قرآن وسنت کا باہمی تعلق: اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۲)


شاہ ولی اللہ کا زاویۂ نظر

سابقہ فصل میں ہم نے امام شاطبی کے نظریے کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کے مطابق تشریع میں مخصوص مقاصد اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے جن کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے۔ شاطبی نے تشریع کے عمل کو ایک منضبط اور مربوط پراسس کے طور پر دیکھتے ہوئے، جس کے واضح مقاصد اور متعین اصول کلیہ اپنی جگہ ثابت ہیں ، قرآن اور سنت، دونوں کا کردار اس طرح واضح کیا ہے کہ یہ دونوں مآخذ ایک ہی طرح کے مقاصد کے لیے اور ایک جیسے اصولوں کے تحت تشریع کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

شاطبی نے مقاصد شرعیہ اور اصول تشریع کی بحث کو جو شکل دی تھی، بارھویں صدی ہجری میں برصغیر کے مایہ ناز عالم شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: ۱۱۷۶ھ) نے کئی اہم ترمیمات اور اضافوں کے ساتھ اسے ایک نیا فریم ورک دیا، جس کے اثرات قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال پر بھی پڑتے ہیں ۔ شاہ ولی اللہ نے حنفی اصولیین کے ہاں معروف فریم ورک میں بھی قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث کے بعض گوشوں سے تعرض کیا ہے جس کی کچھ مثالیں آیندہ سطور میں پیش کی جائیں گی، لیکن انھوں نے اس پوری بحث کو بنیادی طور پر ایک مختلف زاویے سے دیکھا ہے جس کا بنیادی نکتہ عمل تشریع کے بنیادی اصولوں کی وضاحت اور اس عمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت، یعنی آپ کے تشریعی اختیار کی نوعیت کی تفہیم ہے۔ مقاصد شرعیہ اور مصالح کلیہ کی روشنی میں تشر یعی عمل کی تکمیل کا تصور، جیسا کہ واضح کیا گیا، امام شاطبی کے ہاں بھی موجود ہے اور اس حد تک شاہ صاحب کے فریم ورک کی اساسات کو امام شاطبی کے ساتھ مشترک قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ان اساسات کے تحت قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو متعین کرنے کا منہج اپنی تفصیلات میں شاہ صاحب کے ہاں شاطبی سے کافی مختلف ہے۔

ذیل میں شاہ صاحب کے زاویۂ نظر کے بنیادی پہلوؤں کی توضیح پیش کی جائے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار کی نوعیت

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تشریع بنیادی طور پر مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے اور احکام وقوانین کو وضع کرنے سے مقصود ان مصالح کی حفاظت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بنیادی سطح پر تشریع کے عمل میں شریک فرمایا تھا اور آپ کو شریعت کے مقاصد اور قانون سازی کے اصول اور ضابطے سکھا دیے تھے جن کی روشنی میں آپ احکام وشرائع وضع کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں :

ولیس یجب أن یکون اجتھاده استنباطاً من المنصوص کما یظن، بل أکثره أن یکون علمه اللہ تعالیٰ مقاصد الشرع وقانون التشریع والتیسیر والأحکام، فبین المقاصد المتلقاة بالوحي بذلک القانون.(حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۳۷۱- ۳۷۲) ''یہ ضروری نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد، منصوص احکام سے استنباط تک محدود ہو، جیسا کہ گمان کیا جاتا ہے، بلکہ عموماً اس کی صورت یہ تھی کہ اللہ نے آپ کو شریعت کے مقاصد اور قانون سازی، تیسیر اور وضع احکام کے اصول سکھا دیے تھے اور آپ نے وحی کے ذریعے سے بتائے جانے والے ان مقاصد کو احکام کی صورت میں متشکل فرما دیا۔''

اسی نکتے کی روشنی میں شاہ صاحب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد اور امت کے مجتہدین کے اجتہاد کی نوعیت کا فرق واضح کرتے ہیں ۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ امت کے قیاس کی نوعیت یہ ہے کہ وہ منصوص حکم کی علت کو پہچانیں اور حکم کو علت کے ساتھ وابستہ کر دیں ، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وحی کے ذریعے سے شریعت کا کوئی حکم بتا دیا جاتا اور آپ اس کی حکمت اور سبب سے واقف ہو جاتے تو آپ کو یہ اختیار تھا کہ اس مصلحت کو سامنے رکھ کر اس کی کوئی ظاہری علت مقرر فرمائیں اور اس علت پر حکم کا مدار رکھ دیں ۔ اس کی ایک مثال وہ اذکار ہیں جو آپ نے صبح اورشام کے اوقات اور سونے کے وقت کے لیے مقرر فرمائے۔ جب آپ نے نمازوں کی مشروعیت کی حکمت کو سمجھ لیا تو اس کی روشنی میں اللہ کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے مزید محنت اور سعی فرمائی (ایضاً ۱/ ۳۱۱)۔

اس اختیار کے تحت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر کلام الہٰی کے بعض اشارات سے آپ کا فہم کسی پہلو کی طرف منتقل ہو تو اس کو بھی ایک باقاعدہ تشریعی ضابطے کی شکل دے کر امت پر اس کی پابندی لازم کر دیں ۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ ' (البقرہ ۲: ۱۵۸) میں صفا کا ذکر مقدم ہونے سے یہ استنباط کیا کہ سعی کا آغاز صفا سے ہونا چاہیے اور اسی کو امت کے لیے مشروع فرما دیا۔ آپ نے سورج اور چاند تاروں کو سجدہ کی ممانعت سے یہ اخذ کیا کہ اگر سورج یا چاند کو گرہن لگے تو ان کو معبود سمجھنے والوں پر اتمام حجت کے لیے ایسے وقت میں اللہ کی عبادت کا اہتمام کیا جائے۔ اسی طرح 'لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ' (البقرہ ۲: ۱۱۵) سے یہ استنباط فرمایا کہ عذر کی حالت میں استقبال قبلہ کی شرط ساقط ہو سکتی ہے، اس لیے اندھیری رات میں اگر کوئی غلط سمت میں منہ کر کے نماز ادا کر لے تو نماز ادا ہو جائے گی اور حالت سفر میں بھی قبلہ رخ ہوئے بغیر سواری پر نماز ادا کرنا جائز ہے (ایضاً ۱/ ۳۱۲) ۔

