متصل ' رُءُوْسَكُمْ ' پر ہونے سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ پاؤں کا وظیفہ بھی مسح کرنا ہے۔ غامدی صاحب اس ظاہری احتمال کی نفی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''...پاؤں کا حکم، اگرچہ بظاہر خیال ہوتا ہے کہ 'وَامْسَحُوْا' کے تحت ہے، لیکن 'اَرْجُلَكُمْ' منصوب ہے اور اِس کے بعد 'اِلَي الْكَعْبَيْنِ' کے الفاظ ہیں جو پوری قطعیت کے ساتھ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ اِس کا عطف 'اَيْدِيَكُمْ' پر ہے، اِس لیے کہ یہ اگر 'بِرُءُ وْسِكُمْ' پر ہوتا تو اِس کے ساتھ 'اِلَي الْكَعْبَيْنِ' کی قید غیرضروری تھی۔ تیمم میں دیکھ لیجیے کہ جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے، وہاں 'اِلَي الْمَرَافِقِ' کی قید اِسی بنا پر ختم کر دی ہے۔ چنانچہ پاؤں لازماً دھوئے جائیں گے۔ آیت میں اِن کا ذکر محض اِس وجہ سے موخر کر دیا گیا ہے کہ وضو میں اعضا کی ترتیب سے متعلق کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو جائے۔ '' (البیان ۱/ ۵۹۹)

یہی نکتہ امام الحرمین الجوینی اور الکیا الہراسی نے بھی پیش کیا ہے (البرہان فی اصول الفقہ ۱/ ۵۴۹ ۔ الکیا الہراسی، احکام القرآن ۲/ ۴۱) اور علمی لحاظ سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ عمومی استدلال کی رو سے قرآن مجید کا زیر بحث حکم فی نفسہ ٖصریح نہ ہونے کی وجہ سے محتمل اور قابل تاویل ہے جس کی تفسیر وتفصیل سنت میں کی گئی ہے، جب کہ الجوینی اور غامدی صاحب کے استدلال کے مطابق خود قرآن مجید میں ایک واضح قرینہ موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ 'اَرْجُلَكُمْ ' کا تعلق کسی بھی طرح 'وَامْسَحُوْا' کے ساتھ نہیں ہو سکتا اور اسے 'فَاغْسِلُوْا' سے متعلق ماننا ہی بلاغت کلام کا مقتضی ہے۔

۲۔ وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرنے کی رخصت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی روایا ت میں ثابت ہے، تاہم قرآن مجید میں پاؤں کو دھونے کے حکم کے تناظر میں یہ روایات صدر اول میں خاصی بحث و نزاع کا موضوع رہی ہیں۔ خوارج نے ان روایات کو قرآن کے خلاف قرار دیتے ہوئے رد کر دیا، جب کہ فقہاے صحابہ میں سے بعض نے یہ راے اختیار کی کہ یہ طریقہ سورۂ مائدہ کی آیت نازل ہونے کے بعد منسوخ ہو چکا ہے۔ جمہور فقہا نے، البتہ اس رخصت کو قرآن کے حکم کی تبیین کے طور پر، جب کہ فقہاے احناف نے سنت مشہورہ سے قرآن کی تخصیص کی مثال کی حیثیت سے قبول کیا۔

غامدی صاحب قرآن مجید میں اس رخصت کا مبناے استنباط، تیمم کے حکم کو قرار دیتے ہیں اور ان کی راے یہ ہے کہ:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے اِسی حکم پر قیاس کرتے ہوئے موزوں اور عمامے پر مسح کیا اور لوگوں کو اجازت دی ہے کہ اگر موزے وضو کر کے پہنے ہوں تو اُن کے مقیم ایک شب وروز اور مسافر تین شب وروز کے لیے موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجاے اُن پر مسح کر سکتے ہیں۔'' (میزان ۲۹۰)

