(سورۃ الانفال (۷


عربی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِِلَاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا اِنَّهُمْ لاَيُعْجِزُوْنَ (59) وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِه عَدُوَّاللّٰهِ وَعَدُوَّکُمْ وْاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ لاَ تَعْلَمُوْنَهُمْ اَللّٰهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيْکُمْ وَاَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُوْنَ (60) وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَکَّلْ عَلَي اللّٰهِ اِنَّه، هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (61) وَاِنْ يُّرِيْدُوْۤا اَنْ يَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰهُ هُوَالَّذِيْۤۤ اَيَّدَکَ بِنَصْرِه وَبِالْمُؤمِنِيْنَ (62) وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ لَوْاَنْفَقْتَ مَا فِي اْلاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ اِنَّه، عَزِيْزٌ حَکِيْمٌ (63) يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُکَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤمِنِيْنَ (64) يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ اِنْ يَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ وَاِنْ يَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُوْنَ (65) اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ يَّکُنْ مِّنکُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ وَاِنْ يَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْۤا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (66)

ترجمہ

یہ منکرین اِس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ نکل بھاگیں گے، یہ ہرگز ہمارے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔100 تم سے جس قدر ہو سکے اِن کے لیے فوج101 اور بندھے ہوئے گھوڑے102 تیار رکھو جس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے اِن دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور اِن کے علاوہ دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ہو، اللہ اُنھیں جانتا ہے۔103 (اِس مقصد کے لیے) جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا104 اور تمھارے لیے کوئی کمی نہ ہو گی۔ 60-59 یہ لوگ اگر صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اِس کے لیے جھک جاؤ105 اور اللہ پر بھروسا رکھو۔ بے شک، وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (تم مطمئن رہو)، اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔106وہی ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔اگر تم زمین میں جو کچھ ہے، سب خرچ کر ڈالتے، تب بھی اُن کے دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے، مگر اللہ نے اُنھیں جوڑ دیا۔107 یقیناًاللہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔63-61 اے پیغمبر، تمھارے لیے اللہ کافی ہے اور یہی مومنین کافی ہیں جنھوں نے تمھاری پیروی اختیار کر لی ہے۔108 اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس ) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔109 65-64 اِس وقت، البتہ اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، (اِس لیے کہ) اُس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے۔ اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں۔110 66

تفسیر

100 اصل الفاظ ہیں:'اِنَّھُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ'۔یہ اُسی مفہوم میں ہے جس میں 'اعجزہ الصید' کا جملہ بولا جاتا ہے، یعنی 'فاتہ ولم یقدر علیہ'۔

101 اصل میں لفظ قوت آیا ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عددی قوت کے لیے بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمھارے پاس مجاہدین کی ایک منظم فوج ہر وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت اِن منکرین حق کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ یہ نہ ہو کہ جب کسی جنگی مہم کی صورت پیش آئے تو رضاکاروں کو اکٹھا کرنا شروع کر دو۔ اپنی استطاعت کے مطابق یہ فوجی قوت اب تمھیں تیار رکھنی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ بڑھا لینی چاہیے۔

102 یعنی وہ گھوڑے جنھیں تربیت دے کر خاص اِسی مقصد کے لیے تیار رکھا گیا ہو۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ اُس زمانے کی جنگ میں گھوڑوں کو وہی اہمیت حاصل تھی جو اِس زمانے میں ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کو حاصل ہے۔

103 یہ اُن قوتوں کی طرف اشارہ ہے جو ابھی سامنے نہیں آئی تھیں، لیکن اللہ کو معلوم تھا کہ جلد یا بدیر کسی نہ کسی صورت میں سامنے آجائیں گی۔ مثلاً یہود اور منافقین، نیز وہ قبائل جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر جانب داری کے معاہدے کر رکھے تھے، پھر رومی، غسانی اور ایرانی ۔ یہ بھی متنبہ ہو چکے تھے اور سرزمین عرب میں جوکچھ ہو رہا تھا، اُسے تشویش کی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

104 یعنی اُسی اصول کے مطابق پورا کر دیا جائے گا جو نیکیوں کے اجر کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے۔