اسی طرح کسی مطلوب حکم کی ترغیب پیدا کرنے کے لیے اس کے دواعی ومقدمات کو مطلوب اور کسی غیرمطلوب چیز سے روکنے کے لیے اس تک پہنچانے والے اسباب وذرائع کو ممنوع قرار دینا بھی پیغمبر کے دائرۂ اختیار میں شامل تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، مثال کے طو رپر بت پرستی کے سد ذریعہ کے طور پر تصویر سازی سے، شراب نوشی سے روکنے کے لیے انگور کا شیرہ تیار کرنے اور ایسے دستر خوان پر جانے سے منع فرمایا جہاں شراب موجود ہو اور اسی طرح فتنے کی کیفیت میں قتال کے سدباب کے لیے ایسے حالات میں ہتھیار بیچنے کو ممنوع قرار دیا (ایضاً ۱/ ۳۱۳) ۔

شاہ صاحب اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے کہ تشریع میں پیغمبر کے اجتہاد کو پورا دخل ہوتا ہے، ان احادیث کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے امت کے لیے کوئی شرعی حکم مقرر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن پھر رفع حرج کے اصول کے تحت اس کو عملی جامہ پہنانے سے گریز فرمایا۔ مثلاً آپ کی خواہش تھی کہ ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کو فرض قرار دیا جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کا کم سے کم ایک تہائی وقت گزرنے پر مقرر کیا جائے۔ اس نوعیت کی احادیث سے شاہ صاحب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:

وقد ورد بھذا الأسلوب أحادیث کثیرة جدًا وھي دلائل واضحة علی أن لاجتھاد النبي صلی اللہ علیه وسلم مدخلًا في الحدود الشرعیة، وأنھا منوطة بالمقاصد، وأن رفع الحرج من الأصول التي بنی علیھا الشرائع. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۱۹) ''اس اسلوب میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شرعی احکام وحدود کو وضع کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتہاد کا بھی دخل ہے اور یہ کہ احکام، مقاصد سے وابستہ ہیں اور یہ کہ رفع حرج ان اصولوں میں سے ایک ہے جن پر شرائع کی بنیاد رکھی گئی ہے۔''

شاہ صاحب اس نکتے کی تفہیم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ایسے اجتہادات کا حوالہ بھی دیتے ہیں جن میں آپ نے نئی صورت حال میں شرعی مصالح اور اصول تشریع کی روشنی میں سابقہ حکم کی جگہ نیا طریقہ اختیار کرنے کو مناسب سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اجتہاد کی تصویب فرمائی۔ مثال کے طور پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا فیصلہ شاہ صاحب کی راے میں ایک اجتہادی فیصلہ تھا جونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نئی صورت حال کے تناظر میں کیا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں دین کی نصرت کی ذمہ داری اوس وخزرج نے قبول کی تھی جو اس وقت علمی ودینی طور پر یہود سے بہت متاثر تھے، چنانچہ ان کی اور ان کے حلیف یہودیوں کی تالیف قلب کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اجتہاد فرمایا کہ مسجد حرام کی جگہ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا جائے (ایضاً ۱/ ۳۵۷) ۔

شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ شریعت کے مبنی بر مصالح ہونے کی وجہ سے اس میں اس قوم کے اجتہاد کا بھی پورا دخل ہوتا ہے جن کے لیے شریعت وضع کی جا رہی ہو اور پیغمبر، تشریع میں اپنی قوم کے اہل الراے کے مشورے اور راے کو بھی پورا وزن دیتا ہے۔ چنانچہ صحابہ نے نماز باجماعت کے مطلوب اور موکد ہونے کے تناظر میں ازخود اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا کہ چونکہ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر جمع ہونا اطلاع واعلان کے بغیر ممکن نہیں ، اس لیے نماز کی اطلاع دینے کا کوئی طریقہ وضع کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مختلف مذاہب کے ہاں مروج طریقے زیر بحث آئے اور آخر میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کہنے کے طریقے کی تصویب فرما دی۔ اس واقعے سے استنباط کرتے ہوئے شاہ صاحب لکھتے ہیں :

وھذہ القصة دلیل واضح علی أن الأحکام إنما شرعت لأجل المصالح، وأن للاجتھاد فیھا مدخلًا، وأن التیسیر أصل أصیل. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۳۸) ''یہ قصہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ احکام صرف مصالح کی حفاظت کے لیے وضع کیے گئے ہیں اور یہ کہ ان کے وضع کرنے میں اجتہاد کا دخل ہے اور یہ کہ (تشریع میں ) آسانی پیدا کرنا ایک نہایت بنیادی اصول ہے۔''

