تکفیر (3/4)


تکفیر (2/4)

۳۔ احادیث

بعض احادیث میں یہ مضمون بیان ہواہے کہ کچھ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیراپنے ہدف کوچیرکرنکل جاتا ہے۔اس سے بعض حضرات نے یہ نکتہ پیداکیاہے کہ کسی کادین سے نکل جانااصل میں اُس کا کافرہوجاناہے اورکسی کاکافرہوجاناہی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اُسے کافرقراردے سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیامیں ہردم کفرکاارتکاب ہوتاہوگااورلوگ دین سے نکل کر کافر بھی ہوجایاکرتے ہوں گے،مگرکسی شخص کا واقعے میں کافرہوجانا اوردوسروں کااِس حقیقت کوجان کراُسے کافرقرار دے دینا،یہ دومختلف باتیں ہیں اوران دونوں میں کوئی لزوم بھی نہیں کہ ایک کااِثبات دوسری کو لازم کر دے۔ بلکہ واقعے میں تو لوگ جنت اور جہنم کے بھی مستحق ہو جاتے ہوں گے،مگرہم جانتے ہیں کہ اس بنیادپرکسی شخص کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کوجنتی اورجہنمی قرار دیتاپھرے۔ بحث دراصل اس بات میں نہیں ہے کہ دنیامیں کفرواقع ہورہاہے یانہیں ؟بحث اس بات میں ہے کہ جب کوئی شخص ظاہر میں دین سے نکل جائے تو کیا ہم اُسے یہ کہتے ہوئے کافرقرار دے سکتے ہیں کہ اُس نے یہ کفر جان بوجھ کرکیاہے؟اگرکوئی اس کاجواب ہاں میں دے توپھر سوال یہ ہے کہ ان روایات میں ہمارے اِس استحقاق کی دلیل کیاہے؟کیونکہ روایات تو اس سے زیادہ کچھ نہیں بتارہیں کہ آنے والے دنوں میںیہ واقعہ ہو کر رہے گاکہ بظاہر مسلمان کہلانے والے کچھ لوگ حقیقت میں دین اسلام سے نکل جائیں گے ،یعنی بالکل کافرہوکررہ جائیں گے۔۱۳؂

احادیث میں بعض اعمال کوکفرقراردیاگیاہے ،جیساکہ فرمایاہے:مسلمان کوگالی دینافسق اوراُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ اس سے یہ دلیل اٹھائی گئی ہے کہ جولوگ کفریہ اعمال کاارتکاب کریں،اُنھیں کافرکہاجاسکتاہے۔واضح رہے کہ نیکی اوربدی کی طرح کفرکے بھی بہت سے درجات ہیں۔ان میں سے ابتدائی درجے کے کفر شدید نوعیت کے گناہ توہوتے ہیں،مگر اس معنی میں کفرنہیں ہوتے کہ اپنے مرتکب کو کافربناڈالیں۔ کسی مسلمان سے لڑائی کرنا کفر ہے، مگریہ بھی اُس درجے کا کفر ہے جواپنی شناعت میں شدیدہونے کے باوجوداپنے مرتکب کو کافرنہیں بنا ڈالتا۔ اوریہی وجہ ہے کہ قرآن نے آپس میں لڑائی کرنے والے مسلمانوں کواِس کفرکے ہوتے ہوئے بھی کافر قرارنہیں دیا۔۱۴؂ لہٰذا، اس طرح کے کسی کفرپر تکفیرکرنے کاجوازثابت کرناکسی بھی طرح صحیح نہیں۔بلکہ فرض کیجیے،اگرکسی روایت میںآخری درجے کا کفربیان ہو، تب بھی اُس سے فقط یہی کہناثابت ہوگاکہ یہ کفرہے اوراس کاارتکاب کرنے والا کافر۔یہ ثابت نہ ہوگاکہ جواس کفر کاارتکاب کرے ، اُس خاص شخص کو کافر قراربھی دے دیاجائے،اس لیے کہ کسی شخص کا کفرمیں پڑنا اورکافرہوجاناایک چیزہے اوراُسے کافر قراردے دینا بالکل دوسری چیزہے۔

کچھ روایات کے بارے میں کہاگیاہے کہ ان میں صرف کفرکاذکرنہیں ہوا،بلکہ اس کاارتکاب کرنے والوں کے لیے 'کافر' کا لفظ بھی استعمال ہواہے اوراسی وجہ سے یہ پچھلی روایات کی نسبت تکفیرکی ایک بڑی دلیل بن گئی ہیں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا:''میرے بعد کافرنہ ہوجاناکہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔''جہاں تک اس روایت کاتعلق ہے تو واضح رہے کہ اس سے بھی تکفیرپردلیل نہیں لائی جا سکتی۔ ایک تواس لیے کہ اس میں بیان کردہ کفربھی اُس نوعیت کانہیں ہے جوکسی شخص کوکافربنادے۔اوریہی وجہ ہے کہ قرآن نے اُس مسلمان کو جس نے دوسرے مسلمان کی گردن ماردی ہو،کافرقرار نہیں دیا،بلکہ مسلمان سمجھتے ہوئے اُس کے ساتھ قصاص کامعاملہ کیا ہے۔۱۵؂ دوسرے اس لیے کہ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ اگرتم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے تو کافر ہوجاؤگے اوردوسروں کوبھی تمھیں کافرکہنے کاحق حاصل ہو جائے گا۔بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں ماراکرتے تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعداللہ نے تمھارے اندرمحبت اورالفت پیداکردی ہے۔دیکھو،اب لوٹ کرپھروہی کافروں والے کام نہ شروع کر دینا۔ اس روایت میں ''کافرنہ ہوجانا''سے مراد''کافروں کے سے کام نہ کرنا''ہے۔یہ ایساہی اسلوب ہے جیسے ہم کسی شخص کو جوسکھ سے مسلمان ہوا ہواوراُس کے بارے میں اندیشہ ہوکہ وہ دوبارہ سے پگڑی باندھ لے گا،کہیں کہ دیکھو،تم دوبارہ سے سکھ نہ ہوجاناکہ سرپر پگڑی باندھے پھرو۔ظاہرہے،اس جملے میں متکلم کی مرادیہ بالکل نہیں ہے کہ پگڑی باندھنے سے تم اسلام کے دائرے سے نکل کردوبارہ سے سکھ ہوجاؤگے،بلکہ وہ یہ کہناچاہتاہے کہ تم مسلمان ہوکراس طرح کے سب کام چھوڑچکے ہو،اس لیے اب دوبارہ سے سکھوں جیسے کام نہ کرنا۔