۳۔ سورۂ نساء (۴: ۱۰۱) میں سفر کی حالت میں دشمن کے خوف کی صورت میں نماز کو قصرکرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہاں حالت خوف کی قید کی معنویت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی اہل علم کی توجہ کا موضوع رہی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رخصت کو حالت خوف تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عام اسفار میں بھی اس رخصت پر عمل فرمایا۔ جمہور فقہا نے عموماً اس قید کی توجیہ یہ کی ہے کہ یہ بطور احتراز نہیں، بلکہ اس واقعاتی تناظر میں آئی ہے جس کا اس آیت کے نزول کے وقت مسلمانوں کو سامنا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اسی بات کو واضح فرمایا ہے کہ حالت خوف کی قید، اس رخصت کو صرف اس حالت تک محدود رکھنے کے لیے نہیں ہے۔

غامدی صاحب نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ ابتداء ً تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رخصت حالت خوف ہی کے تناظر میں دی گئی تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیاس واستنباط سے کام لیتے ہوئے اس کی توسیع سفر کے عمومی حالات میں بھی کر دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس استنباط کی توثیق فرما دی۔ لکھتے ہیں:

''نماز میں کمی کرنے اور اُسے چلتے ہوئے یا سواری پر پڑھ لینے کی یہ رخصتیں یہاں 'اِنْ خِفْتُمْ' کی شرط کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے عام سفروں کی پریشانی، افراتفری اور آپادھاپی کو بھی اِس پر قیاس فرمایا اور اُن میں بالعموم قصر نماز ہی پڑھی ہے۔ اِسی طرح قافلے کو رکنے کی زحمت سے بچانے کے لیے نفل نمازیں بھی سواری پر بیٹھے ہوئے پڑھ لی ہیں۔ سیدنا عمر کا بیان ہے کہ اِس طرح بغیر کسی اندیشے کے نماز قصر کر لینے پر مجھے تعجب ہوا۔ چنانچہ میں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی عنایت ہے جو اُس نے تم پر کی ہے، سو اللہ کی اِس عنایت کو قبول کرو۔ … اِس جواب سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس استنباط کی تصویب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہو گئی تھی۔'' (میزان ۳۱۵)

یہی راے اس بحث میں امام طحاوی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے یہ رخصت اسی قید کے ساتھ دی تھی، لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتے ہوئے مطلقاً سفر میں نماز قصر کرنے کی اجازت دے دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی وضاحت کرتے ہوئے سیدنا عمر سے فرمایا کہ حالت امن میں قصر کرنا اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، اسے قبول کرو(تحفۃ الاخیار ۶/ ۳۰۴)۔

۴۔ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر سفر کی حالت میں دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کر کے ادا فرمایا۔ غامدی صاحب کی راے میں یہ تخفیف اس رخصت ہی کی ایک توسیع ہے جو قرآن میں حالت سفر میں نماز کی رکعات کو قصر کرنے کے حوالے سے بیان کی گئی ہے، اس رخصت کا قرینہ قرآن مجید میں واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''نماز میں تخفیف کی اِس اجازت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے اوقات میں تخفیف کا استنباط بھی کیا ہے اور اِس طرح کے سفروں میں ظہر وعصر، اور مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھائی ہیں۔ … اِس استنباط کا اشارہ خود قرآن میں موجود ہے۔ سورۂ نساء میں یہ حکم جس آیت پر ختم ہوا ہے، اُس میں 'اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ' کے الفاظ عربیت کی رو سے تقاضا کرتے ہیں کہ اِن سے پہلے 'اور وقت کی پابندی کرو' یا اِس طرح کا کوئی جملہ مقدر سمجھا جائے۔ اِس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوتی ہے کہ قصر کی اجازت کے بعد یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ نماز کی رکعتوں کے ساتھ اُس کے اوقات میں بھی کمی کرلیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی کہ جب اطمینان میں ہو جاؤ تو پوری نماز پڑھو اور اِس کے لیے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرو، اِس لیے کہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔'' (میزان ۳۱۵- ۳۱۶)

