ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۸)


فضائل حضرت عائشہ

رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ باقی عورتوں پر اتنی ہی فضیلت رکھتی ہیں، جتنی فوقیت ثرید(شوربے میں تر کی ہوئی روٹی، porridge) بقیہ کھانوں پر رکھتا ہے۔ مردوں میں بہت کامل ہوئے، جب کہ عورتوں میں حضرت مریم اورفرعون کی بیوی حضرت آسیہ ہی درجۂ کمال کو پہنچیں (بخاری، رقم ۳۴۳۳۔ مسلم، رقم ۶۳۵۳۔ ترمذی، رقم ۱۸۳۴۔ نسائی، رقم ۳۳۹۹) ۔

حضرت عمرو بن عاص نے، جنھیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے غزوۂ ذات سلاسل کے موقع پرسپہ سالار مقرر فرمایا تھا، آپ سے پوچھا: آپ کو کون سا انسان سب سے بڑھ کر محبوب ہے؟ آپ نے جواب فرمایا: ''عائشہ۔'' پوچھا: مردوں میں سے کون؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ''ان کے والد (ابوبکر)۔'' انھوں نے پھر سوال کیا: ان کے بعد؟ جواب فرمایا: ''عمر'' (بخاری، رقم ۳۶۶۲۔ مسلم، رقم ۶۲۵۳۔ ابن ماجہ، رقم ۱۰۱)۔ یہی سوال حضرت عائشہ سے کیا گیا: ابوبکر و عمر کے بعد آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ جواب دیا: ابوعبیدہ بن جراح۔ سوال کیا گیا: ان کے بعد کون؟ تو حضرت عائشہ خاموش رہیں(ترمذی، رقم ۳۶۵۷)۔

سیدہ عائشہ کو فقہ اسلامی پر عبور تھا۔ فقہی مسائل پر ان کی راے وقیع ہوتی۔اکابر صحابہ وارثت کے مسائل ان سے حل کرواتے۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے فقہ، طب حتیٰ کہ شاعری میں کسی کا علم حضرت عائشہ سے زیادہ نہیں پایا۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ سے زیادہ فصیح کسی کو نہ پایا (ترمذی، رقم ۳۸۸۴)۔ عروہ بن زبیر شعری روایات سے خوب واقف تھے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ اتنے شعر کیسے سنا لیتے ہیں؟ بتایا: میرے شعر میری خالہ عائشہ ہی کے بیان کردہ ہیں۔ انھیں جو خیال آتا ، اس پرشعر پڑھ دیتیں۔

زہری کہتے ہیں: اگر تمام ازواج مطہرات اور سب عورتوں کے مجموعی علم کا حضرت عائشہ کے علم سے موازنہ کیا جائے تو بھی ان کا علم زیادہ رہے گا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں: ہمیں کوئی حدیث سمجھ نہ آتی توحضرت عائشہ سے رجوع کرتے اور ہمارا مسئلہ حل ہو جاتا (ترمذی، رقم ۳۸۸۳)۔ ائمہ نے ایسے مسائل اور ایسی روایات کو جمع کر دیا ہے جو محض حضرت عائشہ ہی کے ہاں ملتے ہیں۔تاہم یہ روایت بے اصل ہے: ''اپنے دین کا ایک حصہ اس حمیرا سے حاصل کرو۔''

ان کی براء ت میں نازل ہونے والی آیات افک ہی ان کی فضیلت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔

حضرت عائشہ نے خود اپنے دس فضائل گنوائے،وہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے عقد میں آنے والی واحد کنواری خاتون ہیں۔آپ کی ازواج میں سے کوئی ایسی نہ تھی جس کے ماں باپ، دونوں مہاجر ہوں۔ﷲ نے آسمان سے ان کی براء ت نازل کی اور ان سے مغفرت اور عمدہ رزق کا وعدہ کیا گیا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ان کا رشتہ تجویز کیا،وہ حضرت عائشہ کی صورت میں آپ کی ہتھیلی میں نمودار ہوئے۔

نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور وہ ایک ہی برتن سے غسل کرتے (بخاری، رقم ۲۵۰۔ مسلم، رقم ۶۵۷۔ ابن ماجہ، رقم ۳۷۷)۔

آپ قیام اللیل کرتے تو حضرت عائشہ آگے لیٹی ہوتیں، جیسے جنازہ پڑا ہو (مسلم، رقم ۱۰۷۵۔ ابن ماجہ، رقم ۹۵۶)۔