فرمایاہے کہ جوشخص اپنے بھائی کوکافرکہتاہے ،اگروہ حقیقت میں کافرنہ ہوتویہ کفراُس پرلوٹ آتاہے۔ اس حدیث سے تکفیرکے قائلین نے استدلال کیاہے کہ یہ الفاظ ہمیں تکفیرکاحق اس تنبیہ کے ساتھ دے رہے ہیں کہ اس کام کوحددرجہ احتیاط کے ساتھ کیا جائے، وگرنہ عین ممکن ہے کہ یہ کفر ہم پرلوٹ آئے۔ واضح رہناچاہیے کہ یہ حدیث کسی مفتی اورقاضی کے لیے کسی فقہی اور قانونی حق کاسرے سے کوئی بیان نہیں کر رہی کہ اس سے تکفیرکرنے کاحق کشید کیا جا سکے۔ ایساہوتاتواس میںیہ کبھی نہ کہاجاتاکہ اگرتکفیر کا اِطلاق صحیح نہ ہواتواس کا وبال مکفرپرآن پڑے گا۔ہم جانتے ہیں کہ انسان جب تک انسان ہے ، اس بات کااِمکان ہروقت موجودہے کہ وہ فیصلہ سنانے میں غلطی کرے اور حقیقت کے خلاف کوئی فیصلہ سنا دے۔اب یہ بات مبنی برظلم ہوگی کہ اُسے اِس پربھی گناہ اورسزاکی وعیدسنادی جائے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا تھاکہ تم اپنے مقدمات میرے پاس لے کرآتے ہواورمیں ایک انسان ہی ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم میں سے ایک فریق دوسرے کی نسبت اپنے دلائل کوزیادہ اچھے طریقے سے بیان کرے اور میں اُس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔۱۶؂ بلکہ ہم جانتے ہیں کہ احادیث میں تواس طرح کے غلط فیصلوں پرکسی گناہ اور وبال کی نہیں،بلکہ کم سے کم ایک اجرملنے کی نوید سنائی گئی ہے۔ ۱۷؂ لہٰذا، یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ روایت دوسروں کو کافر قراردینے کاحق بیان نہیں کررہی۔بلکہ اس کے اسلوب پراگر غورکیا جائے تویہ اُلٹا روک رہی ہے کہ ہم یہ کام بالکل نہ کریں اور جو شخص اپنے آپ کومسلمان کہہ رہاہو ، اسے کافرہرگزنہ کہیں۔اس لیے کہ اگروہ حقیقت میں کافر ہواتواِس صورت میں یہ خیررہے گی کہ ہم ایک واقعی کافر کوکافر کہیں گے،مگراُس کے ظاہری ایمان کی نفی کرکے ایک بڑی غلطی کاارتکاب بہرحال ضرور کریں گے۔اوراگروہ کافرنہ ہواتواِس صورت میں ہم اُس پرکفرکی تہمت جڑیں گے اوراِس طرح ظاہرہے خودایک بڑے کفر کا ارتکاب کر بیٹھیں گے۔ گویا دونوں صورتوں میں یہ ایک ناجائزاورغلط کام ہوگاجس سے ایک مسلمان کوبہرصورت بچنا ہی چاہیے۔ ۱۸؂

نفاق کے بارے میں آئی ہوئی روایات بنیادی طورپردوطرح سے بیان ہوئی ہیں۔ایک اس طرح سے:

اٰیۃ المنافق ثلاث: إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان.(مسلم، رقم۲۱۱)

''منافق کی تین علامتیں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے،وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے اور اُس کے پاس امانت رکھی جائی تواُس میں خیانت کرے۔''

دوسرے اس طرح سے:

أربع من کن فیہ کان منافقًا خالصًا، ومن کانت فیہ خلۃ منہن کانت فیہ خلۃ من نفاق حتی یدعہا: إذا حدث کذب، وإذا عاہد غادر، وإذا وعد أخلف، وإذا خاصم فجر.(مسلم، رقم۲۱۰)

''چارعادتیں ایسی ہیں کہ وہ جس میں پائی جائیں وہ پکامنافق ہے اوراگران میں سے ایک پائی جائے تو اُس میں نفاق کی ایک عادت پائی جاتی ہے،یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑدے۔وہ عادتیں یہ ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے،جب عہدباندھے توڑ دے، وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے اور جب کسی سے لڑے توبرائی کاارتکاب کرے۔''

ان روایات سے استدلال کیاگیاہے کہ بعض علامتوں کودیکھ کراگرہم دوسروں کے نفاق کافیصلہ کر سکتے ہیں جو اپنی حقیقت میں کفرہی کی ایک صورت ہے تو ہم دوسروں کے کافرہوجانے کافیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔ غور کیا جائے تو اس استدلال میں روایت کے الفاظ اوراُس کے اُسلوب سے صرف نظرہوگیاہے۔ہم جانتے ہیں کہ مدینہ اور اس کے گردو نواح میں کچھ لوگ بظاہرمسلمان ،مگرحقیقت میں پکے منافق تھے،اوراُن کی اس منافقت کاپردہ قرآن نے جگہ جگہ چاک کیا ہے۔اسی سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کچھ علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں عام طور پر یہ برائیاں پائی جاتی تھیں کہ وہ بات بات پرجھوٹ بولتے ،امانتوں میں خیانت کرتے، کسی عہداوروعدے کاپاس نہ کرتے اور جھگڑاہوجاتا توبداخلاقی کی سب حدوں کو پھلانگ جایاکرتے تھے۔مزیدیہ کہ اُس وقت یہ برائیاں مسلمانوں کے بجاے منافقین ہی میں پائی جاتی تھیں،اس لیے یہ ایک لحاظ سے اُن کی علامتیں قرار پاگئی تھیں۔آپ نے اسی تناظر میں فرمایاکہ یہ چیزیں جس میں پائی جائیں،وہ چاہے اپنے آپ کومسلمان کہے،پکی بات ہے کہ وہ مسلمان نہیں،بلکہ منافق ہے۔گویاان علامتوں کاذکر کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظراُن لوگوں کی پہچان بتاناتھاجوپہلے سے منافق تھے۔ آپ کے پیش نظریہ بتاناہرگزنہیں تھاکہ جن جن میںیہ علامتیں ہوں گی ،وہ ضرور اسلام کے دائرے سے باہر نکل کر منافق ہو جائیں گے۔چنانچہ اس روایت سے بعض علامتوں کی بنیادپرکسی کومنافق اورکسی کوکافرقراردینے کا قاعدہ اخذکرلیناکسی طرح بھی صحیح نہیں ہے، وگرنہ یہ ''سخن فہمی ''کی ایسی ہی مثال ہوگی کہ کوئی نیم حکیم کسی حاذق طبیب کی یہ بات سن کر کہ بخار اور کھانسی تپ دق کی علامتیں ہواکرتی ہیں،ہراُس شخص کوتپ دق کامریض قراردے بیٹھے جو اُسے بخاراورکھانسی میں مبتلانظرآئے۔