تشریعی مصالح کی روشنی میں عمومات کی تخصیص

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیار سے متعلق اس اصولی زاو یۂ نظر سے شاہ صاحب نے قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کی توضیح بھی کی ہے اور ان کا فریم ورک اپنی مجموعی شکل میں شافعی اور حنفی اصولیین کے وضع کردہ فریم ورک سے مختلف اور شاطبی کے فریم ورک کے قریب تر ہے۔ شافعی اور حنفی فقہا باہمی اختلافات کے باوجود اس بحث کو بنیادی طور پر، جزوی اور انفرادی نصوص کے باہمی تعلق کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور ایک نص کو اصل اور محور قرار دے کر اس کے ساتھ متعلق ہونے والے اضافی نصوص کے ربط وتعلق کی نوعیت کو متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنانچہ اگر قرآن کے کسی حکم میں سنت نے تخصیص یا اس پر زیادت کی ہو تو حنفی نقطۂ نظر سے یہ سوال بنیادی ہوگا کہ اصل حکم اپنی دلالت کے لحاظ سے اس تخصیص کا محتمل تھا یا نہیں ۔ اگر محتمل تھا یا اس تخصیص کی بنیاد اسی متعین حکم میں موجود تھی تو پھر یہ قرآن کے حکم ہی کی تفصیل وتبیین ہوگی، لیکن اگر اصل حکم محتمل نہیں تھا اور اس میں جواز تخصیص کے لیے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں تو یہ سابقہ حکم میں تبدیلی سمجھی جائے گی اور اسے نسخ کا عنوان دیا جائے گا۔ امام شافعی نے اس کے برعکس یہ موقف اختیار کیا کہ عموم کا اسلوب کلام عرب میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہی تخصیص کا محتمل ہوتا ہے جس کی وضاحت متکلم اسی کلام میں یا کسی دوسرے موقع پر کر سکتا ہے۔ امام شافعی نے بہت سی مثالوں میں تخصیص کے ان قرائن کو بھی واضح کیا جو کلام کے سیاق وسباق سے اخذ کیے جا سکتے ہیں ، تاہم انھوں نے اصل حکم میں تخصیص کے لفظی یا عقلی قرائن کے موجود ہونے کو ایک لازمی شرط کا درجہ نہیں دیا اور یہ کہا کہ قرآن کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی جو مراد تھی، وہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح فرمائی اور آپ نے اسے حدیث کی صورت میں بیان کر دیا۔ چنانچہ جب سنت کا ماخذ بھی وحی ہے تو وحی کا ایک حصہ بدیہی طور پر دوسرے حصے کی توضیح وتبیین کر سکتا ہے اور اسے نسخ یا تبدیلی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔

شاطبی نے اس بحث میں اصولی طور پر امام شافعی کے نقطۂ نظر سے اتفاق کیا اور قرائن تخصیص کی بحث کو وسعت دیتے ہوئے یہ قرار دیا کہ سنت کے جن احکام میں قرآن کی تخصیص یا اس پر زیادت وارد ہوئی ہے، ان کی تفہیم مختلف علمی اصولوں، مثلاً مشتبہ فروع کا کسی اصل کے ساتھ الحاق، علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع اور قرآن کے لفظی و معنوی اشارات سے استنباط کے تحت کی جا سکتی ہے۔ اسی ضمن میں شاطبی نے عمومات کی تخصیص ایک بہت اہم پہلو یہ واضح کیا کہ شریعت میں جو احکام کلیہ بیان کیے گئے ہیں ، بعض دفعہ کسی دوسرے کلی شرعی اصول کی رعایت سے ان میں تخصیص اور استثنا قائم کرنا پڑتا ہے اور یہ اصل حکم کے عموم اورکلیت کے منافی نہیں ہوتا۔ گویا خاص صورتوں کو مخصوص اسباب کے تحت حکم کلی سے مستثنیٰ یا مخصوص قرار دینا بذات خود ایک تشریعی اصول ہے اور اس کے تحت مختلف شرعی احکام میں تخصیص اور استثنا کی مثالیں نصوص میں موجود ہیں (الموافقات ۱/ ۱۴۷، ۲۴۱)۔

شاطبی کے فریم ورک میں مسئلے کی نوعیت، جمہور اصولیین کے موقف سے بہت مختلف ہو جاتی ہے۔ اگر جزوی نصوص میں بیان ہونے والے احکام کو تشریع کے ایک کلی فریم ورک کا حصہ سمجھا جائے جس میں واضح اصول وقواعد اور مصالح ومقاصد کے تحت وضع احکام کا عمل کیا جا رہا ہے تو پھر کسی جزوی حکم کی قیود وشرائط یا اس میں تخصیص واستثنا کی وضاحت میں بھی اصل اور بنیادی اہمیت دلالت الفاظ کو نہیں ، بلکہ انھی تشریعی اصولوں اور مقاصد کو حاصل ہو جاتی ہے جن کی روشنی میں کسی حکم کاتعین ہوا ہے۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریع کے عمل میں شریک تھے اور آپ کا تشریعی اختیار جزوی نصوص اور ان میں موجود لفظی دلائل وقرائن سے استنباط تک محدود نہیں تھا، اس لیے تشریعی اصول ومقاصد کے تحت آپ کا کسی بھی حکم میں قیود وشرائط کا اضافہ یا تخصیص واستثنا کی گنجایش واضح کرنا کسی تردد کے بغیر قابل فہم بن جاتا ہے اور تخصیص کے لفظی قرائن کی بحث غیرمتعلق ہو جاتی ہے۔

شاہ صاحب نے اس بحث میں یہی نقطۂ نظر اختیار کیا اور سنت میں وارد تمام زیادات اور تخصیصات کی توجیہ اسی پہلو سے کی ہے جس کی چند نمایاں مثالیں حسب ذیل ہیں :

ماں اور بچے کے مابین حرمت رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے احادیث میں پانچ دفعہ دودھ پینے کی قید مذکور ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک یا دو دفعہ دودھ پینے یا ایک یا دو دفعہ پستان چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، جب کہ قرآن میں بظاہر دودھ پلانے کا ذکر کسی تحدید کے بغیر کیا گیا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ شریعت میں عورت کا دودھ پینے کو اس پہلو سے حرمت کا موجب قرار دیا گیا ہے کہ اس عمل سے دودھ پلانے والی گویا بچے کی جسمانی نشوونما کا حصہ بن جاتی اور یوں اس کی حقیقی ماں کے مشابہ ہو جاتی ہے۔ اس پہلو سے رضاعت کی مقدار کی تحدید ضروری ہے، کیونکہ بالکل معمولی مقدار میں دودھ پینے میں مذکورہ پہلو نہیں پایا جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اسی پہلو کی وضاحت کی گئی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۵۱) ۔

ترکے میں وصیت سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قیود وشرائط بیان فرمائیں ، شاہ صاحب نے ان کی توضیح بھی اسی اصول کی روشنی میں کی ہے۔ قرآن مجید میں وصیت کے حق کا ذکر کسی قید اور شرط کے بغیر کیا گیا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث کے حق میں وصیت کرنے کو ممنوع اور وصیت کے حق کو ترکے کے ایک تہائی تک محدود قرار دیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ اہل جاہلیت عموماً وصیت میں عدل وانصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے تھے اور ان کی ناانصافی اہل قرابت کے مابین نفرت وکدورت اور تنازع کا موجب بنتی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترکے میں میت کے قریبی رشتہ داروں کے حصے خود متعین فرما دیے اور چونکہ اس اقدام کا مقصد ہی باہمی تنازعات کو ختم کرنا تھا، اس لیے ازروے شرع وارث بننے والے کے حق میں وصیت کو ممنوع قرار دینا اس بندوبست کا لازمی تقاضا تھا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۰۹) ۔

