تصویر اور مصوری (1/3)


تحقیق وتخریج: محمد عامر گزدر

—۱—

عَنْ جَابِرِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ،۱ یَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَیْتِ، وَنَہَی الرَّجُلَ أَنْ یَصْنَعَ ذٰلِکَ.

جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے اور اُن کے بنانے سے منع فرمایا ہے۔۱

________

۱۔ سورۂ سبا (۳۴) کی آیت ۱۳ میں تصریح ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنی عمارتوں میں تصویریں اور مجسمے بھی بنوائے تھے۔آیت میں اِس کے لیے 'تَمَاثِیْل' کا لفظ آیا ہے جو بے جان اور جان دار، ہر چیز کی تصویر اور مجسمے کے لیے عام استعمال ہوتا ہے۔ یہ جس طریقے سے استعمال کیا گیا ہے، زبان و بیان کی رو سے اُس میں کسی تخصیص کی بھی گنجایش نہیں اورخدا کے کسی پیغمبر کے بارے میں یہ تصور نہیں ہوسکتا کہ وہ کوئی ایسا کام کرے گا جواصلاً شر ہو اور جسے بغیر کسی قید وشرط کے حرام قرار دیا جاسکتا ہو۔پھر یہی نہیں، سورۂ اعراف (۷)کی آیات ۳۲۔۳۳ میں مزید تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ صرف پانچ چیزیں حرام کی ہیں: ایک فواحش، دوسرے حق تلفی، تیسرے جان، مال اور آبرو کے خلاف زیادتی ، چوتھے شرک اور پانچویں بدعت۔ لہٰذا یہ بات تو کسی طرح نہیں مانی جاسکتی کہ خدا کے دین میں تصویروں کی ممانعت علی الاطلاق ہے۔ چنانچہ فقہا نے بھی اِسے علی الاطلاق نہیں، بلکہ ذی روح کی تخصیص کے ساتھ ہی مانا ہے۔لیکن روایت کے حکم اور قرآن کی تصریحات میں بظاہر جو منافات ہے، وہ اِس سے بھی ختم نہیں ہوتی، اِس لیے ضروری ہے کہ یہ ممانعت صرف اُس صورت کے لیے خاص قرار دی جائے ، جب تصویر کوئی ایسا معاملہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہو جسے اِن آیتوں میں حرام کہا گیا ہے۔یہ، ظاہر ہے کہ اُنھی تصویروں اور مجسموں کے ساتھ ہوسکتا ہے جن کے ساتھ مشرکانہ عقائد وابستہ ہوں یا وابستہ کیے جاسکتے ہوں ، یعنی مثال کے طور پر،لوگ اُنھیں ذی روح ہستیوں کی طرح یا اُن کے تعلق سے مقدس اور نافع وضار سمجھ کر اُن کی عبادت اور اُن سے استعانت کریں یا کرسکتے ہوں۔اِس تخصیص کے بعد قرآن وحدیث میں کوئی منافات باقی نہیں رہتی اور روایت کا حکم ہر لحاظ سے واضح ہوجاتا ہے ، مگر یہ سوال، اِس کے باوجود باقی رہتا ہے کہ اِس کے لیے علی الاطلاق ممانعت کا اسلوب کیوں اختیار کیا گیا ؟ اِس کا جواب، ہمارے نزدیک یہ ہے کہ مورتیں اور تصویریں اُس زمانے میں زیادہ تر پرستش کے لیے یا ایسی چیزوں اور ایسے اشخاص ہی کی بنائی جاتی تھیں جن سے متعلق مشرکانہ جذبات کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ تھا ، مثلاً انبیا، فرشتے،جنات ، اُن کے بسیرا کرنے کے درخت اور اُن کی سواری کے لیے پروں والے گھوڑے یا مذہبی علامات، جیسے صلیب وغیرہ۔چنانچہ پورے اطمینان کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ روایت میں لفظ 'الصور' پر الف لام عہد کا ہے اور اِس سے وہی تصویریں اور مجسمے مراد ہیں جومشرکانہ تصورات کے تحت بنائے گئے ہوں یا اُن کا باعث بن سکتے ہوں۔ آگے کی روایتوں کومجموعی حیثیت میں اور تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۵۱۲۵ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۱۴۵۹۶۔ سنن ترمذی، رقم ۱۷۴۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۲۲۴۴۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۴۴۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۹۷۲۳۔

—۲—

عَنْ وَہْبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ السَّوَاءِيِّ، قَالَ:۱ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُصَوِّرَ۲.