ان کے بستر میں وحی نازل ہوئی،فرشتے ان کے حجرے کو اپنے گھیرے میں لے لیتے۔

آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کی وفات اس دن ہوئی، جب حضرت عائشہ کی باری تھی۔آخری وقت میں آپ کا سر حضرت عائشہ کے سینے اور گردن کے درمیان ٹکا ہوا تھا۔حضرت عائشہ کے حجرے ہی میں آپ کی تدفین ہوئی۔

جنگ جمل سے پہلے حضرت عمار اورحضرت حسن کوفہ کی جامع مسجد کے منبرپر کھڑے خطاب کررہے تھے ، ایک شخص نے سیدہ عائشہ کو گالی دے ڈالی۔ حضرت عمار نے اسے ڈانٹا اور کہا: دور ہو جااو لاخیرے، نیچ انسان! تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ کو ایذ ا دے رہا ہے۔ عائشہ دنیا و آخرت میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ﷲ نے یہ معلوم کرنے کے لیے تم کو آزمایش میں ڈالا ہے کہ تم اس کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی؟ (بخاری، رقم ۳۷۷۲۔ ترمذی، رقم ۳۸۸۹)۔

مسروق حضرت عائشہ کی روایت اس طرح بیان کرتے: ہمیں صدیقہ بنت صدیق،پاک دامن ،ﷲ کی طرف سے بے قصورقرار دی گئی سیدہ عائشہ نے بتایا۔

سیدہ عائشہ نے نبی محترم صلی ﷲ علیہ وسلم سے سوال کیا: آپ کی کون سی ازواج جنت میں جائیں گی؟فرمایا: تم ان میں شامل ہو گی (مستدرک حاکم، رقم ۶۷۴۳)۔ یہ بھی فرمایا: مجھے جنت میں عائشہ نظر آئی تو میری موت بھلی ہو گئی۔

ایک عورت دو بچیاں اٹھائے حضرت عائشہ سے سوال کرنے آئی ۔ان کے پاس ایک ہی کھجورتھی(تین کھجوریں، مسلم، رقم ۶۷۸۷) جو انھوں نے اسے دے دی۔عورت نے کھجور (ایک یاتینوں)فوراًاپنی بچیوں میں بانٹ دی اور خود نہ چکھی۔ آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کرفرمایا:جس پران بیٹیوں کی ذمہ داری ہو ، وہ ان سے اچھا سلوک کرے اور ان کی طرف سے آنے والی آزمایش پر صبر کرے تو یہ اس کے لیے دوزخ سے ڈھال بن جائیں گی (بخاری، رقم ۵۹۹۵۔ مسلم، رقم ۶۷۸۶۔ ترمذی، رقم ۱۹۱۵)۔

عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کے پاس ستر ہزار درہم آئے، انھوں نے فوراً انفاق کر دیے۔ام ذرہ کہتی ہیں: حضرت عبدﷲ بن زبیرنے حضرت عائشہ کو دو توڑوں میں ایک لاکھ درہم بھجوائے۔وہ روزے سے تھیں، فوراً تمام دراہم بانٹ دیے۔ روزہ کھلنے کا وقت ہوا تو کنیزسے افطاری مانگی۔اس نے جواب دیا: آپ ایک درہم کا گوشت ہی منگوا لیتیں؟ کہا: مت ڈانٹو!مجھے یاد کرایا ہوتا تو لے لیتی۔

