تقلید


ہمارے ہاں عام طور پر مذہبی معاملات میں تقلید کو بطور اصول اختیار کیا جاتا ہے اور یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ اگر کسی فقیہ یا امام کی ایک راے قبول کی ہے تو لازم ہے کہ اس کی باقی آرا کو بھی قبول کیا جائے۔ علم و استدلال کی دنیا میں اس مطالبے کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔جن اصحاب علم کے لیے یہ استحقاق طلب کیا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے خود بھی کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیشہ فرد کے بجاے اس کے موقف اور اس موقف کے استدلال کو موضوع بنایا۔ جو راے بھی انھوں نے پیش کی ، دلیل کی بنا پر پیش کی اورامام شافعی کے الفاظ میں، اس تواضع کے ساتھ پیش کی کہ میں اپنی بات کو صحیح کہتا ہوں، مگر اس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتا ہوں اور اس کے برعکس بات کو غلط کہتا ہوں، مگر اس میں صحت کا امکان تسلیم کرتا ہوں۔ انھوں نے ہمیشہ یہ درس دیا کہ دین کے معاملے میں حجت کی حیثیت ان کی ذات، ان کے موقف یا ان کے فہم کو ہر گز حاصل نہیں ہے۔ یہ مرتبہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کو حاصل ہے کہ ہر حال میں اس کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے۔ سلف صالحین کا یہی منہج ہے جسے بعد میں آنے والوں نے بھی پوری ذمہ داری کے ساتھ اختیار کیا اور اس میں کبھی تامل نہیں کیا کہ اگر ایک معاملے میں طبری اور ابن کثیر کی راے قبول کی ہے تو دوسرے معاملے میں رازی اور زمخشری کی راے کو اختیار کیا جائے۔ ایک مسئلے میں امام ابوحنیفہ کے قول کو ترجیح دی ہے تو دوسرے مسئلے میں امام مالک، امام شافعی یا امام احمد بن حنبل کے موقف کو اپنایا جائے۔انھوں نے اس سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا کہ اگر سلف و خلف کی آرا میں سے کوئی راے بھی لائق التفات نہیں ہے تو عقل و نقل کی بنا پر اپنی راے کو پیش کر دیاجائے۔اہل علم کی یہی روایت ہے جسے دور جدید میں علامہ شبلی نعمانی، مولانا حمید الدین فراہی ،سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے پوری شان کے ساتھ آگے بڑھایا ہے ۔ ''المورد'' بھی اسی روایت کے دوام اور استحکام کا داعی ہے۔

____________