یہ استنباط اس پہلو سے دل چسپ ہے کہ حنفی فقہا نے، جو حج میں یوم عرفہ کے علاوہ عام سفر میں جمع بین الصلاتین کے قائل نہیں ہیں، قرآن مجید کے مذکورہ جملے کو ہی اس ممانعت کی دلیل بنایا اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اوقات کی پابندی قرآن مجید کی صریح نص سے ثابت ہے، اس لیے اخبار آحاد کی بنیاد پر اس میں تخصیص نہیں کی جا سکتی (جصاص، شرح مختصر الطحاوی ۲/ ۱٠۱- ۱٠۲)۔ غامدی صاحب نے 'اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا ' کے جملے کو سیاق کلام کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس کا ایسا محل متعین کیا ہے جس سے یہ جملہ فی نفسہٖ اوقات نماز کی پابندی کا حکم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاق کلام میں مضمر اس رخصت پر بھی دال بن جاتا ہے کہ حالت سفر میں نماز کی رکعتوں کے ساتھ ساتھ اس کے اوقات میں بھی قصر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی نادر اور لطیف استنباط ہے جو ہمارے علم کی حد تک تفسیری وفقہی ذخیرے میں اس سے پہلے نہیں ملتا۔

۵۔ قرآن مجید میں نسبی رشتوں کے ساتھ ساتھ رضاعت کے تعلق سے بھی دو رشتوں، یعنی رضاعی ماں اور رضاعی بہن کو نکاح کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے (النساء ۴: ۲۳)۔ قرآن مجید میں انھی دو رشتوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ساتھ رضاعی پھوپھی، رضاعی خالہ، رضاعی بھانجی اور رضاعی بھتیجی وغیرہ کو بھی حرام قرار دیا۔

غامدی صاحب کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد قرآن کے حکم میں کوئی زیادت یا تبدیلی نہیں کرتا، بلکہ اسی علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع کرتا ہے جو قرآن کے بیان کردہ دو رشتوں میں پائی جاتی ہے۔ لکھتے ہیں:

''...الفاظ وقرائن کی دلالت اور حکم کے عقلی تقاضے جس مفہوم کو آپ سے آپ واضح کر رہے ہوں، اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاتا۔ … رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اِس میں بے شک، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ، اُس کے شوہر کوباپ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اُس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناً حرام ہیں۔ یہ قرآن کا منشا ہے اور 'اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ' کے الفاظ اِس پر اِس طرح دلالت کرتے ہیں کہ قرآن پر تدبر کرنے والے کسی صاحب علم سے اُس کا یہ منشا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے: ...ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔''(میزان ۴۱۶)

۶۔ قرآن مجید میں حرمت رضاعت کا ذکر کرتے ہوئے مقدار رضاعت کا ذکر نہیں کیا گیا جس سے فقہا کا ایک گروہ یہ اخذ کرتا ہے کہ کم یا زیادہ، کسی بھی مقدار میں بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو دونوں کے مابین حرمت رضاعت متحقق ہو جائے گی اور اسی بنیاد پر وہ مقدار رضاعت کی تحدید بیان کرنے والی روایات کو قرآن کے معارض ہونے کی بنا پر قبول نہیں کرتا۔ غامدی صاحب اس استدلال کو درست نہیں سمجھتے اور اس ضمن میں انھوں نے مولانا امین احسن اصلاحی کا یہ استدلال نقل کیا ہے کہ ''قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اسے بیان کیا ہے، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں، بلکہ اہتمام کے ساتھ ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اس کا اعتبار ہے۔ اول تو فرمایا ہے: ''تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے۔'' پھر اس کے لیے 'رضاعت' کالفظ استعمال کیا ہے: 'وَاَخَوٰ تُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ'۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ 'ارضاع' باب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اسی طرح رضاعت کا لفظ بھی اس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اس کے منہ میں لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۵)

