(سورہ الانفال (6


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہۤ، اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(1) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہ، زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ(2) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ(3) اُولٰۤئِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌکَرِیْمٌ(4)

ترجمہ

اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔ وہ تم سے غنائم 1 کے بارے میں پوچھتے ہیں۔2 اِنھیں بتا دو کہ یہ سب غنائم اللہ اور رسول کے ہیں۔3 اِس لیے اللہ سے ڈرو، (اِس معاملے میں کوئی نزاع پیدا نہ کرو اور) اپنے آپس کے معاملات کی اصلاح کر لو4 اور اللہ اور اُس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔ (یاد رکھو5)، اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں6 اور جب اُس کی آیتیں اُنھیں سنائی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھا دیتی ہیں7 اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔8 وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔9 یہی سچے مومن ہیں۔ اِن کے پروردگار کے پاس اِن کے لیے درجے ہیں، مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔10 1 -4

تفسیر

1 آیت میں لفظ 'اَلْاَنْفَال' آیا ہے۔' نفل'اُس چیز کو کہتے ہیں جو حق سے زیادہ حصہئ مزید کے طور پر دی جائے۔ اِس تعبیر میںیہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کا اجر تو اُس کے ہاں بالکل الگ اور دائمی طور پر محفوظ ہو جاتا ہے، اِس کے ساتھ جو مال غنیمت دشمن سے حاصل ہوتا ہے، وہ ایک حصہئ مزید ہے۔ قیامت سے پہلے وہ اللہ تعالیٰ اِسی دنیا میں مجاہدین کو عطا کر دیتے ہیں۔

2 یہ سوال اعتراض کی نوعیت کا ہے اور غزوئہ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے، وہ اُسی کا حق ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے بعد جب لوٹنے والوں سے دوسروں نے جنگی خدمات کی بنا پر اپنے حق کا مطالبہ کیا تو اُس سے ایک نزاع پیدا ہو گئی جس نے کسی حد تک تلخی کی صورت اختیار کر لی۔یہ سوال اِسی پس منظر میں اور مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے کیا گیا ہے*۔(* السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٥٧٠۔)

3 یعنی اِس وقت جو غنائم حاصل ہوئے ہیں، اُن کے متعلق خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اُن پر کسی شخص کا بھی کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔ یہ سب اللہ اور رسول کا ہے اور وہ اِس کے ساتھ جو معاملہ چاہیں گے، اپنی صواب دید کے مطابق کریں گے۔ یہ فیصلہ اِس لیے کیا گیا کہ زمانہئ رسالت کی جنگیں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کے تحت لڑی گئی تھیں اور اِن میں لڑنے والوں کی حیثیت اصلاً آلات و جوارح کی تھی۔ وہ اللہ کے حکم پر میدان میں اترے اور براہ راست اُس کے فرشتوں کی مدد سے فتح یاب ہوئے تھے۔ لہٰذا اِن جنگوں کے مال غنیمت پر اُن کا کوئی حق اللہ تعالیٰ نے تسلیم نہیں کیا، تاہم آگے جا کر بتا دیا ہے کہ اِس کے باوجود یہ سارا مال نہیں، بلکہ اِس کا پانچواں حصہ ہی اجتماعی مقاصد کے لیے خاص رہے گا اور باقی ازراہ عنایت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

4 مطلب یہ ہے کہ بحث و اختلاف کی گرما گرمی میں اگر کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہو گئی ہے یا اپنے بھائیوں کے بارے میں رشک و حسد کے جذبات کسی کے دل میں ابھرے ہیں کہ فلاں اور فلاں کو اِس مال میں کیوں شریک بنایا گیا ہے، تو اپنی اصلاح کر لو۔ تم سب بھائی بھائی ہو۔ تمھارے تعلقات اخوت، رحم اور محبت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہییں۔ یہ ایمان و تقویٰ کے منافی ہے کہ تمھارا دامن دل حسد، رقابت اور خود غرضی کے غبار سے آلودہ ہو، اِسے پاک صاف کر لو۔

