قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۷)


امام شافعی کے موقف کی الجھنیں اور اصولی فکر کا ارتقا

امام شافعی کے موقف کی وضاحت میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ ان سے پہلے کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں جمہور اہل علم کے استدلال کا محوری نکتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کا مطلق اور حتمی ہونا تھا اور وہ قرآن اور حدیث میں کسی ظاہری مخالفت کی صورت میں حدیث کو قرآن کی تشریح میں فیصلہ کن حیثیت دینے کو اس اتباع واطاعت کے ایک تقاضے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ امام شافعی نے اس بحث میں ایک نہایت اہم نکتے کا اضافہ کیا کہ قرآن میں اسلوب عموم میں بیان کیے جانے والے ہر حکم کا ہر ہر فرد اور ہر ہر صورت کو قطعی طور پر شامل ہونے کا مفروضہ ہی عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے درست نہیں اور قرآن کا اسلوب عموم خود ایک قابل احتمال اور محتاج تفسیر چیز ہے، اس لیے کسی حدیث میں، ظاہر قرآن پر کسی اضافے یا کسی تخصیص وتقیید کو قرآن کے معارض سمجھنے کے بجاے اسے شارع کی طرف سے اصل حکم ہی کی تفصیل اور تشریح تصور کرنا ضروری ہے۔

اسلوب عموم کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے امام شافعی نے قرآن مجید کی بہت سی مثالوں کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ عموم کا اسلوب بذات خود قطعی طور پر یہ طے نہیں کرتا کہ متکلم کی مراد عموم ہی ہے، بلکہ اس میں دونوں احتمال ہوتے ہیں اور متکلم کی مراد متعین کرنے کے لیے اضافی دلائل وقرائن کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض جگہ عموم کے اسلوب سے فی الواقع عموم ہی مراد ہوتا ہے، یعنی الفاظ کی ظاہری دلالت جن مصداقات کو شامل ہے، وہ سب متکلم کی مراد ہوتے ہیں، بعض جگہ عموم کے اسلوب سے عموم مراد تو ہوتا ہے، لیکن قرائن ودلائل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس عموم سے فلاں اور فلاں صورتیں خارج ہیں، اور بعض مقامات پر عموم کے اسلوب سے سرے سے عموم مراد ہی نہیں ہوتا، بلکہ کچھ خاص مصداقات کا ذکر عموم کے الفاظ سے کر دیا جاتا ہے۔

اس بنیادی نکتے سے امام شافعی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب اسلوب عموم سے واقعتاً عموم کا مراد ہونا قطعی نہیں، بلکہ اس کا تعین اضافی دلائل وقرائن کی روشنی میں کیا جا تا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نمایندے اور ترجمان کی حیثیت سے قرآن کی مراد کی جو وضاحت فرمائی ہے، وہ مراد الہٰی کی تعیین میں حتمی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ سنت میں تخصیص وارد ہونے کے بعد قرآن کے حکم کو اس کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے گا اور دونوں کے مجموعے سے اللہ تعالیٰ کی مراد طے کی جائے گی، نہ کہ سنت کے حکم کو کتاب اللہ سے اختلاف پر محمول کر کے حدیث کو رد کر دینے یا منسوخ تصور کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

یہ طرز استدلال اختیار کر کے امام شافعی نے بنیادی طور پر جمہور اہل علم کے موقف، جو اس وقت تک عموماً اطاعت رسول کے اعتقادی مقدمے پر مبنی تھا، دلالت کلام کے تناظر میں ایک علمی وعقلی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی اور بہت سی مثالوں میں سنت میں وارد تخصیصات کے لفظی یا عقلی قرائن کی نشان دہی خود قرآن مجید میں کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ سنت نے قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کی، بلکہ اسی میں موجود اشارات، علل اور قرائن کی روشنی میں مراد الہٰی کی وضاحت کی ہے۔ اس حد تک امام شافعی کا استدلال بہت وزنی اور مضبوط معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ قبول کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں پاتے کہ جہاں بہت سی مثالوں میں تخصیص کی بنیاد خود قرآن میں واضح کی جا سکتی ہے، وہاں کم وبیش اتنی ہی مثالوں میں حکم کی تخصیص کا کوئی قرینہ بظاہر قرآن میں دکھائی نہیں دیتا، البتہ امام صاحب کے نزدیک چونکہ اصولی طور پر یہ بات طے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ ہی کی مراد کو واضح کرتے ہیں، اس لیے انھیں اصرار ہے کہ ایسی مثالوں کو بھی نسخ اور تغییر نہیں، بلکہ تبیین وتوضیح ہی تصور کرنا لازم ہے۔ یوں کم سے کم اس دوسری نوعیت کی مثالوں کی حد تک ان کا استدلال دلالت کلام کے نکتے سے ہٹ کر دوبارہ ایک طرح کی اعتقادی بنیاد پر استوار ہو جاتا ہے۔