'من بدل دینہ فاقتلوہ' (جوکوئی اپنادین تبدیل کرے،اُسے قتل کر دو)۔ اس روایت سے استدلال کیاگیاہے کہ اس میں کافر قرار دینے کاباقاعدہ جوازپایاجاتاہے،اس لیے کہ اس میں قتل کرنے کاجوحکم دیاگیاہے،وہ اُسی صورت میں پوراہوسکتاہے جب متعین طورپر اِرتدادکاحکم لگایاجاچکاہو۔اِسی طرح کااستدلال اُس روایت سے بھی کیا گیا ہے جس میں فرمایاہے کہ تم حکمرانوں کے خلاف خروج نہیں کرسکتے ،یہاں تک کہ اُن کی طرف سے کفربواح ہوتا دیکھ لو۔یعنی، خروج تب تک نہیں ہوسکتاجب تک حکمرانوں کی تکفیرنہ کر دی جائے۔

جہاں تک پہلی روایت کاتعلق ہے تووہ اس بحث میں غامدی صاحب کے سامنے بطور دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کہ یہ روایت اُن کے نزدیک شریعت کابیان نہیں،بلکہ خداکی سنت سے متعلق ایک معاملے کابیان ہے۔اُن کی اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسولوں کی طرف سے اُن کی قوموں پراِتمام حجت کردیاجاتاہے تواس کے بعد اُن کے منکرین پرخداکاعذاب نازل ہوکررہتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ مومنین کی تلواریں اس عذاب کاذریعہ بنادی جائیں۔یہ تلواریں جس طرح منکرین پربے نیام ہوجاتی ہیں ، اسی طرح وہ لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں جواسلام میں داخل ہوکرپھرمرتدہوجائیں،اس لیے کہ وہ اپنے ارتدادکے نتیجے میں دوبارہ سے منکرین کی صف میں جاملتے ہیں۔ مذکورہ روایت میں اسی طرح کے لوگوں کے لیے جواپنادین بدل کرپھرسے منکر ہو جائیں، خدائی عذاب کا امتداد بیان ہوا ہے۔غامدی صاحب کے نزدیک یہ سارامعاملہ چونکہ رسولوں کے ساتھ خاص ایک خدائی سنت کابیان ہے ، اس لیے اس سے تکفیرکی شریعت پراستدلال کرناممکن نہیں ہے ۔

یہاں ایک سوال پیداہوتاہے۔وہ یہ کہ اگرہم مان بھی لیں کہ یہ امرصرف رسولوں کے ساتھ خاص ہے، پھربھی اس سے یہ توضرور ثابت ہوجاتاہے کہ اُن کے زمانے میں کفر کوئی مخفی اورناقابل معلوم شے نہیں تھا،بلکہ اُسے بہ خوبی جان لیا جاتا اور اس کے حاملین پرسزاؤں کا باقاعدہ اِطلاق کردیاجاتاتھا۔اس سوال کے جواب میں واضح ہوکہ کفر جان بوجھ کرانکارکردینے کانام ہے اوردل کے اس معاملے کی خبراُن کے زمانے میں بھی ممکن نہیں ہوتی،سواے اِس ایک صورت کے کہ خدااپنے پیغمبروں کواس بارے میں خبرکردے۔البتہ،جہاں خداخبرنہیں کرتا، وہاں ایمان اور کفر کے فیصلے حقیقت حال پرنہیں،ظاہرہی پرہوتے ہیں تاکہ مخاطبین کوجزاوسزاکے مرحلے سے بہرحال گزاراجاسکے۔ اس ظاہری امتیازکے لیے ہوتایہ ہے کہ کچھ پیمانے مقررکردیے جاتے ہیں۔جیساکہ مثال کے طورپر،یہ ضروری قرار دے دیا جاتا ہے کہ جولوگ ایمان کا دعویٰ کریں،وہ اپنے ایمان کی شہادت میں رسول کی امامت میں نماز ادا کریں یا اُس کی طرف سے حکم ہوتوہجرت کرکے اُس کے پاس آجائیں یاسب کوچھوڑکراُسی کی معیت کواختیارکرلیںیااُس کے اشارے پرجان ومال لٹادینے اورہرطرح کا اِقدام کرنے کے لیے تیارہو جائیں۔سو اسی طرح کے ظاہری احکام ہوتے ہیں جن کوماننے والے مومنین اوران سے روگردانی کرنے والے کافرقرار پاجاتے ہیں، ۱۹؂ وگرنہ جہاں تک کفر کی بات ہے تووہ اُس زمانے میں بھی مخفی اورناقابل معلوم شے ہی ہوتاہے۔

جس حدیث میں 'کفربواح' کے الفاظ آئے ہیں اوراس سے حکمرانوں کی تکفیراوراُن کے خلاف خروج کرنے پر استدلال کیاگیاہے، ہماری راے میں اس سے بھی یہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظرنہ حکمرانوں کی تکفیرکرنے کے شرائط بتانا ہے اورنہ اُن کے خلاف کسی اِقدام یا خروج کرنے کاجوازبیان کرنا۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اورصرف اُن کی اطاعت کے حدودبیان فرمائے ہیں۔ قرآن نے جب حکمرانوں کی اطاعت کاتقاضاکیا تو اُن کے بارے میں یہ لازم قرار دیاتھا کہ وہ خود بھی مسلمان ہوں، ۲۰؂ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیعت لیتے ہوئے یہ صراحت فرمائی کہ لوگ سنیں اورمانیں اوراِقتدارکے معاملے میں اُن سے کوئی جھگڑانہ کریں، سواے اِس ایک صورت کے کہ وہ کھلے کفرکاارتکاب کرنے لگیں اوراس طرح مسلمان ہونے کی حیثیت سے حاصل اپنی اطاعت کے حق سے محروم ہو جائیں۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہاں سرے سے یہ مسئلہ ہی زیربحث نہیں ہے کہ لوگ کیااُن کے خلاف خروج کر سکتے اوراس کے لیے اُنھیں کافر قرار دے سکتے ہیں،بلکہ صرف اورصرف اس بات کی وضاحت مقصودہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کی اطاعت کے کب تک پابند ہیں۔ یہ ایساہی ہے جیساکہ مثال کے طور پر، ہم کہیں کہ اچھی بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھرکے امورمیں اپنے شوہر کی جسے قوام بنایاگیا ہے،فرماں بردار بن کررہے اورہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شوہرکویہ قوامیت چند وجوہ کی بناپر دی گئی ہے۔۲۱؂ اب فرض کیجیے کہ اُس کی طرف سے ان وجوہ کے خلاف کوئی طرزعمل سامنے آئے توظاہرسی بات ہے کہ خداکی طرف سے اُس کی فرماں برداری کا تقاضا بھی آپ سے آپ ختم ہوجائے گا۔اور تقاضاہی ختم ہوجائے گا،نہ کہ اس سے یہ لازم آئے گاکہ بیوی آگے بڑھ کر اُس کے خلاف نشوز پربھی ضرور اُترآئے۔

