قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۸) (2/2)


قرآن کے حکم سے سنت کے نسخ کی مثالوں میں ابن حزم نے ان تمام واقعات کو بھی شمار کیا ہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ گستاخی کرنے یا آپ کو نقصان پہنچانے والے مختلف کافروں کو معاف کر دیا اور ان کے خلاف داروگیر نہیں کی۔ مثلاً ایک موقع پر ایک یہودی عورت نے آپ کو کھانے میں زہر ملا کر دے دیا۔ ایک اور موقع پر ایک یہودی نے آپ پر جادو کیا جس کے اثرات آپ کے روز مرہ معمولات پر مرتب ہونے لگے۔ اسی طرح یہودیوں کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ جب آپ کی مجلس میں آتے تو شرارت سے 'السلام علیک'کے بجاے 'السام علیک'کے الفاظ کہہ کر آپ کو بددعا دیتے تھے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ کافروں سے درگذر کرنے اور انھیں معاف کرنے کا یہ حکم سورۂ توبہ میں کفار سے جزیہ وصول کرنے اور انھیں ذلیل کر کے مسلمانوں کا محکوم بنانے کے حکم سے منسوخ ہو چکا ہے (المحلی ۱۱/ ۴۱۷)۔

۱۲۔ سنت سے قرآن اور قرآن سے سنت کے نسخ کے جواز کا قائل ہونے کے باوجود ابن حزم اس پر اصرار کرتے ہیں کہ دو حکموں میں نسخ کا تعلق قائم کرنا اسی صورت میں درست ہے جب ایسا کرنا ناگزیر ہو، یعنی دونوں کا باہمی تعارض ناقابل حل ہو اور یقینی دلائل کی روشنی میں ایک کو ناسخ مانے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔

مثال کے طور پر قرآن مجید میں زانی مرد اور عورت کو سو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن حزم کے نزدیک یہ حکم تمام زانیوں کے لیے عام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں زانی کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی۔ اس کے علاوہ عبادہ بن صامت کی روایت میں بھی دونوں طرح کے زانیوں کی سزا میں سو کوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ امام شافعی ماعز اسلمی کے واقعے کی روشنی میں شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ تاہم ابن حزم کو اس سے اتفاق نہیں۔ ان کی راے میں ماعزکے واقعے میں کوڑوں کا ذکر نہ ہونا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ اسے واقعتاً کوڑے نہیں لگائے گئے تھے۔ گویا ابن حزم اسے عدم ذکر کی مثال سمجھتے ہیں جس سے عدم ثبوت اخذ نہیں کیا جا سکتا، جب کہ جس روایت میں کوڑے نہ لگائے جانے کی تصریح ہے، ابن حزم کے نزدیک وہ ساقط الاعتبار روایت ہے۔ برسبیل تنزل ابن حزم کہتے ہیں کہ اگر ماعز کو واقعتاً کوڑے نہ لگائے گئے ہوں تو پھر ممکن ہے کہ یہ واقعہ سورۂ نورکے نزول سے پہلے کا ہو، جب کہ اس کے بعد سورۂ نورمیں کسی فرق کے بغیر ہر زانی کو سو کوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ہو (احکام الاحکام ۲/ ۶۷- ۶۸)۔

رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے مسئلے میں ابن حزم نے اس اصول کا انطباق یوں کیا ہے کہ یہ بات معلوم ہے کہ ابتداے اسلام میں والدین اور اقربا کے متعلق ترکے میں وصیت کرنا واجب نہیں تھا۔ پھر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اقربا کے لیے وصیت کرنے کو فرض قرار دیا۔ اس کے بعد سورۂ نساء میں وراثت میں والدین اور بعض اقربا کے حصے مقرر کر دیے گئے، جب کہ آیت وصیت کے تحت ان کے حق میں ایک تہائی مال میں سے وصیت کرنے کا حکم بھی باقی رہا۔ ابن حزم، احکام میراث کو آیت وصیت کے لیے ناسخ نہیں سمجھتے اور ان کا کہنا ہے کہ ازروے میراث ترکے میں حصہ ملنے اور ازروے وصیت مال کا حق دار ہونے میں کوئی تضاد نہیں اور یہ دونوں بیک وقت قابل عمل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد جن اقربا (یعنی والدین، اولاد اور زوجین وغیرہ) کے باقاعدہ حصے شریعت میں طے کر دیے گئے ہیں، ان کے حق میں وصیت کی اجازت سنت کے ذریعے سے منسوخ کر دی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'لا وصیة لوارث' کے الفاظ سے اس کی وضاحت فرما دی۔ البتہ یہ تنسیخ چونکہ صرف وارث بننے والے اقربا کے حوالے سے ہے، اس لیے ایسے اقربا جن کا ترکے میں کوئی متعین حصہ مقرر نہیں کیا گیا، ان کے لیے وصیت کرنا سابقہ حکم کے تحت اب بھی فرض ہے اور اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا (احکام الاحکام ۴/ ۹۲، ۱۱۳- ۱۱۴) ۔

