شریعت کی سزائیں


دین و دانش

اسلامی شریعت میں جو احکام مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو دیے گئے ہیں، اُن میں چند متعین جرائم کی سزائیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دی ہیں۔ یہ سزائیں کیا ہیں؟ اِن کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب ''میزان'' کے باب ''حدود و تعزیرات'' میں کر دی ہے اور جو چیزیں توضیح مزید کا تقاضا کرتی تھیں، اُنھیں اِس کتاب میں بھی مختلف عنوانات کے تحت بیان کر دیا ہے اور اپنی کتاب ''برہان'' میں بھی، جو اِسی نوعیت کی تنقیحات کے لیے خاص ہے۔ اِنھی مباحث کا خلاصہ ہم یہاں درج کر رہے ہیں تاکہ یہ بہ یک نظر سامنے آ جائیں:

۱۔ یہ سزائیں صرف پانچ جرائم کے لیے مقرر کی گئی ہیں: زنا، قذف، چوری، قتل و جراحت اور فساد فی الارض۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ شراب نوشی، ارتداد اور توہین رسالت کی سزا بھی شریعت میں اِسی طریقے سے مقرر کر دی گئی ہے۔ ہم نے بہ دلائل واضح کر دیا ہے کہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ اِن جرائم کے لیے شریعت میں ہرگز کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔ یہ سراسر اجتہادی معاملات ہیں اور اِن کے بارے میں جو راے بھی قائم کی جائے گی، اِسی بنیاد پر کی جائے گی۔

۲۔ فقہا کی عام راے ہے کہ قتل عمد کے مجرم کو اگر مقتول کے ورثہ معاف کر دیں تو مسلمانوں کا نظم اجتماعی بھی اُسے معاف کرنے کا پابند ہے۔ ہمارے نزدیک یہ راے صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ ''قتل عمد کی سزا'' کے زیرعنوان ہم نے اِسی کتاب میں اِس مضمون کی تمام آیات کا تجزیہ کر کے بتا دیا ہے کہ اِس صورت میں صرف قصاص کی فرضیت ختم ہوتی ہے، اُس کا جواز ختم نہیں ہوتا۔ لہٰذا حکومت اور معاشرے کو پورا حق ہے کہ جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کے پیش نظر وہ، اگر چاہے تو قصاص ہی پر اصرار کرے اور مقتول کے ورثہ کی طرف سے دی گئی رعایت کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔

۳۔ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۳۳۔۳۴ میں محاربہ اور فساد فی الارض کی جو سزائیں بیان ہوئی ہیں، وہ صرف ڈکیتی کے ساتھ خاص نہیں ہیں، بلکہ اُن سب مجرموں کے لیے ہیں جو قانون سے بغاوت کر کے لوگوں کی جان، مال، آبرو اور عقل و راے کے خلاف برسر جنگ ہو جائیں۔ چنانچہ قتل دہشت گردی، زنا زنا بالجبر اور چوری ڈاکا بن جائے یا لوگ بدکاری کو پیشہ بنا لیں یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائیں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں یا اغوا، تخریب، ترہیب اور اِس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیں تو یہ سب فساد فی الارض کے مجرم ہوں گے اور عدالت جرم کی نوعیت اور مجرم کے حالات کی رعایت سے اُن میں سے جو سزا مناسب سمجھے، اُنھیں دے سکتی ہے۔

۴۔ موت کی سزا قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ اِن دو جرائم کو چھوڑ کر فرد ہو یا حکومت، یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کی جان کے درپے ہو اور اُسے قتل کر ڈالے۔

۵۔ دیت ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے اسلام کا واجب الاطاعت قانون ہے، لیکن اِس کی مقدار، نوعیت اور دوسرے تمام امور میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ 'معروف'، یعنی معاشرے کے دستور اور رواج کی پیروی کی جائے۔ اِس حکم کے مطابق ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کا پابند ہے۔ ہمارے معاشرے میں دیت کا کوئی قانون چونکہ پہلے سے موجود نہیں ہے، اِس وجہ سے ارباب حل و عقد کا اختیار ہے کہ چاہیں تو اِس معاملے میں عرب کے دستور کو برقرار رکھیں اور چاہیں تو اپنے حالات اور مصالح کے لحاظ سے کوئی دوسری صورت تجویز کر لیں۔ اسلام اور اسلامی شریعت کی رو سے اِس پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