وہب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویریں بنانے والوں پر لعنت کی ہے۱۔

________

۱۔یعنی وہ تصویریں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ۔ اُن پر، ظاہر ہے کہ لعنت ہی ہونی چاہیے، کیونکہ قرآن نے جگہ جگہ واضح کردیا ہے کہ جو لوگ جانتے بوجھتے اللہ کے شریک ٹھیرائیں، وہ اُس کی رحمت سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیے جاتے ہیں۔تاہم یہ لعنت اُنھی مصوروں پر ہوگی جو یہ تصویریں مذہبی عقیدت کے جذبے کے ساتھ بنائیں اور اُن کے بارے میں وہی کچھ مانتے ہوں جو اُن کے پوجنے والے مانتے ہیں یا اُن لوگوں کے لیے بنائیں جو اِسی جذبے اور اِسی مقصد سے تصویریں بنواتے ہیں۔

متن کے حواشی

۱۔ یہ روایت صحیح بخاری، رقم ۲۲۳۸ سے لی گئی ہے۔ اِس کے راوی تنہا وہب بن عبد اللہ سوائی رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے باقی طرق اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسندابن جعد، رقم ۵۱۵۔ مسند احمد، رقم ۱۸۷۵۶، ۱۸۷۶۸۔ صحیح بخاری، رقم ۲۰۸۶، ۵۳۴۷، ۵۹۶۲۔ مسند حارث، رقم ۴۳۸۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۸۹۰۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۲۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۲۹۸۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۰۰۷۔

۲۔ صحیح بخاری، رقم ۵۳۴۷ میں یہاں 'الْمُصَوِّرَ' کے بجاے صیغۂ جمع 'الْمُصَوِّرِیْنَ' آیا ہے۔

—۳—

عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ یَتْرُکُ فِيْ بَیْتِہِ شَیْءًا فِیہِ تَصْلِیبٌ إِلَّا قَضَبَہُ۱.

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیزبغیر کاٹے نہیں چھوڑتے تھے، جس میں صلیب کی تصویر بنی ہو۱۔

________

۱۔ اِس لیے کہ صلیب نصاریٰ کے ہاں ایک مقدس علامت بن چکی تھی اور اُس کے ساتھ اُن کے وہی جذبات وابستہ تھے جو مشرکین کے اپنے اوثان کے ساتھ ہوتے ہیں۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا مسیح علیہ السلام ، جنھیں وہ خدا کا اکلوتا بیٹا سمجھتے ہیں ، اُن کے عقیدے کے مطابق اِسی پر چڑھائے گئے اور اپنے ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے اِسی سے اپنے آسمانی باپ کے پاس گئے تھے۔ اِس سے وہ علت مزید واضح ہوجاتی ہے جو ہم نے اوپر تصویر کی حرمت کے لیے بیان کی ہے، کیونکہ صلیب بے جان ہی ہوتی ہے۔ اُس کی تصویروں کو کاٹ دینے کی وجہ اگر کوئی ہوسکتی ہے تو وہی ہوسکتی ہے جو ہم نے اوپر بیان کردی ہے۔ آگے جن پردوں اور کپڑوں کا ذکر بعض روایتوں میں ہوا ہے، اُن کی تصویروں کوبھی اِسی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۲۵۹۹۶ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ اِس کے متابعات کے مصادر یہ ہیں: مسند اسحاق، رقم ۱۴۰۵، ۱۶۹۰، ۱۷۵۲۔ مسند احمد، رقم ۲۴۲۶۱، ۲۶۱۴۲۔ صحیح بخاری، رقم ۵۹۵۲۔ سنن ابی داود، رقم ۴۱۵۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم۹۷۰۶۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم۴۶۴۱۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۲۴۵۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۷۱۔

