قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۶) (2/2)


کتاب اللہ کے معارض روایات کی تاویل یا تنقید

کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو اس کی مستقل حیثیت میں برقرار رکھنے اور اسے احادیث کے تابع نہ کرنے کے اسی رجحان کا اظہار امام طحاوی کے ہاں ان مثالوں میں بھی ہوتا ہے جہاں وہ کتاب اللہ کے ظاہر سے متعارض روایات کی ایسی توجیہ پر اصرارکرتے ہیں جس سے کتاب اللہ کی دلالت مجروح نہ ہو، جب کہ بعض صورتوں میں وہ ایسی روایات کو کلیتاً رد بھی کر دیتے ہیں۔ امام طحاوی کی آرا میں اس کی متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں:

۱۔ فاطمہ بنت قیس کی روایت کے متعلق امام شافعی نے یہ راے ظاہر کی تھی کہ اس کا مستند طریق وہ ہے جس میں مطلقہ ثلاثہ کے لیے دوران عدت میں صرف نفقہ کی نفی کی گئی ہے، اور یہ حکم قرآن مجید کے عین مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت تو سب عورتوں کے متعلق دی ہے اور یہ حکم عام ہے، لیکن نفقہ ادا کرنے کی پابندی صرف حاملہ عورتوں کے حوالے سے لازم کی ہے۔ جہاں تک آپ کے فاطمہ کو شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم دینے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہایش مہیا کی جائے گی (الام ۶/ ۲۸۰- ۲۸۱)۔

امام طحاوی نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کی راے میں اس توجیہ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سیدنا عمر، سیدہ عائشہ اور دیگر فقہاے صحابہ وتابعین جنھوں نے فاطمہ کی روایت کو رد کیا، درحقیقت ان کی روایت کو سمجھ نہیں سکے، ورنہ وہ اس کا انکار نہ کرتے۔ ان حضرات کے انکار کا مطلب یہی بنتا ہے کہ فاطمہ کی روایت کا ظاہری مفہوم وہی تھا جو وہ خود سمجھ رہی تھیں، یعنی یہ کہ ایسی حالت میں عورت سرے سے نفقہ اور سکنی کی حق دار ہی نہیں، اور یہ بات بہرحال قرآن اور سنت کے خلاف ہے اور سیدنا عمر اور دیگر صحابہ کا اسے قبول نہ کرنے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ طحاوی لکھتے ہیں:

خالفت بذلک کتاب اللہ نصا، لان کتاب اللہ تعالیٰ قد جعل السکنی لمن لا رجعة لھا، وخالفت سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لان عمر رضی اللہ عنہ قد روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف ما روت، فخرج المعنی الذی منہ انکر علیھا عمر رضی اللہ عنہ ما انکر خروجا صحیحا، وبطل حدیث فاطمة فلم یجب العمل بہ اصلا.(شرح معانی الآثار۳/ ۷۰)

''فاطمہ نے اس روایت میں کتاب اللہ کے صریح حکم کی مخالفت کی ہے، کیونکہ اللہ کی کتاب نے ان عورتوں کو بھی رہایش کا حق دیا ہے جن سے رجوع کی گنجایش نہ ہو۔ فاطمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی بھی مخالفت کی ہے، کیونکہ سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فاطمہ کی روایت کے خلاف حکم نقل کیا ہے۔ چنانچہ جس بنیاد پر سیدنا عمر نے فاطمہ کی روایت پر اعتراض کیا، وہ بالکل درست ہے اور فاطمہ کی روایت باطل ہے جس پر عمل کرنا اصلاً واجب نہیں ہے۔''

البتہ امام طحاوی اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ فاطمہ کی روایت کی ایک احتمالی توجیہ ایسی کی جا سکتی ہے جس سے قرآن کے ساتھ اس کا تعارض ختم ہو جائے۔ اس ضمن میں وہ امام شافعی ہی کی بیان کردہ توجیہ کو وسعت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جس طرح اس بات کا امکان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو شوہر کے گھر میں رہایش نہ دلوانے کا فیصلہ اس کی تیز مزاجی اور زبان درازی کی وجہ سے فرمایا ہو، اسی طرح اسے نفقہ نہ دلوائے جانے کی وجہ بھی اسی چیز کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی چونکہ وہ ناشزہ تھی اور اپنے رویے کی وجہ سے اسے رہایش کی سہولت سے محروم کیا جا رہا تھا، اس لیے اسی اصول کے تحت اس کے شوہر کو اسے نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سے بھی بری کیا جا سکتا تھا۔ یوں یہ پورا واقعہ ایک خاص استثنائی نوعیت کا حامل بن جاتا ہے جس سے مطلقہ ثلاثہ کے لیے نفقہ وسکنی کا عمومی شرعی حکم تو اخذ نہیں کیا جا سکتا، البتہ ایک تعزیری نوعیت کے فیصلے کے طور پر اس کی توجیہ کی جا سکتی ہے (شرح معانی الآثار ۳/ ۷۱)۔

