سیدنا ابراہیم حضرت نوح کی اولاد ہیں [۱]


یہ علم کی دنیا میں ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ سیدناابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ یہ حقیقت جس طرح کتاب ِتورات کے اندر بیان ہوئی ہے[1]، اسی طرح قرآن میں بھی مکمل طورپر اس کی تصدیق ہوئی ،یہاں تک کہ اس میں ایک اہم استدلال کی بنیادبھی اس پر اٹھائی گئی ہے۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰ٘ي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ. ذُرِّيَّةًۣ بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ.(آل عمران۳: ۳۳ -۳۴)''اس میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اورنوح کو، اورابراہیم اورعمران کے خاندان کوتمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر منتخب فرمایا۔ یہ ایک دوسرے کی اولادہیں اوراللہ سمیع وعلیم ہے۔''

اگراس آیت کوموضوعیت سے بالکل پاک ہوکرپڑھاجائے تویہ بات ہرطرح سے واضح ہوجاتی ہے کہ سیدنا ابراہیم حضرت نوح کی نسل میں سے ہیں ،اس لیے کہ اس میں بتادیاگیاہے کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کی اولاد ہیں، یعنی نوح آدم کی اولادہیں ،آل ابراہیم نوح کی اور آل عمران آل ابراہیم کی۔تاہم ،آیت کے اس متبادر مفہوم پربھی بعض حضرات نے آج کے دورمیں کچھ سوالات اٹھادیے ہیں اوروہ لوگ اس بات کے درپے ہوئے ہیں کہ چند موہوم احتمالات کی بنیادپراس تاریخی حقیقت کامطلق انکارکردیں ۔ہم قرآن مجیدکے طالب علم ہیں ، چنانچہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اپنے جیسے طالب علموں کے لیے اس آیت کواب مزیدکھول کر بیان کریں اوراس کے لیے توضیح کے وہ اسالیب اختیار کریں کہ اس پراٹھائے گئے سوالات کاجواب بھی آپ سے آپ ہوجائے۔

سب سے پہلے اس آیت میں دوچیزوں کی وضاحت ہوجانی چاہیے :ایک 'ذُرِّيَّة' کالفظ اور دوسری 'بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' کی ترکیب۔

ذُرِّيَّة

عربی زبان میں اس لفظ کے اصل معنی کسی شخص کی اولادکے ہیں ۔اسے قرآن میں کئی مقامات پراس معنی میں استعمال کیاگیا ہے، جیساکہ اس آیت میں :

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً.(الرعد ۱۳: ۳۸)''ہم نے،(اے پیغمبر)،تم سے پہلے بھی رسول بھیجے اور(چونکہ انسان ہی تھے،اس لیے)ان کو بیویاں بھی دیں اوراولادبھی۔''

لفظ کے اسی معنی کااطلاق ہے کہ یہ عربی زبان میں کم عمروالی اولاد،یعنی بچوں کے لیے اوربعض اوقات بڑی عمر کی اولاد،یعنی نوجوانوں کے لیے بھی استعمال ہواہے۔ان دونوں استعمالات کی مثالیں بالترتیب یہ ہیں :

ألا لاتقتلن ذریة، قیل: لم یارسولاللہ، ألیس ھم أولاد المشرکین؟ قال:"أولیس خیارکم أولاد المشرکین".(نسائی،رقم۸۶۱۶)''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لوگو،بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو۔لوگوں نے کہا:یارسول اللہ، کیوں نہ قتل کریں ، کیاوہ مشرکین کی اولاد نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے جو بہتر ہیں (کہ آج اسلام لے آئے ہیں )، کیا وہ بھی کل تک مشرکین کی اولاد نہ تھے؟''فَمَا٘ اٰمَنَ لِمُوْسٰ٘ي اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖعَلٰي خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَا۠ئِهِمْ اَنْ يَّفْتِنَهُمْ. (یونس۱۰: ۸۳) ''مگرموسیٰ کوفرعون کے ڈرسے اورخوداپنی قوم کے بڑوں کے ڈرسے اُس کی قوم کے چندنوجوانوں کے سوا کسی نے نہیں ماناکہ کہیں فرعون انھیں کسی فتنے میں نہ ڈال دے۔''

کبھی یہ چھوٹے بچوں کے ساتھ اُن کے وجودکاسبب بننے والی عورتوں کوبھی محیط ہو جاتا ہے۔اس روایت میں حضرت سعدبن معاذنے اسے اسی مفہوم میں استعمال کیاہے:

إني أحکم أن تقتل المقاتلة وأن تسبی الذریة.( بخاری،رقم۳۰۴۳)''میرافیصلہ ہے کہ مقاتلین کوقتل کردیاجائے اور ان کے بچوں اورعورتوں کوقیدکرلیاجائے۔''

'ذُرِّيَّة' کاایک معنی'' نسل'' بھی بتایا جاتا ہے۔یہ اس لفظ کااصل میں دوسرامعنی نہیں ،بلکہ یہ اولاد کے سلسلے کی ایک دوسرے لفظ کے ساتھ تعبیرہے۔البتہ، نسل کے اس مفہوم کوبنیادبناتے ہوئے بعض اوقات اسے جنس اورنوع کے لیے بھی برت لیا جاتا ہے۔اول الذکرکی مثال یہ آیت ہے:

لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗ٘ اِلَّا قَلِيْلًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۶۲)''اگرتومجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے سوااُس کی تمام نسل کو چٹ کر جاؤں گا۔''
ثانی الذکرکی مثال اس آیت میں ہے:

وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ.(یٰس۳۶: ۴۱)''اوران کے لیے ایک بہت بڑی نشانی یہ بھی ہے کہ ان کی نسل کوہم نے (ان سے)بھری ہوئی کشتیوں میں اٹھارکھاہے۔''

ان مثالوں کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ 'ذُرِّيَّة'کااصل مطلب اولادہے اوریہ مطلب اُس کے تمام اطلاقات میں ایک جزولاینفک کی طرح موجود رہتا ہے[2]۔ لغت کی کوئی کتاب یاعربی ادب کی کوئی نظیر، ہماری نظرسے ایسی نہیں گزری جس میں اس کا معنی اولادکے اس مفہوم سے بالکل مجردکرکے صرف ''لوگ''، یعنی الناس بتایاگیا ہو۔سو جن حضرات نے آج اس کے لیے ''لوگوں ''کا لفظ استعمال کیاہے ،اُنھیں اصل میں سورۂ یٰس کی مذکورہ آیت میں'ذُرِّيَّتَهُمْ' کی اضافت سے مغالطہ ہو گیاہے، دراں حالیکہ اس لفظ سے بھی ابناے نوع ،یعنی آدم کی اولادہی مرادلی گئی ہے۔ اب ہم اردوبولنے والوں کے لیے یہ تورواہے کہ ہم اس مفہوم کو ''اُن کے لوگوں ''کے الفاظ میں اداکریں کہ اردومیں ''لوگوں ''کالفظ ''اُن کے''کی اضافت کے ساتھ بیان نوع کے لیے بھی آجایاکرتا ہے، لیکن اس کے لیے محض ''لوگوں '' کا لفظ لاناکسی طرح بھی درست نہیں ہے جو 'الناس ' کا مفہوم دیتااوراس طرح 'ذُرِّيَّة'میں سے اولادکے مفہوم کوبالکلیہ خارج کردیتاہے۔

بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ

اس ترکیب میں پایاجانے والا 'مِنۡ'عام طورپر ابتداکے لیے ہوتا ہے[3]۔ اوریہ ابتدا مجازی معنی میں بھی ہوسکتی ہے اور حقیقی معنی میں بھی۔اورمزیدیہ کہ اس میں بعض سے پہلے ایک مضاف بھی محذوف ہواکرتا ہے۔ اس بات کی وضاحت میں ذیل کی آیات غورطلب ہیں :

وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِّنْۣ بَعْضٍ.(النساء ۴: ۲۵)''اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے۔تم سب ایک ہی جنس سے ہو۔''اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۣ بَعْضٍ. (التوبہ۹: ۶۷) ''منافق مرداورمنافق عورتیں ،سب ایک ہی طرح کے لوگ ہیں ۔''

ان آیات میں 'بَعْض'سے پہلے ایک مضاف،یعنی جنس کالفظ محذوف ہے او ر 'مِنۡ'بھی یہاں ابتدا کے لیے آیا ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ پہلی آیت میں حقیقی اوردوسری آیت میں یہ اپنے مجازی معنی میں آیا ہے۔مجازی معنی میں اس لیے کہ یہاں پیش نظراس مدعا کو بیان کرناہے کہ منافق مرداورمنافق عورتیں ہم مشرب اورایک دوسرے کے موافق ہیں، نہ کہ اُن کے بارے میں یہ بتاناکہ وہ آپس میں نسب کاکوئی تعلق اور ناتا رکھتے ہیں ۔

دوسری بات جواس ترکیب کے بارے میں سمجھ لینی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس میں دونوں طرف سے ہونے کا مفہوم اصلاًموجود نہیں ہوتا،بلکہ اس کے متعلق کلام سے نتیجے کے طورپر اس میں پیداہوتاہے۔جیساکہ کسی جماعت کے بعض افرادکے لیے جب یہ کہاجائے کہ وہ دوسرے افرادکی جنس میں سے ہیں تواس کا مطلب، ظاہرہے یہی ہوگاکہ دوسرے بھی پہلوں کی جنس میں سے ہیں ۔اسی طرح جب بعض افراد کے بارے میں کہا جائے کہ وہ دوسروں کے مماثل یااُن کے دوست ہیں تونتیجے کے لحاظ سے دوسرے بھی اُن کے مماثل اور دوست ہی کہلائیں گے۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اس ترکیب میں کون سا لفظ محذوف ہے؟ کیااس میں دونوں طرف کامعنی پیداہواہے یانہیں ؟اور اگرہواہے تووہ کس لحاظ سے ہواہے؟ان تمام باتوں کافیصلہ اس ترکیب کے متعلقات اورجس سیاق وسباق میں یہ آئی ہو،اُس کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔جیساکہ مقدم الذکرآیت میں جب مسلمانوں کو غلام عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی تواُس وقت کے عرب معاشرے کی رعایت سے مسلمانوں کوبتایاگیاکہ وہ عورتیں چاہے غلام ہیں ،مگرخداپرایمان رکھتی ہیں اوروہی بہتر جانتاہے کہ تم میں سے کون کس قدرایمان والا ہے۔اسی طرح وہ غلام ہیں توکیا ہوا،'بَعْضُكُمْ مِّنْۣ بَعْضٍ'،آخرتم سب ایک دوسرے کی جنس ،یعنی ایک باپ کی اولادہو۔دیکھ لیاجاسکتاہے کہ اس ترکیب میں اگر''جنس ''کا مضاف اور دونوں طرف سے برابری کامفہوم پیداہواہے تواس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے سیاق میں عورت اور مرد کا ذکر اور آزاد و باندی کے درمیان میں نکاح کرنے کامضمون آیاہواہے ۔

یہاں ضمنی طورپریہ بات بھی صاف ہوجانی چاہیے کہ اس ترکیب اور 'حسین منيوأنا من حسین' کے اسلوب میں کوئی مماثلت نہیں ہے،جیساکہ ان حضرات کواس کاخیال ہوگیاہے۔بلکہ اس روایت میں جو 'من'آیاہے، وہ اصل میں ابتداکے بجاے تبعیض کا ہے[4]۔ اس تبعیض میں اتصال کا مفہوم پایا جاتا ہے جونتیجے کے لحاظ سے محبت اورتعلق اورکبھی مماثلت جیسے مضامین کومحیط ہوجایاکرتا ہے[5]۔ اوریہ وہی اسلوب ہے جو مثال کے طور پر، قرآن نے ذیل کی آیت میں استعمال کیاہے:

فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّيْﵐ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّيْ.(البقرہ ۲: ۲۴۹)''جواس کاپانی پیے گا،وہ میراساتھی نہیں ہے اورجس نے اس ندی سے کچھ نہیں چکھا،وہ میرا ساتھی ہے۔''

بہرکیف،'ذُرِّيَّة' کا لفظ اور 'بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' کی ترکیب واضح ہوجانے کے بعداب ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس آیت کاصحیح مفہوم کیاہے۔

آیت کی تفہیم

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰ٘ي اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ. ذُرِّيَّةًۣ بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ.(آل عمران۳ :۳۳ -۳۴)

''اس میں شبہ نہیں کہ اللہ نے آدم اورنوح کو،اورابراہیم اورعمران کے خاندان کوتمام دنیاوالوں پرترجیح دے کرمنتخب فرمایا۔یہ ایک دوسرے کی اولادہیں اوراللہ سمیع وعلیم ہے۔''