۱۳۔ کسی حکم کے نسخ کی تحقیق کا ایک اہم اصول ابن حزم کے نزدیک یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ اباحت اصلیہ کے معارض ہے یا اس کے مطابق۔ چنانچہ اگر نصوص میں دو متعارض احکام وارد ہوں اور ان میں سے ایک اباحت اصلیہ کے مطابق اور دوسرا اس کے خلاف ہو تو دوسرے حکم کا ناسخ ہونا یقینی ہے اور اس ضمن میں نصوص کے زمانی تقدم وتاخر کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ اس اصول کے اطلاق میں بھی ابن حزم، اپنے بنیادی تصور کے مطابق، آیت، حدیث مشہور اور خبر واحد کو ایک ہی درجے میں رکھتے ہوئے بعض مثالوں میں اخبار آحاد کو قرآن کے حکم کا ناسخ قرار دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر مختلف احادیث میں بیان ہوا ہے کہ دودھ چھڑوا دینے کے بعد، یعنی مدت رضاعت گزر جانے کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ تاہم ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ حذیفہ کے منہ بولے بیٹے سالم کو، جو بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے، دودھ پلا دیں اور ایسا کرنے سے سالم ان کا رضاعی بیٹا بن جائے گا اور اس سے غیر محرم کی طرح پردہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جمہور فقہا مذکورہ نصوص کی روشنی میں اس واقعے کو سالم کی خصوصیت پر محمول کرتے ہوئے رضاعت سے متعلق شریعت کا اصل حکم اسی کو قرار دیتے ہیں کہ وہ بچے کی دودھ پینے کی عمر میں، یعنی دو سال کے اندر پلایا گیا ہو، لیکن ابن حزم کی راے یہاں جمہور سے مختلف ہے اور وہ سالم کے واقعے کی روشنی میں بلوغت کی عمر میں دودھ پینے کو بھی حرمت رضاعت کے ثبوت کا موجب مانتے ہیں۔

اس بحث میں بعض اہل علم نے مدت رضاعت کی تحدید بیان کرنے والی احادیث کو سالم کے مذکورہ واقعہ کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔ ابن حزم اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ اگر نسخ کے اصول پر متعلقہ نصوص کی تشریح کی جائے تو مذکورہ احادیث نہیں، بلکہ سالم کا واقعہ ان احادیث کے لیے ناسخ ہے، کیونکہ اباحت اصلیہ کے معارض ہونے کے لحاظ سے یہ حکم سب سے آخری حکم بنتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اصولاً رضاعت، کسی قسم کی حرمت کا موجب نہیں ہو سکتی، لیکن شریعت نے اباحت اصلیہ کے اس حکم کو تبدیل کر کے رضاعت کو موجب حرمت قرار دیا اور رضاعت کی مدت دو سال مقرر کی۔ یوں اباحت اصلیہ کا دائرہ ایک درجے تک محدود کر دیا گیا۔ اگر اس مسئلے سے متعلق صرف یہی نصوص ہوتے تو حرمت رضاعت کو دو سال تک محدود قرار دینا ہی آخری حکم ہوتا۔ تاہم سالم کے واقعے میں بلوغت کی عمر میں دودھ پلانے سے حرمت رضاعت کا اثبات، اباحت اصلیہ کے دائرے کو مزید محدود کر دیتا ہے اور کسی بھی عمر میں دودھ پینے کو موجب حرمت قرار دیتا ہے۔ یوں اباحت اصلیہ کے خلاف ہونے کے پہلو سے یہی حکم زمانی ترتیب کے لحاظ سے آخری حکم بنتا ہے، اس لیے یہ مدت رضاعت کی تحدید کا ناسخ ہے (احکام الاحکام ۳/ ۱۳۳۔ ۴/ ۸۷- ۸۸۔ ۷/ ۱۱- ۱۲)۔

ابن حزم، جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، ازروے میراث ترکے میں حصہ نہ پانے والے اقربا کے حق میں وصیت کی فرضیت کے علیٰ حالہٖ قائم ہونے کے قائل ہیں۔ تاہم عمران بن حصین کی ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک شخص نے والدین واقربا کے متعلق وصیت کیے بغیر اپنے چھ غلاموں کو مرنے کے بعد آزاد قرار دے دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وصیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک تہائی تک محدود کر دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین واقربا کے حق میں وصیت کرنا واجب نہیں۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ چونکہ یہ حدیث اباحت اصلیہ کے حکم کے مطابق ہے، اس لیے اسے قرآن میں وصیت کی فرضیت سے زمانی طور پر متقدم اور منسوخ تصور کیا جائے گا، الاّ یہ کہ کوئی واضح اور صریح دلیل مل جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ وصیت کی فرضیت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ تھا (احکام الاحکام ۴/ ۸۶)۔

نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم کے ہاں بھی بہت نمایاں طورپر دکھائی دیتا ہے، چنانچہ وہ اصولاً یہ ماننے کے باوجود کہ کسی دوسری نص یا یقینی اجماع سے یہ واضح ہو جانے پر کہ نص کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، اسے ترک کیا جا سکتا ہے، عملاًبہت سی مثالوں میں نص کے ظاہری مفہوم کے مراد ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور تاویل کے ذریعے سے اسے ظاہری مفہوم سے صرف کرنے یا اس کی غیر متبادر توجیہ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، حالانکہ دوسری نص کی صورت میں اس کی بنیاد موجود ہوتی ہے (احکام الاحکام ۳/ ۴۱) ۔