105 سورۂ توبہ میں منکرین حق کے استیصال کا آخری حکم آنے سے پہلے یہی ہدایت تھی کہ قریش اگر جنگ کرنا چاہیں تو اُن کے ساتھ جنگ اُس وقت تک جاری رکھی جائے، جب تک سرزمین عرب میں دین سب اللہ کے لیے نہ ہو جائے، لیکن وہ صلح کے خواہاں ہوں تو اُن سے صلح کر لی جائے تاکہ یہی مقصد امن کے ماحول میں اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے حاصل کیا جا سکے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اِسی ہدایت کے تحت کیا گیا تھا۔ قریش جب اِس معاہدے پر قائم نہیں رہے تو اِس کے بعد، البتہ حکم دے دیا گیا کہ اب اِن سے ایمان کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ ہدایات اگرچہ خاص اُن لوگوں کے لیے تھیں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اتمام حجت کیا گیا تھا، لیکن اِن سے یہ رہنمائی بعد کے زمانوں کے لیے بھی یقیناًحاصل ہوتی ہے کہ جنگ کا مقصد اگر صلح سے حاصل ہو سکتا ہو تو صلح کو ترجیح دینی چاہیے اور محض اِس اندیشے سے صلح کی پیش کش ٹھکرانی نہیں چاہیے کہ دشمن نیک نیتی سے صلح نہیں کرنا چاہتا، بلکہ غداری کا ارادہ رکھتا ہے۔

106 اِس اجمال میں جو کچھ مضمر ہے، قلم اُس کی تعبیر سے قاصر ہے۔

107 اوپر فرمایا ہے کہ اللہ نے مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی۔ یہ اُس کی وضاحت ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی، بلکہ خاص تائید الٰہی کا کرشمہ تھا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... کسی شیطانی مقصد کے لیے کسی بھیڑ کا اکٹھا کر لینا تو مشکل نہیں ہوتا، ہر نعرہ باز یہ کام کر سکتا ہے، لیکن خاص اللہ کے کام کے لیے جس میں خدا کی خوشنودی اور آخرت کی طلب کے سوا کسی بھی دوسری چیز کا کوئی ادنیٰ شائبہ نہ ہو، کلمۂ حق کے جاں نثاروں کی ایک جمعیت کا فراہم ہو جانا بغیر اِس کے ممکن نہیں ہوا کہ اللہ نے تائید کی اور اُس کی توفیق بخشی نے رہنمائی فرمائی۔ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے تھے، اپنی یہ نئی زندگی اختیار کرنے سے پہلے، دور جاہلیت کی تمام برائیوں میں آلودہ تھے، اُن کے قبیلے جدا جدا تھے اور اُن میں شدید قسم کے تعصبات تھے، اُن کے دیوتا الگ الگ تھے اور یہ آنکھیں بند کر کے اُن کی پرستش کرتے تھے۔ اُن کے مفادات باہم متصادم تھے اور یہ اُن کے حاصل کرنے کے لیے جائز و ناجائز اور عدل و ظلم کے تمام حدود و قیود سے آزاد تھے۔ اِس طرح کے لوگوں کو اُن کے تمام تعصبات و مفادات اور تمام رسوم و عادات سے چھڑا کر بالکل ایک نئے سانچے میں ڈھال دینا اور اُس سانچے کو اُن کی نگاہوں میں اتنا محبوب بنا دینا کہ اُس کی خاطر وہ قوم، وطن، خاندان، جائداد اور بیوی بچے، سب کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوں، یہ خدا ہی کے لیے ممکن ہے۔ کوئی انسان یہ کام نہیں انجام دے سکتا، اگرچہ وہ دنیا جہان کے سارے وسائل اُس پر صرف کر ڈالے۔''(تدبرقرآن۳/ ۵۰۵)

108 یعنی مدد کے لیے اللہ اور رفاقت کے لیے یہی تھوڑے سے مسلمان کافی ہیں، لہٰذا منکرین حق کی کثرت اور اپنے ساتھیوں کی قلت کی فکر نہ کرو۔ یہ گویا وہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی ہے جو اوپر' فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ، ھُوَالَّذِیْٓٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہ وَبِالْمُؤمِنِیْنَ'کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔

109 یہ اُس جہاد کے لیے ذمہ داری کی حد بیان کی ہے جس کا حکم پیچھے'حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہ لِلّٰہِ'کے الفاظ میں دیا گیا ہے۔ یہاں اُسی کے لیے ابھارنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ مسلمانوں کی جماعت چونکہ اُس وقت زیادہ تر مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اور ایمان و اخلاق کے اعتبار سے اُس میں کسی نوعیت کا کوئی ضعف نہ تھا، اِس لیے وہ پابند کیے گئے کہ دس کے مقابلے میں ایک بھی ہوں تو اِس ذمہ داری کو پورا کریں۔ ایمان و اخلاق کی قوت کو یہاں 'فِقْہ'سے تعبیر فرمایا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''... 'فقہ' سے مراد بصیرت ایمانی ہے۔ یہی بصیرت انسان کا اصل جوہر ہے۔ اِس بصیرت کے ساتھ جب مومن میدان جنگ میں نکلتا ہے تو وہ اپنے تنہا وجود کے اندر ایک لشکر کی قوت محسوس کرتا ہے، اُس کو اپنے دہنے بائیں خدا کی نصرت نظر آتی ہے، موت اُس کو زندگی سے زیادہ عزیز و محبوب ہو جاتی ہے، اِس لیے کہ اُس کی بصیرت اُس کے سامنے اُس منزل کو روشن کر کے دکھا دیتی ہے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی بصیرت اُس کے اندر وہ صبر و ثبات پیدا کرتی ہے جو اُس کو تنہا اِس بصیرت سے محروم دس آدمیوں پر بھاری کر دیتی ہے۔''