اس استدلال کی روشنی میں غامدی صاحب ان احادیث کو قرآن ہی کے منشا کا بیان قرار دیتے ہیں جن میں حرمت رضاعت کو بچے کے دودھ پینے کی عمر تک محدود قرار دیا گیا ہے اور اتفاقاً ایک دو گھونٹ پی لینے کو حرمت کا موجب تسلیم نہیں کیا گیا، جب کہ ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے سالم کے واقعے کو، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سالم کی بلوغت کے بعد ابو حذیفہ کی اہلیہ سے ان کا رشتہ رضاعت قائم کرنے کی اجازت دی، ایک استثنائی واقعے پر محمول کرتے ہیں جس میں ابو حذیفہ کے گھرانے میں پیدا ہو جانے والی ایک مخصوص صورت حال کا حل تجویز کرنا مقصود تھا (میزان ۴۱۵)۔

۷۔ قرآن مجید میں دو عورتوں کو بہ یک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت کے ضمن میں صرف دو بہنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ممانعت کے دائرے میں پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو بھی شامل فرمایا ہے جو بظاہر قرآن کے حکم سے متجاوز ہے۔ غامدی صاحب اس توسیع کو بھی حکم کی علت کا تقاضا اور قرآن ہی کے منشا کا بیان قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

''...قرآن نے 'بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ' ہی کہا ہے، لیکن صاف واضح ہے کہ زن وشو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اُسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ 'أن تجمعوا بين الأختين وبين المرأة وعمتها وبين المرأة وخالتها'۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے، لیکن 'بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ' کے بعد یہ الفاظ اُس نے اِس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اِس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اُس کا کوئی طالب علم اِس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا۔'' (میزان ۴۱۸)

۸۔ بنو اسلم کی خاتون سبیعہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر حاملہ عورت بیوہ ہو جائے تو بچے کی پیدایش کے بعد اس کی عدت مکمل ہو جائے گی، یعنی اسے نئے نکاح کے لیے چار ماہ دس دن پورے ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا (بخاری، رقم ۵۳۱۸)۔ تاہم صحابہ وتابعین کا ایک گروہ، مذکورہ روایت کے برخلاف، ظاہر قرآن کی روشنی میں ایسی صورت میں بیوہ کے لیے دونوں عدتیں گزارنے کا پابند سمجھتا تھا۔

غامدی صاحب واضح کرتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ فرمایا، وہی حکم کی علت کا تقاضا تھا ۔ ان کی راے کے مطابق عدت کی اصل علت استبراء رحم ہے۔ چونکہ بیوی کو ایسے طہر میں طلاق دینے کی ہدایت کی گئی جس میں شوہر نے اس سے ہم بستری نہ کی ہو، جب کہ بیوہ کے لیے اس طرح کا کوئی ضابطہ بنانا ممکن نہیں، اس لیے قرآن مجید نے احتیاطاً اس کی عدت کی مدت میں، مطلقہ کے مقابلے میں ایک ماہ دس دن کا اضافہ کر دیا ہے۔ جب دونوں صورتوں میں عدت کی علت ایک ہی ہے تو وضع حمل کی صورت میں حکم کا مقصد بھی دونوں صورتوں میں پورا ہو جاتا ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...مطلقہ اور بیوہ کے لیے عدت کا حکم چونکہ ایک ہی مقصد سے دیا گیا ہے، اِس لیے جو مستثنیات اوپر طلاق کی بحث میں بیان ہوئے ہیں، وہ بیوہ کی عدت میں بھی اِسی طرح ملحوظ ہوں گے۔ چنانچہ بیوہ غیر مدخولہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہوگی اور حاملہ کی عدت وضع حمل کے بعد ختم ہو جائے گی۔ بخاری اور مسلم، دونوں کی روایت (رقم ۵۳۱۸، ۳۷۲۳) ہے کہ ایک حاملہ خاتون، سبیعہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے یہی فیصلہ فرمایا۔'' (میزان ۴۶۳)