قرآن کی ظاہری دلالت میں عدم تاویل کا رجحان

اس رجحان کے تحت ابن حزم نے کئی اہم مثالوں میں قرآن کو اس کے ظاہری مفہوم سے صرف کر کے حدیث میں وارد حکم پر محمول کر نے کے نکتے پر امام شافعی اور جمہور فقہا سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاً وہ امام شافعی اور بعض اصولیین کے اس موقف سے اختلاف کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ' (النور ۲۴ : ۲) سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی ہیں، اور الفاظ کے بظاہر عام ہونے کے باوجود ان کی حقیقی مراد حدیث سے واضح ہوتی ہے جس میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے۔ ابن حزم اس راے پر سخت تنقید کرتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں زانی کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی، اس لیے یہ حکم تمام زانیوں کے لیے عام ہے اور شادی شدہ زانی بھی کوڑوں کی سزا کے حق دار ہیں (احکام الاحکام ۴/ ۱۱۲)۔ جہاں تک شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا تعلق ہے تو وہ ایک الگ اور زائد حکم ہے جس کی وضاحت دوسری نص میں کی گئی ہے اور یوں ایسے زانی کا حکم، ابن حزم کے اصول کے مطابق، دونوں نصوص کو ملا کر متعین کیا جائے گا۔ گویا اس کی سزا کا ایک حصہ، جو ہر طرح کے زانیوں کی مشترک سزا ہے، قرآن نے بیان کیا ہے، جب کہ اس کے علاوہ رجم کی زائد سزا حدیث میں بیان کی گئی ہے۔

اسی طرح وہ امام شافعی کی اس راے سے متفق نہیں کہ قرآن مجید میں اگرچہ 'ذِي الْقُرْبٰي' (الانفال ۸: ۴۱) کی تعبیر عام ہے، لیکن حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب ہیں۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ ذی القربیٰ کے مفہوم میں یہ تخصیص قرآن کو اس کے ظاہر سے صرف کرنا ہے جو درست نہیں، اس لیے ذی القربیٰ سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری تھی اور آیت کے الفاظ اپنے ظاہری عموم کے لحاظ سے ان سب کو شامل ہیں (احکام الاحکام ۳/ ۱۲۸)۔

نص کے ظاہری مفہوم میں تاویل نہ کرنے کے اصول کے تحت ابن حزم آیت وضو کی تفسیر میں بھی جمہور فقہا سے اختلاف اور اس پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ جمہور فقہا 'وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ' (المائدہ ۵ : ۶) کو قریبی عامل، یعنی 'وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ' کا معمول ماننے کے بجاے 'فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ' سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ ابن حزم کے نزدیک یہ تاویل جملے کی ترکیب اور الفاظ کی ظاہری دلالت کے بالکل خلاف ہے، چنانچہ وہ سنت میں پاؤں کو دھونے کے حکم کو اس آیت کی تفسیر کے بجاے اس کا ناسخ قرار دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

ومما نسخت فیہ السنة القرآن قولہ عزوجل: ''وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَي الْكَعْبَيْنِ''، فإن القراءة بخفض أرجلکم وبفتحھا کلاھما لا یجوز إلا أن یکون معطوفًا علی الرؤس في المسح ولا بد، لأنہ لا یجوز البتة أن یحال بین المعطوف والمعطوف علیہ بخبر غیر الخبر عن المعطوف علیہ، لأنہ إشکال وتلبیس وإضلال لا بیان، لا تقول: ضربت محمدًا وزیدًا ومررت بخالد وعمرًا وأنت ترید أنک ضربت عمرًا أصلًا، فلما جاءت السنة بغسل الرجلین صح أن المسح منسوخ عنھما.(احکام الاحکام ۴/ ۱۱۲- ۱۱۳)''سنت نے قرآن کے جو احکام منسوخ کیے ہیں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ اپنے سروں پر اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں پر مسح کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ'اَرْجُلَكُمْ'کو زیر کے ساتھ پڑھا جائے یا زبر کے ساتھ، دونوں صورتوں میں وہ بہرحال سر کا مسح کرنے کے حکم پر ہی معطوف ہو سکتا ہے، کیونکہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان ایک ایسا جملہ لانا جس سے معطوف علیہ کا تعلق نہ ہو، جائز نہیں، بلکہ بات کو الجھانے، تلبیس پیدا کرنے اور بھٹکانے کا طریقہ ہے نہ کہ بات کو واضح کرنے کا۔ تم ہرگز یوں نہیں کہہ سکتے کہ 'ضربت محمدًا وزیدًا ومررت بخالد وعمرًا'جب کہ تمھاری مراد یہ ہو کہ تم نے (محمد اور زید کے ساتھ) عمرو کو بھی مارا۔ چنانچہ جب سنت میں پاؤں کو دھونے کا حکم وارد ہوا تو معلوم ہو گیا کہ پاؤں پر مسح کرنے کا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے۔''

صفا ومروہ کی سعی کے وجوب کے شرعی ماخذ کی تعیین میں ابن حزم کا نقطۂ نظر امام طحاوی سے ہم آہنگ ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت 'فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا' (البقرہ ۲: ۱۵۸) سے اس کا وجوب ثابت نہیں ہوتا اور الفاظ اس استدلال کے ہرگز متحمل نہیں ہیں۔ سعی کے وجوب کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جو ابو موسیٰ اشعری نے روایت کی ہے اور اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو حج یا عمرے میں سعی کو فرض قرار دینا ممکن نہ ہوتا (احکام الاحکام ۳/ ۳۸)۔