(تدبرقرآن۳/ ۵۰۶)

110 یعنی اصل حکم تو وہی ہے، لیکن اِس وقت بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی ہے،مگر دین کی بصیرت کے لحاظ سے وہ سابقین اولین کے ہم پایہ نہیں رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری کا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اب اُن کے سو پابند ہوں گے کہ اللہ کے حکم پر دو سو کے مقابلے میں جنگ کریں۔

سورۂ انفال کی یہ آیتیں، اگر غور کیجیے تو جہاد و قتال کی ذمہ داری کے ساتھ اُس میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ضابطہ بھی بالکل متعین کر دیتی ہیں۔ اِن میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جنگ میں نصرت الٰہی کا معاملہ الل ٹپ نہیں ہے کہ جس طرح لوگوں کی خواہش ہو، اللہ کی مدد بھی اُسی طرح آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اِس کے لیے ایک ضابطہ مقرر کر رکھا ہے اور وہ اِسی کے مطابق اپنے بندوں کی مدد فرماتاہے۔ آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نصرت الٰہی کا یہ ضابطہ درج ذیل تین نکات پر مبنی ہے:

اول یہ کہ اللہ کی مدد کے لیے سب سے بنیادی چیز صبر و ثبات ہے۔ مسلمانوں کی کسی جماعت کو اِس کا استحقاق اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتا، جب تک وہ یہ صفت اپنے اندر پیدا نہ کر لے۔ اِس سے محروم کوئی جماعت اگر میدان جہاد میں اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ 'صٰبِرُوْنَ'اور 'صَابِرَۃٌ'کی صفات سے اِن آیتوں میں یہی بات واضح کی گئی ہے۔'وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ'کے الفاظ بھی آیات کے آخر میں اِسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔

دوم یہ کہ جنگ میں اترنے کے لیے مادی قوت کا حصول ناگزیر ہے۔ اِس میں تو شبہ نہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور آدمی کا اصل بھروسا اللہ پروردگارعالم ہی پر ہونا چاہیے، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا عالم اسباب کے طور پر بنائی ہے۔ دنیا کی یہ اسکیم تقاضا کرتی ہے کہ نیکی اور خیر کے لیے بھی کوئی اقدام اگر پیش نظر ہے تو اُس کے لیے ضروری وسائل ہر حال میں فراہم کیے جائیں۔ یہ اسباب و وسائل کیا ہونے چاہییں؟ دشمن کی قوت سے اِن کی ایک نسبت اللہ تعالیٰ نے انفال کی اِن آیتوں میں قائم کر دی ہے۔ یہ اگر حاصل نہ ہو تو مسلمانوں کو اِس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ جہاد کے شوق میں یا جذبات سے مغلوب ہو کر اِس سے پہلے اگر وہ کوئی اقدام کرتے ہیں تو اُس کی ذمہ داری اُنھی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِس صورت میں اُن کے لیے کسی مدد کا ہرگز کوئی وعدہ نہیں ہے۔

سوم یہ کہ مادی قوت کی کمی کو جو چیز پورا کرتی ہے، وہ ایمان کی قوت ہے۔'عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا'اور'بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ'میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔'ضَعْف'کا لفظ عربی زبان میں صرف جسمانی اور مادی کمزوری کے لیے نہیں آتا، بلکہ ایمان و حوصلہ اور بصیرت و معرفت کی کمزوری کے لیے بھی آتا ہے۔ اِسی طرح 'لَا یَفْقَھُوْنَ' کے معنی بھی یہاں اِس کے مقابلے میں ایمانی بصیرت سے محرومی ہی کے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ منکرین حق چونکہ اِس بصیرت سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں اِس معرفت سے خوب خوب نوازا ہے، اِس لیے تم اگر ہزار کے مقابلے میں سو بھی ہو گے تو اللہ کی نصرت سے تمھیں اُن پر غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ تاہم اِس بصیرت میں کمی ہوئی تو یہ نسبت بھی اِس کے ساتھ ہی تبدیل ہو جائے گی۔

نصرت الٰہی کا یہ ضابطہ قدسیوں کی اُس جماعت کے لیے بیان ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اور براہ راست اللہ کے حکم سے میدان جہاد میں اتری۔ بعد کے زمانوں میں، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ایمانی حالت کے پیش نظر یہ نسبت کس حد تک کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

[باقی]