اس آیت میں 'بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' میں آنے والا 'مِنْ'اپنے مبدا کوبیان کررہاہے اوراس ترکیب کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہ بات بڑی حدتک واضح ہے۔البتہ،اس ترکیب کے بارے میں یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے حقیقی معنی میں آئی ہے یامجازی معنی میں ؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ اس احتمال کوہم کسی درجے میں مان سکتے تھے کہ یہ مجازی معنی میں آئی ہو اورصرف یہ بتارہی ہوکہ حضرات آدم ونوح اورآل ابراہیم و آل عمران ، سب ہم مشرب اورآپس میں ایک جیسے ہیں [6]۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس پر'ذُرِّيَّة'کا ایک لفظ آگیا ہے ، اور اس کے ہوتے ہوئے اب یہ ممکن نہیں رہاکہ اس ترکیب کامجازی معنی مرادلیاجاسکے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ 'بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' کا موصوف ہے اور اسے کسی صورت مہمل نہیں چھوڑاجاسکتا،بلکہ ضروری ہے کہ یہ اپنی صفت ،یعنی اس ترکیب سے متعلق ہواوراس کے معنی کی تعیین کرے۔دوسری صورت میں یہ لفظ ساری بات سے غیرمتعلق ہوکررہ جائے گااورسامع کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا کرے گاکہ اس جملے میں اولاد کا ذکر کیوں ہوا اور اولادسے مرادآخرکس کی اولادہے؟ [7] سواس لفظ کے زیر اثر اس ترکیب کی تالیف کچھ یوں بنتی ہے:'بعضھا من نسل بعضیا بعضھا من ذریة بعض'۔ اورظاہرہے کہ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسے یہاں اس کے حقیقی معنی میں برتا گیا ہے اوراس کامطلب اب یہی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کی اولاد ہیں ۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اگرسیاق وسباق کوبھی ملالیاجائے جو حضرت مسیح کی الوہیت کاانکارکررہااورآپ کو مریم کے گھرمیں جنم لینے والاایک انسان بتارہا ہے تواس ترکیب میں مجازکے ہرپہلوکی مطلق نفی اوراس کے حقیقی ہونے کی اورزیادہ تاکیدہوجاتی ہے۔

اسی لفظِ ''اولاد''کے ہوتے ہوئے اب یہ بھی ممکن نہیں رہاکہ اس ترکیب میں دونوں طرف کامفہوم برابرکی حیثیت سے مانا جاسکے،اس لیے کہ یہ عقلاًبھی اورعملی طورپربھی بالکل محال ہے کہ بعض افرادایک دوسرے کی اولاد ہو سکیں ۔چنانچہ اس میں اب دونوں طرف کا مفہوم فقط اس قدرہوگاکہ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ باپ اوراولادکارشتہ رکھتے ہیں ۔

اس وضاحت کے بعداب آدم ونوح اورآل ابراہیم وعمران ،ان سب کے متعلق یہ آپ سے آپ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ حضرات ایک ترتیب سے ایک دوسرے کی اولادہیں ۔یہ ترتیب کس طرح سے ظاہرہوئی ہے ،اس کے بارے میں، البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ خاص اس ترکیب سے نہیں ،بلکہ اس کے متعلقات اوراُس علم کی وجہ سے پیداہوئی ہے جس کی رعایت سے اس کلام کاصدورہواہے۔ہماری بات کوسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے قرآن مجیدکے ایک اسلوب کواچھی طرح سے سمجھ لیاجائے۔اہل علم جانتے ہیں کہ اس میں بارہا ایسا ہوتاہے کہ بعض چیزوں کی تعیین جان بوجھ کرنہیں کی جاتی اوراُسے سامعین کے علم،اُن کی ذہانت اورعقل عام پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔مثلاً اس آیت میں فرمایاہے :

وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰي.(البقرہ ۲: ۱۱۱)''یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہو سکے گا،جب تک وہ یہودی یانصرانی نہ ہو۔''

یہاں اہل کتاب کااپنے بارے میں ایک دعویٰ بیان ہواہے،مگریہ بیان اس طرح سے ہواہے کہ قرآن کے اسالیب سے ناواقف کوئی شخص یہ خیال کرسکتاہے کہ اہل کتاب کے دونوں گروہ بحیثیت مجموعی یہ دعویٰ کیا کرتے تھے اوراِس سے اُن کی مراد یہ ہوتی تھی کہ جنت میں صرف ہم دونوں ،یعنی یہوداورنصاریٰ جائیں گے، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے ہرفریق دوسرے کوجنت کامستحق سمجھناتو بڑی دور کی بات، وہ دین کے معاملے میں اُس کی کوئی جڑبنیادہی نہ مانتاتھا۔اصل میں قرآن کے پیش نظریہ بات کہناتھا کہ ''یہود کہتے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا،جب تک وہ یہودی نہ ہواورنصاریٰ کہتے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا، جب تک وہ نصرانی نہ ہو۔''لیکن اُس نے اِس بیان کے لیے لف کااسلوب اختیارکیاہے اور اپنے مخاطب کی ذہانت اوراہل کتاب کی باہمی عداوت کے بارے میں اُس کے علم پراعتمادکرتے ہوئے اپنی بات کو ہر دو فریق کے اعتبارسے الگ سے متعین نہیں کیا۔

اسی طرح کامعاملہ زیربحث آیت میں ہواہے۔ صاحب"کشاف" نے'ذُرِّيَّةًۣ بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' کے فقرے کو آل ابراہیم اورآل عمران کا اوردوسرے نحوی حضرات، جیساکہ العکبری وغیرہ نے اسے 'نُوْحًا ' سمیت تینوں کابدل قراردے لیاہے، اورپھر اسی روشنی میں آیت کے معنی کی تعیین کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر ہماری راے میں اول تواسے بدل کے بجاے حال قراردیناچاہیے کہ یہی کلام کے سیاق سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔دوسرے جاس حال کے ذوالحال اور پھرآیت کے مطلب کی تعیین محض جملے کی نحوی تالیف سے کرنے کے بجاے مذکورہ بالا اسلوب کی روشنی میں کرنی چاہیے،اس لیے کہ یہاں متکلم کی طرف سے اس طرح کی کوئی تعیین سرے سے نہیں کی گئی، بلکہ حال کوان تمام اسماکے مجموعہ پرلاکراس کے معنی کی تعیین کو عقل عام، سامع کی ذہانت اوراُس کے موجودعلم پرچھوڑدیاگیا ہے۔ اب قرآن کے اس براہ راست سامع کے بارے میں توہم جانتے ہی ہیں کہ اُس کے لیے آدم ونوح کی شخصیات اورعمران وابراہیم کے خانوادے ہرگزاجنبی نہیں ہیں اور نہ اسے قرآن نے پہلی مرتبہ اُن سے متعارف کروایاہے،بلکہ وہ اُن سب سے اچھی طرح سے واقفیت رکھنے والی اُس روایت کا فردہے جسے مذہبی کتابوں میں لکھی ہوئی شہادتوں کی بھی بھرپور تائید حاصل ہے [8]۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے کانوں میں ابھی تک اکیسویں صدی میں ہونے والے ''انکشاف'' کی بھنک بھی نہیں پڑی ہے۔چنانچہ قرآن نے جب یہ کہا کہ ''اللہ نے ان لوگوں کو چنا، اس حال میں کہ یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں'' تو اُسے اس جملے میں کسی تعیین کوڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑی اوراُس نے بلاتامل یہ جان لیاکہ اِس کے حال کا ذو الحال کون ہے اورمزیدیہ کہ یہ تمام حضرات ایک ترتیب سے ایک دوسرے کی اولادہیں ۔