حالت امن میں نماز قصر کرنے کی رخصت کی توجیہ میں بھی ابن حزم کی راے امام طحاوی کی راے سے متفق ہے۔ چنانچہ وہ قرآن میں 'اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا' (النساء ۴ : ۱۰۱) کی قید کو اتفاقی قرار نہیں دیتے، بلکہ مقصود سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ رخصت واقعتاً اسی شرط کے ساتھ دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ایک مستقل حکم کے ذریعے سے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے علاوہ نازل ہونے والی وحی میں بتایا گیا، اس شرط کو ختم کر کے رخصت کی توسیع ہر طرح کے سفر تک کر دی گئی۔ سیدنا عمر کو چونکہ اس نئے حکم کا علم نہیں تھا، اس لیے انھیں اشکال ہوا اور ان کے دریافت کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک صدقہ ہے، اسے قبول کرو (احکام الاحکام ۷/ ۱۹) ۔

حاملہ بیوہ کی عدت کے مسئلے میں بھی ابن حزم نے اسی رجحان کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ جمہور فقہا کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کرتے کہ سورۂ طلاق میں 'وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ' (۶۵: ۴) کی آیت ہر طرح کی حاملہ کے لیے عام ہے اور اس نے سورۂ بقرہ (۲: ۲۳۴ ) میں بیوہ کے لیے بیان کی گئی چار ماہ دس دن کی عدت کو حاملہ کے حق میں منسوخ کر دیا ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ سورۂ طلاق میں ابتدا سے آخر تک صرف مطلقہ خواتین کے احکام زیر بحث ہیں اور سورہ کی ابتدا میں 'اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ' اور آیت ۶ میں 'اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ' کے علاوہ زیر بحث حکم سے بالکل متصل سابقہ جملے 'وَالّٰٓـِٔيْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ' سے یہ بالکل واضح ہے، اس لیے اس آیت سے حاملہ کے لیے کوئی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ابن حزم کے نزدیک حاملہ بیوہ کی عدت کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے جو آپ نے سبیعہ اسلمیہ کے واقعے میں فرمایا اور بچے کی پیدایش کو عدت کا خاتمہ قرار دیا (المحلی ۱۰/ ۲۹)۔ گویا ابن حزم اسے قرآن سے زائد ایک مستقل حکم تصور کرتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے بتایا گیا۔

قرآن کے ظاہر سے غلط استدلال پر تنقید

تاہم ابن حزم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بعض مثالوں میں اہل علم آیت کے ظاہر سے ایسا مفہوم مراد لے لیتے ہیں جو حقیقتاً مراد نہیں ہوتا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے احادیث کو قرآن کے معارض سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں۔

مثلاً بعض فقہا نے 'وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً' (النحل ۱۶: ۸) سے یہ اخذ کیا ہے کہ ان جانوروں پر صرف سواری جائز ہے اور ان کا گوشت حلال نہیں، جب کہ اس آیت میں سرے سے ان کے گوشت کے حلال ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعرض ہی نہیں کیا گیا، کیونکہ یہاں ان جانوروں کے کچھ خاص فوائد کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے کچھ دوسرے فوائد نہیں ہو سکتے جن کا ذکر کسی دوسری نص میں کیا گیا ہو (احکام الاحکام ۲/ ۲۴- ۲۵)۔

اسی طرح بعض فقہا قرآن مجید کی ان آیات کی بنیاد پر جن میں نکاح، طلاق یا مالی لین دین کے معاملے میں دو گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، (البقرہ ۲: ۲۸۲۔ الطلاق ۶۵: ۲) اس روایت کو رد کر دیتے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم پر فیصلہ کرنا بیان ہوا ہے، حالانکہ مذکورہ آیات میں اہل ایمان کو اپنے معاملات میں دو گواہ مقرر کرنے کا کہا گیا ہے، نہ کہ ان معاملات میں قاضی کے لیے فیصلہ کرنے کا کوئی طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ گویا یہ آیات عدالت سے متعلق نہیں ہیں اور نہ ہی حاکم کو پابند کرتی ہیں کہ وہ لازماً دو گواہوں کی گواہی پر ہی فیصلہ کرے (احکام الاحکام ۸/ ۱۴۳)۔

قرآن مجید کی آیت 'وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ' (الانعام ۶: ۱۴۱) سے زکوٰۃ، یعنی عشر کے وجوب پر استدلال بھی ابن حزم کی راے میں اسی نوعیت کا ہے، کیونکہ اس آیت میں زکوٰۃ کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ عین فصل کی کٹائی کے دن تمام متعلقہ تفصیلات کو ملحوظ رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا اور دوسری دلیل یہ ہے کہ عشر کے احکام مدنی دور میں بیان کیے گئے تھے، جب کہ زیربحث آیت مکی ہے (احکام الاحکام ۸/ ۱۴۳)۔

ابن حزم قصاص کے قانون میں مسلمان اور غیر مسلم کے مابین مساوات کے حق میں قرآن مجید کی آیات 'النَّفْسَ بِالنَّفْسِ' (المائدہ ۵: ۴۵) اور 'وَالْحُرُمٰتُ قِصَاص' (البقرہ ۲: ۱۹۴) سے استدلال کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آیات میں مسلمانوں کے باہمی قصاص کا حکم بیان کیا گیا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ 'النَّفْسَ بِالنَّفْسِ' کی آیت میں قصاص کا حکم بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قصاص کے معاف کر دینے کی ترغیب دی اور اسے گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح 'وَالْحُرُمٰتُ قِصَاص' جس سلسلۂ بیان میں آئی ہے، اس میں بھی اہل ایمان ہی مخاطب ہیں، چنانچہ ان آیات کو عموم پر محمول کر کے ان سے غیر مسلم کے قصاص کا حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا (المحلی ۱۰ /۳۵۱)۔

