تزکیہ: ایک ربانی کردار


ایک طویل روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اِس روایت کا آخری حصہ یہ ہے: 'قال رجل: وما تزکیةِ المرء نفسَہ یا رسول الله؟ قال: یعلم أن الله معہ حیث ما کان'،[1]یعنی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آدمی کا اپنے نفس کا تزکیہ کرنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے نفس کا تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اِس حقیقت کو جانے کہ اللہ اُس کے ساتھ ہے، وہ جہاں کہیں بھی ہو۔ اِسی بات کو ایک اور روایت میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: 'إن أفضل الإیمان أن تعلم أن الله معک حیث ماکنت'، [2]یعنی ایمان کا بہتر درجہ یہ ہے کہ تم یہ جانو کہ اللہ تمھارے ساتھ ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو۔

اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کسی آدمی کے اندر خداوند ذوالجلال کی شعوری دریافت (ایمان) کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک ربانی شخصیت کا نام ہے۔

تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اِس دنیا میں خدا کی موجودگی کا تجربہ کرنے لگے۔ خدا کی پکڑ کا احساس اُس کی جلوت اور اُس کی خلوت، دونوں کو پوری طرح بدل دے۔ وہ ایک باکردار انسان ہو۔ وہ ایمان اور اخلاق کا عملی نمونہ ہو۔ وہ لوگوں کے سامنے بھی خدا سے ڈرنے والا ہو، اورتنہائیوں میں بھی خدا کا خوف اُس کا نگراں بنا ہوا ہو۔ اس کے اندر سے قول وعمل کا تضاد مکمل طورپر ختم ہوگیا ہو۔ اس کے ظاہر اور اس کے باطن میں کوئی فرق موجود نہ ہو۔ وہ پورے معنوں میں ایک قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ اُ س کا کنسرن (concern) خدا کی رضا اور جنت کا حصول ہو، نہ کہ دوسری اور کوئی چیز۔ وہ اصول کی بنیاد پر متحرک ہوتا ہو، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر۔ اس کی زندگی ایک حقیقت پسندانہ زندگی ہو۔ اُس کی سوچ تعصبات سے خالی ہو۔ وہ گروہی عصبیتوں سے بلندہوگیا ہو۔وہ ایک متواضع (modest) انسان ہو، نہ کہ متکبر (arrogant) انسان۔ خداے برتر کی دریافت نے اُس کو آخری حد تک ایک کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) بنادیا ہو۔ خدا کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کے آگے جھک گیا ہو ۔

یہی وہ انسان ہے جس نے اپنا تزکیہ کیا، اور جو شخص اِس طرح اپنا تزکیہ کرے، وہ بلا شبہ ایک ربانی انسان ہے۔ تزکیہ اپنے اندر اِسی قسم کی ایک ربانی شخصیت کی تعمیر کا نام ہے، نہ کہ مجہول قسم کی کسی پراسرار حالت کا نام۔

________

[1]۔ سنن البیہقی، رقم ۷۰۶۷۔

[2]۔الطبرانی، رقم ۸۷۹۱۔

____________