۹۔ قرآن مجید میں بیوہ کی عدت کے احکام بیان کرتے ہوئے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ اس سے نکاح کی خواہش رکھنے والے حضرات دوران عدت میں اشارے کنایے میں اپنی خواہش کے ابلاغ سے ہٹ کر تصریحاً اسے نکاح کا پیغام نہ بھیجیں اور اس کے لیے عدت کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔ غامدی صاحب احادیث میں بیوہ کے لیے زیب وزینت اور بناؤ سنگھار کی ممانعت کو قرآن کی اسی ہدایت کی تفریع قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی ہدایت سے ''یہ بات نکلتی ہے کہ زمانۂ عدت میں عورت کا رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر عورتوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اگر اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں اس کے لیے عدت گزار رہی ہیں تو سوگ کی کیفیت میں گزاریں اور زیب وزینت کی کوئی چیز استعمال نہ کریں'' (میزان ۴۶۴)۔

۱۰۔قرآن کے عام احکام کی تخصیص کے ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اصول فقہ کے مباحث میں ایک نمایاں مثال کے طور پر زیر بحث رہا ہے کہ مسلمان، کافر کا اور کافر، مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ غامدی صاحب اس تخصیص کی بنیاد بھی خود قرآن کے حکم میں واضح کرتے ہیں، چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ مرنے والے کی میراث میں رشتہ داروں کو حصہ دار قرار دینا منفعت کے اصول پر مبنی ہے اور مختلف حصہ داروں کے حصوں میں باہمی فرق کا اصول بھی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں اگر کسی خاص صورت میں رشتہ داروں کے مابین منفعت ختم ہو جائے تو اس پر مبنی وراثت کے حکم کو بھی منتفی ہو جانا چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر بحث صورت میں اسی اصول کا اطلاق کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''والدین، اولاد، بھائی بہن، میاں بیوی اور دوسرے اقربا کے تعلق میں یہ منفعت بالطبع موجود ہے اور عام حالات میں یہ اِسی بنا پر بغیر کسی تردد کے وارث ٹھیراے جاتے ہیں۔ لیکن اِن میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجاے سراسر اذیت بن جائے تو حکم کی یہ علت تقاضا کرتی ہے کہ اُسے وراثت سے محروم قرار دیا جائے۔ یہ استثنا، اگر غور کیجیے تو کہیں باہر سے آ کر اِس حکم میں داخل نہیں ہوا، اِس کی ابتدا ہی سے اِس کے ساتھ لگا ہوا ہے، لہٰذا قرآن کا کوئی عالم اگر اِسے بیان کرتا ہے تو یہ ہرگز کوئی تغیر وتبدل نہیں ہے، بلکہ ٹھیک اُس مدعا کی تعبیر ہے جو قرآن کے الفاظ میں مضمر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی کے پیش نظر جزیرہ نماے عرب کے مشرکین اور یہود ونصاریٰ کے بارے میں فرمایا: … ''نہ مسلمان اِن میں سے کسی کافر کے وارث ہوں گے اور نہ یہ کافر کسی مسلمان کے۔'''' (میزان ۴۰)

قرب منفعت کے اسی اصول کو غامدی صاحب اس حدیث کا بھی ماخذ قرار دیتے ہیں جس میں ترکے سے بچا ہوا مال مرنے والے کے قریب ترین مرد کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ ''یہ رہنمائی بھی ضمناً اس آیت سے حاصل ہوتی ہے کہ ترکے کا کچھ حصہ اگر بچا ہوا رہ جائے اور مرنے والے نے کسی کو اس کا وارث نہ بنایا ہو تو اسے بھی 'أقرب نفعًا' کو ملنا چاہیے'' (میزان ۵۲۵)۔