مدت رضاعت کی تحدید کے مسئلے میں بھی ابن حزم نے یہ انداز استدلال اختیار کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال بیان کی گئی ہے (البقرہ ۲: ۲۳۳۔ لقمان ۳۱: ۱۴)۔ جمہور فقہا اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہی رضاعت موجب حرمت ہے جو بچے کی دودھ پینے کی عمر میں یعنی دو سال کے اندر ہو، اور اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں بیان ہوا ہے کہ دودھ چھڑوا دینے کے بعد، یعنی مدت رضاعت گزر جانے کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ پہلے ہماری راے بھی یہی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے رضاعت کو موجب حرمت قرار دیا اور اس کے ساتھ ماؤں کو دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کی ترغیب دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی رضاعت حرمت کی موجب ہے جو اس مدت کے اندر ہو۔ تاہم غور کرنے سے واضح ہوا کہ جن نصوص میں اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی مدت دو سال بیان کی ہے، وہاں مقصود حرمت رضاعت کا مسئلہ بیان کرنا نہیں، بلکہ ماؤں کو ترغیب دینا ہے کہ وہ دو سال تک بچوں کو دودھ پلانے کا اہتمام کریں۔ اس کا حرمت رضاعت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں اور اسی لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے حرمت رضاعت کا ذکر فرمایا ہے، وہاں دو سال کی قید مذکور نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم کسی زمانی قید کے ساتھ مقید نہیں (المحلی ۱۰/۲۲۔ احکام الاحکام ۳/ ۱۳۳۔ ۴/ ۸۷- ۸۸۔ ۷/ ۱۱- ۱۲)۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے جن میں دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت کو غیر معتبر کہا گیا ہے تو ابن حزم کے نزدیک ان میں سے بعض احادیث سنداً ضعیف ہیں، جب کہ ایک حدیث، یعنی 'إنما الرضاعة من المجاعة' (دودھ پینا وہ معتبر ہے جو بھوک مٹانے کے لیے ہو) کے الفاظ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا، کیونکہ بالغ مرد بھی اسی طرح دودھ پینے سے بھوک مٹا سکتا ہے جیسے بچہ مٹا سکتا ہے، اس لیے یہ حدیث اپنے عموم کے لحاظ سے اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بھی عمر میں پانچ دفعہ عورت کا دودھ پینے سے رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے (المحلی ۱۰/ ۲۳- ۲۴)۔

ظاہری مفہوم میں تاویل کا رجحان

ابن حزم کا خود اپنا بیان کردہ اصول، جیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ظاہری دلالت کو برقرار رکھنے کا ہے اور بیان کردہ متعدد مثالوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ امام شافعی کے اس رجحان سے اختلاف رکھتے ہیں کہ اگر احادیث میں قرآن کے ظاہری مفہوم سے مختلف کوئی بات بیان ہوئی ہو تو قرآن کی آیت کو بھی اسی مفہوم پر محمول کر لیا جائے جو حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ اس کے بجاے ابن حزم تطبیق کا ایسا طریقہ اختیا رکرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں قرآن کا ظاہری مفہوم اپنی جگہ برقرار رہے، جیسا کہ 'اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ '،'ذِي الْقُرْبٰي'، 'فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا' اور 'اِنْ خِفْتُمْ' کی مثالوں سے واضح ہے۔ تاہم بعض مثالوں میں ابن حزم کے ہاں ایسا زاویۂ نظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے جو امام شافعی کے قریب تر ہے، یعنی قرآن کے الفاظ کی ایسی تفسیر کرنا جو اس کی ظاہری دلالت پر نہیں، بلکہ اصلاً احادیث پر مبنی ہے۔ اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

ابن حزم لکھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ظاہر کے لحاظ سے جہاد خواتین پر بھی فرض ہے، کیونکہ وہ بھی قرآن کے جملہ احکام کی مخاطب ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ان پر فرض نہیں، بلکہ مستحب ہے (احکام الاحکام ۳/ ۸۱)۔

سورۂ طلاق میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو پابند کیا ہے کہ وہ دوران عدت میں اپنی مطلقہ بیویوں کو سکنیٰ اور نفقہ مہیا کریں (الطلاق ۶۵ : ۶)۔ یہ حکم جس سلسلہ بیان میں آیا ہے، اس میں عموم کا اسلوب بظاہر کسی فرق کے بغیر عدت کے ان احکام کو ہر قسم کی بیویوں سے متعلق قرار دیتا ہے، چاہے انھیں طلاق رجعی دی گئی ہو یا طلاق مغلظہ۔ تاہم فاطمہ بنت قیس کے واقعے میں، جنھیں ان کے شوہر نے تیسری طلاق دے دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نفقہ اور رہایش کا حق دار تسلیم نہیں کیا۔ ابن حزم یہاں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مذکورہ سلسلۂ بیان میں ذکر کیے گئے عدت کے احکام مطلقہ رجعیہ اور مبتوتہ، دونوں کے لیے ہیں، تاہم فاطمہ بنت قیس کی حدیث اس کے معارض ہے۔ یہاں تعارض کی نوعیت ایسی نہیں کہ حدیث کے حکم کو آیت کے ساتھ ملا لیا جائے، کیونکہ دونوں بظاہر متضاد ہیں۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حدیث کو آیت کے لیے ناسخ قرار دیا جائے، تاہم ابن حزم اس صورت کو بھی یہاں قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں تطبیق کی ایک صورت ممکن ہے، اور وہ یہ کہ آیت کو صرف مطلقہ رجعیہ سے متعلق قرار دیا جائے۔ لکھتے ہیں:

ومعاذ اللہ أن یحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف القرآن إلا أن یکون نسخًا أو مضافًا إلی ما في القرآن، ولیس ھذا مضافًا إلی ما في الآیة، ولا یحل أن یقال ھذا نسخ إلا بیقین لا بالدعوی فبطل ھذا القول، فإن قالوا: أراد اللہ عزوجل الرجعیات فقط قلنا: صدقتم وھذا قولنا وبرھاننا علی ذلک خبر فاطمة بنت قیس.(المحلی ۱۰/ ۲۹۳؛ نیز دیکھیے المحلی ۱۰/ ۳۳۷)

''اس بات سے خدا کی پناہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے خلاف کوئی فیصلہ کریں۔ آپ کی حدیث یا تو قرآن کی ناسخ ہو سکتی ہے یا اس کے حکم کو قرآن کے ساتھ شامل کرنا ہوگا۔ یہ حکم آیت کے ساتھ شامل نہیں کیا جا سکتا اور کسی یقینی دلیل کے بغیر محض دعوے کی بنیاد پر اسے ناسخ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے یہ قول تو باطل ہے۔ پھر اگر یہ حضرات کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں صرف مطلقہ رجعیہ کا حکم بیان کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ تم بالکل درست کہہ رہے ہو، ہمارا بھی یہی قول ہے اور اس پر ہماری دلیل فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے۔''

اس مثال میں واضح طور پر ابن حزم آیت کے ظاہری عموم کو اس لیے مطلقہ رجعیہ تک محدود کر رہے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس کی روایت کا تقاضا یہی ہے۔ یہاں ابن حزم کا حدیث کو آیت کے لیے ناسخ قرار دینے سے گریز قابل فہم ہے، کیونکہ یقینی طو رپر معلوم نہیں کہ فاطمہ کا واقعہ مذکورہ آیت کے نزول سے پہلے کا ہے یا بعد کا۔ یوں آیت اور حدیث میں تطبیق کی یہی صورت بچتی ہے کہ آیت کو صرف مطلقہ رجعیہ سے متعلق مانتے ہوئے مطلقہ مبتوتہ کے حکم کا ماخذ حدیث کو قرار دیا جائے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر کو مختلف لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ انھوں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ کوئی تنگی نہیں۔ ابن حزم اس حدیث کی روشنی میں قرآن مجید کی ہدایت 'وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰي يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ' (البقرہ ۲: ۱۹۶) کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ یہاں جانور کے اپنی قربان گاہ تک پہنچنے کا مطلب اس کا ذبح ہو جانا نہیں، بلکہ 'مَحِلّ' یہاں ظرف زمان ہے اور مراد یہ ہے کہ جب تک جانور کی قربانی کا وقت نہ آ جائے، اپنے سر نہ منڈواؤ۔ گویا یوم النحر کے داخل ہونے سے ہی، جس دن قربانی کی جاتی ہے، سر منڈوانا مباح ہو جاتا ہے، چاہے ابھی جانور کی قربانی نہ کی گئی ہو (احکام الاحکام ۳/ ۳۷)۔

آیت حج میں 'وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا' (آل عمران ۳: ۹۷) میں استطاعت کی تفسیر ابن حزم کے نزدیک یہ ہے کہ ہر وہ وسیلہ جس سے انسان حج ادا کر سکے، استطاعت میں داخل ہے۔ چنانچہ جس شخص کے پاس زاد سفر اور سواری نہ ہو، لیکن وہ جسمانی طور پر طاقت ور ہو، اس پر اور جو شخص اپاہج اور اندھا ہو، لیکن مال دار ہو اور کسی کو اپنی طرف سے حج پر بھیج سکتا ہو، اس پر یکساں حج فرض ہے اور آیت کے الفاظ کے عموم کے علاوہ بنو خثعم کی خاتون کے سوال کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (احکام الاحکام ۷/ ۴۰)۔ اس مثال میں ابن حزم نے امام شافعی ہی کی تفسیر کو قبول کیا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ امام شافعی نیابتاً حج کی استطاعت کو آیت کے متبادر مفہوم کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے حدیث میں وارد تبیین کا نتیجہ تصور کرتے ہیں، جب کہ ابن حزم کے خیال میں آیت اپنی ظاہری دلالت ہی کے لحاظ سے استطاعت کی مذکورہ دونوں صورت کو شامل ہے اور حدیث محض اس ظاہری دلالت کی موید ہے۔

وراثت کی آیات میں 'مِنْۣ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَا٘ اَوْ دَيْنٍ' (النساء ۴: ۱۱) کی تفسیر ابن حزم نے یوں کی ہے کہ یہاں قرض سے مراد ہر قسم کا قرض ہے، چاہے وہ مالی قرض کی صورت میں ہو یا مرنے والے کے ذمے فرض عبادات کی صورت میں۔ یہاں ابن حزم کے پیش نظر بنیادی طور پر وہ حدیث ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کی طرف سے حج کرنے یا روزہ رکھنے کو یہ فرما کر درست قرار دیا کہ اگر میت کی طرف سے بندوں کا قرض چکایا جا سکتا ہے تو اللہ کا قرض اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے (احکام الاحکام ۷/ ۱۰۵)۔

