تذکیر بالقرآن


استاذ جاوید احمد غامدی کا ایک سوال و جواب سننے کو ملا۔اِس میں استاذ سے ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ آپ کی تقریر وتحریر سے تذکیر اور روحانیت ۱؂ کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ استاذ نے فرمایا کہ ایک مومن کے لیے تذکیر کا سب سے بڑاماخذ قرآن مجید ہے۔قرآن کے ایک معلم کی حیثیت سے ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم لوگوں کو متوجہ کرکے اُنھیں اللہ کی کتاب قرآن سے وابستہ کر دیں۔ یہ ہرگز ہمارا کام نہیں کہ ہم کسی شخص کے اندر وہ چیزپیدا کریں، جس کو 'روحانیت' کہا جا تا ہے۔یہ صرف خدا کا کام ہے کہ وہ اپنی کتاب کے ذریعے سے کسی شخص کے اندرایمان ومعرفت کا نو ر پیدا کرے (المائدہ۵:۱۶)۔

قرآن ایک سچے مومن کے لیے زمین پر ایک خدائی دسترخوان کی حیثیت رکھتا ہے: 'القرآن مأدبۃ اللّٰہ'۲؂۔ ایسی حالت میں قرآن کے سوا کسی اور چیز کومعرفت یا 'روحانیت' کا ماخذ سمجھنا صرف اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم قرآن اور صاحب قرآن، دونوں سے بے خبر ہیں۔یہ ایسا ہی ہے، جیسے پیاس میں مبتلا ایک شخص چشمۂ آب کے بجاے سراب کو دریا سمجھ کر اُس سے اپنی پیاس بجھانا چاہے (النور ۲۴: ۳۹)۔

واقعات بتاتے ہیں کہ اِس قسم کا سوال کرنے والے کسی شخص نے اپنی زندگی میں کبھی ایک بار بھی 'ہدایت اور معرفت' کے مقصد سے قرآن مجید کامطالعہ نہیں کیا۔البتہ جن سعید روحوں کو اِس کی توفیق ملی، خدا نے بلاشبہ، اُنھیں تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا فرمائی۔اِس کے برعکس،غیر قرآن سے ہدایت چاہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ مقدر کردیاگیا کہ اُن کے اوپر کبھی اُس عظیم نعمت کا فیضان نہ ہو جس کو خدا کی سچی معرفت اورصراط مستقیم کی ہدایت کہا گیا ہے۔اِس معاملے میں خدا کی ثابت شدہ سنت یہ ہے کہ جو شخص قرآن کے سوا کہیں اور سے ہدایت پاناچاہے، خدا اُس کو ہدایت سے محروم کردے گا: 'من ابتغی الھدٰی من غیرہ، أضلّہ اللّٰہ' (ترمذی، رقم ۲۹۰۶)۔

تذکیر ومعرفت کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'إنّکم لا ترجعون إلی اللّٰہ عزّوجلّ بشيء أفضل ممّا خرج منہ، یعني القرآن'،۳؂ یعنی تم اللہ کی طرف رجوع اور اُس کا تقرب اُس سے بہتر کسی اور چیزسے حاصل نہیں کر سکتے جس کا ظہور خود اُس کی ذات سے ہوا ہے، یعنی اللہ کی کتاب قرآن مجید۔

قرآن مجید دعوت ومعرفت، دونوں کااولین ماخذ ہے۔ 'ھُدًی لِّلنَّاسِ'(البقرہ ۲:۱۸۵)، 'وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا' (الفرقان ۲۵: ۵۲)اور 'لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا' (الفرقان ۲۵:۱) جیسی آیات میں اِسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں خود پیغمبر کو مخاطَب کرتے ہوے ارشاد ہوا ہے: 'فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ' (ق ۵۰: ۴۵)، یعنی اے پیغمبر، تم قرآن کے ذریعے سے لوگوں کی یاددہانی کاکام کرو۔ پیغمبر اِسی کے ذریعے سے دعوت واِنذارکا کام کرتا ہے، اور اب قیامت تک اُس کے تمام متبعین کو اِسی کے ذریعے سے دعوت واِنذارکا کام کرنا ہے(الانعام ۶:۱۹)۔