۱۱۔ اس ضمن کا ایک اہم مسئلہ حلال او رحرام جانوروں کی تعیین سے متعلق قرآن اور حدیث کے بیانات ہیں۔ فقہا کے سامنے یہ سوال ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات پر حرام چیزوں کو صرف چار میں محصور قرار دیا گیا ہے، یعنی مردار، دم مسفوح، خنزیر کا گوشت اور جس جانور کو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، تاہم احادیث میں ان کے علاوہ بھی بہت سے جانوروں، مثلاً درندوں اور گدھے وغیرہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مختلف توجیہات کا ذکر سابقہ مباحث میں کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے ایک معروف توجیہ یہ ہے کہ شریعت میں حرمت کا دائرہ اصولاً وسیع تر ہے اور اس میں مذکورہ چار چیزوں کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ جہاں تک آیت میں حصر کے اسلوب کا تعلق ہے تو وہ حلت وحرمت کے عمومی تناظر میں وارد نہیں ہوا، بلکہ ایک خاص سیاق میں اختیار کیا گیا ہے اور چار کے علاوہ باقی چیزوں کی اباحت بھی اسی خاص دائرے میں مراد ہے۔ چونکہ یہاں حلت وحرمت کا عمومی دائرہ زیر بحث ہی نہیں، جب کہ احادیث میں جن جانوروں کی حرمت کا ذکر ہے، وہ اس عمومی دائرے سے متعلق ہے، اس لیے یہاں قرآن اور حدیث کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔

غامدی صاحب بھی اصولاً اسی نکتے کی روشنی میں زیر بحث تعارض کی توجیہ کرتے ہیں، البتہ آیت میں جس خاص سیاق میں حصر وارد ہوا ہے، اس کی تعیین میں ان کی راے عام فقہی توجیہ سے کسی قدر مختلف ہے۔ امام شافعی اور دیگر اصولیین آیت کا سیاق اس سوال کو قرار دیتے ہیں جو سورۂ انعام میں مشرکین عرب کی خودساختہ حرمتوں کے حوالے سے زیربحث ہے۔ اس توجیہ کے مطابق مشرکین نے اللہ کے حلال کردہ جانوروں میں سے کچھ کو اپنے مشرکانہ تصورات کے تحت اپنی طرف سے حرام قرار دے رکھا تھا اور قرآن مجید نے اسی تناظر میں مذکورہ آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جن جانوروں کو تم حرام سمجھتے ہو، اللہ نے ان کو حرام قرار نہیں دیا اور یہ کہ اللہ کی طرف سے خور ونوش کی حرمت صرف ان چار چیزوں تک محدود ہے۔ گویا یہاں عمومی اور کلی تناظر میں حلت و حرمت زیر بحث نہیں، بلکہ چند خاص جانوروں کے حوالے سے مشرکین کی بدعات کی اصلاح اور اصل شرعی حکم کی وضاحت مقصود ہے۔

غامدی صاحب بھی آیت کے حصر کے ایک مخصوص دائرے سے متعلق قرار دیتے اور قرآن کے دائرۂ خطاب اور احادیث کے دائرۂ خطاب کے فرق کو فطرت اور شریعت کے باہمی فرق کی روشنی میں واضح کرتے ہیں۔ ان کی راے میں خور ونوش میں حلت وحرمت سے متعلق انسانوں کو جو اصول اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے، وہ طیبات اور خبائث میں امتیاز ہے۔ پاکیزہ اور طیب چیزیں انسانوں کے لیے حلال اور ناپاک چیزیں حرام ٹھیرائی گئی ہیں اور اس کی تعیین کے لیے دو ذریعوں سے انسان کی رہنمائی کی گئی ہے؛ ایک فطرت اور دوسرا شریعت۔ فطرت کی رہنمائی کی حیثیت اصل اور اساس کی ہے، جب کہ انبیا کے ذریعے سے دی جانے والی شریعت میں اصلاً ان چیزوں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کی حلت یا حرمت کے متعلق صحیح فیصلہ کرنا انسان کے لیے محض اپنی فطرت کی بنیاد پر ممکن نہیں تھا۔ فطری ہدایت اور شرعی ہدایت کے دائرے میں اس فرق کی روشنی میں غامدی صاحب قرآن مجید کی زیر بحث آیا ت کو بیان شریعت قرار دیتے ہیں جہاں صرف مشتبہ چیزوں کی وضاحت مقصود ہے اور گویا جس معاملے میں انسانی عقل اور فطرت حتمی فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، اس سے متعلق حکم الہٰی کے طور پر ایک پابندی ان پر لازم کی گئی ہے، جب کہ احادیث میں ان کے علاوہ جن بہت سی چیزوں کی حرمت کا ذکر ہوا ہے، غامدی صاحب اسے بیان فطرت کا عنوان دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ابتداء ً ایک حکم شرعی کے طور پر کوئی نئی حرمت بیان نہیں کی گئی، بلکہ بنی نوع انسان اپنی فطرت کی رو سے جن چیزوں کی نجاست اور خباثت سے عموماً واقف رہے ہیں، انھی کی تاکید وتصویب مقصود ہے۔ یوں دائرۂ خطاب کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے آیت اور احادیث میں باہم کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔

غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...انسان کی یہ فطرت بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ اُسے کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے۔ اُسے معلوم ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گدھ، عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ گھوڑے، گدھے، دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اِن جانوروں کے بول وبراز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اُس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی اِن جانوروں کی حلت وحرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا، بلکہ صرف یہ بتا کر کہ تمام طیبات حلال اور تمام خبائث حرام ہیں، انسان کو اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ شریعت کا موضوع اِس باب میں صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل وفطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔'' (میزان ۳۶- ۳۷)

مزید لکھتے ہیں:

''بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور چنگال والے پرندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اوپر کی بحث سے واضح ہے کہ یہ اُسی فطرت کا بیان ہے جس کا علم انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے۔ لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے بیان فطرت کے بجاے بیان شریعت سمجھا، دراں حالیکہ شریعت کی اُن حرمتوں سے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، اِس کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کہ اِس کی بنیاد پر حدیث سے قرآن کے نسخ یا اُس کے مدعا میں تبدیلی کا کوئی مسئلہ پیدا کیا جائے۔'' (میزان ۳۸)

۱۲۔ حدیث میں مچھلی اور ٹڈی کی حلت کو بیان کرتے ہوئے 'أحلت لنا ميتتان' اور جگر اور تلی کی حلت کو واضح کرنے کے لیے 'دمان' کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو بظاہر قرآن مجید کے عام حکم کی تخصیص دکھائی دیتا ہے جس میں مطلقاً خون اور مردار کو حرام کہا گیا ہے۔ تاہم غامدی صاحب واضح کرتے ہیں کہ مذکورہ حدیث کا قرآن کے ساتھ کوئی تعارض نہیں، کیونکہ قرآن نے 'مَيْتَة' اور 'دَم' کے الفاظ عرفی مفہوم میں استعمال کیے ہیں، جب کہ مچھلی اور ٹڈی کو اس عرفی مفہوم کے لحاظ سے 'مَيْتَة' نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح جگر اور تلی بھی عرفی مفہوم کے لحاظ سے لفظ 'دَم' کا مصداق نہیں سمجھے جاتے۔ چنانچہ قرآن نے جس مفہوم میں 'مَيْتَة' اور 'دَم' کو حرام قرار دیا ہے، حدیث میں مذکور چیزیں چونکہ اس کے دائرۂ اطلاق میں ابتداء ً ہی شامل نہیں، اس لیے حدیث میں ان کی حلت کے بیان کو قرآن کے حکم کی تخصیص نہیں کہا جا سکتا (میزان ۴۱)۔ غامدی صاحب نے یہ نکتہ زمخشری کے حوالے سے واضح کیا ہے، جب کہ شاہ ولی اللہ نے بھی اس حدیث کی تشریح اسی نکتے کی روشنی میں کی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۹۲)۔

