روزے کا مقصد


[جناب جاوید احمدغامدی کی کتاب ''میزان'' سے اقتباس]

روزے کا مقصد قرآن مجید نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۳ میں یہ بیان کیا ہے کہ لوگ خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ اِس کے لیے اصل میں 'لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ' کے الفاظ آئے ہیں، یعنی تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ قرآن کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب وروزکو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اِس بات سے ڈرتا رہے کہ اُس نے اگر کبھی اِن حدود کو توڑا تو اِس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اُس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔

روزے سے یہ تقویٰ کس طرح پید اہوتا ہے ؟ اِس کو سمجھنے کے لیے تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں:

پہلی یہ کہ روزہ اِس احساس کو آدمی کے ذہن میں پور ی قوت کے ساتھ بیدار کردیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ نفس کے چند بنیادی مطالبات پر حرمت کا قفل لگتے ہی یہ احساس بندگی پیدا ہونا شروع ہوتااور پھر بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ روزہ کھولنے کے وقت تک یہ اُس کے پورے وجود کا احاطہ کرلیتا ہے۔ فجر سے مغرب تک کھانے کا ایک نوالہ اور پانی کا ایک قطرہ بھی روزے دار کے حلق سے نہیں گزرتا اوروہ اِن چیزوں کے لیے نفس کے ہرمطالبے کو محض اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل میں پورا کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ روزے کا یہ عمل جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو یہ حقیقت روزے دار کے نہاں خانۂ وجود میں اتر جاتی، بلکہ اُس کی جبلت میں پیوست ہوجاتی ہے کہ وہ ایک پروردگار کا بندہ ہے اور اُس کے لیے زیبا یہی ہے کہ زندگی کے باقی معاملات میں بھی تسلیم واعتراف کے ساتھ وہ اپنے مالک کی فرماں روائی کے سامنے سپر ڈال دے اور خیال وعمل، دونوں میں اپنی آزادی اور خودمختاری کے ادعاسے دست بردار ہوجائے۔ اِس سے، ظاہر ہے کہ خدا پرآدمی کا ایمان ہر لحاظ سے زندہ ایمان بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ محض ایک خدا کو نہیں، بلکہ ایک ایسی سمیع وبصیر، علیم وحکیم اور قائم بالقسط ہستی کو مانتا ہے جو اُس کے تمام کھلے اورچھپے سے واقف ہے اورجس کی اطاعت سے وہ کسی حال میں انحراف نہیں کرسکتا۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے سب سے مقدم چیز یہی ہے۔

دوسری یہ کہ روزہ اِس احساس کوبھی دل کے اعماق اور روح کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے کہ آدمی کو ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ ماننے کو تو یہ بات ہر مسلمان مانتا ہے، لیکن روزے میں جب پیاس تنگ کرتی، بھوک ستاتی اورجنسی جذبات پوری قوت کے ساتھ اپنی تسکین کا تقاضا کرتے ہیں تو ہرشخص جانتا ہے کہ تنہا یہی احساس جواب دہی ہے جو آدمی کو بطن وفرج کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے روک دیتا ہے۔ رمضان کا پور ا مہینا ہر روزگھنٹوں وہ نفس کے اِن بنیادی تقاضوں پرمحض اِس لیے پہرا لگائے رکھتا ہے کہ اُسے ایک دن اپنے مالک کو منہ دکھانا ہے۔ یہاں تک کہ سخت گرمی کی حالت میں حلق پیاس سے چٹختا ہے، برفاب سامنے ہوتا ہے، وہ چاہے تو آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا؛ بھوک کے مارے جان نکل رہی ہوتی ہے، کھانا موجود ہوتا ہے، مگر نہیں کھاتا؛ میاں بیوی جوان ہیں، تنہائی میسر ہے، چاہیں تواپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں، مگر نہیں کرتے۔ یہ ریاضت کوئی معمولی ریاضت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جواب دہی کا احساس اِس سے دل و دماغ میں پوری طرح راسخ ہوجاتا ہے۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے ، اگر غور کیجیے تو دوسری موثر ترین چیزیہی ہے۔

تیسری یہ کہ تقویٰ کے لیے صبر ضروری ہے، اورروزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ بلکہ صبر کی تربیت کے لیے اِس سے بہتر اور اِس سے زیادہ موثر کوئی دوسرا طریقہ شاید نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ہم جس امتحان سے دوچار ہیں، اُس کی حقیقت اِس کے سوا کیا ہے کہ ایک طرف ہمارے حیوانی وجود کی منہ زور خواہشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اُس کے حدود میں رہ کر زندگی بسر کریں؟یہ چیز قدم قدم پر صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ سچائی، دیانت، تحمل، بردباری ، عہد کی پابندی، عدل و انصاف، عفوودرگذر، منکرات سے گریز، فواحش سے اجتناب اورحق پر استقامت کے اوصاف نہ ہوں تو تقویٰ کے کوئی معنی نہیں ہیں، اورصبر کے بغیر یہ اوصاف، ظاہر ہے کہ آدمی میں کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتے۔

روزے کا مقصد یہی تقویٰ ہے اوراِس کے لیے اللہ نے رمضان کا مہینا مقرر فرمایا ہے۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ اِس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اِس مہینے میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا ہے۔ روزے کے مقصد سے اِس کا کیا تعلق ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

''غور کرنے والے کو اِس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں پیش آسکتی کہ خدا کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے او رعقل سے بھی بڑی نعمت قرآن ہے، اِس لیے کہ عقل کو بھی حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہوتو عقل سائنس کی ساری دوربینیں اورخردبینیں لگاکر بھی اندھیرے میں بھٹکتی رہتی ہے۔اِس وجہ سے جس مہینے میں دنیا کویہ نعمت ملی، وہ سزا وار تھا کہ وہ خدا کی تکبیر اوراُس کی شکر گزاری کا خاص مہینا ٹھیرا دیا جائے تاکہ اِس نعمت عظمیٰ کی قدرو عظمت کا اعتراف ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے۔ اِس شکر گزاری اورتکبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی عبادت مقرر فرمائی جواُس تقویٰ کی تربیت کی خاص عبادت ہے جس پرتمام دین وشریعت کے قیام و بقا کا انحصار ہے، اور جس کے حاملین ہی کے لیے درحقیقت قرآن ہدایت بن کرنازل ہوا ہے۔ ... گویا اِس حکمت قرآنی کی ترتیب یوں ہوئی کہ قرآن حکیم کا حقیقی فیض صرف اُن لوگوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقویٰ کی روح ہو اور اِس تقویٰ کی تربیت کا خاص ذریعہ روزے کی عبادت ہے۔اِس وجہ سے رب کریم وحکیم نے اِس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا جس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اِس بات کویوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اِس دنیا کے لیے بہار ہے اوررمضان کا مہینا موسم بہاراور یہ موسم بہار جس فصل کو نشوونما بخشتا ہے، وہ تقویٰ کی فصل ہے۔''(تدبرقرآن۱/ ۴۵۱)

____________