5 یہاں سے آگے سچے اہل ایمان کی تصویر ہے جو اُن لوگوں کے سامنے رکھی گئی ہے جنھیں 'اگر تم مومن ہو' کے الفاظ میں خطاب فرمایا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ اِن کے بغیر یہ دعویٰ کسی کو زیب نہیں دیتا۔

6 یہ سچے اہل ایمان کی پہلی علامت بتائی ہے کہ وہ خدا کی عظمت و جلالت اور کبریائی کا شعور رکھتے ہیں، لہٰذا خدا کی کوئی بات بھی اُن کے سامنے پیش کی جائے، وہ اِس گہرے احساس کے ساتھ اُس کو سنتے ہیں کہ یہ اُس ہستی کا ذکر ہو رہا ہے یا اُس کے نام پر کوئی بات کہی جا رہی ہے، جس کی ناراضی کا خوف ہر انسان کے نہاں خانہئ وجود میں جاگزیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُن کا دل اِس گہرے احساس سے لرز جاتا ہے۔

7 یہ دوسری علامت ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ آیات سے یہاں کتاب الٰہی کی وہ آیات مراد ہیں جن میں خدا کے احکام اور قوانین بیان ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اہل ایمان جب اِن احکام و قوانین کو سنتے ہیں تو اِنھیں ایمان ہی کا مظہر اور اُس کے مضمرات کی تفصیل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ایمان کے شجرئہ طیبہ پر یہ برگ و بار دیکھ کر اُن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح ایمان کے اِن مطالبات کو جب وہ پورا کرتے ہیں تو امتحان و آزمایش کے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اُن میں خدا کی تائید و نصرت کا ظہور اور کامیابی سے گزرنے کے بعد فتح مندی کا احساس بھی اُن کے ایمان کو قوی سے قوی تر بنا دیتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

'''زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا' کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے، جب اُن کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ وہ اِن مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے، اِسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزایش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا اُن مدعیان ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے، لیکن جب اُس کے مطالبے سامنے آئے تواُن سے خوش ہونے کے بجاے اُن کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے کہ یہ کیا بلا نازل ہوگئی۔''(تدبرقرآن٣/ ٤٣٢)

8 یہ تیسری علامت ہے۔ یعنی امتحان و آزمایش کے مراحل میں وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اُنھیں یقین کامل ہوتا ہے کہ اُن کے پروردگار نے جو حکم بھی دیا ہے اور جس امتحان سے بھی گزارا ہے ، اُس میں سرتاسر اُنھی کی فلاح ہے۔ چنانچہ تمام احکام اور تمام امتحانات کو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اُن میں یقینا کوئی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہو گی اور جلد یا بدیر وہ اُن کے لیے رحمت و برکت کی صورت میں ظاہر ہوجائے گی۔

9 یہ چوتھی علامت ہے اور اِس میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں، وہ سب کی جامع اور محافظ ہیں۔ ایمان جو اوصاف اہل ایمان کے اندر پیدا کرتاہے، اُن کی شیرازہ بندی اِنھی دو چیزوں ـــــ نماز اور انفاق ـــــ سے ہوتی ہے۔ قرآن مجیدمیں جگہ جگہ یہ اِسی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں۔

10 یعنی اُن کے ایمان و یقین کی کیفیات اور اُن کے ظہور کے لحاظ سے درجے ہیں، اُن کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے خدا کا دامن مغفرت ہے اور اِس کے نتیجے میں ایسی روزی ہے جو اِس عزت کے ساتھ دی جائے گی کہ یہ درحقیقت اُنھی کا حق ہے جو اُنھیں دیا جا رہا ہے۔

یہ امر ملحوظ رہے کہ اِن آیتوں میں جس ایمان کا ذکر ہوا ہے، وہ قانونی اور فقہی ایمان نہیں ہے جس سے لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جاتا ہے، بلکہ حقیقی ایمان ہے اور یہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر اور اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اُن کے ظہور سے اِس میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے دوسری جگہ اِسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے اعماق میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ چنانچہ انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجاے اُس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