قرآن اسلامی زندگی کا ایک مکمل ہدایت نامہ ہے۔ ایمان کے بعددینی اعتبار سے کسی آدمی کے لیے سیکھنے کی سب سے بڑی چیز اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ یہی اصحابِ رسول کا طریقہ تھا۔ چنانچہ ایک صحابی (جندب بن عبداللہ) کہتے ہیں: 'کنا مع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتیانًا حزاورۃ، فتعلّمنا الإیمان قبل أن نتعلّم القرآن، ثمّ تعلّمنا القرآن فنزداد بہ إیمانًا' (المعجم الکبیر، الطبرانی، رقم ۱۶۷۸)، یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ یہ ہماراعہد جوانی تھا۔ہم نے اُس وقت پہلے ایمان حاصل کیا۔اِس کے بعد جب ہم نے قرآن سیکھا تو و ہ ہمارے لیے ازدیادِ ایمان کا ذریعہ بن گیا۔

اِس روایت کو اُس کے درست سیاق میں رکھ کردیکھا جائے تو اِس کو لے کر اٹھنے والے بعض فکری مباحث کے لیے یہاں کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ اصحاب رسول کے سامنے جس ذات نے ایمان کی دعوت پیش کی، وہ کوئی عام داعی نہیں، بلکہ خود اللہ کا پیغمبر تھا۔ ایسی حالت میں سب سے پہلے جو چیز مطلوب تھی، وہ آپ پر ایمان تھا۔ اِس ایمان کے بغیر قرآن کی تعلیم وتصدیق ایک بے معنی بات تھی۔ چنانچہ اصحاب رسول نے پہلے ایمان کا ثبوت دیا۔ اُنھوں نے آپ کو خدا کا پیغمبر مان کر اُس کی تصدیق کی۔ اِس ایمان و اعتراف کے بعد پیغمبر نے اُن کو قرآن کی تعلیم دی۔ قرآن کی یہ تعلیم اُن کے لیے ازدیادِ ایمان کا ایک مسلسل ذریعہ بن گئی۔ اصحاب رسو ل کی طرح بعد کے اہل ایمان کو بھی اِسی روش کا ثبوت دینا ہے۔اِس کے بغیر اُن کا ایمان 'مثل صحابہ ایمان' (البقرہ ۲: ۱۳۷) نہیں بن سکتا۔

قرآن بندوں پرخدا کی سب سے بڑی رحمت کا ظہور ہے (الرحمن۵۵:۱-۲)۔خدا کی اِس رحمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کے فکر وعمل کے لیے اپنی کتاب کو آسان بنا دے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے: 'وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ' (القمر ۵۴: ۱۷)، یعنی ہم نے اِس قرآن کو یاددہانی کے لیے نہایت موزوں بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی یاددہانی حاصل کرنے والا؟

یہاں 'یَسَّرْنَا' کا لفظ آیا ہے۔ عربی مبین میں اِس کے معنی محض آسان بنانے کے نہیں، بلکہ کسی چیز کو پیش نظر مقصد کی نسبت سے موزوں اور تمام متعلق چیزوں سے اِس طرح آراستہ کردینے کے ہیں کہ پورے معنوں میں اُس سے مطلوب مقصد حاصل کیا جاسکے۔اِسی طرح، لفظ 'ذِکْر'بھی یہاں اپنے وسیع مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے، یعنی تعلیم، تذکیر، تنبیہ، عبرت اور یاددہانی، سب اِس کے مفہوم میں شامل ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات پوری طرح مبرہن ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید تذکیرو معرفت کا واحدسب سے بڑا ذریعہ ہے۔قرآن کے سوا اگر کسی چیز کوتذکیرو معرفت کا ماخذ بنا یا گیا تو نہ صرف یہ کہ آدمی معرفت سے محروم رہے گا، بلکہ تجربات بتاتے ہیں کہ بہت جلد اُس کی حد آجائے گی اور پھر آدمی کا سفر معرفت رک جائے گا۔حدیث کے مطابق،خدا کی اِس دنیا میں یہ مقام صرف قرآن کو حاصل ہے کہ اُس کے ایک طالب علم کے لیے کبھی اُس کے 'عجائب' ختم نہ ہوں: 'لاتنقضي عجائبہ'۴؂ ۔ تلاوت وتدبر کے ذریعے سے مسلسل طور پر وہ قرآن سے ہدایت اور معرفت کی غذا حاصل کرتا رہے۔

[۵ دسمبر ۲۰۱۷ء، لکھنؤ]

________

۱؂ واضح ہو کہ'' روحانیت' 'کا لفظ قرآن وسنت میں اجنبی ہے۔

۲؂ المعجم الکبیر، الطبرانی، رقم ۸۶۴۶۔

۳؂ السلسلۃ الصحیحۃ، الألباني: ۹۶۱ ۔

۴؂ الدارمی، رقم ۳۳۳۱۔

____________