۶۔ زانی اور زانیہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ، زنا کی شرعی سزا وہی سو کوڑے ہے جو قرآن مجید کی سورۂ نور (۲۴) میں بیان ہوئی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں زنا کے بعض مجرموں کو رجم، یعنی سنگ ساری کی سزا بھی دی تھی، لیکن یہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت محاربہ کے تحت اور زنا بالجبر اور اوباشی کے مجرموں کو دی گئی تھی۔ اِس کا سورۂ نور (۲۴) میں زنا کے عام مجرموں کے لیے بیان کی گئی سزا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۷۔ زنا اور چوری کی جو سزائیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں، وہ اِن جرائم کی انتہائی سزائیں ہیں اور صرف اُنھی مجرموں کو دی جائیں گی جن سے جرم بالکل آخری درجے میں سرزد ہو جائے اور اپنے حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں۔ اِن میں اہم ترین چیز اُن کا دینی شعور ہے۔ یہ سزائیں اُن لوگوں کے لیے نہیں ہیں جو غیرمسلم ہیں یا پیدایشی لحاظ سے مسلمان تو ہیں، مگر دینی شعور کے لحاظ سے غیرمسلموں ہی کے حکم میں ہیں۔ اِس لیے کہ اِن سزاؤں سے مقصود محض جرم کا استیصال نہیں ہے، بلکہ اُ ن مجرموں کو خدا کے عذاب کا مزہ چکھانا اور دوسروں کے لیے عبرت بنا دینا بھی ہے جنھوں نے پورے شعور کے ساتھ اپنے آپ کو خدا اور اُس کے رسول کے حوالے کیا، اُن سے عہد اطاعت باندھا، اُن کے دین کو دین کی حیثیت سے قبول کیا اور اِس کے بعد چوری اور زنا جیسے جرائم میں اِس حد تک ملوث ہو گئے کہ خدا نے اُن کا پردہ فاش کر دیا اور معاملات عدالت تک پہنچ گئے۔

۸۔ زنا کی سزا کے لیے چار گواہوں کی جو شرط قرآن میں بیان ہوئی ہے، وہ زنا بالرضا کے لیے ہے، اُس کا اطلاق زنا بالجبر پر نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اگر کوئی عورت اپنے خلاف اِس جرم کی شکایت لے کر آتی ہے تو وہ قاذف نہیں، بلکہ فریادی ہے۔ قانون پابند ہے کہ اُس کی فریاد سنے اور جس شخص پر الزام لگایا گیا ہے، اُس کا جرم جس طریقے سے بھی ثابت ہو جائے، اُس کو اِس بربریت کی قرار واقعی سزا دے، الّا یہ کہ تحقیق و تفتیش سے خود عورت کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ اُس نے قذف کا ارتکاب کیا ہے اور ملزم بے گناہ ہے۔

۹۔ زنا بالرضا کے سوا اسلامی شریعت کے جرائم بھی اُن سب طریقوں سے ثابت ہوتے ہیں جنھیں اخلاقیات قانون میں مسلمہ طور پر ثبوت جرم کے طریقوں کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے۔ چنانچہ حالات، قرائن، طبی معاینہ، پوسٹ مارٹم، انگلیوں کے نشانات، ڈی این اے، گواہوں کی شہادت، مجرم کا اقرار، قسم، قسامہ اور اِس نوعیت کے دوسرے تمام شواہد اِن جرائم کے ثبوت میں بھی اُسی طرح قابل قبول ہوں گے، جس طرح عام جرائم میں ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت میں کوئی چیز نہیں ہے جو اِس کے خلاف پیش کی جا سکے۔

[۲۰۱۵ء]

____________