ضمناً،ہم یہاں یہ بھی عرض کرناچاہیں گے کہ اس روایت کی اصل مرادبالکل واضح ہوجاتی اگراس کی تالیف کے بارے میں ایک بنیادی بات ہمارے سامنے رہتی۔ وہ یہ کہ اس میں 'إلا أن تروا کفرًا بواحًا' کا استثنا 'وأن لا ننازع الأمر أھلہ' پر نہیں، بلکہ سمع وطاعت کے عہدپرہے اور 'وأن لاننازع الأمر أھلہ' کاجملہ اطاعت ہی کی تاکید مزید کے لیے سلبی طورپر آ گیا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم حکمرانوں سے جھگڑو گے نہیں،سواے اس ایک صورت کے کہ وہ کھلا کفر کریں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم اُن کی اطاعت ہی کروگے اورہرگز اُن سے جھگڑانہ کرو گے، البتہ، اُن کی یہ اطاعت اُس وقت تک تم پرلازم رہے گی جب تک وہ کھلے کفرکاارتکاب نہ کرنے لگیں۔

۴۔ متفرق دلائل

۱۔ قرآن میں بیان ہواہے کہ اللہ نے عالم ارواح میں آدم علیہ السلام کی اولاد سے یہ عہدلیا:کیامیں تمھارارب نہیں ہوں؟ سب نے اقرارکیا:ہاں،آپ ہی ہمارے رب ہیں۔اس سے بعض حضرات نے یہ نکتہ پیداکیاہے کہ خدا کے وجودکے معاملے میں ہرانسان پر اِتمام حجت ہوچکاہے اوراس مقصد کے لیے الگ سے کسی اتمام حجت کی ضرورت نہیں،چنانچہ ملحدین اگرآج خداکاانکارکریں توکم سے کم اُنھیں اس عہدِ الست کی بنیادپرکافرضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس نکتہ کے جواب میں عرض ہے کہ اتمام حجت کے وقوع کے لیے جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہدایت کاابلاغ اور اُس کاوضوح ہو چکاہو،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مخاطب کے پاس اس معاملے میں کوئی عذرنہ رہ گیاہو۔اس لحاظ سے دیکھاجائے توعہدالست کی مذکورہ آیتوں میں صرف یہ بیان ہواہے کہ ہماری فطرت میں خدانے اپنی ربوبیت کاعلم ودیعت کیا۲۲؂ اورہم سے عالم ارواح میں اس پرعہد بھی لیاہے اور اس کامطلب ظاہرہے کہ یہی ہے کہ اُس کی طرف سے اس سلسلے میں اتمام حجت کردیاگیاہے،چنانچہ اب ہم آخرت کے دن یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری ہدایت کا کوئی بندوبست نہیں ہوااورہم اس باب میں سراسرغافل تھے۔ان آیات میں یہ بالکل بھی بیان نہیں ہواکہ یہ اتمام حجت ہم میں سے ہرایک پرواقع بھی ہوگیاہے اوراس معاملے میں ہم پر ہمیشہ کے لیے ہرطرح کاقطع عذربھی کر دیا گیا ہے، چنانچہ اب ہم اُس کے سامنے کوئی عذر پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔سوقطع عذر کے بغیر،یہ سب اتمام حجت کا محض انتظام ہے اورہمیں معلوم ہے کہ صرف انتظام کی بنیادپر نہ تو کسی متعین شخص پر اس کے وقوع کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے اورنہ اس بنیادپراُس کی کسی صورت میں تکفیر ہی کی جاسکتی ہے۔اس کی بہت اچھی مثال ہمارے خارج میں کیا گیا اتمام حجت کاانتظام ہے۔اس کے لیے بھی بالکل یہی کیاگیا کہ خدانے اپنے پیغمبروں کوبھیجا، اُنھوں نے بھی ہدایت کے علم کولوگوں تک پہنچایااور اس کے بارے میں اُن سے بارہا اقراربھی لیا،جیساکہ مثال کے طورپر ان سے پوچھا کہ بتاؤ، زمین اور آسمانوں کارب کون ہے ؟اُن کی تخلیق کرنے والااوراُن میں رزق کا انتظام کرنے والا کون ہے؟ اُنھوں نے اقرار کیاکہ یہ وہی پروردگار عالم ہے تواس پر پیغمبروں نے اُن کے اخروی مواخذے کوبھی تفصیل سے بیان کیا۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ اُن کی طرف سے اتمام حجت کے اس قدر اہتمام کے بعدبھی اس بات کا امکان بہرحال موجودرہاکہ اُن کے مخاطبین میں سے کسی کے پاس اس سلسلے میں کوئی عذررہ جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے ہرمرحلے میں، حتیٰ کہ اُن کی طرف سے براء ت کا اعلان ہو جانے کے بعد بھی، نہ صرف یہ کہ اس کے امکان کوتسلیم کیاگیا،بلکہ اس بنیادپر منکرین کو اُن کے مواخذے میں کچھ مہلت بھی دی گئی۔۲۳؂ غرض یہ ہے کہ آج کسی ملحدکوبھی ہدایت کے ان سارے انتظامات کے باوجود کافرقرارنہیں دیاجاسکتا ،اس لیے کہ شایداس کے پاس بھی اس معاملے میں کوئی ایسا عذرموجود ہوجو خداکے ہاں قابل التفات اورقال مسموع ٹھیرے اورآخرت میں اس کے لیے کچھ نہ کچھ رعایت کا سبب بن جائے، اورہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کے دنوں میں ہم مسلمانوں کی بے دینی کی وجہ سے ان اعذارکے لاحق ہوجانے کے امکانات رسول اللہ کے زمانے کی نسبت کئی گنا مزیدبڑھ بھی گئے ہیں۔

ہمارے خیال میں عہدالست کی ان آیات سے اٹھائے گئے استدلال کے نقص کوہماری یہ معروضات بالکل واضح کر دیتی ہیں،مگر ہم چاہتے ہیں کہ اس کے بارے میں مزیدتفصیل بیان کردیں تاکہ اس سلسلے کے دوسرے سوالات اور اس میں پیداہوجانے والی دیگر اُلجھنوں کو حل کرنے کی راہ بھی کچھ آسان ہوجائے۔اس ذیل میں ہم پہلے دو مقدمات کوبیان کریں گے:ایک یہ کہ عہدالست کے اس واقعہ کی اصل صورت اور اُس کے مضمرات کیا ہیں۲۴؂ اور دوسرے یہ کہ ان آیات کااصل مدعااورمفہوم کیاہے ۔اس کے بعدان سے اخذہونے والے کچھ ناگزیرنتائج کو بیان کریں گے:

۱۔اللہ نے انسان کی روح کایادوسرے لفظوں میں اُس کی شخصیت کہہ لیجیے، جس وقت خمیراٹھایاتواُس میں اپنے رب ہونے کاعلم بھی ساتھ ہی گوندھ دیا۔اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ جب عالم ارواح میں اُس نے 'اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ' کہہ کراپنے بارے میں استفسارکیا تو یہ فطری علم اس سے تحریک پاکر 'بَلٰی شَہِدْنَا' کے اقرارکی صورت میں فوری طور پر ظاہرہوگیا۔اگریہ اُن کی فطرت میں پہلے سے ودیعت نہ کر دیا گیا ہوتا تواس موقع پراُس کاظاہرہوجاناکسی طرح بھی ممکن نہ ہوتا۔قرآن بتاتاہے کہ اللہ نے اپنی ربوبیت کے بارے میں یہ سوال اس لیے کیاتاکہ اُن کی طرف سے اقرارہوجانے پراُن کے خلاف شہادت قائم ہوجائے ۔اس لحاظ سے دیکھاجائے تویہ شہادت اصل میں اُسی فطری علم کی تاکیدکے لیے تھی اوراس کامقصدیہی تھاکہ بنی آدم پر اُن کے اپنے علم کی روشنی میں حجت تمام کردی جائے۔بہرحال، اس کے بعدخداکی اسکیم یہ ہوئی کہ اولادِآدم کاامتحان اُس دنیاکے بجاے اِس دنیامیں لیاجائے اوراس کے لیے اُنھیں ایک مادی پیکراورکچھ اِرادہ واِختیاردے کریہاں اتار دیاجائے۔چنانچہ اس کے لیے ایک تویہ ہواکہ مذکورہ قول وقراراُن کی یاداشت سے بالکل محوکردیا گیا اور دوسرایہ ہواکہ اس عہد کے زیراثرجواُن کافطری علم ظاہرہوگیاتھا،وہ دوبارہ سے پردۂ اِخفامیں چلاگیا۔ان میں سے پہلی بات کے ثبوت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ،ہم جانتے ہیں کہ آج کسی بھی ابن آدم کو یہ قول وقرار یاد نہیں۔ دوسری بات کی دلیل ہمارے مشاہدے کے ساتھ ساتھ قرآن میں بھی موجودہے جہاں اِس دنیا میں پیدایش کے وقت انسان کے علم کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: 'لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا' کہ اُس وقت تم کچھ نہیں جانتے ہوتے۔۲۵؂ اب اس دنیامیں امتحان کی غرض سے یہ بے حد ضروری تھا کہ اُس کایہی علم دوبارہ سے ظہورکرے اوراُس کے شعورکاباقاعدہ طورپرحصہ بنے۔لیکن اس مرتبہ خداکی طرف سے براہ راست مکالمہ نہیں ہوا،بلکہ اس کے لیے ایک طرف اُسے سمع وبصراورعقل وفکرکی صلاحیتیں دے دی گئیں اور دوسری طرف اُس کے خارج میں خداتک پہنچانے والی بہت سی نشانیاں بکھیردی گئیں اورمزیدیہ ہواکہ حضرتِ آدم علیہ السلام سے نبوت کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ اب ہوتایوں ہے کہ ان صلاحیتوں اور خارج کے زیراثرجس شخص کافطری علم اس دنیامیں ظہورکرجاتاہے، اُس پراس معاملے میں اِتمام حجت بھی واقع ہو جاتا ہے ۔ اورجس شخص پریہ ظاہرنہیں ہوپاتااور حالت اِخفاہی میں رہ جاتاہے، اُس پر اتمام حجت بھی واقع نہیں ہوپاتا۔

۲۔ ان آیات کے بارے میں ایک تویہ بات واضح رہے کہ ان میں اِلحادیاخداکے ہونے یانہ ہونے کاکوئی مسئلہ اصلاً زیر بحث نہیں ہے۔بلکہ ان میں خداکے رب ہونے اوراس کے تقاضے سے شرک کے غلط ہونے پر خبردار کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان میں 'اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ' کاجملہ صرف 'وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ' سے متعلق نہیں ہے ،بلکہ ربوبیت کے فطری علم اوراس کے بارے میں لیے گئے قول و قرار پر مبنی سارے انتظام سے متعلق ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقرارہم نے بنی آدم سے اس لیے لیاہے کہ وہ قیامت کے دن کوئی عذرنہ پیش کرسکیں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس فطری علم کوودیعت کرکے اوراس پرتمھارااقرار لے کرجوہم نے یہ سارا انتظام کیاہے تو اس کا مقصد یہی تھاکہ تمھیں اس بارے میں علم دیا جائے اورغفلت کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے نہ چھوڑدیاجائے کہ کل قیامت کے روز تم اس چیزکوعذر بناؤکہ ہماری ہدایت کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تھا۔ تیسری بات یہ کہ 'اَنْ تَقُوْلُوْا' میں موجود ضمیر خطاب ، تمام بنی آدم کے لیے نہیں،جیساکہ عام طور پربیان کیاگیاہے،بلکہ یہ صرف ان آیات کے براہ راست مخاطبین،یعنی قریش کے لیے آئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں،یہاںیہ بیان نہیں ہواکہ خدا نے بنی آدم سے عہدلیاتواس موقع پرانھی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ قول وقرارمیں نے اس لیے لیا ہے تاکہ تم روزقیامت میرے سامنے اپنی غفلت کاعذرنہ پیش کرسکو۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قریش کے لوگوں کو عالم ارواح میں ہونے والے قول وقرار کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایاہے کہ یہ سب انتظام ہم نے اسی لیے توکیاتھاکہ تم قیامت میں یہ عذرنہ کر سکو کہ ہمیں خداکی ربوبیت کاکچھ علم نہ تھا،چنانچہ ہم اپنے ماحول سے متاثرہوئے اورشرک کی غلاظتوں میں جاپڑے۔ ضمیر خطاب کی اس تعیین کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیتیں سورۂ اعراف کی ہیں جوایک مکی سورہ ہے،اوراس کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ اس میں اصلاً قریش ہی کے ساتھ خطاب ہواہے،اور اس میں شرک پرانذارکرتے ہوئے قرآن کے عام طریقہ کے مطابق عقل وفطرت ،آفاق اورانفس کے حقائق کو بیان کیاگیاہے۔چنانچہ مذکورہ آیتوں میں اسی غرض سے بنی آدم کے نفس میں موجودعلم اوراس پرلیے ہوئے اقرارکوپیش کیاہے۔ اس کے بعد قریش ہی سے جو اِس انذارکے اصل مخاطب ہیں،فرمایاہے کہ یہ سب انتظام ہم نے اس لیے کیاہے کہ تم قیامت کے روز یہ عذر نہ پیش کرناکہ ہم خداکے رب ہونے کاعلم نہیں رکھتے تھے ،اس لیے شرک میں ملوث ہوگئے یاہمارے باپ دادا شرک کرتے تھے، اس لیے ان کے زیراثرہم بھی یہی کچھ کرتے رہے۔یہ آخری جملہ بھی دیکھ لیجیے کہ عالم ارواح میں موجودسب بنی آدم کے بجاے،اس دنیامیں آجانے والے قریش ہی کی طرف سے موزوں ہوسکتاہے کہ جن کے باپ داداواقعہ میں شرک کرتے رہے تھے۔