اسی طرح مرنے والے کے مال میں اولو الارحام کے حق اور ان کے علاوہ اس کے دیگر متعلقین کے حق میں ، جنھیں وہ اپنے مال میں سے کوئی حصہ دینا چاہے، توازن قائم کرنا ضروری تھا تاکہ نہ تو صاحب ترکہ کی جانب داری یا میلان اس کے اولو الارحام کے حق پر اثر انداز ہو سکے اور اولو الارحام کے حق کی وجہ سے خود صاحب ترکہ کا اپنے مال میں اختیار بالکل ختم ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کے حق کو ایک تہائی تک محدود فرما دیا تاکہ ترکے کا زیادہ حصہ اولو الارحام کو اور کم تر حصہ دیگر متعلقین کو دیا جا سکے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۰۸- ۳۰۹) ۔

یہی اصول ہمیں حق وراثت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عائد کردہ بعض تحدیدات میں کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً آپ نے مسلمان کے، کافر کا اور کافر کے، مسلمان کا وارث بننے کی نفی فرمائی۔ اسی طرح فرمایا کہ قاتل کو اس کے مورث کے ترکے میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان میں سے پہلی ممانعت ایک دینی مصلحت پر مبنی ہے اور شارع کی منشا یہ ہے کہ معاشرتی معاملا ت میں مسلمان اور کافر کے مابین اختلاط چونکہ دین میں بعض خرابیوں کا موجب ہو سکتا ہے، اس لیے اسے ممنوع یا محدود کر دیا جائے۔ اسی وجہ سے شریعت میں مشرکین کے ساتھ نکاح کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک قاتل کو وراثت سے محروم کرنے کا تعلق ہے تو اس کا باعث ایک تو سد ذریعہ ہے تاکہ متوقع وارث، مال حاصل کرنے کے لیے اپنے مورثوں کو قتل نہ کرنے لگیں اور دوسرے یہ اس کے لیے سبق بھی ہے کہ حرام طریقے سے مال کے حصول کی کوشش کا نتیجہ اس سے محرومی ہی ہو سکتا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۲۳) ۔

والد کو بیٹے کے قصاص میں قتل نہ کرنے کی توجیہ شاہ صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ باپ کی محبت اور شفقت کی وجہ سے عام حالات میں غالب گمان یہی ہے کہ اس نے جان بوجھ کر، یعنی بیٹے کی جان لینے کی نیت سے یہ اقدام نہیں کیا ہوگا، بلکہ بے احتیاطی میں اس سے قتل سرزد ہو گیا ہوگا۔ گویا باپ، بیٹے کے قصاص سے اصولاً مستثنیٰ نہیں ہے، بلکہ اسے شبہے کا فائدہ دیتے ہوئے اس سے قصاص کو ٹالا گیا ہے، لیکن اگر قرائن ودلائل سے واضح ہو جائے کہ اس نے عمداً بیٹے کو قتل کیا ہے تو مذکورہ حدیث اس سے متعلق نہیں اور ایسی صور ت میں باپ سے قصاص لیا جائے گا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۰۶) ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض معذور اور اپاہج مجرموں پر زنا کی سزا نافذ کرنے کے بجاے علامتی طور پر انھیں ایک ہی دفعہ ٹہنیوں کا ایک گٹھا مارنے کا حکم دیا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ معذور اصول تشریع کی رو سے سزا کے نفاذ کا محل نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بالکل چھوڑ دینے کے بجاے علامتی طور پر سزا دینا ضروری سمجھا تاکہ حدود کے نفاذ کے لازم ہونے کا تصور برقرار رہے اور جس حد تک بھی تکلیف، مجرم کے لیے قابل برداشت ہے، وہ اسے دی جائے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۳۰)۔

حکم کے مقصد اور اس کے ساتھ وابستہ مصالح ہی کے تناظر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران میں چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا۔ شاہ صاحب سیدنا عمر کے قول کی روشنی میں اس کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسی کیفیت میں شیطان اس آدمی کی حمیت کو انگیخت کر کے اسے اس پر آمادہ کرسکتا ہے کہ وہ دشمن کی صف میں جا شامل ہو او ر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۵ - ۴۶۸)۔

قرآن مجید میں مال غنیمت کے پانچویں حصے کو بعض اجتماعی ضروریات کے لیے خاص کرتے ہوئے باقی مال کو جنگ لڑنے والوں کا حق قرار دیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ خمس نکالنے کے بعد باقی مال میں ، مجاہدین کی رضامندی کے بغیر کوئی اور تصرف نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں اس پابندی کا لحاظ دکھائی نہیں دیتا اور مختلف مواقع پر آپ سے، سارا مال غنیمت عام مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بجاے اس کا کچھ حصہ اپنی صواب دید کے مطابق بعض خاص افراد یا گروہوں کو دینا ثابت ہے۔ فقہا کے ہاں ان اقدامات کی توجیہ عموم کی تخصیص وغیرہ فقہی اصولوں کے تحت کی جاتی ہے، لیکن شاہ ولی اللہ کا زاو یۂ نظر یہ ہے کہ خمس نکالنے کے بعد باقی مال کی مجاہدین میں تقسیم کی ہدایت مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت کی رعایت سے مشروط ہے، جس کا فیصلہ مسلمانوں کا امام حسب صواب دید کر سکتا ہے۔ چنانچہ اگر دار الحرب میں داخل ہونے کے بعد امام ایک مخصوص جماعت کو کسی خاص بستی پر حملے کے لیے بھیجے تو حاصل شدہ مال غنیمت کا کچھ حصہ، عام مجاہدین میں تقسیم سے پہلے خاص طور پر اس جماعت کو دیا جا سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اصول پر دشمن سے انفرادی طور پر چھینے جانے والے ساز وسامان کو اس کے قاتل کا حق قرار دیا اور بعض غزوات میں کچھ مجاہدین کو، جنھوں نے غیر معمولی داد شجاعت دی تھی، عام مجاہدین سے زیادہ حصہ عطا کیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۷۲- ۴۷۳)۔