حضرت عبدﷲ بن زبیرنبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عائشہ کے محبوب ترین انسان تھے۔ حضرت عائشہ کے پاس رزق الٰہی میں سے جو کچھ آتا ،صدقہ کر دیتیں اور اپنے پاس کچھ نہ رکھتیں۔حضرت عبدﷲ بن زبیر نے کہا: عائشہ رک جائیں، نہیں تومیں ان پر حجر کا دعویٰ کردوں گا،قاضی یہ فیصلہ کرے کہ نادان ہونے کی وجہ سے ان کے مالی تصرفات پر پابندی ہے ۔حضرت عائشہ نے کہا: اس نے مجھ پر حجر کرنے کو کہا ہے،مجھے کوئی نذر دینی ہو گی اگر عبدﷲ سے کبھی بات بھی کی۔ناراضی نے طول پکڑا تو حضرت عبدﷲبن زبیر نے قریش کے بڑے آدمیوں خصوصاً رسو ل ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ماموؤں سے سفارش کرائی، لیکن حضر ت عائشہ نے کہا: میں کوئی سفارش مانوں گی نہ نذر کا کفارہ دوں گی۔آخر کارانھوں نے آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے ننھیال میں سے حضرت عبد الرحمن بن اسود اور حضرت مسور بن مخرمہ سے درخواست کی ۔یہ دونوں اصحاب حضرت عائشہ کے ہاں پہنچے،انھیں اندر جانے کی اجازت ملی تو ان کے پیچھے پیچھے حضرت عبدﷲ بن زبیربھی پردے کے پیچھے اپنی خالہ کے پاس چلے گئے اور ان کے گلے لگ کر رونے لگے۔ادھر حضرت ابن زبیرنے منت سماجت کی ،ادھر حضرت مسور اور حضرت عبدالرحمن صلح کی التجا کرنے لگے۔ انھوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے فرمان کا حوالہ بھی دیا کہ تین راتوں سے زیادہ ترک ملاقات کرنا جائز نہیں۔ اب حضرت عائشہ پربھی رقت طاری ہو گئی ،انھوں نے کہا: میری نذر سخت ہے ۔اس پر حضرت عبدﷲ بن زبیر نے انھیں دس غلام عطیہ کیے جو انھوں نے آزاد کر دیے۔وہ غلام دیتے گئے اور حضرت عائشہ آزاد کرتی رہیں، حتیٰ کہ چالیس کی گنتی پوری ہوگئی۔ حضرت عائشہ نے کہا: کاش! میں(اس سے بھی) بڑے کام کی نذر مان لیتی اور وہ پوری ہو جاتی (بخاری، رقم ۶۰۷۵)۔

حضرت عائشہ مسلسل روزے رکھتی تھیں۔

حضرت عائشہ سرخ و سفیداور خوب صورت تھیں ،اسی لیے انھیں حمیرا کا لقب عطا ہوا۔جمال نسوانی میں حضرت زینب، حضرت جویریہ اور حضرت صفیہ بھی کم نہ تھیں، لیکن ذہانت،باریک بینی ،دینی مسائل کے فہم و شعور اور اجتہاد و استنباط میں حضرت عائشہ کا ایک الگ مقام ہے۔

حضرت عائشہ، حضرت خدیجہ کس کی فضیلت زیادہ؟

یہ مسئلہ شروع سے علما کے درمیان وجۂ نزاع رہا ہے۔شیعہ کسی مومنہ کو حضرت خدیجہ کے برابر نہیں سمجھتے۔ان کی تائید آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس ارشادسے ہوتی ہے: ''ﷲ نے مجھے ان سے بہتر خاتون نہیں دی۔وہ اس وقت ایمان لائیں، جب لوگوں نے میری نبوت کا انکار کیا؛ انھوں نے تب میری تصدیق کی، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا؛ انھوں نے اپنے مال سے میری مدد کی، جب لوگوں نے مجھے محروم کیا؛ انھوں نے مجھے اولاد کی نعمت دی جب کہ (ماریہ کے سوا) دوسری ازواج کی گود خالی رہی'' (مسند احمد، رقم ۲۴۸۶۴)۔ ﷲ تعالیٰ نے حضرت خدیجہ پر سلامتی بھیجی۔ وہ مردوں، عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لائیں، وہ صدیقہ تھیں۔اہل سنت کے کچھ علما حضرت عائشہ کو افضل جانتے ہیں۔ ان کے دلائل یہ ہیں: سیدہ عائشہ آں حضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب اور محبوب ترین رفیق حضرت ابوبکرصدیق کی صاحب زادی تھیں۔ وہ حضرت خدیجہ سے زیادہ علم رکھتی تھیں۔آں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ان سے زیادہ کسی زوجہ سے محبت نہ کرتے تھے۔ساتویں آسمان سے ان کی براء ت نازل ہوئی۔ آپ کی وفات کے بعد انھوں نے لا تعداد احادیث روایت کیں اور اہل اسلام کو علم وافر منتقل کیا۔ ذہبی حضرت خدیجہ کی افضلیت کے قائل ہیں، جب کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس باب میں طرفین کے دلائل یکساں قوت رکھتے ہیں، اس لیے توقف کرنا اور وﷲ اعلم کہنا ہی موزوں ہے ۔