بلکہ اس طرح کی بات اگرہم اپنی زبان میں بھی اسی عدم تعیین کے ساتھ بیان کریں توہمارے سامعین بھی اصل مدعا کوفوراً پا لیتے ہیں ۔مثال کے طورپراگرہم یہ کہیں کہ ''خدا نے ظہیرالدین بابر،جلال الدین اکبر، شاہ جہاں اور شاہ عالم کوہندوستان کی حکومت عطا کی اوریہ سب ایک دوسرے کی اولاد ہیں ۔''تو ہمیں یقین ہے کہ ہروہ شخص جواردوزبان کاادنیٰ درجے کافہم اوران بادشاہوں کے بارے میں واجبی سی معلومات رکھتا ہو،یہ سوال کبھی نہیں کرے گاکہ اس میں ترتیب کہاں بیان ہوئی ہے ؟اوران میں سے کون کس کابا پ اورکون کس کی اولاد ہے؟بلکہ ہم عرض کریں کہ اگر اِس جملے میں ان بادشاہوں کاذکر ترتیب کے بغیربھی کردیاجائے توبھی اُسے اصل مرادپانے میں لمحہ بھر کی دیرنہ ہوگی۔بس اس میں شرط یہی ہے کہ وہ شخص منطق زدہ نہ ہوچکاہواوراس سے بڑھ کریہ کہ وہ کہیں ''ذوق''گزیدہ بھی نہ ہوچکاہو۔

غرض یہ کہ اس آیت سے بالکل واضح طورپرمعلوم ہو جاتا ہے کہ کیہ سب ایک دوسرے کی اولادہیں اور ترتیب سے ایک دوسرے کی اولادہیں ،یعنی نوح آدم کی،آل ابراہیم نوح کی اورآل عمران آل ابراہیم کی۔اوراس سے یہ بھی آپ سے آپ ثابت ہو جاتا ہے کہ سیدنا ابراہیم واقعتاً حضرت نوح کی اولادہیں ۔سواس قدرصریح بات کے ہوتے ہوئے ضرورت تونہیں رہ جاتی کہ اس کے خلاف راے کو زیر بحث لایاجائے ، مگرہمارے جیسے مبتدئین کی رعایت سے شاید اب ضروری ہوگیاہے کہ اس پربھی کچھ نہ کچھ تبصرہ کردیاجائے۔

''انکشاف'' اوراُس کے دلائل پرتبصرہ

ان حضرات نے کہاہے کہ سیدنا ابراہیم حضرت نوح علیہ السلام کی نہیں ،بلکہ اُن کے ایک صحابی کی اولاد ہیں[9]۔ اپنے اس انکشاف کو ثابت کرنے کے لیے یہ بنیادی طورپراس آیت سے دلیل لائے ہیں :

وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًي لِّبَنِيْ٘ اِسْرَآءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا. ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍﵧ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا. (بنی اسرائیل۱۷: ۲ - ۳)''ہم نے موسیٰ کوکتاب دی تھی اوراس کوانھی بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایاتھا،اس تاکیدکے ساتھ کہ میرے سواکسی کواپنا کارسازنہ بناؤ۔اے ان لوگوں کی اولادجنھیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ (ہمارا) ایک شکر گزاربندہ تھا۔''

ان کاکہناہے کہ نوح کی کشتی میں جب اُن کی اولاد کے علاوہ دیگرمومنین بھی سوارتھے توسوال پیداہوتا ہے کہ یہاں 'ذریة نوح' کے بجاے 'ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کیوں کہاگیا؟اس کامطلب ہے کہ قرآن یہاں بتاناچاہتاہے کہ بنی اسرائیل اولادنوح میں سے نہیں ہیں ،اس لیے کہ جب کشتی میں دیگرمومنین کے ہوتے ہوئے یہ کہاجائے کہ ''یہ نوح کے ہم سوار کی اولادہے۔''تو اس سے مذکورہ شخص کے اولادنوح میں سے ہونے کی نفی ہوجاتی ہے۔اس سے پہلے کہ ہم ان کے استدلال پرکوئی تبصرہ اوراس آیت کی صحیح تفہیم عرض کریں ،ہم چاہتے ہیں کہ چند باتوں کی اچھی طرح سے وضاحت کردیں کہ جن کا اہتمام کم سے کم اللہ کی کتاب سے استدلال کرتے ہوئے ضرورکیا جانا چاہیے۔اورہمیں یقین ہے کہ اس وضاحت سے قرآن کے طلبا کو جس طرح سے فائدہ ہوگا،اسی طرح اُن دلائل کی حقیقت بھی واضح ہوکر سامنے آجائے گی جواس راے کے حق میں ان کی طرف سے ضمنی طورپردیے گئے ہیں۔

۱۔ منشاے متکلم

فہم قرآن میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ماسیق الکلام لاجلہ معلوم کیاجائے ،یعنی دیکھاجائے کہ متکلم کی طرف سے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ،وہ ان کے ذریعے سے اصل میں کس بات کاابلاغ چاہتاہے ۔اس کی مثال کے لیے ان لوگوں کی طرف سے پیش کی گئی یہ آیت دیکھ لی جائے :

وَوَهَبْنَا لَهٗ٘ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ.(الانعام ۶: ۸۴)

''ہم نے ابراہیم کواسحٰق اور یعقوب عنایت فرمائے۔اُن میں سے ہرایک کوہم نے ہدایت بخشی۔اس سے پہلے یہی ہدایت ہم نے نوح کوبخشی تھی اور اُس کی ذریت میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اورہارون کوبھی۔''