شریعت کے کسی حکم میں دی گئی کسی بھی نوعیت کی تخفیف کو ، چاہے وہ قرآن میں بیان کی گئی ہو یا سنت میں ، شاہ صاحب تیسیر وتخفیف کے اسی اصول کی مثال کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ عذر کی حالت میں حکم کی رخصتوں کی وضاحت، تشریع کی تکمیل اور اتمام کا حصہ ہے اور اس پہلو سے شریعت میں رخصتوں کے بیان کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ مثلاً سفر ایک عذر کی حالت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مختلف رخصتیں مشروع فرمائی ہیں ۔ ان میں سے ایک رخصت، نماز کو قصر کرنے کی ہے جو قرآن مجید میں حالت خوف کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ خوف کا ذکر صرف اس رخصت کی حکمت کو بیان کرنے کے لیے ہوا ہے، رخصت کو اس تک محدود قرار دینے کے لیے نہیں ہوا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۵۷- ۵۸)۔ اسی اصول کے تحت آپ نے سفر میں نمازوں کو تقدیم وتاخیر کے ساتھ بیک وقت ادا کرنے کی اجازت دی، لیکن اسے لازم نہیں کیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۶۰)۔

مسح علی الخفین سے متعلق شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ وضو دراصل ایسے اعضا کو دھونے کا نام ہے جو ظاہر ہوں اور ان پر میل کچیل جمع ہو سکتی ہو۔ چونکہ موزے پہنے ہونے کی صورت میں پاؤں ایک لحاظ سے ظاہری اعضا کا حصہ نہیں رہتے اور اہل عرب کے ہاں موزے پہننے کا عام رواج ہونے کے باعث ہر نماز کے لیے موزے اتارنا مشقت کا موجب ہو سکتا تھا، اس لیے اس کیفیت میں فی الجملہ پاؤں کو دھونے کا حکم ساقط ہو گیا اور اس کی جگہ علامت کے طور پر پاؤں پر مسح کرنے کا حکم دے دیا گیا (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۰۴- ۵۰۵)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید سے زائد جو احکام بیان فرمائے، شاہ صاحب ان کا ماخذ بھی اصل احکام کی علت اور حکمت ومصلحت کو قرار دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کو دینے کے بعد اگر کچھ مال بچ جائے تو وہ اس کے قریب ترین مرد رشتہ دار کو دے دیا جائے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ہدایت انھی اصولوں کی ایک فرع ہے جس پر وراثت کا پورا قانون مبنی ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ دو اصول ہیں : ایک، باہمی مودت اور محبت جو قریبی رشتہ داروں کے مابین ہوتا ہے ، اور دوسرا باہمی تعاون وتناصر جو کسی آدمی اور اس کی قوم اور برادری کے مابین ہوتا ہے۔ اس اصول کی رو سے اگر ترکہ اہل قرابت کے حصوں سے زائد ہو تو بدیہی طور پر اس کا حق دار، الاقرب فالاقرب کے اصول پر، میت کے اہل تناصر کو ہونا چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ ہدایت میں اسی اصول کا اطلاق فرمایا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۲۳)۔

قرآن مجید میں دو بہنوں کو بیک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس حکم کی مصلحت قریبی رشتہ داروں کے مابین قطع رحمی کا سد باب کرنا ہے، کیونکہ سوکنوں کے مابین فطری طور پر حسد اور بغض کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی علت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو بہنوں کے ساتھ ساتھ پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی کو بھی ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے سے منع فرما دیا (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۵۱- ۳۵۲)۔

قرآن مجید میں نکاح میں مہر کے تقرر کی ہدایت 'اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ ' کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں بیان ہو ا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر شوہر کی طرف سے بیوی کو قرآن مجید کی ایک سورت سکھانے کو اس کا مہر قرار دیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ فیصلہ قرآن کی ہدایت کی اصل روح اور حکمت کے مطابق ہے، کیونکہ شارع کی نظر میں قرآن کی سورت کی تعلیم بھی ایک بہت اہم اور قدر وقیمت رکھنے والی چیز ہے جو اسی طرح مرغوب اور مطلوب ہے، جیسے مال مرغوب اور مطلوب ہوتا ہے، اس لیے (خاص حالات میں ) اپنی اس اہمیت کے اعتبار سے قرآن کی تعلیم بھی مال کے قائم مقام ہو سکتی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۴۵)۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین کے معاملات میں دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ طریقہ بھی حکم کے اصل مقصد کے لحاظ سے درست اور تشریعی اصول کے مطابق ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک عادل گواہ کے ساتھ اگر قسم شامل ہو جائے تو بھی مدعی کا دعویٰ موکد ہو جاتا ہے اور شہادات کے باب میں اس طرح کی توسیع ناگزیر ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۴۸)۔ شاہ صاحب کی مراد یہ ہے کہ ایک کے بجاے دو گواہ طلب کرنے کا مقصد بھی مدعی کے دعوے کو موکد بنانا ہے، پس اگر کسی مقدمے میں دو گواہ موجود نہ ہوں ، لیکن ایک عادل گواہ کے ساتھ قرائن سے قاضی کو مدعی کا سچا ہونا معلوم ہو رہا ہو تو دوسرے گواہ کی جگہ اس سے قسم لے کر اس کے دعوے کو موکد کر سکتا ہے اور اس قسم کے توسع سے کام لینا شریعت کے اصول تیسیر کا تقاضا بھی ہے۔