۲۔ قرآن مجید میں 'وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِيْ٘ اَرْضَعْنَكُمْ' (النساء ۴: ۲۳) کے الفاظ میں بظاہر کسی تفصیل کے بغیر بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو اس پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ تاہم احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت کیا گیا ہے کہ ایک یا دو مرتبہ (عورت کا پستان) چوسنے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی (مسلم، رقم ۱۴۵۰) ۔

امام طحاوی کے نزدیک اس روایت کی توجیہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق ابتدا میں قرآن مجید میں حرمت رضاعت کے لیے دس دفعہ دودھ پلائے جانے کی قید نازل کی گئی تھی، پھر بعد میں اسے منسوخ کر کے پانچ دفعہ دودھ پلائے جانے کو حرمت کی بنیاد قرار دیا گیا (مسلم، رقم ۳۵۹۷) ۔ امام طحاوی کی راے میں اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ (چونکہ موجودہ قرآن میں ایسی کوئی قید مذکور نہیں، اس لیے) پانچ دفعہ کی قید بھی بعد میں منسوخ کر دی گئی اور مطلقاً کسی بھی مقدار میں بچے کو دودھ پلانے کو حرمت رضاعت ثابت ہونے کا موجب قرار دیا گیا۔ طحاوی اس قیاس کی تائید میں یہ نکتہ بھی پیش کرتے ہیں کہ'لا تحرم المصة ولا المصتان'کی روایت کے ایک راوی عروہ بن زبیر بھی ہیں، لیکن ان کا اپنا فتویٰ یہ تھا کہ بچے کے ایک قطرہ دودھ پینے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ عروہ کا اپنی ہی نقل کردہ روایت کے خلاف فتویٰ دینا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ ان کے علم میں اس روایت کا منسوخ ہونا ثابت ہو چکا ہو (شرح مشکل الآثار ۱۱ /۴۸۵- ۴۸۶)۔ ایک دوسری جگہ طحاوی نے سیدہ عائشہ کی روایت کے اس جملے کو کہ 'فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھی فی ما یقرا من القرآن' (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں پڑھے جاتے تھے) کو منکر قرار دیا ہے، کیونکہ اگر یہ بات درست ہو کہ کوئی آیت قرآن مجید کا حصہ ہے، لیکن موجودہ مصحف میں شامل نہیں تو کسی بھی حکم کے بارے میں یہ امکان ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسی آیت سے منسوخ ہو چکا ہے جو مصحف میں شامل نہیں (مختصر اختلاف العلماء ۲/ ۳۱۶- ۳۱۷)۔

۳۔ سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کے متعلق ہدایت دی ہے کہ'فَاِمَّا مَنًّاۣ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً'(۴۷: ۴)، یعنی گرفتار کرنے کے بعد یا تو انھیں احسان کے طور پر بلا معاوضہ چھوڑ دیا جائے یا ان سے رہائی کے عوض فدیہ وصول کیا جائے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ آیت اپنے ظاہر کے اعتبار سے قیدیوں کو قتل کرنے سے منع کرتی ہے اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے کہ انھوں نے ایک جنگی قیدی کو اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے قتل کرنے سے انکار کر دیا۔ امام طحاوی اس آیت کی روشنی میں جمہور فقہا کے موقف سے اختلاف کرتے ہیں جو قیدی کو قتل کرنے کے جواز کے قائل ہیں اور اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے استدلال کرتے ہیں کہ آپ نے، مثال کے طور پر، جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کر دیا تھا۔ طحاوی لکھتے ہیں کہ :

وھذا لا یخلو اما ان تکون منسوخة فلا یعمل بھا او ثابتة فلا یتعداھا.(مختصر اختلاف العلماء۳/ ۴۷۹)

''اس کے متعلق یا تو یہ امکان ہے کہ یہ اجازت منسوخ ہو چکی ہے، اس لیے اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا، اور یا یہ کہ منسوخ تو نہیں ہوئی، لیکن اس خاص واقعے تک محدود ہے۔''

طحاوی کی مراد یہ ہے کہ یہ عمل یا تو منسوخ ہو چکا ہے یا ایک خصوصی واقعہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص وجہ سے ان قیدیوں کو قتل کیا، لیکن یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے۔