صحیح بخاری، رقم ۵۹۵۲ میں یہ روایت اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: 'إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ یَتْرُکُ فِيْ بَیْتِہِ شَیْءًا فِیہِ تَصَالِیبُ إِلَّا نَقَضَہُ' ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز بغیرتوڑے نہیں چھوڑتے تھے، جس میں صلیب کی تصویریں بنی ہوں''، جب کہ مسند اسحاق، رقم ۱۶۹۰ میں یہ الفاظ ہیں: 'إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَتْرُکُ فِيْ بَیْتِہِ ثَوبًا فِیہِ تَصْلِیبٌ إِلَّا قَصَّہُ' ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا بغیرکاٹے نہیں چھوڑتے تھے، جس میں صلیب کی تصویربنی ہو''۔

—۴—

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:۱ دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ [یَوْمَ الْفَتْحِ۲] وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاثُ مِاءَۃٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا۳، فَجَعَلَ یَطْعَنُہَا بِعُودٍ کَانَ فِيْ یَدِہِ [فَتَسَّاقَطُ عَلٰی وَجْہِہَا۴]، وَیَقُو لُ: ''(جَاءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا)[الإسراء: ۸۱]، (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ)'' [سبأ:۴۹].

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے تھے۱۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ اُس سے اُن کومارنے لگے تو وہ پے بہ پے منہ کے بل گرتے چلے گئے۲۔ آپ اُس وقت کہہ رہے تھے: حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور یہ باطل مٹنے ہی والا تھا (بنی اسرائیل۱۷: ۸۱)۔ حق آگیا اور حقیقت یہ ہے کہ باطل نہ ابتدا کرتا ہے، نہ اعادہ ۳(سبا ۳۴: ۴۹)۔

________

۱۔ یہ بت بھی، ظاہر ہے کہ مجرد آرٹ کے پہلو سے نہیں ، بلکہ پرستش ہی کے لیے بنائے گئے تھے۔

۲۔ یہ اِس لیے کہ اب آپ کے پاس قوت نافذہ تھی اور قرآن مجید میں آپ کوحکم دیا گیا تھا کہ جزیرہ نماے عرب میں دین خالص اللہ ہی کے لیے ہوجانا چاہیے: '(وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ)' (الانفال ۸: ۳۹)۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے، ہماری کتاب ''میزان'' میں ''قانون جہاد'' اور ''مقامات'' میں ''خدا کے فیصلے'' کے زیر عنوان ہمارے مضامین۔

۳۔ اِس موقع پر اِن آیات کی تلاوت بھی اُسی حقیقت کو واضح کرتی ہے جو ہم نے بتوں اور تصویروں کے بارے میں اوپر بیان کی ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۶۹۰۶ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی تفاوت کے ساتھ اِس کے بقیہ طرق جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند حمیدی، رقم ۸۶۔ مسند ابن ابی شیبہ، رقم ۱۷۸۔ مسند احمد رقم ۳۵۸۴۔ صحیح بخاری، رقم ۲۴۷۸،۴۲۸۷، ۴۷۲۰۔ صحیح مسلم، رقم ۱۷۸۱۔ سنن ترمذی، رقم ۳۱۳۸۔ مسند بزار، رقم ۱۸۰۰۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۱۱۲۳۳، ۱۱۳۶۴۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۴۹۶۷۔ مستخرج ابی عوانہ، رقم ۶۷۸۸۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۶۲۔ المعجم الصغیر، طبرانی، رقم ۲۱۰۔المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۲۳۰۳۔المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۰۵۳۵۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۵۵۰۔

۲۔ صحیح بخاری، رقم ۴۲۸۷۔

۳۔ بعض طرق، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۲۴۷۸ میں یہاں 'صَنَمًا' ''بت'' کے بجاے 'نُصُبًا' ''عبادت کے لیے نصب کیے گئے پتھر'' کا لفظ نقل ہوا ہے، جس کی جمع 'أَنْصَاب' آتی ہے۔*

۴۔ المعجم الاوسط، طبرانی، رقم ۲۳۰۳۔

—۵—

عن جَابِرِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، یَقُولُ:۱ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَوْمَ الْفَتْحِ، وَہُوَ بِالْبَطْحَاءِ، أَنْ یَأْتِيَ الْکَعْبَۃَ فَیَمْحُوَ کُلَّ صُورَۃٍ فِیہَا، وَلَمْ یَدْخُلِ الْبَیْتَ حَتّٰی مُحِیَتْ کُلُّ صُورَۃٍ فِیہِ۲.