اسی کی ایک مثال تین طلاقوں کے بعدبیوی کو شوہر کے لیے حرام قرار دینے کا حکم ہے، تا آنکہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرنے کے بعد اسے وہاں سے طلاق مل جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ دوسرے شوہر کے ساتھ محض عقد نکاح کافی نہیں ، بلکہ دونوں کے مابین زن وشو کا تعلق قائم ہونا بھی ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں کہ یہ شر ط ا س پابندی کو موثر اور حقیقی بنانے کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہے، کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو لوگوں کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے کہ دوسرے شوہر سے نکاح کو ایک رسمی کارروائی بنا لیا اور عقد کے بعد اسی مجلس میں دوسرے شوہر سے طلاق لے لی جائے، جب کہ یہ طریقہ شریعت کی عائد کردہ تحدید کے مقصد کے خلاف ہے، کیونکہ شارع کی منشا یہ ہے کہ وہ عورت اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ حقیقتا میاں بیوی کے طور پر زندگی بسر کرنا شروع کر دے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۷۰)۔

بیوہ پر دوران عدت میں زیب وزینت سے اجتناب کی پابندی کا ماخذ بھی یہی تشریعی اصول ہے۔ چونکہ بیوہ کے لیے عدت مکمل ہونے تک انتظار کرنا لازم اور نکاح کی خواہش رکھنے والوں کو اس دوران میں اسے نکاح کا پیغام بھیجنا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل مقصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیوہ کو زیب وزینت اختیار کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ زیب وزینت فریقین میں شہوت کو تحریک دینے کا موجب بنتی ہے، جب کہ عدت کے دوران میں اس کیفیت سے بچنا شریعت کا مقصودہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۳۷۸)۔

جزوی نصوص کی دلالت سے تعرض

شاہ صاحب کا منہج اس بحث میں ، جیسا کہ واضح کیا گیا، احکام شرعیہ کے مختلف اجزا کی تفہیم مصالح اورمقاصد کے کلی اور عمومی فریم ورک میں کرنے کا ہے اور وہ اسے قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال کے بجاے تشریعی اصولوں اور مقاصد اور فروعی احکام اور نصوص کی باہمی مطابقت کے عمومی سوال کے تناظر میں دیکھتے ہیں ۔ تاہم بعض مثالوں میں شاہ صاحب نے جزوی نصوص کی دلالت اور ان کے باہمی تعلق سے بھی کسی حد تک تعرض کیا ہے جس سے واقفیت اس بحث کے تناظر میں دل چسپی سے خالی نہیں ہوگی۔

مثال کے طور پر شاہ صاحب کے نزدیک سرقہ پر قطع ید سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی قیود و شرائط بیان فرمائی ہیں ، ان کی نوعیت عمل سرقہ کی توضیح وتنقیح کی اور اسے دوسرے کا مال ناحق لینے کی ان صورتوں سے ممتاز کرنے کی ہے جو اپنے اوصاف وخصائص کی بنیاد پر چوری سے مختلف ہیں ۔ لکھتے ہیں :

ومعلوم أن أخذ مال الغیر أقسام: منھا السرقة، ومنھا قطع الطریق، ومنھا الاختلاس، ومنھا الخیانة، ومنھا الالتقاط، ومنھا الغصب، ومنھا قلة المبالاة، وفي مثل ذلک ربما یسال النبي صلی اللہ علیه وسلم عن صورته ھل ھي من السرقة سوال مقال أو سوال حال، فیجب علیه أن یبین حقیقة السرقة متمیزة عما یشارکھا بحیث یتضح حال کل فرد فرد … والسرقة تنبئ عن الأخذ خفیة، فضبط النبي صلی اللہ علیه وسلم السرقة بربع دینار وثلاثة دراھم لیتمیز عن التافه، وقال: ''لیس علی خائن ولا منتھب ولا مختلس قطع''، وقال: ''لا قطع في ثمر معلق ولا في حریسة الجبل'' لیشیر إلی اشتراط الحرز. (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۳۱۶- ۳۱۷) ''یہ معلوم ہے کہ دوسرے کا مال لینے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں ، مثلاً چوری، راہ زنی، سامان اچک لینا، خیانت کرنا، کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا، غصب کرنا اور (دوسرے کی چیز استعمال کرنے میں) بے پروائی سے کام لینا۔ اس قسم کے معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زبان قال یا زبان حال سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کیا فلاں صورت چوری کے زمرے میں آتی ہے؟ چنانچہ آپ پر لازم تھا کہ آپ چوری کی حقیقت کو دوسرے کا مال لینے کی ملتی جلتی صورتوں سے اس طرح ممیز کر کے بیان فرمائیں کہ ہر ہر صورت کا حکم بالکل واضح ہو جائے۔ چوری دراصل کسی کا مال خفیہ طور پر اڑانے کو کہتے ہیں ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی چیز سے ممیز کرنے کے لیے یہ ضابطہ متعین فرمایا کہ چوری وہ شمار ہوگی جو چوتھائی دینار یا تین درہم کے برابر ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خیانت کرنے والے یا مال لوٹنے والے یا اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مزید فرمایا کہ درخت کے ساتھ لگے ہوئے پھل یا رسی کے ساتھ بندھا ہوا جانور لے جانے پر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس سے مقصود اس شرط کو واضح کرنا تھا کہ (قطع ید کے لیے) مال کو کسی محفوظ جگہ سے چرایا جانا ضروری ہے۔ ''

'كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي ' کے ظاہری عموم سے فقہاے احناف یہ استدلال کرتے ہیں کہ مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص بھی لیا جائے گا، جب کہ جمہور فقہا آیت کے سیاق وسباق یا احادیث کی روشنی میں اس حکم کو غیر مسلم کے قتل سے غیر متعلق قرار دیتے ہیں ۔ شاہ صاحب اس آیت کی تعبیر عام راے سے مختلف انداز میں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں احادیث میں وارد تخصیص قرآن کے ظاہر سے متعارض نہیں رہتی، بلکہ اس کا تقاضا بن جاتی ہے۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ آیت میں 'كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ ' کا مطلب یہ نہیں کہ مقتولوں کے بدلے میں قاتلوں کو قتل کرنا فرض ہے، بلکہ قصاص کا لفظ یہاں مقتولوں اور قاتلوں کے مابین برابری کو ملحوظ رکھنے کے معنی میں آیا ہے اور اس کے تحت آزاد آدمی کو صرف آزاد آدمی کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سنت میں اسی اصول کی رعایت سے قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کو کافر کے قصاص میں اور آزاد آدمی کو غلام کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ شاہ صاحب کی راے میں مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص نہ لینا شریعت کے ایک دوسرے اصول اور مقصد کا تقاضا ہے اور وہ یہ ہے کہ دین حق کی شان کو بلند رکھا جائے جو اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کو کافر پر فضیلت حاصل ہو اور دونوں کے ساتھ مساوی برتاؤ نہ کیا جائے۔ چونکہ کافر اصل میں مباح الدم ہے، اس لیے اس کو قتل کرنے کا گناہ بھی کم تر درجے کا ہے، اس لیے شریعت میں مسلمان پر اس کا قصاص بھی مشروع نہیں کیا گیا اور اس کی دیت بھی مسلمان سے نصف مقرر کی گئی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۰۵، ۴۱۱- ۴۱۲)۔