۴۔ قضاء بالیمین مع الشاہد کی بحث میں امام طحاوی کا موقف، ائمۂ احناف کی راے کے مطابق، یہ ہے کہ اس ضمن میں ابن عباس کی روایت باعتبار سند قابل استدلال نہیں۔ نیز یہ 'البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر' کے عمومی اصول کے علاوہ قرآن مجید کی اس ہدایت کے بھی معارض ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے قاضی کو مدعی سے دو مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں طلب کرنی چاہییں (مختصر اختلاف العلماء ۳/ ۲۴۲- ۲۴۳) ۔

۵۔ بعض احادیث میں بیوی کو اپنے مال میں سے کسی کو تحفہ دینے کے لیے شوہر سے اجازت لینے کا پابند قرار دیا گیا ہے (ابی داؤد، رقم ۳۱۴۶)۔امام طحاوی فرماتے ہیں کہ قرآن مجید اور متعدد احادیث کی روشنی میں عاقل بالغ عورت کو اپنے مال پر مکمل مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہیں اور وہ اس میں کسی بھی قسم کے تصرف کے لیے شوہر سے اجازت لینے کی پابند نہیں ہے۔ اس لیے مذکورہ روایت ایک شاذ روایت ہے جس کی وجہ سے واضح آیات اور سنت ثابتہ کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ لکھتے ہیں :

فکیف یجوز لاحد ترک آیتین من کتاب اللہ عزوجل وسنن ثابتة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متفق علی صحة مجیئھا الی حدیث شاذ لا یثبت مثلہ؟ (شرح معانی الآثار ۴ /۳۵۳)

''کسی کے لیے کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ قرآن مجیدکی دو آیتوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متفقہ طور پر صحت کے ساتھ ثابت سنت کو ایک شاذ حدیث کی وجہ سے ترک کر دے جو ثابت ہی نہیں ہے؟''

امام طحاوی نے قرآن مجید کے ساتھ موافقت کے اصول کو متعارض روایات کے مابین ترجیح قائم کرنے کے لیے بھی برتا ہے۔ مثلاً

۶۔ صلاۃ الخوف سے متعلق بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی امامت کرتے ہوئے دو رکعتیں، جب کہ صحابہ کی دونوں جماعتوں نے آپ کے پیچھے صرف ایک ایک رکعت ادا کی (ابی داؤد، رقم ۱۲۴۶- ۱۲۴۷)۔ چونکہ قرآن مجید کی رو سے حالت خوف میں نماز کو قصر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے مطابق ہر شخص کے لیے دو دو رکعتیں ادا کرنا لازم ہے، اس لیے امام طحاوی لکھتے ہیں کہ جس حدیث کو کتاب اللہ کی نص رد کرتی ہو، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا (شرح معانی الآثار ۱/ ۳۰۹) ۔

۷۔ صلاۃ الخوف ہی کی بعض روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز کی امامت کروائی کہ صحابہ کی ایک جماعت دشمن کے سامنے اور ایک آپ کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ پر تکبیر کہہ کر ابتدا ہی سے آپ کی اقتدا میں نماز میں شامل ہو گئیں، البتہ جو جماعت آپ کے پیچھے کھڑی تھی، وہ پہلی رکعت میں رکوع اور سجدے میں آپ کی اقتدا کرتی رہی، جب کہ دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی رہی (ابی داؤد، رقم ۱۲۴۰)۔ امام طحاوی لکھتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ طریقے کے مطابق دوسری جماعت کو شروع سے نہیں، بلکہ ایک رکعت ادا ہو جانے کے بعد امام کے ساتھ شریک ہونا چاہیے (النساء ۴: ۱۰۲)، جب کہ مذکورہ حدیث کے مطابق دونوں گروہ آغاز ہی سے جماعت میں شریک تھے (شرح معانی الآثار ۱/ ۳۱۵)۔

۸۔ اگر کوئی شخص حالت احرام میں ہو اور وہ کسی ایسے شخص کے شکار کیے ہوئے جانور کا گوشت کھانا چاہے جو محرم نہ ہو تو بعض احادیث میں اس کی ممانعت کی گئی ہے (مسلم، رقم ۱۱۹۳)، جب کہ بعض میں اسے مباح قرار دیا گیا ہے (ابی داؤد، رقم ۱۸۵۱)۔ امام طحاوی ان میں سے دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قرآن مجید سے حالت احرام میں آدمی کے لیے جس چیز کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، وہ جانور کو شکار کرنا ہی ہے نہ کہ شکار کا گوشت کھانا (المائدہ ۵: ۹۵- ۹۶)، اس لیے اگر کسی دوسرے شخص نے شکار کیا ہو تو محرم کے لیے اس کا گوشت کھانے کی ممانعت نہیں ہے (شرح معانی الآثار ۲ /۱۷۵)۔