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن، جب کہ آپ بطحا میں تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ کعبہ میں جا کر اُس کے اندر سب تصویریں مٹادیں۔چنانچہ آپ اُس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہیں ہوئے، جب تک اُس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۱۔

________

۱۔ یعنی بیت اللہ کے اندررکھی ہوئی تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔ اوپر کی روایت میں تصریح ہے کہ بیت اللہ کے باہر اور اُس کے صحن میں جو بت رکھے گئے تھے،وہ آپ نے خود اپنی چھڑی سے گرائے تھے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن مسند احمد، رقم ۱۵۱۰۹ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا جابر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس کے متابعات اِن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مسند احمد، رقم ۱۴۵۹۶، ۱۵۲۶۱۔ سنن ابی داود، رقم ۴۱۵۶۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۷۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۹۷۲۳،۱۴۵۶۲۔

۲۔ مسند احمد، رقم ۱۵۲۶۱ میں اِس واقعے کی مزید تفصیل اِس طرح نقل ہوئی ہے: 'عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: کَانَ فِي الْکَعْبَۃِ صُوَرٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ یَمْحُوَہَا، فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاہَا بِہِ، فَدَخَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَمَا فِیہَا مِنْہَا شَيْءٌ' ''کعبہ میں بہت سی تصویریں تھیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اُنھیں مٹادیں۔سیدنا عمر نے ایک کپڑا بھگویا اور اُس سے اُن تصویروں کو مٹادیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو اُس وقت وہاں کوئی تصویر باقی نہیں تھی''۔

—۶—

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۱ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَکَّۃَ، أَبَی أَنْ یَدْخُلَ البَیْتَ وَفِیہِ الآلِہَۃُ، فَأَمَرَ بِہَا فَأُخْرِجَتْ، فَأُخْرِجَ صُورَۃُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ عَلَیْہِمَا السَّلَامُ فِيْ أَیْدِیہِمَا مِنَ الأَزْلاَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ، [أَمَا وَاللّٰہِ۲] لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِہَا قَطُّ''، ثُمَّ دَخَلَ البَیْتَ، فَکَبَّرَ فِيْ نَوَاحِي البَیْتِ، وَخَرَجَ وَلَمْ یُصَلِّ فِیہِ.

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو بتوں کے ہوتے بیت اللہ کے اندر جانے کو تیار نہیں ہوئے ۔ چنانچہ آپ نے اُن کے بارے میں حکم دیا اور وہ نکال دیے گئے۔ اِنھی میں ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام کی مورتیں بھی نکالی گئیں، جن کے ہاتھوں میں جوے کے تیر تھے۱۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا: اِن پر خدا کی مار، بخدا یہ خوب جانتے تھے کہ ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام نے کبھی جوے کے تیروں سے قسمت معلوم نہیں کی۔اِس کے بعد آپ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، پھر اُس کے کونوں میں کھڑے ہوکر تکبیر کہی اور باہر آگئے۔ آپ نے اُس کے اندر نماز نہیں پڑھی۲۔

________

۱۔اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس نوعیت کی تصویریں تھیں جو اُس زمانے میں بالعموم بنائی جاتی تھیں۔ روایت ۱ کے تحت ہم نے اِسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

۲۔ یعنی اِس موقع پر نماز نہیں پڑھی۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن صحیح بخاری، رقم ۴۲۸۸ سے لیا گیا ہے۔اِس کے باقی طرق جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند احمد، رقم ۳۰۹۳۔ صحیح بخاری، رقم ۱۶۰۱۔ سنن ابی داود، رقم ۲۰۲۷۔

بعض روایتوں، مثلاً صحیح بخاری، رقم ۳۳۵۲ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بات اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے: 'أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی الصُّوَرَ فِي البَیْتِ لَمْ یَدْخُلْ حَتّٰی أَمَرَ بِہَا فَمُحِیَتْ، وَرَأَی [تَمَاثِیلَ]** إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ بِأَیْدِیہِمَا الأَزْلاَمُ، فَقَالَ: ''قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ، وَاللّٰہِ إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالأَزْلاَمِ قَطُّ''' ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں تو اُس وقت تک اُس میں داخل نہیں ہوئے، جب تک آپ کی ہدایت کے مطابق اُنھیں مٹا نہیں دیا گیا اور آپ نے ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام کی مورتیں بھی دیکھیں جن کے ہاتھوں میں جوے کے تیر تھے۔ اُنھیں دیکھ کر آپ نے فرمایا: اِن پر خدا کی مار، بخدا ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام نے کبھی جوے کے تیروں سے قسمت معلوم نہیں کی''۔