یہاں بھی ابن حزم آیت کی تفسیر کا طریقہ تو وہی اختیار کرتے ہیں جو امام شافعی کا ہے، لیکن اصولی طور پر امام شافعی کے انداز استدلال کو قبول نہیں کرتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ آیت کا ظاہری مفہوم تو یہ ہے، لیکن احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی مراد یہ ہے۔ ابن حزم کو اصرار ہے کہ مذکورہ مثالوں میں انھوں نے آیا ت کا جو مفہوم بیان کیا ہے، وہی ان کا ظاہری مفہوم ہے اور کسی قسم کی تاویل پر مبنی نہیں ہے۔

آیت کو اس کے ظاہری مفہوم سے ہٹانے کی نسبتاً زیادہ دلچسپ مثال ابن حزم نے 'يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ' (النور ۲۴ : ۴) کی تفسیر میں پیش کی ہے۔ ابن حزم چونکہ شرعی احکام کے مبنی بر علت ہونے اور نتیجتاً قیاس کے ذریعے سے قابل تعدیہ ہونے کے قائل نہیں، اس لیے قذف کی سزا کے حوالے سے انھیں یہ الجھن درپیش ہے کہ قرآن نے اس کا ذکر صرف پاک دامن خواتین کے حوالے سے کیا ہے۔ اتفاق سے مرفوع احادیث میں بھی ایسا کوئی واقعہ روایت نہیں ہوا جس میں کسی مرد پر بدکاری کا الزام لگانے والے کو قذف کی سزا دی گئی ہو۔ چنانچہ ابن حزم کے اصول کے مطابق قذف کی سزا کا نفاذ صرف خواتین پر الزام کی صورت میں ہونا چاہیے اور چونکہ قیاس درست نہیں، اس لیے علت کی روشنی میں کسی مرد پر الزام لگائے جانے کی صورت میں یہ سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ نتیجہ چونکہ بدیہی طور پر غیر معقول ہے، اس لیے ابن حزم لفظ کے ظاہری مفہوم میں اس طرح تاویل کرتے ہیں کہ اس حکم کے دائرۂ اطلاق میں مرد بھی شامل ہو جائیں، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ یہاں 'المحصنات' کا موصوف 'النساء' نہیں، بلکہ 'الفروج' ہے، کیونکہ اصل میں تو شرم گاہ ہی قابل حفاظت ہوتی ہے اور بدکاری کا الزام بھی شرم گاہ کے حوالے سے ہی عائد کیا جاتا ہے۔ یوں اگر 'المحصنات' سے مراد ''پاک دامن عورتیں '' کے بجاے ''پاک دامن شرم گاہیں '' ہو تو اس میں مرد بھی شامل ہو جاتے ہیں اور قیاس کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہاں بھی ابن حزم اس پرتکلف تاویل کے باوجود اصرار کرتے ہیں کہ انھوں نے آیت کا بالکل واضح اور ظاہر مفہوم مراد لیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں کی (احکام الاحکام ۷/ ۸۷۔ المحلی ۱۱/ ۲۷۰)۔

حاصل بحث

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں علامہ ابن حزم جمہور فقہا کے اس موقف سے پوری طرح متفق ہیں کہ قرآن کے ساتھ سنت میں وارد احکام کو غیر مشروط طور پر قبول کرنا لازم ہے اور ان دونوں مآخذ کا باہمی تعلق کسی بھی صور ت میں حقیقی تعارض سے عبارت نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس موقف کے حق میں امام شافعی نے قرآن اور سنت کی باہمی درجہ بندی کرنے اور قرآن کی مراد کو تبیین کے اصول پر سنت کی روشنی میں طے کرنے کا جو طرز استدلال اختیار کیا، ابن حزم اس پر مطمئن نہیں ہوئے، اور اس کے بجاے انھوں نے یہ نقطۂ نظر اختیار کیا کہ نصوص کے مابین کسی بھی حوالے سے درجہ بندی کرنا درست نہیں، بلکہ تمام شرعی نصوص کو وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے حکم کے اثبات اور اس کے متعلقات کی وضاحت میں یکساں درجہ دینا ضروری ہے۔ ابن حزم کا استدلال یہ ہے کہ جب ان تمام احکام کی حیثیت ایک ہی مصدر، یعنی شارع کی طرف سے دیے جانے والے احکام کی ہے تو پھر کسی بھی شرعی حکم سے متعلق وارد نصوص میں سے، چاہے وہ قرآن میں وارد ہوں یا حدیث میں، کسی خاص نص کو بنیادی اور اصل قرار دے کر یہ سوال نہیں اٹھایا جا سکتا کہ اس کے علاوہ دیگر نصوص میں حکم کے جن اضافی پہلوؤں کا ذکر ہوا ہے، وہ غیر اہم یا ثانوی ہیں یا ان سے سابقہ حکم میں کوئی تبدیلی لازم آتی ہے۔ اس بنیاد پر ابن حزم سنت سے قرآن کے اور قرآن سے سنت کے نسخ کو بھی جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ نسخ بھی ایک شرعی حکم ہے اور جب وحی ہونے میں قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں تو کسی بھی حکم کے اثبات میں قرآن یا خبر متواتر یا خبر واحد میں کسی بھی لحاظ سے فرق کرنا درست نہیں۔

چونکہ ابن حزم قرآن اور سنت کے احکام کو ایک یک جان مجموعے کے طور پر دیکھتے اور ان کے باہمی تعلق کی تفہیم کے لیے دلالت کلام اور تخصیص کے قرائن وغیرہ کی بحث کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، اس لیے کتاب اللہ کی آیات کے ظاہری مفہوم میں احادیث کی روشنی میں تاویل کے حوالے سے بھی ان کا رجحان بہت حد تک امام شافعی سے مختلف ہے اور وہ بیش تر صورتوں میں آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہٖ قائم رکھنے، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دینے کو ترجیح دیتے ہیں، البتہ بعض مثالوں میں ان کے ہاں قرآن کی آیت کا مفہوم الفاظ کی ظاہری دلالت کے بجاے احادیث کی روشنی میں متعین کرنے کا رجحان بھی ملتا ہے۔

