صغیرہ گناہ اور عذاب قبر


ترجمہ وتدوین: شاہد رضا

عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحَاءِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ أَوْ مَکَّۃَ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ فِيْ قُبُوْرِہِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''یُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِيْ کَبِیْرٍ''، ثُمَّ قَالَ: ''بَلٰی، کَانَ أَحَدُہُمَا لَا یَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِہِ وَکَانَ الْآخَرُ یَمْشِيْ بِالنَّمِیْمَۃِ''. ثُمَّ دَعَا بِجَرِیْدَۃٍ فَکَسَرَہَا کِسْرَتَیْنِ فَوَضَعَ عَلٰی کُلِّ قَبْرٍ مِنْہُمَا کِسْرَۃً، فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لِمَ فَعَلْتَ ہٰذَا؟ قَالَ: ''لَعَلَّہُ أَنْ یُّخَفَّفَ عَنْہُمَا مَا لَمْ تَیْبَسَا أَوْ إِلٰی أَنْ یَّیْبَسَا''. (بخاری، رقم ۲۱۳)

حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ یا مکہ کے ایک باغ کے پاس سے گزرے، (وہاں) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو انسانوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انھیں کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک شخص اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک حصہ رکھ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ، یہ آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں، شاید اس وقت تک ان کے عذاب میں تخفیف ہو جائے۔وضاحت

اگرچہ اس روایت کی سند قابل قبول اور ثقہ ہے اور حدیث کی اہم اور بنیادی کتب میں اسے روایت بھی کیا گیا ہے، مگر قاری قرآن مجید کی روشنی میں اسے بہ نظر تدبر دیکھے تو اس روایت کے مضمون کے متعلق اس کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید کی سورۂ نساء میں بیان کیا گیا ہے:

اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا.(۴: ۳۱)

''(ان گناہوں سے بچو، اس لیے کہ ) تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، ان کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔''

ایک دوسرے مقام پر نیکوکاروں کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتا ہے:

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓءِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ.(النجم ۵۳: ۳۲)

''جو بڑے گناہوں اور کھلی بے حیائیوں سے بچتے رہے، مگر یہ کہ کبھی کچھ آلودہ ہو گئے۔ (وہ انھیں معاف فرما دے گا)، اس میں شبہ نہیں کہ تیرے پروردگار کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔''

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ قرآن مجید کے درج بالا دونوں مقامات میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے صغیرہ گناہوں کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے جو اپنے آپ کو کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول قرآن کریم کے وعدۂ مغفرت کے خلاف ہے، اس لیے کہ اوپر مذکورہ روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ قبر والے دونوں اشخاص کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب نہیں تھے، بلکہ صغیرہ گناہوں کی وجہ سے سخت عذاب سے دوچار کیے جا رہے تھے۔

خلاصۂ بحث

چونکہ یہ روایت قرآن مجید کے حکم اور مفہوم کے خلاف ہے ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس روایت میں مذکور قول کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نہ سمجھی جائے۔

متون

اپنی اصل کے اعتبار سے یہ روایت بخاری، رقم۲۱۳ میں روایت کی گئی ہے۔

اسی طرح کا مضمون بعض اختلافات کے ساتھ بخاری، رقم۲۱۵، ۱۲۹۵، ۱۳۱۲، ۵۷۵۰، ۵۷۰۸؛ مسلم، رقم ۲۹۲ا، ۲۹۲ ب؛ ابوداؤد، رقم ۲۰۔۲۱؛ نسائی، رقم۳۱، ۲۰۶۸۔۲۰۶۹؛ احمد، رقم۱۹۸۰۔۱۹۸۱، ۹۶۸۴، ۱۷۵۹۵۔۱۷۵۹۶، ۲۰۴۲۷، ۲۲۳۴۶؛ ابن حبان، رقم۳۱۲۸۔۳۱۲۹؛ بیہقی، رقم۵۱۰، ۳۹۴۲۔۳۹۴۳؛ ابویعلیٰ، رقم۲۰۵۰، ۲۰۵۵؛ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۲۷، ۲۱۹۵۔۲۱۹۶، ۱۱۶۱۳؛ ابن خزیمہ، رقم۵۵۔۵۶؛ دارمی، رقم۷۳۹؛ عبدالرزاق، رقم۶۷۵۳۔۶۷۵۴ اور ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۴۲۔۱۲۰۴۶ میں بھی روایت کیا گیا ہے۔

بعض روایات، مثلاً بخاری، رقم ۵۷۰۸ میں 'یعذبان، وما یعذبان في کبیر' (ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انھیں کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ہے) کے قول کے بجاے 'یعذبان، وما یعذبان في کبیر وإنہ لکبیر' (ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انھیں کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ہے اور یہ عذاب بہت سخت ہے) کا قول روایت کیا گیا ہے۔ اس عبارت کی علما نے متعدد توجیہات پیش کی ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک وہی تاویل و توجیہ درست ہے جو قوسین میں دیے گئے ترجمے سے واضح ہوتی ہے۔

بعض روایات، مثلاً احمد، رقم۲۰۴۲۷ میں 'النمیمۃ' (چغل خوری) کے گناہ کے بجاے 'الغیبۃ' (غیبت) کے گناہ کا ذکر ہے۔

بعض روایات، مثلاً احمد، رقم۹۶۸۴ میں یہ واقعہ درج ذیل الفاظ میں روایت کیا گیا ہے:

مر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی قبر فوقف علیہ، فقال: ''إیتوني بجریدتین''، فجعل إحداہما عند رأسہ والأخرٰی عند رجلیہ، فقیل: یا نبي اللّٰہ، أینفعہ ذلک؟ قال: ''لن یزال أن یخفف عنہ بعض عذاب القبر ما کان فیہما ندو''.

''(ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے) ارشاد فرمایا: مجھے کھجور کی دو شاخیں لا کر دو، ( جب وہ لائی گئیں) تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان میں سے ایک صاحب قبر کے سر کے پاس رکھ دی اور دوسری اس کے پاؤں کے پاس رکھ دی، آپ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے نبی، اس سے اس کو فائدہ ملے گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: جب تک یہ دونوں شاخیں تازہ رہیں گی، اس کے عذاب قبر میں کچھ تخفیف ہوتی رہے گی۔''

یہ روایت دو مختلف اسناد سے روایت کی گئی ہے۔ پہلی سند کے ساتھ احمد، رقم۹۶۸۴، جبکہ دوسری سند کے ساتھ احمد، رقم۱۷۵۹۶ میں روایت کی گئی ہے۔

پہلی روایت میں یزید بن کیسان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت حدیث میں یزید بن کیسان کی ثقاہت کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ بعض محدثین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر محدثین جن میں یحییٰ القطان اور امام بخاری علیہما الرحمہ شامل ہیں ، نے اسے غیر ثقہ گردانا ہے۔۱؂

جہاں تک دوسری سند کا تعلق ہے، تو اسے شیخ شعیب الارنؤوط نے ضعیف قرار دیا ہے۔۲؂

________

۱؂ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: الکامل فی ضعفاء الرجال، جرجانی ۷/۲۸۳؛ التاریخ الکبیر، بخاری ۸/۳۵۴؛ تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی ۱۱/۳۱۱؛ تہذیب الکمال، المزی ۳۲/۲۳۰۔۲۳۲؛ الجرح و التعدیل، ابن ابی حاتم ۹/۲۸۵؛ الضعفاء الکبیر، عقیلی ۴/۳۸۹۔

۲؂ شعیب الارنؤوط، حاشیہ: ۱، مسند احمد ۲۹/۱۰۲۔

____________