حاصل بحث

سابقہ صفحات میں کتاب وسنت کے باہمی تعلق کی بحث میں فقہ وحدیث کے جلیل القدر امام، ابوجعفر الطحاوی کے اصولی رجحانات کا جائزہ اور متعدد مثالوں کی روشنی میں ان کی توضیح پیش کی گئی ہے۔ اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب وسنت کے باہمی تعلق کے سوال کے حوالے سے امام شافعی اور حنفی اصولیین نے اپنے اپنے نقطہ ہاے نظر کے حق میں جو استدلال پیش کیا، امام طحاوی ان دونوں کے وزن کو محسوس کرتے تھے جس کا اظہار ان کے ہاں بہت سی مثالوں میں امام شافعی کے اصولی موقف کی طرف، جب کہ بہت سی دوسری مثالوں میں حنفی اصولیین کے موقف کی طرف جھکاؤ کی صورت میں ہوتا ہے۔

امام طحاوی کے ہاں ان دو متخالف رجحانات کی توجیہ دونوں زاویوں سے ممکن ہے۔ اس کی یہ تعبیر بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ سنت کی تشریعی حجیت کے تناظر میں اصولی طور پر قرآن کی مراد کی تبیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دینا چاہتے ہیں، چاہے اس کے ظاہری قرائن قرآن میں موجود ہوں یا نہ ہوں، لیکن بہت سی مثالوں میں جب آیات کی ظاہری دلالت اور متعلقہ احادیث کی دلالت کو دیکھتے ہیں تو دونوں کے ظاہری تفاوت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں پاتے۔ اس مشکل کے حل کے لیے وہ ترجیحاً یہ کوشش کرتے ہیں کہ آیات اور احادیث کے باہمی تعلق کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ آیات کی ظاہری دلالت بھی برقرار رہے اور احادیث میں وارد زیادت و تخصیص کو بھی قرآن کے حکم میں تبدیلی یا نسخ کا مظہر قرار دیے بغیر اسے حکم کا حصہ بنایا جا سکے۔ یہاں تک ان کے زاویۂ نظر پر امام شافعی کا رجحان غالب رہتا ہے۔ تاہم بعض مثالوں میں وہ تطبیق وتوجیہ کے مذکورہ طریقے کو موثر نہ پاتے ہوئے کتاب وسنت کے احکام کے باہمی تعلق کی توجیہ نسخ کے اصول پر کرنے کی گنجایش بھی باقی رکھتے ہیں اور بعض مثالوں میں کتاب اللہ کے معارض ہونے کی بنا پر اخبار آحاد کو بالکل رد کر دینے کا موقف بھی اختیار کر لیتے ہیں اور یوں اپنے اصولی منہج کے اختتام پر ان کا زاویۂ نظر حنفی اصولیین کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

اس کے بالکل برعکس ان کے زاویۂ نظر کی یہ توجیہ بھی بالکل ممکن ہے کہ وہ بنیادی اصول کے طور پر حنفی فقہا کے اس موقف کو مبنی بر صواب سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید اپنی مراد کی وضاحت میں خود مستقل حیثیت رکھتا ہے اور سنت میں وارد کسی وضاحت کو قرآن کی تبیین قرار دینا اسی صورت میں درست ہے جب خود قرآن کا بیان فی نفسہٖ ذو الوجوہ اور محتمل ہو۔ اگر قرآن کا بیان بذات خود واضح ہو اور کسی پہلو سے محتاج وضاحت نہ ہو تو سنت میں وارد کسی بھی زیادت یا تخصیص کو، اگر وہ قابل اطمینان درجے میں ثابت ہو، قرآن کا بیان نہیں کہا جائے گا،بلکہ اسے نسخ اور تغییر کے اصول پر قبول کیا جائے گا۔ حنفی فقہا کے موقف سے اس اصولی اتفاق کے بعد وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف حنفی فقہا بہت سی مثالوں میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کو بالکل قطعی سمجھ رہے ہیں، حالاں کہ وہ اتنا قطعی نہیں اور دوسری طرف کئی مثالوں میں امام شافعی قرآن کے داخلی قرائن واشارات پر زیادہ توجہ دیے بغیر سادہ طور پر احادیث کو قرآن کا بیان قرار دینے کے اصول کا اطلاق کر رہے ہیں جس سے قرآن کی اپنی دلالت کی حیثیت ثانوی دکھائی دینے لگتی ہے، جب کہ ان مثالوں میں قرآن کی ظاہری دلالت میں اس گنجایش کو واضح کیا جا سکتا ہے جس سے احادیث میں وارد اضافے ظاہر قرآن کے منافی نہ رہیں۔ اس مرحلے پر ان کا جھکاؤ اصولی طور پر امام شافعی کے موقف کی طرف ہو جاتا ہے، تاہم ان کی اختیار کردہ پوزیشن میں حنفی اصولیین کے نقطۂ نظر سے بھی کوئی اصولی اختلاف رونما نہیں ہوتا۔ البتہ اس سے اگلے مرحلے پر وہ بعض مثالوں میں قرآن کے بیان میں تخصیص کے داخلی قرائن کی وضاحت یا، متبادل امکان کے طور پر، سنت کے احکام کو قرآن کے ساتھ نسخ کے اصول پر متعلق کیے بغیر بالکل سادہ طور پر یہ قرار دیتے ہیں کہ قرآن کے ظاہری عموم سے اصل مراد وہی ہے جو سنت سے واضح ہوتی ہے۔ یوں ان کا اصولی موقف آخری نتیجے کے لحاظ سے امام شافعی کے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

