تنقید


کسی مضمون پر تنقید اصلاً ایک مثبت عمل ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں علم و دانش کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔اگر کوئی بات مصنف کے سہو یا سوء فہم کے نتیجے میں غلط طور پر بیان ہو گئی ہوتو اس کا امکان ہوتا ہے کہ وہ تنقید کی روشنی میں اپنی تالیف پر نظر ثانی کرے گا۔ چنانچہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ تنقید وہ زینہ ہے جس پر علم اپنے ارتقا کی منزلیں طے کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ علمی ارتقا کی خدمت کا فریضہ صرف اور صرف وہی تنقید انجام دیتی ہے جس میں مصنف کا نقطۂ نظر تعصب سے بالاتر ہو کر پوری دیانت داری سے سمجھا گیا ہو اور بے کم و کاست بیان کیا گیا ہو،جس میں مصنف کے محرکات طے کر کے انھیں ہدف تنقید بنانے کے بجاے اس کے استدلال کے نکات کو متعین کرکے ان پر تنقید کی گئی ہو، جس میں ضمنیات کو نمایاں کرکے ان پرمباحث لکھنے کے بجاے اساسات کو بنیاد بنا کر ان پر بحث کی گئی ہو اورجس میں الزام تراشی، دروغ گوئی اور دشنام طرازی کے بجاے سنجیدہ اور شایستہ اسلوب بیان میں اپنی بات سمجھائی گئی ہو۔ اگر کوئی تنقید ان معیارات پر پوری نہیں اترتی تو صاف واضح ہے کہ وہ علم کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔علم کی دنیا میں اس کی حیثیت محض رطب و یابس کی ہوتی ہے اور اصحاب علم و دانش اس سے اعتنا برتنے کو بھی غیر علمی رویے پر محمول کرتے ہیں۔

____________