اس آیت میں ابراہیم کی اولاد میں آنے والے انبیاکے بارے میں 'مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ' کے الفاظ آئے ہیں ۔ان حضرات نے چونکہ یہاں منشاے متکلم معلوم کرنے کاالتزام نہیں کیا،اس لیے انھیں اس لفظ میں آنے والی واحد کی ضمیرسے ایک غلط فہمی ہوگئی ہے۔انھوں نے سمجھاہے کہ پیچھے ابراہیم اورنوح، دونوں کا ذکرہواہے ،اس لیے ابراہیم اگرواقعہ میں حضرت نوح کی اولادہوتے تویہاں واحدکے بجاے'من ذریتھما' ،یعنی تثنیہ کے الفاظ آتے۔سو اِس سے انھوں نے مطلب برآری کی ہے کہ ابراہیم حضرت نوح کی اولادنہیں ہیں ، حالاں کہ اس مقام پرجب غورکیاجائے توصاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں خداکی طرف سے ان نبیوں کے نسب کابیان ہرگز نہیں ہورہاکہ اس کی رعایت کرتے ہوئے واحداورتثنیہ کے صیغوں میں سے کسی ایک کاانتخاب کیا جاتا۔ یہاں پیش نظرابراہیم علیہ السلام کے درجات کی بلندی کوبیان کرناہے ،اور اس کی دلیل یہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایاہے کہ ہم نے ابراہیم کوہدایت دے کرقوم کے خلاف انھیں حجت عطافرمائی اورہم جس کوچاہتے ہیں، اس کے درجات بلندکردیتے ہیں ۔چنانچہ اس کے بعداسی ذیل میں فرمایاہے کہ ہم نے اُن کی اولادمیں بھی نبی بھیجے جو اس ہدایت کے حامل ہوئے۔سو اِس کلام کی منشاومرادجان لینے کے بعدضمیرکے بارے میں واحد اور تثنیہ کی بات بڑی سیدھی ہو جاتی ہے ۔یعنی فضیلت کایہ بیان چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ہے ،اس لیے کسی اوروجہ سے نہیں ،بلکہ صرف اسی وجہ سے 'مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ' میں واحدکی ضمیرلائی گئی ہے ۔

یہ توہوئی منشاے متکلم سے اعراض کے نتیجے میں برآمدہونے والے استدلال کی حقیقت۔اب ہم بتاتے ہیں کہ اصل منشاکی روشنی میں اس آیت کوپڑھاجائے تواس میں سے ان لوگوں کی راے بالکل برعکس،ایک لطیف سا اشارہ ہمارے سامنے آتاہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ نے جب سیدناابراہیم کے فروع، یعنی اُن کی اولادمیں آنے والی نبوت کاذکرکیاہے تواُن کی فضیلت کے بیان کوہرطرح سے کامل کردینے کے لیے اس بیچ میں اُن کی اصل ،یعنی حضرت نوح کودی جانے والی نبوت کابھی ذکرکردیاہے ،اوریوں ہم جیسے طالب علموں کو یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ابراہیم واقعتاً حضرت نوح کی اولاد ہیں ۔

۲۔اوصاف کابیان

قرآن میں صالحین اوراشرارکابیان ہوتاہے تواس کے ساتھ بسااوقات اُن کے اوصاف کوبھی نمایاں کرکے بیان کیا جاتا ہے۔ اس سے مقصود ایک سے زائداہداف ہوا کرتے ہیں ،جیساکہ شریروں کی مخالفت اورشرپر تنبیہ اورنیکوکاروں کی حمایت اورنیکی کی ترغیب ۔ یہ اوصاف بعض مرتبہ کسی کے بارے میں اس قدرتسلسل سے بیان ہوتے ہیں کہ یہ اُس شخص یاگروہ کا امتیازی وصف قرار پا جاتے ہیں ،جیسا کہ قرآن میں یہوداورمنافقین کے لیے 'فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ' کاوصف کئی مقامات پربیان ہوا ہے اورایک طرح سے اُن کی گویاپہچان سی ہوگیا ہے۔اس وصف کوبیان کرنے کے پیش نظرکئی مطالب ہوتے ہیں جوہرمقام پرالگ سے متعین کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاًکسی مقام پرا س کے ذریعے سے بتایاہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ،اس لیے یہ شیطان کے حملے کاہدف بن رہے ہیں ۔یاکسی جگہ پر واضح کیاہے کہ ان کی طرف سے جو شرارتیں سرزدہورہی ہیں تواس کی وجہ ان کے دلوں کایہی روگ ہے ۔یاکہیں اس چیز کوبیان کیا ہے کہ ان لوگوں کے دل چونکہ پہلے سے بیمار تھے، اس لیے ان کی بیماری میں اب اوراضافہ ہوگیاہے ۔ کلام کے اندر یہ لطائف، ظاہرسی بات ہے، کبھی پیدانہ ہوتے اگر ان مقاما ت پر 'فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ' کے وصف کے بجاے یہود اور منافقین کے الفاظ استعمال کرلیے جاتے۔اس توضیح کی روشنی میں اب ان حضرات کی پیش کردہ ایک آیت کو دیکھ لیاجائے:

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۳)''اے ان لوگوں کی اولادجنھیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوارکیاتھا۔اس میں شک نہیں کہ وہ (ہمارا)ایک شکر گزاربندہ تھا۔''

قوم نوح پرآنے والے عذاب سے نجات پانے کے لیے چونکہ اس بات کولازم قراردیاگیاتھاکہ لوگ اُن کے ساتھ کشتی میں سوار ہوں ،اس لیے قرآن نے اُن کی معیت میں سوارہونے والوں کاوصف خصوصی طورپر نمایاں کیا ہے، اور اس قدرنمایاں کیاہے کہ یہ حضرت نوح کے ساتھ نجات پانے والے مومنین کاتعارف ،بلکہ ایک طرح سے اُن کادوسرانام ہوگیاہے۔اس کے لیے ایک جگہ یہ الفاظ آئے ہیں:

'وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ فِي الْفُلْكِ'۔ ایک مقام پرفرمایاہے :'مَنْ مَّعَكَ عَلَي الْفُلْكِ'۔[10] اسی طرح مذکورہ آیت میں اس کے لیے'مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کے الفاظ لائے گئے ہیں ۔سوواضح ہوجاناچاہیے کہ یہ بھی وصف بیان کرنے کاایک انداز ہے ،'' گھماؤپھراؤ''یا''پیچ دارقسم'' کا اسلوب ہرگز نہیں ہے ، جیساکہ ان حضرات نے اپنی راے نہ مان لیے جانے کی صورت میں اس پر ایک طرح سے اصرار کیاہے۔

۳۔احتمال اوردلیل میں فرق

کسی کلام کوبادی النظرمیں دیکھاجائے تواس میں بعض اوقات ایک سے زیادہ احتمالات واقع ہوجاتے ہیں۔اس صورت میں ضروری ہوتاہے کہ ا ُس کے الفاظ ،جملوں کی بندش اورسیاق وسباق پراچھی طرح سے غورکیاجائے ،یہاں تک کہ اُن میں سے ایک احتمال مرادکے طورپرمتعین ہوجائے اوراُس ایک کے سواباقی سب ختم ہوکررہ جائیں ۔یہ بچ جانے والا احتمال ہی اصل میں وہ مفہوم ہوتاہے جسے علم کی دنیا میں دلیل قرار دیا جاسکتا اوراس پراپنے استدلال کی بنیاد اٹھائی جاسکتی ہے ۔ان حضرات کے ہاں احتمال اوردلیل میں پایاجانے والایہ فرق بالکل بھی واضح نہیں ہے ،اس بات کے ثبوت میں ان کی طرف سے پیش کردہ یہ آیت دیکھ لی جاسکتی ہے:

وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ.(الصافات۳۷: ۸۳)''یقیناً اسی کے گروہ میں سے ابراہیم بھی تھا۔''

یہاں 'مِنْ شِيْعَتِهٖ' کے الفاظ آئے ہیں ۔یہ الفاظ اُس شخص کے لیے بھی لائے جاسکتے ہیں جوحضرت نوح سے صرف دعوت کا اشتراک اوراُس کی موافقت کاتعلق رکھتاہواوراُس کے لیے بھی جودعوت کے ساتھ ساتھ اُن سے نسب کاتعلق بھی رکھتاہو۔ان حضرات نے ان میں سے پہلے احتمال کوترجیح دی ہے اورکمال مہارت یہ ہے کہ کسی بھی دلیل کے بغیردی ہے،حالاں کہ ان کے لیے ضروری تھاکہ یہ جس طرح اپنے مفروضہ احتمال کو خوب محکم کرتے ،اسی طرح اس میں موجوددوسرے احتمال کی بھی مطلق نفی کرتے۔اوراس کے بعدکہیں جاکران کے لیے یہ جائزہوتاکہ اسے اپنی دلیل قراردیں اوراس کی بنیادپرعلمی دنیامیں اپنے انکشافات کے قصرتعمیرکریں ۔

۴۔دعویٰ اوردلیل میں مطابقت

جوبھی دعویٰ پیش کیاجائے ،اُس میں اوراُس کے ثبوت کے لیے دی جانے والی دلیل میں پوری پوری مطابقت ہونی چاہیے۔اس متفقہ اصول کاتقاضاہے کہ استدلال کی ''بنت''میں اس کاضرورخیال رکھاجائے تاکہ نادانی میں بڑے بڑے مغالطوں کاشکارہوجانے سے بچاجاسکے۔اس اصول کے برخلاف،ان حضرات کی راے میں دعویٰ اور دلیل میں عدم مطابقت کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں ۔مثلاً ا س آیت کودیکھ لیاجائے:

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍﵧ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۳)''اے ان لوگوں کی اولادجنھیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوارکیاتھا۔اس میں شک نہیں کہ وہ (ہمارا)ایک شکر گزاربندہ تھا۔''

ان کاکہناہے کہ کشتیِ نوح میں چونکہ اُن کی اولادکے علاوہ دیگرمومنین بھی سوارتھے،اس لیے جب یہ کہاجائے کہ ''یہ نوح کے ہم سوار کی اولادہے''تواس سے اس بات کی نفی ہوجائے گی کہ مذکورہ شخص اُن کی اولاد میں سے ہے۔اس پرہم عرض کریں گے کہ اول تومثال کے طور پرپیش کیاجانے والایہ جملہ آیت کے مطابق ہرگز نہیں ہے،اس لیے کہ یہ اپنے اسلوب میں بیانیہ اورعربی کاجملہ اس کے برخلاف خطابیہ ہے اوراہل علم جان سکتے ہیں کہ اس تبدیلی سے جس تعیین کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہ اصل اسلوب میں پیدا ہونے کا کم ہی اِمکان ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے دعوے اوردلیل کے طورپرپیش کی جانے والی اس آیت میں ادنیٰ درجے کی بھی کوئی مطابقت نہیں ہے۔دعویٰ یہ ہے کہ ''اے اُن لوگوں کی اولادجنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پرسوارکیاتھا''کے الفاظ بتارہے ہیں کہ بنی اسرائیل اولادنوح نہیں ہیں، مگرحقیقت یہ ہے کہ ان میں اس طر ح کی نفی کرنے کی کوئی صلاحیت موجودنہیں ہے،بلکہ یہ ایک ہی وقت میں جس طرح غیراولادکو خطاب کرنے کے لیے درست ہیں ،اسی طرح حضرت نوح کی وہ اولادجواُن کی معیت میں کشتی میں سوارہوئی، انھیں خطاب کرنے کے لیے بھی بالکل موزوں ہیں اور زبان کے کسی قاعدے کی روسے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ابن حنبل کے بیٹے عبداللہ جنھوں نے دوسرے شاگردوں کے ساتھ اپنے باپ سے حدیث کادرس لیا،اُن کی اولادسے اس جملے میں خطاب کرنا آخر کیوں روا نہیں ہے کہ'' اے اُن لوگوں کی اولاد جو ابن حنبل سے پڑھتے رہے۔''؟کیاکوئی شخص یہ دعویٰ کرے گاکہ محض ان الفاظ سے اس بات کی نفی ہو گئی ہے کہ یہ بچے عبداللہ کے نہیں ہیں ؟ اورکیاوہ اس سے آگے بڑھ کر یہ نتیجہ بھی نکال سکے گاکہ یہ ابن حنبل کے دوسرے شاگردوں کی اولاد ہیں ؟مختصریہ کہ 'ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کا جملہ اپنی ترکیب میں اگر نوح کی اولاداور غیراولاد، دونوں کااثبات کر رہا ہے تو اسے ان میں سے ایک کی نفی قرار دے دینا اصل میں دعویٰ اور اُس کی دلیل میں مطابقت نہ ہونے ہی کی ایک ''روشن ''مثال ہے۔

ان چندباتوں کی وضاحت کے بعداب ہم ان کے استدلال کانقص واضح کرنے کے لیے ان کی پیش کردہ آیت کی صحیح تفہیم عرض کرتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوجائے گاکہ اُن کی راے کے حق میں کسی دلیل کاہونا تو بڑی دور کی بات ،الٹاہماری راے کی ترجیح کاایک پہلو اس میں پایاجاتاہے۔

آیت کی تفہیم

وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًي لِّبَنِيْ٘ اِسْرَآءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا. ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۲ - ۳)

''ہم نے موسیٰ کوکتاب دی تھی اوراس کوانھی بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایاتھا،اس تاکیدکے ساتھ کہ میرے سواکسی کواپنا کارسازنہ بناؤ۔اے ان لوگوں کی اولادجنھیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی پر)سوار کیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ (ہمارا)ایک شکر گزار بندہ تھا۔''