حلال وحرام کے دائرے میں شاہ صاحب کے نزدیک شریعت نے پاکیزہ اور انسانی فطرت سے موافقت رکھنے والی چیزوں کو حلال اور فطرت انسانی کے منافی اوصاف رکھنے والی چیزوں کو حرام قرار دینے کا اصول اختیار کیا ہے اور طیبات وخبائث کی تعیین کے لیے دنیا کی متمدن اقوام کی عادات اور انبیا کی شریعتوں میں متفقہ طور پر چلے آنے والے قوانین کو بنیاد بنایا ہے۔ چنانچہ بندر، خنزیر، چوہے، درندے، چیل کوے، سانپ بچھو، حشرات الارض اور گدھے جیسے جانوروں کا گوشت شریعت میں حرام ٹھیرایا گیا ہے اور حلال جانوروں میں سے مردار کا گوشت کھانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۸۳ - ۴۹۴)۔ اس بحث میں قرآن مجید کی آیت 'قُلْ لَّا٘ اَجِدُ فِيْ مَا٘ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ ' سے اشکال پیدا ہوتا ہے اور شاہ صاحب نے اس کی توجیہ یہ ذکر کی ہے کہ یہ اباحت علی الاطلاق ہر طرح کے جانوروں کے حوالے سے نہیں ، بلکہ ان خاص جانوروں کے تعلق سے بیان کی گئی ہے جنھیں اہل عرب حرام سمجھتے تھے، جب کہ شارع کی حکمت کے مطابق ان میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی تھی (حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۵۲۳)۔ گویا اس آیت کا موضوع حلت وحرمت کے باب میں کسی اصولی ضابطے کا یا حرام اشیا کی کسی حتمی فہرست کا بیان نہیں ، بلکہ بعض جانوروں کے حوالے سے اہل عرب میں رائج توہمات کا ازالہ ہے۔

'أحلت لنا میتتان ودمان' کی حدیث بظاہر قرآن مجید میں خون اور مردار کی حرمت کے عام حکم کے معارض دکھائی دیتی ہے۔ تاہم شاہ صاحب واضح کرتے ہیں کہ مچھلی اور ٹڈی پر مردار کا اور جگر اور تلی پر خون کا اطلاق محض ظاہر کے لحاظ سے، یعنی مجازاً کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت میں ان کو وہ خون اور وہ مردار نہیں کہا جا سکتا جس کی حرمت قرآن نے بیان کی ہے۔ جگر اور تلی دراصل حیوان کے جسم کے دو اعضا ہیں جو دیکھنے میں خون کے مشابہ لگتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو سے ان کو خون کہہ دیا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ گوشت کی قسم ہیں ۔ اسی طرح مردار اس جانور کو کہا جاتا ہے جس کو ذبح کر کے اس کا دم مسفوح نکالا جا سکتا ہو، جب کہ مچھلی اور ٹڈی میں دم مسفوح نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ذبح کرنا ممکن نہیں ۔ اس لیے جب مچھلی کو پانی سے نکال کر اور ٹڈی کو ضرب وغیرہ لگا کر مار دیا جائے تو ظاہری لحاظ سے ان پر مردار کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ اطلاق محض مجازی ہے، کیونکہ ان کو ذبح کر کے ان کا خون نکالنا ممکن ہی نہیں (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۹۲)۔

احادیث میں ذبح کیے جانے والے مادہ جانور کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے کو حلال اور ماں کے ذبح کرنے کو بچے کی حلت کے لیے بھی کافی قرار دیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اس کے 'میته' ہونے کی وجہ سے اس کی حلت تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم شاہ ولی اللہ کی راے جمہور فقہا سے ہم آہنگ ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۹۸)۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاہ صاحب ایسے جنین پر 'میته' کے اطلاق کو قطعی نہیں سمجھتے، کیونکہ ماں کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے اس کی اپنی الگ کوئی حیثیت نہیں تھی۔ گویا اسے ماں ہی کے جسم کا ایک حصہ تصور کرنے میں عقلی وقیاسی طور پر کوئی مانع نہیں اور یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ہدایت کو قرآن کے معارض کہنا بھی ممکن نہیں ۔

زنا کی سزا سے متعلق شاہ صاحب کی راے کا حاصل یہ ہے کہ کوڑے لگانے اور رجم کرنے، دونوں کا ماخذ قرآن مجید ہے۔ ہر قسم کے زانی کو سو کوڑے لگانے کی سزا سورۂ نور میں مذکور ہے، جب کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کا حکم بھی سیدنا عمر کی روایت کے مطابق قرآن مجید میں نازل کیا گیا تھا۔ عبادہ بن صامت کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا کہ غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے گا، جب کہ شادی شدہ زانی کو (آیت نو رکے مطابق) کوڑے لگانے کے ساتھ ساتھ (آیت رجم کے مطابق) رجم بھی کیا جائے گا۔ شاہ صاحب کی راے میں شادی شدہ زانی اصولاً ان دونوں سزاؤں کا حق دار ہے، تاہم چونکہ رجم کی سزا سنگین تر ہے اور اس کے نفاذ کی صورت میں کوڑے لگانے کی ضرورت نہیں رہتی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا ًایسے مقدمات میں صرف رجم کرنے پر اکتفا فرمائی۔ لیکن اصولی طورپر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں او ر سیدنا علی نے بعض مقدمات میں اس پر عمل بھی کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہر مجرم کے ساتھ یہ معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا لازم اور کوڑوں کی سزا اختیاری ہے، البتہ غیر شادی شدہ کو کوڑے لگانا تو ضروری ہے، لیکن جلا وطن کرنے کی سزا معاف کی جا سکتی ہے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۲۵ - ۴۲۸)۔