لباس و زیبایش

شمیسہ حضرت عائشہ سے ملنے گئیں، تب انھوں نے باریک کرتا پہنا ہوا تھا جو عصفر (safflower،گل رنگ) سے رنگا ہوا تھا۔ ان کا دوپٹا اور نقاب بھی گل رنگ سے رنگے ہوئے تھے۔وہ حالت احرام میں بھی عصفر سے رنگے زردکپڑے اور سونازیب تن کر لیتی تھیں۔ان کے جسم پر سرخ کرتا بھی دیکھا گیا۔

حضرت عائشہ کے پاس سونے کی انگوٹھیاں تھیں (بخاری: باب اللباس، ۵۶)۔ حضرت عائشہ کے بھتیجے قاسم بن محمد کہتے ہیں: وﷲ، میں نے حضرت عائشہ کو زرد کپڑے اور سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا ہے۔

ایک سفر میں حضرت عائشہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ان کے سر پر لگائی ہوئی زرد خوشبو بہ کر منہ پر لگ گئی۔آپ نے فرمایا: عائشہ، اب تمھارا رنگ خوب نکل آیا ہے۔

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: منہدی پاک درخت اور پاکیزہ پانی ہے۔ایک عورت نے ان سے پوچھا: منہدی سے بال رنگنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟جواب دیا: اس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن میں اس سے بال رنگنا اس لیے پسند نہیں کرتی، کیونکہ میرے محبوب صلی ﷲ علیہ وسلم کواس کی بواچھی نہیں لگتی تھی (نسائی، رقم ۵۰۹۳)۔

بکرہ بنت عقبہ کو فرمایا: اگر تم اپنے شوہر کے لیے بھنوو ں کے بال اکھاڑ کر آنکھوں کوخوب صورت بناسکتی ہو تو ضرور بنا لو۔

حفصہ بنت عبدالرحمن باریک اوڑھنی لے کر حضرت عائشہ کے پاس گئیں تو انھوں نے اسے پھاڑ دیا اور موٹی چادر دے دی۔

محمد بن اشعث نے حضرت عائشہ کو پوستین ہدیہ کرنے کا پوچھا تو انھوں نے کہا: میں مردہ جانورکی کھال پہننا پسند نہیں کرتی۔ تب انھوں نے ایک جانور ذبح کر کے اس کی کھال کی پوستین بنوائی تو انھوں نے پہن لی۔

ایک موقع پر حضرت عائشہ نے حبشہ کی اوڑھنی لی اور یمن کے علاقے غراب کی سیاہ چادراوڑھی۔

ایمن حبشی کہتے ہیں: میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہواتووہ یمن کے کھردرے سرخ کپڑے قطر کی قمیص پہنے ہوئے تھیں جو مشکل سے پانچ درہم مالیت کی ہو گی۔ فرمایا: میری اس باندی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھو،اس قمیص کو گھر میں بھی پہننا پسند نہیں کرتی۔ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کپڑے کا ایک کرتا تھا۔ مدینہ میں جس عورت کو شادی بیاہ کے وقت بننے سنورنے کی ضرورت ہوتی ، وہ یہ کرتا مجھ سے مانگ کرلے جاتی (بخاری، رقم ۲۶۲۸)۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول ﷲ صلی ﷲعلیہ وسلم نے دیکھا کہ میں نے سونے کے دوکنگن پہن رکھے ہیں تو فرمایا: میں تمھیں اس سے بہتر زیور نہ بتاؤں، اگر توانھیں اتار کر چاندی کے دو کڑے پہن لے اور انھیں زعفران (saffron)سے زرد کر لے تو وہ زیادہ خوب صورت لگیں گے (نسائی، رقم ۵۱۴۶)۔

مطالعۂ مزید: السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)، الجامع المسند الصحیح المختصر (بخاری، شرکۃ دار الارقم) المسند الصحیح المختصر من السنن (مسلم، شرکۃ دار الارقم)، تاریخ الامم والملوک (طبری)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، المنتظم فی تواریخ الملوک و الامم (ابن جو زی)، الکامل فی التاریخ (ابن اثیر)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ (ابن اثیر)، سیراعلام النبلاء (ذہبی)، البداےۃ والنہاےۃ (ابن کثیر)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (ابن حجر)، تہذیب التہذیب (ابن حجر)،اردو دائرۂ معارف اسلامیہ(مقالہ،امین ﷲ وثیر)، Wikipedia, the free encyclopedia۔

[باقی]

____________