آیت میں ''مَنْ''کا حرف آیاہے۔یہ واحدکے لیے بھی استعمال ہوتاہے اورجمع کے لیے بھی ۔بنی اسرائیل، ظاہرہے کہ کشتی میں سوا ر ہونے والے کسی ایک شخص کی اولادہیں ،مگراس مقام پراسے جمع میں لانازیادہ معنی خیز ہے۔اپنے مقصدسے غافل ہوجانے والے کسی خاندان کواگرہم نصیحت کرتے ہوئے کہیں :''تم اُس شخص کی اولاد ہو جو اپنا سب کچھ چھوڑکرپاکستان آیاتھا۔''یااُن سے کہیں: ''تم اُن لوگوں کی اولادہو جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔''تودیکھ لیاجاسکتاہے کہ جس مقصدکے لیے یہ بات اُن سے کہی گئی ہے ، اس کی رعایت سے دوسرا جملہ اپنے اندر زیادہ بلاغت رکھتاہے۔اگریہ واضح ہوجائے تواس سے یہ بات اوربھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے کہ 'اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا' کے الفاظ میں چونکہ 'اِنَّ 'کااسم واحدہے ،اس لیے اس کامرجع نوح کے ساتھ سوارہونے والے اُن کے کوئی صحابی نہیں ،بلکہ خود حضرت نوح ہیں ،یعنی اب اس کاترجمہ یہ نہیں ہو گا کہ نوح کے ساتھ سوارہونے والاشخص'عَبْدًا شَكُوْرًا' تھا،بلکہ اس کامطلب یہ ہوگاکہ نوح اللہ کاایک شکرگزاربندہ تھا۔

آیت میں'مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ'،یعنی''وہ لوگ جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا'' کا ایک فقرہ آیاہے۔اس کے الفاظ اپنے اندرپوری گنجایش رکھتے ہیں کہ ان سے صرف نوح کی اولادمرادلی جائے یا دیگر مومنین یاپھرایک ہی وقت میں دونوں مرادلے لیے جائیں ۔اب اس فقرے سے چونکہ اُس خاص گروہ کو خطاب کیاگیاہے جواس حقیقت کوماننے والاہے کہ وہ حضرت نوح کی اولادہیں ،اس لیے اس میں آخری دو احتمالات بالکل ختم ہوکررہ جاتے ہیں اورواضح ہو جاتا ہے کہ ان سے صرف اورصرف نوح کی اولاد مرادلی گئی ہے۔یہ احتمال اس لیے بھی قابل ترجیح ہے کہ خدا کواگریہاں دوسرے احتمال کو مؤکد کرنا ہوتا جواس کے مخاطبین کے مسلمہ عقیدے کے بالکل خلاف ہے تولازم تھاکہ وہ اس کے لیے کسی قطعی اور غیر محتمل اسلوب کو اپناتا، یا اسی اسلوب کولانااگربہتر ہوتاتواس کے ساتھ کوئی ایساقرینہ ضرور لاتا جس سے نوح کی اپنی اولاداس میں سے بالکل خارج ہوجاتی۔

اس آیت میں بنی اسرائیل کوخطاب فرمایاہے ،مگر 'يا بني إسرائيل' اور 'ذرية نوح' کہنے کے بجاے'ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کا اندازاپنایاہے۔اس کی وجہ کیاہے ؟اس کے لیے ضروری ہے کہ ا س مقام پر منشاے متکلم کوسمجھاجائے۔پچھلی آیت میں فرمایاہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات اس تاکیدکے ساتھ عطا فرمائی کہ میرے سواکسی کواپناکارسازنہ بناؤ۔اس کے بعدتوحیدکے اسی مضمون کو مؤکدکرنے کے لیے 'ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کے الفاظ میں خطاب کیااوراس طرح انھیں ایک حقیقت کی یاددہانی کرا دی ہے۔ سوکسی اوروجہ سے نہیں ،بلکہ صرف اس یاددہانی کے لیے اِس اسلوب کواپنایاہے کہ 'يا بني إسرائيل' یا 'ذرية نوح' کہا جاتا تو یہ مقصدبالکل بھی حاصل نہ ہوپاتا۔

اجزاکی وضاحت کے بعداب اس مقام کامضمون بالکل کھل کرسامنے آ جاتا ہے۔وہ یہ ہے کہ خدا نے جب بنی اسرائیل کو اپنی کتاب عطافرمائی تواُنھیں اس بات کی پرزور تنبیہ کی کہ وہ اُس کے سواکسی اور کو اپنا کارساز ہرگز نہ بنائیں کہ ایساکرنا صریح شرک ہے۔اس تنبیہ کے لیے اُن سے خطاب بھی 'مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ' کے اسلوب میں کیا تاکہ وہ لوگ اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں کہ وہ حضرت نوح کے اُن اہل کی اولادہیں جواِس شرک سے قطعی طور پر محفوظ رہے اورانجام کاراُن کے ساتھ کشتی میں سوارکیے گئے ۔اوراس کے بعداسی توحیدکو یہ کہتے ہوئے مؤکد کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوح بھی ہماری بندگی کرنے والا ایک توحیدپرست آدمی تھا [11]۔ یہ اس مقام کا سادہ اورمختصر لفظوں میں مطلب ہے اوردیکھ لیاجاسکتاہے کہ اس میں بنی اسرائیل کے حسب نسب کے بارے میں کوئی نئی بات بتانے کا کہیں شائبہ تک موجود نہیں ہے ۔

ان حضرات کی اس راے کے متعلق ایک بات اوربھی سامنے رہے۔انھوں نے اس راے کوبنی اسرائیل کی تاریخ کی اصلاح کرنے والاایک انکشاف قراردیاہے ،اس لیے ہمیں معلوم ہوناچاہیے کہ قرآن میں تورات اور اہل کتاب کے مزعومات کی اصلاح کرنے کا طریق کیاہے۔چنانچہ ہم نے اس طریق کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھاہے:

'' حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تورات کابیان یہ ہے کہ اُنھوں نے معجزہ دکھاتے ہوئے جب اپناہاتھ باہر نکالاتووہ کوڑھ سے برف کے مانند سفیدتھا [12] ۔قرآن نے جب یہ واقعہ بیان کیا توبڑے ہی واضح انداز میں یہ کہتے ہوئے اس کی اصلاح کی:'تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ'۔[13]یعنی ،یہ ہاتھ بغیرکسی بیماری کے سفید ہواکرتاتھا۔اسی طرح تورات میں بیان ہواہے کہ خداوندنے چھ دن میں زمین وآسمان کی تخلیق کی اور ساتویں دن آرام کیا۔ [14] قرآن نے یہ کہتے ہوئے بڑی صراحت سے اس کی تردیدکی :'وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ'۔[15] کہ ہمیں کوئی تکان ہرگزلاحق نہیں ہوئی۔بلکہ اگرکوئی غلطی بہت زیادہ سنگین ہواورلوگوں میں اس کا رواج بھی عام ہوچکاہواور قرآن کواس کے جواب میں واقعتا کوئی انکشاف کرناہو تواس کے لیے وہ محض اشارے کنایے میں اورمحض ضمیروں کی دلالت سے بات نہیں کرتا،بلکہ انکشاف ہی کے طریقے پراسے بیان کرتا ہے ۔ مثال کے طورپر، یہود سیدنا مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کادعویٰ کرتے تھے ،انجیلوں میں بھی یہی کچھ نقل کر دیا گیا تھا، اوراسے کم وبیش ہرمسیحی فرقے میں مان لیاگیا ، حتیٰ کہ نزول قرآن کے وقت اسے ایک مسلمہ کی سی حیثیت حاصل ہوگئی تھی؛اس پرقرآن نے اصل حقیقت کاانکشاف کرتے ہوئے بتایاہے اور دیکھ لیاجا سکتا ہے کہ کتنے زوردارطریقے سے بتایاہے:'وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ'۔اُنھوں نے نہ اُس کوقتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی،بلکہ معاملہ اُن کے لیے مشتبہ بنادیاگیا۔یعنی پہلے اُن کی بات کی ہردوپہلوسے تردید کی اور پھراُنھیں جہاں سے غلطی لگی تھی ،اُس بنیاد کی بھی وضاحت کی۔بلکہ پھرسے دہراکراصل بات کو مؤکد کیا: 'وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا'[16]کہ اِنھوں نے ہرگزاُس کوقتل نہیں کیا ۔غرض یہ ہے کہ تورات کے بیان کی تردید کرتے ہوئے قرآن کواگریہ بتاناہوتاکہ وہ نوح کے بجاے کسی اورکی اولاد ہیں تووہ اپنے معروف طریقے کے مطابق ہی بتاتا،نہ کہ اس طرح بتاتا کہ اسے جاننے کے لیے بڑے باریک اورمنطقی استدلال کی ضرورت آن پڑتی۔'' (ماہنامہ اشراق، نومبر ۲۰۱۸ء، ۵۵)

اس وضاحت پران لوگوں کی طرف سے کہاگیاہے کہ اس میں ہم نے جو'مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ' اور 'وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ' کی مثالیں لکھی ہیں ، وہ سب کے سب کنایے ہیں ۔ ہم عرض کریں گے کہ ان کی یہ بات قرآن کے کسی بھی طالب علم کے لیے بالکل ہی غیرمتوقع اورحددرجہ باعث حیرت ہے،اس لیے مناسب یہی ہے کہ کوئی تبصرہ کرنے کے بجاے اسے اہل علم کی توجہ کے لیے چھوڑدیاجائے کہ وہ خودہی دیکھ لیں کہ یہ الفاظ تورات کی اصلاح کرنے کے لیے ہرطرح سے صریح ہیں یاصرف کنایہ ہیں ۔

آخرمیں ہم ایک گزارش کرناچاہیں گے۔ مطالعہ کے دوران ہوسکتاہے کہ اس طرح کی نئی چیزیں روزہی طالب علموں کے سامنے آئیں ۔ جب بھی ایساہوتوعرض ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی ایک نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھیں اور ''کاتا اور لے اڑی'' والا معاملہ کبھی نہ کریں، بلکہ اچھی طرح سے غوروفکرکریں ، ہزار مرتبہ پرکھیں اوراُنھیں خوب پختہ کریں ،اورہوسکے تواس سلسلے میں دوست احباب سے بھی رابطہ کریں ۔ ہمیں بڑی امیدہے کہ اس کے نتیجے میں اکثرچیزیں ہواہوجائیں گی اوردرست اورمحکم بات ہی باقی رہ پائے گی۔اوراس کایہ فائدہ بھی لازماًحاصل ہوگاکہ وہ اس طرح علم اور تحقیق کا صحیح حق اداکریں گے اور پروردگارعالم کی کتاب کے معاملے میں ایک واجب احتیاط کا بھی التزام کریں گے۔

[باقی]

________

[1]۔ پیدایش ۱۱: ۱۰ - ۲۶۔

[2]۔ دیکھاجائے تواردوکالفظِ ''اولاد'' بھی اپنے معنی اوراپنے اِطلاقات میں عربی کے'ذُرِّيَّة'سے بڑی حدتک مماثل ہے۔

[3]۔یہ ابتداوہ نہیں ہے جواپنی غایت بھی رکھتی ہے ،بلکہ یہ مبداکے معنی میں آتی ہے ،جیساکہ اس آیت میں: 'لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ'(الواقعہ ۵۶: ۵۲)۔

[4]۔اس تبعیض کے بعض معنوی استعمالات ہماری اپنی زبان میں بھی پائے جاتے ہیں ،جیساکہ کلیجے کاٹکڑا ، جگرپارہ وغیرہ۔

[5]۔اس روایت میں یہ مماثلت کے لیے ہرگز نہیں آئی،جیساکہ ان حضرات کواس کابھی خیال ہوگیاہے ۔یہ محبت کے اظہارکے لیے آئی ہے، مگراس کی تفصیل بیان کرنے کایہ موقع نہیں ۔

[6]۔ بلکہ اگریہی بات کہناہوتی تو زیادہ مناسب یہ تھاکہ صرف'بعضھم من بعض' کہہ دیا جاتا،اور 'ذُرِّيَّةًۣ بَعْضُهَا مِنْۣ بَعْضٍ' کا''پیچ داراسلوب''ہرگزاختیارنہ کیاجاتا۔

[7]۔اوروہ مہمل جملہ یہ بنتاہے: '' خدا نے آدم ونوح اورآل ابراہیم وآل عمران ،یعنی اولادکوچناجوسب ایک جیسے ہیں ۔''

[8]۔ اس کے لیے بائیبل میں سے یہ مقامات دیکھ لیے جاسکتے ہیں :نوح آدم کی اولادہیں (پیدایش ۵: ۳ – ۲۹)۔ ابراہیم نوح کی اولاد ہیں )پیدایش ۱۱: ۱۰ - ۲۶)۔ عیسیٰ ابراہیم کی اولادہیں (متی ۱: ۱ - ۱۷۔ لوقا ۳: ۳۶)۔

[9]۔ اسی پربس نہیں ،ان کی طرف سے اُس فرضی صحابی کانام بھی تجویزکردیاگیاہے، یعنی'عَبْدًا شَكُوْرًا'۔

[10]۔ الاعراف ۷: ۶۴ اور المومنون ۲۳: ۲۸۔

[11]۔'شَكُوْرًا' کی مرادہم نے توحیدبیان کی ہے ،اس لیے کہ شکرگزاری کالفظ یہاں توحیدکی حقیقت کے اعتبارسے لایاگیاہے۔

[12]۔ خروج ۴: ۶۔

[13]۔ طٰہٰ ۲۰:۲۲۔

[14]۔ خروج ۲۰: ۱۱ ۔

[15]۔ ق۵۰: ۳۸۔

[16]۔ النساء۴: ۱۵۷۔

____________