زنا میں چار گواہوں کی شرط کے لیے شاہ صاحب بنیادی ماخذ قرآن مجید کی آیت کو قرار دیتے ہیں ، تاہم زہری کی روایت کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ عہد نبوی سے تعامل یہ چلا آ رہا ہے کہ حدود میں خواتین کی گواہی قبول نہ کی جائے (حجۃ اللہ البالغہ ۲/ ۴۴۷)۔ شاہ صاحب نے قرآن مجید کے مطلق حکم میں اس تقیید کی کوئی حکمت یا توجیہ بیان نہیں کی، لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ آیت کو صرف گواہوں کی تعداد کے حوالے سے ناطق سمجھتے ہیں ، جب کہ گواہوں کے دیگر اوصاف وشرائط سے ان کے خیال میں آیت میں تعرض نہیں کیا گیا۔

مختلف انفرادی احکام کی توجیہ کے علاوہ اسلوب عموم کی نوعیت اور تخصیص کے جواز کے حوالے سے شاہ صاحب کا اصولی موقف امام شافعی سے ہم آہنگ ہے اور وہ عموم کے اسلوب کو محتمل اور قابل تخصیص قرار دیتے ہوئے حنفی اصولیین کے موقف پر تنقید کرتے ہیں جو عام کی دلالت کو قطعیت کے اعتبار سے خاص کے مساوی قرار دیتے ہیں۔ شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ کوئی عام حکم ایسا نہیں جس میں کسی نہ کسی پہلو سے تخصیص نہ ہوئی ہو اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عام کے اسلوب سے حقیقتا عموم مراد نہیں ہوتا۔ چنانچہ شاہ صاحب کے نزدیک اصول یہ ہے کہ ہر عام حکم کی تعبیر مناسب تخصیصات ہی کی روشنی میں کرنی چاہیے (الأصل في العمومات التخصیص بما یناسب) اور شافعی اصولیین سے اتفاق کرتے ہوئے وہ دلیل تخصیص کے، اصل حکم کے ساتھ مقارن ہونے کو بھی ضروری تصور نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ خاص کو قطعی اور غیر محتمل البیان قرار دے کر بعض احادیث کو قبول نہ کرنے نیز خبر واحد سے کتاب اللہ پر زیادت کو قبول نہ کرنے کے حوالے سے بھی احناف کے موقف کو درست نہیں سمجھتے۔[1]

حاصل بحث

اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ شاہ صاحب کے فریم ورک میں احکام وضع کرنے، ان کی قیود وشرائط متعین کرنے اور ان میں تخصیص واستثنا میں جزوی نصوص کا کردار اصل اور بنیادی نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمل شریعت کے مقاصدو مصالح اور ان پر مبنی قواعد کے ایک کلی اور مجموعی تناظر میں ہوتا ہے اور جزوی نصوص، چاہے وہ قرآن میں وارد ہوں یا حدیث میں ، کسی مخصوص معاملے سے متعلق ان کلی مصالح کے مقتضا ہی کو اطلاق وانطباق کی سطح پر واضح کر رہی ہوتی ہیں ۔ اس زاویۂنظر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نصوص کے مابین تخصیص وتقیید کے تعلق کو سمجھنے کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ شافعی اور حنفی نقطۂ نظر کے مطابق جزوی نصوص کو تعیین حکم میں اصل اور محور سمجھا جائے تو دلالت عموم کی نوعیت اور ا س میں کسی دوسری لفظی دلیل سے تخصیص کے جواز یا عدم جواز کا مسئلہ بہت اہم بن جاتا ہے، اس لیے کہ حکم کی تعیین اگر اصلاً کسی نص کے الفاظ سے ہوئی ہے اور اس میں عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے تو پھر تخصیص یا تقیید میں دلالت الفاظ سے متعلق بنیادی سوالات سے تعرض کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کے فریم ورک میں سوال کی نوعیت بالکل بدل جاتی ہے۔ اس کے مطابق بنیادی اہمیت اس کی نہیں کہ اصل حکم میں تخصیص کا قرینہ موجود ہے یا نہیں ، بلکہ اس کی ہے کہ شریعت کے مجموعی نظام میں کسی بھی حکم میں قیود عائد کرنے اور تخصیص یا استثنا پیدا کرنے کا جو ایک عمومی منہج ہے، آیا اس کی رو سے اس خاص حکم میں وہ تخصیص وتقیید بامعنی ہے یا نہیں جو حدیث میں بیان کی گئی ہے؟ اگر بامعنی ہے تو وہ پوری طرح قابل قبول ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو واضح کرنے کے لیے اصولاً سابقہ حکم میں موجود کسی قرینے یا کسی مستقل وحی کے محتاج نہیں تھے، بلکہ شریعت کے کلی مقاصد اور مصالح کا فہم حاصل ہونے کی وجہ سے خود اپنے اجتہاد سے یہ فیصلہ فرما سکتے تھے کہ فلاں حکم میں فلاں نوعیت کی تقییدات یا تخصیصات کو شامل کرنا شارع عزوجل کی منشا ہے۔

[باقی]

___________

۱۔ (اس حوالے سے شاہ صاحب کے موقف کی تفصیلی توضیح کے لیے دیکھیے: حجۃ اللہ البالغہ ۱/ ۴۲۱، ۴۵۹- ۴۶۰۔ اصول فقہ اور شاہ ولی اللہ، ڈاکٹر مظہر بقا، ۳۴۸- ۳۵۹، بقا پبلی کیشنز کراچی، اشاعت دوم ۱۹۸۶ء)

_________________