اِس متن کے متابعات جن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں، وہ یہ ہیں: جامع معمر بن راشد، رقم ۱۹۴۸۵۔ مسند احمد، رقم ۳۴۵۵۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۶۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۱۱۸۴۵۔ مستدرک حاکم، رقم ۴۰۱۹۔ فوائد، تمام رازی، رقم ۱۱۷۶۔

۲۔ مسند احمد، رقم ۳۰۹۳۔

—۷—

عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ، قَالَتْ:۱ لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلٰی بَعِیرٍ یَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ بِیَدِہِ، ثُمَّ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ، فَوَجَدَ فِیہَا حَمَامَۃَ عَیْدَانٍ، فَکَسَرَہَا، ثُمَّ قَامَ عَلٰی بَابِ الْکَعْبَۃِ، فَرَمَی بِہَا، وَأَنَا أَنْظُرُ.

صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فتح کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہوا تو آپ نے ایک اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا۔آپ کے ہاتھ میں ایک عصا تھا،جس سے آپ حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔اِس کے بعد آپ کعبے میں داخل ہوئے تو وہاں ایک کبوتری کی مورت دیکھی جو لکڑیوں سے بنی تھی۔آپ نے اُس کو توڑ ڈالا۔پھر آپ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور میری آنکھوں کے سامنے اُس ٹوٹی ہوئی کبوتری کو باہر پھینک دیا۔۱

________

۱۔ آپ کے اِس طرز عمل سے واضح ہے کہ یہ کبوتری بھی کسی مشرکانہ عقیدے ہی کے تحت بنائی گئی اور بیت اللہ کے اندر رکھی گئی ہوگی، لیکن جن لوگوں کو آپ نے اصنام واوثان سے بیت اللہ کو پاک کرنے پر مامور فرمایا، اُنھوں نے غالبًا اِسے تزئین کی کوئی چیز سمجھا اور اُٹھا کر باہر نہیں پھینکا۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس واقعے کا متن سنن ابن ماجہ، رقم ۲۹۴۷ سے لیا گیا ہے۔ اِس کی راوی تنہا صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ تفصیلات کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے باقی طرق جن مصادر میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں، وہ یہ ہیں: الآحاد والمثانی، ابن ابی عاصم، رقم ۳۱۹۱۔ المعجم الکبیر، طبرانی، رقم ۸۱۰۔ معرفۃ الصحابۃ، ابو نعیم، رقم ۷۷۲۱، ۷۷۲۲۔

—۸—

عَنْ أَبِي الْہَیَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ:۱ قَالَ لِي عَلِیٌّ: أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِي عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا [فِيْ بَیْتٍ۲] إِلَا طَمَسْتَہُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَا سَوَّیْتَہُ۳.

ابو ہیاج اسدی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھیں اُسی مہم پر بھیج رہا ہوں ، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا اور وہ یہ کہ تم کسی گھر میں کوئی مورت نہ چھوڑو، جسے توڑ نہ دو۱ اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو، جسے زمین کے برابر نہ کردو۲۔

________

۱۔ یہاں بھی، ظاہر ہے کہ اُسی طرح کی مورتیں مراد ہیں جن کی وضاحت اوپر ہوئی ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِن مورتوں کو مٹادینے کی ہدایت کے باوجود یہ بعض جگہوں پر موجود تھیں یا غالبًا فتنۂ ارتداد کے زمانے میں کہیں کہیں دوبارہ بن گئی تھیں اور ایک خلیفۂ راشد کو وہی اقدام ایک مرتبہ پھر کرنا پڑا جو اِس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرچکے تھے۔