اب ان دومقدمات سے اخذہونے والے چندنتائج کو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں کہ جن سے کسی صورت بھی مفرنہیں ہے:

ایک یہ کہ اس واقعہ کاقرآن مجیدمیں مذکورہونااوراس کی اطلاع کسی شخص تک پہنچ جانا،یہ اپنی ذات میں اِتمام حجت کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔یہ اگراس میں بیان نہ بھی ہوتااوراس کی اطلاع بھی کسی شخص تک نہ پہنچ پاتی،تب بھی زیربحث مسئلہ میں اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔اس لیے کہ اِتمام حجت میں اصل حیثیت اس واقعہ کی نہیں،بلکہ انسان کو دیے گئے فطری علم کی ہے جو اس سے پہلے ہی اُسے ودیعت کر دیاگیاتھااوراس موقع پرہونے والے قول وقرارمیں محض اس کاظہور ہواتھا۔چنانچہ محض قرآن کی ان آیات کوپڑھ کرکسی شخص کی تکفیرکردینا ، کسی طرح بھی روانہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ اس فطری علم کی بھی یہ حیثیت نہیں ہے کہ محض اس کے فطرت میں موجودہونے پر اتمام حجت کا دعویٰ اور پھر اسی بنیاد پر کسی شخص کی تکفیرکردی جائے، بلکہ ضروری ہے کہ یہ اُس کے سامنے اُسی طرح ظہورکرے، جیسے عالم ارواح میں ایک سوال کے جواب میں اس نے ظہورکیاتھا کہ علم کااِبلاغ اوراُس کاوضوح، یہ دونوں ہی اتمام حجت کے لازمی شرائط ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے قرآن ہی کی ایک مثال دیکھ لی جاسکتی ہے۔فرمایاہے کہ ہم نے انسان کے نفس میں نیکی اوربدی کاالہام کردیا ہے۔ ۲۶؂ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہر بچہ نیکی اور بدی کی فطرت لے کراس دنیا میں آتا ہے، مگرہم جانتے ہیں کہ وہ اپنی اس فطرت کے بارے میں بالکل بھی آگاہ نہیں ہوتا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم نیکی اوربدی کے معاملے میں بچوں کومحض فطرت کی بنیادپرکبھی مسؤل نہیں ٹھیراتے ،بلکہ ہمیشہ یہ دیکھناضروری سمجھتے ہیں کہ اُن کی یہ فطرت کیا اپنی خوابیدگی کوختم کرکے اُن کا علم اورشعوربھی بن چکی ہے ۔

تیسرے یہ کہ عہدالست کے واقعہ میں ہونے والے اس علم کے ظہورسے بھی کسی شخص کی تکفیرکرنے پراستدلال نہیں کیاجاسکتا۔یہ سب اس دنیامیں آنے سے بہت پہلے عالم ارواح میں وقوع پذیرہوااورہم جانتے ہیں کہ یہاں اتر آنے کے بعدہمارے شعوراوراُس علم کا تعلق اب ویسانہیں رہا۔ وہ ہمارے شعورسے نکل کر حالت اخفامیں ،گویا کہ لاشعورمیں چلا گیا، حتیٰ کہ اُس کے بارے میں ہونے والے قول وقرارکوبھی ہماری یاداشت سے یک سر مٹا دیا گیا۔ لہٰذا، جو شخص آج کسی منکرِخداکی تکفیرپر اصرارکرتا ہے، اُس پرلازم ہے کہ وہ پہلے اس بات کو ثابت کرے کہ انسان جب اس دنیامیںآتاہے تواُس پریہ ظہوراسی طرح مسلسل قائم ہوتاہے اوراُسے اللہ کے رب ہونے کا نہ صرف یہ کہ فطری طورپر،بلکہ شعوری طورپربھی مکمل علم ہوتاہے۔وگرنہ یہ بات سراسر ظلم ہوگی کہ محض اس وجہ سے کسی شخص کی تکفیر کر دی جائے کہ زمانہ قبل ازدنیا میں اوراُس کی پیدایش سے بھی بہت پہلے یہ سب ایک مرتبہ اُس پرظاہرہواتھا۔

چوتھے یہ کہ اس بات کوفرض کرلینابھی صحیح نہیں ہے کہ یہ فطری علم اس دنیامیں آنے والے ہرشخص پر لازماً ظاہر ہو کر رہتاہے ،اس لیے بلاتامل ہرمنکر کی اس باب میں تکفیربھی کی جاسکتی ہے۔اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اس کے لیے خدانے جس قدراہتمام کیاہے ، عام طور پریہ ظاہرہوکر رہتاہے،مگراس میں،بہرحال، یہ استثنابھی موجودہے کہ کسی شخص میں یہ زندگی بھرمستوررہے اورکسی صورت بے حجاب نہ ہونے پائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیامیں جس طرح بہت سے ایسے محرکات پائے جاتے ہیں جو فطری علوم کو تحریک دیتے ہیں، اسی طرح یہاں کئی ایسے موانع بھی موجود ہیں جو بعض اوقات ان کے ظہورمیں رکاوٹ بن جایا کرتے ہیں۔اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی بچہ بولنے کی صلاحیت لے کرپیداہو،مگرسماعت سے یک سرمحروم ہواوراس کے نتیجے میں وہ بولنے سے بھی محروم رہ جائے۔ یا وہ صحیح سالم پیدا ہو، مگر اُس کے ماحول میں سبھی گونگے پائے جاتے ہوں اوریوں بات کرنے کی اُس کی ساری صلاحیتیں دبی کی دبی رہ جائیں ۔

پانچویں یہ کہ اس دنیامیں ہمارے فطری علم اورہمارے شعورکے تعلق کودوبارہ سے قائم ہونااوریوں اس علم کو پھر سے ظہور کرنا ہے۔اس میںیہ امکان کسی صورت بھی ردنہیں کیاجاسکتاکہ کسی شخص میں اس علم کے ظہوراوراس کے اقرار اور اس کے تقاضوں کو پوراکرنے میں کچھ اعذارلاحق ہو جائیں۔ یہ اعذار،جیساکہ پیچھے تفصیل گزری، ہر انسان کو اس دنیامیں کسی بھی وقت لاحق ہوسکتے اوراس کے مواخذے میں کچھ نہ کچھ رعایت کاسبب بن سکتے ہیں،اورفطری علوم کے ظہورمیں ان کا لاحق ہوجانا، خارجی علوم کے مقابلے میں زیادہ قرین قیاس بھی ہے ۔سواعذارکے اِس اِمکان کے ہوتے ہوئے ہمارے لیے بالکل بھی روانہیں ہے کہ ہم کسی متعین شخص پرچاہے وہ ملحدہی کیوں نہ ہو،اتمام حجت کے واقع ہوجانے اورپھراسی بنیاد پر اس کی تکفیرکرنے پراصرارکریں اوربالخصوص اس صورت میں کہ جب ہماری معلومات کا عالم یہ ہوکہ ہم کسی کے حقیقی عذرکونہ خودجان سکتے ہوں اور نہ مذکورہ آیات ہمیں اس طرح کی کوئی اطلاع ہی دیتی ہوں۔