۱۳۔ قرآن مجید میں چوری کرنے والے کے لیے قطع ید کی سزا مطلق اسلوب میں بیان کی گئی ہے، تاہم احادیث میں اس کے نفاذ کے لیے کئی قسم کے شرائط اور قیود کا ذکر ملتا ہے۔ جمہور فقہا کے موقف کے مطابق، غامدی صاحب بھی ان تخصیصات کو قبول کرتے ہیں اور انھیں قرآن مجید ہی سے مستنبط قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ ''عربی زبان کے اسالیب بلاغت سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہ صفت کے صیغے ہیں جو وقوع فعل میں اہتمام پر دلالت کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق فعل سرقہ کی کسی ایسی ہی نوعیت پر کیا جا سکتا ہے جس کے ارتکاب کو چوری اور جس کے مرتکب کو چور قرار دیا جا سکے'' (میزان ۶۳۰)۔ یوں وہ تمام احادیث قرآن مجید کے اسی مدعا کی توضیح وتبیین کرتی ہیں جن میں معمولی قیمت کی چیز چرانے یا درخت سے بلا اجازت پھل اتار لینے یا بغیر حفاظت کے کسی جگہ پڑا ہوا مال اٹھا لینے یا کسی مجبوری اور اضطرار کی بنا پر چوری کرنے کی صورت میں ہاتھ کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ''یہ سب ناشایستہ افعال ہیں اور ان پر اسے تادیب وتنبیہ ہونی چاہیے، لیکن یہ وہ چوری نہیں ہے جس کا حکم ان آیات میں بیان ہوا ہے'' (میزان ۶۳۰)۔

۱۴۔ غامدی صاحب، جمہور فقہا کے مسلک کے مطابق، اس کے قائل ہیں کہ مرنے والے کو ان وارثوں میں سے کسی کے حق میں وصیت کرنے کا حق نہیں جن کے حصے خود قرآن نے متعین کر دیے ہیں۔ اس ضمن میں وہ فقہا کے اس استدلال سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ والدین واقربین کے لیے وصیت کرنے کی جو ہدایت سورۂ بقرہ میں دی گئی تھی، سورۂ نساء میں میراث کا قانون نازل ہو جانے کے بعد وہ منسوخ ہو چکی ہے اور ''اب کسی مرنے والے کو رشتہ داری کی بنیاد پر اللہ کے ٹھیراے ہوئے وارثوں کے حق میں وصیت کا اختیار باقی نہیں رہا '' (میزان ۵۲۴)۔ گویا وہ اصولیین کے اس گروہ کی تائید کرتے ہیں جس کے نزدیک ورثا کے لیے حق وصیت کا اصل ناسخ قانون میراث ہے، جب کہ 'لا وصية لوارث' کی حدیث محض اس کا بیان ہے۔ البتہ غامدی صاحب کا موقف اس پہلو سے جمہور سے مختلف ہے کہ وہ وصیت کی اس ممانعت کو اس صورت میں قابل اطلاق نہیں سمجھتے جب، رشتہ داری کے عمومی تعلق سے ہٹ کر، وارثوں کی کسی خاص ضرورت کے پیش نظر یا ان کی کسی خدمت کے صلے میں مرنے والا ان کو اپنے ترکے میں سے کچھ دینا چاہے (میزان ۵۲۴- ۵۲۵)۔

۱۵۔ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۸۲ میں قرض کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دو مردوں کو یا اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ حنفی فقہا اس نصاب شہادت کی پابندی کو عدالت کے لیے بھی ضروری قرار دیتے ہیں اور اس کی روشنی میں ان روایات کو قبول نہیں کرتے جن کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ غامدی صاحب نے اس ضمن میں مذکورہ حدیث کا تو حوالہ نہیں دیا، تاہم آیت میں مذکورہ ہدایت کی نوعیت کے حوالے سے وہ جمہور فقہا کی اس راے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہاں عدالت کے لیے کسی ضابطے کا بیان مقصود نہیں ہے۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

''...اِس میں عدالت کو مخاطب کرکے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اِس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اِس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اِس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اِس میں اُنھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اِس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اُس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے اُن گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل، ثقہ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات ومشاغل کے لحاظ سے اِس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کرسکتے ہوں۔ … اِس کے یہ معنی، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اُسی وقت ثابت ہوگا، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اُس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں۔'' (میزان ۵۱۶)

ہدایت کی اس نوعیت کے حوالے سے جمہور اہل علم کے موقف اور استدلال کو امام ابن قیم نے ''اعلام الموقعین'' اور ''الطرق الحکمیۃ'' میں تفصیل سے واضح کیا ہے۔

[باقی]

___________