مزید برآں امام صاحب اس الجھن کا بھی کوئی واضح جواب نہیں دیتے کہ کتاب اللہ کے جن احکام میں ظاہراً ایک سے زیادہ احتمالات نہیں پائے جاتے اور تخصیص کا بھی کوئی قرینہ موجود نہیں، ان میں اگر سنت، کتاب اللہ سے مختلف کوئی بات بیان کرے تو اسے اصل حکم میں ترمیم یا اضافہ سمجھنے کے بجاے اس کی تبیین ماننے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ قرآن کا جو حکم پہلے بالکل واضح اور غیر محتمل تھا، سنت کا بیان سامنے آنے کے بعد اب اسے محتمل اور محتاج بیان تصور کیا جائے گا۔ یعنی کسی حکم کے واضح اور غیر محتمل ہونے کا معیار خود اس کا اپنا اسلوب اور اس کی داخلی دلالت نہیں، بلکہ اس کا تعین کسی دوسری امکانی وضاحت کے وارد ہونے یا نہ ہونے پر منحصر ہے۔ ایسی کوئی ممکنہ وضاحت سامنے نہ آنے تک حکم کو عبوری طور پر واضح اور غیر محتمل مانا جا سکتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی وضاحت وارد ہوگی، یہ فرض کر لیا جائے گا کہ اصل حکم محتمل الدلالۃ اور غیر قطعی تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امام شافعی باصرار یہ کہتے ہیں کہ اصل کلام کو اس تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونا چاہیے جو بعد میں بیان کی گئی ہے، لیکن وہ یہ واضح نہیں کرتے کہ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے تناظر میں اس قید کا عملی فائدہ کیا ہے، کیونکہ وہ کوئی ایسی مثال بیان نہیں کرتے جس میں سنت کی بیان کردہ تخصیص اصل کلام کے لیے قابل احتمال نہ ہو۔ ان کے فریم ورک میں قرآن کے بیان کا تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونے یا نہ ہونے کا سوال سنت سے قطع نظر کرتے ہوئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا، کیونکہ سنت میں وارد تخصیص ہی دراصل یہ طے کرتی ہے کہ قرآن کا بیان محتمل ہے یا نہیں۔ ایسی صور ت میں اصل کلام کے کسی تخصیص کے لیے قابل احتمال ہونے یا نہ ہونے کا نکتہ کیا فرق پیدا کرتا ہے، اس کی کوئی وضاحت امام شافعی نہیں کرتے۔

امام شافعی اس سوال سے بھی کوئی تعرض نہیں کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل حکم کے مبنی بر خصوص ہونے کا علم کیسے ہوا؟ آیا اس کا علم آپ کو مستقل وحی کے ذریعے سے دیا گیا یا سابقہ حکم ہی میں اس کے دلائل و قرائن موجود تھے؟ اگر حکم کے خاص ہونے کے لسانی یا عقلی قرائن خود قرآن میں موجود تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی قرائن وشواہد سے یہ بات اخذ کی تو زبان کی ابانت وبلاغت یہ تقاضا کرتی ہے کہ تخصیص کے ان قرائن کا فہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص نہ ہو، بلکہ زبان کا معیاری اور عمدہ ذوق رکھنے والے اصحاب علم بھی ان قرائن کی مدد سے اسی نتیجے تک پہنچ سکیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں تو اس تخصیص کے قرائن نہیں رکھے تھے، لیکن حکم کے مبنی بر خصوص ہونے کی وضاحت کسی الگ وحی کے ذریعے سے کی گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلام کے مدعا و مفہوم کے ابلاغ کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ کیا قرآن کی زبان اس کی متحمل نہیں تھی کہ اس تخصیص کے قرائن یا اشارات کو اپنے اندر سمو سکتی؟ اس معروف اور مانوس طریقے کو چھوڑ کر ایک ایسا انداز اختیار کرنے کی حکمت کیا ہو سکتی ہے جو الجھن پیدا کرنے کا موجب ہو؟

امام شافعی کے استدلال کے یہ وہ خلا تھے جن کے پیش نظر ان کے بعد ان کے موقف سے اصولی اتفاق کرنے والے مکتب فکر، یعنی جمہور اصولیین میں اس حوالے سے دو مختلف رجحانات سامنے آئے۔ ان میں سے ایک رجحان کا نمایندہ پانچویں صدی ہجری کے ممتاز ظاہری فقیہ علامہ ابن حزم الاندلسی کو قرار دیا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرے رجحان کی نمایندگی جمہور اصولیین کے مواقف میں ہوئی ہے۔ ان دونوں رجحانات میں امام شافعی کے پیش کردہ موقف اور استدلال میں بعض اہم تنقیحات اور اضافے شامل ہوئے ہیں جنھیں پیش نظر رکھنا بحث کے تاریخی ارتقا کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

[باقی]

____________