چھٹے یہ کہ 'اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ...' کے جملوں سے اگرکوئی شخص اعذارکے مطلق ختم ہوجانے پراستدلال کرتا ہے تواسے چاہیے کہ وہ یہ استدلال تمام بنی آدم کے بجاے صرف قریش کے بارے میں کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اصل خطاب قریش ہی کے لوگوں سے کیاگیا ہے اوراُن کے متعلق یہ بھی ایک واقعہ کابیان ہے کہ ربوبیت کایہ فطری علم اُن کے سامنے بالکل واضح تھااوروہ اس کا اقرار کرتے اوراپنے عقیدہ وعمل میں اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے،جیساکہ خود قرآن نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔تاہم اس کے باوجود، اگرکوئی شخص ضمیر خطاب کی اس تعیین کونہ مانے اور اسے ملحدین سمیت سب بنی آدم سے متعلق سمجھ لے توپھربھی اُن میں سے کسی شخص کو کافر اور سزاوارِ عذاب اُسی صورت میں قراردیاجاسکتاہے کہ جب ہم پہلے یہ بات ثابت کریں کہ اللہ کی ربوبیت کا علم جو فطرت کے دوسرے حقائق کی طرح پوشیدہ ہوتاہے، اُس پر ایک مرتبہ پوری طرح سے واضح ہوچکا ہے، ۲۷؂ اور وہ آخرت میں اب یہ کہنے کی پوزیشن میں بالکل نہیں رہاکہ اے اللہ، میں تو اس بات سے سراسرغافل تھا، کیونکہ 'اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ' کے الفاظ توپھریہی بتاتے ہیں کہ آخرت میں مواخذہ اُسی شخص کاہوگاجو خداکے حضور اپنی لاعلمی اور جہالت کا عذرنہ پیش کرسکے گا۔

ساتویں یہ کہ ان آیات میں خداکے موجودہونے یانہ ہونے کاکوئی مسئلہ، اصلاًزیربحث نہیں ہے،بلکہ ان میں خدا کی ربوبیت کی بنیادپر قریش کے لوگوں کو شرک کے معاملے میں انذار کیاگیاہے ۔یعنی ،خداکی ربوبیت کاعلم چونکہ انسان کی فطرت میں ودیعت ہے،اس لیے اس تقاضے سے شرک میں مبتلا اُن لوگوں سے کہاگیاہے کہ وہ انجانے میں یا غفلت کے کسی اندھیرے میں نہیں، بلکہ حقائق کوجاننے کے بعداور پوری روشنی میںیہ شرک کررہے ہیں،اس لیے وہ اپنے اس شرک میں قیامت کے دن قطعاًمعذورنہیں ہوں گے۔چنانچہ یہ آیات تبعاً توکسی شخص کے اِلحادوانکار سے متعلق کی جاسکتی ہیں،مگریہ اس سے براہ راست کوئی تعلق رکھتی ہیں اورنہ اس بنیادپر اس کے اخروی مواخذے کی بات ہی کرتی ہیں۔لہٰذا، محض ان آیات کوپڑھ کرملحدین سمیت سب بنی آدم کے لیے قطع عذراور اس بنیاد پر ان کی تکفیر پر استدلال کرنا،ان آیات کے اصل مفہوم سے صریح طورپرتجاوزہے۔

۲۔ سیدناصدیق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں مرتدین کے ساتھ جو قتال کیاگیا،اُس سے بھی مجوزین تکفیر نے دلیل اخذکی ہے کہ صحابہ کی جماعت کی طرف سے اُنھیں مرتدین قراردے دینا،اصل میں اُن کی تکفیرکرناہی تھا۔ اُس زمانے کے مخصوص حالات اور ارتداد کے موقع پر کی گئی خلیفۂ رسول کی گفتگواگرسامنے رکھی جائے تومعلوم ہوجاتاہے کہ صحابہ کے اس اِقدام کابھی تکفیرکی بحث سے کوئی تعلق نہیں۔

سورۂ توبہ میں اُن مشرکین کے لیے جن پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت ہوچکاتھا،ایک خدائی عذاب کا اعلان ہواہے۔ فرمایاہے کہ اس طرح کے تمام لوگوں کوایک مخصوص مدت کے گزرجانے کے بعد قتل کردیاجائے،یہاں تک کہ وہ اپنے کفر سے باز آ جائیں اوراسلام کوقبول کرلیں اوراس کی شہادت میں نمازاورزکوٰۃ کا اہتمام کریں۔ اس عذاب سے بچنے کی عملی صورت یہ ہوئی کہ اُنھوں نے کفروشرک سے تائب ہونے اوراسلام کوقبول کرنے کااعلان کردیااورچونکہ اُس وقت مدینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی حکومت قائم تھی، اس لیے یہ بھی اقرار کیاکہ وہ اپنی زکوٰۃ اسی حکومت کو ادا کریں گے۔ اُن سمیت سب پر یہ بات بھی بالکل واضح تھی کہ وہ اپنے جیتے جی اس عہدپرکاربند رہیں گے کہ اُن پر ہونے والااتمام حجت اوراُس کے نتائج کچھ مدت کے لیے نہیں،بلکہ زندگی بھر کے لیے تھے۔اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تواس عہدکی روسے اُن پرلازم تھاکہ وہ ایمان پرقائم رہیں،نمازاداکرتے رہیں اوراپنی زکوٰۃ اب اُس نظم اجتماعی کوادا کریں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت بالاتفاق منتقل ہوچکی تھی۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسانہیں ہوااوربہت سے لوگوں نے اپنا عہد توڑ دیا۔ بعض نے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کونبی مان لیااور بعضوں نے یہ کیاکہ مرکز خلافت کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور اس طرح یہ دونوں گروہ مسلمانوں کے نزدیک مرتدین اوردوبارہ سے خدائی عذاب کے مستحق قرار پاگئے ۔صحابہ کے اس فیصلے میںیہ اس عہدکی مرکزی حیثیت ہی تھی کہ بعض لوگوں نے جب یہ کہاکہ وہ ایمان پر قائم رہیں گے اور نماز و زکوٰۃ کابھی اہتمام کریں گے،مگراپنی زکوٰۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرکز خلافت کوادانہیں کریں گے تو اُنھیں بھی مرتدقراردے کر اُن سے قتال کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور اس موقع پر سیدنا ابوبکرنے یہی وضاحت فرمائی: 'واللّٰہ لو منعوني من الزکاۃ عقالًا مما کان یاخذ منہم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لقاتلتہم علیہ أبدًا'۔ ۲۸؂ کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کو جو زکوٰۃ دیا کرتے تھے، اگراُس میں سے ایک جانوربھی روک لیں گے تومیں اس پر اُن سے ضرور قتال کروں گا۔اس تفصیل سے غرض یہ ہے کہ صحابۂ کرام نے اُن سے قتال محض اس لیے نہیں کیاکہ وہ لوگ اسلام اوراُس کے احکام چھوڑ کر مرتدہوگئے تھے،بلکہ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ اپنی عہدشکنی سے اُس امان سے محروم ہوگئے تھے جوخداکے عذاب کے مقابلے میں اُنھیں حاصل ہوئی تھی اوراس طرح وہ اپنی موجودہ حیثیت سے محروم ہوکر پہلی حیثیت میںآگئے اور دوبارہ سے خدا کے عذاب کے حق دارٹھیرادیے گئے تھے۔سویہ اُس معنی میں کسی کوکافرقرار دے دینانہیں تھا جس معنی میں ہم یہاں بحث کررہے ہیں ، بلکہ یہ اُن لوگوں کودوبارہ سے کافرقراردے دینا تھاجوپہلے بھی کافرہی تھے ،مگر رسول اللہ کی طرف سے اتمام حجت ہوجانے کے بعدایک عہد کے نتیجہ میں مسلمان قرار پاگئے تھے ۔