ـــــــــــــــ

کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ(5) یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَاتَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ(6) وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ(7) لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ(8)

ترجمہ

اِسی طرح کی صورت اُس وقت پیش آئی تھی،11 جب تمھارے پروردگار نے ایک مقصد حق کے ساتھ12 تم کو گھر سے نکلنے کاحکم دیا اور مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا۔13 وہ اِس مقصد حق کے معاملے میں تم سے جھگڑ رہے تھے، اِس کے باوجود کہ (اُن پر) وہ اچھی طرح واضح تھا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ گویا آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔14 اُس وقت کو یاد کرو، جب اللہ تم لوگوں سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمھیں مل جائے گا۔15 تم چاہتے تھے کہ تمھیں وہ ملے جو مسلح نہیں ہے16 اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے17 حق کا بول بالا کرے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھائے، خواہ اِن مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔18 5-8

تفسیر

11 اصل میں لفظ'کَمَا'ہے۔ یہ واقعہ سے واقعہ کی مماثلت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ اِس صورت میں اِس کا مشبہ اور مشبہ بہ متعین الفاظ کے اندر نہیں ہوتا، بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ اوپر مال غنیمت سے متعلق نزاع کا ذکر ہوا ہے۔ اِسی طرح کا ایک معاملہ جنگ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے پیش آیا تھا۔ تزکیہ و تطہیر کی ضرورت سے قرآن نے اُسے بھی ساتھ ہی موضوع بنا لیا ہے۔

12 اِس کی وضاحت آگے فرما دی ہے کہ وہ مقصد حق یہ تھا کہ حق کا بول بالا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اِس سے قرآن نے اُن روایتوں کی تردید کر دی ہے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اُس تجارتی قافلے کو لوٹنے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تھے جو ابوسفیان کی سربراہی میں شام سے واپس آ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ ابتدا ہی سے قریش کی ہزیمت پیش نظر تھی اور نکلنے کی ہدایت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی تھی تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے۔ یہ چیز ، ظاہر ہے کہ کسی تجارتی قافلے کو لوٹ لینے سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔

13 آیت میں 'فَرِیْقًا'کا لفظ بتاتا ہے کہ اُن لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی جن پر یہ دیکھ کر دہشت طاری ہو رہی تھی کہ پیش نظر تجارتی قافلہ نہیں، بلکہ قریش کا لشکر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسی لشکر کی سرکوبی کے لیے مدینہ سے نکل رہے ہیں۔ تاہم یہ گروہ اتنا قابل لحاظ ضرور تھا کہ مسلمانوں کی جماعت کے تزکیہ و تطہیر کے لیے اِس کا رویہ زیر بحث آیا ہے۔

14 اصل میں لفظ 'یُجَادِلُوْنَکَ'آیا ہے۔ اِس کے معنی یہاں بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اِس کے باوجود کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا اُن پر واضح تھا کہ آپ لشکرہی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، وہ موت کے خوف سے آخر وقت تک سخن سازی کرتے اور زور لگاتے رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کو قائل کر لیں کہ لشکر کے مقابلے میں جانے کے بجاے قافلے کو لوٹنا زیادہ قرین مصلحت ہے، اِس سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو سنبھالنے میں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے۔

15 اِس وعدے میں ابہام کا اسلوب ہے۔ یعنی دو ٹوک انداز میں یہ نہیں کہا گیا کہ تجارتی قافلے کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے حملے کے لیے فوج بھیج دی ہے، اُس کے مقابلے کے لیے نکلو، اللہ اُس کو تمھارے قابو میں کر دے گا، بلکہ ابہام کا انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک تمھیں مل جائے گی، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس سے مخلصین اور منافقین کو الگ الگ کرنا مقصود تھا تاکہ ایک بڑی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے یہ اندازہ ہو جائے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ چنانچہ اِس موقع پر مہاجرین و انصار کے اکابر کی جو تقریریں روایتوں میں نقل ہوئی ہیں، اُن سے صاف واضح ہے کہ وہ حضور کا یہ منشاپوری طرح سمجھ گئے تھے*۔(* السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٢٣٣۔) استاذ امام کے الفاظ میں، اُنھوں نے آپ کے استفسار کے جواب میں ایسی تقریریں کیں جن کی گونج اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی، جن کا ایک ایک لفظ میدان جہاد کا رجز ہے اور جن کی حرارت ایمانی چودہ سو سال گزرنے پر بھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔ یہ تقریریں، ظاہر ہے کہ کسی تجارتی قافلے پر حملے کے لیے نہیں کی گئی تھیں۔