ابن حزم کا یہ زاویۂ نظر اصول فقہ کی روایت میں کافی منفرد ہے اور انھوں نے جو منہج استدلال اختیار کیا ہے، وہ ان کی غیر معمولی ذہانت اور عبقریت کا عکاس ہے، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے منہج میں معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ کر کے دیکھنے کا پہلو نمایاں ہے اور طرز استدلال میں بنیادی کم زوریاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً 'قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا' (الانعام ۶: ۱۴۵) میں وہ ظاہری حصر کے مراد ہونے پر یہ الزامی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اس آیت کو تمام حرام چیزوں کا بیان قرار دیا جائے تو پھر پیشاب، پاخانہ اور شراب وغیرہ کو بھی حلال ماننا پڑے گا، حالانکہ سیاق وسباق سے واضح ہے کہ یہاں صرف وہ جانور زیر بحث ہیں جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے۔

اسی مثال میں، ابن حزم کے اصول کے مطابق نصوص کے زمانی تقدم یا تاخر کے سوال کو نظر انداز کر کے ان کو ایک ہی مجموعہ تصور کرنا چاہیے اور حکم کو یوں سمجھنا چاہیے کہ آیت میں مذکور چیزیں بھی حرام ہیں اور ان کے علاوہ احادیث میں جن جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے، وہ بھی حرام ہیں۔ لیکن وہ اس سامنے کے سوال سے کوئی تعرض نہیں کرتے کہ اگر احادیث میں مذکور جانور بھی عین اسی وقت حرمت کا حصہ تھے تو پھر آیت میں حصر کا اسلوب کیوں اختیار کیا گیا اور اگر انھیں بعد میں حرمت کے دائرے میں شامل کیا گیا تو آیت میں مذکورہ حصر کے ساتھ اس اضافے کا کیا تعلق بنتا ہے؟

اس مشکل کاغیر شعوری احساس ابن حزم کو بھی ہے کہ نصوص کے باہمی تعلق میں زمانی تقدم یا تاخر کے سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ جب وہ ایک نص کے عموم میں دوسری نص سے تخصیص کی نوعیت واضح کرتے ہیں تو یہ بتاتے ہیں کہ تخصیص کی یہ صورتیں ابتدا ہی سے متکلم کے ارادے میں حکم کے دائرۂ اطلاق میں شامل نہیں ہوتیں، البتہ اس بات کی وضاحت اسی نص کے بجاے دوسری نص میں کی جاتی ہے۔ یہاں ابن حزم واضح طور پر حنفی اصولیین کے اس استدلال کا وزن قبول کرتے ہوئے کہ کسی نص میں مذکور حکم پر زیادت یا اس میں تخصیص کو 'بیان' قرار دینے کے لیے اس کا زمانی لحاظ سے اصل حکم کے مقارن ہونا ضروری ہے، یہ قرار دیتے ہیں کہ احادیث میں آیات کی جو تخصیصات وارد ہوئی ہیں، ان کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیات کے نازل ہونے کے ساتھ ہی متصلاً فرما دی تھی۔

دونوں نصوص کے زمانی طور پر مقارن ہونے کی صورت میں بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ آخر حکم کا ایک حصہ وحی متلو میں اور دوسرا غیر متلو میں نازل کرنے میں کیا حکمت تھی؟ ابن حزم کو اس مفروضہ صورت کی ناموزونیت کا بھی احساس ہے، چنانچہ وہ زانی کی سزا کے بارے میں عبادہ بن صامت کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جس وحی کا حوالہ دیا ہے، وہ سورۂ نور کی آیت ہے، کیونکہ سورۂ نور کی آیت میں ان تفصیلات، یعنی شادی شدہ کو رجم کرنے اور غیر شادی شدہ کو جلا وطن کرنے کا ذکر موجود نہیں جو حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ اس مثال میں ابن حزم کے بیان کردہ اصول کے مطابق بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم کا ایک حصہ قرآن میں اور دوسرا حصہ وحی غیر متلو میں نازل کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی روشنی میں پورا حکم عبادہ بن صامت کی حدیث میں لوگوں کے سامنے واضح فرما دیا، لیکن ابن حزم اس توجیہ کو قبول نہیں کرتے جس سے واضح ہے کہ ایک ہی وقت میں نازل ہونے والے حکم کے اجزا کو اس طرح تقسیم کرنے کی کوئی حکمت ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی۔

ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ تمام نصوص کو ایک ہی درجے کا حامل فرض کر کے اور ان کے باہمی تعلق میں زمانی تقدم وتاخر کے نکتے کو غیر اہم قرار دے کر ابن حزم جس الجھن سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ان کے منہج میں بھی جوں کی توں باقی رہتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ان کا زاویۂ نگاہ اصول فقہ کی مرکزی روایت میں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا اور جمہور اصولیین نے، جیسا کہ ہم آیندہ بحث میں واضح کریں گے، امام شافعی کے طرز استدلال کی الجھنوں کو اس سے بہت مختلف انداز میں حل کرنے کو ترجیح دی جو ابن حزم نے اختیار کیا ہے۔

[باقی]

____________