جہاں تک خوارج سے قتال کرنے کامعاملہ ہے تواس میں تکفیرکا سرے سے کوئی مسئلہ ہی پیدانہیں ہواکہ اس سے تکفیر پر استدلال لایاجاسکے۔یہ مسلمانوں میں سے وہ حضرات تھے جوسب سے بڑھ کراسلام کے دعوے دار اور نماز روزے کانہایت سختی سے التزام کرنے والے تھے ،مگر ان کے فہم کی کجی تھی کہ حضرت علی کے خلاف خروج کربیٹھے تھے۔ چنانچہ اُن سے قتال اُنھیں مرتدیاکافرقراردے کرنہیں ،بلکہ مسلمان سمجھتے ہوئے کیاگیا۔اور یہی وجہ تھی کہ مرتدین کے برعکس،مرنے والوں کے جنازے پڑھے گئے ،اُن کی عورتیں اوربچے غلام نہیں بنائے گئے ،بلکہ جب تک وہ عملی اِقدام سے دور رہے، اُن سے کسی قسم کاتعرض بھی نہیں کیاگیا۔

۳۔ باقی جویہ کہاگیاہے کہ جولوگ ہمیں کافرقراردیں ،اُنھیں محض اسی وجہ سے کافرقراردیاجاسکتاہے،یہ بات کسی طرح بھی کوئی علمی دلیل نہیں ہے۔تکفیراس لیے نہیں کی جاتی کہ کوئی ہماری تکفیرکررہاہے ،بلکہ اس کے کچھ بنیادی شرائط ہیں کہ جن کاپوراہونا ازحد ضروری ہے اورہم جانتے ہیں کہ کم سے کم دوسروں کی تکفیرکرنا اس کی کوئی شرط نہیں ہے۔ بلکہ اس دلیل کی اگرحقیقت دیکھی جائے تویہ گالی کے جواب میں گالی دے دیناہے اورکچھ نہیں۔جہاں تک اُن لوگوں کامعاملہ ہے جواِسلام کاانکارکریں اورخوداپنے آپ کوکافرکہیں ،انھیں کافرضرور کہا جاسکتاہے ، مگریاد رہے یہ حقیقت میں انھیں کافرکہنانہیں ہے ،بلکہ یہ ایک نام ہے جواُنھوں نے خوداپنے لیے رکھ چھوڑاہے۔آخربہت سے لوگ اوٹ پٹانگ نام رکھ ہی لیاکرتے ہیں۔

________

۱۳؂ یہی وجہ ہے کہ اول زمانے میں جب بعض لوگوں کو 'مروق السہم من الرمیۃ'کی ان روایات کامصداق سمجھا گیا تو اُنھیں بھی کم سے کم کافرقرارنہیں دیاگیا۔

۱۴؂ الحجرات ۴۹: ۹۔۱۰۔

۱۵؂ البقرہ ۲: ۱۷۸۔

۱۶؂ بخاری، رقم ۷۱۶۹۔

۱۷؂ مسلم، رقم ۴۴۸۷۔

۱۸؂ یہ اسلوب ایساہی ہے جیسے ہم کسی شخص کودشنام طرازی سے روکناچاہیں اورکہیں کہ دیکھو،تم فلاں شخص کوکمینہ کہہ رہے ہو۔اگروہ واقعہ میں ایساہواتوتمھاری بات توغلط نہیں،مگرگالی ہونے کی وجہ سے یہ غلطی ضرورہے۔اوراگریہ اُس پرالزام ہے تو اس طرح کا الزام لگاکرتم تواپناکمینہ پن بہرحال دکھاچکے۔

۱۹؂ یہ سب فیصلے چونکہ حقیقت حال پرنہیں ،بلکہ ظاہرپرہوتے ہیں ،اس لیے لازم نہیں ہوتاکہ ہرمومن اورکافردنیامیں اپنے حقیقی انجام سے دوچاربھی ہوجائے۔

۲۰؂ 'وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ' میں 'مِنْکُمْ' کے الفاظ اسی بات پردلالت کرتے ہیں( النساء ۴: ۵۹)۔

۲۱؂ النساء ۴: ۳۴۔ ہم نے شوہرکی قوامیت ،اُس کے وجوہ اور تقاضوں کے متعلق اپنے ایک مضمون میں الگ سے لکھا ہے۔

۲۲؂ فطرت میں ودیعت کردہ اس علم سے مراد،اصل میں اس کی وہ مخفی بنیاد ہے جوخارج کے زیراثرجب ظاہرہوجاتی توباقاعدہ علم قرار پاجاتی ہے۔

۲۳؂ التوبہ ۹: ۶۔

۲۴؂ یہ ساراواقعہ سورۂ اعراف کی آیات ۱۷۳ اور ۱۷۴ میں بیان ہواہے۔

۲۵؂ النحل ۱۶: ۷۸۔

۲۶؂ الشمس ۹۱: ۷۔ ۸۔

۲۷؂ یادرہے،یہ علم ایک مرتبہ اُن پرظاہرہوجاتاہے اور وہ کسی بے جاحجاب کے زیراثر پھراُس سے غافل ہوجاتے ہیں تو اب وہ خداکے حضورکم سے کم غفلت یعنی،لاعلمی کا عذر پیش نہ کر سکیں گے ۔

۲۸؂ کتاب الردۃ، واقدی ۵۲۔

____________

تکفیر (4/4)