۲۔ یعنی وہ قبر جس کے ساتھ مذہبی تقدس وابستہ ہو ، جیسا کہ دنیا کی بہت سی قوموں میں اُن کے انبیا اور اولیا کی قبروں کے ساتھ ہوچکا ہے۔ یہ حکم توحید کے عالمی مرکز کے طور پر جزیرہ نماے عرب کی خاص حیثیت کے پیش نظر دیا گیا جو اُسے خود پروردگار عالم نے دی ہے اورجس کے تحت اُس کے اندر کوئی ایسی چیز گوارا نہیں کی جاسکتی جس میں شرک اور اُس کے متعلقات کا کوئی شائبہ بھی ہوسکتا ہو۔دنیا کے دوسرے علاقوں سے اِس حکم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اُن میں قانون کی طاقت سے صرف وہی چیزیں روکی جاسکتی ہیں جن میں کسی کی حق تلفی یا اُس کی جان، مال اور آبرو کے خلاف کسی زیادتی کا اندیشہ ہو ۔ اِس کی تفصیلات کے لیے دیکھیے، ہماری کتاب ''مقامات'' میں مضامین: ''خدا کے فیصلے'' اور ''قانون کی بنیاد''۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً مسند احمد، رقم ۷۴۱ سے لیا گیا ہے، اِس کی روایت تنہا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ہے۔ اسلوب کے کچھ فرق کے ساتھ اِس کے متابعات جن مراجع میں نقل ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: مسند طیالسی، رقم ۱۵۰۔ مسند احمد، رقم ۱۰۶۴۔ صحیح مسلم، رقم ۹۶۹۔ سنن ابی داود، رقم ۳۲۱۸۔ سنن ترمذی، رقم ۱۰۴۹۔ مسند بزار، رقم ۹۱۱۔ السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۰۳۱۔ السنن الکبریٰ، نسائی، رقم ۲۱۶۹۔ مسند ابی یعلیٰ، رقم ۱۵۰، ۶۱۴۔ مستدرک حاکم، رقم ۱۳۶۶، ۱۳۶۷۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۱۲۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۶۷۵۷۔

۲۔ السنن الصغریٰ، بیہقی، رقم ۱۱۱۲۔

۳۔ بعض طرق، مثلاً السنن الصغریٰ، نسائی، رقم ۲۰۳۱میں یہ روایت اِن الفاظ نقل ہوئی ہے: 'قَالَ عَلِيٌّ: أَلَا أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِي عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، لَا تَدَعَنَّ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّیْتَہُ، وَلَا صُورَۃً فِيْ بَیْتٍ إِلَّا طَمَسْتَہَا' ''میں تمھیں اُسی مہم پر بھیج رہا ہوں ، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ۔تم ہرگز کوئی اونچی قبر نہ چھوڑنا، جسے زمین کے برابر نہ کردو اور نہ کسی گھر میں کوئی مورت چھوڑنا، جسے توڑ نہ دو''۔

—۹—

قَالَ أَبُو زُرْعَۃَ:۱ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ دَارًا بِالْمَدِینَۃِ۲ [وَہِيَ تُبْنَی۳]، فَرَأَی أَعْلاَہَا مُصَوِّرًا یُصَوِّرُ [فِي الْجِدَارِ۴]، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ''[قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۵]: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَہَبَ یَخْلُقُ کَخَلْقِی، فَلْیَخْلُقُوا حَبَّۃً، وَلْیَخْلُقُوا ذَرَّۃً، [وَلْیَخْلُقُوا شَعِیرَۃً۶]''.

ابو زرعہ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک گھر بن رہا تھا ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں اُس میں گیا تو اُنھوں نے دیکھا کہ اُس کے اوپرایک مصور اُس کی دیوار میں تصویریں بنا رہا ہے۔اِس پر ابوہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو میری تخلیق کے مانند تخلیق کی کوشش کرے؟۱یہ لوگ ایک دانہ، ایک ذرہ یا ایک جو ہی بنا کر دکھائیں۲۔