دونوں میں سے جو بھی تعبیر زیادہ درست ہو، یہ حقیقت بہرحال واضح ہوتی ہے کہ قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث اپنی نوعیت کے لحاظ سے اتنی سادہ نہیں ہے کہ کسی ایک رجحان کے مقابلے میں دوسرے رجحان کو فیصلہ کن اور قطعی انداز میں ترجیح دی جا سکے۔ دونوں زاویوں میں ایک منطقی وزن موجود ہے جو علمی وعقلی طور پر متاثر کرتا ہے اور بحث کو سنجیدگی اور گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرنے والے اکابر اہل علم دونوں کے وزن کو محسوس کرتے ہیں۔ اس بحث سے حنفی اصولیین کے زاویۂ نظر کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے جنھوں نے امام شافعی کے، کتاب اللہ کے بیانات کو مطلقاً محتمل الدلالۃ قرار دے کر ان کی مراد کی تعیین میں احادیث کو فیصلہ کن حیثیت دینے کے موقف کے مقابلے میں قرآن کے بیانات کو، ان کی داخلی دلالت کے لحاظ سے محتمل الدلالۃ اور غیر محتمل الدلالۃ میں تقسیم کرنے اور کتاب اللہ کے ساتھ سنت کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے تبیین کے ساتھ ساتھ نسخ کے اصول کو بھی بروے کار لانے کا موقف پیش کیا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ کتاب اللہ کی دلالت کو اس کی مستقل حیثیت میں برقرار رکھا جائے اور کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو متعین کرتے ہوئے ایسا اصولی موقف اختیار نہ کیا جائے جس میں کتاب اللہ کی ظاہری دلالت کی قدر وقیمت کو کم یا غیر اہم تصور کرنے کا پہلو مضمر ہو اور جس کا نتیجہ کتاب اللہ کی مراد متعین کرنے کے سوال کو سادگی کے ساتھ احادیث کے سپرد کر دینے کی صورت میں نکلتا ہو۔ حنفی اصولیین کے اس مضبوط علمی وعقلی موقف کے وزن کو محسوس کرتے ہوئے امام طحاو ی نے اصولی طو رپر امام شافعی کے نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے بھی، اپنے دوسرے رجحان کے تحت بہت سی مثالوں میں کتاب وسنت کے تعلق کو زیادہ گہرے غور وخوض کے ساتھ اور اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے متعین کرنے کی کوشش کی کہ کتاب اللہ کی ظاہری دلالت مجروح نہ ہو اور اس میں غیر متبادر تاویلات سے کام نہ لیا جائے۔ یہ اس بحث میں امام طحاوی کا بہت اہم حصہ (contribution) ہے جو بجا طورپر انھیں بڑے اصولی نظریہ سازوں کی صف میں کھڑا کرتا ہے۔

[باقی]

________

[1]۔ غالباً طحاوی اس طرف متوجہ نہیں ہو سکے کہ آیت کو ظاہری مفہوم پر رکھتے ہوئے بھی شان نزول کی روایات کو درست مانا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر نشے کی حالت میں سرے سے مسجد میں آنے ہی کی ممانعت کی گئی ہو تو اس سے نماز کی ممانعت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔

____________