16 یہ ضعیف الایمانوں کے اُسی گروہ قلیل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اُن پر بھی، جیسا کہ فرمایا ہے، حقیقت بالکل واضح تھی، مگر اپنی بزدلی کے باعث وہ چاہتے تھے کہ قافلے کاقصد کیا جائے جو غیر مسلح ہے تاکہ کوئی خطرہ پیش نہ آئے اور مال غنیمت بھی حاصل ہو جائے۔

17 اِس سے وہ کلمات مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کے لیے گھر سے نکالنے اور بعد میں آپ کی تائید و نصرت کے لیے صادر ہوئے۔

18 اِن آیتوں میں جو کچھ فرمایا گیا ہے، اُس کی روشنی میں غزوئہ بدر کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہے جو سیرت و مغازی کی کتابوں میں پیش کی گئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمانوں کے ذہن میں قریش کے قافلہ تجارت سے تعرض کرنے کا کوئی خیال موجود نہیں تھا۔ مدینہ پر حملے کی ساری اسکیم قریش نے بنائی اور اُس کے لیے قافلہ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا۔ قریش مدینہ میں مسلمانوں کے جڑ پکڑنے سے بہت خائف تھے۔ مذہبی عناد کے علاوہ اُنھیں یہ بھی اندیشہ تھاکہ اب مکہ اور شام کی تجارتی شاہ راہ اُن کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ اِس وجہ سے آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ہی وہ اِس فکر میں تھے کہ کوئی عذر تلاش کر کے مسلمانوں کو ایک قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ اب یا تو قافلہئ تجارت کے سالار ابوسفیان نے واپسی کے موقع پر کوئی وہمی خطرہ مسلمانوں کے حملے کا محسوس کیا ہو کہ آدمی بھیج کر قریش کو حملے کی خبر بھیج دی یا اِس کے لیے بھی پہلے سے قریش کے لیڈروں میں کوئی سازش رہی ہو، بہرحال ابوسفیان کی اطلاع پر مکہ سے ایک بھاری بھرکم لشکر مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ مرحلہ ہے جس میں آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا کے ذریعے سے یہ اطلاع ہوتی ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوناہے۔ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے بعد مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کاارادہ فرمایا اور مسلمانوں کے حوصلے کااندازہ کرنے کے لیے صورت حال مبہم انداز میں اُن کے سامنے رکھی کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے ہمارا مقابلہ ہو گا اور وہ ہم سے شکست کھائے گی۔ مسئلہ کے سامنے آتے ہی مہاجرین و انصار سب سمجھ گئے کہ قریش کی فوج آرہی ہے اور اُس سے معاملہ درپیش ہے۔ چنانچہ اُن کے لیڈروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفاداری اور اسلام کے لیے اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا۔ البتہ ایک مختصر سی ٹولی اُن میں ایسی بھی تھی جس نے اپنا زور اِس بات کے لیے لگایا کہ قریش کی فوج کے بجاے قافلہئ تجارت کا رخ کیا جائے تاکہ بغیر ایک قطرہئ خون بہائے بھاری غنیمت ہاتھ آئے۔ اِسی گروہ کو بے نقاب کرنے کے لیے حضور نے اپنی بات مبہم انداز میں پیش کی تھی تاکہ جن لوگوں کے اندر کوئی کمزوری چھپی ہوئی ہے، وہ اپنی کمزوری ظاہر کر دیں اور مخلص و منافق میں مرحلہئ جنگ پیش آنے سے پہلے ہی امتیاز ہوجائے۔''(تدبرقرآن٣/ ٤٣٩)

[باقی]