________

۱۔ یہ قرآن کی کوئی آیت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت ہے۔اِس طرح کی روایات جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات آپ نے اپنے الفاظ میں بیان کی ہے، اِس کے علاوہ بھی نقل ہوئی ہیں۔مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص محض تصویر یا مجسمہ نہ بنائے ، جس طرح کہ مصور اور مجسمہ ساز بناتے ہیں، بلکہ اِس خیال سے میرے شریک تخلیق کرنے کی کوشش کرے کہ اُس کی بنائی ہوئی یہ تصویریں اور مجسمے بھی گویا اُسی طرح حقیقی شخصیت کے حامل ہوگئے ہیں ، جس طرح میری مخلوقات ہوتی ہیں ، اور اُن سے پرستش اور استعانت کے لیے اب وہی جذبات اور توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں جو زندہ معبودوں کے ساتھ وابستہ کی جاتی ہیں۔ 'یَخْلُقُ کَخَلْقِيْ' کی تعبیر یہاں اِسی پہلو سے اختیار کی گئی ہے۔اِس طرح کا خیال سراسر افترا علی اللہ ہے۔چنانچہ اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی تخلیق کی جسارت کرے؟

۲۔یعنی اُس طرح بناکر دکھائیں،جس طرح خدا نے بنایا ہے۔یہ تو محض ایک شبیہ بناکر اُس کو حقیقی شخصیات کی طرح صاحب اختیار اور نافع وضار سمجھنے کی حماقت میں مبتلا ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات، ظاہر ہے کہ اُنھی مصوروں کے بارے میں کہی ہوگی جو اپنی بنائی ہوئی تصویروں کے بارے میں اِس طرح کا عقیدہ رکھتے تھے۔اوپر روایت ۸ سے معلوم ہوچکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ نماے عرب سے تمام مشرکانہ تصویریں مٹادینے کی ہدایت کی تھی۔اِس کے بعد یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں نے وہی تصویریں زمانۂ رسالت کے متصل بعد اور وہ بھی مدینہ میں دوبارہ بنانا شروع کردی تھیں۔چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اگر آپ کے اِس ارشاد کا اطلاق اپنے سامنے کسی مصور کی بنائی ہوئی عام تصویروں پر کیا ہے تو اِسے اُن کی غلط فہمی سمجھنا چاہیے۔ علما وفقہا کی ایک بڑی تعداد تصویر کے باب میں اِس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتی ہے تو اُن سے بھی اِس کا صدور مستبعد نہیں ہے۔

متن کے حواشی

۱۔ اِس روایت کا متن اصلاً صحیح بخاری، رقم ۵۹۵۳ سے لیا گیا ہے۔ اِس کے راوی تنہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ اِس کے متابعات اِن مراجع میں دیکھ لیے جاسکتے ہیں: مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۱۱۔ مسند اسحاق، رقم ۱۶۳۔ مسند احمد، رقم ۷۱۶۶، ۷۵۲۱، ۹۸۲۴،۱۰۸۱۹۔ صحیح بخاری، رقم ۷۵۵۹۔ صحیح مسلم، رقم ۲۱۱۱۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۹۔ السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۴۵۶۸۔

۲۔ بعض طرق، مثلاً مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۱۱ میں یہاں یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: 'دَخَلْتُ مَعَ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ دَارَ مَرْوَانَ، فَرَأَی فِیہَا تَصَاوِیرَ' ''میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا تو اُنھوں نے اُس میں کچھ تصویریں دیکھیں''، جب کہ مسند اسحاق، رقم ۱۶۳ میں ہے: 'دَخَلْتُ مَعَ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ دَارًا ابْتُنِيَ لِسَعِیدٍ بِالْمَدِینَۃِ أَوْ لِمَرْوَانَ بِالْمَدِینَۃِ' ''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں ایک گھر میں داخل ہوا جو مدینہ میں سعید کے لیے یا مروان کے لیے تعمیرکیا گیاتھا''۔

۳۔ مسنداحمد، رقم ۷۱۶۶۔

۴۔ صحیح ابن حبان، رقم ۵۸۵۹۔

۵۔ صحیح بخاری، رقم ۷۵۵۹۔

۶۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۱۱۔

________

*تفصیل کے لیے دیکھیے: الدکتور موسی شاہین لاشین، فتح المنعم شرح صحیح مسلم، (د.م: دار الشروق، ط۱، ۱۴۲۳ھ/ ۲۰۰۲م)، ج۷، ص۲۵۹.

** الفوائد، تمام رازی، رقم ۱۱۷۶۔

تصویر اور مصوری (2/3)

____________